آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

انیسواں باب

مارچ کا مہینہ تھا۔ صمد چلا گیا تھا اور اس نے دو تین دن بعدآ جانا تھا لیکن بیس روز گزرنے کے بعد بھی ابھی تک وہ واپس نہ لوٹا تھا۔ اوپر سے میرے سسر بھی نہ آئے تھے۔ وہ کافی بےقرار سی سہ پہر تھی۔ بچے ٹی وی پر بچوں کا ایک پروگرام دیکھ رہے تھے۔ باہر موسم تھوڑا گرم ہو چکا تھا۔ برف آہستہ آہستہ پگھل رہی تھی۔ اکثر لوگ عید [نوروز] کی تیاری کی وجہ سے گھروں کی صفائی ستھرائی میں مصروف تھے۔ میں نے بہت کوشش کی مگر کسی طور کام کرنے کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔  میں اپنے آپ سے کہہ رہی تھی: ’’آج کل میں صمد آ ہی جائے گا۔ جب وہ آئے گا تو میری طبیعت بھی بحال ہو جائے گی۔ اس وقت دونوں مل کر گھر کی صفائی بھی کر لیں گے اور بازار جا کر بچوں کے لیے عید کے کپڑے بھی خرید لائیں گے۔‘‘  مجھے وہ لہنگا یاد آ گیا جو میں نے کل اپنے بھائی کے ساتھ جا کر خریدا تھا۔ میرا دل پھر بے چین ہو گیا۔ میں نے ایسا کیوں کیا۔ سال کے شروع ہی میں مَیں نے کالا لہنگا کیوں خرید لیا۔ میرا بھائی بےچارہ کل صبح آیا تا کہ مجھے اور بچوں کو عید کے کپڑے خریدنے کے لیے بازار لے جائے، مگر میں نے انکار کر دیا۔ میں نے اسے کہا تھا: ’’صمد خود آئے گا تو بچوں کے لیے خود ہی خریداری کرے گا۔‘‘ اس نے بہت اصرار کیا، بالآخر کہا: ’’اچھا کم از کم خود آ کر کوئی ایک چیز تو خرید لو۔  آخر کو میں تمہارا  بڑا بھائی ہوں۔‘‘ اب بھی گاؤں میں رسم ہے  کہ عید کے نزدیک بھائی اپنی بہنوں کے لیے عید کی خریداری کرتے ہیں۔ میں اس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ لیکن نہیں معلوم اتنے خوبصورت اور رنگارنگ کپڑوں میں سے میں نے ایک کالا لہنگا ہی کیوں پسند کیا تھا۔  لگتا تھا کہ میرے بھائی کو بھی یہ پسند نہ آیا۔ کہنے لگا: ’’بہن! جو تمہاری پسند  لیکن کوئی قمیص، کُرتی یا کوئی اور اچھی خوش رنگ چیز اٹھاؤ۔‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، یہی ٹھیک ہے۔‘‘

جیسے ہی گھر میں آئی تو پشیمان ہو گئی اور سوچا کہ کاش اس کی بات مان لی ہوتی اور سال کے شروع ہی میں کالا لہنگا نہ خریدتی۔ پھر اپنے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ چلو کوئی حرج نہیں۔ صمد آئے گا تو اس کے ساتھ جا کر تبدیل کروا لاؤں گی اور اس کی جگہ ایک خوش رنگ اور خوبصورت قمیص خرید لاؤں گی۔

بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ خدیجہ اپنا سبق پڑھ رہی تھی۔ کہنے لگی: ’’ماں!ظہر کے وقت جب آپ روٹی لینے گئی تھیں تو چچا شمس اللہ آئے تھے۔ انہوں نے الماری سے ہماری البم اٹھائی اور اس میں سے بابا کی ایک تصویر نکال کر لے گئے۔‘‘

مجھے بہت برا لگا۔ میں نے پوچھا: ’’تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟‘‘

خدیجہ نے سر نیچے کرتے ہوئے کہا: میں بھول گئی تھی۔‘‘

مجھے بہت ہی برا لگا۔ یعنی شمس اللہ ہمارے گھر میں آیا اور مجھے بتائے بغیر جا کر الماری سے صمد کی تصویر اٹھا لی۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ دروازے کی آواز آئی۔

بچے خوشی سے اٹھے اور دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ مہدی خوشی سے چلایا: ’’بابا!۔۔۔ بابا آ گئے۔۔۔‘‘

مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کس طرح اپنے آپ کو سیڑھیوں تک پہنچایا۔ جو کچھ میں نے دیکھا تھا اس نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ میرے سسر نے دروازہ کھولا تھا اور اندر آئے تھے۔ میرا بھائی امین بھی ان کے ساتھ تھا۔ میں مبہوت ہو گئی تھی: ’’آپ لوگ صمد کے ساتھ آئے ہیں؟ صمد بھی آیا ہے؟‘‘

میرے سسر خاک آلودہ تھے اور پہلے سے زیادہ بوڑھے ہو گئے تھے۔  بے قراری کی حالت میں کہنے لگے: ’’نہیں، ہم خود ہی آئے ہیں۔ صمد محاذ پر رہ گیا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’آپ نے دروازہ کیسے کھولا؟ چابی تو آپ کے پاس تھی نہیں!‘‘

میرے سسر حواس باختہ ہو گئے۔ کہنے لگے: ’’۔۔۔چابی۔۔۔! ہاں چابی تو ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن دروازہ کھلا ہوا تھا۔‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، دروازہ کھلا ہوا نہیں تھا۔ مجھے پورا یقین ہے۔ سہ پہر کو میں باہر کچھ چیزیں خریدنے گئی تھی تو واپسی پر دروازہ بند کر دیا تھا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ دروازہ میں نے بند کر دیا تھا۔‘‘

انہوں نے جھنجھلاکر کہا: ’’حتماً تمہارا دھیان نہیں رہا ہو گا۔ بچے باہر گئے ہوں گے اور انہوں نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہو گا۔‘‘

اگرچہ مجھے پورا یقین تھا مگر ان کے سامنے اصرار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے پوچھا: ’’تو صمد کہاں ہے؟‘‘

انہوں نے تھکے تھکے لہجے میں جواب دیا: ’’محاذ پر۔‘‘

میں نے کہا: ’’مگر کیا اسے آپ کے ساتھ نہیں آنا تھا، اور وہ بھی دو تین دن کے اندر اندر؟‘‘

انہوں نے کہا: ’’جب ہم لوگ محاذ پر پہنچے تو ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ صمد اپنے کام پہ چلا گیا۔ مجھے اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ میں تو ستار کو ڈھونڈنے گیا تھا۔ وہ نہیں ملا۔‘‘

میں نے سوچا کہ شاید میرے سسر ستار کے نہ ملنے کی وجہ سے اتنے غمگین ہیں ۔ میں نے انہیں اندر آنے کو کہا لیکن میرے دل میں طوفان بپا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اگر یہ سچ کہہ رہے ہیں تو میرے بھائی کے ساتھ کیوں آئے ہیں؟ امین تو قایش میں تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ قایش میں تھا۔ خدانخواستہ کچھ برا تو نہیں ہو گیا!

میں نے دوبارہ پوچھا: ’’آپ سچ کہہ رہے کہ آپ کو صمد کی کوئی خبر نہیں ہے؟ وہ ٹھیک ہے؟‘‘

میرے سسر نے اکتا کر کہا: ’’کہہ تو رہا ہوں کہ مجھے نہیں معلوم۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ میرا بستر بچھا دو میں سونا چاہتا ہوں۔‘‘

میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’آپ سونا چاہتے ہیں؟ ابھی تو شام ہے۔ میں کھانا بناتی ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’مجھے بھوک نہیں ہے۔ بہت نیند آ رہی ہے۔  میرا اور اپنے بھائی کا بستر بچھا دو۔ ہم سونا چاہتے ہیں۔‘‘

بچے ماموں کے گرد ہو گئے تھے اور اس سے شینا کا حال احوال پوچھ رہے تھے مگر وہ ٹھیک سے جواب نہیں دے رہا تھا۔ میں نے سوچا: ’’خدانخواستہ شینا کو تو نہیں کچھ ہو گیا؟‘‘ میں نے اپنے بھائی کو قسم دے کر کہا: ’’بابا کی جان، سچ بتاؤ، شینا کو تو کچھ نہیں ہوا؟‘‘ امین بھی میرے سسر کی طرح جھنجھلاتے ہوئے بولا: ’’خدا کی قسم، کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ خیریت سے ہیں۔ اگر چاہتی ہو تو کل جا کر انہیں لے آؤں تا کہ تمہیں تسلی ہو جائے؟‘‘

میں نے کچھ نہیں کہا اور جا کر اپنے سسر کے لیے بستر بچھانے لگی۔ وہ سونے چلے گئے۔ میں بھی بچوں کو بھائی کے حوالے کر کے  خانم دارابی کے گھر چلی گئی۔ اسے سارا ماجرا سنایا: ’’میں چھاؤنی فون کر کے صمد کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں۔‘‘

خانم دارابی ہمیشہ پوری کشادہ دلی سے ٹیلی فون میرے سامنے رکھ کر خود کمرے سے باہر چلی جاتی تھی تا کہ میں کسی جھجک اور دخالت کے بغیر آسانی سے بات کر سکوں۔ اس بار وہ ٹیلی کے پاس بیٹھ کر کہنے لگی: ’’میں نمبر ملاتی ہوں۔‘‘

میں اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ وہ نمبر ملاتی اور کاٹ دیتی، ملاتی اور کاٹ دیتی۔ اس نے کہا: ’’نمبر مشغول ہے۔مل نہیں رہا۔ لگتا ہے لائنیں خراب ہیں۔‘‘

میں آدھا گھنٹہ بیٹھ کر اس کو نمبر ملاتےہوئے دیکھتی رہی۔ لگتا تھا کہ اس کے حواس کہیں اور ہیں۔ زیر لب اپنے آپ سے کچھ کہہ رہی تھی۔ ایک دو نمبر ملانے کے بعد کاٹ دیتی۔ میں نے کہا: ’’اگر نہیں مل رہا تو میں چلی جاتی ہوں۔ دوبارہ آ جاؤں گی۔ بچے میرے بھائی کے پاس ہیں۔ انہیں کھانا دے کر آتی ہوں۔‘‘

میں گھر واپس چلی گئی۔ میرا بھائی بچوں کے پاس نہیں تھا۔ وہ میرے سسر کے پاس چلا گیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ جیسے ہی مجھے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔

میری پریشانی بڑھ گئی۔ میں نے کہا: ’’آپ سوئے کیوں نہیں؟ کچھ ہوا ہے کیا؟ آپ کو ستار کی روح کا واسطہ اگر کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بتا دیں۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘

میرے سسر جا کر اپنی جگہ پر لیٹ گئے اور کہا: ’’نہیں بہو، کچھ بھی نہیں ہوا۔بس ایسے ہی ہم دو تین مردانہ باتیں کر رہے  تھے۔ گھر کی کچھ باتیں تھیں۔ ہونا کیا ہے۔ اگر کچھ ہوا ہوتا تو ہم حتماً تمہیں بتاتے۔‘‘

میں ہال میں واپس آ گئی۔ مجھے رات کے کھانے کے لیے کچھ تیار کرنا تھا۔ زہرا، سمیہ  اور مہدی آپس میں کھیل رہے تھے۔ خدیجہ اور معصومہ اپنا سکول کا کام لکھ رہی تھیں۔

میں گھبراہٹ سی مری جا رہی تھی۔ دل سینے میں ٹک نہیں رہا تھا۔ بہر حال رات کا کھانا پکایا۔دوبارہ خانم دارابی کے گھر چلی گئی۔ میں نے کہا: ’’تمہیں خدا کا واسطہ، اپنے شوہر کو ایک  فون کر کے ان سے صمد کی خیریت دریافت کر لو۔‘‘

خانم دارابی نے فوراً جواب دیا: ’’اتفاق سے ابھی چند منٹ پہلے ہی میں نے انہیں فون کیا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارے شوہر بالکل خیریت سے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ صمد ابھی ہمارے پاس ہے۔‘‘

میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ میں نے کہا: ’’ تیرے قربان!خدایا ہمیشہ خیر کی خبر دینا۔  پس اب دوبارہ اگر زحمت نہ ہو تو اپنے شوہر کو فون کرو کہ اگر صمد چلا نہیں گیا تو اس سے بھی بات کر لوں۔‘‘

خانم دارابی نے پہلے تو ٹال مٹول کی پھر خود ہی ٹیلی فون اٹھا کر نمبرملایا اور کاٹ دیا۔ کہنے لگی: ’’ان کا فون مشغول ہے۔‘‘

آخر کار کہنے لگی: ’’او خدایا! لگتا ہے ساری لائنیں منقطع ہیں۔‘‘

مجھےخانم دارابی کے اس رویے سے جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔ اسے خدا حافظ کہا اور اپنے گھر آ گئی۔ میں اب بری طرح شک میں پڑ گئی تھی۔ خانم دارابی کا رویہ ہمیشہ کی طرح نہیں تھا۔ لگتا تھا کہ کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی اسے خبر ہے۔  جیسےہی میں گھر میں پہنچی تو دیکھا کہ میرے سسر اور بھائی ہال میں بیٹھے طاقچے پر پڑے ہوئے قرآن کو ہاتھ میں لے کر بیٹھے ہیں اور صمد کا وصیت نامہ پڑھ رہے ہیں۔ میرے سسر نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو وصیت نامے کو تہہ کر کے قرآن کے اندر کھنے لگے: ’’ہمیں نیند نہیں آ رہی تھی۔ تو ہم نے سوچا کہ قرآن کی تلاوت کر لیتے ہیں۔‘‘

میں نے ہونٹ کاٹ لیے اور ان کے رویے سے تنگ آ کر کہا: ’’آپ لوگ مجھ سے کیا چھپا رہے ہیں۔ یہی نا کہ صمد شہید ہو گیا ہے۔‘‘ میں نے اپنے سسر سے قرآن کو لے کر اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا: ’’صمد شہید ہو گیا ہے۔ میں جانتی ہوں۔‘‘

میرے سسر نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا اور کہا: ’’کس نے کہا؟‘‘

اچانک میرا بھائی رونے لگا۔

میں بھی رونے لگی اور قرآن کو کھولا، اس کا وصیت نامہ اٹھایا اور بوسہ دے کر کہا: ’’صمد جان! تمہارے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ جانے کا یہ کون سا وقت ہے۔ بے وفا کہیں کے، بغیر خدا حافظ کہے چلے گئے۔ یعنی میں ایک خداحافظی کی حقدار بھی نہیں ہوں۔‘‘

میں نے اپنا ہاتھ قرآن پر رکھ کر کہا: ’’خدایا! تجھے اس قرآن کا واسطہ، سب جھوٹ ہو۔ صمد دوبارہ لوٹ آئے۔ اے خدا! میرے صمد کو واپس لے آ۔‘‘

میرے سسر نے اپنا سر دیوار کے ساتھ ٹکا دیا۔ وہ رو رہے تھے اور ان کے کندھے ہل رہے تھے۔ شاید خدیجہ اور معصومہ بھی سمجھ گئی تھیں کہ کیا ہوا ہے۔ وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔ میرے ساتھ ساتھ وہ بے چاری بھی رونے لگیں۔ سمیہ میرے پاؤں پر بیٹھ گئی تھی اور میرے آنسو صاف کر رہی تھی۔ مہدی ٹک ٹک مجھے دیکھ رہا تھا۔  زہرا روہانسی ہو گئی تھی۔

میرے سسر زار و زار روتے ہوئے ہچکیاں لیتے ہوئے صمد اور ستار کو پکارے جا رہے تھے۔ انہوں نے مہدی کو اپنی گود میں لےلیا، اسے چوما اور اس کے لیے ترکی کے دردناک اشعار پڑھنے لگے۔ لیکن پھر اچانک خاموش ہو کر کہنے لگے: ’’صمد نے اپنے وصیت نامے میں لکھا ہے کہ میری بیوی سے کہہ دیجیے گا کہ وہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح زندگی گزارے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ میرے بعد میرے گھر کا مرد مہدی ہے۔‘‘

اور وہ دوبارہ رونے لگے۔

میرا بھائی گیا اور صمد کی تصویر والا چوکھٹا طاقچے سے اتار لایا۔ بچے ہمیشہ کی طرف تصویر کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک بوسہ دے رہا تھا،ایک اسے سہلا رہا تھا۔ زہرا اپنی میٹھی میٹھی زبان میں بابا بابا کہہ رہی تھی۔

میرے بھائی نے اپنے ہاتھ آسمان طرف کی بلند کر کے کہا: ’’خدایا! ہمیں صبر دے۔ خدایا! ہم اتنی طاقت کہاں سےلائیں؟خدایا! میری بہن کیسے ان یتیم بچوں کی پرورش کرے گی؟‘‘

تھوڑی دیر بعد ہمسائے بھی ایک ایک کر کے آنے لگے۔ وہ روتے ہوئے میرے گلے لگ جاتے اور  میرے بچوں کو چومتے۔ جیسے ہی خانم دارابی آئی تو میں اور زیادہ رونے لگی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو ہوا میں لہراتے ہوئے سوگ کی حالت میں بولی: ’’میرے جگر  کو تم نے جلا دیا ہے قدم بیگم؟ تم اور تمہارے بچوں نے ہمیں غمگین کر دیا ہے۔ تمہارے غم نے مجھے  جلا کر رکھ دیا ہے قدم بیگم۔‘‘

میں نے بین کرتے ہوئےکہا: ’’تمہیں تو سب سے پہلے پتا چل گیا تھا کہ میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔‘‘

خانم دارابی رو رہی تھی اور اپنے سر و بازو کو ہلائے جا رہی تھی۔ بے چاری کا سانس پھول گیا تھا اور وہ بے ہوش ہونے کے قریب  تھی۔

اس رات صبح تک میں تڑپتی رہی۔ جیسےہی بچے سو جاتے تو ان کے سرہانے جا کر ایک ایک کو بوسہ دیتی اور روتی۔ وہ بے چارے میرے رونے کی آواز سن کر جاگ جاتے۔

اس رات میرا کلیجہ پھٹ کر رہ گیا۔ صبح تک زارو قطار روتی رہی، بین کرتی رہی اور بچوں کی تنہائی پر آنسو بہاتی رہی۔

باہر سے میرا بدن برف بن چکا تھا مگر اندر ایک الاؤ روشن تھا۔ ہمسائی عورتیں صبح تک پروانے کی طرح میرے آگے پیچھے ہوتی رہیں اور میرے ساتھ لگ کر روتی رہیں۔

میں زہرا کو دودھ نہیں پلا سکتی تھی۔ بے چاری بھوکی تھی اور چیخ رہی تھی۔ ہمسائی عورتیں زہرا اور سمیہ کو اپنے ساتھ لے گئیں۔

اگلے روز صبح قایش سے کچھ دوست احباب اور رشتہ دار منی بسوں پر آ گئے۔ ان کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔ صمد کے دوستوں نے آ کر بتایا: ’’صمد کو چھاؤنی میں لے آئے ہیں۔‘‘ ہم اسے دیکھنے کو جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ صمد کو انہوں نے ایک بڑی فریزر گاڑی میں رکھا ہوا تھا۔ کچھ دوسرے شہداء بھی اس کے ساتھ تھے۔ گاڑی کا دروازہ کھولا گیا۔ تابوت اوپر تلے ایک دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔ میرا دیور تیمور میرے پاس کھڑا تھا۔ میں نے کہا: ’’صمد!  میرے صمدکو لے آؤ۔ بہت دن ہو گئے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا نہیں ہے۔‘‘ تیمور گاڑی کے اوپر چڑھا۔ دوسرے لوگوں کی مدد سے کچھ تابوت نیچے اتارے۔ صمد ان میں نہیں تھا۔ پھر تیمور نے ایک تابوت میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا: ’’بھائی ہیں۔‘‘

اس کے  بھائیوں، بہنوں، باپ، ماں اور میرے بابا نے تابوت کے گرد حلقہ باندھ لیا۔  میرا دل چاہ رہا تھا کہ شینا میرے پاس ہوتیں اور میں ان کے گلے لگ کر روتی۔ ان آخری دنوں میں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔ صمد کے پاس میرے اور بچوں کے لیے جگہ نہیں تھی۔ میں اس کے تابوت کی پائینتی میں بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ روتے ہوئے کہنے لگی: ’’تمہارے پاس میرے لیے ہمیشہ اتنا حصہ ہوتا تھا۔ آخری شخص، آخری نظر۔‘‘

میری ساس اور سسر غم سے بے حال تھے۔ ستار کی شہادت کو فقط دو ماہ گزرے تھے۔ یہ ان کے گھر کا دوسرا شہید تھا۔ صمد کے بھائیوں نے تابوت کو اٹھایا اور ایمبولینس میں رکھ دیا۔ میں نے اصرار کیا کہ باغِ بہشت تک مجھے اس کے ساتھ بیٹھنے دیں۔ میں تنہائی میں اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتی تھی، مگر انہوں نے اجازت نہ دی۔ زبردستی مجھے دھکیل کر دوسری گاڑی میں بٹھا دیا۔ ایمبولینس چل رہی تھی اور ہم اس کے پیچھے پیچھے تھے۔ صمد آگے آگے جا رہا تھا؛تیز تیز۔ ہم اس کے پیچھے تھے؛ آہستہ آہستہ۔ کبھی اس سے دور ہو جاتے اور وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔ مجھے یاد نہیں کہ ڈرائیور کون تھا۔ میں نے اسے کہا: ’’تمہیں خدا کا واسطہ، جلدی جلدی گاڑی چلاؤ۔ ان آخری لمحات میں مجھے اسے جی بھر کر دیکھنے دو۔‘‘

ایمبولینس ہمارے ڈرائیور کی نظروں سےا وجھل ہو چکی تھی۔ آخری وقت تک ہم ایک دوسرے سے دور تھے۔ میرا دل بے چین ہو رہا تھا۔ بہت سی ان کہی باتیں میرے اندر رہ گئی  تھیں۔ میں چاہتی تھی کہ نو سال بعد اپنے دل کی باتیں اس سے کروں۔ میں چاہتی تھی کہ اس کے لیے اپنے بے قراریاں اور بے تابیاں اسے بتاؤں۔ اسے بتاؤں کہ کیسے راتوں اور دنوں میں میں نے اس کے فراق میں آنسو بہائے ہیں۔ میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ آخر کار میں اس کی کس قدر شدت سے عاشق ہو گئی تھی۔

باغِ بہشت پہنچے تو میں دوڑ پڑی۔ میں نے کہا؛ ’’میں چاہتی ہوں کہ اس سے اپنی آخری باتیں کر لوں۔‘‘ کتنے لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ میرے پہنچنے تک تابوت لوگوں کے ہاتھوں پر حرکت کر رہا تھا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے دوڑ پڑی۔ پھر دیکھا کہ تابوت سامنے پڑا نماز کا انتظار کر رہا تھا۔ میں صف میں کھڑی ہو گئی۔ نماز کے بعد صمد دوبارہ لوگوں کے ہاتھوں پر آگے بڑھنے لگا۔ وہ ہمیشہ سے لوگوں کے لیے زندہ رہا تھا۔ اب وہ اسے لیے جا رہے تھے؛ بغیر غسل و کفن کے، اسی خوبصورت سبز لباس میں۔ میں نے کہا: ’’میرے بچوں کو لاؤ۔ کل کو یہ ضد کریں گے اور مجھ سے اپنے بابا کو مانگیں گے۔ انہیں دیکھنے دو کہ ان کے بابا چلے گئے  ہیں اور اب لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘

نالہ و شیون کی آواز سے باغِ بہشت معمور ہو چکا تھا۔ صمد کو زمین پر رکھ دیا گیا۔ میرا صمد آرام سے تابوت میں سویا ہوا تھا۔

میں آگے بڑھی۔ خدیجہ اور معصومہ کو اپنے ساتھ لے گئی۔ میں جو اتنی بے قرار تھی، اچانک پُرسکون ہو گئی۔ مجھے اپنے سسر کی بات یاد آ گئی جنہوں نےکہا تھا: ’’صمد نے اپنے وصیت نامے میں لکھا ہے کہ میری بیوی سے کہہ دینا کہ میرے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح زندگی گزارے۔‘‘

میں اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کے بائیں رخسار پر ایک گولی لگی تھی۔  اس کی داڑھی خون سے بھر چکی تھی جبکہ باقی بدن سالم تھا۔ وہ اپنے اسی سبز فوجی لباس میں آرام سے سویا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ اسی روز کی طرح خوبصورت اور نورانی لگ رہا تھا جس دن اس نے نہا کر چارخانوں والی سفید اور نیلی قمیص پہنی تھی۔

وہ مسکرا رہا تھا اور اس کے سفید دانت چمک رہے تھے۔ کاش وہاں کوئی نہ ہوتا۔ کاش وہ روتا ہوا سیاہ پوش ہجوم ہمارے اردگرد نہ ہوتا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ جھک کر اپنی آخری ملاقات کی یادگار کے طور پر اس کی پیشانی پر بوسہ دوں۔ میں نے زیرِ لب کہا: ’’خدا حافظ۔‘‘ بس اتنا ہی کہہ پائی۔ میرے پاس زیادہ باتوں کی فرصت نہیں تھی۔ کچھ لوگ آگے بڑھے اور صمد کو اٹھا کر لے گئے۔ وہ صمد جس کی میں عاشق تھی، وہ اسے مجھ سے جدا کر کے لے گئے تھے۔ جب انہوں نے اس کی قبر پر پتھر رکھ دیا اور اس کے چہرے پر مٹی ڈال دی تو اچانک میں ٹھنڈی ہو گئی۔ وہ آگ کا الاؤ جو گذشتہ رات سے میرے دل میں بھڑک رہا تھا، یکدم بجھ گیا۔ پاؤں میں جان نہیں رہی تھی۔ دل سرد ہو چکا تھا۔ امید مایوسی میں بدل چکی تھی۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں ان اتنے لوگوں میں اکیلی رہ گئی ہوں۔ بے یار و مددگار، بے ہمدم و ہم نفس۔ ایسا لگا کہ اچانک ایک اور ہی دنیا میں پھینک دی گئی ہوں۔  ایک اجنبی جگہ جہاں نہ کوئی سہارا ہے اور نہ کوئی آسرا۔ میری پشت خالی ہو چکی تھی۔ میں ایک بلندی سے ایک گہری کھائی میں گر رہی تھی۔

تھوڑی دیر بعد میں اپنے پانچ چھوٹے بڑے بچوں کو لیے اس کی قبر کے سرہانے بیٹھی تھی۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ صمد یہاں نیچے ہے، اس مٹی کے ڈھیر کے نیچے۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ مجھے تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے دیں مگر انہوں نے نہ بیٹھنے دیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گاڑی پر بٹھا دیا۔ جب واپس ہوئے تو گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے دوست آ رہے تھے۔ وہ صمد کے ساتھ گزرے ہوئے اپنے واقعات سنا رہے تھے۔ میں کسی کو نہیں دیکھ رہی تھی۔ کوئی آواز نہیں سن رہی تھی۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میرا صمد وہی ہے جس کے بارے میں وہ سب باتیں کر رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ جلدی جلدی سارے لوگ چلے جائیں اور گھر خالی ہو جائے۔ فقط میں اور میرے بچے رہ جائیں۔ مہدی کو گلے لگا لوں، زہرا کو بوسے دوں، خدیجہ کے بال بناؤں، معصومہ کو سیڑھیوں پر بٹھاؤں، سمیہ کے کانوں میں لوری سناؤں اور اپنے بچوں کو سونگھوں۔ ان سے صمد کی خوشبو آتی تھی۔ ہر ایک کے چہرے پر صمد کی ایک نہ ایک نشانی موجود تھی۔ سب چلے گئے۔ میں تنہا رہ گئی، بالکل تنہا۔ ہم تنہا رہ گئے۔ مہدی ہمارے گھر کا تین سالہ مرد بن گیا تھا۔

لیکن نہیں، صمد بھی تھا؛ ہر لمحہ، ہر لحظہ، میں اس دیکھتی تھی، اس کی خوشبو کو محسوس کرتی تھی۔

وہ خوبصورت قمیص جو وہ مکہ سے لایا تھا، اسے استری کیا اور الماری میں اپنے کپڑوں کے ساتھ لٹکا دی۔ بچے باہر سے آتے تو اپنے بابا کی قمیص پر ہاتھ پھیرتے اور اس کی خوشبو سونگھتے۔ صمد کی خوشبو ہمیشہ ہمارے لباسوں میں رچی بسی رہتی۔ صمد ہمیشہ ہمارے ساتھ تھا۔

بچے اس کی آواز سنتے تھے: ’’سبق پڑھو۔ آپس میں مہربان رہو۔ ماں کا خیال رکھو۔ خدا کو کبھی نہ بھولو۔‘‘

بعض اوقات تو وہ بالکل نزدیک آ جاتا اور میرے کان میں کہتا: ’’قدم! جلدی کرو۔ بچوں کو جلدی بڑا کرو۔ اپنے کام نمٹاؤ۔  جلدی کرو۔ کتنی دیر کر رہی ہو۔ ہمیں یہاں سے جلدی جانا چاہیے۔ جلدی کرو۔ میں فقط تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ تمہاری جان کی قسم، اس بارمیں اکیلا جنت میں بھی نہیں جاؤں گا۔ جلدی کرو۔ میں کافی دیر سے یہاں بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ اب دیکھو تو، بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ اپنا ہاتھ  مجھے تھماؤ۔ بچے اپنا راستہ جانتے ہیں۔ تم آگے آؤ۔ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو۔ اب اور تنہائی نہیں جھیلی جاتی۔ باقی راستہ ہمیں اکٹھے ہی طے کرنا ہے۔۔۔‘‘

تَمَّتْ بِالْخَیْرِ