آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

اٹھارہواں باب

اگلے دن صبح صمد کے والد جلدی آ گئے۔ میں ناشتہ بنا رہی تھی۔ وہ کہنے لگے: ’’رات میں نے ستار کو خواب میں دیکھا ہے۔ وہ بہت پریشان نظر آ رہا تھا۔ میں نے کہا کہ ستار جان! تم کیسے ہو؟ تو اس نے پلٹ کر کہا کہ میں صمد ہوں۔ میں اسے بوسہ دینے کےلیے آگے بڑھا تو وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔‘‘

اس کے بعد وہ رونے لگے: ’’میرا دل اپنے بچے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ وہ یقیناً دشمن کی سرزمین پر ان کافر بعثیوں کے پاس سخت عذاب سے گزر رہا ہے۔ نہیں معلوم وہ مجھ سے ناراض کیوں تھا۔ حتماً وہ جگہ اس کےلائق نہیں ہو گی۔‘‘

صمد جو اپنے والد کو اس اضطراب سے نکالنا چاہتا  تھا ہنس کر ان سے مذاق کرنے لگا: ’’نہیں ، بابا! مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی جگہ بالکل ٹھیک ہے۔ ستار اب پرواز کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ آپ سے اس لیے ناراض ہے کہ آپ نے ہم بھائیوں کے نام الٹ پلٹ کر دیے ہیں۔‘‘

میں نے غصے سے صمد کی طرف دیکھا اور ہونٹ کاٹنے لگی۔ صمد نے  اپنی بات کو بدلتے ہوئے کہا: ’’دراصل وہ مجھ سے ناراض ہے کہ میں نے اس کا نام اڑا لیا۔‘‘

اس کے بعد میری طرف منہ کر کے کہنے لگا: ’’حتی کہ میری بیوی بھی مجھ سے ناراض ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے  قدم خانم!‘‘

میں نے کندھے اوپر اچکا لیے۔

اس نے کہا: ’’میں بہتیرا اسے کہتا ہوں کہ اس بات کی مشق کرے اور مجھے ستار کہا کرے مگر یہ مانتی ہی نہیں۔ اب کل کلاں اگر اطلاع آئے اور تمہیں بتائیں کہ ستار شہید ہو گیا ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میرا شوہر شہید ہوا ہے۔ یہ نہ کہنا کہ ستار میرا دیور ہے جو کچھ دن پہلے شہید ہو گیا تھا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم بھی ہنسنے لگیں۔ لیکن ہم  غصے ہو گئے۔ اس کے والد اسے تیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

صمد نے جب یہ صورتحال دیکھی تو کہا: ’’دراصل ساری غلطی بابا کی ہے۔ یہ کیا مصیبت تھی جو آپ ہمارے ناموں پر لے آئے؟!‘‘

میرے سسر نے انہی تیز اور غصے والی نظروں سے اسے دیکھتے  ہوئے کہا: ’’میں نے کوئی مصیبت تمہارے گلے نہیں ڈالی۔ تمہارا نام شروع ہی سے صمد تھا۔ جب شمس اللہ اور ستار پیدا ہوئے تو میں شہر گیا تا کہ تم لوگوں کا برتھ سرٹیفکیٹ لے آؤں۔ اس وقت ایسا ہی رواج تھا۔ سارے یونہی کرتے تھے۔ بعض لوگ جو بچوں کو سکول نہیں بھیجتے تھے، وہ تو ان کی شادی کے وقت ہی ان کا برتھ سرٹیفکیٹ لیتے تھے۔رجسٹرار کی غلطی تھی۔ تم جو سب سے بڑے تھے، تمہارا نام اس نے ستار لکھ دیا۔ شمس اللہ اور ستار جو جڑواں تھے، نہیں معلوم اس کا دھیان کہاں تھا، شمس اللہ کی تاریخ ولادت 1965؁ لکھ دی اور ستار کی 1958؁۔ جب سکول جانے کے قابل ہوئے اور سکول میں انہیں داخل کروانے گئے تو انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے بڑا کون ہے؟ ہم نے تمہارا بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہ ستار ہے، اسے کلاس اول میں بھیج دیں۔ باقی ان دونوں کا ابھی سکول میں آنے کا وقت نہیں ہے۔ میں نے بہت بھاگ دوڑ کی کہ تمہارے برتھ سرٹیفکیٹ تبدیل ہو جائیں مگر بے سود۔‘‘

صمد نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’شروع شروع میں مجھے بھی بہت مشکل پیش آئی تھی۔ استاد جب مجھے بلاتے ستار ابراہیمی تو میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگتا۔ اوپر سے میرے دوست اور ہم جماعت مجھے صمد کہہ کر پکارتے تھے لہٰذا میں بری طرح الجھ جاتا۔ مجھے اپنے آپ کو اس صورتحال کا عادی بنانے میں کافی وقت لگا۔‘‘

صمد دوبارہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگا: ’’بالآخر بیگم، اب تم بھی مشق کرو اور اپنے شوہر کو ستار کہہ  کر ہی بلایا کرو۔‘‘

میں نے کہا: ’’تھوڑی چاپلوسی کرو۔ کیا حاجی آغا نہیں کہہ رہے کہ تم شروع ہی سے صمد تھے۔‘‘

اس کے بعد صمد نے بات کو آگے نہ بڑھایا اور اپنے والد سے کہا: ’’بابا جان! بہتر ہے کہ آپ نہا لیں تا کہ تھوڑی طبیعت تازہ اور ہلکی پھلکی ہو جائے۔ مجھے تھوڑا سا کام ہے۔ آپ کے نہا کر آنے تک میں بھی تیار  ہو جاتا ہوں۔‘‘

میرے سسر نے بات مان لی۔ میں نے بھی ناشتے کے لیے دسترخوان بچھا دیا۔ خدیجہ اور معصومہ کو جگایا۔ میں انہیں ناشتہ دے رہی تھی کہ صمد آ گیا اور دسترخوان پر بیٹھ گیا۔

اس نے کہا: ’’قدم!‘‘

میں نے اس کی طرف دیکھا۔ مجھ میں دیکھنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ وہ خود جانتا تھا کہ جب اس نے محاذ پر جانا ہوتا تھا تو میں اسی طرح پریشان اور ناراض ہو جاتی تھی۔ اس نے کہا: ’’میرے دل میں ایک راز ہے جو میں جانے سے پہلے تمہیں بتانا چاہتا  ہوں۔‘‘

میں نے تعجب سے اسے دیکھا۔

وہ روٹی کے ایک ٹکڑے سے کھیلتے ہوئے کہنے لگا: ’’جس رات آپریشن ہونا تھا۔ میں نے ستار سے کہا تھا کہ تم بٹالین ۳ میں چلے جاؤ۔ دریا کی دوسری طرف جانے کے لیےپہلی کشتی آمادہ تھی۔ میں نے جب نفری کو گنا تو ایک بندہ فالتو تھا۔ میں نے بہت پوچھا کہ کون اضافی ہے۔ کسی نےجواب نہیں دیا۔ میں مجبور ہو گیا کہ ٹارچ کے ذریعے سب جوانوں کو ایک ایک کر کے دیکھوں۔اچانک میری نظر ستار پر پڑی۔ مجھے اس پر غصہ آ گیا۔ میں نے اسے کہا کہ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ بٹالین ۳ میں چلے جاؤ؟ اس نے منت اور خواہش کرنا شروع کر دی۔ کاش میں اس کے جانے پر راضی نہ ہوتا۔ لیکن نہیں معلوم میں نے کیسے اس کی بات مان لی اور وہ آ گیا۔‘‘

اس رات ہم نے کتنی مشکلوں سے دجلہ کو عبور کیا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دشمن کی طرف سے برستی ہوئی آگ کے نیچے ہم دشمن کی خاردار تاروں تک پہنچ گئے۔ تم یقین نہیں کرو گی، ہم نے اتنی کم تعداد کے باوجود دشمن کی سرحد کو عبور کر لیا  اور غوطہ خور جوانوں کا انتظار کرنے لگے لیکن غوطہ خوروں کی یونٹ سرحد عبور کر کے آگے نہ آ سکی۔ ہم اکیلے رہ گئےتھے۔ اب صورت حال یہ بن گئی تھی کہ ہم اپنے اسی اسلحے کے ساتھ بہت کم فاصلے پر عراقی فوجیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ان سے جنگ کرنے لگے۔ اچانک ستار نے مجھے آواز دی۔ میں اس کی طرف گیا، دیکھا تو اسے پاؤں میں گولی لگ گئی تھی۔ میں نے رومال سے اس کا پاؤں باندھا اور کہا  کہ بھائی کی جان! ہمارے جوانوں کے پہنچنے تک دفاع کرو۔ ہم نے اپنے بندوقوں سے اتنی گولیاں برسائی تھیں کہ وہ آگ کی طرح گرم ہو گئی تھیں۔ ہمارے ہاتھ جل رہے تھے۔‘‘

اس نے اپنے ہاتھ کھول کر  مجھے دکھائے۔ ابھی تک اس کے ہاتھوں پر جلنے کے نشان موجود تھے۔ پہلے بھی میں نے ان نشانات کو دیکھا تھا مگر نہ اس نے بتایا تھا اور نہ ہی میں نے پوچھا تھا۔

اس نے کہا: ’’میرے لیے چائے ڈالو۔‘‘ حمام سے پانی کی شرشر کی آواز آ رہی تھی۔ سمیہ، زہرا اور مہدی سوئے ہوئے تھے اور خدیجہ اور معصومہ ناشتہ کرتے ہوئے مبہوت ہو کر اپنے بابا کو دیکھ رہی تھیں۔ میں نے اس کے سامنے چائے رکھتے ہوئے کہا: ’’اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘

اس نے کہا: ’’عراقی ایک ایک ٹولی کو ہماری طرف بھیجتے اور ہم اپنے اسی اسلحے کے ساتھ اپنا دفاع کرنے پر مجبور تھے۔ اس برستی ہوئی آگ اور اس صورتحال میں مجھے دوبارہ ستار کی آواز آئی۔ میں اس کی طرف بھاگ کر گیا۔ دیکھا تو اب اس کے بازو پر گولی لگی تھی۔ وہ بری طرح زخمی ہو گیا تھا۔ میں نے اس کا بازو باندھا اور اس کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ بھائی کی جان، بہت سے جوان زخمی ہو گئے ہیں، اپنے اندر ہمت پیدا کرو۔ میں دوبارہ واپس آ گیا۔ صورتحال بہت بری طرح بگڑ چکی تھی۔ میرے جوان ایک ایک کر کے یا تو شہید ہو رہے تھے، یا زخمی ہو رہے تھے یا دشمن کی قید میں جا رہے تھے۔ تیسری بار جب میں نے ستار کی آواز سنی تو دیکھا کہ وہ خون میں لت پت ہے۔ دستی بم اس کے پاؤں میں گرا تھا اور گلے تک اس کا سارا بدن سوراخ سوراخ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے کندھوں پر اٹھایا اور وہاں موجود ایک مورچے میں لے گیا۔ میں نے کہا: ہمت پیدا کرو، میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔ درویشی نام کا ایک جوان بھی زخمی ہو چکا تھا۔ اسے بھی میں کندھوں پر اٹھا کر عراقیوں کے کنکریٹ سے بنے اسی مورچے میں لے گیا۔  جب ستار کو اٹھا کر واپس آنے لگا تو درویشی نے مجھے کہا: ’’حاجی! مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟! تمہیں خدا کا واسطہ، مجھے بھی لے جاؤ۔ کیا میں تمہارا سپاہی نہیں ہوں۔‘‘ میں نے ستار کو زمین پر رکھا اور خیر اللہ درویشی کے پاس چلا گیا۔ اسے اٹھایا تو ستار نے کہا، بے وفا، میں تمہارا بھائی ہوں! پہلے مجھےلے کر جاؤ۔ میری حالت زیادہ خراب ہے۔ وہ بہت سخت مرحلہ تھا۔ بہت ہی مشکل۔ مجھے کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ کیا کروں۔‘‘

صمد نے چائے اٹھائی اور اسے میٹھا کیے بغیر ہی گھونٹ لینے لگا: ’’قدم! میں دو راستوں میں گھِر گیا تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ کیا کروں۔ آخر میں نے ارادہ کر لیا اور ان سے کہا کہ میں تم میں سے فقط ایک کو لے کر جا سکتا ہوں۔ اب خود ہی بتاؤ کسے لے کر جاؤں۔اس بار بھی دونوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے جا کر ستار کے چہرے پر بوسہ دیا اور کہا: خدا حافظ بھائی، مجھے معاف کرنا۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ نہ آؤ۔

اس نے اسی حالت میں کہا کہ میری بیٹی کا خیال رکھنا۔

میں نے پوچھا: ’’کچھ اور نہیں چاہیے تمہیں؟‘‘

اس نے کہا: ’’مجھے پیاس لگی ہے۔‘‘

میں نے اسے پانی پلانے کے لیے اپنی بوتل نکالی۔ بوتل خالی تھی؛ بالکل خالی۔‘‘

اتنا کہہ کر صمد نے چائے کی پیالی دسترخوان پر رکھی اور کہا: ’’قدم جان! میرے بعد یہ بات میرے بابا کو بتانا۔ میں جانتا ہوں کہ ابھی ان میں یہ سب سننے کی طاقت نہیں ہے، لیکن انہیں حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔‘‘

میں نے کہا: ’’پس اس طرح ستار شہید ہو گیا؟‘‘

اس نے کہا: ’’نہیں۔۔۔ میں اسے خدا حافظ کہہ رہا تھا، اس کے چہرے پر بوسے دے رہا تھا کہ عراقی مورچے پر پہنچ گئے اور ہم پر کلاشنکوف سے فائر کرنا شروع کر دیے۔ میرا کندھا اسی وقت زخمی ہوا تھا۔ مورچے میں ایک سوراخ تھا۔ میں نے اپنے آپ کو اس سے باہر نکالا اور پانی میں کود گیا۔ جوان بتا رہے تھے کہ خیر اللہ درویشی اسی وقت اسیر ہو گیا تھا اور ستار پر عراقیوں نے اسی وقت کلاشنکوف سے فائر کر کے اسے پیاسا شہید کر دیا۔‘‘

اس کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے کہا: ’’ناشتہ تو کر لو۔‘‘

اس نے کہا: ’’میرا دل نہیں کر رہا۔ میری شہادت کے بعد یہ واقعہ حرف بہ حرف میری ماں اور بابا کو سنا دینا۔ ان سے کہنا کہ اگر میں نے ان کے بیٹے کے حق میں کوتاہی کی ہو تو مجھے معاف کر دیں۔‘‘

اس کے بعد خدیجہ اور معصومہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا: ’’بابا کی جان! اٹھو، سکول چلیں۔‘‘

صمد جیسے ہی بچوں کو لے کر گیا، میرے سسر حمام سے نہا کر نکل آئے تا کہ ناشتہ کر کے تیار ہو جائیں۔ صمد واپس آ گیا۔ میں نے کہا: ’’اگر جانا چاہتے ہو تو بچے ابھی سوئے ہوئے ہیں، چلے جاؤ۔ ابھی وہ جاگ جائیں گے تو تمہیں جانے نہیں دیں گے۔‘‘

صمد اپنا بیگ باندھ رہا تھا کہ مہدی جاگ اٹھا اور  اس کے بعد سمیہ اور زہرا بھی جاگ گئی۔صمد بچوں کے ساتھ تھوڑا کھیلا اس کے بعد انہیں خدا حافظ کہا لیکن مہدی اس کے پیچھے پیچھے دوڑنے لگا۔ اس نے اتنا دروازہ کوٹا اور اتنا رویا کہ صمد دوبارہ واپس ا ٓگیا۔ مہدی کو بوسہ دے کر ایک کمرے میں لے گیا اور اس کے کھلونے اس کے سامنے رکھ دیے۔ وہ جیسے ہی اپنے کھلونوں میں مصروف ہوا تو وہ اٹھ کر جانےلگا۔ اب سمیہ نے ضد پکڑ لی اور اس کے پیچھے جانے لگی۔ میری سسر گلی میں تھے۔ صمد نے کہا: ’’جاؤ، بابا سے کہو، اندر آ جائیں۔‘‘

میرے سسر اندر آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ کافی اکتا گئے تھے اور بڑبڑاتے ہوئے صمد کو آواز دے رہے تھے۔

صمد تپائی لے آیا اور کہا: ’’میں بس بھولنے ہی والا تھا۔ قدم! کچھ کمبل لے آؤ تا کہ یہاں کھڑکیوں پر لگا دوں۔ رات کافی سردی تھی۔ خاموشی کے لیے اور ریڈ الرٹ کے وقت بھی یہ فائدہ دیں گے۔‘‘

سمیہ، زہرا اور مہدی کھیلنے میں مصروف ہو گئے تھے۔  لگتا تھا اب وہ مطمئن ہو گئے تھے کہ ان کے بابا کہیں نہیں جائیں گے۔ صمد بچوں سے بچتے ہوئے آہستہ سے تپائی رکھنے کے بہانے سیڑھیوں کی طرف گیا اور وہیں سے خداحافظ کہہ کر باہرنکل گیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک آواز آئی۔ میں نے سوچا کہ یہ صمد کو آج کیا ہو گیا ہے۔

دروازہ کھولا تو دیکھاکہ سامنے وہ کھڑا ہے۔ میں نے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘

کہنے لگا: ’’میرا چابیوں کا چھلا رہ گیا ہے۔‘‘

میں نے  اسے لا دیا۔ سیڑھیوں پر ہم ایک لحظے کے لیے بالکل تنہا رہ گئے۔ وہ اپنا چہرہ آگے لایا اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر کہنے لگا: ’’قدم! مجھے معاف کرنا۔ ان چند سالوں میں مَیں نے زحمت کے علاوہ تمہیں کچھ نہیں دیا۔‘‘

میرے کچھ کہنے تک وہ جا چکا تھا۔ میں سیڑھیوں پر بیٹھی سوچتی رہ گئی۔

میرا دل بھر آیا تھا۔ تیل لینے کے بہانے صحن میں گئی اور  تیل کے کُپے کو صحن کے کونے سے اٹھایا۔ وہ کافی بھاری تھی۔  میں ہانپتی کانپتی مشکل سے اسے بالکونی کی طرف لے کر جانے لگی۔ موسم سرد تھا۔ برف صحن میں جمی ہوئی تھی۔ میرے پاؤں میں ہوائی چپل تھی۔ میں لرز رہی تھی۔ بچے کھڑکی پر کھڑے کمبل کو ایک طرف کیے مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ اس ہٹے ہوئے کمبل سے میری نظر طاقچے میں لگی صمد کی تصویر پر جا پڑی۔ اس کے پاس وہی قرآن پڑا تھا جس میں اس نے اپنی وصیت لکھ کر رکھ چھوڑی تھی۔

اس نے کہا تھا: ’’جب بھی بچے میرے لیے ضد کرنے لگیں تو انہیں یہ تصویر دکھا دیا کرنا۔‘‘

نہیں معلوم جب بھی میں اس تصویر کو دیکھتی تو میری حالت بدل سی کیوں جاتی۔ دل بے قابو ہونے لگتا، سانسیں بے ترتیب ہونے لگتیں اور دنیا جہان کے غم میرے دل میں بسیرا کرنے لگتے۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ تصویر دیکھتے ہی ہزاروں برے برے خیالات میرے ذہن پر حملہ آور ہو جاتے۔ میں نے کُپے کو دوبارہ اٹھایا تا کہ کمرے میں لے جاؤں کہ اچانک میرا پاؤں پھسلا اور میں زمین پر گر گئی۔

میں درد سے دوہری ہوئی جا رہی تھی۔ میرا پاؤں کپے کے نیچے آ گیا تھا۔ جیسے تیسے پاؤں کو کپے کے نیچے سے نکالا۔ درد سوئی کی طرح ہڈیوں کے گودے میں اتر رہا تھا۔بچے شیشے کھٹکھٹا رہے تھے۔ میں کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہیں صحن میں برف پر بیٹھ گئی اور درد سے بے اختیار ہو کر آنسو بہانے لگی۔

میرے پاؤں کے انگوٹھےکا ناخن سیاہ ہو چکا تھا۔ دل کمزور پڑ رہا تھا۔ بچوں نے جب مجھے اس حال میں دیکھا تو ڈر کر رونے لگے۔ اسی وقت میری نظر تصویر پر پڑ گئی۔ میں بچوں کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔ دانت زور سے ہونٹوں میں گاڑ لیے تا کہ آنسؤوں پر ضبط کر سکوں لیکن دل میں فریاد کر رہی تھی: ’’صمد! صمد جان! پس تم کب اپنی بیوی اور بچوں کی خبر لینے آؤ گے؟ کب تم ہمارے اور صرف ہمارے ہو کر رہو گے؟‘‘

پیشانی  ابھی تک اس کے بوسے کی گرمائی محسوس کر رہی تھی۔ ہزار جتن کر کے میں اٹھی اور کمرے میں آ گئی۔

بچے رو رہے تھے اور کسی طور چپ ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔ اوپر سے مجھے ان کا دکھ بھی بہت ہو رہا تھا۔ میں مشکل سے اٹھی ا ور تصویر کو طاقچے سے اٹھا کر نیچے لے آئی۔ میں نے کہا: ’’آؤ، بچو! بابا! دیکھو تو تمہارے بابا ہنس رہے ہیں۔‘‘

بچے خاموش ہو گئے اور آ کر تصویر کے پاس بیٹھ گئے۔ مہدی صمد کی تصویر کو چوم رہا تھا۔ سمیہ بھی آگے بڑھی اور مہدی کو دیکھ کر اس کی طرح تصویر پر بوسے دینے لگی۔ زہرا تصویر کے چوکھٹے پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی اور اپنی میٹھی زبان سے بابا بابا کہہ رہی تھی۔  میری طرف دیکھتی اور کھلکھلا کر ہنس دیتی۔  تصویر کے چوکھٹے پر جہاں بچے اپنے ہاتھ اور منہ مار رہے تھے، داغ پڑ گیا تھا۔

میں اپنےہاتھوں میں انگوٹھا پکڑے بیٹھی تھی اور زور سے اسے دبا رہی تھی۔ میں نے سمیہ سے کہا: ’’ماں کو ایک گلاس پانی کا تو لا دو۔‘‘

میں پانی پی کر وہیں بچوں کے پاس لیٹ گئی۔ لیکن مجھے اٹھنا تھا کیونکہ بچے کھانا مانگ رہے تھے۔ زہرا کے میلے کپڑے دھونا تھے۔ ناشتے والا دسترخوان ابھی تک پڑا تھا، اسے سمیٹنا تھا۔

ظہر کا وقت ہونے والا تھا۔ سکول جا کر خدیجہ اور معصومہ کو بھی لانا تھا۔ میں نے کچھ نارنگیاں ایک برتن میں ڈال دیں۔ بچے جیسے ہی انہیں چھیلنا شروع ہوئے  تو ان سے آنکھ بچاتے ہوئے اٹھی، چادر اوڑھی اور لنگڑاتی لنگڑاتی خدیجہ اور معصومہ کو لینے چلی گئی۔