پہلا باب
طلب
انہیں بتایا گیا: ’’ایک افواہ لوگوں کی زبانوں پر گردش کر رہی ہے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں!‘‘ تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے: ’’یہ وہی چیز ہے جس کی تلاش میں میں نے بیابانوں اور پہاڑوں کی خاک چھانی ہے۔‘‘
طلب کا مرحلہ، مسلسل کوشش ، جوش اور جذبے کا مرحلہ ہے جس کے ساتھ صبر، بصیرت یا بیداری و استحکام جڑے ہوئے ہیں اور اس عرصے میں انسان کو کسی قسم کا سکون میسر نہیں ہوتا۔
وہ تقریر جس نے حاج قاسم میں ولولہ پیدا کر دیا
۱۹۷۶ء میں ایک جوشیلے اور شعلہ بیان عالم دین ’’رضا کامیاب‘‘ تبلیغ کے لیے مشہد سے کرمان آئے ہوئے تھے۔ ان کی تقریروں نے لوگوں میں جوش و جذبہ اور انقلابی ولولہ بیدار کر دیا تھا۔ ان کے سامعین میں قاسم نام کا ایک جوان بھی تھا جو بعد میں قدس فورس کا چیف بنا۔ حاج قاسم کہتے تھے: ’’میرے انقلابی مقابلے اس دن سے شروع ہو گئے تھے جب میں نے کرمان میں شہید کامیاب کی تقریریں سنیں اور انہی کے ذریعے میں جنگ کی دنیا میں داخل ہوا۔‘‘
شادی کے دوران بٹالین کی تشکیل
وہ اپنے ایک ماتحت جوان کی شادی کی رات اپنے چند مجاہد دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ علی نجیب ان کے پاس بیٹھ گیا اور انہیں بٹالین۴۰۸ کی تشکیل کی تجویز دی۔ حاج قاسم نے قبول کر لیا۔ وہیں بٹالین تشکیل پا گئی اور اس میں شریک جوان بھی مشخص ہو گئے۔ ان کے لیے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ شادی کی تقریب کے دوران ہی بٹالین تشکیل دے دی۔
امان فلاح، شہید کے مجاہد ساتھی
آدھی آستین
۱۹۸۰ء میں یعنی انقلاب کے ایک سال بعد جب وہ سپاہ میں آنا چاہتے تھے تو اپنے ظاہری حلیے کی وجہ سے رد کر دیے گئے: ان کا جسم کسرتی تھا، جسم سے چسپاں سفید رنگ کی آدھی آستینوں والی قمیض تھی جس سے بازو باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ اوپر سے گھنگریالے بالوں اور چوڑے کمربند نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔
بیت الخلاء کی صفائی
مجلس ختم ہوئی تو وہ غائب ہو گئے۔ ہم نے بہتیرا ڈھونڈا تب جا کر پتا چلا کہ وہ بیت الخلاء دھونے چلے گئے ہیں۔ وہ کسی کو اپنی مدد نہیں کرنے دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’’میرے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مجلس میں خادم بن کر رہوں۔‘‘
سپاہ میں ان کا پہلا عہدہ
کھلاڑی ہونے کی وجہ سے وہ کرمان کے قدس تربیتی مرکز میں مجاہدین کی تربیت پر مامور ہو گئے، یہاں تک کہ کچھ ماہ بعد جنگ شروع ہو گئی اور امام نے کہا کہ تازہ دم لوگ محاذ پر جائیں۔ یہ حاج قاسم کی میدان جنگ میں پہلی شرکت تھی۔
حاج قاسم سلیمانی کی دلچسپ نذر
انہوں نے مہینے کا ایک دن ایک ۷۰ فیصد جانباز( ۱) کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ اصفہان کے علاقے نجف آباد میں چلے جاتے اور حمام لے کر جانے سے لے کر اس کے کپڑے دھونے اور صفائی ستھرائی کرنے تک اس جانباز کے تمام کام انجام دیتے تھے۔
شام میں جب انہیں اس جانباز کی شہادت کی خبر دی گئی تو انہوں نے ایک جوان کو اس بات پر مامور کیا کہ وہ نجف آباد جا کر اس کی آخری رسومات میں شرکت کرے اور اس کا کوئی کام باقی نہ رہے۔
(۱ ) ایران عراق جنگ میں زخمی ہو کر بچ جانے والے فوجیوں کو جانباز کہتے ہیں اور ان کے جسم پر زخموں کی مقدار کے مطابق انہیں جانباز 50 فیصد، جانباز 70 فیصد وغیرہ کہا جاتا ہے۔
حجت الاسلام اسماعیل سعادت
خدا کرے کرنل کی طرف سے تمہاری گوشمالی ہو!
اس رات موسم کافی ٹھنڈا تھا اور ہم دو افراد تھے۔ ہم نے جا کر برف کے نیچے سے لکڑی ڈھونڈی اور ٹین کے ایک ڈبے میں آگ روشن کی تاکہ کچھ گرم ہو جائیں۔ دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہماری طرف آ رہا ہے۔ میں نے سوچا شاید کوملہ( ۱) کا کوئی جنگجو ہے۔ ہم گولی چلانے ہی والے تھے کہ اچانک انہیں کہتے ہوئے دیکھا: ’’السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام‘‘۔ اس کے بعد ایک خاص لہجے میں مجھ سے کہا: ’’تم لوگ بیٹھے آگ سینک رہے ہو اور دشمن کو نہیں دیکھ رہے مگر دشمن تمہیں دیکھ رہا ہے۔
کیا پوری بیرک کو آگ میں جھونکنا چاہتےہو؟!‘‘ اس کے بعد کہا: ’’کل ہیڈ آفس میں آؤ!‘‘میں نے سوچا وہ یقیناً ہماری سرزنش کریں گے لیکن وہ بہت ہی مظلوم، ہوشیار اور متحرک مرد تھے۔ جب میں ان کے دفتر میں گیا تو کہنے لگے: ’’آپ کی چھٹی میں کتنے دن رہتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’۱۰ دن۔‘‘ کہا: ’’خداکرےکرنل کی طرف سےتمہاری گوش مالی ہو!اگر کرنل سلیمانی تمہاری گوشمالی کرے تو خدا تمہاری مدد کرے گا۔‘‘
(۱ ) اسلامی انقلاب کے زمانے میں کردستان میں سرگرم ایک کیمونسٹ تنظیم۔
عباس افزون، شہید کے مجاہد ساتھی
ایک اغوا کا قصہ
حاج قاسم کسی وقت بھی آرام کے قائل نہ تھے اور اپنے کام کے تقاضے کے مطابق ہمیشہ سفر میں رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنے راستے کے دوران مطالعہ کیا کرتے تھے؛ لیکن وہ پڑھتے کیا تھے؟!
ایک دو سال پہلے انسٹاگرام کے کسی صفحے پر حاج قاسم کی ایک تصویر شیئر کی گئی جس میں وہ جہاز میں بیٹھے مطالعے اور کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا: ’’پرواز کے دوران گیبریئل گارسیا مارکیز کی کتاب پڑھتے ہوئے۔‘‘ البتہ تصویر سے سمجھنا مشکل تھا کہ وہ مارکیز کی کون سی کتاب پڑھ رہے تھے، لیکن بعد میں معلوم ہو گیا کہ وہ کتاب ’’ایک اغوا کا قصہ‘‘( ۱) تھی۔
مارکیز کی ’’ایک اغوا کا قصہ‘‘ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں کولمبیا کی متعدد ممتاز شخصیات کے اغوا اور پھر ان کی رہائی کے بارے میں ایک دستاویزی کتاب ہے۔ یہ کتاب اغوا کرنے اور یرغمال افراد کو رہا کروانے کے طریقے جاننے کا بہت اچھا منبع ہے۔
(۱ ) اس کتاب کا ہسپانوی زبان میں نام ’’Noticia de un secuestro‘‘ ہے جس کا انگریزی زبان میں ’’News of a Kidnapping‘‘ کے عنوان سے ترجمہ ہوا ہے۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ۳۳ روزہ جنگ میں
اٹھائیسویں دن سے جنگ کا پانسہ پلٹ چکا تھا۔ ہم نے دفاع مقدس( ۲) کے دوران ایسے کئی مناظر دیکھے تھے۔اس جنگ میں ہمارا حق پر ہونا ایسا جذبہ تھا جو ہمارے مجاہدین میں نظر آتا تھا جن میں سے اکثر کی حالت سیر و سلوک اور آنکھوں سے حجابات کے اٹھ جانے سے شباہت رکھتی تھی۔ وہ لوگ حجابات میں پوشیدہ رازوں سے پردے اٹھاتے تھے۔
(۲ ) ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد عراق کے ذریعے ۸ سال تک مسلط جنگ کا دفاع۔
حوادث کی اس موج میں، جو کہ بہت سخت تھی، حزب اللہ کے ایک مجاہد بھائی نے، جو متدین اور پرہیزگار تھا اور جنوب میں کمانڈر تھا، اپنی ایک ایسی حالت کے بارے میں بتایا جو بقول اس کے نیند کی حالت نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا:
میں نے دیکھا کہ ایک خاتون آئیں جن کے ساتھ ایک یا دو اور خواتین بھی تھیں۔ عالم خواب میں مجھے محسوس ہوا تھا کہ وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔ میں ان کے مبارک قدموں کی طرف گیا اور ان سے کہا: ’’آپ ہماری حالت دیکھیے! دیکھیے کہ ہم کن حالات سے دوچار ہیں!‘‘ حضرت نے فرمایا: ’’سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ اور اس کے بعد انہوں نے اپنی چادر کے اندر سے ایک رومال نکالااور اسے ہلاتے ہوئے کہا: ’’ختم ہو گیا۔‘‘
ایک لمحے بعد ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر میزائل کا نشانہ بن گیا اور اس کے بعد ٹینکوں کی تباہی شروع ہو گئی۔ ٹینکوں کو مارنا ہی غاصب دشمن کا نقطہ شکست ثابت ہوا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں نئی جنگی مساوات وجود میں آ گئی اور اس جنگ میں پہلی بار کورنٹ میزائل استعمال کیے گئے اور پہلی بار اسرائیل کے میرکاوا ٹینک جو پہلے کبھی اس طرح تباہ نہیں کیے گئے تھے، تباہ کر دیے گئے اور ایک دن میں سات ٹینک مجاہدین کے اسلحے کا نشانہ بن گئے۔ ۳۳ روزہ جنگ کے بعد صیہونی حکومت کی جنگ میں بنگورین( ۱) کی جارحانہ حکمت عملی سے آہستہ آہستہ دفاعی حکمت عملی میں بدل گئی۔
(۱ ) ڈیوڈ بنگورین: مقبوضہ فلسطین پر قائم صیہونی حکومت کا پہلا دہشت گرد سربراہ۔
شہید سردار سلیمانی