آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

دوسرا باب

 عشق

وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عشق کی شرط اس کا اظہار کرنا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے عشق کا مسلسل اظہار کرتے رہتے تھے اور اس پر تاکید بھی کرتے تھے۔ مصطفیٰ شہید ہوا تو کہنے لگے: ’’میں حقیقتاً اس کا عاشق تھا، حقیقتاً۔‘‘ یا جب حسین سے دور ہوتے تو کہتے: ’’میری سانسیں تمہاری سانسوں سے بندھی ہیں۔‘‘ اظہارِ عشق کے بغیر عاشق بھی کیا عاشق ہے؟!

            انسان اس مرحلے میں اپنے نفس کی مراقبت اور اطاعت الٰہی پر مواظبت کے نتیجے میں اپنے خُلقی اور بشری پہلو سے فانی ہو کر سلطانِ ازل کی ذات میں مستغرق ہو جاتا ہے، اس کی اسمائی تجلیات سے بہرہ مند ہوتا ہے اور ’’ولایتِ معنوی‘‘ کے درجے تک جا پہنچتا ہے۔

            اس بار حاج قاسم فوٹوگرافر تھے

            ہم بیرک کے دروازے سے باہر جا رہے تھے کہ دیکھا کہ حاج بھی ہیڈکوارٹر کے دروازے سے باہر آ رہے ہیں۔ کیمرہ ہمارے ہاتھ میں تھا۔ میرے ساتھ شہید عرب نژاد اور شہید جواد زادخوش بھی تھے۔ جواد حاج قاسم کی طرف چلا گیا۔ حاج جانتے تھے کہ جواد خوش طبع انسان ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ جواد ان کی طرف آ رہا ہے تو ہنستے ہنستے جواد سے مذاق کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’تمہارے ساتھ تصویر لینے کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘ جواد نے بے دھڑک کہا: ’’حاج آغا! ہم آپ کے ساتھ تصویر نہیں لینا چاہتے۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ ہم تینوں کی تصویر لیں۔‘‘ اس کے بعد اس نے فوراً کیمرہ سردار کے ہاتھ میں دے دیا۔ حاج قاسم اپنی ہنسی پر قابو نہیں رکھ پا رہے تھے اور اسی حالت میں انہوں نے ہماری تصویر کھینچی۔ وہ تصویر جو ابھی تک یادگار ہے جسے حاج قاسم نے کھینچا تھا۔

حسن منصوری، شہید کے مجاہد ساتھی

            وہ بھائی جو رہ گیا

            اس دن برادر مہدی باکری کے بھائی حمید شہید ہو گئے تھے۔ حمید کا پیکر میدان ہی میں رہ گیا تھا۔ میں نے مہدی کی رویے میں کوئی خاص چیز محسوس نہ کی۔ وہ ایک خوبصورت جوان تھا۔ میں نے کچھ بھی محسوس نہ کیا۔ اس کے چہرے پر غم کے کوئی آثار مجھے نظر نہ آئے۔ جب اس کے بھائی کا پیکر لے آنے کے لیے جانے لگے توا س نے منع کر دیا اور کہا: ’’جب دوسروں کو لانا ممکن ہو گا تو اس وقت میرے بھائی کا پیکر بھی لے آئیے گا۔‘‘

شہید سردار سلیمانی

            شیعی فکر

            ہم کئی برسوں سے جنوب مشرقی خطے میں ایک بہت بڑے دہشت گرد کے تعاقب میں تھے۔وہ ہمارے بہت سے جوانوں کو شہید کر چکا تھا۔ ایک گمراہ کن آپریشن میں ہم نے اس کی دعوت کی، وہ آیا تو ہم نے اسے گرفتار کر لیا۔ وہ بہت بڑا دہشت گرد تھا۔ اسے کم سے کم پچاس بار سزائے موت دی جانی چاہیے تھے۔

            رہبر معظم کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں میں نے یہ معاملہ بتایا اور اس کی گرفتاری اور جو کچھ پیش آیا تھا اس کی روداد ان کے گوش گزار کی۔ اس کے بعد ان کے مثبت ردعمل اور خوشی کے اظہار کا انتظار کرنے لگا۔ رہبر نے فوراً فرمایا: ’’ابھی فون کریں کہ اسے رہا کر دیں۔‘‘ میں نے بلاچون و چراں فون کر دیا۔ مجھے کافی تعجب ہو رہا تھا۔ فون کرنے کے بعد میں نے انتہائی تعجب سے پوچھا: ’’آغا! کیوں؟ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے ایسا کیوں کرنا چاہیے تھا؟ آپ نےا سے آزاد کرنے کا حکم کیوں دیا؟!‘‘ رہبر معظم فرمانے لگے: ’’کیا آپ نہیں کہہ رہے کہ آپ نے اسے بلایا تھا؟‘‘ میرا گلا خشک ہو گیا۔ آغا نے فرمایا: ’’بعد میں اسے گرفتار کریں۔‘‘ اس کے بعد ہم نے ایک اور سخت آپریشن میں اسے گرفتار کر لیا۔

            شیعہ نظریہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو دعوت دیتے ہیں تو وہ آپ کا مہمان ہے، خواہ وہ آپ کے باپ کا قاتل ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو اسے تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

شہید سردار سلیمانی

            اس وقت میں نے پینٹ کوٹ پہن رکھا ہے!

            ہمیں خبر ملی کہ داعش کے ۳۷۰ گماشتے کربلا کے نزدیک ایک حملے کے ذریعے ایرانی زائرین کو اغوا کر کے یرغمال بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فوراً حاج قاسم کو اطلاع پہنچائی کیونکہ زائرینِ اربعین کی حفاظت کی کمان ان کے پاس تھی۔ حاج قاسم نے جلدی سے داعشیوں کے راستے کی ریکی کی اور اپنے چنے ہوئے بیس افراد کو ان کے راستے پر گھات لگا کر بیٹھنے کا حکم دے دیا۔ حاج قاسم کے جوانوں نے داعشیوں سے مقابلہ کیا اور یہ جھڑپ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔

            جھڑپ ختم ہوئی تو میں اپنے جوانوں کو لے کر اسی علاقے میں گیااور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سوائے ایک کے باقی سب داعشی یا تو مارے گئے تھے یا گرفتار کر لیے گئے تھے۔ حاج قاسم جو کوٹ پینٹ میں ملبوس تھے، نے داعشی قیدیوں کی طرف رخ کیا اور انہیں اپنا کوٹ پینٹ دکھا کر کہنے لگے: ’’جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میں جنگ کے لباس میں نہیں ہوں۔ افسوس ہوتا ہے تم پر اگر میرے رہبر سید علی (خامنہ ای) نے مجھے جنگی لباس پہننے کا حکم دے دیا تو۔۔۔ (سوچو تمہارا کیا حال ہو گا!)‘‘

ابو حسن، ایک عراقی قبائلی سردار اور عراقی عوامی فوج کے ایک کمانڈر

            اس طرح حساب برابر ہو جائے گا

            ثار اللہ ڈویژن کی امامبارگاہ میں ایک سرکاری تقریب میں ایک سپاہی نے تقریر کے دوران ادب کی رعایت نہیں کی اور بے ڈھنگے طریقے سے بیٹھا باتیں کرتا رہا ۔ سردار سلیمانی نے تقریب کے بعد اسے بلایا اور اگرچہ وہ کمانڈر تھے اور اس سرباز کے لیے کوئی سزا بھی معین کر سکتے تھے، پھر بھی اسے کہنے لگے:’’میرے عزیز، میرے بھائی! یہ ایک سرکاری تقریب تھی اور تقریر کے لیے ہم نے تہران سے خطیب کو بلا رکھا تھا لیکن تم مؤدب انداز میں نہیں بیٹھے تھے اور نہ ہی نظم و ضبط کا خیال رکھا۔ اب تمہاری سزا یہ ہے کہ قرآن مجید کے تیسویں پارے کو اگر تم حفظ کر کے میرے پاس آتے ہو اور میں کوئی سوال کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ تمہیں حفط ہے تو تمہارا حساب برابر ہو جائے گا ورنہ تمہارے خلاف ضابطے کی کارروائی کروں گا۔‘‘

سردار حسنی سعدی، شہید کے مجاہد ساتھی