آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

چھٹا باب: سایہ آفتاب

انقلاب کے ابتدائی ایام

امام خمینی کے قیام کے بعد قم مسلسل تحرک اور فعالیت کا مرکز بن گیا لیکن ان سرگرمیوں کا محور کوئی تنظیم نہیں تھی۔ ہر کوئی اسلامی اقدار سے سرشار اپنے اپنے ذوق کے مطابق عمل کر رہا تھا اور ان میں سے کوئی ایک بھی یہاں تک کہ خود امام خمینی بھی ان سرگرمیوں کو تنظیمی شکل میں انجام دینے کا  نہیں سوچتے تھے۔

مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ دینی طالب علم مختلف سرگرمیوں کو اپنے ناموں سے انجام دیتے تھے۔ ایک گروہ امام خمینی کے بیانات کو تقسیم کرتا تھا تو دوسرا ان بیانات کو ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرتا تھا اور تیسرا امام خمینی سے مربوط گروہ تھا جو مختلف کاموں میں انہیں مشورہ دیتا تھا اور اپنی آراء اور تجاویز کو ان کے حضور پیش کرتا تھا۔ ان میں سے بعض سیاسی و اجتماعی صورتحال سے امام خمینی کو آگاہ رکھتے تھے اور بعض ان کے اور دوسرے علماء کے درمیان واسطے کا کام انجام دیتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو فراغت کے اوقات میں امام کے گھر آرام اور سکون کے ساتھ  رہتے تھے، لہٰذا ان کے گھر کے تمام کمرے ان کی غیر موجودگی میں بھی طلاب سے بھرے رہتے تھے۔ طالب علم آپس میں مختلف سیاسی اور علمی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے جن میں بعض اوقات امام خمینی کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خمینی([1]) بھی شرکت کرتے تھے۔ طالب علموں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی نماز جماعت اور مجالس عزاء حسینی میں شرکت کے لیے امام خمینی کے گھر کا رخ کرتے تھے۔

اس تحریک میں شامل تمام مراجع جیسے آغا گلپایگانی، آغا مرعشی نجفی اور آغا شریعتمداری کے گھروں میں بھی یہی معمول تھا لیکن اس میدان میں مرکزی، نمایاں اور مؤثر شخصیت خود امام خمینی کی تھی جبکہ دوسرے علماء اس تحریک میں ان کے زیر سایہ اور ان کے قافلے میں ساتھ چلنے والے تھے۔ امام خمینی اس تحریک میں کسی کے سہارے پر نہیں چل رہے تھے جبکہ دوسرے علماء آپ پر ہی اعتماد کیے ہوئے تھے۔

میں نے متعدد کام اپنے ذمے لے رکھے تھے:

  • سید جعفر شبیری کے گھر برادران کے ساتھ امام خمینی کے بیانات کو ٹائپ رائیٹر پر ٹائپ کرنا پھر انہیں ایک دوسرے گروہ تک پہنچانا تھا تاکہ وہ انہیں آگے تقسیم کریں۔
  • بیانات اور اعلانات لکھنا جن پر کسی خاص فرد کا نام نہیں ہوتا تھا، بلکہ ’’علماء کا ایک گروہ‘‘ یا ’’طالب علموں کا ایک گروہ‘‘ جیسے عناوین استعمال کیے جاتے تھے۔ چونکہ بیانات لکھنے والوں کی شناخت مبہم ہوتی تھی لہٰذا ان بیانات اور اعلانات کا لہجہ تند و تیز ہوتا تھا۔
  • امام خمینی کو مختلف مسائل میں مشورہ دینا۔ اس حوالے سے مجھے اب بھی یاد کہ میں اپنے بھائی سید محمد، شیخ علی حیدری (اسلامی جمہوری پارٹی کے ایک رکن جو بعد میں شہید ہو گئے) اور شیخ حسین ابراہیمی دینانی (ڈاکٹر اور فلسفہ ڈیپارٹمنٹ کے استاد ہیں) کے ساتھ امام خمینی کے گھر گیا۔ ہم نے ان کو تجویز دی کہ وہ حج کی مناسبت سے بیان جاری کریں۔ اور مجھے یاد ہے کہ ہمارے اس مشورے پر امام خمینی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور آپ نے کہا: ’’میں اسے آمادہ کر چکا ہوں۔‘‘

میں کبھی کبھار امام خمینی اور دوسرے علماء کے درمیان رابطے کا  کام بھی کرتا تھا، اسی وجہ سے ایک دفعہ انہوں نے مجھے مشہد میں سید میلانی اور سید قمی کی طرف بھیجا  تاکہ انہیں ایک زبانی پیغام پہنچاؤں۔ یہ پیغام تین اہم نکات پر مشتمل تھا، جن میں سے ایک ان کے اور دوسرے علماء کے  درمیا ن مشترک اور دوسرے دو ان کے ساتھ خاص تھے۔ مشترک پیغام یہ تھا کہ اسرائیل ایران میں تمام حکومتی امور اور ملکی فیصلوں  پر اثر انداز ہے اور ایران سے دین اور دینی علماء  کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ اور ان دونوں سے مخصوص پیغام یہ تھا کہ ۷ محرم سے شاہ کی حکومت کی جانب سے مدرسہ فیضیہ میں کیے گئے مظالم کو آشکار کرنا شروع کریں اور ۹ محرم سے عزاداری کے دستے حکومت کو رسوا کرنا شروع کریں۔

میری امام خمینی کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خمینی کے ساتھ بڑی گہری دوستی  تھی اور وہ امام خمینی کے نزدیک ہماری منزلت اور تحریک اسلامی میں ہمارے کردار کو جانتے تھے۔ ہمارا یہ تعلق مزاحمتی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مؤثر تھا۔

مجھے یاد ہے کہ شیخ ہاشمی رفسجانی کی ذمہ داری خبریں جمع کرنا تھی۔ امام خمینی نے انہیں دو سو تومان دیے۔ انہوں نے ان پیسوں سے ایک بڑا ریڈیو خریدا تاکہ وہ خبریں سن کر امام خمینی کو حالات سے آگاہ کر سکیں۔  یہ ریڈیو ممکن ہے اب بھی موجود ہو۔

تنظیمی ذمہ داریاں

میں اور میرے کچھ دوست تنظیم سازی میں مہارت رکھتے تھے۔ قم میں یہ کام نیا بلکہ اوّلین تھا۔ ہم نے قم میں علماء کی پہلی تنظیم تشکیل دی اور اس کے داخلی نظام کو مرتب کیا۔ میرے بھائی سید محمد([2])  کو ان امور میں ایک خاص ذوق حاصل تھا لہٰذا میں نے ان کے ساتھ  مل کر اس تنظیم کے داخلی نظام کو ترتیب دیا۔ ہم نے مزاحمت کے آغاز سے لے کر میرے قم سے جانے تک ( جو کہ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ہے) بہت سی تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ ان میں سے کچھ تو ایک ساتھ چل رہی تھیں اور کچھ یکے بعد دیگرے وجود میں آئیں۔ ان تنظیموں میں سے چند یہ ہیں:

  • ’’گروہ علمائے قم‘‘ ( قم کے علماء کا گروہ)۔ یہ گروہ علماء کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل تھا جو بعد میں حوزہ علمیہ قم کے اساتید کے گروہ سے جانا گیا اور اس وقت فارسی میں ’’جامعہ مدرسین‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس کے بہت سے موجودہ ارکان اس تنظیم کی تاسیس میں میرے کردار سے ناواقف ہیں۔
  • گیارہ افراد پر مشتمل ایک گروہ جس کے ارکان میں ہاشمی رفسنجانی، میرے بھائی سید محمد، مصباح یزدی (جوکہ اس گروہ کے کاتب تھے) ابراہیم امینی، مشکینی، منتظری، قدوسی، آذری قمی، ربانی شیرازی اور مہدی حائری تہرانی شامل تھے۔ان میں سے شیخ قدوسی انقلاب کی کامیابی کے تیسرے سال 1982؁ء میں منافقین کے ایک گروہ’’مجاہدین خلق‘‘([3]) کے ہاتھوں شہید ہو گئے جبکہ شیخ ربانی کی اسی سال وفات ہوئی۔

مصباح یزدی ہماری نشستوں کی تفصیلات ایک کاپی میں رمزی زبان میں لکھتے تھے جسے انہوں نے خود ایجاد کیا تھا اور وہ مکمل طور پر علوم غریبہ کے ساتھ شباہت رکھتی تھی۔ ان نشستوں کی تفصیلات کو زیادہ مخفی بنانے کے لیے انہوں نے اس کاپی کے شروع  میں فارسی زبان میں لکھ دیا تھا کہ میں نے علوم غریبہ پر مشتمل ایک کتاب پائی اور اس کی کاپی تیار کر لی ہے۔ یہ تحریریں شاید ابھی تک موجود ہوں۔

  • ایک تیسرا گروہ بھی تھا جس کے ارکان میں سابقہ گروہ کے کچھ افراد کے علاوہ شیخ ربانی املشی اور شیخ علی اصغر مروارید بھی شامل تھے۔ اس گروہ کا مقصد تبلیغی امور میں عملی فیصلے کرنا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت افراد کو شہروں پر تقسیم کرنا تھا تاکہ وہ افراد قیامِ خرداد کے بعد آنے والے ماہ مبارک رمضان کی تقاریر میں حکومت کو ان مظالم پر رسوا کریں جو اس نے قم کی عوام پر ڈھائے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں، میں نے زاہدان جانے کا فیصلہ کیا جہاں مجھے قید کر لیا  گیا۔یہ میری دوسری گرفتاری تھی۔

طاغوت کے زندان

جب میں نے اسلامی بیداری کے آغاز ہی سے ظالم حکومت کے خلاف مزاحمت کا راستہ اپنایا تو میں جانتا تھا کہ یہ اشک و خوں سے پُر راستہ ہے اسی لیے میں نفسیاتی طور پر ہر قسم کی اذیت، تکلیف    اور سختی برداشت کرنے کے لیے آمادہ تھا۔ یہ بات مجھ پر اس وقت مکمل طور پر عیاں ہوئی جب مجھے بیرجند شہر میں گرفتار کر لیا گیا اور میں نے قید ہونے کے پہلے تجربے کا سامنا کیا۔ اسی آمادگی کا نتیجہ تھا کہ پے در پے جیلوں، گرفتاریوں، دھمکیوں، نفسیاتی حربوں اور جسمانی اذیتوں کے باوجود خدا کے فضل، اس کے احسان اور توفیق کی بنا پر میں مزاحمتی راستے کو جاری رکھ سکا۔

اسلامی تحریک کے آغاز سے (جو 1962؁ء میں شروع ہوئی ) ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی تک مجھے 6 مرتبہ گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا جبکہ ایک مرتبہ گرفتار کر کے شہر بدر کیا گیا اور نجانے کتنی ہی بار مجھے تفتیش کے لیے ساواک کے مرکز بلایا گیا۔  یہاں پر ضمناً یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مختلف نظام اور قوانین جو عقلی اور انسانی مصلحتوں کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں، جیل کے موضوع سے غافل نہیں رہے۔ اسلامی شریعت میں بھی جیل کے خصوصی احکام ہیں اور اسلامی جمہوری ایران میں بھی جیل موجود ہے، لیکن عموماً جیل کا مقصد (اور میں بعض انفرادی غلطیوں کا انکار نہیں کرتا) قیدیوں کی اصلاح اور انہیں کسی ہنر کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ آزاد  ہونے کے بعد ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔

جبکہ شاہ کی جیلوں میں ایسا کچھ نہیں تھا، کیونکہ یہ جیلیں یا تو قیدی سے انتقام لینے کے لیے تھیں یا پھر اسے ہر قسم کی سرگرمی سے ناکارہ کرنے کے لیے۔ طاغوت کی جیل میں ہر قسم کی مشقت اور اذیت کے دوران اس حقیقت کو میں نے نزدیک سے درک کیا ہے۔

جیلوں اور گرفتاریوں کی یادیں بیان کرنے سے پہلے چند امور کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

ان میں سے پہلا امر یہ ہے کہ شروع شروع میں علماء کی جیلوں میں سختی نہیں ہوتی تھی۔ علماء کی قید نہ زیادہ طولانی ہوتی تھی اور نہ ہی اس میں کوئی جسمانی تشدد ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود ان جیلوں میں وہ سب خصوصیات تھیں جو میں نے شاہ کی جیلوں کی حوالے سے بیان کی ہیں۔ پھر تحریکِ اسلامی کے پروان چڑھنے کے ساتھ ساتھ سختی بھی شروع ہو گئی لہٰذا جسمانی اذیت، مختلف قسم کے دباؤ، لمبی سزا اور اسی طرح کی سختیوں کا اضافہ کر دیا گیا۔

ان میں سے دوسرا امر یہ ہے کہ ان 16 سالوں کے دوران (جو میری پہلی گرفتاری سے شروع ہوئے اوراسلامی انقلاب کے ساتھ میری شہر بدری ختم ہونے پر تمام ہوئے) میں نے دیکھا کہ دینی علماء کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دینی علماء کی تعداد نسبتا کسی بھی دوسرے سیاسی گروہ سے زیادہ تھی، چاہے وہ یونیورسٹی کے طالب علم ہوں یا کمائی کرنے والے لوگ۔ بلکہ بعض اوقات تو گرفتار علماء کی تعداد تمام سیاسی قیدیوں سے زیادہ ہوتی تھی۔

ان میں سے آخری امر یہ ہے کہ ان مذکورہ سالوں میں مجموعی طور پر میں نے دو سال سے کچھ زیادہ وقت جیلوں میں گزارا۔ لیکن درحقیقت میری قید اس مدت سے کئی گنا زیادہ بنتی ہے کیونکہ مجھے تمام گرفتاریوں کے دوران انفرادی کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا تھا اور میں نے ایک دن بھی عمومی جیل میں نہیں گزارا۔ انفرادی کوٹھڑی کی عمومی جیل سے وہی نسبت ہے جو عمومی جیل کو آزاد زندگی سے۔ انفرادی کوٹھڑی میں انسان دن گنتا  ہے تاکہ وہ عمومی جیل میں منتقل ہو جائے اور عمومی جیل میں منتقل ہونا اس کے  لیے آزاد ہونے کے مترادف ہوتا ہے لیکن میں نے کبھی بھی عمومی جیل کو نہیں دیکھا۔ جب میں اپنے دوستوں سے اس جیل کے متعلق  سنتا تھا کہ انہیں کس طرح اس میں سیکھنے، سکھانے، آپس میں میل جول اور بعض کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ میں بھی اسے دیکھ سکوں۔ ان مقدمات کو  بیان کرنے کے بعد ہم پہلی جیل  کی یادوں کو شروع کرتے ہیں۔

*****

([1])  سید مصطفی خمینی (1930؁ء تا 1977؁ء): امام خمینی= کے بڑے بیٹے ہیں۔ حوزہ علمیہ کے بزرگ علماء خصوصا اپنے والد محترم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا یہاں تک کہ حوزہ علمیہ کے فضلاء میں شمار ہونے لگے۔ امام خمینی= آپ سے بہت زیادہ محبت اور آپ پر اعتماد کرتے تھے۔ امام خمینی= کی پہلوی حکومت کے خلاف تحریک کے آغاز ہی میں آپ سیاست میں وارد ہوئے۔ امام خمینی= کی گرفتاری اور جلاوطنی کے کچھ عرصے بعد آپ کو گرفتار کر کے ترکی کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔ پھر آپ اپنے والد محترم کے ساتھ عراق کی طرف جلا وطن ہوئے۔ نجف میں آپ تدریس، والد کے گھریلو معاملات کی نگرانی اور مزاحمت کرنے والے مجاہدین سے رابطے میں مشغول رہے۔ 1977؁ء میں مشکوک طریقے سے آپ کی وفات ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر 47 برس تھی۔ آپ نے بہت سے علمی آثار چھوڑے ہیں۔ آپ کی وفات اور اس مناسبت سے منعقد ہونے والی مجالس، شاہی حکومت کے خلاف علی الاعلان مظاہروں اور اجتماعات کے لیے پہلی چنگاری ثابت ہوئیں جن کا سلسلہ تقریباً ایک سال بعد شاہی نظام کے خاتمے تک جاری رہا۔

([2]) سید محمد خامنہ ای (ولادت: 1935؁ء): رہبر معظم کے بڑے بھائی ہیں۔ دینی علوم مشہد میں اپنے والد گرامی اور بعض دوسرے علماء سے حاصل کیے۔ پھر آپ قم منتقل ہو گئے اور آیت للہ بروجردی اور امام خمینی سے کسبِ فیض کیا۔ دینی علوم کے علاوہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم بھی حاصل کی۔ قانون ساز کونسل کے رکن رہے اور دو مرتبہ ایرانی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ آپ اس وقت فلسفہ اسلامی کے حوالے سے کام کرنے والے ’’صدرا انسٹیٹیوٹ‘‘ کے سربراہ ہیں۔

([3]) مجاہدین خلق (منافقین کا گروہ): اس گروہ کو 1965؁ء میں چار محب وطن دیندار جوانوں نے تشکیل دیا۔ اس کا مقصد پہلوی حکومت کے خلاف مزاحمت تھا۔ یہ گروہ دینی علماء سے دوری کی وجہ سے فکری انحراف کا شکار ہوا اور مارکسزم کی طرف مائل ہوگیا۔ 1971؁ء میں ساواک نے اس گروہ کے اکثر افراد کو گرفتار کر لیا اور چار سال بعد اس گروہ نے مارکسزم کو رسمی طور پر اپنا نظریہ قرار دے دیا۔ انقلاب کے بعد مجاہدین نے بظاہر انقلاب کی حمایت اور ساتھ چلنے کا اعلان کیا لیکن انہوں نے آہستہ آہستہ ایک ایسے راستے کا انتخاب کر لیا جو ملکی مفادات اور اسلامی اصولوں کے خلاف تھا۔ 1981؁ء سے اس گروہ نے ایرانی عوام کے خلاف مسلح دہشت گردی کا آغاز کر دیا۔ اس گروہ کا سربراہ مسعود رجوی بیرونی ملکوں کے ایجنڈے پر ایرانی مفادات کے خلاف کام کرتا رہا۔