آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

ساتواں باب: اشکوں بھرا حماسہ

حکومت کی رسوائی

جون 1963؁ء کی بات ہے (یہ موسم بہار کا تیسرا مہینہ ہے۔ اس سال (1383؁ھ) کا محرم بھی جون کے مہینے میں ہی آیا۔ اسی سال تہران میں ایک بڑا سانحہ پیش آیا اور کچھ دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کے سانحات رونما ہوئے، جن میں ہزاروں لوگ قتل کر دیے گئے۔) میں بیرجند میں تھا۔ اس وقت میرا اس شہر میں جانا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت تھا جس کا ہدف حکومت کو اس کے جرائم کی بنا پر رسوا کرنا، قم میں اور بالخصوص مدرسہ فیضیہ میں علماء کی بے حرمتی سے پردہ اٹھانا اور ایرانی قوم کی اسلامی شناخت کو مسخ کرنے کے سرکاری منصوبوں کو آشکار کرنا تھا۔

قم میں رونما ہونے والے سانحے کا ذکر آیا ہے تو چلیں اسی حوالے سے اختصار کے ساتھ ان دو سالوں میں رونما ہونے والے  دیگر سانحات کی طرف اشارہ کرتا چلوں۔

امام خمینی= کی تحریک کی ابتداء خزاں 1962؁ء میں ہوئی  جب آپ نے ایسے حکومتی فیصلوں کا سختی سے اور ببانگ دہل انکار کیا جن کا ہدف اسلام کی عظمت کم کرنا اور صنف علماء کو سرکوب کرنا تھا۔

مدرسہ فیضیہ میں ہونے والے حادثے کے بعد امام خمینی= نے بھرپور طریقے سے صدائے احتجاج بلند کی۔ بعد ازاں  ماہ محرم کے لیے ایک مکمل منصوبہ تشکیل دیا جو کچھ یوں تھا کہ تمام اہل منبر اور خطباء 7 محرم الحرام سے حکومتی ظالمانہ اقدامات کا برملا اظہار کریں اور پھر اگلے مرحلے میں 9 محرم الحرام سے عزاداری کے بڑے بڑے اجتماعات، ماتمی دستے اور انجمنیں اس کام کو انجام دیں۔ میں اس پیغام کو پہنچانے والوں میں سے ایک تھا۔

امام خمینی= نے مجھے اپنی اس منصوبہ بندی کی خبر مشہد میں موجود آیت اللہ سید میلانی اور آیت اللہ سید قمی تک پہچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ محرم الحرام کے ابتدائی ایام میں ہی میں بیرجند کی طرف چلا گیا جہاں مجھے امام  کے منصوبے کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔

اسد اللہ علَم کا شہر

میں نے بیرجند کو اس لیے انتخاب کیا کیونکہ یہ امیر اسد اللہ علَم کا شہر تھا۔ وہ اس وقت شاہی دربار کا وزیر تھا جبکہ حقیقت میں وہ اس منصب سے کہیں بڑا تھا۔ اس کا شمار ملک کے مقتدر ترین افراد میں ہوتا تھا۔ حسین فردوست نے اپنی ڈائری کی دوسری جلد میں ایران کے اندر اسد اللہ علم کے مقام اور اثر رسوخ  کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

علَم خاندان نے یہ مقام انگریزوں کی مخلصانہ خدمت کے بدلے میں پایا تھا۔ خراسان کے علاقے میں افیون پھیلانے میں ان کا بہت بڑا کردار تھا۔ یہ خاندان اغیار کی خدمت اور نوکری میں پہلے دن سے معروف تھا۔

حالیہ سفر سے پہلے میں دو دفعہ بیرجند کا سفر کر چکا تھا اور اس علاقے میں اس شخص ( اسد اللہ علم) کی ہیبت اور دبدبے سے اچھی طرح واقف تھا۔

کسی بھی دینی مناسبت کے حوالے سے خطبے کا آغاز اسد اللہ علم کے نام سے ہوتا تھا۔ ان مجالس میں تمام علماء کی شرکت ضروری ہوتی تھی اور جو شرکت نہ کر سکتا وہ زیر عتاب آتا۔ ایک دفعہ جب میں ماہ محرم الحرام کے دوران بیرجند میں موجود تھا میں نے ایک خطیب کو اسد اللہ علم کی شان میں عربی زبان میں مدحت سرائی کرتے ہوئے سنا۔ ابھی تک مجھے اس کی وہ عبارت یاد ہے جو وہ  سُر کے ساتھ تکرار کر رہا تھا۔ (صاحب السیف والقلم _امیر اسد اللہ علم)

بیرجند کی اکثر بڑی شخصیات، بالواسطہ یا بلاواسطہ اسد اللہ علم کے خدمت گزاروں اور اس کے غلاموں میں سے تھیں۔ یہاں تک کہ بعض نامور لوگوں جیسے جزیرہ کیش کے سابق سربراہ کا شمار بھی اسد اللہ علم کے خدمت گزاروں میں ہوتا تھا۔ شاہ ایران جب بھی استراحت اور آرام کا ارادہ کرتا تو وہ بیرجند کا رخ کرتا اور اسد اللہ علم کے باغات میں سے کسی ایک باغ کو اپنی سکونت کے لیے اختیار کرتا۔ یہ باغات پرانی اور اعلی قسم کی شراب اور ماہر باورچیوں کی وجہ سے معروف تھے۔

سیاسی گریہ

بیر جند میں میرے کچھ دوست تھے جن سے میری آشنائی گذشتہ دو سفروں کے دوران ہوئی تھی۔ میں وہاں 3 محرم الحرام کو پہنچا۔ کسی بھی علاقے میں محرم کی مجالس پڑھنے والے افراد کے لیے 3 محرم الحرام کو پہنچنا تاخیر شمار ہوتی ہے لہٰذا ضروری ہوتا ہے کہ خطیب محرم سے ایک دو دن پہلے پہنچ جائے تاکہ اس کی مجالس کو ترتیب دیا جا سکے۔ اس کے باوجود دوستوں نے میرے لیے متعدد مساجد میں مجلس کا اہتمام کر دیا تھا۔

۷ محرم کا دن آن پہنچا۔ یہ وہی مقررہ دن تھا جس کے متعلق امام خمینی= نے خطباء کو ہدایت دے رکھی تھی کہ وہ حکومت کے مجرمانہ اقدامات کو بے نقاب کرنا شروع کریں۔ اتفاق سے اس روز جمعہ بھی تھا اور مجھے جامع مسجد میں ایک بڑی مجلس عزا سے خطاب کرنا تھا لہٰذا میں نے اپنے امور کو مرتب کیا۔ لیکن مجھے مغرب سے چند لمحے پہلے ہی خطاب کا موقع ملا کیونکہ مجلس کے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک دوسرے خطیب نے مجھ سے پہلے خطاب کرنا تھا۔ اس خطیب نے اپنی مجلس کو خلاف معمول اس قدر طولانی کیا کہ مجھے اس سنہری موقع کے ضائع ہونے کی فکر لاحق ہوگئی۔ اس خطیب نے نماز مغرب سے صرف 20 منٹ پہلے اپنا خطاب ختم کیا۔ میں منبر پر گیا اور  اس بڑے اجتماع میں مختصر وقت کے باوجود وہ سب کچھ بیان کر دیا جو میرے مافی الضمیر میں موجود تھا۔ میں نے اپنے خطاب کا آغاز اغیار کی طرف سے مسلط کیے گئے غلط افکار کے بیان سے یوں کیا: ’’دین کی اجتماعی زندگی سے جدائی‘‘ ان غلط افکار کی ایک مثال ہے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے شہنشائی نظام کی طرف سے اسلام، مسلمانوں اور دینی علماء کے خلاف کی گئی سازشوں کو بے نقاب کیا اور آخر میں فیضیہ میں رونما ہونے والے خونی واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے 12 فروردین([1])  کے واقعات کو کھل کر بیان کر دیا۔ لوگوں زار و قطار رونے لگے اور ولولے سے بھرپور ایک عجیب سی فضا بن ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے مروجہ انداز میں امام حسین, کے مصائب کا تذکرہ کیا۔ لوگوں نے سانحہ فیضیہ پر ویسے ہی گریہ کیا جیسے امام حسین, کے مصائب پر کرتے ہیں۔

زندان کا پہلا تجربہ

میں نے اس طرح کے فکری، حماسی اور انقلابی خطابات 9 محرم تک جاری رکھے، یہاں تک کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا اور پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ یہ گرفتاری پولیس سمیت تمام تفتیشی اداروں کے ساتھ میرا پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے میں نے پولیس اسٹیشن نہیں دیکھا تھا۔ وہ مجھے ایک جوان پولیس افسر کے کمرے میں لے گئے جس نے مجھے دیکھتے ہی غصے میں سخت اور دھمکی آمیر لہجے کے ساتھ  ڈانٹنا شروع کر دیا۔ لیکن میں نے بڑے اعتماد اور انتہائی پر سکون انداز میں اسے جواب دیتے ہوئے کہا: ’’تم مجھے پھانسی دینے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، البتہ تم میں اس کی صلاحیت نہیں ہے۔ جو چاہو کر لو، میں ہر سزا بھگتنے کے لیے مکمل آمادہ ہوں کیونکہ میں گھر ہی سے خود کو موت کے لیے تیار کر کے نکلا ہوں۔ خود کو خواہ مخواہ زحمت میں مت ڈالو۔‘‘

اس افسر کو مجھ سے ہرگز ایسے جواب کی توقع نہ تھی۔ وہ میرا جواب سن کر ششدر رہ گیا، اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، غصہ ٹھنڈا پڑ گیا اور لہجے میں واضح تبدیلی آگئی۔ وہ کہنے لگا: ’’میں تم سے کیا کہوں؟‘‘ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا: ’’تمہارے ماں باپ بیوی بچے نہیں ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ماں باپ تو ہیں لیکن بیوی بچے نہیں ہیں، کیونکہ میں فی الحال غیر شادی شدہ ہوں۔‘‘ اس نے دوبارہ تعجب سے کہا: ’’میں تمہارے ساتھ کیا کروں؟!‘‘

میں نے کہا: ’’تمہاری اپنی ذمہ داری ہے اور میری اپنی۔ تم اپنی ذمہ داری نبھاؤ اور میں اپنی۔‘‘

میں اس پولیس اسٹیشن میں عاشورا کی ظہر تک رہا، اس دوران مجھے کچھ علم نہ تھا کہ باہر کیا  ہو رہا ہے؟ بعد ازاں مجھے پتا چلا کہ اس دن پورے ایران میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور بیر جند میں بھی میری گرفتاری کے ساتھ ہی حالات کشیدہ ہو گئے تھے جیسا کہ مجھے بعد میں آیت اللہ التہامی نے بتایا۔ آیت اللہ التہامی فقیہ، ادیب، خطیب اور شجاع ہونے کے ساتھ ساتھ بیرجند کی ممتاز شخصیت تھے۔

مجھے آیت اللہ التہامی نے بتایا کہ اس روز لوگ آپ کی رہائی کے لیے تھانے کا محاصرہ کرنے اور پولیس کے ساتھ باقاعدہ ٹکراؤ کے لیے آمادہ تھے اور ماتمی دستے اور  انجمنیں اس حوالے سے میرے ساتھ رابطے میں تھیں۔

یوں لگتا ہے کہ حکومتی مشینری اس بات سے آگاہ ہوگئی تھی اور اس خوف میں مبتلا تھی کہ کہیں بیرجند میں بھی تہران سمیت باقی شہروں کی طرح شدید عوامی رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے لہٰذا حالات کے تناظر میں بیرجند شہر کی امن کمیٹی کا ایمرجنسی اجلاس بلایا گیا۔ یہ کمیٹی کسی کو بھی شہر بدر کرنے کے اختیارات رکھتی تھی لہٰذا اس کمیٹی نے فوراً میری بیرجند سے مشہد شہر بدری کا حکم صادر کر دیا۔حکومتی عہدیداروں نے عوامی جذبات پر قابو پانے کے لیے مجھے شہر بدری سے پہلے ہی رہا کر دیا، اس شرط کے ساتھ کہ اب آپ منبر پر جا کے خطاب نہیں کر سکتے۔ لوگ میری طرف ہمدردری سے دیکھ رہے تھے اور میں اس عظیم اجتماع کے احساسات اور جذبات کو دیکھ کر خوش تھا۔ لوگ ایک طرف اسد اللہ علم کی ہیبت سے خوفزدہ اور دوسری طرف مبلغان اسلام سے ہمدردری کا اظہار کر رہے تھے۔

جب میں (10 سے 15 محرم الحرام کے دوران ) بیرجند میں تھا تو میری گرفتاری سے شہر بدری تک کے دوران پورے ایران میں حکومت مخالف عوامی تحریک زوروں پر تھی۔ تہران کی مجالس عزا، انقلابی مجالس میں تبدیل ہوگئی تھیں جنہوں نے طاغوت کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ عاشور کے دن قم میں امام خمینی= کا تاریخی خطاب ( ڈھائی ہزار سالہ) شہنشائی نظام کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہوا اور 12 محرم کو انہیں قید کر لیا گیا۔ (ایرانی کیلنڈر کے مطابق یہ 15خرداد کا دن تھا، جو ایران کی معاصر تاریخ کا مشہور دن ہے۔)

ان ایام میں ایک اہم کرنل جو کہ تفتیشی افسر بھی تھا مشہد سے بیرجند آیا اور مجھ سے ملنے کا مطالبہ کیا۔ مجھے اس کی حالیہ آمد کے مقاصد کا علم نہیں تھا۔

’’ہم تمہیں مشہد بھیجیں گے لیکن وہاں بھی حالات بہت زیادہ کشیدہ ہیں۔ گرفتاریاں اس قدر زیادہ ہوئی ہیں کہ مشہد کی جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔‘‘ وہ مشہد کے کشیدہ حالات کی تصویر کشی سے مجھے مرعوب کرنا چاہتا تھا۔ پھر اس نے کہا: ’’بہتر ہے جب تک وہاں حالات معمول پر نہیں آتے، تم بیرجند ہی میں  رہو۔‘‘

یوں لگتا تھا اس کرنل کی ذمہ داری فقط مذکورہ پیغام مجھ تک پہچانا تھی لیکن انہوں نے یہ پیغام پہنچانے کے لیے مشہد سے کیوں ایک شخص کو بھیجا؟ حالانکہ وہ یہ پیغام بیرجند کے مقامی فوجیوں کے ذریعے بھی مجھ تک پہنچا سکتے تھے۔ پھر اس قدر اہم عہدے پر فائز افسر؟! گویا حکومتی مشینری میں بے قراری حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی اور وہ ہر چیز کو بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کر رہی تھی۔

فوجی جیل

۱۵ محرم الحرام کی تاریخ تھی جب تین پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں مجھے بیرجند سے مشہد روانہ کیا گیا۔ایک آدھ مقام پر سڑک کے کنارے ہوٹل پر کھانے کے لیے مختصر قیام کے سوا، فوجی جیپ نے بیرجند سے مشہد کا فاصلہ (جو 540 کلو میٹر بنتا ہے) بغیر کسی وقفے کے انتہائی تیزی کے ساتھ طے کیا حالانکہ راستے میں قائن، گناآباد، ترتبت حیدریہ جیسے کئی شہروں سے گزر تھا۔

میری نگرانی کرنے والے پولیس اہلکار خوف اور پریشانی میں مبتلا تھے۔ مشہد پہنچ کر انہوں نے مجھے ایک پولیس اسٹیشن کے حوالے کیا جہاں مجھے ایک سخت رات گزارنا پڑی۔ پولیس اہلکار گھوڑوں پر سوار سڑکوں اور گلیوں میں گشت کر رہے تھے۔ اس رات پولیس اسٹیشن کا صحن گشت کرنے والے اہلکاروں سے بھر چکا تھا جو استراحت کے وقت کو غنیمت سمجھ کر صحن میں سو رہے تھے۔ میرے سونے کے لیے کوئی جگہ نہ بچی تھی لہٰذا وہ لوگ مجھے ایک تنگ سے کمرے میں لے گئے۔ اگلی صبح انہوں نے وہاں سے مجھے ساواک کے مرکز منتقل کر دیا جہاں سے مشہد کی فوجی جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن کی اکثریت دینی مدارس‌ اور یونیورسٹیوں کے طلاب اور خطباء پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ مختلف مظاہروں میں شریک ہونے اور امام خمینی= کے پیغام کو عام کرنے کے جرم میں قید تھے۔ ان میں سے بعض شخصیات اب تک مجھے یاد ہیں جو بعد میں انقلابی اور سیاسی میدان میں وارد ہوئیں۔ جیسے پرویز پویان جو ساٹھ کی دہائی میں بائیں بازو کی مسلح تحریک کے سربراہوں میں سے تھا اور بعد میں ایک مسلح کاروائی میں قتل ہو گیا۔ انہی قیدیوں میں سے شیخ فاکر بھی تھے جو اس وقت پارلیمنٹ کے اراکین میں سے ہیں۔

 میں جس جیل میں داخل ہوا اس کا کمرہ ان کوٹھڑیوں کی مانند نہیں تھا جن سے بعد میں مَیں مانوس ہوا۔ اس کے باوجود شروع کے چند لمحے مجھے اس میں عجیب تنہائی اور غربت کا احساس ہوا۔ مجھے اپنے ساتھ والے کمروں میں موجود قیدیوں کے متعلق اور ان کی تعداد کے بارے میں بالکل علم نہ تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ میرے نزدیک تھے میں خود کو ان سے کوسوں دور محسوس کر رہا تھا۔

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے ساتھ والے کمرے سے ایک آدمی کے شعر گنگنانے کی آواز آئی۔ آواز متاثر کن اور شعر بہت بامعنی تھا جس کی وجہ سے اطمینان کا احساس ہوا اور اپنے موقف کے حوالے سے عزم مزید پختہ ہو گیا۔ وہ شعر جلال الدین رومی کی مثنوی  سے تھا، جس میں وہ کہتے ہیں:

عار نبود شیر را از سلسله

ما نداریم از قضای حق گله

زنجیر میں جکڑنا شیر کے لیے عیب نہیں ہے۔ ہمیں خدا کے فیصلے سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔

میں شعر پڑھنے والے کو آواز  ہی سے پہچان گیا۔ وہ مشہد کے معروف خطباء میں سے تھا اور میں جان گیا کہ وہ بھی قید ہے۔

جیل کے ہمسائے سے آشنائی اور اس کے اشعار سن کر مجھے ایسا سکون ملا کہ جس نے تنہائی کی وحشت کو ختم کر دیا۔ وہ عمارت جس میں ہم قید تھے کوئی فوجی جیل نہیں تھی جس میں فوجیوں کو قید کیا جاتا ہے بلکہ حقیقت میں  وہ ایک فوجی ڈپو تھا جسے انہوں نے ملک کے کشیدہ حالات کے پیش نظر جیل میں تبدیل کر رکھا تھا۔ ان کشیدہ حالات نے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر عارضی جیلیں بنانے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے کمرے ہرگز رہنے کے قابل نہیں تھے۔ شروع میں مجھے جس کمرے میں لایا گیا اس میں اس قدر رطوبت تھی کہ فرش پر پانی جمع تھا، لہذا کچھ گھنٹوں بعد انہوں نے مجھے وہاں سے دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا۔

ہمیں روزانہ صبح مختلف کاموں کے لیے نکلنا ہوتا تھا جن میں سے ایک کام چھاؤنی کے احاطے میں موجود گھاس اور جڑی بوٹیوں کو اکھاڑنا تھا۔ چھاؤنی کا صحن جڑی بوٹیوں سے بھرا ہوا تھا اور میں ان کی بیخ کنی کے وقت یہ اشعار گنگناتا تھا: مرا به کار گُل گماشتند نه همچو استاد فارس به کار گِل۔

مجھے پھولوں کے کام میں لگا دیا۔ اس طرح نہیں جیسے استاد فارس (معروف شاعر سعدی شیرازی) کو مٹی کے کام پر لگا دیا۔

وہ لوگ ہمیں اس فوجی چھاؤنی کے راستوں کو ہموار کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد میں نے اس چھاؤنی کا دورہ کیا اور وہاں اپنے خطاب میں ان فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ اس چھاؤنی کے اکثر راستوں کو ہموار کرنے میں میری شرکت رہی ہے۔

مولانا! تمہاری داڑھی مونڈ ڈالی؟

میں اس فوجی چھاؤنی میں ایک ہفتے سے زیادہ رہا جس دوران انہوں نے میری داڑھی مونڈ ڈالی۔ یہ پہلی بار تھا کہ میری داڑھی مونڈی گئی۔ دوسری بار ایک دوسری جیل میں مونڈی گئی  جس کا تذکرہ بعد میں کروں گا۔ داڑھی مونڈنے کے متعلق میں پہلے سے سن چکا تھا کہ فوجی چھاؤنیوں میں صابن اور پانی کے بغیر خشک استرے سے داڑھی تراشتے ہیں۔ یہ انتہائی گھٹیا اور تکلیف دہ عمل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ  بیرجند سے مشہد کے سفر کے دوران میں نے خود کو ان تلخ لمحات کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ آخر کار داڑھی مونڈنے کا وقت آن پہنچا اور حجام آگیا۔ میں اس کی طرف پریشانی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے داڑھی تراشنے والی مشین نکالی۔ میں نے سکھ کا سانس لیا اور یہ جان لیا کہ جیسا میں سوچ رہا تھا ویسا نہیں تھا۔ داڑھی منڈوانے کے بعد میں نے تجدید وضو کے لیے وضو خانہ جانے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے مجھے فوجیوں کے ہمراہ جا کر وضو کرنے کی اجازت دے دی۔ راستے میں مجھے ایک جوان افسر نے دیکھا جو اپنے پست رویے کے حوالے سے کافی مشہور تھا۔ اس نے دور سے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا: ’’مولانا! تمہاری داڑھی مونڈ دی گئی؟!‘‘ میں نے فوراً جواب دیا: ’’برسوں سے اپنی ٹھوڑی نہیں دیکھی تھی، الحمد للہ آج دیکھ لی۔‘‘ یوں میں نے اسے موقع نہ دیا کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے۔

اے میرے فرزند! مجھے تم پر فخر ہے

ابھی مجھے گرفتار ہوئے تین دن ہی گزرے تھے کہ جیل کی نگرانی پر مامور افسران میں سے ایک میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’کل آپ کو آزاد کر دیا جائے گا۔‘‘ میں یہ خبر سن کر حیران ہوا اور اپنے آپ سے کہا: شاید میرے کسی دوست نے، حکومت سے مربوط کسی شخص سے میری رہائی کے لیے سفارش کی ہو۔ میں نے اس موضوع کے متعلق سوچتے ہوئے  قرآن سے استخارہ کیا، تو یہ آیت نکلی:

فَلا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَ لا إِلى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ۔([2])

پس وہ لوگ نہ وصیت کر پائیں گے اور نہ ہی اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹ پائیں گے۔) اگلا دن آیا، مزید چند دن بھی گزر گئے لیکن مجھے رہائی نہ ملی۔

فوجی جیل میں گزرے وہ ایام کم ہونے کے باوجود انتہائی وحشتناک اور سخت تھے کیونکہ یہ اسیری کا پہلا تجربہ تھا۔ پھر یہ وہی ایام تھے جب ملک بھر میں کشیدگی اور خونی فسادات کا سلسلہ اپنے عروج پر تھا۔ اسلامی تحریک اور شخصیات کو ہر طرف سے خطرات نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور شاہی نظام اس تحریک کو بے دردی سے کچلنے میں مصروف تھا۔ پھر خدا نے چاہا کہ مشکلات کے بعد آسانیاں پیدا کرے۔ جیل میں8 یا 9 دن گزارنے کےبعد مجھ سمیت تمام قیدیوں کی اسیری اپنے اختتام کو پہنچی۔

میں اپنی رہائی کے دن کو بھول نہیں سکتا۔ جون کے آخری ایام تھے (جو سال کے طولانی ترین دن ہوتے ہیں)۔ ایک دن عصر کے وقت جیل کا ایک افسر آیا اور ہمیں رہائی کی خبر دی۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنا مختصر سامان (کپڑے وغیرہ) سمیٹا اور اپنے کمروں میں انتظار کرنے لگے۔ پھر انہوں نے ہمیں کمروں کے درمیان موجود برآمدے میں جمع کیا، جیل کا دروازہ کھولا اور کہا: ’’تم لوگ جا سکتے ہو۔‘‘ خلاف معمول بغیر کسی کاغذائی کاروائی کے ہمیں جیل سے جانے دیا۔ ہم نے ایک دوسرے سے خدا حافظی کی۔ میں نے سڑک کا رخ کیا اور تیز قدموں کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑا۔ ہمارا گھر اس فوجی جیل سے زیادہ دور نہیں تھا۔

جب میں گھر کی طرف جا رہا تھا اس وقت مجھ پر ایک خاص کیفیت طاری تھی: شرمساری، شوق اور خوف سے آمیختہ کیفیت۔ شرمساری داڑھی کے نہ ہونے پر اور خوف والدین کی ملامت سے تھا کیونکہ ممکن تھا وہ یہ کہہ دیں کہ تم نے ایسے معاملات میں مداخلت کیوں کی جن کی وجہ سے جیل جانا پڑا؟

جب میں گھر پہنچا تو گھر والوں نے بڑی گرمجوشی سے میرا استقبال کیا۔ سب نے پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا اور رہائی پر مبارکباد دی۔ چائے پینے کے لیے بیٹھتے ہی میری والدہ نے جو پہلی بات کی وہ یہ تھی: ’’میں تم جیسے بیٹے پر فخر کرتی ہوں۔ خدا کی راہ میں وہی کرنا چاہیے جو تم نے کیا۔‘‘ میں نے سکھ کا سانس لیا اور خدا کا شکر بجا لایا۔ والدہ کے اس جملے نے مزاحمت کے راستے میں میری سرگرمیوں پر انتہائی مثبت اثر چھوڑا۔

*****

([1]) ایرانی سال کا پہلا مہینہ، یکم اپریل۔

([2]) یس: 50