آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

دوسرا باب: اساتذہ کی خدمت میں

مدارس اور مراحل

پرائمری کے بعد بھی میں نے اور میرے بڑے بھائی نے حوزہ علمیہ میں درس پڑھنا جاری رکھا کیونکہ والد صاحب نے اس ڈر سے کہ کہیں ہم لباس روحانیت سے ہٹ نہ جائیں، گورنمنٹ سکول میں پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ دینی طالب علم شروع میں عربی لغت کے علوم جیسے نحو، صرف، معانی، بیان اور بدیع وغیرہ پڑھتے ہیں۔ جس وقت میں پرائمری میں تھا تب میں نے کتاب ’’جامع المقدمات‘‘  انموذج تک پڑھ لی تھی۔ ’’امثلہ‘‘ کی کتاب والدہ کے پاس پڑھنا شروع کی تھی لیکن وہ درس جاری نہیں رکھ سکیں لہٰذا ایک اور استاد کے پاس درس کو آگے بڑھایا۔ والد صاحب کے پاس ’’صرف میر‘‘ کی کتاب پڑھی۔ پھر ایک اور استاد کے پاس ’’عوامل منظومہ‘‘ پڑھی۔ جس وقت میں پرائمری سے فارغ ہوا تب ’’انموذج‘‘ پڑھنے میں مشغول تھا۔

مدرسہ سلیمان خان (سلیمانیہ)  میں، جو شیخ حسین بجستانی کے زیر نظر چلتا تھا، میں نے مقدمات اور سطوح کے دروس کو جاری رکھا۔ شیخ بجستانی فاضل علماء میں سے تھے اور والد صاحب کے دوست تھے۔ آخوند خراسانی کے بیٹے شیخ احمد کفائی کی طرف سے انہیں اس مدرسے کی مدیریت ملی ہوئی تھی۔ آقای بجستانی نے میرے لیے ایک استاد معین کیا۔ ان کا نام استاد علوی تھا، جن کے پاس میں نے ’’صمدیہ‘‘ پڑھی۔ اس کے بعد یہ استاد میڈیکل پڑھنے چلے گئے اور بعد میں ڈاکٹر بن گئے۔ اس کے بعد میرے لیے ایک اور استاد معین کیا گیا، جن کا نام شیخ مسعودی تھا۔ ان کے پاس میں نے ’’السیوطی‘‘ اور ’’المغنی‘‘ کی کتابیں پڑھیں۔

1953؁ء میں، میں مدرسہ سلیمانیہ سے مدرسہ نواب منتقل ہو گیا۔ اس مرحلے میں میرے اندر موجود صلاحیتیں اور توانائیاں ابھر کر سامنے آئیں اور میں نے تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے اپنے اندرشدید شوق محسوس کیا اور درسوں کو انتہائی اچھے انداز میں سمجھنے لگا۔

کتاب ’’المغنی‘‘ کے بعد میں نے ’’المطول‘‘ پڑھی۔ یہاں میں کتاب ’’المطول‘‘ اور’’المغنی‘‘ کی اہمیت پر تاکید کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی کتاب بلاغت کے علوم میں مفید ہے، لیکن اس کو پڑھنے کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، جبکہ دوسری کتاب کی علم نحو میں  کوئی نظیر نہیں۔

فقہ اور اصول فقہ میں، والد صاحب کے ساتھ کتاب ’’الشرائع‘‘ شروع کی، اور اسے باب الحج تک جاری رکھا۔ اسی دوران والد گرامی بڑے بھائی کو ’’شرح لمعہ‘‘ پڑھاتے تھے اور وہ لوگ اس کتاب میں باب حج تک پہنچ چکے تھے۔ یہاں سے میں نے بھی شرح لمعہ کے درس میں شرکت کرنا شروع کی اور اپنے بھائی کا ہم درس بن گیا، جبکہ پہلے بعض درسوں میں، میں ان کا شاگرد رہ چکا تھا۔ والد صاحب کے پاس شرح لمعہ کا تین چوتھائی حصہ پڑھ لیا، جبکہ باقی حصہ سید احمد مدرس یزدی کے پاس پڑھا۔

اس سے پہلے میں سید جلیل حسینی کے پاس ’’معالم الاصول‘‘ پڑھ چکا تھا۔ وہ میرے والد کے دوست تھے۔ پھر اس کے بعد والد صاحب اور شیخ ہاشم قزوینی کے پاس ’’رسائل‘‘ اور ’’مکاسب‘‘ کی کتابیں پڑھیں۔ شیخ ہاشم واقعاً قابل استاد تھے۔ سلیقہ تدریس میں ان سے بہتر استاد میں نے نہیں دیکھا۔

جس وقت میری عمر ۱۷ سال تھی میں نے ’’رسائل‘‘، ’’مکاسب‘‘ اور ’’کفایہ‘‘ کی کتابیں ختم کر لی تھیں۔ 1956؁ء میں، میں نے درسِ خارج میں شرکت شروع کی۔ اگلے سال زیارت کے لیے عراق کے سفر پر گیا اورنجف اشرف میں چند ماہ قیام کیا۔ اس دوران وہاں کے بڑے علماء کے درسوں میں شرکت کی تاکہ وہاں کے اساتذہ کے درسوں کو مشہد کے حوزے  کے درسوں سے موازنہ کر سکوں۔ سید خوئیؒ، سید حکیمؒ، سید بجنوردیؒ، سید شاہرودیؒ، میرزا باقر زنجانیؒ اور میرزا حسن یزدیؒ کے بعض درسوں میں شرکت کی۔

جس وقت کفایہ کے آخری حصے میں تھا، والد صاحب کے رغبت دلانے پر سید میلانی کے درس میں بھی شرکت شروع کی۔ سید میلانی 1954؁ء میں مشہد آئے تھے، اور کتاب الاجارہ کی ابتداء سے فقہ کی تدریس شروع کی تھی۔ یہ درس  دو سال تک چلتا رہا، لیکن میں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ جس وقت کتاب الصلاۃ کا درس شروع ہوا، میں ان کے درس میں حاضر ہوا اور اڑھائی سال تک ان کے پاس درس پڑھتا رہا، یہاں تک کہ 1958؁ء کے وسط میں قم منتقل ہوا اور اس شہر میں 1964؁ء تک  رہا۔ پھر مشہد واپس آیا، اور 1979؁ء میں انقلاب کی کامیابی تک مشہد ہی میں رہا۔

میں والد محترم کے پاس بھی درسِ خارج پڑھتا تھا۔ چونکہ درسِ خارج کے لیے بہت زیادہ مطالعے اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے، اور مختلف کتابوں سے تیاری کرنا پڑتی ہے، جبکہ  والد گرامی اس قدر محنت  کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، لہٰذا ان کا درس اتنا مفید نہیں تھا۔ میری عادت تھی کہ میں درسوں کو عربی میں لکھتا تھا  اور مطالب پیش کرنے اور ابواب بندی میں ابتکار (جدّت) لانے کی کوشش کرتا تھا۔

والد محترم استاد گرامی

والد صاحب نے ہمیں یہ عادت ڈال رکھی تھی کہ کبھی کسی فرصت کو ضائع نہ کریں اور ہمارا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جب ہم درس اور مباحثہ سے استفادہ نہ کریں۔ والد صاحب ایام محرم اور گرمی کے مہینوں میں حوزے کی تعطیل کے ایام سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ آپ مجھے محرم کے پہلے سات دنوں میں درس پڑھاتے تھے اور اگلے تین دنوں میں عزائے حسینی کی مجالس میں جاتے تھے۔ والد محترم گرمی کی چھٹیوں کا سرے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم نجف اشرف میں سخت موسم اور شدید گرمی کے باوجود گرمی کے مہینوں میں درس جاری رکھتے تھے تو مشہد میں تعطیل کیسے ہوتی ہے؟!

میں نے کتاب ’’المطول‘‘گرمی کی چھٹیوں میں  پڑھی۔ شیخ فشارکی گرمیوں میں قم سے مشہد آتے تھے اور وہاں دو ماہ گزارتے تھے۔ میں انہیں دور سے جانتا تھا کیونکہ قم منتقل ہونے سے پہلے وہ مشہد میں عربی لغت کے علوم پڑھا چکے تھے اور پھر قم میں بھی انہی علوم کو پڑھایا تھا۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے مشہد میں ’’المطول‘‘پڑھائیں، جسے انہوں نے قبول کیا۔ میں دن میں کئی گھنٹے ان سے پڑھتا تھا۔ ’’المطول‘‘کا علم بیان کا حصہ اور معانی اور بدیع  کا کچھ حصہ میں نے دو سال کی گرمی کی چھٹیوں میں ختم کر لیا، یعنی چار ماہ کی مدت میں۔ بعد میں شیخ فشارکی کو پتا چلا کہ میں مکاسب بھی پڑھتا ہوں تو وہ فقہ میں میری تیزی کے ساتھ پیشرفت سے حیران ہوئے۔ وہ خود بھی قم میں یہ کتاب (مکاسب) پڑھاتے تھے۔

والد صاحب پڑھائی کے اس سارے سلسلے کی نگرانی کرتے تھے اور کبھی حوصلہ افزائی اور کبھی سختی سے ہمیں پڑھائی کا شوق دلاتے رہتے تھے۔ میں والد صاحب کے طریقہ کار سے متفق اور ان کی خواہشات کو پورا کرتا تھا۔ میں جو درس پڑھتا تھا جب اس میں اپنی شخصی رائے کا اظہار کرتا تو وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ جب میری عمر  چودہ اور پندرہ برس کے درمیان تھی تو وہ کہا کرتے تھے تم مجتہد ہو اور شرعی حکم کے استنباط   کی صلاحیت رکھتے ہو۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ مباحثہ کرتا تھا، مباحثے کے بعد والد صاحب ہمیں اپنے کمرے میں بلا کر سوال کرتے اور جس مطلب  کا سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہوتا اس کی وضاحت کرتے۔

مجھے یاد ہے، ہمارا گھر تین کمروں پر مشتمل تھا۔ دو کمرے والد صاحب کے تھے، نسبتاً بڑا کمرہ مہمانوں کے لیے تھا ۔ دوسرا والد صاحب  کے مطالعے اور کھانا کھانے کے لیے (طالب علموں کے حجروں کی طرح) اور ایک کمرہ ہم، ۴ بھائیوں، 4 بہنوں اور والدہ کے لیے تھا۔ جب کبھی اچانک والدہ کے مہمان آجاتے یا کوئی ذکر کی محفل ہوتی تو ہمیں مجبوراً گھر کے باہر ہی ٹھہرنا پڑتا تھا۔ والد صاحب کے خصوصی کمرے میں ایک میزرکھی تھی جس کا طول 80 اور عرض 40 سینٹی میٹر تھا (سردیوں میں اس کے نیچے انگیٹھی رکھ کر اسے گرمائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کرسی کہلاتی ہے) والد صاحب میز کے عرض میں چار زانو ہو کے بیٹھتے اور ہم طول میں ایک ہی جہت میں بیٹھ جاتے تھے۔ دورانِ گفتگو والد صاحب کی سنجیدگی اور ہیبت کی وجہ سے میں اور میرا بھائی والد صاحب سے دور بیٹھنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیتے تھے۔ اس میں کوئی  شک نہیں کہ والد صاحب  کی تندروی اور سختی کے منفی اثرات تھے لیکن میں اس کے مثبت اثرات کا انکار بھی نہیں کرتا۔ اس سختی نے ہمیں منظم بنایا اور ہمیں ان انحرافات سے دور رکھا جن میں علماء کے بچے آزادی  کی وجہ سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس سختی کا اثر تھا کہ میں نے عربی لغت کے علوم اور فقہ و اصول میں سطوح کا مرحلہ ساڑھے پانچ سال میں مکمل کر لیا۔

میرے مشاغل

حوزۂ مشہد میں پڑھائی کے چھ سالوں کے دوران میری بہت سی یادیں ہیں۔ ان میں سے ایک ذکر کرتا ہوں۔ یہ عالمی اور ایرانی مشہور قصوں اور ناول کے مطالعے سے میرا شغف ہے۔ شاید میں نے میشل زیواکو (Michel Zevaco) کے تمام ناولز پڑھے ہوں گے جنکی تعدا د دس تک ہے اور الیگزینڈر ڈوماس (Alexander Dumas) باپ اور بیٹے کے ناول بھی پڑھے۔ اسی طرح تمام یا اکثر ایرانی ناولوں کا مطالعہ کیا۔ انسان کے ذہن اور اسلوب نگارش پر ان ناولوں کے پڑھنے کا گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔

1957؁ء میں جب میں نے چند ماہ کے لیے عراق کا سفر کیا تو کچھ کتابوں سے شدید لگاؤ کی وجہ سے انہیں اپنے ہمراہ لے گیا۔ پھر نجف اشرف میں شوشتریہ لائبریری بھی گیا۔ اس لائبریری میں میرے چچا سید محمد کی وقف کردہ کتابیں بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ وہاں سے کچھ کتابوں کی کاپی کروائی۔ پھر اپنے اہل وعیال کے ساتھ بصرہ کے راستے ایران (بارڈر) پہنچا۔  وہاں سے ہم لوگ خرم شہر آئے اور پھر وہاں سے تہران کے لیے ٹرین پر سوار ہو گئے۔ تہران میں وہ کتابیں اور چند شناختی دستاویزات کھو گئیں۔ زمین و آسمان ایک کرتے ہوئے ہر جگہ چھان مارا، ریلوے سٹیشن کے گمشدہ اشیاء کے دفاتر بھی گیا،  کافی دیر تک ڈھونڈتا رہا، لیکن بے فائدہ۔ افسردہ و غمزدہ حالت میں مشہد لوٹا۔ تقریباً دو سال بعد ایک ٹیکسی والے کا پیغام موصول ہوا۔ اس نے کہا تھا: ’’مجھے ٹیکسی میں ایک بیگ  ملا ہے، جسے کوئی بھولے سے چھوڑ گیا تھا، میں نے اسے کھولا تاکہ کسی نشانی سے اس کے مالک کو شناخت کر لوں لیکن کتابوں اور شناختی دستاویزات کے سوا کچھ نہ پایا۔  پھر میں نے دیکھا کہ صاحبِ دستاویزات کے سر پر عمامہ ہے، میں نے تہران میں بعض علماء سے پوچھا تو ان میں سے کسی نے مشہد میں ایک مسجد کا پتا بتایا اور یوں کتابیں لوٹ آئیں۔