چوتھا باب
استغناء
وہ کہتے تھے: ’’اگر آپ درد میں نہیں رہنا چاہتے تو درد میں مبتلا ہوں!(۱) وہ درد جو ناقابل برداشت اور چلچلاتی گرمی میں آپ کے وجود کی ٹھنڈک بن جاتا ہے، وہ درد جو جان لیوا سردی میں آپ کے وجود کو گرمی بخشتا ہے۔ ہر درد، درد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر مصیبت، مصیبت ہوتی ہے۔ کتنے ہی ایسے درد ہیں جو درد کا درمان ہیں اور کتنی ہی ایسی مصیبتیں ہیں کہ درحقیقت اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دینا چاہیے اور ان تکالیف پر راضی رہنے کو عین نعمت، لطف اور محبت جاننا چاہیے۔‘‘
’’معرفت‘‘ کے مرحلے کے بعد انسان تعلقات اور قراردادوں سے رہائی پا کر مادی وسائل سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی صفاتی تجلیات سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
(۱) مرزا غالبؔ نے ایک شعرمیں اسی کیفیت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے غم
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
(مترجم)
وہ شہید جس کی بیوی اس کی شہادت کا ذریعہ بنی
جنگ کے زمانے میں حسین بادپا میرے ساتھ تھا اور میں اسے بہت پسند کرتا تھا۔ اب وہ مفقود الاثر(۱ ) ہے۔ ہم ایک ہی شہر سے تھے۔ اس نے یہاں آنے کے لیے اپنی بیوی کو اپنا واسطہ بنایا اور یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ایک خاتون اپنے شوہر کے جہاد کا واسطہ بنے۔ اس نے اپنی بیوی کو واسطہ بنایا کہ وہ آ کر ہم سے کہے: ’’آپ میرے شوہر کو محاذ پر جانے اور شہید ہونے کی اجازت دے دیجیے۔‘‘ یہ بہت بڑی بات ہے، جو اس چیز کی علامت ہے کہ مقصد کی قدر و قیمت سب سے زیادہ ہے۔ حسین بادپا نے پہلی بار اپنی بیوی کو واسطہ بنا کر بھیجا۔ دوسری مرتبہ خود آ گیا۔ وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ چوتھی بار میں نے اسے نہیں آنے دیا۔ اس نے ایک بار پھر اپنی بیوی کو بھیجا اور اس سے کہا: ’’فلاں کے نزدیک تمہاری بہت عزت ہے، تم میری سفارش کرو کہ وہ مجھے جانے دیں۔‘‘ یہ واقعہ گذشتہ سال ایام فاطمیہؑ( ۲) کا ہے۔ اس کے بعد وہ یہاں آیا اور شہید ہو گیا۔
(۱ ) جنگ کے دوران گم ہو جانے والے فوجیوں کو مفقود الاثر کہتے ہیں۔
( ۲) جمادی الثانی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام۔
شہید سردار سلیمانی
وہ دعا جو ایک شہید کی ماں کی زبان سے مستجاب ہوئی
ڈویژن ۴۱ ثاراللہ کا ایک مجاہد جسے میں نہیں جانتا تھا، مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ مجھے کہنے لگا: ’’میں اس بندۂ خدا کو نہیں جانتا لیکن حسین (حسین بادپا) شہید نہیں ہو گا۔ یہ بات مجھے شہید یوسف الٰہی نے بتائی ہے۔‘‘ حاج قاسم نے کہا: ’’نہیں۔ اگر کسی کو اس کے لیے دعا کرنی ہے تو وہ دعا کرے کہ یہ شہید ہو جائے۔‘‘
جیسے ہی حاج قاسم نے یہ جملہ کہا حسین بادپا مبہوت ہو کر رہ گئے اور میری طرف رخ کر کے کہنےلگے: ’’ابراہیم، حاجی نے کیا کہا؟‘‘ میں نے حاج قاسم کے جملے کی تکرار کی: ’’حاجی نے کہا ہے کہ اگر کسی کو اس کے لیے دعا کرنی ہے تو وہ دعا کرے کہ یہ شہید ہو جائے۔‘‘
اس رات جب ہم حسین بادپا کے گھر واپس آئے تو انہوں نے دوبارہ مجھ سے پوچھا: ’’حاج قاسم نے کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے سردار کے جملے کی دوبارہ تکرار کی۔ اس کے بعد حسین نے چار یا پانچ مرتبہ مجھ سے یہی سوال پوچھا۔ کچھ دیر گزری تو حاج حسین بادپا نے میری طرف منہ کر کے کہا: ’’ابراہیم! حاج قاسم غیب کی خبر رکھتے ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا مطلب کہ وہ غیب کی خبر رکھتے ہیں؟!‘‘ جواب دیا: ’’میں نے ایک خواب دیکھا تھا جسے ابھی تک کسی کے سامنے بیان نہیں کیا۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیسا خواب؟‘‘ کہا: ’’کچھ دن پہلے میں نے خواب میں شہید کاظمی کو دیکھا جس نے شہید یوسف الٰہی کا پیغام مجھ تک پہنچایا اور کہا کہ تم شہید نہیں ہو گے۔‘‘ میں نے خواب میں شہید کاظمی سے کہا: ’’دعا کرو، میں بھی آپ لوگوں کے پاس آ جاؤں اور خدا مجھے آپ تک پہنچا دے۔‘‘ لیکن شہید کاظمی نے دعا نہیں کی۔ میں نے کہا: ’’اچھا ٹھیک ہے، دعا نہ کرو، لیکن میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہہ دو!‘‘ پھر میں نے دعا کی: ’’خدایا! مجھے شہدا کے ساتھ ملحق فرما!‘‘ شہید کاظمی نے آمین بھی نہ کہی، بس میرے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکراتا رہا۔
حاج حسین نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی: ’’ابراہیم! حاج قاسم کو کیسے پتا چل گیا کہ انہوں نے ایسی بات کہہ دی؟‘‘
اس خواب کے بعد حسین بادپا اپنی شہادت سے لگ بھگ ایک ماہ پہلے شہید کاظمی کے مزار پر گئے اور وہاں اس شہید کی ماں اور والد سے ملاقات ہو گئی۔ وہاں انہوں نے شہید کاظمی کی ماں سے درخواست کی کہ وہ ان کی عاقبت بخیر ہونے کی دعا کریں تو شہید کاظمی کی ماں نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے حاج حسین کی عاقبت بخیر ہونے کی دعا کی۔
اس طرح ایک شہید کی ماں کی دعا ان کے حق میں کامیاب ہو گئی۔
سید ابراہیم، شہید کے جنگجو ساتھی
ماں کے پاؤں کو چومنا
جب حاج قاسم سلیمانی کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو کچھ دن بعد ہم نے کچھ صحافیوں کے ساتھ تعزیت و تسلیت کے لیے ان کے گاؤں قنات ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق جس دن سردار اپنے گاؤں میں موجود تھے، ہم عازم سفر ہو گئے۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ماں کی قبر کے پاس بیٹھے فاتحہ پڑھ رہے تھے۔ سلام اور احوال پرسی کے بعد ہم سے کہا: ’’میں گھر جا رہا ہوں۔ آپ لوگ بھی فاتحہ پڑھ کر وہیں آ جائیں۔‘‘
فاتحہ خوانی کے بعد ہم ان کے والد کے گھر چلے گئے۔ وہاں سردار نے ہمارے سامنے ماں کی عظمت او رمقام کا تذکرہ کیا اور کہا: ’’یہ بات جو میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں، اسے نشر مت کیجیے گا!‘‘ کہنے لگے: ’’میری ہمیشہ سے خواہش رہی کہ اپنی ماں کے پاؤں کے تلووں کا بوسہ لوں، لیکن نہیں معلوم یہ توفیق مجھے کیوں نہ مل سکی۔ آخری بار ماں کی وفات سے پہلے جب میں یہاں آیا تو بالآخر یہ سعات مجھے نصیب ہو ہی گئی اور میں نے اپنی ماں کے پاؤں کے تلووں کا بوسہ لیا۔ میں نے سوچ لیا کہ میرے جانے کا وقت نزدیک آ چکا ہے اس لیے خدا نے مجھے یہ توفیق دی ہے اور میری یہ خواہش پوری کر دی ہے۔‘‘
سردار اپنے رخساروں پر بہنے والے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’میں نہیں جانتا تھا کہ اس کے بعد ان تھکے ہوئے پاؤں کو نہیں دیکھ پاؤں گا تاکہ ایک دفعہ پھر ان کا بوسہ لے سکوں۔‘‘
تواضع کا سبق
جن دنوں جنوب مشرقی علاقے میں ہم آپریشنز میں مصروف تھے، رات کو ایک مضافاتی پولیس سٹیشن چلے گئے، جو ایک گاؤں میں تھا اور طے پایا تھا کہ صبح ریکی کے لیے حرکت کریں گے۔ اس رات جگہ کی کمی کی وجہ سے تقریباً ۱۴ بندوں کو ایک ہی کمرے میں سونا تھا جبکہ وہاں فقط ایک ہی فوجی بیڈ پڑا ہوا تھا۔ میں اس خیال سے کہ سردار حاج قاسم سلیمانی استراحت کے لیے دوسرے کمرے میں جائیں گے، دوسروں کے آنے سے پہلے بیڈ پر لیٹ گیا۔ جب میں نے حاج قاسم کو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ لیکن حاج قاسم کمرے کے اندر آ گئے اور مجھ سے کہا کہ میں اپنی جگہ پر لیٹا رہوں۔ میں نے بہت اصرار کیا کہ وہ میری جگہ بیڈ پر لیٹ جائیں لیکن انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’میں تمہارا کمانڈر ہوں اور تمہیں حکم دیتا ہوں کہ یہیں سوئے رہو۔‘‘ اس رات حاج قاسم جگہ کی کمی کی وجہ سے بہت مشکل سے سوئے اور ہمیں بہت بڑا سبق دے دیا۔
کمانڈر حسین فتاحی
وہ ماں جس نے خود قبر کھودی
مجھے یاد ہے، خانوک نام کے ایک گاؤں میں ایک ماں تھی۔ اس کا شوہر اور تین بیٹے جنگ میں مشغول تھے۔ اس کا ایک بیٹا جس کا نام زادخوش تھا، جب شہید ہوا تو اس نے کسی کو قبر کھودنے کی اجازت نہ دی۔ وہ خود آئی اور اپنے بیٹے کی قبر کھودنے لگی۔ جب تھک گئی تو اپنی بیٹیوں کو مدد کے لیے بلایا۔ جب وہ اپنے ۱۷ سالہ بیٹے کی قبر کھود چکی تو اس کے بعد اس نے بیٹے کو اس قبر میں رکھا، دفن کیا اور اپنے شوہر اور باقی دو بیٹوں کو محاذ پر بھیج دیا۔ یہ منظر بہت عجیب تھا۔
شہید سردار سلیمانی
تقریر سے پہلے تلاشی لینے پر حاج قاسم کا ردّعمل
انہوں نے کسی گاؤں میں ایک شہید کی برسی پر جانے اور تقریر کرنے کا وعدہ کر لیا تھا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ برسی میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کی تلاشی لی جائے گی تو کہا: ’’میں اس وقت تک تقریر نہیں کروں گا جب تک آپ، لوگوں کی تلاشی لینے کا سلسلہ نہیں روکتے۔‘‘
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مد ظلہ العالیٰ سب علما کے پیشوا ہیں
لوگو! میری بات مانو! میں کسی بھی گروپ یا پارٹی کا رکن نہیں ہوں اور اسلام و انقلاب کی خدمت کرنے والوں کے علاوہ کسی کی طرف بھی میرا جھکاؤ نہیں ہے، لیکن یہ بات جان لو: خدا کی قسم! میں تمام شیعہ علماء کو نزدیک سے جانتا ہوں۔ اب چودہ سال ہو چکے ہیں اور میری یہی مشغولیت ہے۔میں لبنان کے علما کو جانتا ہوں، پاکستان کے علما سے شناسائی ہے، خلیج فارس کے علاقے کے علما سے آشنائی ہے، چاہے سنی ہوں چاہے شیعہ۔ خدا کی قسم! میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ایران اور ایران سے باہر ان سب علما و مجتہدین کے سردار تاریخ کی یہی بزرگ شخصیت یعنی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ ہیں۔
میری بہت سے شیعہ علما کے ساتھ خط و کتابت اور ان کے ہاں آمد و رفت رہتی ہے، میں انہیں جانتا ہوں، ہم ان سے ارادت رکھتے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ وہاں کے لوگ ان کی اتباع کریں مگر وہ کہاں اور یہ کہاں؟! ان کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔ اس مرد کی حکمت، اس کے اخلاق، دین، سیاست اور حکومتی انتظامات میں ہمیں غور کرنا چاہیے اور سیاسی امور میں اپنی سرحدوں کو جدا رکھنا چاہیے۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ جو چیز سب سے اہم ہے وہ ہمارا ولایت سے منسلک رہنا ہے۔ جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس نظام کی حمایت کریں۔
شہید سردار سلیمانی