پانچواں باب
توحید
شہید قاسم سلیمانیؒ: ’’شہادت تک پہنچنے کی شرط یہ ہے کہ دل کا تمام دنیوی تعلقات اور مادیات سے رُخ موڑ لیا جائے۔‘‘ ہمارے تمام شہدا نے پہلے درجے میں اپنے قلوب سے ہجرت کا آغاز کیا تھا اوریہ دل کا رُخ موڑنا ان تمام دلی مشغولیات اور مصروفیات سے دوری ہے جو خدا کی طرف ہجرت کرنے کے راستے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔
اس مرحلے میں انسان ماسوا اللہ اور کثراتِ عالم کو خدا کی بے مثال ذات میں مستہلک دیکھتا ہے اور تمام عالم و آدم اور ظاہری و باطنی جہان پر حق کے درخشندہ خورشید کی ضوفشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔
ہم ملتِ امام حسینؑ ہیں
ہم ملتِ شہادت ہیں، ہم ملت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ پوچھو! کہ ہم کیسے مشکل حادثات سے گزر کر آئے ہیں۔ انقلاب کے اوائل سے لے کر اب تک ہم ہر میدان میں امام حسین علیہ السلام سے تمسک کرتے ہوئے آگے بڑھے ہیں۔ ہم نے اپنی تمام فتوحات اسی راستے سے حاصل کی ہیں۔اس محاذ نے امام حسین علیہ السلام، آپؑ کے اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام کی پیروی میں تربیت پائی ہے اور روز بہ روز نیا جنم لے رہا ہے۔ کل صرف ایران تھا مگر آج متعدد مزاحمتی گروہ وجود میں آ چکے ہیں، فقط انہیں ہستیوں کی اتباع کرتے ہوئے۔ آج یمن میں انصار اللہ بھی امام حسین علیہ السلام ہی کی اقتدا کر رہی ہے۔
شہید سردار سلیمانی
کرملین پیلس( ۱) میں نماز
وہ کرملین محل گئے ہوئے اور پیوٹن سے ملاقات طے تھی۔ جب تک جمہوریہ روس کے صدر پہنچتے، اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ حاجی بھی کھڑے ہوئے اور اذان و اقامت کہی۔ اذان و اقامت کی آواز محل میں گونج رہی تھی۔ اس کے بعد وہ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ سب انہیں دیکھ رہے تھے۔ حاج قاسم بتاتے تھے کہ جو لذت اس دن نماز میں آئی وہ پوری زندگی میں کبھی نہ آئی۔
نماز کے اختتام پر انہوں نے اپنی پیشانی سجدہ گاہ پر رکھی ہوئی تھی اور خدا سے دعا کر رہے تھے:
’’خدایا! یہ تیری کرامت تھی۔ ایک زمانے میں کرملین پیلس میں اسلام کی نابودی کے نقشے تیار ہوتے تھے مگر آج میں قاسم سلیمانی یہاں آ کر نماز پڑھ رہا ہوں۔‘‘
(۱ ) روس کا صدارتی محل
سب سے اہم چیز جس کی ترویج کرنی چاہیے
آج مختلف میدانوں میں ہمارے کندھوں پر جو بھاری ذمہ داریاں ہیں یہ ذمہ داریاں ہمیں جان و دل سے ادا کرنی چاہییں، اس وجہ سے کہ آج اسلام کا مجسم اور حقیقی مصداق (اسلامی جمہوری کا نظام ہے۔) کیسے کہتے ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام قرآن ناطق تھے، آج مجسم اسلام جمہوری اسلام کے نظام کی شکل میں موجود ہے اور یہ وہی نظام ہے جس کی خاطر امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا او روہ تمام اقدار اور تمام عظیم انسان جو انہوں نے خدا کی راہ میں پیش کیے اور فرمایا:
’’ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ہٰذَا الْقُرْبَان۔‘‘
یہ ایک قدر ہے۔ ہم اسی کے لیے جمع ہوئے، اس کے لیے یونیفارم زیب تن کیا ہے اور اسی کی خاطر میدانوں میں موجود ہیں۔ اب کون کیا کہتا ہے؟ یہ اہم نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلکہ ہم محاذ پر رہیں، راستے پر گامزن رہیں، مسلسل حرکت میں رہیں، زیادہ تیز نہ چلیں اور آہستہ بھی نہ ہوں، یہ سب اہمیت رکھتا ہے۔۔۔ اس میں کوئی مشکل نہیں کہ انسان کے دل میں کسی ایک شخص کی زیادہ محبت ہو یا کسی اور شخص کی کم محبت ہو، لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ محبت اصولوں پر اثر انداز نہ ہو۔ اگر اس محبت کا اصولوں پر اثر ہو جائے تو میں گویا اپنے محبوب کا غلام بن کر رہ جاؤں گا۔
شہید سردار سلیمانی
شہری جنگ کے درمیان نازک صورتحال
جب جنگ نے شہر کا رخ کر لیا تو کچھ مجاہدین لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت حاج قاسم ان کے سامنے تقریر کے لیے کھڑے ہو گئے: ’’اگر آپ کے شہر پر حملہ ہو تو کیا آپ کو اچھا لگے گا کہ دوسرے لوگ آپ کے گھروں میں داخل ہو جائیں؟ حقوق الناس کے حوالے سے بہت محتاط رہیں، حتی کہ اگر ایک چیز بھی ادھر سے ادھر ہو جائے تو اسے واپس اپنی جگہ پر رکھ دیں۔ خدا آپ سے امتحان لیتا ہے لہٰذا اس امتحان سے کامیاب ہو کر باہر آئیں۔‘‘
ایک شہید کے گھر میں باپ اور بیٹی کی ملاقات
منیٰ میں میرے بابا کو شہید ہوئے چار ماہ گزر چکے تھے۔ شہید مغنیہ کے گھر والے حاج قاسم کی بیٹی کےساتھ تسلیت کے لیے ہمارے گھر آئے۔ ہم چونکہ لبنان ہی میں ایک دوسرے کو جانتے تھے اور کافی عرصے سے ملاقات نہ ہو پائی تھی اس لیے ایک دوسرے کے مشتاق ہو چکے تھے۔ اچانک دروازے کی گھنٹی کی آواز سنائی دی۔ ہمیں تعجب ہوا کہ کسی مہمان کا آنا طے تو نہیں تھا۔ میں نے جا کر دروازہ کھولاتو حیرت اور استعجاب سے مبہوت ہو کر رہ گیا۔ دیکھا کہ حاج قاسم دروازے پر کھڑے ہیں۔ یہ منظر ہمارے لیے بالکل ناقابل یقین، غیر متوقع اور اچانک تھا اور ہمیں اصلاً اس کی توقع نہیں تھی۔ ہم بہت خوش تھے۔ سردار کی بیٹی کے رد عمل کی طرف بھی ہم اس وقت متوجہ ہوئے کہ چار ماہ سے ان دونوں باپ بیٹی کی ملاقات نہیں ہو پائی اور اتنے عرصے بعد یہ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔
زہرا رکن آبادی، شہید رکن آبادی کی بیٹی
وہ اپنے مقام و مرتبہ کی پروا نہیں کرتے تھے
وہ لوگ ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھنچوانا چاہ رہے تھے۔ وہ گاڑی سے اتر آئے۔
پھر کچھ اور لوگ آئے تو انہوں نے بھی ان کے ساتھ تصویر لینے کے لیے ان سے دوبارہ گاڑی سے نیچے اترنے کی درخواست کی۔
تیسری مرتبہ ایک خاتون نے ان کے ساتھ تصویر لینا چاہی جو مناسب حجاب میں ملبوس نہیں تھی۔وہ ا ب کی بار بھی اتر آئے اور اس کے ساتھ تصویر کھنچوائی۔ اس خاتون نے کہا: ’’مجھے بالکل توقع نہیں تھی کہ وہ میرے ساتھ تصویر کھنچوائیں گے۔ آج سے میں کوشش کروں گی کہ اپنا حجاب درست کر لوں۔‘‘
سیلاب اور زلزلے کے موقع پر حاج قاسم کا رویہ
وہ ابو مہدی المہندس اور حشد الشعبی کے جوانوں کے ساتھ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے شادگان آئے ہوئے تھے۔ ہم نے ان کے لیے دسترخوان بچھایا تو انہوں نے سب جوانوں اور محافظوں کو ایک ایک کر کے نام لے لے کر بلایا۔ وہ ان کے لیے لقمے توڑتے اور ان کے منہ میں رکھتے جاتے تھے، بالکل ایک ماں کی طرح۔
چالاک یعنی۔۔۔
میں نے ان دنوں دیر العدس کے علاقے میں دیکھا کہ بہت ہی بلند آواز سنائی دے رہی ہے۔ سید ابراہیم صدرزادہ کی آواز کافی مردانہ انداز کی تھی، بالکل تہرانی پہلوانوں کی طرح۔ میں اسے نہیں جانتا تھا۔ جب وہ وائرلیس پر بات کرتا تو میں نے اسے پوچھا: ’’وہ کون ہے جو تہران سے آیا ہے اور فاطمیون بریگیڈ میں اس نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔‘‘
حسین نے کہا: ’’سید ابراہیم!‘‘ میں دیرالعدس سے واپس آیا تو حسین سے پوچھا: ’’یہ سید ابراہیم کون ہے جو اتنی بلند اور مردانہ آواز سے بات کرتا ہے؟‘‘ سید نے مجھے دکھاتے ہوئے کہا: ’’یہ!‘‘
ایک عقلمند اور رشید جوان جس کے اندر بلا کی کشش تھی اور انسان اسے دیکھ کر واقعاً خوش ہوتا تھا۔ میں حقیقت میں اس سے محبت کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’تم یہاں کیسے آئے ہو۔‘‘ اس جوان کو چونکہ ہم نے سپاہ میں نہیں آنے دیا تھا اس لیے یہ مشہد چلا گیا اور فاطمیون بریگیڈ میں افغانی نام سے شامل ہو کر یہاں آ گیا۔
چالاک اسے کہتے ہیں، مجھ اور آپ جیسوں کو نہیں کہتے۔ چالاک وہ شخص نہیں ہے جو مال جمع کرنےا ور لوگوں کو دھوکا دینے میں مصروف رہے بلکہ چالاک وہ ذہین انسان ہے جو میسر آنے والے مواقع کو بہت ہی اچھے انداز میں استعمال کرے۔ اس جوان نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اس کام کی بہت قیمت ہے۔ خدا اس انسان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں کوشش کرتا ہے:
’’ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا۔( سورہ نساء،آیت۹۵) ‘‘
شہید سردار سلیمانی
غلام حسین کا بیٹا، حسین
وہ میرے پاس آیا۔ اس نے اوورکوٹ پہن رکھا تھا۔ جنگ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہر چیز میں اخلاص کا ہونا تھا: باتوں میں اخلاص، عمل میں اخلاص، فکر میں اخلاص۔ اس نے اوورکوٹ پہن رکھا تھا مگر اس کے پاؤں میں جرابیں نہ تھیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ شاید میرے دیکھنے کا کوئی خاص مقصد بھی نہ تھا۔ وہ ہنسنے لگا۔ وہ ہنسی میرے ذہن میں باقی رہ گئی۔ کہنے لگا: ’’میں جانتا ہوں کہ آپ کیوں دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے کہ میں نے اوورکوٹ پہن رکھا ہے مگر میرے پاؤں میں جرابیں نہیں ہیں۔‘‘ پھر کہا: ’’میں اسی حال نماز پڑھ رہا تھا، میں نے سوچا آپ کو کوئی کام ہو گا۔ میں کوٹ اور جرابیں پہننے لگا تو اپنے آپ سے کہا: ’’غلام حسین کے بیٹے، حسین! تم خدا کے ہاں اسی طرح پیش ہوئے ہو تو فلاں شخص کے پاس بھی اسی طرح جاؤ گے۔‘‘
شہید سردار سلیمانی
وہ بہشتی کہ جنت جن کے دیدار کی مشتاق ہے
میرا عقیدہ یہ ہے : ہماری دینی اور اخلاقی تربیت کا عروج دفاع مقدس تھا۔۔۔ میرا ایمان ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف جب ظہور کریں گے اور جو حکومت تشکیل دیں گے، اس حکومت کا عروج وہی زمانہ تھا جس سے ہم دفاع مقدس کے دوران گزرے۔۔۔ میں اپنے پورے وجود کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں کہ ہماری جنگ ایسے جنتیوں سے بھری ہوئی تھی کہ جنت خود جن کے دیدار کی مشتاق تھی۔۔۔
شہید سردار سلیمانی
جنہیں سردار کی موجودگی میں تنہائی کا احساس نہ تھا
آپریشن کربلا۵ میں نہ ہمارے پاس آگے بڑھنے کا راستہ تھا نہ پیچھے ہٹنے کا۔ بات جسموں اور ٹینکوں کی لڑائی تک آن پہنچی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آن پہنچے۔ موٹر سائیکل پر سوار اور آر پی جی(۱ ) ہاتھ میں۔ ان کو دیکھتے ہی ہماری جان میں جان آ گئی، ہم نے اس قدر جنگ کی کہ دشمن کے ٹینک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
(۱ ) ایک اسلحہ۔