آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

آٹھواں باب

 شہادت

ان کا کہنا تھا کہ میں ابدی عزادار ہوں اور شہادت کی تمنا کے لیے یہی کافی ہے۔

            شہید ہونے کی شرط کیا ہے؟

            جب تک کوئی شہید ’’نہ ہو‘‘، شہید نہیں ہوتا۔ شہید ہونے کی شرط شہید ’’ہونا‘‘ ہے۔ اگر آج آپ کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کے کلام، اس کے کردار اور اس کے اخلاق سے شہید ہونے کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے تو جان لیں کہ وہ شہید ہو گا۔ ہمارے تمام شہدا اس خصوصیت کے حامل تھے: وہ شہید ہونے سے پہلے ہی شہید ہونے کی حالت میں تھے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص علم حاصل کرنے سے پہلے عالم بن جائے۔ عالم بننے کی شرط علم کا حصول ہے۔ اسی طرح شہید ہونے کی شرط شہادت کی حالت میں رہنا ہے۔

شہید سردار سلیمانی

            مدافعینِ حرم کے ساتھ آخری اجلاس

            سب باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ دروازہ کھلتا ہے اور مزاحمتی محاذ کے سب سے بڑے کمانڈر اندر داخل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اسی ہمیشہ کی مسکراہٹ کےساتھ سب سے فرداً فرداً احوال پرسی کرتے ہیں۔ کچھ منٹ بعد ہماری اپنی گفتگو ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ حاج قاسم اجلاس کا رسمی طور پر آغاز کرتے ہیں۔ ابھی گفتگو کے ابتدائی مراحل میں ہی ہیں کہ کہتے ہیں: ’’سب لکھ لیں، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ لکھ لیں!‘‘ ہم ہمیشہ اہم نکات لکھ لیا کرتے تھے لیکن اس بار انہوں نے تمام مطالب لکھنے کی تاکید کی۔ وہ مسلسل کہتے گئے: آئندہ پانچ سال کا منشور، اگلے پانچ سالوں میں ہر ہر مزاحمتی گروہ کا الگ الگ منصوبہ، ایک دوسرے سے تعاون کا طریقہ۔۔۔ کاغذ بھرتے جا رہے تھے اور پھر اگلا کاغذ۔ ایک اجلاس میں اتنے مطالب اس سے پہلے کبھی نہیں لکھے گئے تھے۔ جو لوگ حاج کے ساتھ کام کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کام کے اور اجلاس کے وقت انتہائی سنجیدہ ہوتے ہیں اور اپنی بات کاٹنے کی اجازت نہیں دیتے، مگر اس دن ایسا نہ تھا۔ کئی بار ان کا سلسلہ گفتگو منقطع ہوا لیکن انہوں نے پرسکون لہجے میں کہا: ’’جلدی نہ کریں، مجھے اپنی بات پوری کرنے دیں۔۔۔‘‘

            سید حسن نصر اللہ سے حاج قاسم کی آخری ملاقات

            حاج بیروت سے دمشق واپس آئے۔ ان کے ساتھ جو شخص تھا، وہ بتا رہا تھا کہ حاج نے فقط ایک گھنٹے تک سید حسن نصر اللہ سے ملاقات کی اور پھر ان سے رخصت ہو گئے۔ حاج نے بتایا کہ وہ آج رات عراق جانا چاہ رہے ہیں لہٰذا انتظامات ہو جانے چاہییں۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ ایک نے کہا: ’’حاجی! عراق کے حالات اچھے نہیں ہیں، اس وقت آپ نہ جائیں!‘‘ حاج قاسم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’’آپ ڈر رہے ہیں کہ میں شہید نہ ہو جاؤں!‘‘ باتیں شروع ہو گئیں اور ہر کسی نے اپنی بات کہی: ’’شہادت افتخار ہے مگر آپ کا جانا ہمارے لیے حادثے سے کم نہیں ہو گا۔ حاجی! ابھی آپ نے بہت سے کام کرنے ہیں۔‘‘ لیکن حاج نے ہماری طرف رخ کیا اور دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ پھر انہوں نے بہت آہستہ آہستہ اور نپے تلے انداز میں کہا: ’’جب پھل پک جائے تو باغبان کو اسے چن لینا چاہیے۔ پکا ہوا پھل اگر درخت پر لگا رہ جائے تو خراب ہو جاتا ہے اور خود بخود گر جاتا ہے۔‘‘ پھر وہاں موجود لوگوں پر نظر دوڑائی اور کچھ لوگوں کی طرف اپنےہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہ پھل بھی پک گیا ہے، یہ بھی اور یہ بھی۔۔۔‘‘

            شہادت سے دو گھنٹے پہلے حاج قاسم کی آخری تحریر

            ’’ الٰہی لا تکلنی‘‘ خداوند۱! مجھے اپنی بارگاہ میں قبول کر لے۔ خدایا! میں تیرے دیدار کا عاشق ہوں، وہی دیدار جس نے موسیٰ علیہ السلام کو کھڑا ہونے اور سانس لینے سے عاجز کر دیا۔ مرے خدا! مجھے پاکیزہ حالت میں اپنے حضور قبول فرما!

            حاج قاسم کا اپنے دوست کو خط

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

            عزیز بھائی حسین!

            ان تیس سالوں کے بعد خصوصاً ان بیس سالوں میں جبکہ میری اور تمہاری سانسیں باہم پیوستہ رہی ہیں، یہ پہلا سفر ہے جو میں تمہارے بغیر کر رہا ہوں۔ سفر کے دوران اپنی عادت کے مطابق بارہا تمہیں پکارا ہے۔ سب حیران تھے، جہاز میں، گاڑی میں اور۔۔۔ میں نے کئی بار دیکھا مگر تمہاری جگہ خالی تھی۔ معلوم ہوا کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔

            پیارے حسین! تمہارا میرے ساتھ ایک ایسا رشتہ ہے جو تم اپنے بچوں کے ساتھ اور تمہارے بچے تمہارے ساتھ نہیں رکھتے اور نہ ہی میرے بچے مجھ سے وہ رشتہ رکھتے ہیں۔ تم ہمیشہ نہ صرف میرے جسم کے نگہدار رہے بلکہ میری روح کی بھی حفاظت کرتے رہے۔ آرام پر اصرار، کھانے پینے پر اصرار، سونے کا خیال اور۔۔۔ تم ہمیشہ میرا خیال رکھتے رہے کہ میرا سارا وقت اسلام اور جہاد میں صرف ہو، کبھی تم نے میرے وقت کو کسی بیہودہ سرگرمی میں تلف نہ ہونے دیا۔

            پیارے حسین! میں خوش ہوں کہ تم مجھ سے جدا ہو گئے، بہت خوش ہوں۔ اگرچہ کچھ مدت کے لیے مجھے روحانی صدمہ ہوا ہے لیکن تمہارے جدا ہو جانے سے بہت ہی خوش ہوں کیونکہ میں تمہیں کھونے کی ہمت نہیں رکھتا۔ میں نے اپنے سب پیارے کھو دیے ہیں اور ہمیشہ ان کے لیے سوگوار ہوں۔ ان کے بغیر ایک لمحے کے لیے بھی خوش نہیں رہ سکتا۔ میں جب بھی زندگی جینا اور کچھ دیر کے لیے سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں تو ان شہید دوستوں، جو کبھی میرے ہمراہ تھے، کا ایک ہجوم میرے اردگرد پروانوں کی طرح گھومنے لگتا ہے اور وہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔

   حسین! کئی بار ایسا ہوا کہ جب ہم اکٹھے فرنٹ لائن پر جاتے تھے تو میری کوشش ہوتی تھی کہ تم میرے ساتھ نہ آؤ اور پیچھے ہی ٹھہرے رہو۔ اگرچہ میں نے آج تک اپنی زبان سے کچھ نہیں کہا مگر آئندہ اپنے بعد کے لیے لکھ رہا ہوں کہ خدا جانتا ہے کہ ان میں سے جو بھی مجھ سے بچھڑ کر گیا اس کی جدائی سے میرے دل پر قیامت گزری ہے۔ میں نے بادپا، جمالی اورعلی داعی کو کھویا، اور پریشان رہا کہ کہیں تمہیں بھی نہ کھو بیٹھوں۔ میں جب بھی آگے محاذ پر جاتا تو ہمیشہ اپنے پیچھے کی فکر ہوتی کہ کہیں تمہیں گولی نہ لگ جائے اور تم شہید نہ ہو جاؤ۔ اس وجہ سے میں خوش ہوں کہ تم مجھ سے جدا ہوئے ہو، کم از کم تمہاری شہادت کا داغ تو میرے دل پر نہیں ہے اور تم مجھ سے زندہ جدا ہوئے ہو جس کے لیے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔

            میری جان حسین! میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے تیس سال تک پورے خلوص، پاکیزگی، سلامتی اور صداقت کے ساتھ اپنی زندگی کو اسلام پر فدا کیے رکھا۔ تم وفا، صداقت، اخلاص اور رازداری میں بے مثال ہو۔

            حسین، میرے بیٹے، میرے پیارے، میرے بھائی، میرے دوست! میری خدا سے یہی دعا ہے کہ تمہاری عمر بابرکت ہو اور (تمہارے اندر کا) حسین پورجعفری جیسا کہ پہلے تھا ویسی ہی خصوصیات کے ساتھ آخر عمر تک اس کی حفاظت کرو۔ وہ حسین جو عراقی، شامی، لبنانی، افغانی اور یمنی ہر مجاہد کے لیے جانا پہچانا نام تھا۔ وہ میری نشانی اور میرا پتا تھا۔ کتنا اچھا لگتا تھا کہ ان چند دنوں میں انہوں نے کئی بار مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا۔ کوئی یقین ہی نہیں کر رہا تھا کہ تم میرے ساتھ نہیں ہو۔

            پیارے حسین! فقط قیامت کے دن ہی اعمال کی قدر و قیمت کی حقیقت معلوم ہو گی اور وہ وقت کیسا خوبصورت وقت ہو جب سب متحیر و حیران ہوں گے اور تم خوشحال اور مسکراتے ہوئے۔ ان تمام تھکاوٹوں کا اجر تم اس وقت پاؤ گے؛ وہ وقت کہ جب تمہارے گھر والے اور رشتہ دار محتاج ہوں گے اور تمہارا توسل ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ خدا تم جیسے میرے اچھے بھائی کے جہاد کا اجر ایک شہید کے اجر کے برابر قرار دے۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں شہید ہو گیا اور خدا کے ہاں میرا کوئی مرتبہ ہوا تو تمہارے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوں گا۔

            میرے پیارے حسین! کوشش کرو کہ ہمیشہ ہر حالت میں تمہارے اندر ایک جہادی کی تروتازگی برقرار رہے۔ اپنے روزمرہ کے معمولات اور دنیاوی مشغولیات کو اس بات کی اجازت نہ دو کہ تمہارے شہید دوستوں کی یاد تمہارے دل سے نکل جائے؛ حسین اسدی کی یاد، حسین نصرالٰہی کی یاد، احمد سلیمانی کی یاد، حسین بادپا کی یاد۔ کس کس کی یاد کا کہوں اور کتنے لوگوں کو تلاش کروں؟! کیونکہ انہیں فراموش کر دینے کا مطلب ہے خداوند سبحان کو فراموش کر دینا۔

            میری جان حسین! دنیا میں انسان کی عمر تیزی سے گزر جاتی ہے۔ ہم بہت جلد ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے اور ہمارے اور ہمارے عزیزوں کے درمیان فاصلہ آ جائے گا۔ جب ہمیں اجنبیوں کی طرح وحشت کے گڑھے میں رکھ دیں گے تو ایسی حالت میں انسان کے اعمال کے علاوہ کوئی بھی اس کی دادرسی کو نہیں پہنچے گا کیونکہ صرف بارگاہِ خداوندی میں قبول ہونے والے اعمال کا چراغ ہی ہے جو اس مکمل تاریکی اور خاموشی میں روشنی دینے کا امکان رکھتا ہے۔

            پیارے حسین! کسی بھی حالت میں کسی بھی محبت کو خداوند سبحان کی محبت پر حاوی نہ ہونے دو اور نہ ہی کسی کی رضامندی خداوند متعال کی رضامندی پر غلبہ حاصل کرنے پائے۔

            میرے اچھے بھائی! اگر تم تکلیف میں نہیں رہنا چاہتے تو درد میں مبتلا ہو جاؤ۔ وہ درد جو ناقابل برداشت اور چلچلاتی گرمی میں تمہارے وجود کی ٹھنڈک بن جاتا ہے، وہ درد جو کڑاکے کی سردی میں تمہارے وجود کو گرمی بخشتا ہے۔ ہر درد، درد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر مصیبت، مصیبت ہوتی ہے۔ کتنے ہی ایسے درد ہیں جو درد کا درمان ہیں اور کتنی ہی ایسی مصیبتیں ہیں کہ درحقیقت اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دینا چاہیے اور خدا کی رضا کو عین نعمت، لطف اور محبت جاننا چاہیے۔

            حسین! تمہیں معلوم ہے کہ میرا کیا حال ہے اور تم میرے اندر کے غم و اندوہ سے واقف ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری دعاؤں کا کس حد تک محتاج ہوں۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کس قدر خوف زدہ ہوں اور خوف نے میرے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ایک لمحے کے لیے بھی میری جان نہیں چھوڑ رہا البتہ یہ ڈر دشمن کا ڈر نہیں ہے، نہ ہی بے سروسامانی کا ڈر اور نہ ہی مقام و منزلت کا ڈر۔ تم تو جانتے ہی ہو کیونکہ تم میرے وجود کا حصہ ہو۔ میرا ڈر اپنے جانے کے انداز سے ہے۔ تم میرے تمام اسرار سے واقف ہو۔ میرے لیے دعا کرو اور اپنی دعاؤں میں مجھے بالکل بھی نہ بھولو۔

            ان شاء اللہ تم اور تمہارا مجاہد اور صابر خاندان ہمیشہ سلامت رہو۔ خدا حافظ میرے اچھے اور عزیز بھائی، تیس سال سے میرے مہربان، سچے دوست اور یارِ باوفا، خدا حافظ!

تمہارا بھائی، قاسم سلیمانی