آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

نواں باب: سفید محل

دوہری شکست

1967؁ء کے شروع میں مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا۔ یہ میری تیسری گرفتاری تھی۔ یہ برس ان برسوں میں سے تھا جو ایران میں اسلام پسندوں پر انتہائی سخت اور دشوار گزرے۔ اس دوران شاہ کی حکومت نے علمائے دین پر انتہائی سختی کی۔ میری گرفتاری سے چند دن پہلے سید حسن قمی (آپ مشہد کے بڑے علماء میں سے تھے اور الحمد للہ اب بھی زندہ ہیں) کو بھی گرفتار کر کے ’’زابل‘‘ کی طرف شہر بدر کر دیا گیا تھا۔ اسی سال  عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ([1]) ہوئی اور عربوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مسلمانوں کو دلی تکلیف پہنچی۔ جو بات ہمارے دلوں کو زیادہ رلاتی تھی وہ ایرانی شاہی میڈیا کا کینے سے بھرپور شرمناک  کردار اور رویہ تھا۔ جو کچھ  عربوں، خاص طور پر جمال عبد الناصر کے ساتھ پیش آیا، اس پر یہ میڈیا خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔ جو کچھ امیرانی نے ’’خواندنی ها‘‘ نامی میگزین میں لکھا تھا وہ مجھے اب بھی یاد ہے۔ جب میں جیل میں تھا تب میں نے اس کینہ پرور شخص کے کچھ مقالے پڑھے۔ جو کچھ اس حادثے میں پیش آیا، اس پر وہ برملا خوشی کا اظہار کرتا تھا اور ایسی گھٹیا زبان استعمال کرتا تھا جس سے تمام اسلام پسند اور عام ایرانی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے تھے۔

ایک باہدف کتاب

مقدمے کے طور پر میں بیان کرتا چلوں کہ 1964؁ء کے دوران میں قم سے مشہد منتقل ہوا اور1965؁ء میں، میں نے شادی کی۔ مشہد واپس آنے کے بعد فکری اور سیاسی سرگرمیوں کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا۔ مشہد میں بہت سارے متحرک لوگوں اور حزب اختلاف کی شخصیات کے ساتھ میرے مسلسل اور گہرے روابط تھے۔ اسی طرح دینی مدارس اور یونیورسٹی کے  طلاب کے ساتھ بھی میرے اچھے  تعلقات تھے۔ فکری، تدریسی، تبلیغی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے میری نشستیں ہوتی تھیں۔ جوانوں کو اسلامی بیداری سے متعلق اسلامی معارف پڑھانے کے لیے کلاسز کا انعقاد کرتا تھا۔ انہی تحریکی سرگرمیوں میں سے ایک مرحوم شاعر قدسی، شہید تدین اور خراسان کے ایک اور شخص کے ساتھ مل کر نشر و اشاعت کے ادارے کی تاسیس تھی۔ ہم نے اس ادارے کا نام سپیدہ (فجر) رکھا۔ اس ادارے سے شروع میں ہم نے انقلابی مضامین پر مشتمل بعض اسلامی کتابیں نشر کیں۔ پھر میں نے سید قطب کی کتاب ’’المستقبل لهذا  الدین‘‘ (اس دین کا مستقبل) کا ترجمہ کیااور ہم نے اس کتاب کو مشہور "مطبعہ خراسان” سے چھپوانا شروع کیا۔ جب کتاب کی طباعت اپنے آخری مراحل میں تھی ہم مشہد سے اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے ساتھ سیاحتی سفر پر نکلے۔ یہ سن 1966؁ء کے آخری ایام تھے اور اس وقت میرا بیٹا مصطفیٰ چالیس دن کا تھا۔ ہم تہران گئے، وہاں سے قم اور پھر اصفہان۔ پھر وہاں سے تہران واپس آئے تاکہ مشہد واپس جا سکیں۔ جب ہم تہران کے کسی ہوٹل میں تھے تب ہمیں خبر ملی کہ ساواک نے مطبعہ خراسان پر چھاپہ مارا کر کتاب ’’اس دین کا مستقبل‘‘ کے تمام نسخے ضبط کر لیے ہیں اور ہمارے ادارے ’’سپیدہ‘‘ کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ساواک والے آپ کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ آپ کو گرفتار کریں۔ کچھ مدت بعد ادارے کے ایک اور رکن کی گرفتاری کی خبر مجھ تک پہنچی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ساواک والے کتاب اور اس کے مترجم کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ میں نے معاملہ اپنی زوجہ اور ساس کے سامنے رکھا جو میرے ساتھ تھیں۔ میں نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ مشہد چلے جائیں اور مجھے وہاں کے حالات سے آگاہ کریں اور خبر دیں کہ تہران رہنے میں مصلحت ہے یا مشہد لوٹ جانے میں؟ میں نے انہیں بھیج دیا اور خود اکیلا ہوٹل کے کمرے میں رہا۔

کچھ دنوں کے بعد ایک دوست مذکورہ کتاب کےترجمے کے پچاس نسخے میرے پاس لے آئے۔ مجھے پتا چلا کہ  دوستوں نے خطرہ محسوس کیا تھا لہٰذا ساواک کے حملے سے پہلے ہی انہوں نے کتاب کے سو نسخے چھپا لیے تھے۔ کتاب دیکھ کر میں بہت خوش ہوا کیونکہ یہ میری پہلی کتاب تھی جو چھپ رہی تھی۔ اس کی چھاپ اچھی اور جلد خوبصورت تھی۔ میں نے بعض نسخے دوستوں میں تقسیم کیے اور باقی اپنے ایک عزیز کے ہاں امانت رکھے اور اسے بتایا کہ یہ کتاب ممنوع اور خطرناک ہے۔

کچھ دنوں بعد ایک دوست نے مجھے ایک مسجد میں دعوت دی جس کی بنیاد رکھی گئی تھی لیکن عمارت ابھی نہیں بنی تھی۔ مسجد کی انتظامیہ نے سوچا تھا کہ محرم کے ایام میں اس زمین سے استفادہ کیا جائے لہٰذا انہوں نے لوہے کی عارضی دیواریں کھڑی کیں، اوپر سے اسے ترپال سے ڈھانپااور اس جگہ کو نماز اور محرم کی مجالس کے لیے تیار کر دیا۔ میں نے دعوت قبول کر لی۔ میں محرم کے پہلے عشرے کے دوران لوگوں کو نماز پڑھاتا اور پھر مجلس پڑھتا تھا۔ پھر میں نے دوسرے عشرے کے لیے ایک خطیب کو اور آخری عشرے کے لیے ایک اور خطیب کو دعوت دی۔ یہ وہی مسجد ہے جسے عمارت کی تکمیل کے بعد مسجد ’’امیر المومنین,‘‘ کا نام دیا گیا اور یہ تہران یونیورسٹی کے قریب خیابانِ نصرت پر واقع ہے۔

آپ حکومت کو مطلوب ہیں

ایک دن میں تہران یونیورسٹی کے قریب سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک شیخ ہاشمی رفسنجانی ملے۔ شیخ خوف اور حیرت کی نگاہ سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ مجھ سے کہنے لگے: ’’آپ کیسے سرِعام سڑکوں پر گھوم رہے ہیں اور روپوش نہیں ہوئے؟‘‘ میں نے پوچھا: ’’کس سے روپوش ہوں؟ جبکہ میں مسجد میں نماز بھی پڑھاتا ہوں اور مجلس پڑھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’آپ کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ گیارہ رکنی گروہ کا پتا چل چکا ہے۔ شیخ آذری قمی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب تہران میں ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بس میں سوار تھے۔ جب مجھے دیکھا تو بس سے اتر آئے تاکہ مجھے اس معاملے سے آگاہ کریں۔

میں نے پوچھا: ’’اچھا، اب ہم کیا کریں گے؟‘‘

انہوں نے کہا: ’’آج گروہ کے چند ارکان کے ساتھ ہماری نشست ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مشورہ کریں۔‘‘ چونکہ گروہ کے ارکان میں سے کسی کا بھی گھر تہران میں نہیں تھا لہٰذا اس کام کے لیے دار الحکومت کی ایک سڑک ’’شارع ایران‘‘ کی جگہ معین کی گئی تھی۔ ہم کسی دوسرے دوست کو زحمت نہیں دینا چاہتے تھے۔ ہم چاروں نے سڑک پر ملاقات کی: میں، شیخ ہاشمی، شیخ ابراہیم امینی اور شیخ قدوسی۔

پہلے بتا چکا ہوں کہ ساواک والوں نے شیخ قدوسی کو چند دن پہلے بلایا تھااور ان سے گیاہ رکنی گروہ سے متعلق پوچھ گچھ کی تھی۔ اب ہمارے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ پوچھ گچھ میں کیا باتیں ہوئیں تاکہ پتا چل جائے کہ ساواک والے گروہ کو کس حد تک جان چکے ہیں؟ ہماری میٹنگ کا اصل موضوع یہی تھا۔

اس خطرناک کام کے لیے کہاں بیٹھ کر مشاورت کی جائے اس حوالے سے ہم سب پریشان تھے۔ سب نے اتفاق کیا کہ ڈاکٹر واعظی کے کلینک میں جاتے ہیں۔ وہ ایک متدین ڈاکٹر تھے اور ان کا تعلق نجف آباد (شیخ ابراہیم امینی کے شہر) سے تھا۔ جو جگہ ہم نے معین کی تھی وہاں سے کلینک قریب پڑتا تھا۔ (ہم نے سوچا) مشاورت کے لیے ہم ویٹنگ روم میں بیٹھ جائیں گے۔ کسی ڈاکٹر کے ویٹنگ روم میں بیٹھنا ایک عام سے بات ہے، جس کی طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے کلینک مریضوں سے خالی تھا اور ہمارے لیے ویٹنگ روم میں بیٹھنا ممکن نہ تھا۔ جب وہاں کوئی مریض نہیں تھا تو انتظار کس بات کا؟! لہذا ہم کلینک سے نکل آئے۔

اسی حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ ڈاکٹر کے کلینک والے واقعے کے بارہ سال بعد، انقلاب اسلامی کی کامیابی کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے، ایک رات ہم ڈاکٹر واعظی کے گھر تھے۔ شیخ محمد منتظری بھی وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر کا گھر ان کے کلینک کے ساتھ ایک ہی عمارت میں تھا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا: ’’میں پہلے بھی اس بلڈنگ میں آچکا ہوں لیکن اس وقت عمارت اس قدر نئی نہیں تھی۔ لگ رہا ہے آپ نے اس میں ترمیم کی ہے اور اس کے کچھ حصوں کو دوبارہ بنایا ہے۔‘‘ میں ان کے ساتھ 1979؁ء میں بات کر رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ’’میں 1966؁ء میں بھی، یعنی بارہ سال پہلے، اس بلڈنگ میں آچکا ہوں۔‘‘ میں نے وہ سارا واقعہ بیان کیا کہ کیسے ہم نے ان کے کلینک میں پناہ لی لیکن پھر حیرت زدہ اور مایوس ہو کر وہاں سے نکلے۔ ڈاکٹر صاحب نے غیر متوقع رد عمل کا اظہار کیا۔ اس بات نے انہیں پریشان کر دیا اور وہ رونے لگے۔ اپنے آپ کو کوستے ہوئے ملامت کرنے لگے کہ کیوں ان کا کلینک ہمیں پناہ نہیں دے سکا تھا۔ میں نے فورا انہیں تسلی دی۔ میں اپنے کہے پر نادم ہوا۔ میرا مقصد صرف اتنا تھا کہ جس بلڈنگ میں ہم بیٹھے ہوئے تھے اس کے حوالے سے اپنا واقعہ بیان کروں۔

اپنی بات کی طرف واپس آتا ہوں۔ ہم کلینک سے نکلے۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر باہنر کے گھر چلتے ہیں۔ ان کا گھر شارع ایران سے قریب تھا۔ ہم ان کے گھر گئے۔ وہ گھر میں اکیلے تھے اور ان کی زوجہ گھر میں نہیں تھیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ گھر سے نکل جائیں اور ہمیں اکیلے چھوڑ دیں۔ یہ بات انہوں نے خوشی کے ساتھ قبول کر لی۔ چائے کی جگہ کی  طرف ہماری رہنمائی کی اور خود نکل گئے۔ آغا قدوسی نے بات شروع کی۔ جو کچھ ان کے اور ساواک والوں کے درمیان ہوا اور جو سوالات ان سے پوچھے گئے تھے، اس حوالے سے تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مختصر گرفتاری کے دوران ساواک والوں نے ایک فہرست دکھائی جس میں گروہ کے تمام گیارہ افراد کے نام درج تھے۔ میری طرف دیکھ کے انہوں نے کہا: ’’آپ کا نام سرفہرست تھا۔‘‘ یہ خبر خوفناک تھی کیونکہ بہت زیادہ احتمال تھا کہ ساواک والوں نے شیخ قدوسی کو اس لیے چھوڑا ہے تاکہ ان کا پیچھا کیا جائے اور ان کے روابط معلوم کیے جائیں۔ بہرحال اس میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے لیے چھپنا ممکن ہو اسے اب چھپ جانا چاہیے۔

تہران میں میرے لیے چھپنا ممکن نہ تھا کیونکہ وہاں کوئی قابلِ اطمینان جگہ نہیں تھی۔ مسئلہ بہت گھمبیر تھا، سب کے نام پتا چل چکے تھے۔ گروہ کے دو ارکان شیخ منتظری اور شیخ ربانی شیرازی پکڑے جا چکے تھے۔ البتہ انہیں کسی اور معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا نہ اس وجہ سے کہ ان کا تعلق اس گروہ سے تھا۔ دوستوں کا فیصلہ یہ تھا کہ سب کو چھپ جانا چاہیے۔

گرفتاری تک تعاقب

میں نے فیصلہ کیا کہ مشہد جا کر وہاں روپوش ہو جاؤں گا۔ اپنے فیصلے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ اپنا بیگ تیار کیا، بس میں سوار ہوا اور مشہد کی طرف چل نکلا۔ میرا گمان تھا کہ مشہد پہنچتے ہی ساواک والے مجھے گرفتار کر لیں گےکیونکہ کتاب والے معاملے میں میرا تعاقب کیا جا رہا تھا۔ لہٰذا میں شہر پہنچنے سے پہلے ایک چھوٹی سڑک پر اتر گیا جو ایک گاوں ’’اخلمد‘‘ تک جاتی تھی۔ یہ گرمیوں میں رہنے کے لیے ایک مناسب جگہ ہے اور مشہد سے تقریباً دس فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے۔ میں گرمیاں گزارنے کے لیے پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں کا سفر کر چکا تھا۔ بہار ابھی باقی تھی اور موسم بھی ابھی گرم نہیں ہوا تھا۔ گاؤں تک پہنچنے کے لیے سنسان پہاڑی دروں سے گزرتے ہوئے تقریباً دو فرسخ کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ معمول سے زیادہ  اندھیرا چھا چکا تھا، جیسے دروں اور نشیبی علاقوں میں عام طور پر ہوتا ہے۔ اب بھی جب ان لمحات کو یاد کرتا ہوں تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس وقت مجھے اس طرح کی جرات عنایت کی۔ گاؤں کے راستے میں ہر چیز خوفناک تھی۔

میں گرمیوں میں اس گاؤں آتا رہتا تھا اور یہاں کے بعض باشندوں کو جانتا تھا۔ عام طور پر یہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا لیکن اس دفعہ جب میں داخل ہوا تو گاؤں بالکل سنسان تھا کیونکہ وہاں کا موسم ابھی تک سرد تھا اور لوگوں نے گرمیاں گزارنے کے لیے ابھی تک یہاں کا رخ نہیں کیا تھا۔

میری کوشش تھی کہ گاؤں میں میری کسی سے ملاقات نہ ہو۔ لہٰذا ایک شخص کی دکان پر گیا جسے میں نہیں جانتا تھا۔ اس سے کرائے کے کمرے کے بارے استفسار کیا۔ اس نے خوش آمدید کہا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔ میں نے ایک یا دو راتیں اس کے پاس گزاریں پھر فیصلہ کیا کہ اب گاؤں سے چلا جاؤں کیونکہ گاؤں میں اجنبی شخص فوراً پہچانا جاتا ہے۔ خاص طور جب گاؤں سیاحوں سے خالی ہو۔ میں مشہد شہر کی طرف نکل پڑا۔

مشہد میں میرا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ میں ایک دن والد صاحب کے پاس اور ایک دن سسر کے گھر گزارتا تھا۔ میرا آنا جانا بھی سحر کے وقت یا رات کے پچھلے پہر میں ہوتا تھا۔ میں نے اسی طرح تین مہینے گزارے۔ میرے بھائی سید محمد، والد صاحب کے گھر روپوش تھے۔ وہ بھی اس گیارہ رکنی گروہ کا حصہ تھے۔

اسی سال 1966؁ء کی گرمیوں میں شیخ ہاشمی رفسنجانی اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہمارے پاس مشہد آئے۔ جیسا کہ پہلے بتایا، ان کا بھی تعاقب کیا جا رہا تھا۔ ہم ایک ٹھنڈے علاقے کی طرف گئے۔ اس حوالے سے میری کچھ یادیں ہیں جو ہمارے اس موضوع سے مربوط نہیں ہیں۔

میں مشہد میں چھپ کر زندگی گزاتے ہوئے تنگ آچکا تھا لہٰذا فیصلہ کیا کہ اس حالت سے نکلوں۔ میں تہران آگیا جہاں شہر کی وسعت، لوگوں کی بھیڑ اور اجنبی ہونے کی وجہ سے عادی زندگی گزارنا ممکن تھا۔ شیخ ہاشمی کے ساتھ مل کر ہم نے ایک گھر کرائے پر لیا اور ایرانی سال کے اختتام تک تہران میں ہی مقیم رہے۔

1967؁ء کا سال تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: اب میرا تعاقب کچھ کم ہوا ہے لہٰذا اب مجھے مشہد جانا چاہیے۔ ہاں البتہ عمومی جگہوں پر نکلنے سے گریز کرنا ہوگا۔

میں مشہد واپس آگیا۔ لیکن مجھ جیسا شخص معاشرے میں گوشہ نشین ہو کے نہیں رہ سکتا۔ میں اکثر سید میلانی اور سید قمی کے پاس چلا جاتا، معاشرے میں نظر آنے والے انحرافات کے حوالے سے ان سے بات چیت کرتا، ان سے علماء کی خاموشی کے بارے استفسار کرتا اور انہیں فاسد نظام کے خلاف بھرپور فیصلہ لینے کی ترغیب دلاتا تھا۔ لگتا ایسے ہے کہ میری یہ باتیں من وعن ساواک تک پہنچائی گئیں۔ یہ بات گرفتاری کے بعد مجھے پتا چلی۔ یقیناً ان دو شخصیات کے اطراف میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے یہ باتیں پہنچائیں۔

3 اپریل 1967؁ء کو شیخ مجتبیٰ قزوینی کی وفات ہوئی۔ آپ کم نظیر اور عظیم لوگوں میں سے تھے۔ آپ ایک شریف، عالم، مومن، عابد، زاہد، عارف، قابلِ احترام اور با ہیبت انسان تھے۔ سید میلانی جیسے لوگ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ یہ بہت بڑا حادثہ تھا اور گھر پر رہنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ میں بھی تشییع جنازہ کے انتظامات کرنے والوں میں سے تھا۔ شیخ کی تدفین اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد (یہ ظہر کے کچھ دیر بعد کا وقت تھا) میں بھائی سید ہادی([2]) کے ساتھ والد صاحب کے گھر کی طرف چل پڑا۔ ہماری والدہ اس وقت حج پر تھیں اور والد صاحب اکیلے رہ رہے تھے۔ راستے میں ساواک والوں نے ہمارا محاصرہ کر لیا۔

 انہوں نے مجھ سے کہا: ’’ہمارے ساتھ ساواک کے دفتر چلو۔‘‘

 میں نے کہا: ’’نہیں چلوں گا۔ ‘‘

انہوں نے پولیس کی مدد لی اور پولیس والوں نے مجھے اور میرے بھائی کو پکڑ کر گاڑی میں ڈال لیا۔ ساواک کے دفتر سے میرے بھائی کو چھوڑ دیا گیا اور مجھے وہیں رکھا گیاکیونکہ ہدف میں ہی تھا۔

فوجی قیدی

مجھے ساواک کی عمارت سے چھاؤنی میں واقع فوجی جیل میں منتقل کر دیا گیا کیونکہ اس وقت مشہد میں سیاسی قیدیوں کے لیے کوئی خاص جیل نہیں تھی۔ یہ جیل محافظوں کے مرکز کے ساتھ واقع تھی۔ میری چوتھی قید بھی اسی جیل میں تھی۔ بعد میں انہوں نے سیاسی قیدیوں کے لیے خاص جیل بنائی جہاں میری پانچویں قید کٹی۔ جیل کی عمارت سفید اور صاف ستھری تھی۔ ہم اسے سفید محل یا سفید ہوٹل کہتے تھے۔ اس میں بعض انفرادی کوٹھڑیاں اور دو عمومی ہال تھے: ایک معمولی فوجیوں کے لیے اور دوسرا عہدے داروں کے لیے۔ لیکن اگر قیدی کوئی افسر ہوتا تو اس کے لیے ایک خاص کمرہ ہوتا تھا جو یقیناً سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں کی مانند نہیں تھا بلکہ اس میں کچھ سہولیات بھی ہوتی تھیں اور اس کا دروازہ بھی کھلا ہوتا تھا۔

جیل کے اندر سب فوجی قیدی تھے اور ان میں مشہد کے ایک تاجر کے علاوہ اور کوئی عام شہری نہیں تھا۔ اس کا نام قاسمی تھا۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ بظاہر وہ عراق کے سفر پر گیا تھا اور ایران لوٹتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا  تھا کیونکہ اس کے پاس امام خمینی= سے متعلق کچھ کاغذات تھے۔

اس وقت جیل میں ایک جوان افسر قید تھا جس پر اپنے بیوی کے قتل کا الزام تھا۔ اسے افسروں کے خاص کمرے میں رکھا گیا تھا۔ جب چاہتا کمرے سے نکلتا اور بعض اوقات غرور و تکبر کے ساتھ اور دوسرے قیدیوں سے بے اعتنائی برتتے ہوئے جیل کے ہالوں میں ٹہلتا۔میں اور قاسمی دو الگ کمروں میں تھے لیکن وہ کمرے افسروں کے کمروں کی طرح نہیں تھے بلکہ سہولیات سے خالی اور پنجرے کی مانند تنگ تھے جبکہ باقی قیدی عمومی ہالوں میں تھے۔ دونوں کوٹھڑیوں کے دروازے پر تالا نہ تھا لہٰذا میں اور قاسمی سپاہیوں کے منع کرنے کے باوجود بھی آپس میں ملا کرتے تھے۔

یہاں اس مطلب کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ ستر کی دہائی سے پہلے قیدیوں کی حالت ستر کی دہائی کے بعد کے سیاسی قیدیوں سے مکمل طور پر مختلف تھی۔ اس وقت قیدیوں کے مابین ملاقاتیں، پڑھنا لکھنا، اپنے ساتھ کتابیں، کاغذ قلم اور ریڈیو رکھنا آسان کام تھا، اگرچہ بعض منتظمین کی تندروی کی وجہ سے کبھی کبھار ان کاموں میں بھی دشواری کا سامنا بھی ہوتا تھا، لیکن ستر کی دہائی میں یہ کام تقریباً ناممکن ہو چکے تھے۔

جیل میں عزاداری

جیل کے ابتدائی ایام میں ماہ محرم 1387؁ھ آن پہنچا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہر طرف دینی فضا چھا جاتی ہے اور وعظ و نصیحت اور ذکر مصائب سید الشہداء, کی خاطر مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ قاسمی نے جیل کے اندر اسلامی شعائر کی ادائیگی میں میرے ساتھ تعاون کیا اور قیدیوں کو نماز جماعت کی ترغیب دلائی۔ میں ان فوجی قیدیوں کو نماز پڑھاتا، نماز کے بعد خطاب کرتا اور انہیں وعظ کرتا تھا۔ قاسمی میرے خطاب کے بعد واقعہ کربلا کو بیان کرتا اور امام حسین, کا مرثیہ پڑھتا تھا۔ چند راتوں تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا لیکن ایک رات جب جیل افسر داخل ہوا تو اس نے فوجی قیدیوں کو ایک سیاسی قیدی کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا۔ جیل میں داخل ہوتے ہوئے اسے توقع تھی کہ سپاہی فورا کھڑے ہوں گے اور اسے سیلیوٹ کریں گے لیکن ان کے چہرے رو بہ قبلہ تھے لہٰذا کسی نے بھی اسے اہمیت نہ دی۔ یہ منظر اس پر گراں گزرا اور وہ غصے کی حالت میں واپس چلا گیا۔

نماز ختم ہونے کے بعد جیل کے منتظمین میں سے ایک میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’تمہیں نماز پڑھانے اور فوجی قیدیوں سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ یہ پابندی میرے فائدے میں تھی کیونکہ اس طرح سپاہیوں کی میرے ساتھ ہمدردیاں اور بڑھ گئیں۔ میں نے انہیں کہا ہر شب اپنی مجالس جاری رکھو اور ان میں کتاب ’’آنجا که حق پیروز است‘‘ (جہاں حق کامیاب ہے) کے کچھ صفحے پڑھو۔ اس کتاب میں امام حسین, کے انقلاب کی تحلیل کی گئی ہے اور شہداء کربلا کی سوانح حیات درج ہیں۔

میرا بیٹا مجھےنہ پہچان سکا

ایک دن میرے بڑے بیٹے مصطفیٰ کو جیل لایا گیا جب اس کی عمر دو سال تھی۔ ایک سپاہی بھاگتے ہوئے آیا اور کہا: ’’تمہارے بیٹے کو لائے ہیں۔‘‘ میں نے جیل کے دروازے کی طرف دیکھا تو ایک افسر مصطفیٰ کو اٹھائے میری طرف آرہا تھا۔ میں نے مصطفیٰ کو لیا اور اسے چوما۔ چونکہ میں کافی عرصے سے اس کی نظروں سے اوجھل جیل میں تھا لہٰذا وہ مجھے نہیں پہچان سکا۔ اس نے مجھے غمگین اور وحشت زدہ نظروں سے دیکھا اور پھر زار وقطار رونے لگا۔ میں اسے چپ نہ کرا سکا۔ اسے واپس افسر کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے گھر والوں تک پہنچا دے۔ گھر والوں کو میری ملاقات سے روک دیا گیا تھا۔ مصطفیٰ میرے اندر ایک درد چھوڑ گیا جو اس دن کے بعد بھی مجھے تڑپاتا رہا۔

نامکمل ڈائری

میں نے اس جیل میں روزانہ کی یادوں کو قلم بند کرنا شروع کیا، لیکن آخر تک جاری نہ رکھ سکا کیونکہ جب مجھے بوریت محسوس ہوئی تو لکھنا چھوڑ دیا۔ آخری عبارت جو میں نے اس جیل میں لکھی وہ یہ تھی: ’’یہاں لکھنا چھوڑ رہا ہوں۔ اس لکھنے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟‘‘ آج جب اس ڈائری کو دیکھتا ہوں تو اسے جاری نہ رکھنے پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ اتنی بھی بے فائدہ نہیں تھی جتنی  میں سمجھ رہا تھا۔

اسی جیل میں سید قطب کی کتاب ’’الإسلام و مشكلات الحضارة‘‘ (اسلام اور تمدنی مسائل) کا ترجمہ شروع کیا۔ کتاب کے اکثر حصے کا ترجمہ کر لیا لیکن تنگ و تاریک کوٹھڑی میں لمبا عرصہ رہنے کی وجہ سے افسردگی اور حزن وملال کی کیفیت ترجمہ مکمل کرنے اور مقدمہ لکھنے کی راہ میں حائل ہوگئی۔ یہ کام چوتھی دفعہ جیل جانے تک نامکمل رہا اور چوتھی قید میں پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ پس اس کتاب کا ترجمہ ایک جیل میں شروع ہوا اور دوسری میں اختتام کو پہنچا۔

میں نے اس ڈائری میں فوجیوں کے برے اخلاق، بعض کے گھٹیا طرز عمل اور افسروں کے سپاہیوں کے ساتھ برے رویے کی تصویر کشی کی۔

میری ڈائری میں کچھ سطریں اس فوجی افسر کے بارے بھی ہیں جو جیل میں قید تھا۔ خوش قسمتی سے وہ مذہبی روح اور واجبات و فرائض کی ادائیگی میں رغبت رکھتا تھا۔ عموما جیل کی سختیاں انسان کو دین کی طرف مائل اور دعا و عبادت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں۔ جیل اس کشتی کی طرح ہے جس کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا ہے:

فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصينَ لَهُ الدِّينَ.([3])

اور جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان اور عقیدے کے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں۔

*****

([1]) عرب اسرائیل جنگ (1967؁ء): یہ جنگ ۶ دن تک جاری رہی۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس، مصر کے جزیرہ سینا اور شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے نکال دیا۔

([2]) سید ہادی خامنہ ای (ولادت 1947؁ء): رہبر معظم کے بھائی، جنہوں نے مشہد کے حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کی اور پہلوی دور حکومت میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد تین دفعہ مشہد کی عوام کی طرف سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی طرح ایک دفعہ تہران سے بھی منتخب ہوئے۔ 1986؁ء میں انقلاب کی سالگرہ کی ریلی کے دوران نے ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں آپ محفوظ رہے، لیکن آپ کا پاؤں زخمی ہوگیا۔

([3]) عنکبوت: 65