مقدمۂ مترجمین
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمنِ الرَّحيم
تمام حمد ہے اس ذات کے لیے جو عالمین کار ب ہے اور درود و سلام ہو محمد3 اور ان کی آل پر۔
یہ کتاب اس صدی کے عظیم اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی کے جانشین ، انتھک انقلابی، بہترین ناظم، صاحب تدبیروحکمت، سیاسی بصیرت سے مالا مال ، نادر روزگار تزویراتی ماہر، عالمی استکبار کے منصوبوں اور حربوں کو خاک میں ملانے والے بے مثال قائد امام آیت اللہ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی آب بیتی کا اردو ترجمہ ہے۔ نوے کی دہائی کے دوران ہفتہ وار نشستوں میں آپ نے اپنی انقلابی زندگی اور جدوجہد کی روداد بیان فرمائی جسے باقاعدہ طور پر قلم بند کیا گیا۔ مذکورہ نشستوں میں بیان ہونے والی روداد بعد میں ایک کتاب کی شکل میں ڈھل گئی جسے قائد انقلاب کی ڈائری بھی کہا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی زندگی کے آغاز ہی سے ڈائری لکھنے کے عادی تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے پاس ہمیشہ ایک چھوٹی سی ڈائری رہتی تھی جس میں آپ مختلف واقعات اور شخصیات کے متعلق اہم نکات درج کر لیتے تھے۔مذکورہ نشستوں میں آپ نے اسی ڈائری کی مدد سے اپنی گزشتہ زندگی کے چند گوشوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا تھا۔
رہبرِ انقلاب نے اس کتاب میں اپنی ابتدائی زندگی کے احوال بیان فرماتے ہوئے اپنے آباء و اجداد، گھر کے ماحول، دینی تعلیم اور ازدواجی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کا اہم اور بڑا حصہ آپ کی مزاحمتی زندگی، مجاہدانہ جدوجہد، چھ بار گرفتاری، تفتیش وتشدد اور شہربدری کی یادوں پر مشتمل ہے۔
مذکورہ نشستوں کے انعقاد کی بڑی وجہ رہبر انقلاب کا عربی زبان سے خاص لگاؤ تھا۔ان نشستوں کے آغاز میں رہبرِ انقلاب عربی زبان میں مختلف موضوعات پر گفتگو فرماتے تھے۔ پھر جب حاضرین میں سے بعض نے اصرار کیا تو آپ نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو شروع کی۔ مذکورہ یادوں کو جمع کیا گیا اور عربی زبان میں "اِنَّ مَعَ الصَّبْرِ نَصْراً” کے نام سے کتاب نشر ہوگئی۔ فارسی زبان میں اس کا ترجمہ "خون دلی که لعل شد” کے عنوان سے منظر عام پر آچکا ہے۔
کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کے اردو ترجمے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایت پر چند طلاب کرام نے اس کتاب کے ترجمے کی ذمہ داری اٹھائی۔ ترجمے میں عربی متن کو محور قرار دیا گیا جبکہ فارسی ترجمے سے صرف ضرورت محسوس ہونے پر استفادہ کیا گیا۔اس حوالے سے کوشش رہی کہ ترجمے میں علمی امانت کا مکمل خیال رکھا جائے البتہ اردو زبان قارئین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کتاب کے حواشی میں سے صرف اہم حاشیو ں کا انتخاب کیا گیا ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں اضافی حاشیہ لگایا گیا ہے۔
تمام تر کاوشوں کے باوجودانسان ہونے کے ناطے غلطیوں اور نقائص کا امکان موجود ہے۔
راہ خدا میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے اس کتاب میں بہترین دروس موجود ہیں۔ اس کتاب میں موجود جہدِ مسلسل کی داستان یہ پیغام دیتی ہے کہ صبر کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی ہے۔انسان اگر اپنے بلند اہداف کے لیے خلوص کے ساتھ کوشاں رہے تو راستے کی سختیاں اور رکاوٹیں اس کے پاؤں کی زنجیر نہیں بن سکتیں۔
دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن جوشِ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
مجروحؔ سلطانپوری
خدا اپنے بندوں کے نیک اعمال کبھی ضائع نہیں کرتا۔ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کل کا ایک قیدی ممکن ہے آج مملکت کے اہم ترین عہدے پر فائز ہو۔لہٰذا اس بات پر یقینِ کامل رکھنا ضروری ہے کہ راہِ خدا میں استقامت ، صبر اور خلوصِ نیت کے ساتھ جدوجہدکا نتیجہ دنیا و آخرت میں سعادت اور کامیابی ہے۔
شرفِ قبولیت کی امید کے ساتھ ہم اس مختصر کاوش کو حضرت امام زمان, کے حضور پیش کرتے ہیں۔دعا ہے خداوند متعال آپ کے ظہورمیں تعجیل فرمائے، ظلم کا خاتمہ ہو، عدل وانصاف کی حکمرانی ہو اورہادیِ برحقؑ کے زیر سایہ بشریت حقیقی کامیابی سے ہم کنار ہو۔
گروہ مترجمین
26 جون 2019
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدّمہ کتاب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله الطيبين الطاهرين وصحبه المنتجبين
انقلابِ اسلامی ایران نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کا ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ نصف صدی پہلے مشرق اور مغرب میں دو عالمی طاقتوں کا چرچا تھا جو پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ اسلامی ممالک ان طاقتوں کا خصوصی ہدف تھے۔ اکثر مسلم حکمران ان دو میں سے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کی تگ ودو میں تھے۔ جبکہ عوام غفلت اور سرگردانی کے عالم میں یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ مختلف شکستوں کے بعدمسلمانوں کے ارادے مغلوب ہو چکے تھے اور اب مسلمان کوئی بڑا فیصلہ لینے سے عاجز تھے۔
اس فتنہ انگیز اور شکست خوردہ ماحول میں دنیا پر حاکم طاقتوں نے اپنے گمان کے مطابق امت اسلامی کے پیکر پر آخری وار کیا اور مزاحمتی کاوشوں کا سر کچلنے کی خاطر صہیونیزم کے ساتھ صلح اور سلامتی کا منصوبہ بنایا۔ اس دوران جن مبلغین اور مفکرین نے امت مسلمہ کی بیداری اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے کوششیں کیں ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔
مسلمانوں کی زبوں حالی کے اس عالم میں ان ظالم اور استکباری طاقتوں کے خلاف ایک توانا آواز اٹھتی ہے جو ان فرعونوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کردیتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ آوازایران سے اٹھتی ہے جو اس وقت استکباری طاقتوں کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ یہ آواز در حقیقت خداوند متعال کے اس قول کی ترجمان تھی: قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ أَتاهُمُ الْعَذابُ مِنْ حَيْثُ لا يَشْعُرُونَ (نحل: 26) (ترجمہ: ان سے پہلے لوگوں نے مکاریاں کی ہیں، لیکن اللہ نے ان کی عمارت کو بنیاد سے اکھاڑ دیا۔ پس اوپر سے چھت ان پر آگری اور انہیں وہاں سے عذاب نے آ لیا جہاں سے انہیں توقع نہ تھی۔)
اپنے راستے، اہداف اور قیادت کے حوالے سے یہ انقلاب ایک منفرد انقلاب تھا۔ اس انقلاب کا اعتماد خدا کے بعد صرف اور صرف عوام پر تھا ۔ یہ کسی پارٹی یا تنظیم کا انقلاب نہ تھااور نہ ہی اسے کسی عالمی طاقت کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس نے شروع دن سے اعلان کیا کہ اگر کوئی حزب ہے تو وہ حزب الٰہی ہے۔ یہ در حقیقت عوام ہے جو خدا کی خاطر قیام کرتی ہے۔ اس انقلاب نے شروع دن سے اعلان کیا کہ اس کا تعلق نہ مشرقی بلاک(سوشلزم) سے ہے اور نہ مغربی بلاک (کیپٹلزم) سے۔ (لا شرقیہ ولاغربیہ کا نعرہ)اس انقلاب نے دنیا پر قبضے کے لیے برسرپیکار دونوں بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک کا بھی بغل بچہ بننے سے انکار کیا۔
اس انقلاب کا ہدف، جو پہلے دن سے واضح تھا، اسلامی اورجمہوری حکومت کا قیام تھا۔ اس کے بلند اہداف میں عدالت، آزادی، خودمختاری، عزت، کرامت، جدت (جمہوری ہونا) اور اصالت (اسلامی ہونا) وغیرہ شامل تھے۔ اس انقلاب کی رہبری ایک عالمِ دین کے ہاتھ میں تھی جسے ملک بدر کیا گیا۔ امام خمینی نے اس انقلاب کے ذریعے دینی اقدار کو دوبارہ زندہ کیا۔ اسلامی دنیا کی عزت، کرامت اور شناخت کی بحالی آپ کی اولین ترجیح تھی۔
اس کتاب کا تعلق انقلابِ اسلامی کی ایک اہم شخصیت سید علی حسینی خامنہ ای(حفظہ اللہ) سے ہے۔ امام خمینی کی طرح آپ نےبھی اپنی انقلابی جدوجہد کے دوران عوام خصوصا جوانوں پر خاص توجہ دی۔ آپ ایران کے مختلف علاقوں کے جوانوں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ آپ کا پیغام طاغوتی طاقتوں سے ٹکراؤ اور باعزت، آزاد اور عادلانہ اسلامی معاشرے کے قیام کے حوالے سے جوانوں کی امنگوں کا ترجمان تھا۔
آپ نے اس راہ میں جیل کی سختیاں جھیلیں، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجودکبھی اپنے ہدف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ اپنی ذاتی زندگی اور اس کی ضروریات کو پس پشت ڈال کر آپ ہمیشہ امت اور انقلاب کی امنگوں کے لیے جیتے رہے۔ اس حوالے سے آپ نے فکری اور ثقافتی کاموں پر اکتفا نہ کیا، بلکہ ظالم شاہی نظام کے مقابلے میں عملی طور پر بھی میدان میں حاضر رہے۔
آپ انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینی کے فرمان پر مختلف اہم حکومتی اور فوجی مناصب پر فائز رہے۔ آپ امام خمینی کے مکمل تابع اور فرمان بردار تھے۔ امام خمینی کی رحلتِ جانسوز کے بعد مجلس خبرگان نے ولی فقیہ کے عنوان سے آپ کا انتخاب کیا۔ ۳۰ سال کی رہبری میں تمام تر مشکلات، سختیوں اور پابندیوں کے باوجودخدا پر توکل، اپنے تجربات اور عوامی تائید کی بدولت آپ انقلاب کو نئے مراحل میں لے جانے میں کامیاب رہے۔ یوں آپ نے ان تمام لوگوں کے خواب چکنا چور کر دیے جو امام خمینی کے بعد انقلاب کو ختم ہوتادیکھنا چاہتے تھے۔
آپ کی قیادت کی اہم خصوصیات میں انقلابی روح، بصیرت، اعتدال اور تجدد شامل ہیں۔
یہ کتاب کیسے وجود میں آئی؟
رہبر معظم عربی زبان اور قرآنی علوم سے خاص محبت رکھتے ہیں۔ اس محبت کا آغاز کم سنی میں ہوا جب آپ قرآن کی حلاوت اور بلاغت سے آشنا ہوئے ۔قرآن سے عشق کی وجہ سے آپ اس کی زبان عربی سے بھی محبت کرنے لگے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ مکتب میں ناظرہ قرآن پڑھتے تھے۔
اس کے بعدآپ اپنی زندگی کے تمام مراحل میں قرآن، احادیث، نہج البلاغہ، عربی ادب کے بہترین اشعار اور نثر کے ذریعے اس زبان سے وابستہ رہے۔ جب بھی عربی زبان کے کسی اچھے شاعریا ادیب سے ملاقات ہوتی آپ اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور مختلف ادبی و غیر ادبی موضوعات پرعربی زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرتے۔
اگرچہ مختلف حکومتی ذمہ داریوں کی وجہ سے آپ کی مصروفیات میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن اس زبان سے آپ کی محبت میں کمی نہیں آئی۔ علمی حوالے سے آپ مطالعہ، درس و بحث، تدریس اور ترجمے کے ذریعے ہمیشہ عربی زبان سے جڑے رہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عربی زبان سے شدید محبت رکھتے ہیں ۔
یہی وجہ تھی کہ تقریباً 25 سال پہلے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ نے ہفتہ وار نشستوں کا آغاز کیا اور عربی زبان میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال فرمانے لگے۔ ان نشستوں میں آپ اکثر معاصر عربی ادب کے متون پڑھ کر سناتے تھے۔ دورانِ گفتگو آپ بعض اوقات اپنی زندگی کے کچھ واقعات، خصوصا گرفتاریوں، جیلوں اور شہربدری کی یادوں کا تذکرہ بھی کرتے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے شخصی اور معاشرتی تجربات سے بھی حاضرین کو آگاہ کرتے تھے۔
انہی نشستوں میں آپ سے التماس کی گئی کہ ان یادوں کو سپردِ قلم کرنا ضروری ہے تاکہ قارئین ان تجربات سے استفادہ کریں۔ آپ نےشکریہ ادا کرتے ہوئے یہ درخواست قبول کی اوراپنی زندگی کی یادیں املاء کروانے لگے۔ یہ حصہ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے آپ کی گرفتاریوں اور قیدوں سے متعلق ہے۔آپ یہ واقعات عربی زبان میں بیان کرتے تھے۔
تحریکِ اسلامی کے ایک اہم قائد(رہبر معظم حفظہ اللہ) کی یہ ڈائری اسلامی تحریکوں کے مطالعے کا شغف رکھنے والوں کے لیے اپنے اندر بہت سی قیمتی معلومات اور اہم تجربات رکھتی ہے۔ آپ کی زندگی راہ خدا میں جدوجہد کرنے والوں کو یہ درس دیتی ہے کہ اگر ارادے محکم ہوں تو تمام تر مشکلات اور سختیوں کے باوجود کامیابی کا حصول ممکن ہے۔ یہ ڈائری قارئین کے فردی اور اجتماعی تجربے اور بصیرت میں اضافےکا باعث بنےگی۔