آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

چوتھا باب: پہلی چنگاری

جہاد

میں نے بچپن سے ایران میں اسلامی بیداری کے اہم دور میں زندگی بسر کی ہے جو نواب صفوی کی تحریک سے شروع ہوئی اور تحریکِ امام خمینی کے ساتھ انقلاب اسلامی اور بابرکت اسلامی حکومت کے قیام تک جاری رہی۔ شہید نواب صفوی  وہ پہلی چنگاری  تھے جنہوں نے میرے لیے مکمل انقلابی اسلام کا راستہ روشن کیا۔ وہ مردِ مجاہد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ایرانی معاشرے میں ایسا تحرک ایجاد کیا جس نے مسلمانوں کے ضمیر کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ، ہمتوں کو متحرک کیا اور دلوں میں اسلام اور اسلامی مقدسات سے متعلق غیرت جگائی۔ نواب صفوی کی تاثیر صرف ایران تک محدود نہ تھی، بلکہ انہوں نے عرب دنیا کے بعض علاقوں کا بھی سفر کیا اور  مجاہدین کے دلوں میں حماسہ اور جذبے کی آگ کو شعلہ ور کیا اور بعض عرب  حکمرانوں کو نصیحت کی کہ استعمار کے دھوکے کا شکار نہ ہوں۔

نواب  کے دیدار کی تڑپ

نواب صفوی نے 1953؁ء میں مشہد مقدس کا سفر کیا اور ’’المہدیہ‘‘ نامی مقام پر ٹھہرے جو ایک مدرسے کی مانند تھا جس میں امام مہدی منتظر(عج)کی یاد کا بہت اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس مدرسے کے مؤسس ’’عابد زادہ‘‘تھے، جو پندرہ شعبان کو جشن میلادِ مہدی منتظر(عج) بہت زیادہ اہتمام سے مناتے تھے۔نواب صفوی نے کسی کے گھر میں قیام نہیں کیا، بلکہ اپنے لیے اس عمومی دینی جگہ کا انتخاب کیا۔ میں ان دنوں مدرسہ سلیمان خان میں طالب علم تھا اور اس وقت میری عمر 14 سال تھی۔ نواب صفوی کے دیدار کے شدید شوق کے باوجود میں مہدیہ نہ جا سکا کیونکہ میرے والد صاحب نے مجھے جانے کی اجازت نہ دی۔

نواب صفوی نے اس سفر کے دوران ایک دن مدرسہ سلیمان خان کا دورہ کرنے کا عزم کیا تاکہ اس مدرسے کے جن طلاب نے آپ سے ملاقات کی تھی ان کا دیدار کر سکیں۔ جیسے ہی میں نے یہ خبر سنی، تو میں بہت  خوش ہوا۔ یہ حقیقت تھی کہ نواب صفوی ہماری نظروں میں شجاعت اور اسلامی مزاحمت کی علامت شمار ہوتے تھے۔ ہم جب حکومتی مشینری کے خلاف ان کی مجاہدانہ جدوجہد کی تفصیلات سنا کرتے تو عزت اور فخر محسوس کرتے تھے۔ ان  کی جدجہد میں سے ایک  ایران میں استعمار کے کارندے کا قتل اور فدائیان اسلام([1]) کے ایک رکن خلیل طہماسبی کے ہاتھوں وزیر اعظم  جنرل رزم آرا کا قتل تھا جو کئی مظالم اور جبر وحبس کی کاروائیوں کی پشت پناہی کرنے والا  تھا۔ ہم نے سنا کہ سید کاشانی نے طہماسبی کو اس دلیرانہ اقدام پر مبارکباد پیش کی۔ ہم جانتے تھے کہ نواب صفوی کے کچھ ساتھی ہیں اور ان کی ایک تنظیم بھی ہے جس نے حکومتی کارندوں اور طاغوتوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔

اس مدرسے میں ایک بڑا کمرہ تھا جسے ’’مدرس‘‘ کہا جاتا تھا۔ ہم نے جھاڑو لگا کر اس کی صفائی کی اور اسے مہمان اور ان کے ساتھیوں کے لیے تیار کیا۔ مقررہ وقت کا انتظار کرنا شروع کیا، مدرسے کا دروازہ کھلا، مہمانوں کا ایک گروہ اندر داخل ہوا اور میں ان کے درمیان نواب صفوی کو تلاش کرنے لگا جن کے متعلق میں نے اپنے ذہن میں ایک بھاری اور طویل وعریض آدمی کی تصویر  بنا رکھی تھی۔ میں نے ویسا آدمی نہیں دیکھا جیسا سوچا ہوا تھا۔ اس کے برعکس ایک نحیف اور چھوٹا سا آدمی مجھے نظر آیا  جس کے سر پر کالا عمامہ اور چہرہ ہشاش بشاش تھا۔ وہ ہر دیکھنے والے کے لیے مسکراتے اور اسے سلام  کرتے جا رہے تھے۔ جب کسی ہاشمی سید کو دیکھتے تو اسے کہتے: ’’سلام علیک یا ابن العم (میرے چچا زاد آپ پر سلام ہو)۔‘‘ عجب! یہ وہی نواب  صفوی ہیں جنہوں نے شاہ کی حکومت کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے؟!

حقیقت میں جب سے میری نظر  ان پر پڑی تھی مجھے لگا جیسے میں اپنے تمام عواطف و جذبات کے ساتھ ان کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہوں اور ان کو دل کی گہرائیوں سے  چاہنے لگا ہوں۔

اس سفر میں نواب صفوی کے ساتھ فدائیان اسلام کا ایک گروہ بھی تھا۔ ان میں سے اکثر جوان تھے جنہوں نے سروں پر چمڑے کی خاص قسم کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور ان میں سے تین نے عمامے پہن رکھے تھے۔  وہ کمرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ نواب صفوی کھڑے ہوئے، تقریر کی اور اپنے سیاسی اہداف و مقاصد  کو بیان فرمایا۔ لوگوں کو اسلام کی نصرت اور سربلندی کے لیے جانفشانی اور شہادت کی ترغیب دی۔ ان کی باتیں میری روح پر اثر انداز ہوئیں، میرے عواطف اور جذبات کو شعلہ ور کرنے لگیں اور مجھے اسلام کی عزت و قوت  کی طرف کھینچنے لگیں۔

مشتعل شعلہ

دو دن بعد میں نے سنا کہ نواب صفوی ’’مدرسہ نواب‘‘ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ میری آمد و رفت محدود تھی، میں اس مدرسے میں چلا گیا۔وہاں لوگوں کو ان کا انتظار کرتے ہوئے پایا۔ اس مدرسے کے ہال اور ایوانوں میں ان کے استقبال کے لیے قالین بچھائے گئے تھے۔ میں نے کچھ دیر انتظار کرنے والوں کے ساتھ  انتظار کیا لیکن  شدتِ شوق کی وجہ سے میں وہاں نہ رک سکا لہٰذا ان کے استقبال کا عزم کر لیا اور مہدیہ کی طرف جانے والے راستے پر نکل پڑا۔میں نے انہیں آتے ہوئے دیکھا۔  لوگ ان کے پیچھے تھے۔ وہ دائیں بائیں دیکھتے ہوئے چل رہے تھے۔ لوگوں کو سلام کر رہے تھے اور ان سے گرمجوشی کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ چلنے والوں کو مخاطب کر کے کبھی ان کے عزم کو  پختہ کرتے اور کبھی ان کو نصیحت  کرتے۔ ان کا پورا جسم تقریر اور بات چیت کرتے وقت مسلسل ہلتا رہتا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب نواب صفوی نے مغربیوں سے شباہت کی مذمت میں تقریر کی تو اس سے متاثر ہو کرایک شخص نے اپنی ٹوپی اتار دی، پھر اس نے اسے  لپیٹ کر جلدی سے اپنے جیب میں ڈال  لیا۔

میں نے جلدی کی تاکہ مدرسے میں نواب صفوی کے سامنے صفِ اول میں بیٹھ سکوں۔ ابھی بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے اپنی تما م تفصیلات کے ساتھ مجسم ہے۔  آپ مدرسے کے صحن میں ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہوئے۔ میں ان کے سامنے ان کے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اور ان کی ہر بات اور حرکت  کی طرف  کھنچا جا رہا تھا۔  مجھے یاد ہے وہ طالب علموں کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے اور ان کو ورع اور تقوی کی طرف بلا رہے تھے اور اس بارے میں روایات اور آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ ابھی بھی ان کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے جب وہ پڑھ رہے تھے: ’’اے ابن آدم توشہ راہ مہیا کرو، بے شک راہ بہت طولانی  ہے۔۔۔ اپنی کشتی کو از سرنو بناؤ،   بے شک  سمندر بہت گہرا ہے۔‘‘([2])

نواب صفوی واقعا ایک مشتعل شعلے میں تبدیل ہو چکے تھے جو میرے تمام وجود میں اسلام، معاشرے اور اسلام کے مستقبل کی فکر کو ہمیشہ اور مسلسل ابھارتا تھا۔

قابل ذکر بات ہے کہ سید کاشانی کے دور میں نواب صفوی  کی آمد سے قبل سن 1952؁ء میں بعض باشعور خطیب ہمارے پاس مشہد تشریف لائے۔ میں ان کی  محفل میں جانے اور ان کی الہامی حماسی روح سے مطلع ہونے کا بہت مشتاق تھا۔

اولادِ رسول خدا کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے؟

اس سفر کے دو سال بعد (1955؁ء) نواب صفوی کو شہید کر دیا گیا۔  میں ان دونوں مدرسہ نواب میں شیخ ہاشم قزوینی کے پاس درس پڑھتا تھا۔ نواب صفوی کی پھانسی کے ساتھ شہروں میں عام طور پر اور حوزات علمیہ میں خاص طور پر رعب و وحشت اور خوف کے بادل منڈلانے لگے۔ مشہد میں ان دنوں ہمارے استاد  شیخ ہاشم ہی وہ تنہا عالم تھے جنہوں نے خوف کی فضا کو توڑا۔ انہوں نے اپنے درس کے شروع میں نواب صفوی کی شہادت پر تعزیت پیش کی، ان کی پھانسی کے خلاف سخت الفاظ میں احتجاج کیا اور اپنی مشتعل آواز کے ساتھ فرمایا: ’’کیا اولادِ رسولؐ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟‘‘ ہم جوان طالب علموں نے نشستیں منعقد کرنا شروع کر دیں، جن میں نواب صفوی اور ان کے ساتھیوں کے فضائل، ان کی روش اور اہداف و مقاصد کو بیان کرنے اور ان مجاہدین کی پھانسی کے خلاف اپنے اعتراضات کا اظہار کرنے لگے۔

نواب صفوی کی شہادت کے اگلے سال ہم اتفاقاً ایک استاد سے ملے جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے مشہد آئے ہوئے تھے۔ ان کا لقب ’’قلہ زاری‘‘ تھا اور وہ فدائیان اسلام کے ارکان میں سے تھے، لیکن حکومت ان کا پیچھا نہیں کر رہی تھی کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت مہیا نہیں تھا۔ ہماری ان سے آشنائی ہوئی اور ہم ان سے مانوس ہوگئے۔ انہوں نے ہمیں نواب صفوی کے حالات زندگی اور ان کی فکری وسیاسی نظر کے بارے میں  بتایا تو مجھے ان سے اور زیادہ لگاؤ ہوگیا اور ان کے خلوص، جدوجہد اور اہداف کے بارے میں میرے یقین  میں اضافہ  ہو گیا۔ ہمارا گروہ ایسے جوانوں پرمشتمل تھا جو ذہنی اور قلبی طور پر  آپس میں مربوط تھے۔ قلہ زاری ہم سے تقریبا 10 سال بڑے تھے لیکن ایک گہرے تعلق نے ہمیں ان کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ اگلے سالوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کا مشہد آنا جانا لگا رہا۔

پہلا سیاسی اقدام

ہمارے گروہ کا پر جوش جذبہ موقع کا منتظر تھا تاکہ عملی طور پر اپنے وجود کا اظہار کرے۔ یہ موقع محرم 1955؁ء میں  ہمیں مل گیا جب مشہد کے گورنر نے  شہر میں سینما کی چھٹیاں کم کر کے صرف 12 محرم  تک محدود کر دیں، جبکہ معمول  یہ تھا کہ عاشورا، واقعہ کربلا اور چہلم شہدا کے احترام میں سینما بند رہیں گے خصوصاً اکثر سینموں میں فاسد فلمیں چلتی تھیں۔ گورنر کا یہ حکم ہمارے ردّعمل کے لیے کافی  تھا، پس ہم اکٹھے ہوئے اور اس فیصلے کے خلاف ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں   ہم نے علماء اور عوام کو امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ذمہ داری انجام دینے کے لیے ابھارا اور برائیوں کے مقابلے میں خاموشی کے انجام سے ڈرایا۔ ہمارے پاس پرنٹنگ کے آلات نہیں تھے۔ ہم نے بیانیہ کے تمام اوراق اپنے ہاتھوں سے لکھے۔ میرے پاس  ان میں سے ایک نسخہ ابھی بھی موجود  ہے۔ یہ بیانیہ چار صفحات پر مشتمل  تھا۔ ہر نسخے کو لکھنے کے لیے تقریبا دو گھنٹے درکار تھے۔ سیاسی میدان میں یہ پہلا عملی قدم تھا۔

تبدیلی کی سوچ

جب میں1958؁ء میں شہر قم گیا تو معاشرے کو تبدیل کرنے کی سوچ  میرے ذہن کو مشغول کیے ہوئے تھی۔ چونکہ میرا تعلق حوزہ علمیہ سے تھا لہٰذا میں حوزہ کی تجدید میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ آخری دفعہ میں نے (1991؁ء) قم میں حوزے کی تجدید کے پروگرام کے بارے میں بات کی۔ اس فکر کی ابتداء انہی دنوں کی طرف پلٹتی ہے۔

اس مناسبت سے یہ بھی بتاتا چلوں کہ کل مجھ سے ایک عالم دین ملنے آئے جو ان دنوں سید بروجردی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، تو مجھے وہ گفتگو یاد آگئی جو میرے اور ان کے درمیان، قم کی طرف میری ہجرت کے ابتدائی ایام میں ہوئی تھی، جب میں ان سے ایک دوست  کے گھر ملا تھا۔ صاحب خانہ اور میرے بھائی سید محمد بھی وہاں پر تشریف فرما تھے۔ میں نے ان کے سامنے حوزے کے نظام پر شدید تنقید کی۔ ان دنوں حوزے کے سربراہ سید بروجردی تھے۔ بحث شدت اختیار کر گئی۔ وہ دفاع کر رہے تھے اور میں نقد کر رہا تھا۔ بالآخر وہ اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد صاحب خانہ نے اس گفتگو میں جرات پر میری ملامت کی، جو ممکن تھا سید بروجردی تک پہنچ جاتی۔

مزاحمت اور بیداری کے راستے

یہاں پر میں ایران کے اندر اسلامی تحریک کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں، اور وہ یہ کہ اس تحریک میں دو طرز تفکر موجود تھے۔ ان دونوں کا ملاپ اس  ملک میں اسلام کی طرف تکاملی سفر کو تشکیل دیتا ہے:

پہلا: حکومتی نظام کے مقابلے میں خالص دینی مزاحمت کا طرز تفکر ۔

دوسرا: فکری بیداری اور زندگی کے اسلامی نظام کو نئے اسلوب کے ساتھ پیش کرنے کا طرز تفکر، یا دوسرے الفاظ میں دینی فکر میں تجدیدِ نظر کی سوچ۔

بعض ایسے تھے جو مزاحمتی راستے کو اپنائے ہوئے تھے لیکن جدید اسلامی فکر کے حامل نہیں تھے بلکہ قدامت پسند سوچ کے حامل تھے۔ ان کی اسلامی غیرت مسلمانوں کی مقدسات کی توہین کرنے والی حکومت کے خلاف انہیں قیام پر ابھارتی تھی۔

بعض بیداری کی سوچ کے حامل تھے اور وہ اسلام کے بارے میں روشن فکر رکھتے تھے۔ انہوں نے معاشرے کے اندر دین کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی اور فکری انحرافات کا مقابلہ کیا، لیکن مزاحمت کے راستے کو نہیں اپنایا۔

اس کے باوجود کہ امام خمینی= فکری بیداری کے علمبردار تھے، ان کی تحریک کے آغاز  میں (1963؁ء) مزاحمت کا پہلو نمایاں تھا۔ ابتدائی ایام میں حکومتی  نظام کے خلاف مزاحمت پر توجہ تھی کیونکہ وہ دین کا دشمن تھا۔ دینی مزاحمت کی روح معاشرے میں راسخ ہو جانے کے بعد تحریک کو یہ موقع ملا کہ اسلامی فکر کو مطلوبہ شکل میں پیش  کرے۔ قدامت پسند پیچھے رہ گئے جبکہ دینی بصیرت اور وسعت فکری رکھنے والے افراد اس راستے پر باقی رہے۔ پھر اسلامی تحریک  کی بہت ساری شخصیات نے دوسرے طرز تفکر (بیداری کا طرز تفکر)کو ترجیح دی، خصوصاً 1966؁ء اور 197۷؁ء کے درمیان، جو انقلابیوں کے لیے سخت سال تھے۔ شاہ نے ان سالوں میں سیاسی مزاحمت کرنے والے سارے گروہوں کا صفایا کر تے ہوئے میدان کو ان سے خالی  کر دیا۔

ان میں سے بعض جو اپنی جہادی زندگی کے ابتدائی اور آخری مراحل میں مزاحمت کے میدان میں تھے، لیکن ان مذکورہ سالوں میں فکری بیداری میں مشغول ہو گئے۔ شہید مطہریؒ، شہید بہشتیؒ اور شہید باہنر  جیسے خوش قسمت شہداء انہیں افراد میں سے تھے۔

یہاں پر میں تاریخ اور حقیقت کی خاطر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ان چند گنے چنے انقلابیوں میں سے تھا جنہوں نے تحریک کے تمام  مراحل میں ان دونوں طرز عمل کو آپس میں جمع کیے رکھا اور میں ان دو طرزوں کو جمع کرنے کے حوالے سے مشہور تھا ۔ میں اپنی جہادی زندگی میں ہمیشہ مزاحمت اور بیداری کو ساتھ ساتھ لے کر چلا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں نے ان دونوں کو اچھے انداز میں جمع کیا ہے۔

میری شدید خواہش تھی کہ میں دین کوایسے سمجھوں اور پیش کروں جیسے خدا نے چاہا ہے۔ وہ دین جو عملی زندگی کے لیے راستہ اور قانون دیتا ہے اور مطلوبہ کمال تک پہنچنے کے لیے مسلسل تحرک کا نام ہے۔ میں اپنے تمام فکری اور علمی کاموں میں، لیکچرز اور دروس میں اس طرز عمل پر زور دیتا تھا۔ اسلام کے روشن اور عمیق فہم  کی طرف میری توجہ اس چیز کا سبب بنی کہ میں عرب اور غیر عرب  اسلامی مفکرین  کی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں ہر وہ سرگرمی انجام دیتا تھا جو عوام کو حکومتِ  وقت کے خلاف آمادہ کرے اور اسلامی حکومت کے قیام میں عوامی قیادت کی بنیادیں فراہم کرے۔ 

ہمارے انقلابی دوستوں میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے ان دو طرز عمل کو جمع کیا تھا۔ ان میں سے نمایاں شیخ ہاشمی رفسنجانی تھے۔ میں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایک دفعہ ان سے کہا: ’’ہماری زندگی کے گزشتہ 15 سالوں میں کوئی دن  ایسا نہیں تھا جس میں حکومت کے خلاف مزاحمت نہ کی ہو۔‘‘ اور میں نے ان سے یہ بھی کہا: ’’میں ان سالوں میں ایک رات بھی بغیر پریشانی کے نہیں سویا۔ ہماری راتیں یا تو جیل اور جلاوطنی میں کٹتی تھیں یا جیل اور جلاوطنی کے انتظار میں۔‘‘ شیخ ہاشمی نے جواب میں کہا: ’’میں بھی آپ ہی کی طرح ہوں۔‘‘

بیداری کا طرز عمل رکھنے والے برادران ہماری تائید و مدد کرتے تھے۔ شہید مطہریؒ مجھ سے 18 سال بڑے تھے یعنی میرے ان کے درمیان ایک نسل کی عمر کا فاصلہ تھا، اس کے باوجود ہماری گہری دوستی تھی۔ وہ میرے اجتماعی مقام و منزلت میں اضافے کے لیے کوشش کرتے تھے اور اپنی محافل و مجالس میں میرا ذکر کرتے تھے۔

ڈاکٹر شریعتی نے بھی اپنی اسلامی زندگی کا آغاز مزاحمت سے کیا، پھر فکری بیداری کے راستے کو اختیار کیا۔ مجھے ان کے افکار پربعض اعتراضات اور اشکالات بھی ہیں۔

ہمارے بھائیوں میں سے بعض سیاسی مزاحمت کرتے تھے اور بعض ایسے نہیں تھے، لیکن ہم ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کیا کرتے تھے جیسا کہ میں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ دینی کام کے لیے اپنی مختلف صلاحیتوں اور ذوق کے مطابق تمام توانائیاں صرف کرنا پڑتی ہیں۔ اس حوالے سے لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ حدیث میں ہے:

لو علم الناس كيف خلق الله تبارك تعالى هذا الخلق لم يلم أحد أحدا.

اگر لوگ یہ جان لیں کہ اللہ تعالی نے مخلوقات کو کیسے خلق کیا ہے تو کوئی کسی دوسرے کی سرزنش نہیں کرے گا۔

یہ بات اختیار کے منافی و مخالف نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طبیعت میں اختلاف کو بیان کرتی ہے۔

میرا ایمان ہے کہ جب ایک دینی اور فکری بیداری کا کام تحرک اور مزاحمت سے خالی ہو تو خشک اور بے روح ہوجاتا ہے اور دینی مزاحمت کی روح اگر فکری شعور سے خالی ہو تو قدامت پسندی اور جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ مزاحمت اور فکری بیداری کا امتزاج اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے۔

*****

([1]) فدائیان اسلام: اس جماعت کا قیام 1945؁ء میں ایک دینی طالب علم سید مجتبیٰ نواب صفوی کے ہاتھوں انجام پایا۔ ان کا ہدف ایرانی مسلمان قوم میں دینی تشخص کا احیاء اور ملکی حالات کو بہتر بنانا تھا۔ اس جماعت کے نڈر جوانوں نے ملک سے خیانت کرنے والوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور شاہ کی حکومت میں موجود بہت سے خیانت کاروں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ایران کے اندر محب وطن حکومت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ انقلاب کے بعد اس جماعت کے بہت سے ارکان کو قید کر لیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ 1955؁ء میں حسین علاء پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد نواب صفوی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا اور بالآخر پھانسی دے دی گئی۔

([2])  حدیث قدسی: يابن آدم! وفّر الزّاد فإن الطريق بعيد بعيد… وجدّد السفينة فإن البحر عميقٌ عميقٌ