آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

پندرہواں باب: سختی کے بعد کامیابی

میری گاڑی

شہر بدری سے پہلے اسلامی تحریک سے مربوط کچھ کاموں کے سلسلے میں میرا تہران آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں مجھے مسلسل سفر کرنا پڑتا تھا جس کے لیے گاڑی کا ہونا ضروری تھا۔ ہمارے ایک مخلص انقلابی دوست صادق اسلامی نے مجھے پیشکش کی کہ میں ان کے ایک عزیز حاج احمد قدیریان کی گاڑی تہران جاتے ہوئے اپنے استعمال میں رکھوں۔ میں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ صادق اسلامی، جمہوری اسلامی پارٹی کے دفتر میں منافقین کی طرف سے کیے جانے والے بم دھماکے([1]) میں شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں تحریکِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے اہم ارکان اور انقلاب کی اہم شخصیات شہید ہوئیں جن میں سر فہرست سید محمد حسینی بہشتی تھے۔ حاج احمد قدیریان انقلاب سے پہلے تجارت کرتے تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ اپنی تجارت اور دولت پس پشت ڈال کر انقلاب اور حکومت اسلامی کی خدمت میں مشغول ہوگئے۔

جب بھی میں تہران پہنچتا تو حاج قدیریان سے رابطہ کرتا۔ وہ خود یا ان کا بیٹا گاڑی لے کر آجاتے۔ گاڑی ایک یا دو ہفتے میرے استعمال میں رہتی۔ پھر جب میں تہران چھوڑنے لگتا تو گاڑی کو ریلوے اسٹیشن یا ائیرپورٹ کی پارکینگ میں چھوڑ جاتا۔ گاڑی کی چابی ٹائر کے پاس چھپا دیتا اور قدیریان کو فون کرتا تو  وہ آکر گاڑی لے جاتے۔ اس گاڑی کا ماڈل پژو ۴۰۴ تھا۔ قدیریان ایک بڑے تاجر تھے۔ ان کے پاس اس کے علاوہ بھی کئی گاڑیاں تھیں۔ اسی مناسبت سے بتاتا چلوں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے انقلاب کی کامیابی کے بعد خدا کے ساتھ تجارت اور انقلاب کی خدمت کی خاطر دنیا کو چھوڑ دیا تھاجبکہ مقابلے میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے انقلاب کو ذریعہ معاش بنا لیا۔

مجھے ایرانشہر میں ایک گاڑی کی ضرورت تھی تاکہ میں شہر کے اطراف میں آجا سکوں اور زاہدان ائیرپورٹ پہنچ سکوں۔ یہ اس علاقے کا واحد ائیرپورٹ تھا۔ عزیز واقارب میں سے جو بھی مجھ سے ملنے آتا میں اس کا استقبال کرنے بلوچی لباس میں ائیرپورٹ جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بلوچی لباس میرے چہرے اور داڑھی کے ساتھ خوب جچتا تھا۔ چونکہ میرے ایرانشہر سے نکلنے پر پابندی تھی لہذا دینی علماء کے لباس کی بجائے یہ لباس پہننا زیادہ بہتر تھا۔ یہ لباس اب بھی میرے پاس محفوظ ہے اور بعض اوقات اسے پہنتا ہوں۔

چونکہ مجھے گاڑی کی ضرورت تھی لہٰذا میں نے قدیریان سے رابطہ کیا اور ان سے کہا: ’’اگر آپ ایرانشہر کو بھی تہران جیسی اہمیت دیتے ہیں تو میرے لیے ایک گاڑی بھیج دیں۔‘‘ چند دنوں بعد ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا: ’’آپ فلاں ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں آپ کے لیے گاڑی لایا ہوں۔‘‘ یہ پژو کمپنی کا ایک اور ماڈل تھا۔ میں نے پوچھا: ’’کیا یہ گاڑی قدیریان نے بھیجی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ میں نے اس سے کہا: ’’طے یہ تھا کہ قدیریان وہی پہلے والی گاڑی بھیجیں گے۔‘‘ اس نے کہا: ’’مجھے نہیں معلوم۔ میرے ذمے آپ تک یہ گاڑی پہنچانا ہے۔‘‘ وہ نئی اور صاف ستھری گاڑی تھی۔ میں نے ایرانشہر اور جیرفت میں شہر بدری کے دوران اس گاڑی سے استفادہ کیا۔ شہر بدری کے خاتمے کے بعد میں نے گاڑی وہاں ایک شخص کے حوالے کی اور اس سے کہا: ’’اسے قدیریان تک پہنچا دیں۔‘‘ گرم اور ناہموار علاقوں میں چلنے کی وجہ سے گاڑی کو اچھا خاصا نقصان پہنچ چکا تھالیکن میرے تہران پہنچنے کے کچھ عرصے بعد (جب میں شہربدری والی جگہ سے مشہد واپس لوٹ رہا تھا) ایک شخص آیا اور اس نے گاڑی دوبارہ میرے حوالے کر دی۔ ورکشاپ میں مرمت اور صفائی کے بعد گاڑی بالکل نئی لگ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’آپ کی گاڑی۔ قدیریان نے یہ آپ ہی کے لیے خریدی تھی۔‘‘ میں یہ بات سن کر حیران ہوا اور اس سے کہا: ’’تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اگر مجھے معلوم ہوتا تو ورکشاپ کا خرچہ میں خود اٹھاتا۔‘‘

یہ گاڑی میرے استعمال میں رہی۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد امن و امان کی صورت حال کے مدنظر میں سپاہ پاسداران کی ایک خاص گاڑی استعمال کرتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس ذاتی گاڑی کی ضرورت نہیں۔ میں نے اسے سستے داموں بیچ دیا کیونکہ ان دنوں گاڑیوں کی قیمتیں نیچے آئی ہوئی تھیں۔ پھر وہ گاڑی پانچ یا اس سے زیادہ ہاتھوں سے ہوتے ہوئے دوبارہ مجھ تک پہنچی۔ میرے ایک جاننے والے نے جب اس گاڑی کو کسی کے استعمال میں دیکھا تو اس سے خرید کر اور مرمت کر کے دو یا تین سال پہلے مجھ تک پہنچا دیا۔ یہ گاڑی اس وقت میرے استعمال میں ہے۔

دوبارہ شہر بدری

نئی شہر بدری کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جب پولیس نے مجھے گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دی تو میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر میرے برادر نسبتی حسن خجستہ بیٹھے۔ ہم ان کو ’’حسن آغا‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ میرے ساتھ چند دن گزارنے ایرانشہر آئے ہوئے تھے۔ وہ مختلف علاقوں جیسے یزد اور شیراز میں شہر بدر کیے گئے برادران تک میرے پیغامات پہنچانے کے لیے ایرانشہر آتے رہتے تھے۔ اسی طرح وہ ان برادران کا پیغام مجھ تک پہنچاتے تھے۔ وہ اصغر پور محمدی کے ساتھ مل کر یہ ذمہ داری انجام دیتے تھے۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دو اہلکار بڑی اور پرانی بندوقیں لیے بیٹھے تھے۔ ہمارے پیچھے پولیس کی ایک پرانی اور خستہ حال گاڑی تھی جو بڑی مشکل سے چلتی تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ میں پولیس کی گاڑی سے آگے نکل جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مجھ سے پیچھے چلنے کا مطالبہ کیا۔ کچھ دیر بعد ان کی رائے تبدیل ہوگئی اور انہوں نے مصلحت اس میں جانی کہ میری گاڑی آگے رہے۔ اس طرح وہ حیرت کے عالم میں کبھی مجھ سے آگے نکل جاتے اور کبھی مجھے آگے نکلنے کا کہتے۔ پھر میری گاڑی خراب ہو گئی اور اس کے ریڈیئیٹر کا پانی ابلنے لگا۔ مجھے ہر کچھ دیر بعد رکنا پڑتا جبکہ وہ لوگ مصر تھے کہ میں سفر جاری رکھوں لیکن وہ گاڑی کی خرابی سے بھی آگاہ تھے۔ ’’بم‘‘ شہر (یہ ایرانشہر اور جیرفت کے درمیان واقع ہے) پہنچنے سے پہلے میں نے ریڈیئیٹر میں پانی بھرا۔ میں تیزی سے شہر کی طرف گیا تاکہ کم وقت میں شہر پہنچ جاؤں اور اس گاڑی کی ڈرائیونگ سے جان چھڑاؤں جس کا پانی اس گرم موسم میں فوراً ختم ہو جاتا تھا۔ پیچھے آنے والی پولیس کی گاڑی مجھے بار بار رکنے کا اشارہ دے رہی تھی جبکہ میں ان کی پرواہ نہیں کر رہا تھا۔ پھر گاڑی میں موجود دو پولیس اہلکار متوجہ ہوئے کہ میں پولیس کی گاڑی سے دور ہو رہا ہوں۔ ان دونوں نے رکنے کا مطالبہ کیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا: ’’ہم پولیس اسٹیشن جا رہے ہیں اور پولیس کی گاڑی وہیں پہنچ جائے گی۔‘‘ میں پولیس اسٹیشن پہنچا اور ہمارے بعد پولیس کی گاڑی بھی پہنچ گئی۔ وہ لوگ ہم تک پہنچنے کی کوشش میں سخت تھکاوٹ کی وجہ سے ہانپ رہے تھے۔ 

موسم گرم تھااور میں بہت تھک چکا تھا۔ پولیس اسٹیشن کے دروازے کے قریب واقع کمرے میں، میں نے دو منزلہ پلنگ دیکھے۔ میں نے حسن سے کہا: ’’حاج صدیقی (وہ یزد سے تعلق رکھنے والا ایک جوان تھا جو بم شہر میں ساکن تھا اور ٹرک چلاتا تھا۔ شہر بدر لوگوں کی مدد کرنے میں بلند ہمتی سے کام لیتا تھا اور ایرانشہر میں ایک گروہ کے ساتھ ہم سے ملنے آتا تھا۔) کے پاس جائیں اور انہیں پولیس اسٹیشن میں میری موجودگی کی اطلاع دیں۔‘‘ میں اجازت لیے بغیر ان میں سے ایک پلنگ پر لیٹ گیا اور خود کو گہری نیند کے سپرد کر دیا جو برادر یزدی کے پہنچنے کی وجہ سے زیادہ دیر باقی نہ رہ سکی۔ انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ میں نے ان سے کہا: ’’میری گاڑی خراب ہے اور ہمارے سامنے جیرفت تک 118 کیلو میٹر کا سفر باقی ہے، اور راستہ پہاڑی، دشوار گزار اور اس قدر تنگ ہے کہ بعض جگہوں پر صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے۔ (جمہوری اسلامی کے دور میں یہ راستہ بہترین شاہراہوں میں سے ایک بن گیا ہے۔) اگر ہو سکے تو آپ ہمیں اپنی گاڑی میں جیرفت پہنچا دیں اور میری گاڑی ورکشاپ میں دے دیں۔ انہوں نے کہا: ’’سر آنکھوں پر۔‘‘ وہ گئے اور اپنی گاڑی لے آئے۔ ان کے پاس ایک چھوٹی گاڑی تھی۔

قہوہ خانے میں نماز

آغا صدیقی ڈرائیونگ سیٹ پر اور میں ان کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ حسن آغا اور پولیس کے وہ دو اہلکار پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ تین دیگر اہلکار اپنی گاڑی میں ہمارے پیچھے آنے لگے۔ ظہر کے قریب ہم قہوہ خانے پہنچے۔ یہ قہوہ خانہ گھنے درختوں اور خوبصورت باغات سے مزین ایک ٹھنڈے علاقے میں واقع تھا۔ وہاں کا موسم سہانا اور پانی میٹھا تھا۔ اس راستے پر آنے جانے والوں کے لیے یہ معروف جگہ ہے۔ مسافر عمومًا یہاں استراحت کرتے اور کھانا کھاتے ہیں۔ میں گاڑی سے اترا اور قہوہ خانے کی طرف چل پڑا۔ میرے ساتھی میرے پیچھے تھے، دو سول اور باقی پولیس اہلکار۔ میں نے سب سے پہلے وضوخانے کا پوچھا۔ انہوں نے قہوہ خانے کے پیچھے ایک جگہ کی طرف میری رہنمائی کی۔ میں اس طرف گیا۔ وہ ایک خوبصورت باغیچہ تھا۔ ہم نے وضو کیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: چلیں یہاں نماز جماعت ادا کرتے ہیں۔ عام طور پر پولیس اہلکار اس طرح کے کاموں کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ یہ ایک عوامی جگہ تھی جسے ہر آنے جانے والا دیکھ رہا تھا۔ لیکن وہ اس بات کی طرف متوجہ نہیں تھےبلکہ بعد میں اس طرف متوجہ ہوئے۔

جونہی ہم نماز جماعت کے لیے کھڑے ہوئے، گاؤں والوں کی نظریں ہماری طرف متوجہ ہو گئیں۔ عام طور پر لوگ خصوصاً گاؤں والے سادات، علماء، مظلوموں اور حکومت وقت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ساری خصوصیات میرے سیاہ عمامے، علماء والے لباس اور میرے ساتھ پولیس اہلکاروں کی موجودگی سے عیاں تھیں۔

میری نماز ختم ہونے تک گاؤں کے بہت سے لوگ سڑک کے کنارے جمع ہو چکے تھے۔وہ میری طرف حیرت آمیز نظروں سے محبت بھرے انداز میں دیکھ رہے تھے۔ ہم نے دن کا کھانا کھایا۔ میں نے پولیس اہلکاروں سے کہا: ’’کچھ دیر استراحت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مجھے سفر جاری رکھنے پر قانع کرنے کی کوشش کی۔ میں نے انکار کیا۔ وہ لوگ میرے مطالبات ماننے کے عادی ہو چکے تھے چونکہ ایک تو وہ مجھ سے مانوس ہو گئے تھے اور دوسرا وہ جان گئے تھے کہ میں ان کے مطالبات نہیں مانتا۔ وہ میرا مطالبہ مان گئے اور میں لیٹ گیا۔ پولیس اہلکار میرے فرار ہونے کے ڈر سے میری چاروں طرف کھڑے ہو گئے۔ کچھ دیر بعد میں اٹھ کھڑا ہوا  اور ہم آگے چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ جب ہم گاڑی کی طرف گئے تومیں نے دیکھا کہ دسیوں افراد گاڑی کے گرد جمع تھے اور بلند سے آواز سے درود پڑھ رہے تھے۔ وہ اس طریقے سے میرے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ میں نے انہیں سلام کیا، حال احوال پوچھا اور ان کے متعلق اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ پولیس اہلکار حیرت اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ ان کو پریشانی دیکھ کر مجھے ان پر ترس آیا۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور جیرفت کی طرف چل پڑے۔ عوامی امنگوں کے ترجمان اس واقعے نے ہمارے اوپر خوبصورت اور گہرا اثر چھوڑا۔

جیرفت

ہم جیرفت پہنچ گئے۔ یہ شہر در حقیقت ایک بڑا باغ ہے۔ جب آپ اس شہر کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اصل میں باغ تھا، پھر اس میں گھر، دکانیں اور سڑکیں بنا دی گئیں۔ ایرانشہر کی طرح اس کا موسم بھی گرم ہے لیکن یہاں کی آب و ہوا مرطوب ہے اور یہاں انواع و اقسام کے حشرات پائے جاتے ہیں جبکہ ایرانشہر کی آب و ہوا خشک اور صاف ہےاور وہاں حشرات بھی نہیں پائے جاتے۔

وہ مجھے پولیس اسٹیشن لے گئے۔ یہ ایک چھوٹی سی تنگ عمارت تھی اور یہاں کا سٹاف اسٹیشن کو چھوڑ کر اپنے گھروں میں آرام کرنے گیا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ’’جب تک پولیس اہلکار اپنے کام پر واپس نہیں لوٹتے یہیں بیٹھے رہو۔‘‘

میں نے کہا: ’’میں یہاں نہیں بیٹھ سکتا بلکہ عمارت سے باہر بیٹھنے کو ترجیح دوں گا۔‘‘ میں نے پولیس اسٹیشن کے سامنے سڑک کنارے اپنی عبا بچھا لی۔ وہاں سے صرف چند ہی لوگ گزر رہے تھے جو مجھے پولیس اسٹیشن کے سامنے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ میں نے حسن آغا کو شیخ ربانی املشی کا گھر ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ میرے یہاں پہنچنے سے دو ماہ قبل شیخ کو اسی شہر کی طرف شہر بدر کیا گیا تھا اور میں جانتا تھا کہ انہوں نے ایک گھر کرائے پر لے کر اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ رکھا ہوا ہے۔

شیخ املشی سے میرے پرانے تعلقات تھے جن کی ابتدا 1957؁ء میں اس وقت ہوئی جب میں پہلی دفعہ کربلا میں ان سے ملا جہاں وہ اور شیخ ہاشمی رفسنجانی اکٹھے تھے۔ پھر ہمارے درمیان تعلق گہرا ہوگیا اور باہمی محبت بڑھتی چلی گئی۔ ہم دو سال تک اکٹھے ایک درس کی علمی مباحث میں شریک رہے۔

پولیس اسٹیشن میں کاغذائی کاروائی کے بعد ہم شیخ ربانی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے پوچھا: ’’کیا چیز آپ کو یہاں لے آئی؟‘‘ میں نے کہا: ’’تقدیر۔‘‘

شیخ ربانی کے بعد میں دوسرا فرد تھا جسے اس شہر کی طرف شہر بدر کیا گیا تھا۔ پھر شیخ ربانی شیرازی اور دوسرے کچھ افراد، جن میں کچھ تاجر بھی تھے، ہم سے آکر ملحق ہو گئے۔ یوں ہماری تعداد ۹ تک جا پہنچی۔ شاہی حکومت کی پالیسی تھی کہ شہر بدر افراد کو چند شہروں تک محدود رکھا جائے تاکہ ان کی سرگرمیاں زیادہ علاقوں تک نہ پھیلیں۔ شہر بدر ہونے والے افراد جہاں کہیں بھی جاتے وہاں عوامی سطح پر اسلامی سرگرمیاں انجام دیتے۔

شہر بدر افراد کی بزرگ شخصیت

مجھے یاد ہے کہ میرے جیرفت پہنچنے کے چند دن بعد قم کا ایک تاجر بھی وہاں پہنچا اور شیخ ربانی کے گھر اس نے بھی قیام کیا۔ یہ گھر شہر بدر ہونے والے تمام افراد کا ٹھکانہ تھا۔ ہم اس گھر میں اکٹھے ہوئے  پھر مختلف گھر کرائے پر لے کر وہاں سے چلے گئے۔ مجھے ابھی تک وہ وقت یاد ہے جب اس تاجر کو خراسان کے نواحی علاقے (جہاں اسے پہلی دفعہ شہر بدر کیا گیا تھا۔) سے جیرفت لایا گیا۔ میں شیخ ربانی کے گھر سویا ہوا تھا جب میں نے دروازے کے پاس کچھ آوازیں سنیں۔ میں اٹھا اور دروازہ کھولا تو دیکھا کہ یہ تاجر دو پولیس اہلکاروں کے ساتھ سامان سے بھری گاڑی میں وہاں پہنچا ہے۔ وہ یہ سارا سامان اپنے ساتھ اس شہر لائے تھے۔

شروع سے ہی اس تاجر کی چستی، ہمت، بہادری اور تیزی نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ (قم والے عام طور پر اس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔) اس نے دونوں اہلکاروں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہو جائیں۔ پھر اپنا سامان ایک ایک کر کے پہلے والے اہلکار کو دینا شروع کیا۔ یہ اہلکار سامان اپنے دوسرے ساتھی کو پکڑاتا تاکہ وہ اسے دروازے کے قریب رکھے۔ وہ بڑی تیزی کے ساتھ یہ کام کر رہا تھا۔ وہ جب بھی پولیس اہکار کو کوئی سامان پکڑاتا تو ساتھ کہتا: ’’بولو ’’شاہ مردہ باد۔‘‘ پولیس اہلکار اس کی بات کی پرواہ کیے بغیر ہنس رہے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ وہ ان دو اہلکاروں کو اپنی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ بعد میں مجھے پتا چلا اس نے اہلکاروں سے مطالبہ کیا تھا کہ خراسان سے جیرفت جاتے ہوئے قم سے ہو کر جائیں۔ انہوں نے آپس میں اتفاق کیا کہ وہ چند دن اپنے اہل و عیال کے ساتھ گزارے گا اور پھر ان کے ساتھ جیرفت کے لیے روانہ ہوگا اور اس نے یہ کام کیا۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ قم کے لوگوں نے اپنی زندہ دلی، ذہانت اور تیزی کی وجہ سے انقلاب کی بہت خدمت کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ علماء جو اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس شہر میں گزارتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی حد تک ان صفات کو کسب کر لیتے ہیں۔

جب ہماری تعداد ایک خاص حد تک پہنچی تو ہم نے جامع مسجد میں مجالس کا انعقاد شروع کر دیا۔ شیخ ربانی شیرازی عمر کے لحاظ سے شہر بدر افراد میں سے سب سے بزرگ تھے۔ ہم ان کو مقدم رکھتے اور ان کے پیچھے پیچھے چلتے۔ یہ سات علماء اور دو تاجروں کا مجموعہ تھا۔ ہمارے اس طرح اکٹھے مسجد جانے سے مقامی لوگ بہت زیادہ متاثر ہوتے تھے۔ ہم میں سے ایک فرد مجلس سے خطاب کرتا اور اس دوران نعروں کی صدائیں بلند ہوتیں۔ مسجد میں سب سے پہلا نعرہ پردے کے پیچھے بیٹھی خواتین کی طرف سے بلند ہوا تھا۔

انقلاب کی ابتدائی خبریں

جب ہم ایرانشہر میں تھے تب انقلاب کی ابتدائی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ 1978؁ء میں قم کا حادثہ ([2])پیش آیا۔ پھر مختلف واقعات پیش آتے رہے۔ تبریز میں شہداء قم کے چہلم کی مناسبت سے منعقد اجتماع میں حادثہ پیش آیا۔ پھر شہداء تبریز کے چہلم کے موقع پر یزد سمیت مختلف شہروں میں میں بڑے حادثات پیش آئے۔

جب ہمیں قم کے حادثے کی خبر ملی تو ہم بہت حیران ہوئے۔ ہمارے لیے اس خبر کی تصدیق کرنا بہت مشکل تھا چونکہ اس وقت سیاسی ماحول انتہائی گھٹن کا شکار تھا اور ایسی عوامی بیداری کی کوئی توقع نہ تھی۔ پھر کسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ معاملات ٹکراؤ اور شہادتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اچانک پیش آیا۔ اس سے پہلے کے حالات کچھ ایسے تھے جن میں ہم اس طرح کے واقعے کی امید نہیں کر سکتے تھے۔ یہ در حقیقت بہت بڑا سانحہ تھا جو اچانک پیش آیا تھا۔

چند مسلسل واقعات کے بعد ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ کوئی بڑا سانحہ پیش آنے والا ہے۔ میں دقت کے ساتھ حالات کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ جوان تھے جو مجھے تمام تر صورت حال سے آگاہ رکھتے تھے۔ ان میں سے ایک شیخ صالح تھے جن کا تعلق قم سے تھا۔ وہ ایک فعال اور متحرک نوجوان تھے۔

ان حادثات کے دوران شیخ صدوقی نے یزد سے مجھے ایک خط لکھا اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں انہیں خط کے ذریعے ملکی حالات سے آگاہ کروں۔ میں نے موقع کو غنیمت جان کر شیخ صدوقی کے ذریعے ملک کے تمام علماء کو مخاطب کیا اور ان کے سامنے ملکی حالات کا مفصل تجزیہ پیش کرتے ہوئے انہیں چند فیصلے کرنے کا مشورہ دیا۔ علماء اس وقت عوام کی رہنمائی کے لیے میدان میں آچکے تھے۔ اس رہنمائی کے لیے پختگی، گہری نظر، حالات کے درست تجزیے، مستقبل کی منصوبہ بندی اور سازشوں سے ہشیار رہنے کی ضرورت تھی۔ یہ صفات اکثر قم، مشہد اور اس وقت تہران میں ساکن علماء میں ہی پائی جاتی تھیں۔ ان کے علاوہ دوسرے علماء اتنی بڑی سیاسی تحریک کی قیادت کا تجربہ نہیں رکھتے تھے۔

میں نے شیخ صدوقی کو دو بڑے صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں اسلام اور سیاست کی نظر سے اس وقت کے حالات کا تجزیہ پیش کیا۔ شیخ صدوقی نے مجھے دوبارہ خط لکھا جس میں میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے حالات پر مزید روشنی ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ میں نے انہیں ’’انقلاب اسلامی کے حوالے سے علماء کی ذمہ داریاں اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ‘‘ کے موضوع پر ۸ صفحوں پر مشتمل خط لکھا۔ یہ خط ایک پمفلٹ کی شکل میں شائع ہوا اور لکھاری کا نام ظاہر کیے بغیر مشہد، یزد اور دوسرے علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔

جب میں نے دیکھا کہ یہ تحریریں انتہائی مثبت اثرات کی حامل اور قائدین کی سیاسی بصیرت میں پختگی کا باعث ہیں تو میں نے لکھنے کا یہ سلسلہ جاری رکھا۔  جب شیراز میں چند بڑے واقعات پیش آئے تو میں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے شہید سید عبد الحسین دستغیب اور علماء شیراز کے نام چار پانچ صفحات پر مشتمل خط لکھا۔ جب  سید شریعتمداری نے اپنے ایک اخباری بیان میں مزاحتمی گروہ کو شدت پسند کہا تو میں نے جیرفت سے ان کے نام ایک خط لکھا۔

سید شریعت مداری کی عادت تھی کہ وہ اپنے بیانات میں حکومت اور عوام دونوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے البتہ حکومت کی خوشنودی زیادہ مد نظر ہوتی تھی کیونکہ حکومت ان بیانات پر نظر رکھتی اور سخت رد عمل دکھاتی تھی۔ جبکہ عوام کو ایک کمزور موقف کے ذریعے دھوکہ دینا ممکن تھا۔ مزاحمت کاروں کے لیے ’’شدت پسند‘‘ کا لفظ استعمال کرنا انتہائی خطرناک تھا کیونکہ اگر یہ لفظ زبان زد عام ہوجاتا تو امام خمینی= کی فکر پر چلنے والے سارے انقلابی شدت پسند اور مجرم کہلائے جاتے۔ میں نے ان کو خط لکھا اور انہیں اس طرح کے بیانات کے نتائج سے ڈرایا۔ میں نے لکھا:’’اس طرح کی باتوں سے حکومت کو جواز ملے گا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے نام پر عوام کا قتل عام کرے اور اس کا گناہ آپ پر ہوگا۔‘‘ خط لکھنے کے بعد میں نے اس پر دستخط کیے۔ میں خط بھیجنے ہی والا تھا کہ مجھ تک تہران میں میدان جالہ(جسے اب میدان شہدا کہا جاتا ہے) میں پیش آنے والے سیاہ جمعہ (۸ ستمبر ۱۹۷۸؁ء) کے قتل عام کی خبر پہنچی۔ خبر سن کر  میں نے خط کے ایک کونے پر لکھا: ’’یہ  ’’شدت پسندوں‘‘ کے خاتمے کا آغاز ہے۔‘‘

جس وقت میں جیرفت پہنچا اسی وقت جمشید آموزگار کو وزارت عظمی کی کرسی سے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ شریف امامی کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا۔ یہ واقعہ بتارہا تھا کہ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ پورے ملک میں بے چینی پھیل چکی تھی اور معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے۔ عوام پر موجود حکومتی گرفت اور دباؤ میں کمی آچکی تھی۔ شہر بدر افراد نے بھی ان حالات سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ کچھ افراد حکومت کی اجازت کے بغیر جیرفت چھوڑ کر چلے گئے، جن میں سے بعض اپنے مطلوبہ مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ بعض کو تہران میں گرفتار کر لیا گیا۔ کچھ افراد ایسے تھے جنہوں نے شہر بدر ہو کر جیرفت آنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک شیخ جواد حجتی کرمانی تھے جو سنندج میں شہر بدر تھے اور  پھر انہیں جیرفت کی طرف شہر بدر کیا گیا تھا۔ جب وہ تہران سے گزرے تو انہوں نے سفر جاری رکھنے سے انکار کیا اور تہران میں ہی ٹھہر گئے۔ کچھ دن بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جہاں تک میری بات ہے تو میں جیرفت میں ہی رہا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میں فرار ہوا ہوں یا شہربدری سے تھک گیا ہوں۔ میں نہیں چاہتا تھا  فرار ہوتے ہوئے پکڑا جاؤں جیسے بعض برادران پکڑے جا چکے تھے۔ یہ بات میری شان کے مطابق نہ تھی۔ میں جیرفت میں مقیم رہا یہاں تک کہ  رسمی طور پر  میری شہر بدری ختم ہونے کا حکم نامہ جاری ہوا۔ میں جانتا تھا اس کام میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

میری رہائی

ایک رات پولیس کا سربراہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا: ’’تم آزاد ہو۔‘‘ میں نے کسی قسم کے تعجب یا خوشی کا اظہار کیے بغیر بے اعتنائی سے خبر سنی۔ وہ میرا رویہ دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ پھر میں نے اس سے کہا: ’’میں جیرفت میں ٹھہرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ مزید حیران ہوا اور اصرار کرنے لگا کہ میں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر سے چلا جاؤں۔ میں نے کہا: ’’نہیں،میں یہیں رکوں گا۔‘‘ میں یہ بات ایک خاص مقصد کے تحت کر رہا تھا۔ احتمال تھا کہ مجھے ایک سازش کے تحت رہا کیا جا رہا ہے اور راستے میں مجھے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ میں نے سنا ہوا تھا کہ بعض شہر بدر افراد کو واپسی پر جھوٹے ایکسیڈنٹ میں مار دیا گیا۔ میں نے یہ خبر ریڈیو تہران سے سنی تھی جو ان دنوں پارلیمنٹ کے اجلاس کی کاروائی نشر کرتا تھا اور پارلیمنٹ کے ایک رکن نے یہ بات ذکر کی تھی۔ ان دنوں پارلیمنٹ میں عجیب افراتفری کا عالم تھا اور بعض ارکان خوشامد کرتے ہوئے انقلابیوں کا دفاع کرتے تھے۔ پھر پولیس کے سربراہ کا اصرار بھی اس احتمال کو تقویت دے رہا تھا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں حکومت کو بتائے بغیر جیرفت سے نکل جاؤں۔ میں نے ایک شخص کے ذریعے اپنے دوست صدیقی (جو بم شہر میں ٹرک چلاتے تھے)اور حاج یزدان پناہ (جو بم میں ساکن تھے)کو جیرفت بلایا۔ جب وہ دونوں آ گئے تو میں نے ان سے کہا: ’’میں جیرفت سے نکلنا چاہتا ہوں۔‘‘ اور انہیں سارے معاملے سے آگاہ کیا۔ ان دونوں نے کہا: ’’ہم رات میں آپ کو لے جائیں گے۔ آپ اپنی گاڑی اور سامان جیرفت میں ہی رہنے دیں تاکہ حکومت کو آپ کے شہر چھوڑنے کا احساس نہ ہو۔ میرے  پاس گھر میں کافی سامان تھا جس میں سے زیادہ تر وہ برادران لائے تھے جو مجھ سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ میں نے کچھ ضروری سامان اٹھایا اور باقی چھوڑ دیا۔ پھر برادران سے کہا: ’’یہ سامان جیرفت کی طرف شہر بدر کیے گئے افراد کے لیے وقف ہے۔‘‘ خوش قسمتی سے کسی کو اس سامان سے استفادے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ خدا کے اذن سے انقلاب کا آغاز ہوا اور اسی کے فضل وکرم سے یہ انقلاب کامیاب ہوا۔

ہم سحر کے وقت جیرفت سے نکلے اور بم شہر کی طرف چل پڑے۔ پھر ان میں سے ایک میری گاڑی بم شہر لے آیا۔ میں نے اس شہر میں دو دن قیام کیا جس دوران یہاں کے لوگوں سے ملاقاتیں کی۔ پھر میں کرمان شہر کی طرف نکلا۔ یہ خوبصورت یادوں سے بھرپور ایک خوشگوار سفر تھا۔ ہم رات بھر سفر میں رہے۔ اس وقت میری خوشی کے کئی اسباب جمع تھے: آزادی، تحریکِ اسلامی کا عروج اور روشن مستقبل کا تصور۔ ان کے علاوہ خوبصورت راستے پر رات کا سفربھی خوشی کے اسباب میں سے ایک تھا۔

ہم نے کرمان کے ایک دینی مدرسے کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔ پھر میں جوتے اور جوراب لینے بازار گیا۔ ایران شہر اور جیرفت میں چونکہ گرمی زیادہ تھی لہذا میں وہاں جراب کے بغیر عام چپل پہنتا تھا، جبکہ کرمان میں جراب نہ پہننا غیر مناسب تھا۔ جوتے کی قیمت میرے پاس موجود رقم سے زیادہ تھی لہٰذا میں نے جوتا خریدنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے صرف جراب خریدنے پر اکتفا کیا۔

کرمان شہر بدر ہونے والے افرادمیں شیخ عباس پور محمدی بھی تھے۔ وہ صوبہ کرمان کے شہر رفسنجان سے تھے۔ وہ پہلے بندر لنگہ کی طرف شہر بدر کیے گئے پھر بیماری کا علاج کرانے کے لیے انہیں کرمان منتقل کر دیا گیا۔ وہ کسی کرمانی تاجر کے ایک بڑے گھر میں رہتے تھے جس کے صحن میں بڑے بڑے درخت تھے۔ جب انہیں پتا چلا کہ میں کرمان میں ہوں تو مجھے اس گھر میں بلا لیا اور اصرار کیا کہ میں وہیں قیام کروں۔ میں نے ان کی بات مان لی اور دو دن اس شہر میں رہا۔ اس دوران ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کرمان کے لوگ مجھے پہلے سے جانتے تھے لہٰذا وہ مختلف وفود کی شکل میں ملنے آتے۔ میں صبح سے شام تک ملاقات کے لیے آنے والے وفود کا استقبال کرتا تھا۔ کرمان میں میرے مختصر قیام کے دوران ہمیں خبر ملی کہ عراقی حکومت نے نجف میں امام خمینی پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور ان کا گھر اس وقت محاصرے میں ہے۔

میں کرمان کے بعد یزد چلا گیا۔ میں نے دیکھا کہ شیخ صدوقی صحیح معنوں میں اس شہر کی قیادت کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی فکری تربیت کے ساتھ ساتھ مزاحمتی، سیاسی اور اقتصادی امور میں بھی ان کی ذمہ داریاں معین کرتے اور ان کی بصیرت اور آگاہی میں اضافہ کرتے تھے۔ آپ پوری جرات کے ساتھ انقلاب کی حمایت کرتے اور شاہی حکومت کے خلاف بغیر کسی خوف کے شیر کی طرح میدان عمل میں حاضر رہتے تھے۔ آپ رات گئے تک بغیر کسی محافظ کے سڑکوں اور گلیوں سے گزرتے تھے۔ میں نے یزد میں سنا کہ امام خمینی پیرس روانہ ہو گئے ہیں۔ میں یزد سے جہاز کے ذریعے تہران اور وہاں سے مشہد گیا۔ مشہد میں انقلاب کے حوالے سے مختلف سرگرمیاں انجام دیتا رہا یہاں تک کہ امام خمینی کے حکم پر انقلاب کونسل میں شرکت کے لیے مجھے تہران بلا لیا گیا۔ ۱۱ فروری ۱۹۷۹؁ء کو انقلاب اسلامی کا سورج طلوع ہوا۔ میں ۱۹۸۱؁ء کے شروع میں ایران کا صدر منتخب ہوا۔ میری شہر بدری کے اختتام اور انقلاب کونسل کے رکن منتخب ہونے میں صرف دو ماہ کا فاصلہ تھا۔ اسی طرح میری شہر بدری کے اختتام اور صدر منتخب ہونے کے درمیان تین سال سے کم کا فاصلہ تھا۔

لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ۔([3])

پہلے بھی اور اب بھی اختیارِ کل اللہ کو حاصل ہے۔  اہل ایمان اس دن  اللہ کی مدد پر خوشیاں منائیں گے، اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا فرماتا ہے اور وہ غالب آنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

سُبْحانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ۔([4])

آپ کا رب جو عزت کا مالک ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں اور پیغمبروں پر سلام ہو اور ثنائے کامل اس اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا پروردگا رہے۔

*****

([1]) اسلامی جمہوری پارٹی کے دفتر میں دھماکہ: 28 جون 1981؁ء کو تہران میں واقع اسلامی جمہوری پارٹی کے دفتر میں منافق گروہ کی طرف سے دھماکہ کیا گیا جس میں امام خمینی کے قریبی ساتھی آیت اللہ بہشتی سمیت ستر سے زیادہ اہم ملکی و سیاسی شخصیات شہید ہوئیں۔ ان شہداء میں چار وزیر اور پارلیمنٹ کے ۲۷ اراکین شامل تھے۔

([2]) قم میں 19 ’’دی‘‘ (9 جنوری 1978؁ء) کا قیام: ایران میں یہ حادثہ ۱۹ دَی (ایرانی کیلنڈر کا دسواں مہینہ) کے نام سے مشہور ہے۔’’اطلاعات‘‘ نامی اخبار میں ’’ایران اور سرخ و سیاہ استعمار‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں مراجع عظام بالخصوص امام خمینی= کی توہین کی گئی۔ قم کے عوام 9 جنوری 1978؁ء کو اس توہین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس احتجاج کو حکومت کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ احتجاج ان مسلسل مظاہروں اور احتجاجات کا آغاز سمجھا جاتا ہے جو انقلابِ اسلامی کی کامیابی تک جاری رہے۔

([3]) روم: 4 ، 5

([4]) صافات: 180، 181، 182