آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

پانچواں باب: انقلاب کا آتش فشاں

حاج آغا روح اللہ

جب میں مشہد میں تھا تو میں نے سید خمینی کا نام سنا۔ وہ ان دنوں حاج آقا روح اللہ کہلاتے تھے اور طالب علموں کے ہاں تعلیم و تدریس میں سنجیدگی کے حوالے سے مشہور تھے۔ پڑھائی کا شوق رکھنے والا ہر جوان طالب علم سید کے حوزہ علمیہ قم کے دروس میں شرکت کا شوقین تھا۔ سن 1958؁ء میں میرے قم جانے کے بعد میں نے سید خمینی کے اصول فقہ کے درسوں میں شرکت کی۔ ان چھ سالوں میں جو میں نے قم میں گزارے ان درسوں کو جاری رکھا۔ میں نے سید خمینی کے فقہ کے درسوں میں بھی شرکت کی، لیکن شیخ مرتضی حائری کے درس میں جانے کی وجہ سے ان کو جاری نہیں رکھ سکا۔ میرا درس چھوڑنا شیخ حائری کے درس کو ترجیح دینے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان کے درس میں تعداد کم ہونے کہ وجہ سے تھا۔ شیخ حائری کے درس میں طالب علم کم تھے کیونکہ ان کی تدریس کا اسلوب طالب علموں کو جذب نہیں کرتا تھا، اگرچہ وہ علم و فضل میں مشہور تھے لیکن میرے ان چند ساتھیوں نے بھی شیخ حائری کے درس کو خیر آباد کہہ دیا اور میں اکیلا ان کے پاس درس پڑھتا رہا۔ اس درس کے علاوہ کوئی ایسا درسِ خارج نہیں تھا کہ جس میں صرف ایک طالب علم شرکت کرتا ہو۔

امام خمینی کی  1962؁ء کی تحریک سے پہلے ان پر کوئی انقلابی آثار نمایاں نہیں تھے۔ وہ ایک محنتی استاد تھے، جن کا لباس بہت صاف ستھرا اور مرتب ہوتا تھا۔ سر جھکائے کمرۂ درس میں داخل ہوتے تھے۔ کسی طالب علم کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ اپنا درس سنجیدگی سے پڑھاتے تھے۔ طالب علموں کے سوالات اور اعتراضات کا پورے اہتمام سے جواب دیتے تھے۔ پھر کسی طالب علم سے بات چیت کیے بغیر اسی انداز میں باہر چلے جاتے تھے۔ اس کے باجود آپ اپنے شاگردوں اور دوسرے طالب علموں کے درمیان بہت زیادہ محبوب تھے۔

ابھی جب میں ان ایام کے متعلق سوچتا ہوں تو اعلانِ تحریک سے قبل امام کی خاموشی پر بہت حیران ہوتا ہوں۔ اعلانِ تحریک کے بعد سامنے آنے والے بیانات بتاتے ہیں کہ وہ حکومتی اقدامات پر بہت غضب ناک ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود خاموش رہتے تھے۔ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ سید کی خاموشی کی ریاضت بڑی ریاضتوں میں سے ایک تھی۔ وہ انسان ِمومن کے کامل مصداق ہیں۔

سید خمینی میرے والد محترم کے دوست تھے۔ جب بھی میں قم سے مشہد کے لیے عازم سفر ہوتا اور انہیں الوداع کرنے جاتا تھا تو وہ مجھے والد کو سلام پہنچانے کا کہتے تھے۔ اسی طرح سے سفر سے واپسی پر بھی میں ان سے ملنے جاتا تھا تو وہ مجھ سے والد صاحب کا حال احوال پوچھتے تھے۔ بعض امور کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھی میرا ان کے پاس آنا جانا رہتا تھا۔

جب امام خمینی کی تحریک کا آغاز ہوا تو میں اس تحریک کے پرچم تلے آنے کے لیے مکمل طور پر آمادہ تھا۔ میں نے اس تحریک میں وہ سب کچھ پایا جو چاہتا تھا۔  مجھے یاد ہے میں تحریک کےآغاز کے پہلے سال قم کی ایک گلی میں جا رہا تھا تو مدرسہ حجتیہ کے دروازے پر امام خمینی کا دوسرا بیان آویزاں دیکھا جس میں اسد اللہ علم کوایک ایسی زبان کے ساتھ مخاطب کیا گیا تھا جو اسلام کی قوت اورعلمائے اسلام کی عزت کی عکاس تھی۔ میں نے اس بیان کے کلمات کو آخر تک شوق کے ساتھ پڑھا اور سجدہ ریز ہونے کا ارادہ کیا کیونکہ یہ بیان میرے تمام جذبات اور امیدوں کی عکاسی کرتا تھا۔ میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ثابت قدم رہیں گے چاہے اس کے لیے جو بھی قربانی دینی پڑے۔ سید بروجردی کی وفات کے بعد حوزہ علمیہ قم یتیمی کا احساس کر رہا تھا۔ ایسے حالات میں امام خمینی بلند و بالا پہاڑ کی مانند سامنے آئے،  جو ظالم حکومت سے انتہائی دلیری، قوت اور عظمت کے ساتھ بات کرتے تھے۔ یہ واضح تھا کہ اس طرح کا موقف اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے خواہاں انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ تحریک کے آغاز اور اس میں میری فعال شرکت کے بعد سیدؒ کے گھر میری آمدورفت بڑھ گئی۔

انقلاب کا آغاز کیسے ہوا؟

امام خمینی کی تحریک میں اپنا کردار واضح کرنے کے لیے اختصار کے ساتھ تحریک کے آغاز کے متعلق کچھ بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام خمینی کی تحریک، خزاں 1962؁ء میں اس وقت شروع ہوئی جب حکومت کے شریعت مخالف فیصلوں کے خلاف آپ نے شدید احتجاج  کیا۔ ان فیصلوں میں سے ایک، حکومت کی طرف سے (پارلیمنٹ اور عدالتوں میں)  قرآن کی قسم کو دوسری آسمانی کتابوں کی قسم سے تبدیل کرنا تھا۔ اس طرح کے فیصلوں کا ہدف ایران میں اسلام کی عظمت کو کم کرنا اور علمائے دین کے جذبات کو ابھارنا تھا۔ تمام شہروں میں شدید احتجاجات کے نتیجے میں دو ماہ بعد حکومت اپنے فیصلے سے دست بردار تو ہو گئی مگر اس نے راتوں رات ایک اور منصوبہ بنا لیا۔ اس فیصلے کے واپس لینے کے ایک ماہ بعد شاہ نے پارلیمنٹ میں کچھ قانونی بل پیش کیے جن کو ’’ اصلاحات‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ در حقیقت امریکی بل تھے۔ امام خمینی نے ان بلوں کو بھی شدت سے ردّ کر دیا۔  شاہ نے ان بلوں پر ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا تو امام نے اس ریفرنڈم کی بھی شدید مخالفت کی۔ جب مزاحمت شدت اختیار کر گئی تو شاہ نے امام خمینی اور تمام علمائے  دین کو دھمکانے کا قصد کیا اور قم آیا جو علماء کا مرکز تھا۔ حرم حضرت فاطمہ معصومہ/ بنت امام موسی کاظم, ([1])کے سامنے والے میدان میں کھڑا ہو گیا اور توہین آمیز تقریر کی، جس میں علماء دین پر حملہ کیا۔ وہ گھبرایا ہوا اور مضطرب تھا۔ اس طرح اس نے ایک خطرناک قدم اٹھایا۔

امام خمینی اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے۔ آپ روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر اپنے بیانات جاری کرتے رہے۔ ان  بیانات کی زبان بہت زیادہ سخت تھی۔ اس جیسے ماحول میں ریفرنڈم انجام پایا۔ حکومت نے کہاکہ ۶۰ لاکھ  لوگوں نے اس ریفرنڈم میں شرکت کی ہے۔

یہ ریفرنڈم  1963؁ء میں انجام پایا۔ ریفرنڈم کے  دن میں، میرے بھائی سید محمد اور ایک تیسرا شخص مشہد سے تہران پہنچے۔ ہمیں سید میلانی نے امام خمینی کی خدمت میں بھیجا تھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پولنگ اسٹیشنز لوگوں سے خالی پڑے تھے، یہاں تک کہ  شہر کے زیادہ آبادی والے مراکز میں بھی چند ہی لوگ نظر آئے۔

ریفرنڈم کے بعد امام خمینی نے اپنے موقف میں مزید شدت اختیار کر لی اور  ریفرنڈم اور اس کے نتیجے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ امام خمینی  کے اس سخت موقف کے بعد  آپ اور سارے مراجع کے درمیان اختلاف ِنظر کی شروعات ظاہر ہوئیں۔

اس سال ہماری کوئی عید نہیں

نیا شمسی ہجری سال قریب آگیا کہ جس کا آغاز ایرانی عام طور پر خوشی و مسرت، نیا لباس پہننے اور ایک دوسرے کی زیارت سے کرتے ہیں لیکن امام خمینی نے اس سے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہم سوگ کی حالت میں ہیں اور اس سال ہماری کوئی عید نہیں ہے۔

اس اعلان کا سبب تہران میں ہونے والے کچھ مؤمنین کے پر امن مظاہرے پر حملہ تھا۔ ان مظاہرین میں سے ایک سید احمد خوانساری بھی تھے جو اس وقت  ایران کے مراجع میں سے تھے۔ عوامی مظاہرے میں کسی مرجع کا ہونا ایک انہونی سی بات  تھی اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات شاہ کے کارندوں کا ایک ایسے مظاہرے پر دھاوا بولنا اور مظاہرہ کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرنا تھا، جس میں ایک بڑے مرجع شریک تھے، یہاں تک کہ خود سید خوانساری اس لا ٹھی چارج کی وجہ سے زخمی ہو گئے۔

سوگ کے اعلان  کے بعد تمام جوان طالب علموں نے کالے لباس زیب تن کر لیے جیسا کہ سوگ کے ایام میں ہوتا ہے۔ بعض نے تو فقط کالی قمیض پہنی جبکہ بعض نے مکمل  لباس، اور مجھے یاد ہے کہ میں خود درزی کے پاس گیا کہ وہ میرے لیے ایک کالی  قمیض سی دے۔

نئے سال کا پہلا دن ۲۴ شوال کو بنا یعنی ۲۵  شوال کی رات جو کہ امام صا دق, کی شہادت کی شب ہے اور قم میں عموما مراجع عظام اس دن مجالس او رعزاداری برپا کرتے ہیں۔ امام خمینی کی مجلس ان کے اپنے گھر جبکہ سید شریعت مداری کی مجلس حجتیہ مدرسے میں ہوتی تھی اور یہ دونوں مجلسیں نماز ظہر سے پہلے تھیں جبکہ سید گلپایگانی کی مجلس عصر کے وقت مدرسہ فیضیہ میں تھی۔

راتوں رات شاہی حکومت نے قم کے علماء سے انتقام لینے کے لیے اس مخصوص دن کے متعلق لائحہ عمل تیار کر لیا، جس کے لیے شاہ کے کچھ خصوصی محافظ قم آئے۔ ان کا مقصد مجالس عزا میں فتنہ برپا کرنا تھا تاکہ اس کے بعد وہ اپنی قوت اور تندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ کے طالب علموں کے ساتھ سخت رویہ اپنائیں۔ انہوں نے چاہا کہ امام خمینی کے ہاں ہونے والی مجلس کو خراب کیا جائے لیکن چونکہ یہ مجلس ان کے گھر میں منعقد ہو رہی تھی اور گھر ایک تنگ گلی کے کونے میں واقع تھا لہٰذا ان کا یہ منصوبہ اس جیسی جگہ پر کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔  اس کے علاوہ کچھ عمامہ پوش علماء نے کھڑے ہو کر دھمکی دیتے اور ڈراتے ہوئے بلند آواز سے اس منصوبے کو آشکار کر دیا اور سازش کرنے والوں کی سازش  کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اسی طرح کا فتنہ شریعت مداری کی مجلس میں برپا کرنے کی  کوشش کی لیکن وہاں بھی ایک  نوجوان  لڑکے نے اس بات کو بھانپ لیا جو کہ شریعت مداری سے عقیدت اور لگاؤ رکھنے میں  مشہور تھا،  لہٰذا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور حاضرین کو مخاطب کرکے کہنے لگا: ’’جو بھی اس مجلس کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا میں اس کی کمر توڑ دوں گا۔‘‘ لیکن وہ لوگ پھر بھی مدرسہ فیضیہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

مجلس عزاء ایک بہت بڑے سانحے میں تبدیل ہو گئی اور شاہی نظام پر ذلت و عار کا ایک ایسا دھبہ لگ گیا جو کبھی اس سے جدا نہیں ہو سکا۔ شاہی کارندوں نے طالب علموں پر حملہ کر کے انہیں بہت مارا۔ بعض کو تو قتل کر ڈالا جبکہ بعض کو مدرسے کی اوپر والی منزل سے نیچے صحن میں دھکے دے کر گرا دیا اور طالب علموں کے کمروں سے ان کا سادہ و متواضع سامان نکال کر اسے آگ لگا دی اور ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جن کی ایک لمبی داستان ہے۔

ماہ محرم کے لیے اما م خمینی کا منصوبہ

مدرسہ فیضیہ کے حادثے کے بعد اما م خمینی نے اس مسئلے کو بہت زیادہ اٹھایا اور ایک لحظے کے لیے بھی سکون سے نہ بیٹھے۔ مدرسہ فیضیہ میں ہونے والے سانحے سے پردہ اٹھانے اور علماء کو سرنگوں کرنے کے حکومتی منصوبے کو آشکار کرنے کے لیے امام خمینی کے پیروکاروں نے اپنی کوششوں کو وسیع پیمانے پر پھیلا دیا۔

پھر امام خمینی نے ماہِ محرم کے لیے منصوبہ بندی کی۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں حوزہ علمیہ تمام شہروں اور دیہاتوں میں وسیع پیمانے پر قائم کردہ مجالس عزاء اور وعظ و نصیحت کے منبروں کے ذریعے لوگوں سے مربوط اور سرگرم ہوتا ہے۔ امام خمینی کے منصوبے کے مطابق ۷ محرم سے خطباء  نے حکومت کی کارستانیوں سے پردہ اٹھانا شروع کرنا تھا، جبکہ عزاداری کے دستوں نے اسی  کام کا آغاز ۹ محرم سے  کرنا تھا۔  یہ منصوبہ علماء و مراجع  تک پہنچا دیا گیا اور میں اس منصوبے کوپہنچانے والوں میں سے ایک تھا۔ امام خمینی نے مجھے مشہد بھیجا تاکہ سید میلانی اور سید قمی کو اس فیصلے سے باخبر کروں۔ محرم کے آغاز میں، میں نے بیرجند شہر کی طرف رخ کیا تاکہ امام خمینی  کےمنصوبے کے مطابق اپنی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے حکومت کے مظالم کو آشکار کروں۔ وہاں (بیرجند میں) جو کچھ ہوا اس کو میں اپنی پہلی قید کے واقعات میں بیان کروں گا ۔

لوگوں کے جذبات ابھارنے میں امام خمینی کا منصوبہ کامیاب ہو گیا اور مجالس عزاء  شاہ اور اس کے معاونوں سمیت تمام ظالموں کے خلاف  شعلہ ور آتش فشاں کی شکل اختیار کر گئیں۔ حکومتِ وقت پر غیض و غضب کی فضا اور اسلامی انقلاب کے جذبات سے سرشار ماحول میں اعلان کر دیا گیا کہ امام خمینی دس محرم کو عوام سے خطاب کریں گے۔ یہ جاننے کے لیے کہ امام خمینی کیا کہیں گے دلوں کا رخ قم کی طرف ہو گیا اور اس مقررہ دن میں آپ نے ایک عجیب تاریخی خطاب کیا۔ کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ آپ اس قدر شدید لہجے اور صراحت کے ساتھ گفتگو کریں گے جس میں تمام پردوں  کو چاک اور رازوں کو فاش کر دیں گے۔ امام خمینی نے جو گفتگو کی اس کا کچھ حصہ یہ ہے:

یقیناً اسرائیل نے اپنے ذلیل و خوار ایجنٹوں کے ذریعے سے مدرسہ  فیضیہ کو نشانہ بنایا ہے اور اسرائیل ہی ہمیں اور ہماری  ملت کو نابود کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے اقتصاد پر قبضہ کرلے اور ہماری زراعت اور تجارت کو تباہ وبرباد کر دے۔ اے شاہ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کاموں سے باز آجاؤ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا دن نہ آئے کہ تم ایران سے جانے پر مجبور ہو اور لوگ تمہارے جانے پر خدا کا شکر بجا لائیں۔ ملت کی تقدیر اور سرنوشت کے ساتھ مت کھیلو۔ علمائے دین کے مقابلے میں نہ آؤ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔۔۔ تمہاری عمر کے  ۴۵ سال تو گزر گئے لہٰذا نصیحت پر کان دھرو، اپنے اعمال کے انجام کے بارے میں سوچواور جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو۔ اپنے باپ سے عبرت حاصل کرو اور علمائے دین کی نصیحتوں  کو توجہ  سے سنو۔ کیا علماء قدامت پسند ہیں؟ کیا اسلام دقیانوسی ہے؟ اور کیا تم نے ’’انقلابِ سفید‘‘ کا اعلان کیا ہے؟ کونسا ’’انقلاب سفید؟‘‘ تم کیوں جھوٹ بولتے ہو؟ کیوں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو؟ خدا کی قسم، اسرائیل تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گا بلکہ قرآن ہے جو تمہیں فائدہ پہنچائے گا۔ مجھے آج پتا چلا ہے کہ ساواک نے کچھ خطیبوں کو حراست میں لے کر ان سے تعہد لیا ہے کہ وہ  شاہ اور اسرائیل کے خلاف لب کشائی نہیں کریں گے اور نہ ہی یہ کہیں  گے  کہ دین خطرے میں ہے۔۔۔ شاہ اور اسرائیل کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا شاہ اسرائیلی ہے؟ کیا ساواک کی نظر میں شاہ یہودی ہے؟!‘‘

۲ جون ۱۹۶۳؁ء کی شام5 بجے امام خمینی= کو خفیہ  طور پر گرفتار کر کے تہران منتقل کر دیا گیا۔ یہ خبر پھیلنے کی دیر تھی کہ  ۱۵ خرداد([2]) کا خوفناک اور مشہور سانحہ پیش آ گیا۔ شروع میں آپ کو تہران میں افسران کی مخصوص عمارت میں  حراست میں رکھا گیا جہاں آپ نے کچھ دن گزارے۔ پھر ایک  انتہائی چھوٹی کوٹھڑی میں منتقل کر دیا گیا جہاں آپ کھڑے ہو کر نمازبھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ وہاں آپ نے دو راتیں گزاریں۔ اس کے بعد ایک اور جیل میں منتقل کر دیا گیا جہاں آپ نے دو ماہ گزارے۔ پھر آپ کو اچانک رہا کر دیا گیا اور آپ تقریبا ڈیڑھ دن آ زاد رہے۔ اس دوران  آپ تہران کے کسی گھر میں مقیم رہے اور جب لوگوں نے آپ کی رہائی کی خبر سنی اور آپ کی رہائش گاہ سے آگاہ ہوئے تو انفرادی اور گروہی شکل میں تیزی سے آپ کے گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ پورا علاقہ یہاں تک کہ اس کی سڑکیں اور گلیاں لوگوں سے کھچا کھچ بھر گئیں۔ حکومت کو خطرہ محسوس ہوا تو انہوں  نے امام خمینی کو تہران  کے شمالی علاقہ قیطریہ میں منتقل کر کے نظر بند کر دیا۔ وہاں آپ تقریبا آٹھ ماہ رہے۔ پھر آپ کو  ۱۹۶۴؁ء کے شروع  میں رہا کر دیا گیا اور آپ قم شہر کی طرف واپس  لوٹ آئے۔ اسی سال ۲۱ اکتوبر تک آپ آزاد  رہے، یہاں تک کہ آپ کو ترکی کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔

میری پہلی گرفتاری امام خمینی کی گرفتاری اور ۱۵ خرداد (۵جون) کے قیام کے دنوں میں ہوئی تھی اور دوسری مرتبہ تب گرفتار ہوا جب  امام خمینی قیطریہ میں نظر بند تھے۔ اس قید سے رہائی کے بعد میں نے امام خمینی سے ملاقات کی، جس کی تفصیل اپنی جگہ پر بیان کروں گا۔ جب ہمیں امام خمینی کی ڈیڑھ دن کی رہائی کی خبر ملی تب ہم کچھ شاعر دوستوں کے ساتھ مشہد کے ایک سیاحتی مقام پر تھے جو ’’اخلمد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

*****

([1]) سیدہ فاطمہ معصومہ: آپ امام موسی کاظم, کی دختر ہیں۔ جب مامون عباسی امام رضا, کو زبردستی ایران لے آیا تو آپ اپنے بھائی سے ملنے ایران تشریف لائیں لیکن راستے میں مریض ہوگئیں اور قم شہر پہنچ کر وفات پاگئیں اور پھر وہیں دفن ہوئیں۔ آپ کے حرم سے مومنین، علماء اور اولیاء صدیوں سے کسبِ فیض کر رہے ہیں۔

([2]) 15 خرداد کا قیام (5 جون 1963؁ء): امام خمینی کی گرفتاری کے خلاف ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے عوامی مظاہرے اور احتجاجات، جن کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد اور متعدد دینی علماء کو گرفتار کر لیا گیا۔ تہران میں مقیم شیعوں کے ایک بڑے مرجع آیت اللہ حسین قمی کو ایران بدر کیا گیا۔ شاہ کی حکومت نے قم، تہران اور رامین میں احتجاجی مظاہروں پر دھاوا بول دیا اور شاہی فورسز کے تشدد کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور بہت سارے لوگ زخمی ہوئے۔ انقلابی تحریک کے آغاز میں پیش آنے والے اس حادثے نے ثابت کیا کہ عوام اس طاغوتی نظام کے مقابلے میں بیدار اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔