آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

چھٹا باب

 حیرت

            وہ کہتے تھے: ’’شہید کا مقام مجھے تعجب میں ڈال دیتا ہے۔ شہدا اور شہادت کی ثقافت کے بارے میں جوانوں کے سوالات اور مدافع حرم بننے کے لیے ان کا شوق مجھے حیرت سے دوچار کر دیتا ہے۔‘‘ وہ جتنا شہادت سے نزدیک تر ہوتے جا رہے تھے، اس حیرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا تھا۔ وہ ولایت محوری اور اسلامی تعلیمات میں مکمل طور پر ڈھل جانے کو شہادت کی معراج سمجھتے تھے۔

            اس مرحلے میں انسان اپنے آپ اور اپنے سوا سب چیزوں، یعنی عالمِ آفاق و انفس سے غافل اور بے خبر ہو جاتا ہے اور سمجھ نہیں پا رہا ہوتا کہ یہ عوالم باقی ہیں یا فانی۔ سالک کا قلب اسرار و رموزِ الٰہی اور غیبی رازوں کی تجلی گاہ ہے اور چھپے ہوئے معنوی حقائق اس کی زبان پر جاری ہونے لگتے ہیں۔

            اگر آپ نے گاڑی نہ بھیجی تو میں خود آ جاؤں گا

            جب ہم مکتبِ حاج قاسم کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہےخطروں کو قبول کرنا۔ وہ ہمیشہ موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔ جولائی ۲۰۰۶ء؁ میں ہونے والی ۳۳ روزہ جنگ میں وہ تہران سے دمشق آئے۔ اس کے بعد ہمیں فون کر کے کہا: ’’میں شہر کی جنوبی اطراف میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں۔‘‘ ہم نے کہا: ’’کیا مطلب؟! اس بات کا اصلاً کوئی امکان نہیں ہے۔ دشمن نے سب پلوں کو مسمار کر دیا ہے، راستے بند ہیں، اسرائیل کے جنگی طیارے ہر ہدف پر بمباری کر رہے ہیں اور حالات مکمل طور پر جنگی ہیں۔ آپ بیروت اور مضافات کے علاقوں تک اصلاً نہیں پہنچ سکتے۔‘‘ لیکن حاج قاسم نے اصرار کرتے ہوئے کہا: ’’اگر آپ لوگوں نے گاڑی نہ بھیجی تو میں خود ہی آ جاؤں گا!‘‘ انہوں نے ہمت کی اور اپنے آپ کو ہم تک پہنچا دیا اور اس کے بعد سارا وقت ہمارے ساتھ ہی رہے۔

سید حسن نصر اللہ

            شہدا کے ناموں پر اپنے نام رکھنے والی لڑکیاں

            میں بندر عباس( ۱) ایک ملاقات کے لیے گیا۔ کچھ لڑکیاں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں: ’’ہم میں سے ہر ایک نے اپنے لیے ایک نام کا انتخاب کر رکھا ہے۔‘‘ انہوں نے نہ تو ہمت کو دیکھ رکھا تھا، نہ باکری کو اور نہ ہی خرازی( ۲) کو۔ کہنے لگیں: ’’اس لڑکی کا نام باکری ہے۔ ہم اسے باکری کہہ کر بلاتی ہیں۔

             اس نے اپنے آپ کو باکری کے نام سے متبرک کیا ہے۔ اس دوسری کا نام خرازی ہے اور یہ والی کاظمی کہلاتی ہے۔‘‘ اس کے بعد اس لڑکی نے مجھ سے کہا: ’’میں جب دسترخوان پر بیٹھتی ہوں ہوتو محسوس ہوتا ہے کہ مہدی باکری بھی دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ ایسی باتیں کہاں پائی جاتی ہیں؟ یہ ہے وہ رابطہ۔ ہماری جنگ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس کے بلندیاں پاک اور سر بہ فلک تھیں۔ اگر چوٹی بلند ہو تو دامن کوہِ خوبصورت ہو جاتا ہے، سرسبز ہو جاتا ہے، اس سے پانی کے ابلتے ہوئے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔ جنگ کے اس خصوصی اوج نے بہت اثرات مرتب کیے۔

(۱)        ایران کی مشہور بندرگاہ۔           (۲)          دفاع مقدس میں شہید ہونے والے تین معروف کمانڈر۔

شہید سردار سلیمانی

            آخری یادگار تصویر

            آخری بار جب میں شہید ہمدانی سے ملا تو وہ ان کی شہادت سے کچھ دیر پہلے کی بات ہے۔ میں نے ان میں ایک جوانی کی حالت دیکھی۔ وہ بہت صابر تھے۔ جب تک کوئی اس شہید کے نزدیک نہیں ہوتا تھا اس کی شخصیت کو نہیں جان سکتا تھا۔ دفاع مقدس کے دوران میں ان کے زیادہ نزدیک نہیں تھا، لیکن شام میں انہیں قریب سے جاننے کی توفیق نصیب ہوئی۔

            آخری بار جب میں نے شہید ہمدانی کو دیکھا تو مجھے دھچکا لگا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اپنی شہادت سے آگاہ ہیں۔ بعد میں جب ان کے گھر والوں سے ملا تو مجھے یقین ہو گیا کہ انہیں واقعاً اپنی شہادت کی خبر تھی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے کہا تھا: ’’آؤ تصویر کھینچتے ہیں، شاید یہ ہماری آخری تصویر ہو۔‘‘ جب انہوں نے یہ بات کہی تو میں لرز کر رہ گیا۔

شہید سردار سلیمانی

            جب پانسہ پلٹ گیا

    داعش اربیل کے دروازوں تک پہنچ چکی تھی اور اس بات کا خوف چھایا ہوا تھا کہ شہر عنقریب ان کے قبضے میں چلا جائے گا۔ بارزانی کہتے ہیں: ’’میں نے داعش کے حملے کے بعد امریکیوں، ترکی، برطانیہ، فرانس حتی کہ سعودی عرب سے فون پر رابطہ کیا مگر ان سب ممالک کے حکام نے جواب دیا کہ اس وقت ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔‘‘ بارزانی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

            میں نے فوراً ایرانی حکام سے رابطہ کیا اور انہیں واضح طور پر بتایا کہ شہر پر قبضہ ہونے والاہے۔ اگر آپ ہماری مدد نہیں کر سکتے تو ہم شہر کو خالی کر دیں گے۔ ایرانی حکام نے مجھے قاسم سلیمانی کا فون نمبر دیا اور کہا:’’حاج قاسم داعش سے مقابلے کے لیے ہمارے مختارِکُل نمائندے ہیں۔‘‘ میں نے جلدی سے حاج قاسم کو فون کیا اور سب حالات پوری تفصیل سے ان کے گوش گزار کیے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ’’میں کل نمازِ فجر کے بعد اربیل میں ہوں گا۔‘‘ میں نے ان سے کہا: ’’کل تک دیر ہو جائے گی۔ آپ ابھی آئیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’کاک مسعود! فقط آج کی رات شہر کی حفاظت کریں۔‘‘ اگلی صبح حاج قاسم اربیل ایئرپورٹ پر تھے۔ میں ان کے استقبال کے لیے گیا۔ حاجی اپنے ۵۰ خصوصی جوانوں کے ساتھ آئے تھے۔ وہ جلدی سے جنگ کے مقام پر گئے اور ہماری دم توڑتی فوج کو دوبارہ منظم کیا۔ کچھ ہی گھنٹے گزرے ہوں گے کہ جنگ کا پانسہ ہمارے حق میں پلٹ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے ہمارے لیے اسلحے کی امداد بھی آن پہنچی۔

            حاج قاسم نے اپنے چند جوانوں کو فوجی مشاورت کے لیے اربیل میں ہی رہنے کا کہا اور خود کربلا چلے گئے۔ ہم نے بعد میں ایک داعشی کمانڈر کو قید کر لیا اور اس سے پوچھا کہ تم لوگ تو اربیل فتح کرنے کے نزدیک پہنچ چکے تھے پھر کیا ہوا کہ شکست کھا گئے؟ اس داعشی اسیر نے ہمیں بتایا:’’اربیل میں ہمارے جاسوسوں نے ہمیں خبر دی کہ قاسم سلیمانی اربیل میں ہے۔ اسی سے ہمارے سپاہیوں کے حوصلے جواب دے گئے اور ہم لوگ پیچھے ہٹ گئے۔۔۔‘‘

مسعود بارزانی، کردستان کے اس وقت کے گورنر

            ماورائے سرحد عظمت

            شہید شاطری حاجی کی نگاہوں میں بہت ہی محترم تھے۔ حاجی ان کے بارے میں کہتے تھے: ’’ان کی عظمت کا اس وقت پتا چلا جب وہ چلے گئے۔ اس وقت تم لبنان جاتے اور دیکھتے۔ مسیحی اپنے شہیدوں کے لیے کم ہی اپنے کلیساؤں میں آتے ہیں اور ان کے لیے تعزیتی تقریب منعقد کرتے ہیں لیکن شہید شاطری کے لیے جنوب میں موجود تمام ادیان و مذاہب کے لوگوں نے تعزیتی تقریبات کا انتظام کیا۔‘‘

            جب شہید سلیمانی بٹالین کمانڈر کو شہادت سے نہ روک سکے

            ایک بٹالین کے کمانڈر تھے جن کا نام تھا ماشاء اللہ رشیدی۔ آپریشن کربلا ۵ کی رات وہ آپریشن شروع کرنا چاہتے تھے مگر بٹالین ابھی تک پہنچی نہیں تھی۔ ہم اکٹھے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک قصہ سنایا۔ ایک کمپنی کمانڈر جن کا نام زکی زادہ تھا دو دن پہلے شہید ہو گئے تھے، ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’میں اور زکی زادہ نے آپس میں عہد کیا کہ ہم میں سے جو بھی پہلے شہید ہو گیا وہ اس وقت تک جنت میں نہیں جائے گا جب تک کہ دوسرا نہ پہنچ جائے۔ گزشتہ شب میں نے زکی زادہ کو خواب میں دیکھا۔ اس نے مجھ سے کہا: ’’ماشاء اللہ! تم نے مجھے دروازے پر ہی ٹھہرا رکھا ہے، آ کیوں نہیں رہے؟!‘‘

            جب رشیدی نے یہ کہا تو میں سمجھ گیا کہ وہ شہید ہو جائے گا۔ میری نگاہیں اسی پر رہیں، بٹالین چلی گئی اور محاذ پر جھڑپ بھی ہوئی جس کی وجہ سے میں اسے بھیجنے پر مجبور ہو گیا اور وہ جاتے ہی شہید ہو گیا۔

شہید سردار سلیمانی

            حاج قاسم کے بارے میں سید حسن نصر اللہ کے احساسات

            میں ہمیشہ اپنی جان ان پر فدا کرنے کے لیے تیار تھا۔ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا۔ نماز کے بعد تعقیبات پڑھتے ہوئے، میرے ذہن میں یہ بات آئی جو میں ابھی بتا رہا ہوں: گویا میرے پاس ملک الموت آ گیا ہے اور کہتا ہے: ’’میں ایران جا کر قاسم سلیمانی کی روح قبض کرنا چاہتا ہوں لیکن خداوند متعال نے استثنائی طور پر مجھے کہا ہے کہ میں آ کر تمہاری روح قبض کروں اور تمہیں بتاؤں کہ قاسم سلیمانی کی روح قبض کرنے کو صرف اسی صورت میں موخر کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بدلے تمہاری روح قبض کر لی جائے۔‘‘ میں انہیں مفروضوں میں الجھا ہوا سوچ رہا تھا کہ (اگر ایسی صورت حال پیش آ جائے تو میں) ملک الموت کو کیا جواب دوں گا۔ میں حتماً اس سے یہی کہوں گا: ’’میری جان لے لو اور اسے چھوڑ دو۔ حاج قاسم سلیمانی کو چھوڑ دو۔‘‘

سید حسن نصر اللہ