شہید قاسم سلیمانیؒ کا الٰہی سیاسی وصیت نامہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
میں اصول دین کی گواہی دیتا ہوں
اشهدأن لااله الاالله واشهدأن محمدًارسول الله واشهدأن امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب واولاده المعصومین اثنی عشرائمتناومعصومینناحجج الله۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ خدا کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ امیر المومنین علیؑ ابن ابی طالب علیہم السلام اور ان کی اولاد بارہ آئمہ معصوم ، خدا کی حجتیں ہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت حق ہے، قرآن حق ہے، جنت و جہنم حق ہیں،(قبر و آخرت کے) سوال جواب حق ہیں، قیامت، عدل ، امامت و نبوت حق ہے۔
اےخدا تیری نعمتوں پر میں تیرا شکر گذار ہوں
خدا وندا !تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایک صلب سےدوسری صلب میں، ایک صدی سےدوسری صدی، ایک رحم سے دوسرےرحم میں منتقل کیا یہاں تک کہ ایک ایسے زمانے میں میرےوجود کواِذن ظہور عطاکیا کہ میرےلیےیہ امکان میسر ہوا کہ تیرے برحق اولیاء میں سے جو معصومین علیہم السلام سے سب سے زیادہ نزدیک ہے ،یعنی تیرے عبد صالح امام خمینیؒ کو پا سکوں اور ان کی رکاب میں ان کا ایک سپاہی بن سکوں اور اگر میں رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کا صحابی ہونے کی توفیق سے محروم رہا اور اگر میں امام علی علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کی مظلومیت کے زمانے کو نہ پا سکا تھا تو، تو نے مجھے اس دوری کے باوجود انہی کے راستے کا راہی بنا دیا جنہوں نے اپنی جان،جان عالم و خلقت کی راہ میں فدا کردی۔
اے معبود! میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے اپنے عبد صالح امام خمینیؒ کے بعد مجھے اپنے ایک اور عبد صالح سے ملحق کر دیا کہ جس کی مظلومیت اس کی صالحیت پر غالب ہے، ایسا مرد جو اس زمانے میں اسلام، شیعیت، ایران اور اسلام کی سیاسی دنیا کا حکیم و مدبر ہے یعنی محترم رہبر خامنہ ای (میری جان ان پر فدا ہو)
پروردگارا! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اپنے نیک بندوں کے درمیان قرار دیا اور مجھے ان کے فردوسی رخسار چومنے اور ان کے الٰہی عطر کو محسوس کرنے کی توفیق دی یعنی مجاہدین اور شہداء اسلام۔
خداوندا !اے قادر و عزیز، اے رازق و رحمان ،میں اپنی شرمسار پیشانی کو تیری بارگاہ ناز میں شکرانے کے طور پر رکھتا ہوں کہ تونے مجھے حقیقی اسلام یعنی مذہب تشیع، جو حقیقی مذہب ہے، سیدہ فاطمہ اور ان کی پاک اولاد کے راستے پر گامزن رکھا۔ مجھے فرزندان علی و فاطمہ علیہم السلام پر اشک بہانے کی توفیق سے نوازا۔ یہ تیری عظیم اور گرانقدر نعمت ہے یہ وہ نعمت ہے جس میں نور ہے، معنویت ہے، بیقراری ہے، ایسی بے قراری کہ خود اس بے قراری میں سب سے زیادہ سکون پایا جاتا ہے، ایسا غم جس میں سکون اور معنویت موجود ہے۔
خدایا ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے غریب مگردیندار اور اہل بیت علیہم السلام کے عشق سے سرشار والدین عنایت کیے جو ہمیشہ پاکیزہ راستے پر چلے۔ میں تجھ سے کمال عاجزی کے ساتھ دعا گو ہوں کہ ان دونوں کو جنت میں اپنے اولیاء کا جوار نصیب فرما اور مجھے آخرت میں ان کے قرب سے مشرف فرما!
خدایا میں ترے عفو و بخشش کا امید وار ہوں
اےخدا وند عزیز اور اے بے مثل حکیم و خالق! میں تہی دست ہوں، میری جھولی خالی ہے، میں خالی ہاتھ ، صرف تیری بخشش و عفو کے بھروسے پر تیرے حضور آتا ہوں۔ میں نے اس جہان سے کچھ نہیں لیا کیونکہ فقیر شاہوں کے پاس جائے تو کسی زاد راہ کی کیا حاجت؟!
میری جھولی تیرے فضل و کرم کی امید سے پُر ہے! اپنے ساتھ دو بند آنکھیں لایا ہوں جو تمام تر ناپاکیوں کے باوجود ایک گرانقیمت سرمایہ رکھتی ہیں اور وہ ہے اشکِ غمِ حسین، اہل بیتؑ کی مصیبت پر اشکوں کی دولت، مظلوم کے دفاع اور حمایت کے آنسو، یتیم،مظلوم اور ظالموں کے حصار میں قید بے بسوں پر بہنے والے آنسو!
خداوندا میرے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں، نہ میرے پاس تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق کچھ ہے نہ اپنے دفاع میں کچھ بیان کرنے کی قدرت!
ہاں، میرے پاس کچھ ذخیرہ ہے اور میں اسی پر بھروسہ کیے ہوئے ہوں وہ یہ کہ میں متواتر تیری سمت بڑھتا رہا ہوں۔میں نے جب انہیں تیری بارگاہ میں بلند کیا، جب تیری رضا کی خاطر انہیں زمین اور زانو پر رکھا، جب تیرے دین کی حفاظت کی خاطر ان ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے۔۔۔یہ لمحات میرا ذخیرہ میری ،دولت ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ سرمایہ تیری بارگاہ میں قبول ہو!
پروردگارا ! میرے پاؤں سست ہیں، ان میں رمق باقی نہیں۔ان میں پل صراط کو عبور کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ عام پلوں پر میرےپاؤںلرزنے لگتے ہیں ؛ہائے پل صراط جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ لیکن ایک امید ہے جو مجھے نوید سناتی ہے کہ شاید میں پل صراط سے گزرتے وقت لرزش سے محفوظ رہوں، ممکن ہے نجات پا جاؤں، میں ان پاؤں سے تیرے حرم میں داخل ہوا ہوں، تیرے گھر کا طواف کیا ہے۔ انہی پاؤں کے سہارے تیرے ولیوں کے دربار کربلا، بین الحرمین تیرے حسین اور عباس علیہم السلام کے حرم کے درمیان برہنہ پا چلتا رہا۔ میں اپنے پیروں کے سہارے طولانی مدت جنگوں میں تیرے دین کے دفاع کی خاطر دوڑتا رہا، بنکروں میں سمٹتا رہا، کبھی انہی پیروں پر اچھلتا رہا، کبھی رینگتا رہا اور تیرے دین کے دفاع کی خاطر ہنستا ہنساتا اور روتا رولاتا رہا۔کبھی گر گیا تو کبھی اٹھ کھڑا ہوا۔
خدایا! میں امیدوار ہوں تیرے دین کے دفاع میں میری ان کوششوں، کبھی رینگنا تو کبھی اچھل کر بڑھنا ،اپنے ولیّوں کے دربار میں حاضری کے صدقے ان پیروں پر رحم فرما اور انہیں بخش دے!
خدایا! میرا سر، میری عقل، میرے ہونٹ، میری ناک، میرے کان، میرا دل، میرے تمام اعضاء و جوارح تیرےفضل و کرم سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ یا ارحم الراحمین! مجھے قبول کرلے، پاکیزہ بنا کر قبول کر لے، اس طرح سے مجھے اپنا لے کہ تیرے دیدار کے قابل ہو جاؤں۔ میں تیرے دیدار کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا۔میری جنت تیرا جوار ہے۔ اے اللہ !
اے خدا میں اپنے دوستوں کے قافلہ سے پیچھے رہ گیا ہوں
اے خدائے توانا! عرصہ ہوا کہ میں اس قافلےسے پیچھے رہ گیا ہوں جس کی طرف مسلسل دوسروں کو روانہ کر رہا ہوں۔ لیکن میرے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا، میں ہمیشہ ان کی یاد میں ڈوبا ہوا ہوں۔
یہی نہیں! بلکہ ان کے نام میرے ذہن میں نقش ہیں بلکہ ان کے نام ان کی یادیں میرے دل اور میری آنکھوں میں اشک اور آہ کے ساتھ آمیختہ ہیں۔
میرے پیارے خدا!میرا جسم آہستہ آہستہ ضعیف ہو رہا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ جو ۴۰سال سے مسلسل تیرے در پر کھڑا ہوا ہے، تو اسے حاضری کا اذن نہ دے؟!
میرے خالق! میرے محبوب!میرے معشوق!میں نے ہمیشہ تہہ دل سے تجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے وجود کو اپنے عشق کی دولت سے مالامال کر دے۔
مجھے اپنے ہجر میں تڑپنے کی لذت دے اور اسی ہجر میں موت سے ہم آغوش کر دے۔
میرے عزیز!میں قافلہ عشق سے پیچھے رہ جانے کی رسوائی کے سبب اور اس قافلہ سے ملحق ہونے کی بے قراری میں بیابانوں کی خاک چھان رہا ہوں۔ ایک امید ایک آس پر اس شہر سے اس شہر، اس صحرا سے اس صحرا، جاڑوں اور گرمیوں میں محو سفر ہوں۔ اے کریم ، اے حبیب، میں نے تیرے کرم سے لو لگائی ہے، تو خود جانتا ہے کہ میں تیرا عاشق ہوں۔ تو بہتر جانتا ہے کہ تیرے سوا کسی کو نہیں چاہتا پس مجھے اپنا وصال نصیب کر۔
خدایا ایک وحشت نے میرے وجود کو اپنے حلقے میں لیا ہوا ہے۔ میں اپنے نفس کو مہار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے خدا مجھے رسوا نہ کرنا۔ جن افراد کا احترام خود تونے لازم کیا تجھے ان کا واسطہ، ان مقدسات کے حرم کی حرمت و حصار ٹوٹنے سے پہلے مجھے اپنی سمت آنے والے قافلے تک پہنچا دے۔
میرے معبود، میرے عشق و معشوق، میں تیرا عاشق ہوں۔ میں نے بارہا تجھے دیکھا ہے، تجھے محسوس کیا ہے، مجھ میں تجھ سے جدا رہنے کی تاب نہیں ہے۔ بہت ہو چکا ، بس اب مجھے قبول کرلے مگر اس طرح کہ میں تجھ سے ملاقات کےلائق ہوں۔
اپنے مجاہد بہن بھائیوں سے خطاب
اس عالم میں میرےمجاہد بہن بھائیو، اے وہ لوگو! جنہوں نے اپنے سر خدا کو قرض دےدیےہیںاوراپنی جانیںاپنی ہتھیلیوںپررکھے،بازار عشق میںبیچنےچلے آئےہیں، توجہ فرمائیں۔ جمہوری اسلامی ، اسلام اور شیعیت کا مرکز ہے۔
اس وقت امام حسین علیہ السلام کی خیمہ گاہ ، ایران ہے۔ جان لیجئے کہ جمہوری اسلامی ایک حرم ہے، اگر یہ حرم محفوظ رہا تو باقی حرم بھی محفوظ ہیں۔ اگر دشمن اس حرم کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوجائے تو کوئی حرم باقی نہ بچے گا۔ نہ حرم ابراہیمی علیہ السلام ، نہ حرم محمدیﷺ۔
میرے بھائیو اور بہنو، عالم اسلام کو ہمیشہ سے رہبر و قائد کی ضرورت ہے۔ ایسا رہبر جو شرعی اور فقہی اعتبار سے معصوم کی جانب سے منصوب ہو اور ان سے متصل ہو۔ آپ بخوبی جانتے ہیںدنیا کو جھنجھوڑنے والے اور اسلام کو تازہ دم کرنے والے، پاکیزہ کردار کے حامل عالم دین یعنی ہمارے امام خمینیؒ نے اس امت کی نجات کا واحد راستہ ولایت فقیہ کو قرار دیا ہے۔
لہٰذا آپ خواہ شیعہ ہوں کہ دینی اعتقاد کے اعتبار سے اس امر کو تسلیم کرتے ہیں خواہ اہل سنت کہ اس امر کو عقلی دلائل کی بنا پر قبول کرتے ہیں۔
جان لیں کہ سب اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ، ہرگز ولایت فقیہ سے روگردانی مت کریں کہ اسی میں اسلام کی فلاح و بہبود ہے۔
یہ خیمہ ، رسول اللہﷺ کا خیمہ ہے۔ اسی کی وجہ سے سارا جہان جمہوری اسلامی ایران کا دشمن بنا ہوا ہے۔ وہ اس خیمہ کو جلا کر ویران کر دینا چاہتا ہے۔ اس کے گرد طواف کرتے رہیں۔ خدا کی قسم ، خدا کی قسم ، خدا کی قسم ، اگر اس خیمہ کو نقصان پہنچا تو حرم بیت اللہ، حرم رسول اللہﷺ مدینہ، نجف، کربلا، کاظمین، سامراء اور مشہد بھی باقی نہ رہیں گے حتیٰ کہ قرآن کو بھی نقصان پہنچے گا۔
ایرانی بھائیوں اور بہنوں سے خطاب
میرے ایرانی بہن بھائیو، سربلند اوربا افتخار لوگو! میری اور میرے جیسوں کی جان ہزار بار آپ پر فدا ہو،بالکل ویسے جیسے آپ لوگوں نے اپنی ہزاروں جانیں اسلام اور ایران پر فدا کی ہیں؛ آپ سب اصول کی پیروی کیجئے۔ اصول یعنی ولایت فقیہ۔ بالخصوص اس ولی فقیہ، حکیم و دانا، مظلوم اور دین و فقہ و عرفان و معرفت کے چراغ، محترم و عزیز، سید علی خامنہ ای کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیے۔ ان کی آبرو کو مقدسات کی آبرو کی طرح محترم جانیے۔
میری عزیز ماؤں بہنو اور باپ بھائیو!
جمہوری اسلامی اس وقت اپنے عروج کے دور سے گذر رہا ہے۔ جان لیں! یہ اہم نہیں ہے کہ دشمن آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے،دشمن ہمارے اور آپ کے رسولؐ کو کس نگاہ سے دیکھتا تھا؟انہوں نے پیغمبر اسلام اور ان کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا کیا تہمتیں ان پر لگائیں؟ ان کے پاک و پاکیزہ فرزندوں کے ساتھ کیا کیا؟ بس خیال رہے کہ دشمنوں کی مذمتیں اور ان کے طعنے، ان کی جانب سے بڑھنے والادباؤ آپ کو تفرقہ میں نہ ڈال دے۔
جان لیجیے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارےہر دل عزیز امام خمینیؒ کا ہنر یہ تھا کہ انہوں نے پہلے اسلام کو ایران میں نافذ کیا پھر ایران کو اسلام کی خدمت پر مامور کیا۔ اگر اسلام نہ ہوتا اور اسلامی روح اس معاشرے میں حاکم نہ ہوتی تو صدام ایک خونخوار بھیڑیے کی طرح اس ملک کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ،امریکہ ایک باؤلے کتے کی طرح پیش آتا۔
لیکن امام کا ہنر یہ تھا کہ آپ نے اسلام کے ذریعہ ایران کی پشت پناہی کی۔ عاشورا، محرم و صفر اور ایام عزائے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اس ملک و ملت کا یار و مدد گار بنایا۔ انہوں نے ایک انقلاب میں کئی انقلابوں کو تخلیق کیا. اسی بنا پر ہر دور میں ہزاروں فداکار جوان آپ کی خاطر، اسلام اور اس امت اور ملک کی خاطر سینہ سپر بنے رہے اور دنیا کی سب سے بڑی مادی قوت کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا۔
میرے پیارو!اصول میں کوئی اختلاف مت کرنا!
شہدائے ملت ،ہماری عزت و کرامت کا مرکز و محور ہیں۔ صرف آج نہیں بلکہ یہ شہدا ہمیشہ خدا وند سبحان کے وسیع و عریض سمندر سےمتصل رہے ہیں۔ ان کو اپنی آنکھوں، دلوں اور زبان کے ساتھ ایسا ہی عظیم اور عالی مرتبت رکھیے جیسے وہ حقیقت میں ہیں۔ اپنے بچوں کو ان کے ناموں اور ان کی تصاویر سے آشنا کیجئے۔ ان کے والدین، بیوائوں کا احترام کیجئے۔ جس طرح آپ اپنے بچوں کے ساتھ مہربانی اور در گذر کا برتاؤ کرتے ہیں شہدا کے بچوں، خاندانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی خاص برتاؤ کیجئے۔
اپنی مسلح افواج جن کے سربراہ خود ولی فقیہ ہیں، کا احترام کیجئے کہ وہ آپ کے، آپ کے مذہب کے، اسلام اور اس ملک کے محافظ ہیں۔ مسلح افواج کو بھی اپنے گھر کے دفاع کی طرح، اپنی ملت و ناموس اور اپنے ملک کی حفاظت، حمایت اور احترام کرنا چاہئے۔ امیرالمومنین علی ؑ کے فرمان کے مطابق مسلح افواج کو قوم کی عزت کا سرچشمہ، عوام اورمستضعفین کا قلعہ اور پناہ گاہ ،نیز ملک کے لیے زینت اور عزت کا باعث ہونا چاہیے۔
کرمان کے لوگوں سے خطاب
کرمان کے پیارے لوگوں سے بھی کچھ خطاب کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہے جانے کے قابل ہیں، جنہوں نے آٹھ سالہ جنگ میں عظیم قربانیاں دیں ہیں اور بلند مرتبت جنگجو سردار اور مجاہد، اسلام کی راہ میں قربان کیے ہیں۔ میں ہمیشہ ان لوگوں سے شرمندہ خاطر رہا ہوں۔ انہوں نے آٹھ سال تک اسلام کی خاطر مجھ پر اعتماد کیا، اپنے بچوں کو خود قتل گاہوں میں ، شدید جنگ زدہ میدانوں جیسے کربلا ۵، والفجر ۸، طریق القدس، فتح المبین اور بیت المقدس وغیرہ کی جانب روانہ کیا اور امام مظلوم سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے نام اور ان کے عشق میں ڈوب کر ایک بڑی ڈویژن ثار اللہ کے نام سے تیار کی۔ اس ڈویژن نے شمشیر برّاں کی مانند بارہا دشمنوں کا قلع قمع کیا، مسلمانوں کو شادکام کیا اور غم اندوہ کی لکیروں کو ان کے چہروں سے صاف کیا۔
میرےعزیزو! میں تقدیر الٰہی کے سبب آج آپ کے درمیان نہیں ہوں لیکن میں آپ سب کو اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور بچوں سے زیادہ چاہتا ہوں، کیونکہ میں ان سے زیادہ آپ کے ساتھ رہا ہوں۔ ہر چند کہ میں ان کا پارہ تن تھا اور وہ میرے وجود کا حصہ تھے مگر انہوں نے بھی اس کو قبول کر لیا تھا کہ میں اپنا وجود آپ سب کی اور ایرانی قوم کی نذر کر دوں۔
میں چاہتا ہوں کہ کرمان آخری دم تک ولایت کا حامی و مدد گار رہے۔ یہ ولایت ، ولایت علی ابن ابی طالب ؑ ہے، اس کا خیمہ، فاطمہ کے لعل حسین کا خیمہ ہے، اس کا طواف کرتے رہیے۔ میں ہمیشہ آپ کے ہمراہ ہوں۔ جانتے ہیں کہ میں نے زندگی بھر انسانیت ، جذبات و احساسات اور فطرت کو سیاسی نظر سے دیکھا ہے۔ میرا خطاب آپ سب سے ہے جو مجھے اپناہی ایک فرد جانتے ہیں ،اپنا بھائی اپنا بیٹا کہتے ہیں۔
میں وصیت کرتا ہوں کہ اسلام کو ایسے دور میں جو انقلاب اسلامی اور جمہوری اسلامی کا دور ہے، تنہا نہ چھوڑیے۔ اسلام کا دفاع ہوش و حواس اور خاص توجہ کا طلب گار ہے۔ اسلام، جمہوری اسلامی،اسلامی مقدسات اور ولایت فقیہ کی ابحاث الٰہی رنگ کی حامل ہیں لہٰذا خدائی رنگ کو ہر رنگ پر ترجیح دیجیے۔
شہدا کے خاندانوں سے خطاب
میرے بچو، میرے بیٹو اور بیٹیو، شہیدوں کے فرزندو، شہدا کے ماں باپ، اے ہمارے ملک کے روشن چراغو، شہدا کے بھائی بہنو اور وفادار اور دیندار بیویو! شہدا کے بچوں کی آوازیں ہی وہ آوازیں تھیں جن کو میں اس دنیا میں روز سنتا تھا اور ان سے مانوس تھا اور وہ قرآن کی آوازکی مانند ہی مجھے سکون پہنچایا کرتی تھیں، انہی آوازوں کو میں اپنی معنویت کا یار و مدد گار گردانتا تھا۔ شہدا کے والدین کی آوازوں سے مجھے خصوصی انسیت تھی۔ میں ان کے وجود میں اپنے والدین کے وجود کو تلاش کر تا تھا۔
میرے عزیزو! جب تک آپ اس قوم کے علمبردار ہیں اپنی قدر کو جانیے۔ اپنے شہیدوں کو اپنے اندر جلوہ گر کیجیے۔ اس طرح کہ جب بھی کوئی آپ کو یعنی کسی شہید کے فرزند کو کسی شہید کے باپ کو دیکھے تو اسے یہ محسوس ہو کہ وہ خود شہید کو اسی معنویت روحانیت اور ہیبت و جلال کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
میں آپ سب سے عفو و بخشش کا طلب گار ہوں۔ میں آپ میں سے اکثر کا حتی کہ شہیدوں کے بچوں کا حق بھی کما حقہ ادا نہ کرسکا۔ اس کے لیے میں خدائے قدیر سے استغفار طلب کرتا ہوں اور آپ سے معافی کو خواستگار ہوں۔
میری خواہش ہے کہ میرا جنازہ شہیدوں کے فرزند اپنے کاندھوں پر اٹھائیں، شاید ان کے پاکیزہ ہاتھوں کی برکت سے خدا وند متعال میرے جسد خاکی پر رحم فرمائے اور اپنی خاص رحمت کا حق دار قرار دے۔
ملکی سیاستدانوں سے خطاب
مجھے اپنے ملک کے سیاستدانوں سے بھی مختصر بات کرنی ہے۔ چاہے وہ خود کو’’اصلاح طلب‘‘کا نام دینے والے ہوں یا خود کو’’اصول گرا‘‘ کہنے والے ہوں۔ میں ہمیشہ اس بات سے رنجیدہ خاطر رہا ہوں کہ معمولاًہم دو دھڑوں میں، خدا ، قرآن اور اقدار کو فراموش کردیتے ہیں بلکہ قربان کر دیتے ہیں۔ میرے عزیزو، آپس میں رقابت ہو یاکوئی جھگڑا ، لیکن اگر آپ کا عمل ، آپ کا مناظرہ، کسی بھی طرح دین اور انقلاب کو کمزور کرنے کا سبب بنے تو جان لیجیے کہ آپ نبی مکرم ﷺ اور اس راہ میں شہید ہونے والوں کی نظروں میں مغضوب ہو گئے ہیں ،سو اپنی حدود کو واضح اور الگ کیجیے۔ اگر آپ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہمراہ ہونے کی شرط، باہمی توافق اور اصولوں کے مرکز پر واضح بیان ہے۔ یہ اصول کوئی بہت تفصیلی اور لمبے چوڑے نہیں ہیں بلکہ صرف چند اہم اصلوں پر مشتمل ہیں:
۱) پہلی اصل ولایت فقیہ پر عملی اعتقاد ہے۔ یعنی ولی فقیہ کی نصحیت کو سنیے اور ان کےکہے پر ایک حقیقی ، شرعی اور علمی طبیب کے فرمان کی طرح عمل کیجیے۔ اگر کوئی اسلامی جمہوری میں کسی عہدے کا خواہاں ہے اور کسی منصب پر فائز ہونا چاہتا ہے تو اس کی بنیادی شرط ولایت فقیہ پر عملی اور حقیقی اعتقاد ہے۔ میں نہ آمرانہ ولایت کا کہوں گا نہ ہی قانونی ولایت کا کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی وحدت کی مشکل کو حل نہیں کر سکتی۔ قانونیولایت تمام عوام ،چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم ،سب کے لیے ہے لیکن عملی ولایت ،ان عہدہ داروں اور منصب داروں کے لیے مخصوص ہے جو ملک کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے خواہاں ہیں وہ بھی ایک اسلامی مملکت اتنے شہدا کے ساتھ۔
۲) اسلامی جمہوری کی بنیادوں پر کھرا اعتقاد،اخلاق و اقدارسےذمہ داریوںتک، چاہے وہ ذمہ داریاں ملک و قوم کی ہوں یا اسلام کی۔
۳) نیک خو لوگوں ، خوش عقیدہ اور قوم کے خدمت گذار لوگوں کو منصب سونپنا! ایسے لوگوں کو بروئے کار نہ لائیں جو اگر ایک دور دراز کے دیہات میں بھی کسی عہدہ پر فائز ہو جائیں تو اپنے پرانے جھگڑوں کا پنڈورا بکس کھول کر بیٹھ جائیں۔
۴) بدعنوانی اور مالی فساد و کرپشن سے مقابلہ کرنا اور ظاہری آرائش اور عیش و عشرت پسندی سے پرہیز کرنا۔
۵) اپنی حکومت اور حاکمیت کے دور میں جس عہدہ پر بھی ہوں، لوگوں کا احترام اور ان کی خدمت کو عبادت جانیں اور خود کو عوام کا حقیقی خدمت گار اور اقدار کی ترویج کریں نہ کہ بیہودہ حیلے بہانوں کے ذریعے اقدار کا بائیکاٹ کردیں۔
تمام عہدہ دار، ایک دل سوز باپ کی مانند، معاشرے کی تربیت اورحفاظت کی جانب توجہ دیں۔ایسا نہ ہو کچھ ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے یا بے توجہی اور وقتی جذبات کے تحت ایسے کام کر بیٹھیں جن سے سماج میں فساد اور طلاق جیسے واقعات میں اضافہ ہو اور گھر ٹوٹنے کا سبب بنیں۔
یہ حکومتیں ہی ہیں جو خاندانوں کے استحکام کا عامل بھی ہیں اور خاندانوں کی تباہی کا ذریعہ بھی ہیں۔اگر ان اصول پر عمل ہوا تو اس وقت سب رہبر کے بتائے ہوئے راستے اور انقلاب اسلامی کی راہ پر گامزن ہیں اور اسی اصول پر گامزن رہتے ہوئے انتخابات کے دوران ایک قابل اور لائق انتخاب ،ایک صاف ستھرا مقابلہ عمل میں آئے گا۔
سپاہ اور فوج سے خطاب
عزیز اور جاں نثار سپاہ اور فوجیوں سے بھی کچھ مختصر کلام کرنا ہے۔ سپہ سالار کے انتخاب کا معیار شجاعت اور بحرانی حالات کا سامنا کرنے کی استعداد کو قرار دیجئے، فطری بات ہے کہ میں ولایت کا ذکر یا اس کی طرف اشارہ نہیں کر رہا ہوں چونکہ ولایت ،مسلح افواج کا جزء نہیں ہے بلکہ مسلح افواج کی بقا کی اصل اور بنیاد ہے اور اس شرط و اساس میں کسی طرح کا خلل واقع نہیں ہو سکتا۔
دشمن، اس کے اہداف اور اس کی سازشوں کو بر وقت پہچاننا اور بر وقت فیصلہ اور عملی اقدام نہایت ضروری ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی اپنے مناسب وقت پر انجام نہ دیا جائے تو یہ عمل آپ کی کامیابی پر بری طرح سے اثر انداز ہوگا۔
علما اور مراجعین سے خطاب
سماج سے ظلمت اور تاریکی کو دور کر کے اسے منور کرنے والے معزز علمائےکرام اور عظیم الشان مراجع کرام مخصوصاْ مراجع تقلید کے لیے ۴۰ سال سے میدان جنگ میں حاضر ایک سپاہی کا پیغام۔
’’آپ کے ایک سپاہی نےپہرےداری کے ایک مینار سے دیکھا ہے کہ اگر اس نظام کو کوئی نقصان پہنچا ،تو دین اور اس کی اقدار کہ جن کے لیے آپ نے علمی حوزوں میں اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے اور اس قدر صعوبتیں برداشت کیں ہیں، سب نقش بر آب ہو جائے گا۔ یہ زمانہ گذشتہ تمام زمانوں سے مختلف ہے۔ اگر اس بار استعمار مسلط ہو گیا تو اسلام نام کی کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ صحیح راستہ انقلاب، جمہوری اسلامی اور ولی فقیہ کی بغیر کسی مصلحت پسندی کے حمایت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ حوادث دوراں میں دوسرے لوگ آپ کو، جواسلا م کی امیدہیں،مصلحت پسندیکاشکارکردیں۔آپ سب امام خمینیؒ کوپسندکرتے تھےاورانکے راستےکےمعتقدتھےتو امام خمینیؒ کا راستہ امریکہ سے جنگ اور ولی فقیہ کے پرچم تلے اسلامی جمہوریہایران اور استعمار و استکبار کے مظالم کا شکار مسلمانوں کی حمایت اور مدد ہے۔
میں نے اپنی عقل ناقص سےمحسوس کیا ہے کہ بعض خناس صفت اس کوشش میں ہیں کہ معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والے مراجع اور علما کو اپنی گفتار کے ذریعے حق سے سکوت اور مصلحت پسندی کی جانب لے جائیں، حالانکہ حق واضح ہے۔ اسلامی جمہوری ، اقدار اسلامی اور ولایت فقیہ امام خمینیؒ کی میراث ہے جس کی سنجیدگی کے ساتھ حمایت کی جانی چاہیے۔ میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو بہت تنہا اور مظلوم محسوس کر رہا ہوں۔ وہ آپ کی ہمراہی اور مددکے نیازمندہیں اور آپ سب معززین اپنے بیانات، ملاقاتوں اور رہبر کی حمایت کے ذریعےمعاشرے کو درست سمت پر گامزن کر سکتےہیں۔ اگر اس انقلاب کو کوئی نقصان پہنچا تو اس بار شاہ کا زمانہ بھی نہ ہوگا بلکہ استکبار اس معاشرے کو کفر ، خالص الحاد اور گہرے انحراف کی جانب دھکیل دے گا جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔
میں آپ کی دست بوسی کے ساتھ آپ سے معذرت کا طلب گا ر ہوں کہ آپ کے حضور لب کشائی کی۔ میں یہ چاہتا تھا کہ آپ سب کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرائض پیش کروں مگر اس کی فرصت نصیب نہ ہو سکی۔
آپ کا سپاہی اور خدمت گذار سب سےمعافی کا طلب گار ہوں
اپنے سب ہمسایوں، دوستوں اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے معافی و درگذر کا طلب گار ہوں۔ ثار اللہ ڈویژن اور دشمنوں کی آنکھوں کا خار اور ان کے راہ میں حائل عظیم فوج قدس کے جنگجوؤں سے بخشش اور معافی کا طلبگار ہوں۔خصوصاً وہ افراد جنہوں نے برادرانہ انداز میں میری مدد کی۔
ایسا ممکن ہی نہیں کہ میں حسین پور جعفری صاحب کا نام نہ لوں جنہوں نے کمال خیر خواہی اور بڑے پن کے ساتھ میری ایسے ہی مدد کی جیسےاپنےبچوں کی مدد کی جاتی ہے۔ میں نے بھی ان کو اپنے بھائیوں کی طرح چاہا۔ حسین پور جعفری کے خاندان اور ان تمام مجاہد بھائیوں سے عذر خواہی کرتا ہوں جن کو میں نے زحمتوں میں ڈالاہرچند کہ سپاہ قدس کے تمام لوگوں کا رویہ میرے ساتھ برادرانہ اور محبت آمیز رہا اور سب نے میری مدد کی۔ میں اپنے عزیز دوست سردار قاآنی سے بھی عفو کا خواستگار ہوں جنہوں نے بہت ہی صبر و متانت کے ساتھ مجھے برداشت کیا۔
والسلام
قاسم سلیمانی