تیسرا باب
معرفت
وہ کہتے تھے کہ جو کوئی بھی خدا سے ڈرتا ہے، خدا ہر چیز کے دل میں اس کا خوف ڈال دیتا ہے۔ خدا کے حاضر ناظر ہونے پر ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ اپنے ایک دوست کو خط لکھتے ہوئےانہوں نے کہا: ’’میرے پیارے بھائی! کسی بھی حالت میں کسی بھی محبت کو خداوند سبحان کی محبت اور کسی کی بھی رضا کو خداوند کی رضا پر حاوی نہ ہونے دو۔‘‘
اس مرحلے میں سالک کو اپنے نفس اور ذات حق کی حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ انسان کی باطنی آنکھ روشن ہو جاتی ہے اور وہ اسرارِ ہستی سے آشنا ہوتا ہے حقیقت اس پر عیاں ہوتی ہے۔
شہادت صرف ایک بلاک کے فاصلے پر
ایک دن ہم سردار قاسم کے ساتھ ایک علاقے میں گئے۔ سردار ایک بالکونی کے کنارے پر دوربین رکھے اس علاقے کی ریکی کر رہے تھے۔۔۔ میں نے سیمنٹ کا ایک بلاک دیکھا جو نیچے گرا ہوا تھا۔ میں نے جا کر وہ بلاک اٹھایا اور لاکر حاج قاسم کے سامنے رکھ دیا اور اپنے آپ میں سوچنے لگا کہ اب اگر کسی اسنائپر نے گولی چلائی بھی تو حاجی کو نہیں لگے گی۔ جیسے ہی میں نے بلاک رکھا تو ایک گولی سیدھی آ کر بلاک کو لگی اور وہ پارہ پارہ ہو گیا۔ خوش قسمتی سے انہیں کوئی گزند نہ پہنچا۔
شہید حسین پور جعفری
قاجاری کوٹ کا بٹن
بعض اوقات ہم شہدا کا خیال تو رکھتے ہیں مگر ان کے گھر والوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ آج اگر کسی قاجاری بادشاہ( ۱) کے کوٹ کا کوئی ایک بٹن بھی مل جائے تو لوگ کہیں گے کہ یہ ناصر الدین شاہ کے کوٹ کا بٹن ہے۔ سب اسے خریدنے کے درپے ہو جائیں گے تاکہ اسے اپنی الماری کی زینت بنا سکیں۔
یہ شہید کے والد ہیں، یہ شہید کی ماں ہیں، یہ شہید کے فرزند ہیں، اس شہید کے خلیے ان کے وجود میں موجود ہیں۔ ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہیے، ہمیں ان کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
(۱ ) ماضی قریب میں ایران پر حاکم بادشاہوں کا ایک خاندان۔
شہید سردار سلیمانی
غلام حسین کا بیٹا حسین یہ بات کہتا ہے
ہم شلمچہ میں تھے اور وہاں آپریشن کرنا چاہتے تھے۔ اس غرض سے کہ دشمن ہماری طرف متوجہ نہ ہو، ہم نے اپنے آپریشن انٹیلی جنس کے جوانوں کو ایک جگہ ٹھہرا لیا تھا۔ ہمارے سامنے پانی تھا۔ اس دن ہمارے دو جوان حسین صادقی اور اکبر موسائی پور ریکی کے لیے گئے مگر واپس نہ آئے۔
ہمارا ایک مجاہد بھائی تھا جو بہت عارف تھا۔ وہ نوجوان تھا اور سکول کا طالب علم تھا لیکن بہت عارف تھا۔ عملی عرفان میں شاید ہی اس جیسا ہمیں کوئی نظر آتا ہو۔ وہ عرفان کے ان منزلوں تک پہنچ چکا تھا جہاں بعض عرفاء ستر اسی سال کے بعد جا کر پہنچتے ہیں۔ میں اس وقت اہواز میں تھا کہ ہمارے اس نوجوان بھائی نے وائرلیس سے مجھے فون کیا اور کہا: ’’آپ یہاں آئیں!‘‘ میں وہاں چلا گیا۔ اس نے بتایا: ’’اکبر موسائی پور اور صادقی ابھی تک واپس نہیں آئے۔‘‘ میں بہت پریشان ہو گیا اور اسے کہا: ’’ہم نے ابھی تک آپریشن شروع نہیں کیا اور دشمن نے ہمارے جوانوں کو قیدی بنا لیا۔ یہ آپریشن تو گیا!‘‘ میں نے یہ باتیں غصے میں کہیں۔ میں ایک روز وہاں ٹھہرا اور اس کے بعد واپس آ گیا کیونکہ مجھے دوسرے محاذوں پر بھی جانا تھا۔
دو دن بعد اس نوجوان مجاہد نے دوبارہ مجھے فون کیا: ’’آپ آئیے!‘‘ میں چلا گیا۔ اس نوجوان نے جس کا نام حسین تھا، مجھ سے کہا: ’’کل اکبر موسائی پور واپس آ جائے گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’حسین! یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟!‘‘ اس کے ہونٹوں پر ظریفانہ سی مسکراہٹ پھیل گئی: ’’یہ بات غلام حسین کا بیٹا حسین کہہ رہا ہے۔‘‘ اس کے والد کا نام غلام حسین تھا۔ غلام حسین بہت قابل قدر پرنسپل تھے۔ حسین کی ماں بھی سکول کی پرنسپل تھیں۔ حسین کے ماں باپ دونوں استاد تھے۔ اور وہ خود نوجوانی ہی میں معلم تھا۔ جب بھی حسین آغا( ۱) کہا جاتا تو یہی حسین مراد ہوتا۔ حسین شاید سینکڑوں کی تعداد میں وہاں تھے مگر حسین آغا فقط یہی تھا۔
میں نے کہا: ’’حسین! کیا ہوا؟‘‘ کہنے لگا: ’’کل اکبر موسائی پور واپس آ جائے گا اور اس کے بعد صادقی بھی لوٹ آئے گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟!‘‘ اس نے جواب دیا: ’’آپ فقط یہیں رہیں۔‘‘ میں رہ گیا۔ ہمارے پاس ایک دوربین تھی جس کے اردگرد ہم نے بوری لپیٹ کر اسے محفوظ رکھا ہوا تھا۔ انٹیلی جنس کے برادران دوربین آنکھوں سے لگائے بیٹھے تھے۔ ظہر کے بعد لگ بھگ ایک بجے کا وقت تھا کہ انہوں نے بتایا: ’’پانی پر کوئی سیاہ چیز نظر آ رہی ہے۔‘‘ میں نے اوپر آ کر دیکھا تو ان کی بات درست تھی: پانی پر ایک سیاہ چیز لیٹی ہوئی تھی۔ جوان پانی میں کود گئے، دیکھا کہ اکبر موسائی پور ہے۔ اگلے دن حسین صادقی بھی واپس آ گیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ پانی نے اپنے تمام تر تلاطم کے باوجود انہیں اسی مقام پر واپس لا پھینکا تھا جہاں سے وہ گئے تھے۔ وہ دونوں پانی میں شہید ہو چکے تھے۔ یہ بات بہت حیرت انگیز تھی۔
میں نے حسین سے پوچھا: ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا تھا؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’کل رات میں نے اکبر موسائی پور کو خواب میں دیکھا تھا جو مجھے کہہ رہا تھا: ’’حسین! ہم اسیر نہیں ہوئے بلکہ شہید ہو گئے ہیں۔ میں کل اس وقت واپس آ جاؤں گا اور اگلے دن صادقی بھی لوٹ آئے گا۔‘‘ اس کے بعد حسین نے مجھ سے ایک جملہ کہا جو بہت اہم ہے۔ اس نے کہا: ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ اکبر موسائی پور نے مجھ سے بات کیوں کی؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘
کہنے لگا: ’’اکبر موسائی پور کی دو فضیلتیں تھیں: ایک یہ کہ اس نے شادی کر رکھی تھی اور دوسری یہ کہ اس کی نماز شب پانی پر بھی قضا نہیں ہوئی۔ یہ اس کی فضیلت تھی جس کی وجہ سے اس نے آ کر مجھے خبر دی تھی۔‘‘ بعد میں حسین بھی شہید ہو گیا۔
(۱ )ایران میں مَردوں کے احترام کے لیے استعمال کیے جانے والالفظ۔
شہید سردار قاسم سلیمانی
معاف کر دینا!
شام کے شہر دیر الزور کے علاقے بوکمال کو آزاد کروانے کے لیے انجام دیے گئے آپریشن کے دوران سردار سلیمانی نے کسی شخص کے گھر کو اپنا اور جوانوں کا ٹھکانا بنایا تھا۔ انہوں نے صاحب خانہ کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر کو استعمال کرنے پر معذرت خواہی کی اور لکھا:
عزیز اور محترم اہل خانہ! سلام علیکم!
میں آپ کو چھوٹا بھائی قاسم سلیمانی ہوں۔ آپ لوگ حتماً مجھے جانتے ہوں گے۔ ہم نے ہر جگہ اہل سنت کے لیے بہت سی خدمات انجام دی ہیں۔ میں شیعہ ہوں اور آپ سنی مگر میں بھی ایک طرح سے سنی ہوں کیونکہ سنت رسول خداﷺ پر ایمان رکھتا ہوں اور ان شاء اللہ انہی کے راستے پر چل رہا ہوں۔ اور آپ بھی ایک طرح سے شیعہ ہیں کیونکہ آپ اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کے گھر میں موجود قرآن مجید، صحیح بخاری اور دوسری کتب سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ ایک صاحب ایمان انسان ہیں۔ پہلے تو میں آپ سے عذرخواہی کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت کے بغیر ہم نے آپ کے گھر سے استفادہ کیا اور دوسرا یہ کہ آپ کے گھر کا جو بھی نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ کرنے کے لیے ہم تیار ہیں۔ میں نے اپنی اور آپ کی طرف سے قرآن مجید سے استخارہ کیا جس کے جواب میں صفحہ ۳۶۱ اور ۳۶۲ پر سورہ فرقان کی آیات سامنے آئیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ انہیں پڑھیں گے اور ہمارے اور اپنے حال پر غور فرمائیں گے۔ میں نے آپ کے گھر میں نماز پڑھی اور دو رکعت آپ کی نیت سے پڑھی اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کی عاقبت بخیر ہو۔آپ کی دعاؤں کا محتاج ہوں۔
آپ کا بھائی یا بیٹا، سلیمانی
شہید قاسم سلیمانی ؒ کے ہاتھ سے تحریر شدہ عربی خط
حاج قاسم کا شہداء کی بیواؤں کو دوبارہ نکاح کی تاکید
ایک شہید کی بیوا نقل کر رہی تھیں:’’ حاج قاسم شہداء کی بیواؤں کے دوبارہ نکاح پر خوشی کا اظہار کرتے اور اس کام کی ترغیب بھی دیتے تھے، اگرچہ معاشرےمیں کئی ایسے لوگ جو ظاہراً مذہبی اقدار پر عمل پیرا ہیں، ان کا رویہ بھی ان خواتین کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہمارا مقصد نیک ہے مگر میں لوگوں کی باتوں اور کنایوں کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ اندر سے ٹوٹ کر رہ جاتی ہوں۔‘‘
سپاہ، جنت ہے
خدا کی قسم! میں اگرچہ سپاہ کے اراتمندوں میں سے ہوں مگر یہ بات صرف سپاہ کا فرد ہونے کے ناطے نہیں کہہ رہا: سپاہ جو آج انقلاب کا دفاع کرنے کی وجہ سے مختلف جگہوں پر تہمت اور افترا پردازی کا شکار ہے، دوسری مسلح افواج کے ساتھ کہ وہ بھی عزیز اور قابل قدر ہیں، ملت، انقلاب اور اس انقلاب کی اعلیٰ اقدار کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہے اور اس نے اپنے افسران کے حکم پر اپنے آپ کو شہادت کی پہلی صف میں شہادت کے مقام پر رکھا ہوا ہے۔ سپاہ شہادت کے منتظر افراد کا مجموعہ ہے۔
لوگو! میرے اور مجھ جیسوں کے اعمال کی طرف نگاہ نہ کرو۔ سپاہ، ایک بہشت ہے جس کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ سپاہ، شہدا کی معراج ہے۔ سپاہ، مجاہدین کی معراج ہے۔ سپاہ، امامؒ کو محبوب ہے۔ امام نے سپاہ کو دیکھ کر فرمایا ہے: ’’میں تمہارے ہاتھوں کا بوسہ لیتا ہوں کیونکہ خدا کا ہاتھ تمہارے ہاتھوں پر ہے۔ اگر سپاہ نہ ہوتی تو یہ ملک ہی نہ ہوتا۔‘‘ پھر امام نے سپاہ کے محاذوں اور مسلح افواج کی طرف نگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’کیا کام کر رہے ہیںیہ لوگ! بہتر ہے کہ میں خاموشی سے کھڑا ہو جاؤں اور خضوع و خشوع سے ان کی خدمت میں عرض کروں:’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکم یا خَاصَّۃَ اَوْلِیَاء اللہ۔‘‘
سپاہ کے لوگوں میں، سپاہ کے درمیان، خدا کے ہزاروں خاص ولی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔
شہید سردار سلیمانی