آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

آٹھواں باب: سرخ قلعہ

تنظیمی سرگرمیاں

بہار 1383؁ھ کے آخری ایام میں میری پہلی گرفتاری ہوئی اور اسی سال موسم سرما میں دوسری بار گرفتار ہو گیا۔

یہاں پر امام خمینی کی تحریک کے ساتھ شروع ہونے والی تنظیمی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتا چلوں کیونکہ ان سرگرمیوں کا اس گرفتاری سے تعلق ہے۔

قم میں سال سے ڈیڑھ سال تک کے قیام کے دوران ہم نے انقلابی تحریک کے ابتدائی ایام ہی میں  بعض تنظیموں کی بنیاد رکھی جن میں سے بعض ایک ہی وقت میں اور بعض مختلف اوقات میں سرگرم رہیں۔

  • قم کے علماء کا ایک گروہ جس میں علماء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ یہ وہی گروہ ہے جو اس وقت قم میں ’’جامعہ مدرسین‘‘ کے نام سے معروف ہے۔
  • گیارہ افراد پر مشتمل ایک اور گروہ جس میں بندہ حقیر، ہاشمی رفسنجانی، میرے بھائی سید محمد، مصباح یزدی (جو اس گروہ کے کاتب تھے) امینی، مشکینی، منتظری، قدوسی، آذری قمی، ربانی شیرازی اور حائری تہرانی شامل تھے۔ یہ اس وقت قم کا سب سے اہم انقلابی گروہ تھا جس نے بلند اہداف کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور یہ گروہ کئی سال تک متحرک رہا۔
  • ایک تیسرا گروہ بھی تھا جس کے ارکان میں سابقہ گروہ کے کچھ افراد کے علاوہ شیخ ربانی املشی اور شیخ علی اصغر مروارید بھی شامل تھے۔ اس گروہ کا مقصد تبلیغی امور میں عملی فیصلے کرنا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت افراد کو شہروں پر تقسیم کرنا تھا، تاکہ  قیامِ خرداد کے بعد آنے والے ماہ مبارک رمضان کی تقاریر میں حکومت کو ان مظالم پر رسوا کرسکیں جو اس نے قم کی عوام پر ڈھائے تھے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں، میں نے زاہدان جانے کا فیصلہ کیا جہاں مجھے قید کر لیا  گیا اور یہ میری دوسری گرفتاری تھی۔

زاہدن کے راستے کے اسٹیشنز

زاہدان جانے کے فیصلے کے بعد میں نے قرآن مجید سے استخارہ کیا تو یہ آیت نکلی:

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّى جاءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَ هُمْ كارِهُونَ۔([1])

بے شک انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ کی کوشش کی تھی اور تمہارے امور کو الٹ پلٹ دینا چاہا تھا یہاں تک کہ حق آگیا اور امرِ خدا واضح ہو گیا اگرچہ یہ لوگ اسے ناپسند کررہے تھے۔

صفحے کے آغاز میں جب دیکھا تو اس میں جملہ ’’قَلَّبُوا لَكَ‘‘ تھا۔ آیت سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ زاہدان والی ذمہ داری کافی مشکل ہو گی اگرچہ خدا کی مشیت سے انجام کامیابی ہی ہو گا۔ آخر میں وہی ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔

میں زاہدان میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ اس علاقے میں شیخ کفعمی نامی ایک معروف عالم دین ہیں۔ میں نے مشہد میں موجود آیت اللہ سید میلانی کو خط لکھا جس میں ان سے درخواست کی کہ وہ میرے بارے میں شیخ کفعمی کو ایک خط لکھ دیں جس میں میرا تعارف کرواتے ہوئے وہاں کے حالات کے پیش نظر تعاون کی سفارش کریں۔

سید میلانی کا شمار ان دنوں ایران کے صف اول کے بزرگ علماء اور مراجع تقلید میں ہوتا تھا۔ وہ مشہد مقدس میں رہائش پذیر تھے، مجھ پر بہت مہربان اور میرے ساتھ خاص محبت رکھتے تھے اور اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ زاہدان میں میری ذمہ داری ایک جہادی کام کی ادائیگی ہے۔

میں نے ایک کٹھن دن میں قم چھوڑا۔ مجھے کچھ ساتھیوں سمیت کسی واقعے کی بنا پر قم سے نکالا گیا تھا جو مجھے ابھی صحیح طرح سے یاد نہیں۔

ہم لوگ مدرسہ خان کے تہہ خانے کے عقبی دروازے سے باہر نکلے۔ میں ایسی بس میں سوار ہوا جس کی تمام سواریاں تبلیغ پر جانے والے دینی طلاب اور علماء پر مشتمل تھیں۔

بس قم سے کرمان کی طرف روانہ ہوئی جو اس کا آخری سٹاپ تھا۔ قم سے کرمان کا فاصلہ 1000 کلو میٹر ہے۔ بس کے اندر تیس سے زیادہ مبلغین تھے جو راستے میں مختلف دیہاتوں اور شہروں میں یکے بعد دیگرے اترتے چلے گئے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے بس میں سوار افراد میں شیخ جعفر سبحانی بھی تھے۔ بس جب اصفہان پہنچی تو رات ہو چکی تھی۔ چونکہ ڈرائیور اور سواریوں کے لیے استراحت ضروری تھی لہٰذا ہم نے تمام افراد کے لیے ایک چھوٹا سا گھر کرایے پر لیا، جہاں ایک خوبصورت رات گزاری۔ اس رات ہمارے درمیان  تبلیغی امور، مشکلات اور اہداف جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس طرح کی نشستیں ہماری پسندیدہ ترین گھڑیوں میں سے تھیں۔

جب ہم یزد پہنچے تو وہاں اچانک ہماری ملاقات شیخ صدوقی سے  ہو گئی جو اس وقت یزد کے معروف علماء میں سے تھے اور بعد میں انقلاب اسلامی کی ایک اہم شخصیت قرار پائے۔ امام خمینی= کو ان سے شدید محبت تھی۔ آپ مسجد کے محراب میں منافقین کے ایک گروہ کے ہاتھوں اس وقت شہید ہوئے جب آپ کی عمر تقریبا 80 سال تھی۔ یہ 1983؁ء کا واقعہ ہے۔ پھر ہم کرمان پہنچے جہاں بس سواریوں سے خالی ہو گئی۔ مجھے اپنا سفرجاری رکھتے ہوئے دوسری بس کے ذریعے کرمان سے زاہدان جانا تھا جو 500 کلو میٹر سے زائد کی مسافت تھی۔ کرمان میں میرے کچھ صمیمی دوست تھے جنہوں نے مجھے وہاں چند دن رکنے پر مجبور کیا۔ ان میں سے ایک شیخ جواد حجتی کرمانی تھے جو ہمارے ساتھ علامہ طباطبائی کے پاس ابن سینا کی کتاب الشفا پڑھتے تھے اور دوسرے سید کمال شیرازی۔ دونوں نے قم کے پر آشوب حالات کے بعد اس شہر کو چھوڑا تھا۔ شیخ جواد کا آبائی وطن کرمان ہی تھا جبکہ سید کمال نے میرے پہنچنے سے دو ماہ قبل وہاں سکونت اختیار کی اور وہیں شادی کی۔ کرمان میں علمی اور جہادی دوستوں کے ہاں تین دن مقیم رہا جو میری زندگی کے خوبصورت ترین ایام میں سے تھے۔ مجھے تیسرے دن اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کرمان سے زاہدان کے لیے نکلنا تھا اور وقت کافی گزر چکا تھا۔

انسان کے لیے ایسی صحبت کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے جس سے وہ کئی دنوں تک مانوس رہ چکا ہو اور جسمانی سکون اور روحانی لذت پائی ہو۔ خاص طور پر (میرے لیے بہت مشکل تھا) میں کرمان سے اکیلے ایک ایسی جگہ جا رہا تھا جہاں پہلے سے میری کوئی آشنائی نہیں تھی۔ ایک ایسی نامعلوم منزل  جس کے انجام سےمیں ناواقف تھا۔ دوستوں سے جدائی کے وقت میرا دل غم سے نڈھال تھا۔ آج بھی جب ان غمگین لمحات کو یاد کرتا ہوں تو پھر سے افسردگی چھا جاتی ہے۔

رات کے وقت بس زاہدان کی طرف روانہ ہوئی اور فجر کے وقت ہم زاہدان پہنچ گئے۔ میں نے ایک راہگیر سے شہر کی جامع مسجد کا پتا پوچھا۔ اس نے مجھے شیخ کفعمی کی مسجد کا پتا بتایا تو میں اس طرف چل پڑا۔

اس مسجد کے صحن میں کچھ کمرے تھے جنہیں شیخ نے باہر سے آنے والے مبلغین کی رہائش کے لئے بنا رکھا تھا۔ میں نے ایک کمرے میں اپنا بیگ رکھا اور شیخ کفعمی کے گھر کا پوچھ کر ان کی طرف چل پڑا۔ دروازہ کھٹکھٹایا اور جب دروازہ کھلا تو پہلی دفعہ ایک پچاس سالہ بارعب، بلند قد، بھرے جسم، لمبی داڑھی، سفید عمامے اور چوڑی پیشانی والے شخص کو اپنے سامنے پایا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور خوش ہوئے اور خوبصورت جملوں کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں علم ہوا کہ وہ زاہدان کی باہیبت اور اہم شخصیت ہیں۔

مجھے کہنے لگے: ’’سید میلانی نے مجھے خط لکھا ہے، جس میں انہوں آپ کے بارے میں سفارش کی ہے اور اس خط کے ساتھ  ایک مخصوص خط آپ کے نام بھی ہے۔‘‘ سید میلانی کا میرے نام مخصوص خط ایک خاص معنی رکھتا تھا۔ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ سید مجھے اور میری ذمہ داریوں کو ایک خاص اہمیت دیتے ہیں اور اس خط کے ذریعے وہ شیخ کفعمی پر اس امر کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔

سید میلانی ایک عالم، عارف اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک عظیم انسان تھے۔ شیخ کفعمی بھی معاشرتی اخلاقیات کے حامل تھے۔ آپ زاہدان کے دینی امور چلانے کا اچھا خاصہ تجربہ رکھتے تھے۔

میں نے شیخ کفعمی سے سید میلانی کا خط وصول کیا جس میں انہوں نے اپنی خوش خطی میں یہ جملہ لکھا تھا: ’’میں آپ کے لیے زاہدان میں نیک تمناؤں کا خواہش مند ہوں۔‘‘

درباری مولوی

شیخ کفعمی نے دیر سے پہنچنے کا شکوہ کیا کیونکہ معمول کے مطابق مبلغ کوماہِ رمضان سے پہلے پہنچنا ہوتا ہے تاکہ پہلے ہی اس کا پروگرام ترتیب دیا جا سکے جبکہ میں ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ کو پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’مسجد دن رات آپ کے اختیار میں ہے لیکن مشہد سے ایک مولانا بھی آئے ہیں، وہ بھی تقریر کیا کریں گے۔‘‘

میں اس مولانا کو جانتا تھا۔ وہ درباری ملا تھا۔ اس نے شاہ کے طرف سے پیش کردہ ۶ نکات کی حمایت کی تھی اور ان نکات کے مخالفین پر شدید اعتراض کرتا تھا۔

یہ بات سن کر میں چونک گیا اور شیخ کفعمی سے کہا: ’’آپ کو چاہیے کہ اسے اہمیت نہ دیں اور اسے تقریر کرنے سے روکیں۔‘‘ ہم انہی باتوں میں مصروف تھے کہ وہ مولانا داخل ہوا۔ شیخ کفعمی کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے اور اس پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔ لیکن میں نے اس کی پروا نہیں کی اور میرے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شیخ کفعمی بعد میں میری اس بے اعتنائی کو یاد کرتے اور اس کی تعریف کرتے تھے۔

یہ مولانا ایک چاپلوس شخص تھا۔ جونہی داخل ہوا تو ظاہری نرم خوئی اور مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے سلام کیا۔ اس کی حرکتیں اس کی چاپلوسی کا پتا دے رہی تھیں۔ میں نے سرد مہری کے ساتھ اس کو جواب دیا۔ میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور نہ ہی اس کی طرف دیکھا۔ میں نے فوراً موضوعِ گفتگو کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ دیا اور محفل پر غالب آگیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں اس وقت نوجوان تھا اور یہ مولانا پرائمری سکول میں ہمیں ترانے سکھاتا تھا۔

شیخ کفعمی نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ اس شخص کو بلانے پر مجبور تھے کیونکہ زاہدان میں حکومت سے مربوط کچھ لوگ اس کے چاہنے والوں میں سے ہیں۔ ان لوگوں نے شیخ کفعمی پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس مولانا کو اپنی مسجد میں دعوت دیں۔ شیخ کفعمی کی مسجد اس شہر میں واحد شیعہ مسجد تھی اور شیعہ وہاں اقلیت میں تھے۔

ام ہاشم اور ام قاسم

شیخ کفعمی کا اصرار تھا کہ میں ان کے گھر قیام کروں۔ مجھے بعد میں علم ہوا کہ ان کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ہر ایک الگ گھر میں رہتی ہے۔ دونوں گھر ایک جیسے اور ساتھ ساتھ تھے۔ وہ ان دونوں کے ساتھ مکمل طور پر عدالت سے پیش آتے تھے۔ ان کا دونوں گھروں میں منظم انداز سے آنا جانا تھا۔ وہ پہلے گھر میں ایک مقررہ وقت پر داخل ہوتے، اور اگلے دن اسی وقت دوسرے گھر میں جاتے تھے۔ دونوں گھروں پر مکمل برابری کے ساتھ خرچ کرتے تھے۔ خدا نے بھی چاہا کہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جیسا وہ دونوں گھروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ خدا نے انہیں پہلی زوجہ سے ۴ بیٹے اور ۳ بیٹیاں عطا کیں اور دوسری زوجہ سے بھی ۴ بیٹے اور ۳ بیٹیاں۔ نہ کم نہ زیادہ۔ شیخ کفعمی نے ہر گھر کا نام اس زوجہ کے بڑے بیٹے کے نام سے رکھا تھا۔ ایک گھر کا نام ام ہاشم کا گھر اور دوسرے کا نام ام قاسم کا گھر تھا۔  ہم پہلے گھر والوں کو ہاشم کا خاندان اور دوسرے گھر والوں کو قاسم کا خاندان کہتے تھے۔ ان کے داماد بھی ان دو گھروں کی نسبت سے پہچانے جاتے تھے۔ مثلا سید عبادی جو اس وقت مشہد کے کامیاب اور ممتاز امام جمعہ ہیں، وہ ام قاسم کے داماد ہیں اور شہید مزاری ام ہاشم کے داماد تھے جو بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

حکومتی مبلغین

  میں نے شیخ کفعمی کے گھر میں قیام کیا اور یہ طے پایا کہ ایک دن میرا خطاب ہوگا اور دوسرے دن اس مولانا کا۔ مجھے یہ تقسیم بالکل اچھی نہیں لگی تھی لیکن اسے قبول کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ پھر اس مولانا نے اپنی تقریر کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا کیونکہ وہ خود کو ایک ماہر خطیب سمجھتا تھا۔ اس نے کہا: ’’سید کی تقریر کے بعد بھی مجھے مختصر خطاب کا موقع دیا جائے۔‘‘ اس کی درخواست قبول کر لی گئی۔ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا یہاں تک کہ ۱۵ رمضان کی ظہر کا وقت آن پہنچا۔ جمعے کا دن تھا، اور مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ نماز کے بعد میں منبر پر گیا اور اپنی تقریر میں دینی علماء کو موضوع گفتگو قرار دیا۔ میں نے کہا: ’’عالم دین کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ عالم جو اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے اور دوسرا وہ جو اپنی ذمہ داری سے بھاگتا ہے۔‘‘ اس مجلس میں، میں اس اصلی موضوع کے لیے تمہید باندھ رہا تھا جس کی خاطر میں یہاں آیا تھا اور جسے ۲۱ رمضان کو بیان کرنا تھا۔ ۲۱ رمضان کو مساجد میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے کیونکہ یہ امیر المؤمنین, کی شہادت اور عام تعطیل کا دن ہے۔ تمام لوگ اس دن مساجد کا رخ کرتے ہیں۔

میں نے اپنی تقریر میں اپنی ذمہ داری نبھانے والے علماء کی تعریف کی اور ظالم و جابر حکومت کی خوشامد کرنے اور ان کے لیے کام کرنے والے علماء کے خلاف کھل کر بات کی۔

میں ایسے بات کر رہا تھا گویا حکومتی مبلغین میں سے کوئی فرضی شخص میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں اس سے مخاطب ہوں۔ میں اس فرضی شخص کے ساتھ سخت لب و لہجے میں مخاطب ہوا اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خیانت اور ظالموں کی غلامی پر اس کی ملامت کی۔

وہ مولانا وہیں بیٹھا تھا اور شیخ کفعمی محراب میں اپنے مصلے پر تھے۔ میں نے انتہائی جرات سے خطاب کیا۔ وہ تقریر میری بہترین تقریروں میں سے ایک تھی۔ پھر میں نے سید الشہداء, کے مصائب پڑھے اور منبر سے اتر آیا۔

اس سے پہلے لوگوں کا معمول تھا کہ وہ میری مجلس کے بعد اس مولانا کی تقریر سنتے تھے لیکن اس دفعہ وہ اپنی جگہوں سے کھڑے ہوگئے اور مجھے داد دیتے ہوئے اور تائید کرتے ہوئے میری طرف بڑھے۔  میں وہاں سے نکلا اور لوگ بھی میرے ساتھ نکل آئے۔ میں معمول کے مطابق آرام کرنے کے لیے مسجد کے ایک کمرے کی طرف چلا گیا۔

مسجد سے نکلنے سے پہلے میں نے اس مولانا کو دیکھا۔ وہ منبر کی پہلی سیڑھی پر کھڑا لوگوں سے صرف دس منٹ کے لیے رکنے کی درخواست کر رہا تھا۔ وہ مسلسل درخواست کرتا رہا لیکن لوگوں نے اسے اہمیت نہ دی اور مسجد سے باہر نکل آئے۔ مسجد میں تقریبا پچاس لوگ ہی بچے تھے۔

تقریبا پندرہ منٹ بعد جب میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا میں نے ایک شخص کو چیختے چلاتے اور لعن طعن کرتے سنا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کھڑکی سےباہر دیکھا۔ شیخ کفعمی شیر کی طرح دھاڑ رہے تھے اور لوگ ان کے پیچھے تھے۔ میں یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا۔ میں اسی طرف دیکھتا رہا یہاں تک کہ چند لمحوں بعد وہ مولانا بھاری قدموں کے ساتھ مسجد سے نکلا۔ اس کے چہرے پر شکست اور مایوسی عیاں تھی۔

کچھ دیر بعد میرے پاس ایک ترکھان آیا جو اس مولانا کے دوستوں میں سے تھا۔ اس نے بتایا کہ مولانا نے کوئی ایسی بات کی جس نے شیخ کفعمی کو غضبناک کر دیا۔ شیخ کفعمی اپنی جگہ سے اٹھے اور لوگوں سے کہا: ’’اس شخص کی بات سننا حرام ہے۔‘‘ شیخ کفعمی یہ کہہ کر مسجد سے نکلے اور لوگ بھی ان کے ساتھ نکل پڑے۔

بعد میں مجھے پتا چلا کہ اس بد اخلاق انسان نے میرے بعد تقریر کی اور جن علماء کی میں نے تعریف کی تھی انہیں برا بھلا کہا اور لعن طعن کی۔ شیخ کفعمی نے اپنی شرعی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس کے موقف کی شدید مخالفت کی اور جو کرنا چاہیے تھا وہی کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس واقعے کے بعد زاہدان میں اس مولانا کا رہا سہا مقام بھی ختم ہوگیا۔

مجھے کس چیز سے ڈرا رہے ہو؟

میں اس دن مغرب کے وقت ایک مومن کے گھر افطاری پر مدعو تھا۔ افطار کے بعد میں رات کی مجلس کی تیاری کی خاطر اپنے کمرے میں آیا۔ میں نے دروازے کے پیچھے سے کسی کو مجھے پکارتے سنا۔ میں نے دروازہ کھولا تو صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک جوان کو پایا۔

اس نے مجھے سلام کیا اور کہا: ’’تم فلاں ہو؟‘‘

’’ہاں۔ ‘‘

’’پولیس کے سربراہ نے تمہیں طلب کیا ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’کوئی خاص بات نہیں۔ بس  تم سے کچھ امور سے متعلق بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘

’’مجھے اس طلب کیے جانے کا مطلب معلوم ہے۔ یہ کام تم لوگوں کی مصلحت میں نہیں۔ میں آج مجلس پڑھنے کے لیے مدعو ہوں۔ جب لوگوں کو پتا چلے گا کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے تو اس کا نتیجہ برا ہوگا، خصوصاًآج مسجد میں رونما ہونے والے واقعے کے بعد۔‘‘

لیکن اس جوان نے کہا کہ پولیس کے سربراہ سے ملاقات ضروری ہے اور مجھے اختیار نہیں (کہ آپ کو نہ لے جاؤں۔) میں مسجد سے نکلا تو دیکھا کہ پولیس اور فوج نے مسجد کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ میں جان گیا کہ ارباب اختیار سخت موقف اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ مجھے مجبوراً اس جوان کے ساتھ پولیس کے سربراہ سے ملنے جانا پڑا۔ میں نے ایک قوی جسامت والے پولیس افسر کو دیکھا جو ایک وسیع اور شاندار ہال کے آخر میں بیٹھا تھا۔ یہ افسر ویسا نہیں تھا جیسا میں نے بیرجند میں دیکھا تھا۔ وہ ایک بڑی میز کے پیچھے براجمان تھا۔

جب میں اس کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ کچھ لکھنے میں مشغول تھا۔ یہ ایک بناوٹی مشغولیت تھی جو عموماً آنے والے سے بے اعتنائی کا اظہار ہوتی ہے۔ وہ میرے اندر کمزوری کا احساس ایجاد کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا۔ اس نے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی اپنا سر اٹھایا۔ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دوں لہٰذا میں اس کی اجازت کے بغیر کمرے میں موجود سب سے شاندار صوفے پر بیٹھ گیا۔ پھر  مکمل بے اعتنائی کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے آپ کو کچھ امور میں مصروف کر لیا۔ افسر جان گیا کہ وہ مجھے نفسیاتی شکست دینے میں ناکام ہوگیا ہے۔

اس نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: ’’تم فلاں ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’تم لوگوں کو کیوں بھڑکاتے ہو؟‘‘

’’میں نہیں، بلکہ  تم لوگوں کو بھڑکاتے ہو۔‘‘

وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، گویا اسے اس جواب کی توقع نہ تھی۔پوچھنے لگا: ’’کیسے؟‘‘

میں نےجواب دیا: ’’میں لوگوں کے لیے دینی مسائل اور شرعی احکام بیان کرتا ہوں۔ اس میں کیا بھڑکانا ہے؟ لیکن تم لوگ اپنے اس طرح کے کاموں سے لوگوں کو بھڑکاتے ہو۔ ‘‘

اس کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمودار ہوئے کہنے لگا: ’’ہم لوگوں کو بھڑکانا نہیں چاہتے۔ تم نے اپنی تقریر میں شاہ کی اصلاحات پر تنقید کی ہے!‘‘

میں نے کہا: ’’آپ لوگوں کو جھوٹی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ‘‘

اس شخص کا لہجہ بدل گیا۔

اس نے اپنی گفتگو کے دوران کہا: ’’ہم بھی تمہاری طرح مسلمان ہیں اور سید خمینی سے محبت کرتے ہیں!!‘‘

اس میں شک نہیں کہ وہ اپنی بات میں جھوٹا تھا اور مجھے دھوکہ دینا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: خدایا تیرا شکر!  تو نے اس مغرور فوجی کو مجبور کر دیا کہ ایک جوان اور فقیر طالب علم کے سامنے چاپلوسی کرے جو اس کی قید میں ہے۔

اس کی گفتگو میں نرمی آگئی اور وہ مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’ابھی تمہاری بہت عمر پڑی ہے۔ تم اپنی جوانی کے ابتدا میں ہو۔ کیوں اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال رہے ہو اور اپنے لیے پریشانیاں پیدا کر رہے ہو۔‘‘ اس طرح کی نصیحتیں عام طور پر مخاطب کو نرم کر دیتی ہیں اور جب وہ نرم پڑ جاتا ہے تو اس سے سختی سے برتاؤ کرتے ہیں اور پھر جو چاہتے ہیں اس سے لکھوا لیتے ہیں۔ اسی لیے ایسی نصیحتوں کا جواب  پر اعتماد انداز میں دینا چاہیے جو نصیحت کرنے والے کی امیدوں پر پانی پھیر دے۔

میں نے اس سے کہا: ’’مجھے پہلے بھی بیرجند میں گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس افسر کے پاس لے گئے تھے۔ میں نے وہاں جو بات کہی تھی وہی تمہارے لیے دہرا رہا ہوں۔ میں نے اس سے کہا تھا: تم اپنے کام پر مامور ہو اور میں اپنے کام پر۔ مجھے اپنا دینی پیغام پہنچانا ہے اور تم وہ نافذ کر سکتے ہو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ تم زیادہ سے زیادہ مجھے قتل کر سکتے ہو اور میں نے خود کو شہادت کے لیے آمادہ کر رکھا ہے۔ پھر تم مجھے کس چیز سے ڈراتے ہو؟‘‘

اس طرح کی بات کا اثر دنیا پرستوں پر بجلی گرنے کی مانند ہوتا ہے۔ یہ لوگ موت کے نام سے ڈرتے ہیں۔ یہ افسر جو اپنی جوانی کا عرصہ گزار چکا تھا، موت کے نام سے بھی ڈرتا تھا اور اپنے سامنے ایک ایسے جوان کو، جو اپنی عمر کے آغاز میں تھا، یہ کہتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ میں نے خود کو موت کے لیے آمادہ کر رکھا ہے اور میں موت سے نہیں ڈرتا۔

اس نے اپنا سر پھیر لیا۔ وہ مبہوت اور شکست خوردہ دکھائی دیا۔ پھر اس نے اپنے اطمینان کو بحال کیا اور دوبارہ مجھ سے نرمی سے کہنے لگا: ’’ان شا اللہ تمہارے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ تمہیں صرف یہ لکھ کر دینا ہوگا کہ اس طرح کے کام دوبارہ انجام نہیں دو گے۔ تم ابھی ساتھ والے کمرے میں بعض سوالوں کے جواب دینے کے لیے چلے جاؤ۔‘‘

ساواک کے ساتھ میرا پہلا تجربہ

ساتھ والے کمرے میں تفتیشی افسر نے مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ تم نے منبر پر کیا کہا؟ تم نےایسا کیوں کہا؟ اس سے تمہاری کیا مراد تھی؟ تمام سوالات اس بات پر دلیل تھے کہ میں نے جو کچھ منبر پر بیان کیا تھا وہ ان تک پہنچ چکا تھا۔ جب تفتیش ختم ہوگئی تو وہ لوگ مجھے ایک اور جگہ پر لے گئے۔

اس جگہ میں نے صرف کرخت چہرے والوں کو پایا۔ مجھے علم ہوگیا کہ یہ جگہ ساواک کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ زاہدان میں ساواک کا ہیڈ اس وقت ایک مشہور بدمعاش تھا۔ وہ پہلے مشہد میں اس منصب پر فائز تھا پھر زاہدان منتقل ہو گیا اور پھر وہاں سے کرمان، جہاں وہ سنگین جرائم کا مرتکب ہوا اور انقلاب اسلامی کے بعد وہاں سے فرار ہوگیا۔

مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں مجھے کچھ جوانوں نے گھیر لیا۔ انہوں نے اچھی طرح میری تلاشی لی۔ میرا بٹوہ کھولا، اس میں سے کچھ تصویریں نکالیں اور جن کی تصویریں تھیں ان کے متعلق پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے توہین اور تمسخر کو نفسیاتی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ الحمد للہ، میں نہ جھکا، نہ ان کے سامنے کمزور پڑا اور نہ شکست تسلیم کی۔ البتہ بہت زیادہ درد اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک گھنٹے بعد مجھے باہر نکالا، گاڑی میں سوار کیا اور شہر سے باہر لے گئے۔ موسم بہت سرد تھا اور فضا تاریک۔ یہ برس ان برسوں میں سے ایک تھا جب اس علاقے میں شدید سردی پڑی تھی، یہاں تک کہ زاہدان میں برفباری ہوئی تھی، جہاں عام طور برفباری نہیں ہوتی۔

میں جان گیا کہ جس جگہ مجھے لائے ہیں وہ فوجی چھاؤنی ہے۔ مجھے حوالات میں ڈالا گیا۔ میرے وہاں لائے جانے پر فوجی حیران ہوگئے۔ وہ ایک دبلے سے جوان کو دیکھ رہے تھے، جو کالے عمامے کے ساتھ عینک پہنے دینی علماء کے لباس میں ملبوس تھا۔ یہ تمام تر خصوصیات عام طور پر ہمدردی کے جذبات کو ابھارتی ہیں۔ سپاہی میرے گرد جمع ہوگئے اور مجھے احترام سے سلام کیا۔  جیل کے انچارج نے جب یہ سب کچھ ہوتے دیکھا تو پریشان ہو گیا اور جلدی سے مجھے الگ جگہ لے گیا لیکن وہ خود بھی میرے ساتھ مہربانی سے پیش آیا جو اس کے متاثر ہونے کی دلیل تھی۔ وہ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا جس میں ایک بند ہیٹر پڑا ہوا تھا۔ وہ ایک دفعہ گیا پھر واپس آیا اور  ہیٹر چلا کر مجھ سے نرمی سے پوچھا: ’’کون ہو تم؟‘‘ اور مجھ سے گپ شپ کرنے لگا پھر کھانا لایا اور چلا گیا۔ پھر ایک مرتبہ دوبارہ آیا اور کمرے میں بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ ہمارے درمیان دلچسپ باتیں شروع ہوگئیں۔ اس نے مجھے بتایا: ’’جس نے تمہیں یہاں تک پہنچایا ہے وہ تمہی میں سے ہے!‘‘ میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔ جیسے ہی صبح ہوئی، اس نے خدا حافظی کی اور چلا گیا۔

یہاں گفتگو کے درمیان میں ایک بات کہتا چلوں۔ میرا حلیہ تمام تر گرفتاریوں میں توجہ کا باعث بنتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی گرفتاری کے موقع پر جب میں چھاؤنی میں داخل ہوا اور ضروری کاغذی کاروائی کے لیے حوالات کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا، اسی اثناء میں سامنے کی سیڑھیوں سے جنرل مین باشیان اترا جو اس وقت کے مشہور ترین جنرلوں میں سے تھا۔ دور سے اس کی نگاہ مجھ پر پڑی تو مجھے دیکھتے ہوئے قریب آنے لگا۔ جب نزدیک پہنچا تو مجھ سے پوچھا: ’’کون ہو تم؟ تمہیں یہاں کیوں لائے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ملک کی مصلحت کے خلاف کوئی بات کی ہے۔‘‘ اس نے میری فائل منگوائی، ورق گردانی شروع کی اور ساتھ ساتھ حیرت اور افسوس کے ساتھ سر ہلانے لگا۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا: ’’تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ پھر وہ چلا گیا۔

پہلا ہوائی سفر

 بہرحال، مجھے صبح سویرے ساواک کے ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں میں عصر کے وقت تک رہا۔ اس اثناء میں مجھ سے گھنٹوں تفتیش کی گئی۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تفتیشی افسر میرے بچپن کا دوست تھا۔ میں اس کے اور اس کے بھائیوں کے ساتھ بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔ اس کے والد اور اس کے خاندان کے بعض افراد، علماء اور باعظمت سادات میں سے تھے۔  پھر وہ مجھے عصر کے وقت ہوائی اڈے پر لے آئے۔ مجھے دو لوگوں کی ہمراہی میں ہوائی جہاز میں بٹھا دیا۔ ہوائی جہاز نے ایک ایسی منزل کی طرف پرواز شروع کی، جس کا مجھے علم نہیں تھا۔ بعد میں، میں سمجھ گیا کہ ہم تہران جا رہے ہیں۔

یہ میرا پہلا ہوائی سفر تھا۔ اسی مناسبت سے یہ بھی بتاتا چلوں کہ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد کسی کام کے سلسلے میں میرا پہلا ہوائی سفر زاہدان کی طرف تھا۔ امام خمینی= نے مجھے ایک حکم نامے کے ساتھ بلوچستان بھیجا تھا۔([2])  شیخ راشد بھی میرے ساتھ تھے، جو 1978؁ء میں میرے ساتھ بلوچستان کے ایک شہر ’’ایرانشہر‘‘ میں شہر بدر تھے۔ پس میں ہوائی جہاز کے ذریعے تہران سے کرمان گیا۔ نظام جمہوری اسلامی ایران پر ریفرنڈم کے دن (31 مارچ 1979؁ء) میں کرمان پہنچا اور پھر وہاں سے زاہدان چلا گیا۔ ہوائی اڈے پر علاقے کے چند علماء اور مشائخ میرے استقبال کے لیے جمع تھے۔ میں نے وہاں پر انہیں بتایا: ’’یہ وہی ہوائی اڈہ ہے جہاں سے میں اپنی زندگی کے پہلے ہوائی سفر پر روانہ ہوا تھا اور اب انقلاب کی کامیابی کے بعد اسی ہوائی اڈے پر اپنے پہلے ہوائی  سفر میں پہنچا ہوں۔‘‘

غزل کی کشتی

جب میں اس ہوائی جہاز پر سوار تھا جس میں مجھے گرفتار کر کے تہران لے جایا جا رہا تھا، تو میں مختلف امور کے بارے سوچ رہا تھا۔ اس تحریک کے مستقبل کے بارے میں، اس کے بانی امام خمینی= کے بارے میں، اپنے والد کے بارے میں (ان کی بینائی سیاہ موتیا کے باعث ختم ہونے کو تھی اور انہیں تہران میں علاج جاری رکھنے کے لیے میری ضرورت تھی۔) اور اپنے مستقبل کے بارے میں جو میرا انتظار کر رہا تھا۔ پھر میں نے ان امور کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا جن کا انجام صرف خدا جانتا تھا۔  میں نے میگزین اٹھایا اور اس کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میری نظر ایک غزل پر پڑی جو مجھے پسند آئی۔ میری عادت یہ تھی کہ اچھے اشعار کو ایک خاص ڈائری میں لکھ لیتا تھا۔ اس ڈائری کا نام میں نے ’’غزل کی کشتی‘‘ رکھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ بیٹھے سپاہی جھانک کر مجھے دیکھ رہے ہیں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں؟ وہ دیکھتے رہے اور میں ان کے فضول کام کی طرف توجہ کیے بغیر لکھتا رہا۔ شعر لکھنے کے بعد میں نے نیچے یہ جملہ لکھا: ’’میں نے یہ اشعار زاہدان سے نامعلوم منزل کی طرف جاتے ہوئے جہاز میں لکھے اور دو لوگ میرے ہمراہ تھے جو بڑے خوش اخلاق تھے۔‘‘ اس جملے نے ان دونوں پر بہت اچھا اثر چھوڑا۔

جہاز رات کے وقت تہران کی فضا میں پہنچا۔ شہر کی روشنیاں منظر کو دلکش بنا رہی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں سپاہی شہر تہران کا منظر دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دار الحکومت پہنچنے پر مسرور ہیں، خاص طور پر ان میں سے ایک کچھ زیادہ خوش دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: ’’میں اپنی قدر وقیمت جانتا ہوں۔ تم میری وجہ سے جہاز سے تہران آئے ہو۔ اگر میری جگہ کوئی دوسرا قیدی ہوتا تو تمہیں گاڑی کے ساتھ خاش (صوبہ سیستان و بلوچستان کا ایک شہر جو تفتان کی پہاڑیوں کے ساتھ واقع ہے) بھیجا جاتا اور تم اپنی رات صحرا اور بیابانوں میں گزارتے۔ جبکہ اس وقت تم تہران میں خوبصورت رات گزار رہے ہو۔‘‘ وہ کھل کر ہنسا جو اس کی گہری خوشی اور مسرت کو عیاں کر رہا تھا۔

’’سلطنت آباد‘‘ کی چھاؤنی

ہم جہاز کی سیڑھیوں سے اترے۔ ساواک کی گاڑی سیڑھیوں کے پاس انتظار میں کھڑی تھی۔ گاڑی ہمیں لے کر تہران کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا جہاں سے باہر دیکھنا دشوار تھا۔ لیکن جن سڑکوں سے ہم گزر رہے تھے ان میں سے بعض کو میں پہچان گیا۔ رات بہت سرد تھی اور برفباری ہو رہی تھی۔ ہم ایسی جگہ پہنچے جو عمارتوں سے خالی تھی۔ میں کچھ پریشان ہوا کیونکہ مجھے لگا وہ لوگ اس بیابان میں مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر بعد گاڑی رکی۔ میں نے ’’رک جاؤ‘‘ کی آواز سنی۔ میں سمجھ گیا کہ ہم فوجی چھاؤنی پہنچ چکے ہیں۔ گاڑی میں سے ایک شخص نیچے اترا۔ اس نے نگہبان کو ایک کاغذ پکڑایا۔ نگہبان نے دروازہ کھولا اور ہم اندر داخل ہو گئے۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ یہ سلطنت آباد کی چھاؤنی ہے۔

ہم چیک پوسٹ کے پاس گاڑی سے اترے۔ انہوں نے میری تفتیش کی اور مجھے چیک پوسٹ کے افسر کے حوالے کر دیا۔ وہ دونوں سپاہی چلے گئے۔ وہ لوگ مجھے ایک بڑے اور صاف ستھرے کمرے میں لے آئے جہاں دو چارپائیاں لگی تھیں اور ایک صاف ستھرا ہیٹر پڑا تھا۔

افسر نے مجھ سے پوچھا: ’’کیا تم نے رات کا کھانا کھایا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ وہ میرے لیے رات کا کھانا لے آئے۔ میں نے کھانا کھایا، نماز پڑھی اور اس کے بعد سکون سے گہری نیند سوگیا۔ کمرے کے باہر اندھیرا چھا چکا تھا لہٰذا کمرے سے باہر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں صبح بیدار ہوا اور نماز پڑھی۔ پھر ایک سپاہی آیا اور اس نے کہا: ’’ناشتہ چاہیے؟‘‘ میں سفر کی وجہ سے روزے سے نہیں تھا۔ میں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ وہ میرے لیے چائے کی ایک بڑی پیالی اور فوجیوں کی مخصوص روٹی([3]) لے آیا۔ روٹی کے ساتھ تھوڑا سا مکھن بھی تھا۔ مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی۔ میں نے سارا کھانا کھا لیا۔ مجھے اس کھانے میں اک خاص لذت محسوس ہوئی۔

وہ برفباری والا دن

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا، برف ہر چیز کو ڈھانپ چکی تھی۔ جب ہم تہران پہنچے تو ہلکی پھلکی بارف باری ہو رہی تھی۔ لیکن  رات بھر میں زمین سفید اور صاف چادر اوڑھ چکی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سپاہی آجا رہا تھا۔ میں جان گیا کہ میرا کمرہ جیل کے ساتھ ہے اور وہ سپاہی نگہبان تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے بلایا گیا تو میں نے دیکھا وہ دونوں سپاہی پہنچے ہوئے ہیں جو سفر میں میرے ساتھ تھے۔ میں ان دونوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ہم ’’شارع شمیران([4])‘‘ پر واقع ایک عمارت کی طرف گئے۔ وہ جگہ ساواک کی مخفی عمارتوں میں سے ایک تھی۔ ان دونوں سپاہیوں نے مجھے خدا حافظ کہا۔ ان کے چہروں پر رقت اور ہمدردی ظاہر تھی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’’آپ کی کوئی وصیت ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’شیخ کفعمی کو میرا سلام پہنچا دینا۔‘‘ میں اس طرح شیخ کو سمجھانا چاہتا تھا کہ میں تہران میں ہوں۔

وہ مجھے ایک بڑے کمرے میں لے گئے جہاں میں کافی دیر تک بیٹھا رہا۔ اس دوران ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولا۔ ترچھی نگاہوں کے ساتھ غصے سے میری طرف دیکھا اور پھر چلا گیا۔ پھر دوسرا آیا اور اس نے بھی یہی حرکت کی۔ چند بار ایسا ہوا یہاں تک کہ ایک سپاہی آیا اور اس نے کہا: ’’آجاؤ۔‘‘

مجھے حیرت ہوئی جب انہوں نے ایک بار پھر مجھے دو سپاہیوں کے ساتھ گاڑی میں بٹھا دیا۔ گاڑی ہمیں لے کر راستہ طے کرنے لگی جبکہ مجھے منزل کا کچھ پتا نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گاڑی ’’شارع کرج([5])‘‘ سے ہوتی ہوئی مغربی تہران کی طرف جا رہی ہے۔ میں اس سڑک کو اچھی طرح سے جانتا تھا کیونکہ عراقی قونصل خانہ یہیں پر واقع تھا۔ میں 1957؁ء میں عراقی ویزا لینے وہاں گیا تھا۔ اس سڑک کو عبور کرنے کے بعد گاڑی شمال مغرب کی طرف مڑی، یہاں تک کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں کوئی عمارت نہ تھی۔ میری حیرت میں اضافہ ہوا اور میں اپنے انجام کے بارے میں فکرمند ہو گیا۔ کچھ مسافت کے بعد گاڑی دائیں مڑی۔ ایک چیک پوسٹ کو عبور کیا جس کے پاس نگہبان کھڑا تھا۔ میں نے چیک پوسٹ کی دوسری طرف برف سے ڈھکا میدان دیکھا۔ گاڑی میدان میں ایک جگہ رکی۔ دونوں سپاہی نیچے اترے۔ میں بھی ان کے ساتھ اترا۔ میں نے میدان کی ایک طرف ایک بڑا سا قلعہ دیکھا جس کے گرد تقریبا دس میٹر بلند دیوار تھی۔ دوسری طرف  زرد رنگ کی چھوٹی فوجی عمارتیں تھیں اور تیسری طرف ایک نئی عمارت تھی۔ ایک سپاہی نئی عمارت میں داخل ہوا اور دوسرا گاڑی کے انجن اور ٹائروں کا معاینہ کرنے لگا۔ راستے میں وہ دونوں ترکی زبان میں گفتگو کر رہے تھے جسے میں بھی جانتا تھا۔ میں نے چاہا کہ جس جگہ پر ہم رکے ہیں اسے جان سکوں۔ میں نے اپنے ساتھ والے سپاہی سے ترکی زبان میں پوچھا: ’’یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘ ترکی زبان میں سوال پوچھنے سے وہ متاثر ہوا۔ اس نے احتیاط کرتے ہوئے دائیں بائیں دیکھا اور ترکی لہجے میں کہا: ’’قزل قلعہ۔([6])‘‘

قزل کا معنی ترکی زبان میں سرخ یا سنہری بنتا ہے۔ پس ہم مشہور ’’قزل قلعہ‘‘ جیل میں تھے۔([7]) میں نے اس جیل کے بارے سن رکھا تھا یہ جیل قیدیوں کے ساتھ سختی اور ان پر تشدد کے حوالے سے مشہور تھی۔

دوسرا سپاہی واپس لوٹا۔ وہ دونوں قلعے کی طرف چلے اور میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ بیرونی دیوار کا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی برف پر دوڑتا ہوا ہماری طرف آیا۔ اس نے پوچھا: ’’یہ ہے وہ؟‘‘ اور میری طرف اشارہ کیا۔ دونوں سپاہیوں نے جواب دیا: ’’ہاں، یہ وہی ہے۔‘‘ پھر سپاہی نے میری طرف رخ کیا اور کہا: ’’میرے ساتھ آؤ۔‘‘ میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ بعد میں میری اس کے ساتھ آشنائی بھی ہوگئی۔ وہ شیراز سے تعلق رکھنے والا ایک شریف جوان تھا جو جبری فوجی ٹریننگ کا عرصہ گزار رہا تھا۔ میں دروازے سے داخل ہوا تو چند میٹر دور ایک بلند دیوار کو دیکھا۔ اس میں بھی ایک دروازہ تھا۔ وہ دوسرا دروازہ کھلا، میں نے ایک بڑا میدان دیکھا جس کے وسط میں جیل کی عمارتیں تھیں۔ ہم جیل کے قلعے کی طرف چلے۔ اس کا دروازہ بھی کھولا گیا۔ یہ ایک بڑا اور خوفناک فولادی دروازہ تھا جو لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہوا تھا۔ دروازے کے بعد ایک تنگ رستہ تھا جس کے دونوں طرف قطار میں کوٹھڑیاں تھیں۔

سکیورٹی انچارج ’’زمانی‘‘

قرآن، تسبیح، ڈائری اور کتاب ’’تذکرۃ المتقین‘‘ میرے ہمراہ تھیں۔ یہ کتاب بزرگ علماء اور فقہاء کے نصائح اور اذکار پر مشتمل ہے، جن کا موضوع عرفانِ شرعی ہے۔ یہ کتاب سید کمال موسوی نے مجھے کرمان میں دی تھی۔ وہ زاہدان میں میرے رفیق تھے۔ اسی طرح میری جیب میں چار تومان اور دو رِیال تھے۔ جب میں زاہدان میں ساواک کے پاس تھا تو مجموعی طور پر میرے پاس پانچ تومان تھے، جن میں سے آٹھ رِیال روٹی اور دو انڈے خریدنے میں خرچ ہوئے۔

یہ کوٹھڑی مربع شکل میں تھی جس کی لمبائی اور چوڑائی دو میٹر سے زیادہ نہ تھی۔ اس کا آدھا حصہ کچھ بلند تھا جسے بیٹھنے اور سونے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس پر بھوسے سے بھرا ایک گدا پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے دو کمبل دیے۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں اس قدر چھوٹے کمرے میں قید ہوا تھا۔ میں کچھ دیر حیران و پریشان بیٹھا رہا۔ میں نے دائیں بائیں نگاہ کی، چھت میں ایک چھوٹا سا روشندان تھا اور چھت کے اوپر قیدی کی نگرانی کے لیے ایک نگہبان ٹہل رہا تھا۔ اسی طرح دورازے کے بالائی حصے میں بھی ایک چھوٹا روشندان تھا جسے کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا۔ دوسری جانب ایک مدہم روشنی والا پندرہ واٹ کا بلب جل رہا تھا۔

میرے کوٹھڑی میں آنے کے چند منٹ بعد دروازہ کھلا اور ایک سپاہی داخل ہوا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ یہ سکیورٹی انچارج زمانی تھا۔ اسی مناسبت سے ذکر کرتا چلوں کہ جیل کی سکیورٹی کی ذمہ داری اسی رینک کے پانچ اہلکار باری باری انجام دیتے تھے۔ ان میں سے دو اہلکار اس جیل کے قیدیوں کے درمیان بہت مشہور تھے۔  ایک یہی زمانی اور دوسرا سکیورٹی انچارج ساقی، جس کے بارے میں بعد میں بیان کروں گا۔

زمانی داخل ہوا اور کہنے لگا: ’’تمہارے پاس کیا کچھ ہے؟‘‘

میں نے کہا: ’’آپ تلاشی لے سکتے ہیں۔‘‘

وہ تلاشی لینے لگا۔ اس نے قرآن نکالا، اس کی طرف دیکھا اور کہا: ’’یہ قرآن ہے؟ کوئی بات نہیں، یہ تمہارے پاس رہے۔‘‘ ایسا لگتا تھا کہ میری جیب میں اتنی کم رقم دیکھ کر  اس کا دل نرم پڑ گیا۔ پھر اس نے کتاب ’’تذکرۃ المتقین‘‘ کے بارے میں پوچھا : ’’شاید یہ دعاؤں کی کتاب ہے؟‘‘ وہ چاہ رہا تھا کہ میں ’’ہاں‘‘ میں جواب دوں تاکہ وہ یہ کتاب میرے پاس رہنے دے۔ لیکن میں نے اسے کہا: ’’یہ عرفانی کتاب ہے اور۔۔۔‘‘ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’ہاں دعا کی کتاب ہے۔۔۔ ہاں دعا کی کتاب ہے۔ کوئی بات نہیں تمہارے پاس رہے۔‘‘ اس کا رویہ اس بات پر واضح دلیل تھا کہ وہ میری مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس نے مجھ سے ٹیلیفون نمبروں کی ڈائری کے علاوہ اور کچھ نہیں لیا۔ وہ نکل گیا اور میں اکیلا رہ گیا۔

عرب قیدی

میں نے قرآن کھولا اور اونچی آواز میں تلاوت کرنے لگا۔ تلاوت کرتے وقت میرا لہجہ بالکل بھی فارسی نہیں لگتا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی عرب تلاوت کر رہا ہے۔ میں تلاوت میں مشغول تھا،  میں نے دیکھا کہ کوئی کوٹھڑی کے دروازے میں موجود چھوٹی کھڑکی کھول کر مجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ چلا گیا اور دوسرا آگیا پھر تیسرا۔ یہ چھوٹی کھڑکی قیدی اور نگہبان کے درمیان بات چیت کے لیے مخصوص تھی۔ میں سمجھا کھڑکی سے جھانکنے والے نگہبان ہیں۔ لیکن جب کسی نے مجھے خاص خوزستانی عربی لہجے میں پکارا تو میں جان گیا کہ یہ لوگ نگہبان نہیں ہیں۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی اور نہ ہی میں نے جواب دیا۔ ایک اور قیدی آیا اور اس نے عربی میں پوچھا: ’’تم اہواز شہر سے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’میں مشہد سے ہوں۔‘‘ یہ سنتے ہی وہ لوگ چلے گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔

مجھے بعد میں پتا چلا وہ ’’جبہۃ التحریر العربیة‘‘ نامی تنظیم سے تھے۔  شروع میں انہیں جمال عبد الناصر([8]) کی پشت پناہی حاصل تھی۔ بعد میں عراقی بعثیوں نے انہیں اسلامی انقلاب کے خلاف استعمال کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ اس انقلاب کے خلاف ہوگئے جس نے اسلام اور عربوں کے دشمن شاہی نظام کا خاتمہ کیا تھا۔

یہاں یہ بات مجھے حتماً ذکر کرنی چاہیے کہ خوزستانی عرب دین دار ہیں  اور اہل بیت رسول. سے عقیدت رکھتے ہیں۔ انقلاب سے پہلے میں جن خوزستانیوں سے ملا ان میں اس دین داری کا بخوبی مشاہدہ کیا اور انقلاب کے بعد خاص طور پر ایران عراق جنگ میں اس دین داری کو مزید قریب سے دیکھا۔ خوزستانی مرد و زن صدام حکومت کے خلاف اور اسلامی حکومت کے دفاع میں بہادری کے ساتھ مزاحمت کرتے رہے۔ انہوں نے صدام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو ان خوزستانیوں سے تعاون کی توقع رکھے ہوئے تھا۔ ایران عراق جنگ([9]) کے دوران خوزستانیوں نے دین اور اسلامی حکومت کے ساتھ اپنی نظریاتی وابستگی کو ثابت کیا۔ وہ جوان مردوں کی طرح ڈٹے رہے۔ بڑی تعداد میں شہید دیے اور صبر کے ساتھ خدا کی خوشنودی کی خاطر اپنے تباہ شدہ شہروں سے ہجرت کی۔ یہی وجہ ہے کہ قوم پرست بے دین گروہ جو بعثیوں کے ساتھ مربوط تھا انقلاب اسلامی کے آغاز میں ہی خوزستان کی عوام سے جدا ہوگیا اور اس کے بعد ان کا کوئی قابل ذکر وجود نہیں رہا۔

میرے قید ہونے کے چند دن بعد مجھے کوٹھڑی سے نکل کر برآمدے میں آنے کی اجازت دی گئی۔ میں ان عربوں سے آشنا ہوا۔ وہ مجھ سے مانوس ہو گئے اور میں ان سے۔ وہ سب فارسی جانتے تھے کیونکہ ایرانی تھے۔ لیکن میں عربی زبان کے ساتھ اپنے خاص لگاؤ کی وجہ سے ان کے ساتھ عربی میں بات چیت کرتا تھا۔

ان کے درمیان ادب سے لگاؤ رکھنے والا ایک شخص تھا جسے شعروشاعری کی سمجھ بوجھ ہونے کے علاوہ بہت سارے اشعار بھی حفظ تھے۔ اس کا نام سید باقر نزاری تھا۔ میں نے اس سے بہت سے اشعار یاد کیے۔ عرب برادران جیل میں ’’ابوذیہ([10])‘‘ پڑھتے تھے۔ میں ان میں سے ایک (آل ناصر کعبی) کے ساتھ بہت زیادہ عربی بولتا تھا۔ میں اسے عربی لغت کے قواعد سکھاتا تھا کیونکہ وہ لغت کے قواعد سے نا آشنا تھا۔

سید نزاری ایک متدین شخص تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ بلند آواز میں زیارت عاشوراء پڑھتا، اہل بیت اطہار. پر سلام بھیجتا اور ان کے دشمنوں پر لعنت کرتا تھا۔ پھر وہ اذکار پڑھتے ہوئے برآمدے میں ٹہلتا رہتا تھا۔ ان میں سے ایک  شخص میرے ساتھ والی کوٹھڑی میں قید تھا جس کا نام شیخ حنش تھا۔([11]) اسی طرح میری دوسری جانب اسی گروہ کا ایک جوان تھا جس کی عمر بیس سے تیس سال کے درمیان تھی۔ اس کا نام شیخ عیسی تھا اور وہ وجیہ اور باوقار جوان تھا۔ مجھے پتا چلا کہ وہ اپنی والدہ کا اکلوتا بیٹا تھا اور اپنے قبیلے میں خاص مقام رکھتا تھا۔ ان میں سے ایک شیخ دہراب کعبی تھے۔ وہ قبیلے کے سربراہ اور تمام افراد کے لیے قابل احترام شخصیت تھے۔ مجھے یاد ہے خوزستانی برادران کھلی ہوا میں ٹہلتے وقت از راہ مذاق ایک دوسرے کو مارتے تھے۔ ان میں سے بعض شیخ دہراب کی پناہ لے لیتے تھے۔ اگر کوئی شیخ دہراب کے پاس پناہ لے لیتا تو کوئی ان کے نزدیک جانے کی جرات نہیں کرتا تھا۔

ان میں سے ایک عبد الزہراء بہشتی بھی تھے جو میرے سامنے والی کوٹھڑی میں قید تھے۔ اس جیل میں میری خوزستانی برادران کے ساتھ  کئی یادیں ہیں، جن میں سے بعض کا تذکرہ کرتا ہوں۔

  • آل ناصر کعبی کے ساتھ میری خاص نشستیں ہوتی تھیں۔ میں نے اسے دوسروں سے ممتاز پایا۔ سب اس کا احترام کرتے تھے۔ جب وہ تنظیمی افراد کے سامنے سے گزرتا تھا تو وہ اس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہنسی مذاق اور فضول کاموں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔ وہ اطمینان اور وقار میں اپنے ساتھیوں سے منفرد تھا لیکن اس کا یہ وقار، تکبر اور دوسروں کی تحقیر کی بنا پر نہیں تھا۔ یہ نشستیں عربی، انگریزی اور ترکی زبان میں باہمی گفتگو سے شروع ہوئیں۔ اسی دوران عربی قواعد سیکھنے سکھانے کا سلسلہ بھی جاری رہا، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔ پھر یہ نشستیں اسلام کی موجودہ مشکلات اور طاغوتی حکومتوں کے مفاسد جیسے موضوعات پر بحث و گفتگو کی طرف بڑھیں۔ مزید بات آگے بڑھی تو میں نے اسے تنظیمی روابط کی پیشکش کی۔ اس نے میری یہ پیشکش خوشی سے قبول کر لی۔ یقینا ہمارا باہمی تعلق اس قدر بے تکلفی تک نہیں پہنچا تھا اور دونوں طرف سے یہ سب کچھ احتیاط کے خلاف تھا۔

جیل سے آزاد ہونے کے بعد میں نے اخبار میں آل ناصر کعبی، دہراب کعبی اور شیخ عیسیٰ کی پھانسی کی خبر پڑھی۔ یہ میرے لیے انتہائی دردناک خبر تھی۔ آل ناصر کعبی اعلی شخصیت اور مروت کے مالک تھے۔ مجھے یاد ہے انہوں نے ایک دفعہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’جناب سید! عورت کو مکمل عورت ہونا چاہیے۔‘‘ اس جملے نے اپنے خاص معنی اور ایک سمجھ دار شخص کی زبان سے نکلنے کی وجہ سے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔

  • میرا ساٹھ سالہ ہمسایہ حنش بھی باوقار، متوسط قد اور اپنی قوم میں قابل احترام تھا۔ مجھے ابھی تک اس کی بات یاد ہے: ’’میری تین بیویاں ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے میں نے چوتھی شادی کی ہے لیکن ابھی تک اسے وقت نہیں دے سکا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے اگر عید الفطر سے پہلے آزاد نہ ہوا تو اسے طلاق دے دوں گا تاکہ وہ میرے انتظار میں نہ رہے۔‘‘ لیکن عید سے پہلے اسے رہا کر دیا گیا۔

اسی مناسبت سے بتاتا چلوں کہ میں نے اس سے ایک دن ’’حنش‘‘ کا معنی پوچھا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سید باقر نے مجھے کہا کہ میں دوبارہ یہ سوال نہ پوچھوں۔ میں نے تعجب سے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: ’’حنش‘‘ کا کچھ اچھا معنی نہیں ہے۔‘‘ میرے تعجب میں اضافہ ہوا اور میں نے اس کی وجہ تسمیہ پوچھی تو انہوں نے کہا: ’’ان کے  علاقے میں یہ کہا  جاتا ہے کہ اگر بچے کا برے سے برا نام رکھا جائے تو وہ زندہ اور زمانے کی آفات سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘ عجیب عقیدہ تھا! اور اس سے بھی عجیب یہ کہ حنش کے سارے بھائی وفات پا گئے اور وہ زندہ رہا۔

زندان میں رمضان المبارک  کی مجالس

وہ راتیں، ماہ رمضان کی راتیں تھیں۔ خوزستانی بھائی افطار کے بعد جیل کے برآمدے میں جمع ہو جاتے تھے۔ وہ لوگ کمبل بچھاتے، چائے بناتے، اور ’’شیشہ‘‘ سلگاتے تھے جبکہ میں انہیں کوٹھڑی سے دیکھ رہا ہوتا تھا۔ جب (جیل کے حکام کی طرف سے) مجھے برآمدے میں آنے کی اجازت دی گئی تو میں بھی ان کی محافل میں شریک ہونے لگا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ میں ہر رات  مجلس پڑھوں گا۔ اس کے بعد سید کاظم (خوزستان سے ان کا تعلق تھا اور ان کی آواز بہت اچھی تھی) شعر، منقبت اور مرثیے پڑھیں گے اور پھر آخر میں معمول کے مطابق امام حسین, کے مصائب پڑھیں گے۔ میری تقریر کے دوران اشاروں کنایوں میں حکومت پر تنقید ہوتی تھی۔ میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب,، ان کی عدالت، اور اسلامی حاکم کی صفات کے بارے گفتگو کرتا تھا۔ وہ لوگ یہ بیانات سن کر بہت خوش ہوتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ باتیں ان کے ارمانوں، دردوں اور امیدوں کے مطابق تھیں۔

ان مجالس کا خرچہ ہر رات حاضرین میں سے ایک نفر اٹھاتا تھا، لیکن چونکہ اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا لہٰذا میں یہ خرچہ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اکثر خرچہ چائے اور چینی کی خریداری پر ہوتا تھا۔

اس جیل میں ہمارے ساتھ ایک ارمنی باشندہ بھی تھا۔ اس کا نام آوانسیان تھا۔ بعد میں ہمیں پتا چلا کہ وہ تودہ پارٹی([12]) کے رہنماؤں میں سے تھا۔ قیدیوں کے درمیان اسے خاص امکانات اورسہولیات حاصل تھیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ یہ ارمنی قیدی ماہِ رمضان میں ایک دن ہماری مجلس کے نزدیک آیا۔ اس نے میری باتیں غور سے سنیں اور بہت خوش ہوا۔ وہ کچھ راتوں بعد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’کیا آپ لوگ اجازت دیں گے کہ اگلی مجلس کا خرچہ میں اٹھاؤں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہمیں خوشی ہوگی۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ طہارت و نجاست کے حوالے سے ہمارے نظریات جانتا تھا اور اسے معلوم تھا کہ ہماری نظر میں اگر وہ کسی چیز کو چھو لے گا تو وہ نجس ہو جائے گی۔ (اہل کتاب کے حوالے سے مشہور علماء کی رائے یہی ہے۔ یہاں ضمنی طور پر بیان کرتا چلوں کہ میں بذات خود اہل کتاب کی طہارت کا قائل ہوں۔) یہی وجہ ہےکہ اس نے چائے اور چینی لا کر وہاں رکھ دی تاکہ مسلمان بھائی خود چائے بنالیں۔

ہم کوٹھڑیوں میں جا کر ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ عرب بھائیوں کا میرے پاس آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میں بھی ان کے پاس جایا کرتا تھا۔ ایک رات میں آوانسیان سے ملنے اس کی کوٹھڑی میں گیا۔ اس نے وہاں ان چیزوں سے میری خاطر تواضع کی جنہیں اس نے نہیں چھوا تھا۔

میں کوٹھڑی کی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا جبکہ میرے دوست اس بات کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ سگریٹوں کی راکھ اور بچے ہوئے ٹکڑے زمین پر پھینک دیتے تھے۔ سگریٹ کی ڈبیوں سے میں نے ایک ایش ٹرے ان کے لیے بنائی اور جب بھی دیکھتا کہ کوئی سگریٹ پی رہا ہے تووہ ایش ٹرے اس کے سامنے رکھ دیتا تھا۔ وہ تعجب کے ساتھ اس کی طرف دیکھتا اور اس ڈر سے کہ  خاکستر ایش ٹرے میں نہ گرے اپنا ہاتھ دوسری طرف لے جاتا!

ایک سادہ لوح قیدی

میں نے اس جیل میں ڈیڑھ ماہ گزارا، جس دوران کبھی ہنسانے والے اور کبھی رلانے والے واقعات پیش آتے تھے۔ جیل کی ابتدائی راتوں میں سے ایک رات میں نے تہرانی لہجے میں کچھ آوازیں سنیں۔ اس وقت میں کوٹھڑی میں رہنے پر مجبور تھا اور مجھے وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں جان گیا کہ یہ جدید قیدی ہیں۔ میں نے ان کی باتیں غور سے سنیں اور اس نتیجے تک پہنچا کہ وہ لوگ کچھ گھنٹے پہلے گرفتار ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے میری کوٹھڑی کی کھڑکی کھولی اور میری طرف دیکھا۔ مجھ سے میرا نام پوچھا۔ میں نے اپنا نام بتایا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں مشہد کا ایک  دینی طالب علم ہوں۔ ان لوگوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی گرفتاری کی وجہ بھی بتا ئی۔ مجھے پتا چلا کہ وہ لوگ کچھ جوان تاجر تھے جو بازار میں کام کرتے تھے۔ بازار کے اندر مشہور و معروف جامع مسجد تھی جس میں متعدد بڑے ہال تھے۔ ایک ہال میں ایک باشعور انقلابی عالم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ جیسا کہ ماہِ رمضان میں عام طور پر نماز کے بعد علماء منبر پر جاکر لوگوں کو نصحیت کرتے ہیں۔ یہ امام جماعت بھی مختلف انقلابی خطیبوں کو اپنی مسجد بلاتے تھے۔ ایک دن خطابت کے دوران یہ جوان جوش میں آگئے اور انہوں نے بلند آواز میں نعرہ بازی کی۔ پولیس نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں گرفتار کر کے جیل لے آئے۔ میں انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا چونکہ اس وقت تک میں خوزستانیوں کے ساتھ گھل مل نہیں سکا تھا۔  چند گھنٹوں بعد میں نے کچھ اور آوازیں سنیں اور پھر پتا چلا کہ ان کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ مجھے ایسا لگا جیسے ان کے جانے سے میں نے کچھ کھو دیا ہے۔

میں نے مغرب کی نماز پڑھی اور تعقیبات میں مشغول ہوگیا۔ اتنے میں ایک شخص نے کھڑکی کھولی اور کہا: ’’سید! میں واپس آگیا ہوں۔‘‘ میں نے دوسروں کے بارے پوچھا تو اس نے کہاکہ انہیں آزاد کر دیا گیا ہے۔ مجھے پتا چلا کہ دوسروں کو آزاد کر کے صرف اسے جیل میں رکھا گیا ہے۔ وہ ایک لمبی مدت تک جیل میں رہا۔ بعد میں جب میری کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا اور مجھے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تب یہ شخص میرے پاس آتا تھا اور میرے ساتھ افطار کرتا تھا۔ اس کےساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پتا چلا کہ وہ انتہائی سادہ انسان ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اس کے دوسرے تاجر ساتھی (جو ایران کی انقلابی تحریک میں بھی فعال تھے) اکثر ذہین اور چالاک تھے۔

یہ شخص اپنی سادہ لوحی کی بنا پر جیل کے محافظوں سے اکثر مطالبہ کرتا تھا کہ اسے آزاد کیا جائے جبکہ یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ کام ان محافظوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ وہ اپنی بات پر اصرار کرتا اور مطالبے پر اڑ جاتا تھا یہاں تک کہ بے چارے محافظ کو اس کے علاوہ کوئی بہانہ نہ ملتا تھا کہ وہ اس سے کسی خاص دن آزاد کرنے کا وعدہ کرے۔ اس وقت وہ شخص بہت زیادہ خوش ہو جاتا تھا۔ وہ بعض اوقات میرے پاس آتا اور مجھے اس وعدے کے بارے بتاتا تھا۔ وہ میرے سامنے یہ پیشکش بھی رکھتا تھا کہ جیل کے باہر ہر قسم کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ آخرکار مجھے چھوڑ دیا گیا اور وہ جیل میں ہی تھا۔ بعد میں سنا کہ اسے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں اسے ایک سال یا اس سے کچھ کم کی سزا سنائی گئی۔

اس شخص کا جرم بھی بہت عجیب تھا جس پر واقعاً ہنسی آتی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی ڈائری میں عامی زبان میں ایک شعر لکھا ہواہے جو پست مطلب، ناقص لغت و ناقص وزن اور لغوی غلطیوں سے پُر تھا۔ لیکن اس میں اس وقت کے حکمران محمد رضا شاہ کے والد رضا پہلوی کے خلاف بات کی گئی تھی۔

جمله بگوید از برنا و پیر

لعنه الله بر رضا شاه کبیر

سب جوان اور بوڑھے مل کر کہیں: بڑے رضا شاہ پر خدا کی لعنت ہو۔

اس خیالی جرم کی پاداش میں اس بے چارے اور سادہ انسان کو جیل کی سزا سنائی گئی۔ اس بات سےیہ بھی پتا چلتا ہے کہ قاضی اور عدالت دونوں کس قدر پست تھے۔

سکیورٹی انچارج ’’ساقی‘‘

میں نے بتایا کہ پانچ فوجی، جیل کی سکیورٹی پر باری باری مامور تھے، جن میں سے ہر ایک کا عہدہ سکیورٹی انچارج بنتا تھا۔ ان کا سربراہ ساقی نامی فوجی تھا۔ باقی چار میں سے دو بہت سخت اور بداخلاق جبکہ دوسرے دو اچھے اور خوش اخلاق تھے۔ ساقی لمبے قد، قوی اور بڑے ہیکل، چوڑے سینے، عزم و ارادے اور مضبوط شخصیت کا مالک تھا۔ اس کا فارسی لہجہ ترکی لہجے کی طرف مائل تھا۔ وہ ایک معمولی رینک سے تھا لیکن اپنے افسران پر بھی حکم چلاتا تھا۔ یہ چیز میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ایک مرتبہ مجھے تفتیش کے لیے کمرے میں بلایا گیا۔ تفتیشی افسر، جو کرنل تھا، مجھ سے سوالات پوچھ رہا تھا اور میں ان کے جوابات دے رہا تھا۔ اتنے میں ساقی بغیر اجازت کے کمرے کے اندر آیا اور سخت لہجے میں کرنل پر اپنا حکم چلانے لگا۔

میں نے ایک اور موقع پر بھی افسروں کے درمیان اس کا مقام دیکھا، جب ساواک کا سربراہ ’’پاکروان‘‘ جیل کے دورے پر آیا۔ پاکروان کے ساتھ دس افسران تھے جو کرنل سے کم رتبے کے نہیں تھے لیکن ان سب میں سے صرف ساقی بول رہا تھا۔ جب پاکروان میری کوٹھڑی تک پہنچا تو اس نے مجھ سے چند سوالات پوچھے، جن کا میں نے جواب دیا۔ ساقی  مداخلت کرتے ہوئے شفقت بھرے لہجے، دھیمی آواز اور اعتمادِ نفس کے ساتھ میری طرف اشارہ کر کے بولا: ’’جناب جنرل! یہ پر امن قیدی ہے۔‘‘

وہ ایک بہادر اور با مروت انسان تھا۔ جو قیدی بھی مزاحمت دکھاتا وہ اس سے محبت اور اس کی عزت کرتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس جو  کمزور پڑتا وہ اس پر سختی کرتا تھا۔ اگر کوئی قیدی رحم کی اپیل کر دیتا یا رونا شروع کرتا تو وہ اسے گالیاں دیتا اور جس کام کی وجہ سے اسے قید کیا گیا تھا اس پر اس کی ملامت کرتا۔

ایک قیدی نے اس فوجی کی مروت اور مردانگی کے بارے مجھے بہت کچھ سنایا۔ اس نے بتایا کہ ساقی نے اسے جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنے گھر دعوت دی، جو اس  نے قبول کر لی اور گھر میں ساقی نے اس کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب سیاسی جیلوں میں کام کرنے والے لوگ  پکڑے گئے تو ان میں سکیورٹی انچارج ساقی بھی تھا۔ اس وقت میں انقلاب کونسل میں تھا۔ کونسل میں بہت سارے ارکان جمع تھے۔ جب ساقی کی گرفتاری کی خبر ہم تک پہنچی تو شوریٰ کے تمام ارکان متاثر ہوئے۔ ان میں سے اکثر ’’قزل قلعہ‘‘ کی جیل میں رہ چکے تھے اور ساقی کو جانتے تھے۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک تحریر لکھ کر اس بات کی گواہی دی جائے کہ ہم سب اس فوجی سے راضی ہیں اور سب اس پر دستخط کریں۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا۔

سکیورٹی انچارج زمانی کا صرف ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ میں 1972؁ء یا 1973؁ء میں شیخ ہاشمی رفسنجانی سے ملنے تہران کی عشرت آباد چھاؤنی گیا، جسے اب ولی عصر چھاؤنی کہا جاتا ہے۔ میں نے اور میری بیگم نے شیخ رفسنجانی سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی قیدیوں سے ملاقات کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن جیلوں میں رہ کر جو تجربات میں نے حاصل کیے ان کی وجہ سے ملاقات ممکن ہوئی۔ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پہلے میری بیگم چھاونی میں گئیں اور اس کے بعد میں چلا گیا۔ جب ہم شیخ سے ملے تو  وہ ہماری منصوبہ بندی پر جس کی وجہ سے ملاقات ممکن ہوئی تھی خوش ہو کر ہنسنے لگے۔ شیخ سے باتیں کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک فوجی ہمارے قریب ہی کھڑا ہے اور میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ میں نے بھی ظاہری مسکراہٹ کا تبادلہ کیا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ملاقات کے دوران وہ مسلسل مسکراتا رہا اور اپنی تیز نگاہوں سے ہماری نگرانی بھی کرتا رہا۔ شیخ ہاشمی نے جیل سے نکلنے کے بعد مجھ سے پوچھا: ’’کیا آپ اس شخص کو جانتے تھے جو آپ کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا: ’’وہ سکیورٹی انچارج زمانی تھا۔ میرا گمانِ غالب ہے کہ اس نے آپ کو پہچان لیا تھا۔‘‘ ’’ہاں، میرا بھی یہی خیال ہے کہ اس نے مجھے پہچان لیا تھا۔ قزل قلعہ کی جیل میں اس کے ساتھ ڈیڑھ ماہ گزارے تھے لیکن چونکہ اس مدت (دس سال) میں وہ کافی موٹا ہو چکا تھا اور اس کا چہرہ بدل چکا تھا اس لیے میں اسے نہیں پہچان سکا، البتہ اس نے مجھے پہچان لیا تھا، اس کے باوجود اس نے اِس بات کا اظہار نہیں کیا۔‘‘

مشہور قیدی

قید کے دنوں میں مجھ تک خبر پہنچی کہ ملک کے حالات حکومتِ وقت کی مرضی کے خلاف جا رہے ہیں۔ بعض مساجد میں ماہ مبارک رمضان کے دوران اسلامی اور انقلابی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ گرفتار ہونے والوں میں ہمارے چند دوست بھی تھے جن میں سے ایک شہید باہنر تھے جو انقلاب کی کامیابی کے بعد 1981؁ء میں منافق گروہ کے دھماکے میں اس وقت شہید ہوئے جب آپ ملک کے وزیر اعظم تھے۔ آپ کے علاوہ صدر مملکت رجائی بھی اس حملے میں شہید ہوئے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں تہران کے کچھ خطیب علماء بھی تھے۔ اگرچہ یہ سارے قیدی بھی قزل قلعہ میں ہی تھے لیکن جیل کے اندر میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی کیونکہ انہیں جیل کے دوسرے حصے میں رکھا گیا تھا۔

جیل کے منتظمین ہفتے میں چند مرتبہ، تقریباً پندرہ منٹ کے لیے ہمیں تازہ ہوا اور سورج کی روشنی سے استفادے کے لیے میدان میں جانے کی اجازت دیتے تھے۔ یقیناً یہ اجازت تفتیش کے مراحل طے ہونے کے بعد ہی ملتی تھی، جو جرم کی نوعیت کے حساب سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتے تھے اور بعض مرتبہ دو مہینے یا اس سے بھی زیادہ کا وقت تفتیش میں گزر جاتا تھا۔

ایک دن جب میں باہر ہوا خوری کے لیے نکلا ہوا تھا تو میدان کے ایک طرف ایک بلند قامت شخص کو دیکھا جو پچاس ساٹھ سال کا لگ رہا تھا۔ وہ انتہائی وقار کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس کا صاف ستھرا اور مرتب لباس اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ کوئی اہم شخصیت ہے جسے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں جب پوچھا تو بتایا گیا کہ جنرل قرنی ہے۔ وہ شاہ کی فوج کے بڑے جنرلوں میں سے تھا اور اس کی کچھ انقلابی یا شاید دینی سرگرمیاں تھیں۔ اس نے بالواسطہ آیت اللہ سید میلانی سے رابطہ کیا تھا، جو بڑے انقلابی مراجع میں سے تھے اور ان کے سامنے یہ پیشکش کی تھی کہ دونوں مل کر انقلابی تحریک کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ بات میں پہلے سن چکا تھا لیکن اس حوالے سے سید میلانی کے موقف کے بارے نہیں جانتا تھا۔ منصوبہ فاش ہوا اور سب کچھ ختم ہوگیا۔ جنرل صاحب اور وہ شخص (سید میلانی کا رشتہ دار) جو ان کے اور سید میلانی کے درمیان واسطے کا کام انجام دے رہا تھا دونوں پکڑے گئے۔ جنرل کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی قرنی کو امام خمینی =نے انقلاب کی کامیابی سے پہلے انقلاب کونسل کا رکن معین کیا۔  وہ انقلاب کی کامیابی کے بعد وزیرِ دفاع بھی بنے اور پھر بعد میں منحرف منافق گروہ (فرقان) کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔

جناب سید! آپ کے داد ہمارے ساتھ ہیں

ایک دن نماز ظہر کے بعد میں جیل کے برآمدے میں بیٹھ کر اکیلے کھانا کھا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے اس دن کھانے میں آبگوشت تھا۔ اتنے میں ایک سپاہی نے مجھے آواز دی: ’’آپ کو دفتر بلایا گیا ہے۔‘‘ میں نے اپنی عبا پہنی اور افسر کے دفتر چلا گیا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا: ’’تم آزاد ہو۔ اپنا سامان جمع کرو اور چلے جاؤ۔‘‘ میں کوٹھڑی واپس آیا۔ میرا دل خوشی سے لبریز تھا اور ساتھ کچھ افسوس بھی تھا کہ ان ساتھیوں سے جدا ہو رہا ہوں جن کے ساتھ جیل کے بہترین ایام گزار کر بہت زیادہ مانوس ہوچکا تھا۔ میں سامان جمع کر رہا تھا، اتنے میں سپاہی نے جیل میں آواز بلند کی: ’’فلان کو آزاد کر دیا گیا ہے۔‘‘ تمام قیدی اپنی کوٹھڑیوں سے باہر نکلے اور انہوں نے سامان (کمبل اور دوسری چیزں) اکٹھا کرنے میں میری مدد کی جو بعض رشتہ دار تہران سے لے آئے تھے اگرچہ سامان کچھ زیادہ نہیں تھا۔ اس سپاہی نے سامان اٹھا لیا۔ پھر عرب برادران سارے اکٹھے ہوئے اور اپنے خاص انداز میں ’’ہوسہ‘‘([13]) کرنے لگے جس میں وہ بول رہے تھے: ’’یا سیّد جدّک ویّانه‘‘ (اے سید! آپ کے دادا ہمارے ساتھ ہیں۔)

کچھ دنوں بعد جیل میں ہفتہ وارملاقات کا دن تھا۔ اگرچہ جس وقت میں جیل میں تھا اس وقت میرے ساتھ کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ (اب جب میں آزاد تھا تو) میں نے کچھ مٹھائی خریدی اور لے کر جیل چلا گیا۔ جیل میں موجود برادران سے ملاقات کی اور ان کے درمیان مٹھائی تقسیم کی۔

رہائی کے بعد امام خمینی سے ملاقات

جب میں جیل سے نکلا تب میں نے سنا کہ قید میں موجود بعض جوان علماء کو مجھ سے چند دن پہلے چھوڑ دیا گیا تھا۔ ساواک والے ان علماء کو  امام خمینی سے ملانے تہران کے علاقے ’’قیطریہ‘‘ لےگئے، جہاں امام خمینی کو نظر بند کیا گیا تھا۔ اس کام سے ان کا ہدف یہ تھا کہ علماء کے دلوں میں موجود غصہ کچھ ٹھنڈا پڑ جائے۔

میرے دل میں بھی یہ شوق پروان چڑھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اللہ پر توکل کرتا ہوں اور میں بھی امام خمینی کی رہائشگاہ پر ان سے ملنے جاتا ہوں شاید مجھے بھی ملاقات کی اجازت مل جائے۔ میں نے پتا لیا اور قیطریہ کی طرف چل پڑا۔ اس وقت یہ علاقہ بالکل خالی تھا، صرف چند ہی گھر تھے۔ (اب گنجان آباد ہوچکا ہے۔) میں امام خمینی کے گھرکے نزدیک پہنچا۔ سپاہیوں نے گھر کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ میں نے ان سے کہا: میں ابھی جیل سے آزاد ہوا ہوں۔ جس طرح سے دوسرے قیدی امام خمینی سے ملے ہیں، میں بھی ملنا چاہتا ہوں۔ سپاہیوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ کچھ کہہ رہے تھے: ’’یہ سادہ سا بندہ ہے، جو راستے کی زحمتیں اٹھا کر آیا ہے اور یہاں پہنچا ہے، اسے اجازت دے دیں۔‘‘ جبکہ بعض دوسرے انکار کررہے تھے۔ آخرکار انہوں نے اتفاق کیا کہ کچھ دیر کے لیے مجھے ملاقات کی اجازت دے دی جائے۔

میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو امام خمینی کے بڑے بیٹے سید مصطفیٰ نے دروازہ کھولا۔ مجھے دیکھ کر حیران ہوئے، اور مجھ سے پوچھا: ’’آپ کب آزاد ہوئے؟!‘‘ میں نے کہا: ’’دو دن پہلے۔‘‘ جب میں ایک کمرے میں داخل ہوا تو امام خمینی کو سامنے پایا۔ میرے اندر چھپے احساسات ابھر کر سامنے آئے اور ان کے سامنے میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں امت اور دوست کن حالات سے دوچار ہیں اور یہ بھی بتایا کہ اس دفعہ رمضان کا موسم ضائع چلا گیا اور محرم کے حوالے سے ابھی سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ دیر بعد میں وہاں سے نکل آیا۔

*****

([1]) توبہ: 48

([2]) یہ حکم نامہ صحیفۂ نور میں چھپ چکا ہے۔ صحیفۂ نور  امام خمینی= کے بیانات، تقاریر، انٹرویوز، شرعی احکام، اجازہ نامے اور خطوط پر مشتمل 22 جلدوں پر مشتمل کتاب ہے۔اس حکم نامے کا متن ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جناب مستطاب حجۃ الاسلام سید علی آقا خامنہ ای دامت افاضاتہ!

سفاک شاہ پہلوی کے دور حکومت میں بلوچستان و سیستان کے خطے کے لوگ ہمیشہ سے ظلم و ستم کا شکار رہے ہیں لہٰذا جناب عالی وہاں جائیں  اور وہاں کے  بہادر عوام کے مطالبات کا جائزہ لیں اور ان کی توقعات کی رپورٹ مجھ اور متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔خداوند کریم آپ کو اور اس علاقے کے دلیر لوگوں کو توفیق عنایت فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے ایران کے اسلامی انقلاب کی وضاحت کی جائے جس نے ان کی امیدوں کو پورا کیا اور انہیں ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کی دعوت دی جائے۔ والسلام علیکم۔

روح الله الموسوی الخمینیرح۔ 29 مارچ 1979؁ء

([3]) یہ روٹی قدرے موٹی اور تندور میں پکائی جاتی ہے۔ عموما یہ مکھن، چینی اور کچھ کافور سے مخلوط ہوتی ہے۔ اس کا ذائقہ انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔

([4]) اس شارع کو آج کل خیابانِ شریعتی کہا جاتا ہے۔

([5]) اس شارع کو بعد میں شارع الزبتھ اور انقلاب کی کامیابی کے بعد شارع کشاورز کا نام دیا گیا۔

([6]) قزل قلعہ: قاجاری دورِ حکومت میں بننے والا فوجی قلعہ۔ یہ تہران سے باہر شمال مغرب میں واقع ہے۔ 60 کی دہائی میں اس کے کمروں کو کوٹھڑیوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ امام خمینی= کی تحریک کے دوران یہ مشہور جیلوں میں سے تھا۔ اسلامی حکومت کے آغاز میں اس قلعے کو گرا دیا گیا۔

([7]) یہ جیل انقلاب کے بعد پھلوں اور سبزیوں کے بازار میں تبدیل ہوگئی۔

([8]) جمال عبد الناصر (1918؁ء تا 1970؁ء): مصر میں بادشاہی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسرا جمہوری صدر بنا۔ عرب قومیت اور عرب ممالک کے درمیان اتحاد کے نعرے کی وجہ سے شہرت پائی۔ اس کی سیاست کا محور مغربی دنیا سے دوری اور مشرقی بلاک خصوصا سویت یونین سے اچھے تعلقات تھا۔ اس کے اہم کارناموں میں 1956؁ء میں نہرِ سویز کو حکومتی تحویل میں لینا، مصر شام اور یمن پر مشتمل عرب اتحاد کی بنیاد اور 1967؁ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ شامل ہیں۔ اپنے دور حکومت میں اسے عرب اور اسلامی دنیا میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ امریکہ اور مغربی دنیا کے بڑے مخالفین میں شمار ہوتا تھا۔ 1970؁ء میں 52 سال کی عمر میں وفات پائی۔

([9]) ایران عراق جنگ (1980؁ء تا 1988؁ء): ایران میں یہ جنگ دفاع مقدس کے نام سے مشہور ہے۔ یہ بیسویں صدی کی طویل ترین روایتی جنگ تھی جو تقریبا 8 سال تک جاری رہی۔ سرحد پر معمولی جھڑپوں سے شروع ہونی والی یہ جنگ ایک وسیع اور خوفناک جنگ میں تبدیل ہوگئی جس میں عراق کی بعثی حکومت کی فضائیہ اور زمینی فوج نے بیک وقت دسیوں ایرانی ہوائی اڈوں  اور تمام سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی عوام نے شروع ہی سے اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ قرار دیا۔ بڑی عالمی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی کے باوجود صدام حکومت ایران کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہ کر سکی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے رسمی طور پر صدام کو اس جنگ کا ذمہ قرار دیا گیا۔

([10]) سُر کے ساتھ پڑھے جانے والے مقامی عربی زبان کے اشعار۔

([11]) لفظ شیخ قبیلے میں اس کے مقام کو بیان کرتا ہے۔

([12]) حزبِ تودہ: ایران کی معروف سیاسی پارٹی جو 40ء  سے 80ء کی دہائی سرگرم رہی۔ یہ ایران میں مارکسزم کی نمائندہ جماعت تھی۔ 80ء کی دہائی کے آغاز میں خیانت کے جرم میں اس پارٹی کے قائدین کو گرفتارکر لیا گیا اور پارٹی تحلیل کر دی گئی۔

([13]) عرب اپنے مخصوص انداز میں خوشی وغیرہ کے اظہار کے لیے مل کر کوئی شعر وغیرہ بلند آواز سے پڑھتے ہیں، جسے ’’ہوسہ‘‘ کہا جاتا ہے۔