تیسرا باب: دجلہ کے کنارے
عربی زبان سے محبت
میری والدہ عربی ماحول میں پلی بڑھی تھیں۔ ان کے دادا اصفہان سے نجف کی طرف ہجرت کر کے آئے تھے۔ وہ اصفہان کے نواحی علاقے نجف آباد میں ساکن میردامادی خاندان سے تھے۔ نجف اشرف میں بھی اس خاندان کی شاخیں موجود ہیں۔ میرے نانا فاضل علماء میں سے تھے اور ان کی زبان عربی تھی۔ والدہ کی پرورش ایسے گھر میں ہوئی جہاں عربی زبان بولی جاتی تھی۔ بالغ ہونے سے پہلے وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایران آگئیں، یہی وجہ ہے کہ آپ نجف میں رائج عربی پر مہارت رکھتی تھیں۔ والدہ محترمہ قرآن میں مہارت کے ساتھ ساتھ حدیث شریف اور عربی کتابوں کا بھی علم رکھتی تھیں۔
یہ تھا آغاز۔۔۔
پرائمری سکول میں، میں نے بعض معمم([1]) اساتذہ سے کتاب ’’جامع المقدمات‘‘ میں سے عربی لغت کے قواعد پڑھے۔ گیارہ یا بارہ سال کی عمر میں عربی زبان کے علوم سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ پڑھنا شروع کیے۔ میرے سب بھائی اس ماحول میں میرے ساتھ شریک تھے، لیکن میں ایک خاص انداز میں عربی زبان کا شیفتہ تھا۔
عراقی ہمیشہ قافلوں کی شکل میں مشہد کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ وہ لوگ صحن امام رضا علیہ السلام میں جمع ہوتے، اشعار کہتے اور قصیدے پڑھتے تھے۔ میں گھنٹوں ان کے اشتیاق میں وہیں ٹھہرا رہتا، ان کے الفاظ پر انتہائی توجہ دیتا اور ان کی باتوں کو بہت غور سے سنتا۔
جب میں عربی زبان سنتا ہوں تو ایک خاص قسم کا احساس مجھ پر طاری ہو جاتا ہے اوراس زبان کے سننے سے دلی سکون محسوس کرتا ہوں۔ عربی سیکھنے سے والہانہ محبت کی وجہ سے میری ہمیشہ خواہش تھی کہ اپنے بچپن کا کچھ حصہ کسی عرب علاقے میں گزاروں، چاہے وہ ایران میں ہو یا کہیں اور۔ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر ایرانی لوگ، خاص طور پر ان میں سے دیندار طبقہ کم وبیش عربی زبان سے محبت رکھتے ہیں۔
طول تاریخ اسلام میں ایرانی عوام اور ان کے عرب ہمسایوں کے درمیان جو بھائی چارے کا وسیع، عمیق اور ہمہ جہت تعلق رہا ہے، اقوام عالم میں کہیں بھی دو قوموں کے درمیان ایسے تعلق کی مثال نہیں ملتی۔ یہیں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوری ایران پر ہونے والے ظالمانہ حملے کی حمایت میں بعض عربوں نے عرب قومیت کے نام پر جو موقف اپنایا وہ ایک بڑا نقصان اور عظیم جرم تھا، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حملہ آور کس دشمنانہ اور جارحانہ روح کا حامل ہے۔ ان کا یہ موقف انسانی نفیس جذبات کا گلہ گھونٹنے والا ہے۔
فصیح اور عوامی عربی کے درمیان
میں اپنے عراق کے سفر کے دوران پوری کوشش کرتا تھا کہ صرف عربی بولوں، لیکن بعض اوقات فصیح اور عوامی عربی میں فرق کرنا میرےلیے مشکل ہو جاتا تھا۔ انہی مشکلات میں سے ایک مشکل وہ تھی جو مجھے 1957ء میں نجف اشرف میں پیش آئی جب مجھے والدہ نے محلے کی دکان سے چاول خریدنے بھیجا۔ دکان دار ایک خاتون تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’آپ کے پاس ’’رُزّ([2])‘‘ہیں؟‘‘ تو وہ حیرت سے بولی: ’’رُز‘‘ کیا چیز ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’رز‘‘، پھر میں نے اسے اشاروں سے سمجھانا شروع کیا۔ لیکن اسے سمجھ نہ آئی اور مجھ سے جان چھڑانے کے لیے کہنے لگی: ’’ہمارے پاس ’’رز‘‘ نہیں ہیں۔‘‘ میں والدہ کے پاس لوٹ آیا اور انہیں ماجرا سنایا تو وہ ہنسنے لگیں اور کہا: ’’تمن‘‘ کہو، ’’رُز‘‘ مت کہو۔‘‘([3]) پھر وہ خود گئیں اور چاول خرید کر لے آئیں۔
عربی سے لگاؤ کی وجہ سے میں عراق کے سفر کے دوران کسی ایسے علاقے کی تلاش میں تھا جہاں فارسی نہ بولی جاتی ہو اور چونکہ مقدس مقامات کے باشندے غالبا ً اچھی فارسی بول لیتے تھے لہذا میں کاظمیہ سے بغداد چلا جاتا تھا تاکہ صرف عربی بولوں۔ ایک دن میں دجلہ کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ ایک قہوہ خانے تک پہنچا تو اس میں بیٹھ گیا۔ اخبار اٹھایا، سگریٹ سلگایا ([4]) اور بیرے سے چائے لانے کا کہا۔ قہوہ خانے میں زیادہ رش نہیں تھا، صرف چند گاہک موجود تھے۔ میں نے چائے والے کو دیکھا کہ وہ چائے ڈالتے ہوئے میری طرف تعجب آمیز نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور اپنے ساتھی سے بات کر رہا تھا۔ میں نے دوسری بار بھی چائے منگوائی۔ جب میں نے بل ادا کر کے نکلنے کا ارادہ کیا تو میری توجہ قہوہ خانے میں لٹکی ہوئی ایک تصویر نے اپنی طرف کھینچ لی جس سے واضح ہو رہا تھا کہ قہوہ خانے کا مالک عیسائی ہے۔ مجھے اس کی حیرت کا سبب بھی سمجھ آگیا کہ ایک صاحبِ عمامہ کیسے اس کے قہوہ خانے میں بیٹھا ہوا ہے۔ ایک دفعہ میں بغداد کی سڑکوں پرچل رہا تھا کہ رستہ بھول گیا۔ ایک پیدل چلتے شخص سے شارع رشید کا پوچھا کیونکہ شارع رشید پہنچ جاتا تو وہاں سے کاظمیہ کا رستہ معلوم تھا۔ وہ میرے لہجے سے پہچان گیا کہ میں ایرانی ہوں تو فارسی میں کہنے لگا : ’’شارع رشید را می خواهی؟‘‘ یعنی شارع رشید کا پتا چھ رہے ہو؟
عربی سے ترجمہ
سال 1959ء یا 1960ء میں جب میں قم میں مقیم تھا تو معاصر عربی کتابوں کے مطالعے کے لیے شیخ کریمی (جو خوزستان کے علماء میں سے تھے) کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ہم نے جبران خلیل جبران کی بعض کتابیں پڑھیں اور میں نے ان دنوں جبران کی ’’دمعۃ وابتسامۃ‘‘ نامی کتاب کا ترجمہ بھی کیا جو ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔ یہ عربی سے فارسی ترجمے کے حوالے سے میرا پہلا کام تھا۔ پھر اس کے بعد میں نے محمد قطب اور سید قطب([5]) کی کتابوں کے ترجمے کیے اور ان میں سے اکثر کام جیل کی کوٹھڑیوں میں انجام پایا۔ محمد قطب کی کتاب ’’شبہات حول الاسلام‘‘ (اسلام کے بارے میں کچھ شبہات) کے اکثر حصے کا ترجمہ کیا لیکن جب پتا چلا کہ مجھ سے پہلے دو دفعہ اس کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے تو چھوڑ دیا۔ سید قطب کی کتاب ’’المستقبل لھذا الدین‘‘ (اس دین کا مستقبل) کا ترجمہ کیا۔ اس کتاب نے میرے ذہن میں فکر و تحقیق کے لیے بہت سارے موضوعات کو جنم دیا جنہیں میں نے کتاب کے ساتھ اضافہ کیا۔ یہ اضافہ ساواک کے مزید غضبناک ہونے کا سبب بنا۔ میں نے ایک اہم مقدمہ کے اضافے کے ساتھ سید قطب کی کتاب ’’الاسلام و مشکلات الحضارۃ‘‘ کا ترجمہ کیا۔ جن کتابوں کو میں نے عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا ان میں تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ کی چھٹی طباعت کی پہلی جلد بھی شامل ہے۔ احمد آرام پہلی طباعت کا مکمل ترجمہ کر چکے تھے لیکن سید قطب نے چھٹی طباعت میں اپنی کتاب پر بہت سے اضافات بھی کیے۔ مجھے کسی نے 2500 تومان کے عوض اس کتاب کے ترجمے کی تجویز دی۔ میرے مالی حالات اچھے نہیں تھے لہٰذا میں نے تجویز قبول کر لی۔ میں اس کتاب سے شدید متاثر تھا لہٰذا پورے جذبات و احساسات کے ساتھ اسکا ترجمہ کیا۔ بعض عبارتوں سے اس قدر متاثر ہوتا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے، خصوصا مقدمے میں۔ صحیح اور خالص اسلامی معاشرے تک امامت کی فکر اور نظریے کو پہنچانا میرے اہم اہداف میں سے ایک تھا۔ اسی ضمن میں شیخ راضی آل یاسین کی کتاب ’’صلح الامام الحسن,‘‘ کا ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ دیگر کتابوں کے بھی ترجمے کیے۔
علم نحو سے علم بلاغت تک
میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں نے عربی زبان کے علوم کو اعلی معیار کے ساتھ حاصل کیا۔ میں ان علوم کا ذوق بھی رکھتا تھا اور ان کے ساتھ لگاؤ بھی۔ مجھے نحو میں کتاب ’’المغنی‘‘ اور بلاغت میں ’’المطول‘‘ کے ساتھ ایک خاص لگاؤ تھا۔ ’’المطول‘‘ میں سے بدیع کا حصہ میرے سب سے پسندیدہ دروس میں سے تھا۔ میرا رہن سہن اس حصے کے موضوعات کے ساتھ تھا اور میری روح ان سے سرشار تھی۔ بہت سے عربی اشعار حفظ کیے جنہیں علم بدیع میں شاہد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ’’علم بیان‘‘ کے حصے میں پیش کیے جانے والے اشعار بھی۔ اور میں بعض اوقات خود کو ان میں سے بعض اشعار گنگناتے ہوئے پاتا ہوں۔ جیسے یہ شعر:
و کأن محمر الشقیـ | قِ إذا تصوب أو تصعد |
محمر الشقیق ایک سرخ رنگ کا پھول ہے جس کا تنا سبز ہے۔ شاعر اسے تشبیہ دیتا ہے کہ جب یہ پھول ہلتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ زبرجد کے نیزے پر یاقوت کا علم لہرا رہا ہے۔
اور یہ شعر:
وکأن النجوم بين دجاها | سنن لاح بينهنّ ابتداع |
اندھیری رات میں تارے ایسے ہیں گویا بدعتوں میں سنتیں ہوں۔
یہ شعر تشبیہ کی خوبصورتیوں میں سے ایک ہے۔
اور بلاغت میں تشبیہ کی دلکش مثالوں میں سے ایک بشاربن برد کا یہ شعر ہے:
كأنّ مثار النقع فوق رؤوسنا | وأسيافنا ليل تهاوي كواكبه |
ہمارے سروں پر جنگ کا غبار اور تلواریں گویا رات کا اندھیرا ہے اور تارے ٹوٹ رہے ہیں۔
اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ ایک نابینا انسان اس طرح کی دلنشین اور دقیق تشبیہ دے رہا ہے جس نے نہ جنگ دیکھی ہے، نہ اس کا غبار اور نہ ہی اس کی تلواریں۔
علم بدیع کی خوبصورت مثالوں میں سے ابو تمام کا یہ شعر ہے:
يقول في قومس قومي وقد أخذت | منا السَّرى وخطى المهرية القُودِ |
ابو تمام کے مرتبے تک کوئی شاعر یہاں تک کہ متنبی بھی نہیں پہنچا۔ متنبی نے بہت کچھ ابو تما م سے لیا ہے۔ میں نے اول سے آخر تک کتاب ’’الاغانی‘‘ کا مطالعہ کیا، میرا شاعرانہ ذوق مجھے اس کتاب کا مطالعہ جاری رکھنے کی رغبت دلاتا رہتا تھا۔ میرے پاس اس کتاب کے بعض اقتباسات موجود ہیں۔ دراصل اس کتاب کے پڑھنے میں ایک اور ہدف مدنظر تھا۔ اسی طرح تاریخ اور تاریخِ ادب میں بڑے بڑے عربی مجموعوں (دائرۃ المعارف) کا مطالعہ کیا اور ہر کتاب کی جلد کے پیچھے اپنا حاشیہ لگایا اور ملاحظات لکھے۔
ابوذیہ
1963ء قزل قلعہ کی جیل میں میری ملاقات خوزستان کے کچھ عرب قیدیوں سے ہوئی۔ میں آگے جب اپنی گرفتاریوں کے بارے میں بات کروں گا تو جیل میں ان عرب برادران کے ساتھ اپنے تعلق کی تفصیل ذکر کروں گا۔ یہاں صرف اتنا بیان کرنے پر اکتفا کروں گا کہ میری شدید خواہش تھی ان عرب قیدیوں سے ملاقات کے دوران اپنی عربی بہتر کروں۔ وہ سب چونکہ ایرانی تھے فارسی زبان سے آشنا تھے، لیکن میں ان کے ساتھ عربی میں بات چیت کرتا تھا۔ ان کے درمیان ایک ادیب تھا جسے اشعار حفظ تھے۔ میں نے اس سے بہت سارے اشعار حفظ کیے۔ اسے سید حبوبی کے اشعار سے لگاؤ تھا اور ہمیشہ اسی کے شعر دہراتا رہتا تھا۔ اس کا نام سید باقر النزاری تھا اور وہ یہ شعر بہت زیادہ دہراتا تھا۔
أتت وحياض الموت بيني وبينها | وجادت بوصل حين لا ينفع الوصل |
وہ آئی جبکہ موت کی ہچکی اس کے اور میرے درمیان تھی۔ اس نے وصل کی سخاوت کی لیکن اس وقت جب وصل بے سود ہو چکا تھا۔
اور یہ شعر بھی:
سأصبر حتى يعلم الصبر أنني | صبرتُ على شيء أمرّ ٍ |
میں صبر کروں گا یہاں تک کہ صبر بھی جان لے کہ میں نے صبر سے بھی کھٹن چیز پر صبر کیا ہے۔
اسی طرح عرب برادران جیل میں عوامی عربی کے اشعار دہراتے تھے جنہیں "ابوذیۃ” کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جو اشعار میرے حافظے میں باقی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے:
البدر شعّ بجبينك والله لِيلِه | والبَرَد بشفاك يا أدعج والله لِيلِه |
چاند تمہاری جبین پر چمکتا ہے۔ اور سیاہ آنکھوں والی سفیدی تیرے لبوں سے ایسے نکلتی ہے جیسے لؤلؤ۔ کیا شب تھی جو تیرے وصل میں گزار دی۔ زمانے نے اس شب کو پایا اور تمہیں میرے لیے ہدیہ کر دیا۔
ان میں ایک تعلیم یافتہ جوان بھی تھا جس کا لقب آل ناصر الکعبی تھا۔ میں اکثر اس کے ساتھ عربی میں بات چیت کرتا تھا۔ میں اسے عربی زبان کے کچھ قواعد بھی سکھاتا تھا کیونکہ وہ عرب ہونے کے باوجود عربی زبان کے قواعد سے نابلد تھا۔ اسی طرح اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اسے ترکی زبان سکھاؤں اور میں نے اس سے کچھ انگریزی زبان سیکھی۔
عراقی شاعر ’’جواہری‘‘
پورے معاصر عربی ادب نے مجھے متاثر نہیں کیا، بلکہ اس ادب میں، میں نے بعض ایسی چیزوں کو پایا جو عربی زبان اور ذوق کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بطور مثال خاص طور پر اس ادب کا ذکر کروں گا جو انداز اور معانی میں یورپی ادب سے متاثر ہے۔ یہ نہ تو عربی ادب ہے اور نہ ہی غربی۔ یہ ادب کی ایک مسخ شدہ صورت ہے جسے کوئی با ذوق اور طبع سلیم رکھنے والا شخص پسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایسے ادب کی تلاش میں رہتا تھا جو میرے اس عربی ذوق کے ساتھ، جس کے ساتھ میں پروان چڑھا، مناسبت رکھتا ہو اور یہ ادب زبان اور انداز میں قدیم اور مستند عربی پر اعتماد کرتا ہو۔ میں نے معاصر مصری، شامی اور عراقی بڑے شعراء اور لکھاریوں کو پڑھا لیکن اپنے گمشدہ مقصود کو عراقی شاعر محمد مہدی جواہری([6]) کے اشعار میں پایا۔ جواہری اپنے عربی اندازِ بیان میں قدیم اور مستند زبان سے بہرہ مند ہے، چونکہ اس نے اصلی ادبی اور دینی گھرانے قبیلہ جواہری اور نجف کے دینی اور ادبی ماحول میں پرورش پائی ہے۔ اس کی شاعری عوام کے دکھوں اور ان کی امیدوں کو موضوع ِبحث بنانے میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح جرات مندانہ موقف کو ضبط تحریر میں لانا اور ظالم حکمرانوں کو للکارنا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ اسی وجہ سے اسے گرفتاریوں اور جیلوں کا سامنا رہا۔
جب میں نے اپنے لبنانی ادیب دوست مرحوم سید محمد جواد فضل اللہ سے جواہری کے انقلابی ہونے اور اس کے مضبوط موقف کے بارے میں سنا تو اسے زیادہ پسند کرنے لگا۔ اسی طرح انہوں نے مجھے بتایا کہ جواہری نے شیخ محمد حسین کاشف الغطاء کے سامنے قصیدہ کہا جس نے انہیں دل کی گہرائیوں تک متاثر کیا۔ شیخ فرط جذبات میں خود پر قابو نہ رکھ پائے اور بلند آواز سے کہا: ’’خدا کی قسم تم اس دور کے متنبی ہو۔‘‘ جواہری نے فوراً جواب دیا: ’’اے بزرگوار متنبی سیف الدولہ کا شاعر تھا اور میں سیف الاسلام کا شاعر ہوں۔‘‘ سیف الاسلام سے جواہری کی مراد خود شیخ کاشف الغطاء تھے۔
میں آپ سے نہیں چھپاؤں گا کہ جب میں نے جواہری کے کچھ قصائد پڑھے تو میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان میں سے ایک یہ شعر تھا:
نامي جياع الشعب نامي | حرستك آلهة الطعام |
سو جاؤ اے قوم کے بھوکو سو جاؤ۔ کھانے کے ناخدا تمہاری حفاظت کر رہے ہیں۔ سو جاؤ اگر تم بیداری میں سیر نہیں ہوئے تو نیند میں ہو جاؤ گے۔
لیکن مجھے اس وقت دکھ ہوا جب میں نے اس قصیدے میں کچھ اشعار پڑھے جو اس بات کی علامت تھی کہ دین کواور دینی علماء کی ذمہ داری کو غلط سمجھا گیا تھا۔ ان اشعار میں وہ کہتا ہے:
نامي على تلك العظات | الغر من ذاك الإمام |
اے قوم! ائمہ مساجد کے خوبصورت خطبے سن کر سو جاؤ، جو تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ لذتیں اور آسائشیں گھٹیا لوگوں کے لیے چھوڑ دیں اور ان سب کے بدلے صرف قیام و سجود پر اکتفا کریں۔
میں نے اس وقت کتاب کے صفحے پر ان اشعار کے متعلق حاشیہ لگایا اور اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ شاعر کیسے اسلام کے حقیقی اور انقلابی پیغام سے ناواقف ہے؟ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر ان درباری ملاؤں کا ذکر کر رہا ہو جن کا کام لوگوں کو دین کے نام پر غفلت کی نیند سلانا ہے۔ اگر شاعر کی مراد وہی واعظ ہیں تو اسےچاہیے تھا کہ انہیں اپنے کلام میں مشخص کرتا۔
’’یوم الشهيد ‘‘ جواہری کے ان قصیدوں میں سے ایک تھا جنہوں نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ اس قصیدے میں وہ کہتا ہے :
تبّاً لدولة عاجزين توهموا | أن الحكومة بالسياط تُدام |
وائے ہو ان بیچاروں کی حکومت پر جو گمان کرتے ہیں کہ حکومت کوڑوں سے دوام پاتی ہے اورجب سینوں میں موجود غم و غصہ پھٹتا ہے تو گویا بارود پھٹتا ہے۔ اور جب خوفناک طوفان انہیں اٹھا کر پٹخ دیتا ہے اور جب ہجوم ان کی طرف بڑھتا ہے۔
اور اس وقت تو میرے اندر ایک طوفان برپا ہو گیا جب میں نے قصیدہ ’’ اطبق دجی‘‘ کے اشعار پڑھے:
أطبق دجى، أطبق ضباب | أطبق جهاماً يا سحاب |
اے بادل! تاریکی، دھند اور ظلمتِ شب کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ اس ازدحام کو بھی جس کی سستی کی شکایت مکھیوں کو بھی ہے، ڈھانپ لے۔ ان بکریوں کو بھی ڈھانپ لے جنہوں نے بھوک کی حالت میں بھی دودھ دینا ہے۔ ان شکموں کو بھی ڈھانپ لے جن پر چربی پگھل کر پھیلی ہے۔ ڈھانپ لے۔ تو ہی ان کھلی برائیوں کے لیے حجاب ہے۔ ان کے لیے پردہ بن جا۔ نہ صبح طلوع ہو، اور نہ ستارے غائب ہوں۔
جب بھی معاصر عربی ادب پڑھنے کا دل کرتا تو میں جواہری کا دیوان کھول لیتا۔ اسے اکیلے بیٹھ کر یا کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتا جس میں عربی ادب کا شوق محسوس کرتا۔ شاعر کو اور اس کی غریب الوطنی کو یاد کرتا اور تمنا کرتا کہ وہ اپنے وطن لوٹ جائے، اسے جیسا وہ چاہتا ہے ویسا پائے، اور اس کی زندگی سے طولانی و تاریک شب چھٹ جائے۔ دوسال پہلے (1992ء) ’’ذکریاتی‘‘ (میری یادیں) کے عنوان سے جواہری کی کتاب مجھ تک پہنچی۔ میں نے اسے بڑے شوق سے پڑھا اور بہت زیادہ مصروفیات کے باوجود بہت کم دنوں میں کتاب کے آخر تک پہنچ گیا اور بہت سے صفحات پر حاشیہ بھی لگایا۔ جب میں اسے کسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاتا تو ان کے دیوان کی طرف مراجعہ کرتا تاکہ دیکھوں کہ انہوں نے اپنے اشعار میں اس واقعے کو کیسے بیان کیا ہے۔ پھر بعد میں سنا کہ جواہری اور ان کی زوجہ امام علی بن موسی رضا, کی زیارت کے لیے مشہد آنے کا شوق رکھتے ہیں تو میں نے برادران سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے اس زیارت کے امور کو آسان کیا جائے، لیکن اس سے پہلے کہ ان کی ثامن الائمہ, کی زیارت کی تمنا پوری ہوتی ان کی زوجہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ میں نے مطالبہ کیا کہ آل جواہری اور ان کے شاعر کے احترام میں ان کی زوجہ کے ایصال ثواب کی مجلس امام رضا, کے مقدس حرم میں رکھوائی جائے۔ پھر میرے دفتر سے ایک وفد انہیں تعزیت پیش کرنے اور اسلامی جمہوری ایران کے دورے کی دعوت دینے گیا۔ انہوں نے فوراً دعوت قبول کی اور ایران کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔ ہماری خواہش تھی کہ وہ چند دن اسلام، انقلاب اسلامی اور حکومت اسلامی کے سائے تلے بسر کرے اور جس باعزت، کریم، اور ظلم و ظالمین کے خلاف انقلاب برپا کرنے والی اور مختلف شعبہ ہای زندگی میں کامیابی حاصل کرنے والی امت کے وہ پوری زندگی خواہش مند رہے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ہم چاہ رہے تھے کہ جیسے ان کی خواہش تھی ویسا ہی زندہ جیتا جاگتا متحرک اور انقلابی اسلام دیکھیں تاکہ ان کے دل کو قرار آئے اور اپنی زندگی کے طویل سفر کو خیر و بھلائی پر اختتام بخشیں۔ لیکن اس شاعر کے پریشان، مضطرب اور رنجیدہ دل کو کہاں قرار آنا تھا جو 80 سال سے جھگڑوں، دشمنوں اور بحرانوں سے بھرپور زندگی گزارنے کا عادی ہو چکا تھا۔
وہ کچھ عرصہ یہاں رکے جس میں میرے ساتھ ملاقات کی اور میرے اور جمہوری اسلامی کے متعلق اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مجھے اپنی کتاب ’’ذکریاتی‘‘ (میری یادیں) بھی پیش کی اور کچھ اشعار بھی۔([7])
جواہری کے بارے میں یہ باتیں ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ میں معاصر عربی کے اچھے اشعار سے لگاؤ رکھتا ہوں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اشعار بہترین زندگی کے حصول کے لیے امت اسلامی کے قلوب میں پائے جانے والے جذبات کی ترجمانی کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
*****
([1]) جو سر پر عمامہ رکھتے ہوں۔
([2]) فصیح عربی میں چاول کو کہتے ہیں۔
([3]) تمن عوامی عربی میں چاول کا نام ہے۔
([4]) آغا، انقلاب اسلامی سے پہلے سگریٹ پیتے تھے، انقلاب کے بعد چھوڑ دیا۔
([5]) سید قطب (1906ء تا 1966ء): مصری مصنف اور مفکر جن کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں مختلف ممالک میں مزاحمت کرنے والے مجاہدین کے نزدیک ان کے افکار کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ 1966ء میں جمال عبد الناصر کے حکم سے حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں انہی پھانسی دے دی گئی۔ رہبر معظم نے پہلوی حکومت کے خلافت مزاحمت کے دوران ان کی چند کتابوں کا ترجمہ کیا جن میں ’’فی ظلال القرآن‘‘، ’’المستقبل لھذا الدین‘‘ اور ’’الاسلام و مشکلات الحضارۃ‘‘ شامل ہے۔
([6]) محمد مہدی جواہری (1899ء تا 1997ء): یہ عراق کے بڑے کلاسیکی شعراء میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب صاحب ’’جواہر‘‘ آیت اللہ شیخ محمد حسن نجفی سے ملتا ہے۔ جواہری عربی ادب میں سیاسی شاعری خصوصا عراق کے مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشہور تھے۔ 1992ء میں انہوں نے ایران کا دورہ کیا اور 6 ماہ قیام کیا۔ اس دوران رہبر معظم انقلاب آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔ 1997ء کی گرمیوں میں دمشق میں وفات پائی اور زینبیہ میں دفن ہوئے۔
([7])قصیدے کا پہلا مصرعہ یہ تھا:
سیدي أيها الأعزّ الأجل | أنت ذو منّة وأنت المدلّ |
اے میرے سردار اے عزیز اے جلیل تو محسن بھی ہے اور ہمارا افتخار بھی | |
شاعر نے رہبر معظم کے لیے ایک اور قصیدہ بھی بھیجا جسکا پہلا مصرع یہ تھا:
أبا الحسین تحیاتٌ معطر | في يوم عيد (غدير) رُحت ترعاه |
| |
ایک تیسرا قصیدہ بھی بھیجا جسکا مطلع یہ تھا:
إيران عاد الصبح من أفراح | حذر الفوات فآذني بصباح |
| |
اور اس قصیدے میں بعض برادران کو جواب دیتا ہے جنہوں نے اسکی خاموشی پر اسکی ملامت کی:
قالوا سكتّ وأنت أفظع ملهب | وعيّ الجموع لزندها القدّاح |
| |