آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

سترہواں باب

۱۹۸۶؁ کا سال کافی مشکل سال تھا۔ چوبیس سال کی عمر تک میں پانچ چھوٹے بڑے بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ میں اکیلی سب کام نہیں کر سکتی تھی۔ جنگ کافی شدت اختیار کر چکی تھی۔ صمد آئے دن آپریشنز اور مختلف مہموں پر مصروف رہتا۔ خدیجہ دوسری جبکہ معصومہ پہلی کلاس میں جانے لگی تھیں۔ بچوں کے سکول اور کلاسوں کی وجہ سے میں بہت کم ہی قایش جا سکتی تھی۔ بابا، شینا کی بیماری کی وجہ سے ہمارے پاس نہیں آ سکتے تھے۔ میری بہنیں اپنی زندگی، گھر اور بچوں کے مسائل میں کافی مصروف تھیں۔میرے بھائی بھی صمد کے بھائیوں کی طرح جنگ میں شریک ہو چکے تھے۔ اکثر اوقات جب صبح میں بیدار ہوتی  تو رات دس گیارہ  بجے تک سر کھجانے تک کی فرصت نہ ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ تھکی تھکی، کمزور اور گری گری رہنے لگی۔

اسی سال کے دسمبر میں آپریشن کربلا ۴ کا آغاز ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے بھائیوں سے سنا تھا کہ صمد اس آپریشن میں شریک ہے اور کمانڈ کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کسی بھی آپریشن اور مہم میں میرا دل اتنا بے تاب اور بےچین نہ ہوا تھا۔ صبح جاگتی جاتی تو بے مقصد اِس کمرے سے اُس کمرے تک گھومتی رہتی۔ کبھی گھنٹوں تسبیح پکڑے جائے نماز پر دعا میں مشغول رہتی۔ صبح سے رات گئے تک ریڈیو بھی کمرے کے طاقچے پر بولتا رہتا اور آپریشن کی خبریں دیتا رہتا۔

کچھ دن سے میری ساس بھی ہمارے پاس آئی ہوئی تھیں۔ میری طرح وہ بے چاری بھی بے تاب اور پریشان تھیں۔ صبح سے رات گئے تک یاصمد یا ستار ان کا ورد زبان رہتا۔

ایک روز دونوں اسی پریشانی اور  اضطراب کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھیں تو سنا کہ کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ بچوں نے دوڑ کر دروازہ کھول دیا۔ شمس اللہ تھا اور محاذ سے آیا تھا لیکن انتہائی پریشان اور غمگین حالت میں۔ میں نے سوچا حتماً صمد کو کچھ ہو گیا ہو گا۔ میری ساس روتے ہوئے کہہ رہی تھیں: ’’اگر کچھ ہوا ہے تو ہمیں بتا دو۔‘‘ شمس اللہ نے ماں سے نظریں بچاتے ہوئے مجھے اشارہ کیا کہ میں باورچی خانے میں جاؤں۔ میں چائے بنانے کے بہانے باورچی خانے میں چلی گئی تو وہ بھی میرے پیچھے آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ مجھے بتانے لگاتا کہ اس کی ماں کو سمجھ نہ آئے: ’’قدم خانم! غور سے سنیں جو میں کہہ رہا ہوں۔نہ واویلا کریں، نہ چیخ و پکار۔ دھیان رہے کہ ماں کو معلوم نہ ہو۔‘‘

میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ سارا بدن لرز رہا تھا۔ میں نے فریج کا سہارا لے لیا اور روتے ہوئے زیر لب کہا:  ’’یا حضرت عباسؑ! صمد کو تو کچھ نہیں ہو گیا؟!‘‘

شمس اللہ کا دل بھر آیا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ آہستہ سے اور ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہنے لگا: ’’ستار شہید ہو گیا ہے۔‘‘

باورچی خانہ میرے سر کے گرد گھومنے لگا۔ میں نے اپنا ہاتھ سر پر رکھ لیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہوں۔ میں اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔ فقط اتنا ہی پوچھ سکی: ’’کب؟!‘‘

شمس اللہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’’آپ کو خدا کا واسطہ، ماں کو معلوم نہ ہونے پائے۔‘‘

اس کے بعد کہا: ’’کچھ دن ہوئے ہیں۔ جیسا بھی ہو، ہمیں ماں کو قایش لے جانا پڑے گا۔‘‘

اس کے بعد وہ باورچی خانے سے باہر چلا گیا۔ مجھے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ چائے بنانے کے بہانے جب تک ہو سکتا تھا باورچی خانے ہی میں ٹھہری اور روتی رہی۔ لاکھ جتن کے باوجود اپنے آنسو نہ روک سکتی تھی۔ شمس اللہ نے ہال سے مجھے آواز دی۔ برتن دھونے والی ٹونٹی کے نیچے میں نے اپنا منہ دھویا اور چادر سے اسے خشک کیا۔ پیالیوں میں چائے ڈال کر ہال میں آ گئی۔ شمس اللہ میری ساس کے پاس بیٹھا ٹی وی پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا: ’’میں قایش جانا چاہتا ہوں۔ اپنے کچھ دوستوں سے ملنا تھا۔ آپ لوگ ساتھ چلیں گے؟!‘‘

میں جانتی تھی یہ ایک بہانہ ہے لہٰذا میں نے بھی فوراً کہا: ’’کتنی اچھی بات ہے۔ میں بھی کافی دنوں سے بابا کے پاس جانا چاہ رہی تھی۔ دل شینا کے لیے کافی بے تاب ہو رہا ہے، خصوصاً جب سے انہیں دل کا دورہ پڑا ہے اس وقت سے وہ کافی کمزور ہو گئی ہیں۔ کہتے ہیں وہ مجھے بہت زیادہ یاد کرتی ہیں۔ میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی اور ایک دو دن رہ کر واپس ا ٓ جاؤں گی۔‘‘

اس کے بعد میں جلدی جلدی بچوں کے کپڑے جمع کرنے میں لگ گئی۔  بیگ باندھا اور ایک جوڑا کالے کپڑوں کا بھی رکھ کر کہا: ’’میں تیار ہوں۔‘‘

گاڑی میں اور سارے راستے مجھے صدیقہ کی فکر کھائے جا  رہی تھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ کیسے اس کی آنکھوں میں دیکھ سکوں گی۔ میرا دل اس کے بچوں کے لیے کڑھ رہا تھا۔ دوسری پریشانی یہ تھی کہ اپنی ساس کو بھی کچھ نہیں بتا پا رہی تھی۔ یہ تمام رنج و غم جو اپنے اوپر اٹھا رکھا تھا، اس کا بوجھ بھی اپنے اوپر سے اتارنا چاہ رہی تھی۔

جب ہم قایش پہنچے تو دیکھا کہ حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ہمارے سوا سب کو خبر ہو چکی ہے۔  در و دیوار پر کالے کپڑے لگا دیے گئے تھے۔ میری ساس بے چاری یہ سارا ماحول دیکھ کر شدید گھبرا گئیں اور پوچھنے لگیں: ’’کیا ہوا۔ کیا میرے بچوں کو کچھ ہو گیا ہے؟!‘‘

اپنی ساس کے گھر پہنچے تو میرا دل اچھل کر باہر آ گیا۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا اور سیاہ پوش مرد آ جا رہے تھے۔ بے چاری ساس کو اب یقین ہو چکا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو گیا ہے۔ میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’کچھ نہیں ہوا۔ شاید ہمارا کوئی رشتہ دار فوت ہو گیا ہو۔‘‘

ہم جیسے ہی صحن میں پہنچے تو ایسا لگا کہ صدیقہ ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی دوڑ کر ہماری طرف آئی اور اپنے آپ کو میری آغوش میں گرا دیا۔ وہ بین کرتے ہوئے کہہ رہی تھی: ’’قدم جان! اب میں سمیہ اور لیلیٰ کو کیسے پالوں گی؟‘‘

سمیہ دو سال کی تھی، میری سمیہ کی ہم عمر۔ وہ ہمارے پاس ہی کھڑی مبہوت ہو کر اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔ لیلیٰ ابھی ابھی چھ ماہ کی ہوئی تھی۔ میری ساس جو اب سارا ماجرا سمجھ چکی تھیں۔ وہ وہی دروازے کے سامنے گر گئیں۔ تھوڑی دیر بعد جیسے سارے گاؤں کو خبر ہو چکی تھی، ہمارے صحن میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ عورتیں آ کر میری ساس کو تعزیت پیش کرتیں، ان کے گلے لگ کر روتیں اور انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتیں۔

 

اگلے دن لگ بھگ ظہر کا وقت تھا کہ بچوں نے صحن میں شور مچایا: ’’آغا صمد آ گئے، آغا صمد آ گئے۔‘‘

گھر مہمانوں سے بھرا  ہوا تھا۔ ہم جلدی سے صحن میں گئے۔ صمد آ گیا تھا۔ کیا حالت بنی ہوئی تھی اس کی! کمزور اور ضعیف اور بکھرے ہوئے بال، چہرہ سیاہ اور غم سے بھرا ہو۔ مجھے اچھا نہ لگا کہ صدیقہ کے سامنے صمد کو سلام کروں اور اس کی احوال پرسی کروں یا آگے بڑھ کر اسے کچھ کہوں۔ میں دوسروں کے پیچھے چھپ گئی اور اپنی چادر چہرے پر ڈال کر رونے لگی۔

صدیقہ صمد کی طرف دوڑتی ہوئی گئی۔ وہ رو رہی تھی اور سماجت کر رہی تھی: ’’ صمد! ستار کہاں ہے؟! تمہارا بھائی کہاں گیا؟!‘‘

صمد کیاری کے پاس بیٹھ گیا اور اپنا ہاتھ منہ پر پھیرنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی ہمت جواب دے چکی ہے۔ وہ زاروزار رو رہا تھا۔ میرا دل اس کے لیے کڑھنے لگا۔

صدیقہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور صمد سے کہہ رہی تھی: ’’صمد! کیا تم ستار کے کمانڈر نہیں تھے۔ اب میں بچوں کو کیا جواب دوں؟! کہتے ہیں کہ چچا نے ہمارے بابا کی حفاظت کیوں نہ کی۔‘‘

صحن میں کھڑے لوگ صدیقہ کی باتوں سے رونےلگے۔ صدیقہ نے اپنے بچوں کو بلا کر کہا: ’’سمیہ! لیلیٰ! ادھر آؤ، چچا صمد آئے ہیں۔ تمہارے بابا کو لے آئے ہیں۔‘‘

مجھے صمد کا بہت دکھ ہو رہا تھا۔ میں جانتی تھی کہ صمد اس غم کو سہنے اور ان باتوں کو سننے کی تاب نہیں رکھتا۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں کمرے میں جا کر اونچی آواز میں رونے لگی۔ میں صمد کے لیے بے چین تھی۔ میرا دل اس کے لیے جل رہا تھا۔ صدیقہ کے بچوں کا غم کھائے جا رہا تھا۔ صدیقہ کا افسوس ہو رہا تھا۔ صمد بہت تنہا رہ گیا تھا۔ لوگوں کے رونے کی آواز صحن سے آ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ صمد ابھی تک کیاری کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ جا کر اس کے پاس بیٹھ جاؤں اور اسے تسلی دوں۔  میں جانتی تھی کہ اس وقت صمد پہلے کی نسبت زیادہ تنہا ہے۔ کسی کو صمد کی فکر کیوں نہیں ہو رہی تھی۔ میں ایک جگہ کھڑی نہیں رہ سکتی تھی۔ دوبارہ صحن میں چلی گئی۔ میری ساس صمد کے سامنے بیٹھ گئی تھیں اور اپنا سر اس کی ٹانگوں پر رکھ دیا تھا۔ وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھیں: ’’صمد جان! کیا میں نے تمہارے بھائی کو تمہارے حوالے نہیں کیا تھا؟!‘‘

صمد اسی طرح سر نیچے کیے روئے جا رہا تھا۔  مرد آگے بڑھے، انہوں نے صمد کو بازو سے سہارا دے کر اٹھایا اور مردوں والے کمرے میں لے گئے۔  میں آگے بڑھ کر اپنی نند، ساس اور صدیقہ کو کمرے میں لے جانے کے لیے مدد کرنے لگی۔

وہاں ہونے والی باتوں سے مجھے معلوم ہوا کہ ستار کی لاش دشمن کے علاقے میں رہ گئی ہے۔ صمد وہاں سے لاش لا سکتا تھا مگر نہ لایا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ میری ساس کافی پریشان تھیں اور مسلسل روتے ہوئے کہہ رہی تھیں: ’’صمد! تم میرے بچے کو لے کر کیوں نہ آئے؟!‘‘

رات کے آخری پہر جب گھر میں تھوڑی خلوت ہو گئی تو صمد ہمارے پاس زنانہ کمرے میں آ گیا اور اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر  ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومنے لگا: ’’ماں! مجھے معاف کرنا۔میں ستار کا جسد لا سکتا تھا مگر نہیں لے کر آیا کیونکہ ستار کے علاوہ میرے دوسرے بھائیوں کے جسد بھی دشمن کی سرزمین پر پڑے رہ گئے تھے۔ وہ بھی اپنی ماؤں کے بیٹے تھے۔ ان کے بھی بہن بھائی تھے۔ اگر میں ستار کو لے آتا تو کل روزِ قیامت میں ان شہداء کی ماؤں کو کیا جواب دیتا۔ اگر ستار کو لے آتا تو کل قیامت کے دن ان شہداء کی بہنوں اور بھائیوں کو کیا منہ دکھاتا۔‘‘ وہ کہے جا رہا تھا اور روئے جا رہا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ اس کے لباس کی پشت پر خون لگا ہوا ہے۔ میں نے اپنی نند سے اشارے میں کہا: ’’لگتا ہے صمد زخمی ہے۔‘‘

صمد زخمی ہو گیا تھا، لیکن اس نے کسی کو معلوم نہ ہونے دیا تھا۔ اس نے جا کر کپڑے بدلے۔ اس کی بہن کہہ رہی تھی: ’’اس کے کندھے پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور لگتا ہے زخم کافی گہرا ہے اور خون بھی بہہ رہا ہے۔‘‘اس حالت میں بھی وہ بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ اس سے جتنا ہو سکتا تھا وہ چاہتا تھا کہ ستار کے سوگ کی رسمیں پوری عزت و آبرو سے انجام پا جائیں۔

تیسرا روز تھا۔ ان دنوں میں مَیں ایک بار بھی صمد سے بات نہ کر پائی تھی۔ ایک دوسرے کے سامنے آتے جاتے رہتے تھے مگر صدیقہ کے سامنے اس سے بات کرتے ہوئے مجھے شرم آتی تھی۔ کوشش کرتی رہتی تھی کہ صدیقہ کے سامنے صمد کے آگے پیچھے نہ ہوں تا کہ صدیقہ اور اس کے بچوں کی دل شکنی نہ ہو۔ میں نے اپنے بچوں کو بھی اپنی بہنوں کے حوالے کر دیا تھا اور وہ انہیں اپنے گھروں میں لے گئی تھیں۔ میں ڈرتی تھی کہ ایک بار بھی صمد نے بچوں کو گلے لگایا اور ان سے پیار کیا تو صدیقہ کے بچے  دیکھ کر غمگین ہو جائیں گے۔

تیسرے روز سہ پہر کا وقت تھا۔ میری نند کی بیٹی نے آ کر کہا: ’’ماموں صمد کو آپ سے کچھ کام ہے۔‘‘

ایسا لگ رہا تھا جیسےمیں اسے پہلی بار دیکھنے جا رہی ہوں۔ میری سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ ابھی دل اچھل کر سینے سے باہر آ جائےگا۔ وہ صحن میں کھڑا تھا۔ اس نے سلام کیا تو میں نے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ اس نے میرا حال پوچھا: ’’کیسی ہو؟! بچے کہاں ہیں؟!‘‘

میں نے کہا: ’’ٹھیک ہوں۔ بچے میری بہن کے گھر میں ہیں۔ تم کیسے ہو؟!‘‘

اس نے سر کو اوپر کی طرف اٹھا کر کہا: ’’خدا کا شکر ہے۔‘‘

میں نے اور کچھ نہ کہا۔ نہیں معلوم مجھے کیوں شرم آ رہی تھی اور ایک طرح کا گناہ کا احساس ہو رہا تھا۔ میں اپنے آپ سے کہہ رہی تھی: ’’ستار شہید ہو چکا ہے اور صدیقہ سوگوار ہے، ایسی حالت میں کیسے مرا دل چاہے گا کہ میں اپنے شوہر کے پاس کھڑی رہوں اور ان سب لوگوں کے سامنے اس سے باتیں کروں۔‘‘ صمد نے بھی کچھ نہ کہا۔ وہ مردانہ کمرے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ پلٹ کر کہنے لگا: ’’رات کے کھانے کے بعد اکٹھے چلیں گے بچوں سےملنے۔ میرا دل ان کے لیے بہت بے چین ہو رہا ہے۔‘‘

رات کے کھانے کے بعد اس نے مجھے اس انداز میں آواز دی کہ صدیقہ متوجہ نہ ہونے پائے۔ میں تیار ہو کر صحن میں آ گئی اور سب کی نظروں سے بچ کر باہر کی طرف دوڑ گئی۔

وہ گلی میں میرے پیچھے آیا اور کہا: ’’دوڑ کیوں رہی ہو؟!‘‘

میں نے کہا: ’’میں نہیں چاہتی کہ صدیقہ مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لے۔ بے چاری غمگین ہو جائے گی۔‘‘

اس نے آہ بھری اور زیرِ لب کہا: ’’ہائے  ستار، ستار۔ خدا کی قسم، تو نے ہماری کمر توڑ دی۔‘‘

میرا دل بھر آیا تھا پھر بھی میں نے کہا: ’’مگر تم خود ہی تو کہتے تھے کہ شہادت لیاقت مانگتی ہے۔ ستار کو تو اپنے نیک اعمال کا صلہ مل گیا۔ بہت خوش قسمت نکلا وہ۔‘‘صمد نے سر ہلاتے ہوئے کہا: ’’تم سچ کہتی ہو۔ میں ظاہراً رو رہا ہوں مگر میرا دل مطمئن ہے۔ میں  سوچتا ہوں کہ ستار ایک اچھی اور آرام دہ جگہ پر ہے۔ مجھے اپنا غم منانا چاہیے۔‘‘

میں اندر سے سلگ رہی تھی۔ صدیقہ کے بچوں کے لیے دل تڑپ رہا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ صمد کے غم کو تھوڑا کم کروں۔ میں نے کہا: ’’وہ بہت خوش قسمت ہے۔ کاش وہ ہماری شفاعت بھی کرے۔‘‘

جیسے ہی ہم میری بہن کے گھر پہنچے تو بچے صمد کو دیکھتے ہی اس کے اردگرد ہو گئے۔ مہدی اس کی گود میں گھس گیا اور نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ سمیہ بھی صمد سے لپٹ رہی تھی۔ خدیجہ اور معصومہ بھی صمد کے سر اور ہاتھوں کو چوم رہی تھیں۔ میں بچوں اور صمد کو دیکھ رہی تھی اور آنسو بہا رہی تھی۔ صمد نے مجھے دیکھا تو جیسے اس نے میری سوچ پڑھ لی ہو۔ کہنے لگا: ’’کاش ستار کی بیٹی سمیہ کو بھی لے آتے۔ بے چاری بہت اداس ہو رہی تھی۔‘‘

میں نے کہا: ’’ہاں، ماشاء اللہ، ہر چیز کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ میرا دل لیلیٰ کی نسبت اس کے لیے زیادہ پریشان ہو رہا ہے۔ لیلیٰ ابھی بچی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ ابھی اپنے بابا کو اچھی پہچانتی بھی ہو گی۔‘‘

صمد نے بچوں کو چھوڑا اور کھڑا ہو کر کہنے لگا: ’’سمیہ کو تھوڑے دنوں کے لیے ہمدان لے جاؤ۔ شاید اس طرح اس کا غم کچھ ہلکا ہو جائے۔‘‘

اگلے روز ہم ہمدان چلے گئے۔ صمد کہہ رہا تھا کہ کچھ دن تک اسے چھاؤنی میں کام ہے۔ میں نے بھی اپنی تنہائی سے بچنے کے لیے بچوں کو تیار کیا۔ ستار کی بیٹی سمیہ کو بھی ہم اپنے ساتھ لے گئے۔

راستے میں بچوں نے شور کر کر کے گاڑی سر پر اٹھا رکھی تھی۔ وہ کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ ستار کی بیٹی سمیہ بھی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو چکی تھی۔

میں نے کہا: ’’ہم نے کتنا اچھا کیا کہ اس بچی کو اپنے ساتھ لے آئے۔‘‘

اس نے ہمدردی سے سمیہ کی طرف دیکھا اور کچھ نہ کہا۔

میں نے پوچھا: ’’تم نے دیکھا تھا کہ وہ کیسے شہید ہوا؟!‘‘

اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اسٹیئرنگ کو پکڑے اور راستے کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے کہا: ’’میرے سامنے ہی شہید ہوا ہے۔ بالکل میری آنکھوں کے سامنے۔ میں اسے پیچھے لا سکتا تھا۔‘‘

میں اس کے بے قراری دور کرنا چاہتی تھی۔ اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: ’’تمہارا زخم اب بہتر ہو گیا ہے۔‘‘

اس نے بے پرواہی سے کہا: ’’یہ تو پہلے بھی کچھ خاص نہیں تھا۔‘‘

میں نے زور سے اس کی پٹی پر دبایا۔

درد سے اس کی چیخ نکل گئی۔ میں نے ہنس کر کہا: ’’واقعاً یہ تو کچھ خاص ہے ہی نہیں۔‘‘

اس کی بھی ہنسی نکل گئی۔ کہنے لگا: ’’یہ بھی ایک یادگار ہے۔ ہائے کربلا چار!([1])‘‘

میں نے کہا: ’’تمہاری بہن بتا رہی تھی کہ تم ایک ہفتہ تک جلی ہوئی کشتی میں پڑے رہے۔‘‘

اس نے تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’ایک ہفتہ! نہیں یار، بہت کم: دو دن رات۔‘‘

میں نے کہا: ’’مجھے سناؤ۔‘‘

اس نے آہ بھر کر کہا: ’’کیا سناؤں؟!‘‘

میں نے کہا: ’’یہی کہ کیسے ہوا۔ تم کیسے اس کشتی میں گر گئے تھے؟!‘‘

اس نے بتانا شروع کیا: ’’ستار شہید ہو گیا تھا۔ مہم ہمارے ہاتھ سے نکل چکی تھی اور ہم شکست کھا رہے تھے۔ ہمیں پیچھے ہٹنا تھا۔ کافی جوان عراقی سرزمین پر رہ گئے تھے: وہ یا تو شہید ہو چکے تھے یازخمی۔ دشمن کی آگ اتنی زیادہ تھی کہ ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ جو سالم رہ گئے تھے میں نے انہیں کہا کہ ہمیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ تم نہیں جانتیں وہ لمحات کتنے سخت تھے۔ عراقی زمین پر رہ جانے والے جوانوں کو الوداع کرنا، ستار کو خدا حافظ کہنا۔‘‘

اچانک اس نے اپنا سر اسٹیئرنگ پر ٹکا دیا۔ میں نے چیخ کر کہا: ’’کیا کر رہے ہو؟! دھیان رکھو!‘‘

اس نے جلدی سے اپنا سر اسٹیئرنگ سے اٹھایا اور کہا: ’’وہ عجیب رات تھی۔ دریائے دجلہ میں مکمل طور پر جزر تھا۔ مجھے اور حمید حسین زادہ دونوں کو واپس آنا تھا۔ ہم گھٹنوں تک مٹی میں دھنسے ہوئے تھے کہ اچانک ایک جلی ہوئی کشتی پر میری نظر پڑی جو مٹی پر پڑی ہوئی۔ ادھر عراقیوں نے مکمل طور پر ہمیں گھیر رکھا تھا اور جتنا ان سے ہو سکتا تھا ہماری طرف گولے پھینک رہے تھے۔ توپ کے گولوں نے کشتی کو سوراخ سوراخ کر دیا تھا۔ ہم نے اپنے آپ کو ان سوراخوں میں سے گھسیٹ کر کشتی کے اندر کر لیا۔ صبح کا وقت نزدیک تھا۔ رات ہم نے بڑی مشکل سے کاٹی تھی۔ صبح تک ایک لمحے کے لیے آنکھ نہیں لگائی تھی۔ اب ہمیں ایک جگہ مل گئی تھی جہاں دشمن کی نظروں سے بچ کر کچھ دیر تک سو سکتے تھے۔ ہماری طاقت جواب دے چکی تھی۔ ہم مکمل طور پر بے حال ہو چکے تھے۔‘‘

میں نے کہا: ’’پس میری اور تمہاری ماں کی بےقراری بے جا نہ تھی۔ بالکل اسی وقت جب ہمار ا دل بہت بے چین تھا، ستار بھی شہید ہو گیا اور تم بھی زخمی۔‘‘

لگتا تھا وہ اس دنیا میں ہے ہی نہیں۔ وہ میری باتیں نہیں سن رہا تھا حتی کہ بچوں کا شور اور ان کی شرارتیں بھی اس کے توجہ ہٹانے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ وہ اسی طرح مسلسل اپنے واقعات یاد کر کر کے  سنائے جا رہا تھا۔

’’۲۵ دسمبر سے ہم کشتی پر تھے؛ بغیر کچھ کھائے پیے۔ ہم رات کا انتظار کر رہے تھے تاکہ کسی طرح جوانوں کو اطلاع دے سکیں۔ رات ہوئی تو میں نے اپنی بنیان اتاری اور جوانوں کی طرف کر کے اسے ہلانے لگا۔ اتفاق سے میرا یہ طریقہ کامیاب رہا۔ جوانوں نے خود مجھے دیکھ لیا۔ ہمارے جوانوں کے ایک ٹولی ہمیں بچانے کے لیے آ گئی لیکن دشمن کی طرف سے برسائی جانے والی آگ اور پھر پانی کی حالت نے انہیں ہماری کشتی سے نزدیک نہ ہونے دیا۔‘‘

میری طرف منہ کر کے کہنے لگا: ’’حسین آغا بادامی کو تو جانتی ہو نا؟!‘‘

میں نے کہا: ’’ہاں، انہیں کیا ہوا؟!‘‘

اس نے کہا: ’’اس بے چارے نے دریا پر لاؤڈ سپیکر رکھا ہوا تھا اور دعائے صباح پڑھ رہا تھا۔ دعا کی آواز ہم تک پہنچ رہی تھی۔ جب وہ ’’یَا سَتَّارَ الْعُیُوْبِ‘‘ پر پہنچتا تو ستار کو تین چار دفعہ تکرار کرتا تاکہ ہمیں بتا سکے کہ ستار! ہمیں تمہارا مکمل خیال ہے۔ ایک بار اس نے ترکی زبان([2]) میں بہت واضح کہا کہ ہمارے منتظر رہو،  رات کو ہم تمہیں بچانے کے لیے پانی میں اتریں گے۔‘‘

پھر ہنس کر کہنے لگا: ’’عراقی لاؤڈ سپیکر کی آواز سے طیش میں آ گئے۔ تمہاری جان کی قسم،قدم! انہوں نے سینکڑوں میزائل داغے تب کہیں جا کر لاؤڈ سپیکر کو تباہ کر پائے۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’بالآخر تم کیسے بچ پائے؟!‘‘

اس نے کہا: ’’۲۷ دسمبر کی رات تھی۔ بریگیڈ المہدی ۳۳ شیراز کے جوان پانی میں اترے۔ وہ کافی تیزطرار اور  ماہر تھے۔ ہماری کشتی کے پاس آئے اور بہت ہوشیاری سے ہمیں بچا کر  لے گئے۔‘‘

دوبارہ ہنس کر کہنے لگا: ’’جب ہمارے جوان ہمیں پانی سے نکال کر اپنی طرف لے آئے تو عراقیوں نے ہم پر گولہ باری شروع کر دی۔ ہم خشکی پر آ چکے تھے اور وہ لوگ کشتی کا نشانہ لے رہے تھے۔‘‘

تھوڑی دیر گزری تو اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر  وہ چھوٹا قرآن نکال لیا جو جاتے وقت میں نے اس کی قمیص کی جیب میں رکھ چھوڑا تھا۔ قرآن کو چوم کر کہنے لگا: ’’اسے یادگار کے طور پر رکھ لو۔‘‘

قرآن میں سوراخ ہو چکے تھے اور اس پر خون لگا ہوا تھا۔ میں نے تعجب سے پوچھا: ’’یہ ایسے کیوں ہو گیا؟!‘‘

اس نے مشکل سے گیئر تبدیل کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کا ہاتھ اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔ کہنے لگا: ’’اگر یہ قرآن نہ ہوتا تو میں بھی اس وقت ستار کے پاس ہوتا۔ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ تھا وہ اس قرآن کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ گولی میرے دل کے پاس سے گزر کر میرے کندھے سے نکل گئی۔ تم یقین کرو گی؟!‘‘

میں نے قرآن کو بوسہ دیتے ہوئے کہا: ’’خدایا، تیرا شکر۔ لاکھ بار تیرا شکر۔‘‘

وہ کنکھیوں سے مجھے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگا۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا اور کچھ بھی نہ کہا، لیکن میں مسلسل قرآن کو بوسے دیے اور خدا کا شکر ادا کیے جا رہی تھی۔

ہمدان پہنچتے ہی وہ ہمیں دروازے پر اتار کر خود چلا گیا اور پھر رات تک واپس نہ آیا۔ بچوں نے رات کا کھانا کھا لیا تھا اور سونا ہی چاہتے تھے کہ وہ آگیا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ بسکٹوں اور پاپڑوں کے پیکٹ تھے۔ وہ آ کر بچوں کے درمیان بیٹھ گیا اور انہیں اپنے گرد جمع کر لیا۔ وہ ان کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ایک ایک کر کے پاپڑ ان کے منہ میں ڈال رہا تھا۔میں اس کی اس روش  پر حیران ہو رہی تھی۔ گویا یہ وہ صمد نہ تھا جو صبح کے وقت میرے ساتھ تھا یا جسے کل میں دیکھ رہی تھی۔ اس کا رویہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ ستار کی بیٹی سمیہ کو گدگدیاں کر  رہا تھا، اسے چوم رہا تھا، ہنس رہا تھا اور اس کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

اگلے دن ہم قایش چلے گئے۔ سہ پہر کے وقت کہنے لگا: ’’قدم! میں آج محاذ پر جانا چاہتا ہوں۔ تم آؤ گی تا کہ اکٹھے ہمدان واپس چلے جائیں؟‘‘

میں نے کہا: ’’تم نے تو محاذ پر جانا ہے۔ مجھے کیوں ساتھ لے جانا چاہتے ہو؟! میں کچھ دن صدیقہ کے پاس ٹھہروں گی پھر واپس چلی جاؤں گی۔‘‘

کہنے لگا: ’’نہیں، اگر تم بھی ساتھ آؤ گی تو میری ماں شک نہیں کریں گی، لیکن اگر اکیلا گیا تو وہ سمجھ جائیں گی کہ میں محاذ پر جا رہا ہوں۔ ان کا دل ٹوٹ جائے گا اور  یہ گناہ ہے۔‘‘

ہم اسی دن سہ پہر کو واپس ہمدان آ گئے۔ اس بار بھی ہم ستار کی بیٹی سمیہ کو ساتھ لے آئے تھے۔ اگلے روز وہ علی الصبح ہی بیدار ہو گیا اور نماز پڑھ کر کہنے لگا: ’’قدم! میں جا رہا ہوں۔ بچوں کا خیال رکھنا، خصوصاً ستار کی بیٹی سمیہ کا۔ اسے پریشان نہ ہونے دینا۔ جب تک وہ چاہے اس کے پاس ہی رہنا۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’کب واپس آؤ گے؟!‘‘

اس نے کہا: ’’اس بار بہت جلد۔‘‘

 

ہفتے کے آخر میں صمد واپس آ گیا اورمجھ سے کہا: ’’اب میں ایک دوہفتے تک تمہارے اور بچوں کے پاس رہنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘

پہلی رات، کوئی آدھی رات کا وقت ہو گا کہ ایک آواز سےمیری آنکھ کھل گئی۔ میں نے دیکھا کہ صمد اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ میں پریشان ہو گئی۔ ہال میں آ کر دیکھا وہاں بھی نہیں تھا۔ بنکر کا بلب روشن تھا۔ دیکھا تو صمد وہاں جائے نماز پر بیٹھا کچھ لکھ رہا ہے۔

میں نے پوچھا: ’’صمد! تم یہاں ہو؟‘‘

وہ چونک گیا۔ کاغذ تہہ کر کے قرآن میں رکھ دیا۔

میں نے کہا: ’’رات کے اس وقت تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘

اس نے کہا: ’’آؤ بیٹھو، مجھے تم سے کام ہے۔‘‘

میں اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ بنکر کافی ٹھنڈا تھا۔ میں نے  کہا: ’’یہاں کافی ٹھنڈ ہے۔‘‘

اس نےکہا: ’’کوئی بات نہیں۔ تم سے ایک ضروری کام ہے۔‘‘

اس کے بعد قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا: ’’میں نے اپنا وصیت نامہ لکھ دیا ہے۔ قرآن کے اندر پڑا ہے۔‘‘

میں بے قرار ہو گئی۔ ناراض ہوتے ہوئے کہا: ’’آدھی رات کو شور کر کے اس لیے مجھے جگایا ہے کہ ایسی باتیں کرو؟ بڑی ہمت ہے تمہاری۔‘‘

اس نے کہا: ’’غور سے سنو، تنگ نہ کرو، قدم!‘‘

میں نے کہا: ’’کوئی خیر کا کلمہ کہو۔‘‘

ہنس کر کہنے لگا: ’’خدا کی قسم، خیرہی ہے۔ اس سے زیادہ تو کوئی خیر ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘

اس نے قرآن کو اٹھا کر بوسہ دیا اور کہا: ’’یہ دین کا حکم ہے کہ ایک زندہ مسلمان کو اپنی وصیت لکھ کر رکھنی چاہیے۔میں نے اس میں تمہارے لیے پوری تفصیل سے ساری چیزیں لکھ دی ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد تمہارے حقوق میں سے کوئی حق ضائع ہو جائے۔ مال و متاع تو میرے پاس ہے نہیں؛ لیکن یہی جو کچھ مختصر سا ہے، اس میں سے آدھا تمہارا اور آدھا بچوں کے لیے ہے۔ میں نے وصیت کی ہے کہ مجھے یہی دفنایا جائے۔ میرے بعد تم ہمدان ہی میں رہنا۔ یہ بچوں لیے بہتر رہے گا۔ اگر میرے بعد ستار کا جسد مل گیا تو اسے بھی میرے ساتھ دفنا دینا۔‘‘

میں نے روتے ہوئے کہا: ’’خدا وہ دن نہ لائے۔ خدا کرے میں تجھ سےپہلے چلی جاؤں۔‘‘

وہ ہنس کر کہنے لگا: ’’تمہیں مشق بھی کرتے رہنا چاہیے۔ آج کے بعد مجھے ستار کہنا، حاج ستار۔ میری شہادت کے بعد کوئی بھی مجھے صمد کے نام سے نہیں پہچانے گا۔ مشق  کرو! ورنہ تمہیں خود اذیت ہو گی۔‘‘

برتھ سرٹیفکیٹ پر صمد کا نام ستار جبکہ اس کے بھائی ستار کا نام صمد لکھا ہوا تھا لیکن سب اس کے برعکس انہیں پکارتے تھے۔ صمد کہتا تھا: ’’کام کی جگہ پر یا محاذ پر اگر کوئی صمد پکارے تو میں سمجھتا ہوں کہ یا تو اسے غلط فہمی ہو گئی ہے یا اسے میرے بھائی سے  کچھ کام ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے مذاق سے کہنے لگا: ’’یہ ہمارے باپ بھی کیا کرتے ہیں۔‘‘

میں ضد کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی: ’’مجھے تو نیند آ رہی ہے۔ شب بخیر حاج صمد آغا۔‘‘

مجھے سردی لگ رہی تھی۔ میں لحاف میں گھس گئی۔ سردی میرے جسم میں گھس چکی تھی۔ دانت آپس میں بج رہے تھے۔ اوپر سے صمد کی باتوں نے مجھے پریشان کر دیا تھا۔

اگلی صبح صمد ہم سب سے پہلے بیدار ہو گیا۔ وہ تازہ روٹی اور دیسی پنیر لے آیا اور ناشتہ بنا دیا۔ معصومہ اور خدیجہ کو جگا کر انہیں ناشتہ دیا اور مدرسے چھوڑنے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو میں رات کے برتن دھو رہی تھی۔ سمیہ، زہرا  اور مہدی ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔ وہ میری مدد کرنے لگا۔ اس کے بعد بنکر میں چلا گیا اور وہاں سے سیمنٹ کی کچھ بوریاں اٹھا کر سیڑھیوں کے نیچے رکھ دیں۔ پھر چھت پر جا کر ایک جائزہ لیا۔ اس کے بعد حمام چلا گیا اور ایک خوبصورت قمیص جو وہ مکہ سے لے کر آیا تھا، وہ پہن لی۔ وہ اسے بہت پیاری لگ رہی تھی۔

ظہر کے وقت خدیجہ اور معصومہ کو مدرسے سے لے آیا۔ میرے کھانا پکانے تک خدیجہ اور معصومہ سے ان کے سکول اور سبق کے بارے میں پوچھتا رہا۔ پھر اس نے کہا: ’’بچو! کھانا کھا لو۔ پھر تھوڑا آرام کرو۔ سہ پہر کو بابا کے ساتھ بازار جائیں گے۔‘‘

بچے خوش ہو گئے۔ ہم کھانا کھا رہے تھے کہ باہر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بچوں نے دروازہ کھولا تو میرے سسر تھے۔ نہیں معلوم انہیں کہاں سے معلوم ہو گیا تھا کہ صمد گھر آیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا: ’’میں اس لیے آیا ہوں تا کہ محاذ پر جائیں۔ میں ذرا ستار کی کوئی خبر لینا چاہتا ہوں۔‘‘

صمد نے کہا: ’’بابا جان! میں کتنی بار آپ کو بتاؤں کہ فقط آپ کے بیٹے  اور میرے بھائی ہی کا جسد اس طرف نہیں رہا۔ بہت سے جوانوں کے جسد وہاں پڑے ہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ انشاء اللہ کوئی آپریشن کریں گے اور دجلہ کے اس طرف جا کر سارے جوانوں کے جسد لے آئیں گے۔‘‘

اس کے والد اصرار کر رہے تھے: ’’مجھے ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں ہر حال میں جا کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرا بچہ کہاں ہے؟ اگر تم نہیں آتے تو بتا دو، میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔‘‘

صمد نے ایک بار مجھے دیکھا پھر اپنے والد کو۔ وہ کہنے لگا: ’’بابا جان! آپ کے آنے سے ستار اس طرف تو نہیں آ جائے گا نا۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ کے آنے سے کچھ تبدیلی ہو جائے گی تو یا علی، اٹھیں، ابھی چلتے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ کے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آپ کو تھکاوٹ کے علاوہ کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔‘‘

اس کے والد ناراض ہو  کر کہنے لگے: ’’ایسے ہی بہانے نہ بناؤ۔ میں حتماً جانا چاہتا ہوں۔ اگر تم نہیں جاتے تو بتا دو میں شمس اللہ کے ساتھ چلا جاتا ہوں۔‘‘

صمد بیٹھ کر پورے حوصلے اور تحمل سے اپنے والد کو سمجھانے لگا کہ ستار کا جسد کس علاقے میں پڑا ہے، لیکن اس کے والد نے نہ ماننا تھانہ مانے۔ صمد نے بہانہ بنایا کہ شمس اللہ تو محاذ پر ہے۔

اس کے والد کہنے لگے: ’’میں اکیلا ہی چلا جاتا ہوں۔‘‘

صمد نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ آپ بے قرار ہیں۔ ٹھیک ہے، اگر آپ اسی طرح راضی اور خوش ہوتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کل محاذ پر چلے جاتے ہیں۔‘‘

میرے سسر نے اور کوئی بات نہ کی، لیکن رات کو وہ شمس اللہ کے گھر چلے گئے۔انہوں نے کہا تھا: ’’میں ذرا اس کے بچوں کی خیریت دریافت کر لوں۔‘‘

بچوں نے جب دیکھا کہ صمد انہیں بازار نہیں لے کر گیا تو وہ ناراض ہو گئے۔ صمد ان کے ساتھ مل کر کھیلنے لگا۔ اس کے بعد ان کے سبق کے بارے میں ان سے باتیں شروع ہو گیا۔ خدیجہ کو املاء بولی اور معصومہ کو ایک مشق  دے دی۔ میں ایک کونے میں کھڑی اسے مسلسل دیکھے جا رہی تھی۔ اچانک وہ میری طرف متوجہ ہو گیا اور ہنس کر  کہنے لگا: ’’قدم! آج تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ مجھے نظر نہ لگا دینا! جاؤ میرے لیے حرمل جلا لاؤ۔([3])‘‘

میں نے کہا: ’’کیا تم سچ مچ جانا چاہتے ہو؟‘‘

اس نے کہا: ’’جلدی واپس آ جاؤں گا۔ دو تین دن بعد۔ بابا پریشان ہیں، ان کا حق بھی بنتا ہے۔ ان کے دل پر زخم لگا ہے۔ انہیں دجلہ کے کنارے تک لے جاؤں گا۔ جہاں ستار شہید ہوا ہے وہ جگہ انہیں دکھاؤں گا اور جلدی واپس آ جاؤں گا۔‘‘

میں نے ہنس کر کہا: ’’ہاں، جلدی لوٹ آؤ گے!‘‘

وہ بھی ہنس پڑا: ’’قدم کی جان کی قسم، جلدی آ جاؤں گا۔ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے۔ شاید دو تین دن بھی نہ لگیں۔ اب جلدی سے اپنے سرتاج کے لیے دو چائے لے آؤ۔ ان لمحات کی قدر کرو۔‘‘

*****

([1]) آپریشن کربلا ۴ مراد ہے۔

([2]) یہ ترکی زبان وہ نہیں ہے جو ترکی کے ملک میں بولی جاتی ہے، بلکہ ایران میں بعض مقامات پر کچھ ترک قبائل ہیں جو یہ زبان بولتے ہیں۔

([3]) عموماً نظر بد سے بچنے کے لیے حرمل کی بوٹی کو سلگا کر اس کا دھواں پھیلایا جاتا ہے۔