آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

چودہواں باب: شہربدری میں سیلاب

سید مصطفیٰ خمینی کی وفات

1977؁ء میں ملک میں ہر طرف کشیدگی پھیل گئی۔ اسی سال نجف اشرف میں امام خمینی= کے بڑے بیٹے سید مصطفیٰ خمینی کی پر اسرار موت واقع ہو گئی۔ ان کی وفات سے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور مجالس ترحیم میں حکومت پر اعتراضات شروع ہوگئے۔

سید مصطفیٰ کی وفات کی خبر پہنچنے کے بعد ہم نے مشہد میں کچھ ضروری اقدامات کے لیے منصوبہ بندی کی۔ میں ڈاکخانے گیا اورامام خمینی= کے نام  چار تعزیتی خط لکھے۔ پہلا اپنے نام سے، دوسرا شیخ طبسی، تیسرا شیخ محامی اور چوتھا سید ہاشمی نژاد کے نام سے لکھا۔

جب میں نے یہ خط ڈاکخانہ کے ایک ملازم کو دیے تو وہ حیران ہوگیا۔ اس نے اپنے دوسرے ساتھیوں کو دکھائے تو وہ بھی حیرت میں مبتلا ہوگئے۔ اس کا خیال تھا کہ جب وہ مجھے اس کا خرچہ بتائے گا تو میں اس کام سے پیچھے ہٹ جاؤں گا۔ لیکن جب میں نے اسے ہزار تومان کا نوٹ تھمایا جو اس وقت مجھ جیسوں کے لیے اچھی خاصی رقم تھی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

پھر ہم نے ایک مسجد میں مجلس ترحیم کے انعقاد کی کوشش کی تو حکومت نے اجازت نہ دی اور مسجد بند کر دی۔ قم میں مومنین نےمجلسِ ترحیم کا اہتمام کیا جو بہت سے مومنین کی شہادت پر منتہی ہوئی۔ وہ ایام پورے ایران میں  تحریکِ اسلامی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بے مثال ایام تھے۔ میں اور مجھ جیسے دوسرے برادران مدارس اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے درمیان سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں، سیاسی افکار سے متعلق مکتوبات کی نشر و اشاعت اور خفیہ روابط میں مصروف تھے۔ہم تفسیر قرآن اور انقلابی اور متحرک اسلام پیش کرنے کے لیے جلسوں کا انعقاد بھی کرتے تھے۔

انہی ایام میں قم سے شیخ خلخالی کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مومنین کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ضرور اب ہماری باری ہے۔ میں نے کہا: ’’کیوں؟ کیا وجہ بنی؟ میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ مجھے گرفتار کیا جائے۔‘‘

شاہین، شاہین! ہم نے اسے پکڑ لیا

اسی سال سردیوں کی ایک رات کے آخری پہر دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نیند سے بیدار ہوا اور معمول کے مطابق خود دروازہ کھولنے گیا۔ فجر میں ایک گھنٹہ باقی تھا اور گھر کے افراد گھر کے داخلی حصے میں سو رہے تھے۔ میں نے دروزہ کھولا تو  دیکھا کہ چند جوان بندوقیں اور پستول لیے کھڑے ہیں۔ اچانک میرے ذہن میں آیا کہ یہ اسلام مخالف گروہ کے لوگ ہیں اور میرا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ سید بہشتی مجھے بتا چکے تھے کہ یہ گروہ اسلامی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کرتا ہے لہٰذا آپ محتاط رہیں۔ اسی گروہ کے لوگوں نے کرمانشاہ میں سید موسوی قہدریجانی کے گھر رات کی تاریکی میں حملہ کیا اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔ وہ ان کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اچانک کسی حادثے کی وجہ سے سید موسوی بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ جونہی میرے ذہن میں یہ خیال آیا میں نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے کوشش کی کہ مجھے دروازے بند نہ کرنے دیں لیکن موت کے خوف نے مجھے قوت دی اور میں ان سب پر غالب آگیا۔ میں نے دروازہ بند کر دیا۔ پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ ممکن ہے یہ لوگ دیوار پھلانگیں یا کسی اور طرف سے داخل ہونے کی کوشش کریں۔ اچانک انہوں نے اپنے اسلحوں کے ساتھ دروازے پر زور زور سے مارنا شروع کیا۔ دروازے میں لگا بڑا شیشہ ٹوٹ گیا۔ میں جان خلاصی کا کوئی طریقہ تلاش کر رہا تھا کہ اتنے میں ان میں سے ایک چلاّیا: ’’قانون تم سے کہہ رہا ہے دروازہ کھولو۔‘‘ میں ان کی بات سے جان گیا کہ وہ ساواک والے ہیں۔ خدا کا شکر بجا لایا کہ وہ اسلام مخالف گروہ کے لوگ نہیں تھے جیسا کہ میں سمجھ رہا تھا۔ میں دروازے کی طرف بڑھا اور جوں ہی میں نے دروازہ کھولا چھ اہلکاروں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور نہایت بے رحمی اور سنگدلی سے مجھے مارنے لگے۔ اسی ہنگامے میں مصطفیٰ جاگ گیا۔ اس کی عمر اس وقت ۱۲ سال تھی۔ وہ شیشے کے پیچھے سے اپنے باپ پر ہونے والے تشدد کو دیکھ رہا اور چلاّ رہا تھا۔ ساواکی مجھے مسلسل مکّوں اور لاتوں سے مارتے رہے۔ وہ خاص طور پر اپنے بوٹوں کی نوک میری ٹانگ پر مار رہے تھے۔ پھر انہوں نے میرے ہاتھ باندھے اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کے آگے چلوں اور انہیں گھر کے اندر لے جاؤں۔ میں نے ان سے کہا: ’’میرے بیوی بچوں کے سامنے مجھے ہتھکڑی نہ لگاؤ، یہ مناسب نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ہتھکڑی کھول دی۔ میں گھر کے اندر داخل ہوا تو زوجہ کو پریشان اور چاروں بچوں کو ان کے گرد پایا جن میں سے کچھ سو رہے تھے اور کچھ جاگ گئے تھے۔سب سے چھوٹا میثم تھا جس کی عمر اس وقت دو ماہ تھی۔ میں نے بیوی بچوں سے کہا: ’’پریشانی کی کوئی بات نہیں، مہمان ہیں۔‘‘

ساواکیوں نے پورے گھر، یہاں تک کہ باورچی خانہ اور بیت الخلا کی بھی تلاشی لی۔ میری زوجہ نے ایک بہت زبردست کام کیا۔ وہ میرے مہمانوں والے کمرے میں داخل ہوئیں جس کے دو دروازے تھے۔ ایک دروازہ لائبریری میں کھلتا تھا اور دوسرا داخلی صحن میں۔ انہوں نے اس کمرے میں موجود خفیہ دستاویزات جمع کیں اور قالین کے نیچے چھپا دیں۔ یہ دستاویزات ساواک والوں سے محفوظ رہیں۔ مجھے نہیں معلوم میری زوجہ کو ان خفیہ دستاویزات کی کمرے میں موجودگی کا کیسے علم ہوا؟ اسی طرح میں نہیں جانتا کہ وہ ساواک والوں سے چھپ کر کیسے کمرے میں داخل ہوئیں؟ یہاں تک کہ مجھے بھی ان کے اس کام کی خبر نہیں ہوئی۔ انہوں نے بعد میں مجھے ساری روداد سنائی۔ ساواک والے لائبریری میں داخل ہوئے اور مکمل تلاشی لی۔ وہ میری بہت سی کتابیں، ڈائریاں اور کاغذات لے گئے جو آج تک نہیں ملے۔

انہوں نے ایک گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت گھر کے تمام حصوں کی تلاشی لی، یہاں تک کہ نمازِ فجر کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کہا کہ میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ ایک اہکار میرے ساتھ وضو خانے تک آیا۔ میں نے وضو کیا اور لائبریری میں جا کر نماز پڑھی۔ ان میں سے ایک اہلکار نے نماز پڑھی جبکہ باقی نماز پڑھے بغیر تلاشی لیتے رہے۔ انہوں نے گھر کا کوئی کونہ نہیں چھوڑا جس کی تلاشی نہ لی ہو۔ میں نے شاید زوجہ سے کچھ کھانا مانگا۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ مجتبیٰ اور مسعود کو جگا دیں تاکہ ان سے الوداع کر لوں۔ وہ دونوں ایک مرتبہ جاگنے کے بعد دوبارہ سو چکے تھے۔ جب میں الوداع کر رہا تھا تو بچوں سے کہا گیا کہ آپ کے والد سفر پر جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے بچوں کو حقیقت سے آگاہ کیا۔

جب میں گھر سے نکلا تو دیکھا کہ ساواکیوں کی ایک بڑی تعداد گھر کا محاصرے کیے ہوئے ہے۔ وہ ’’جیپ‘‘ کو ہمارے گھر والی تنگ گلی میں لے آئے۔ انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر مجھے گاڑی میں بٹھایا۔ ایک اہلکار وائرلیس پر کہہ رہا تھا: ’’شاہین۔ شاہین۔ شاہین۔ پکڑ لیا۔ پکڑ لیا۔‘‘

یہ انقلاب کی کامیابی سے صرف ایک سال پہلے کی بات ہے۔

زندان کی بجائے شہر بدری

وہ مجھے مشہد میں واقع ساواک کے دفتر لے گئے اور ایک تہہ خانے میں بند کر دیا۔ اس تہہ خانے میں تنگ رستے تھے اور دونوں جانب کوٹھڑیاں تھیں۔ میں وہاں چند گھنٹے رہا۔ اس دوران میں نے قرآن سے استخارہ کیا تو خوشخبری والی آیت نکلی۔ میں نے جلدی سے اسے قرآن کی جلد پر لکھ لیا۔ وہ میرے لیے کھانا لائے اور جب میں کھانا کھا چکا تو مجھے گاڑی میں بٹھا کر شہر کے باہر کی طرف رخ کر لیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ لوگ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس مرتبہ ساری چیزیں پہلے سے مختلف تھیں۔ گاڑی عام طور پر استعمال ہونے والی، آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر اور شہر سے باہر کی طرف رخ۔

گاڑی شہر کی حدود پر موجود چھوٹی سی چھاؤنی کے پاس رکی تو مجھے پتا چلا کہ یہ لوگ مجھے قید رکھنے کی بجائے شہر بدر کرنا چاہتے ہیں۔ میں وہاں پانچ دن رہا جس دوران اہل وعیال اور دوست کئی مرتبہ مجھ سے ملنے آئے۔ اس چھاؤنی میں فوجی جیل بھی تھی لیکن مجھے اس میں نہیں لے جایا گیا بلکہ مجھے نگہبانوں کے سربراہ کے کمرے میں رکھا گیا۔ یہ سربراہ عہدے کے لحاظ سے کرنل تھا۔ وہ شریف اور اعلی شخصیت کا مالک تھا۔ اس کا میرے ساتھ جیل افسر اور قیدی والا تعلق نہیں تھا۔ وہاں مجھے کچھ آزادی حاصل تھی۔ میں صبح سویرے اپنے کمرے سے نکل کر کھلی فضا میں ورزش کرتا تھا۔

جناب سید میرے لیے استخارہ کریں

خبر دی گئی کہ مجھے ایرانشہر کی طرف شہر بدر کیا گیا ہے۔ مجھے اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ میرے دوست شیخ محمد جواد حجتی کرمانی بھی وہیں شہر بدر ہیں۔ روانگی کے دن اہل و عیال اور دوست احباب مجھے الوداع کرنےآئے۔ یہ لمحات پریشان کن نہیں تھے چونکہ شہر بدری، جیل کی سختیوں کی نسبت بہت آسان تھی۔ ہم بس اڈے سے زاہدان جانے والی بس پر بیٹھے تاکہ وہاں سے ایرانشہر جائیں۔ اس سفر میں میرے ہمراہ تین لوگ تھے: ایک افسر اور دو اہلکار۔ گاڑی گنا آباد میں نماز اور کھانے کے لیے رکی۔ یہاں بتاتا چلوں کہ گنا باد کے لوگ کئی دفعہ میرے یہاں آنے کی وجہ سے مجھے پہچانتے تھے کیونکہ میرے کئی شاگرد جیسے شیخ فرزانہ، شہید کامیاب اور صادقی گنا آبادی وغیرہ یہاں کے رہنے والے تھے۔ میرا شاگردوں سے تعلق عام طور پر دوسرے اساتید کی نسبت زیادہ ہوتا ہے لہٰذا مذکورہ طالب علموں کے ساتھ میرا گہرا جذباتی تعلق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ان شاگردوں کی شادیوں کی تقریبات میں بھی شرکت کی تھی جس کی وجہ سے میں اس شہر والوں کو جانتا تھا اور وہ بھی مجھے جانتے تھے۔ جب ہم گاڑی سے اترے تو ایک جوان میرے پاس آیا اور اس نے کہا: ’’جناب سید! میرے لیے استخارہ کریں۔‘‘ (یہاں لوگ عموما اپنے کاموں کے لیے علماء سے استخارہ کرواتے ہیں۔) پولیس اہلکار نزدیک سے میری نگرانی کر رہے تھے۔ جب میں استخارہ کرنے لگا تو اس جوان نے سرگوشی کی: ’’میں استخارہ کے لیے نہیں آیا بلکہ اس طرح پولیس کی نگرانی میں آپ کے یہاں آنے کا سبب جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے اس سے کہا: ’’کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ پھر میں نے اسے اپنی منزل کا بتایا اور اس سے کہا کہ وہ دوسرے برادران کو میری ایرانشہر کی طرف شہر بدری کی خبر دے دے۔

ہم اگلے دن فجر کے وقت زاہدان پہنچے۔ مسجد گئے، نماز پڑھی، ناشتہ کیا اور تقریباً ایک گھنٹہ وہاں قیام کیا۔ اس کے بعد ہم دوسری بس پر سوار ہوئے اور ایرانشہر کی طرف نکل پڑے۔ پہلے وہ مجھے گورنر کے دفتر لے گئے پھر وہاں سے پولیس اسٹیشن بھیج دیا گیا۔ پولیس اسٹیشن میں انہوں نے میری فائل بنائی۔ انہوں نے مجھے سے عہد لیا کہ میں شہر نہیں چھوڑوں گا اور روزانہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دوں گا۔

خدا کے ساتھ خلوت

میں اکیلا مسجد کی تلاش میں نکلا۔ کسی نے میری آل الرسول. مسجد کی طرف رہنمائی کی۔ مجھے پتا چلا کہ یہ اس شہر میں شیعوں کی واحد مسجد ہے جبکہ اہل سنت برادران کی یہاں متعدد مساجد ہیں۔ مسجد آل الرسول. بہت ہی خوبصورت اور دلکش تھی جس میں قیمتی اور نفیس قالین بچھے ہوئے تھے۔ صحن میں  بلند و بالا  درختوں کے ساتھ میٹھا پانی جاری تھا۔ یہ پانی مٹھاس میں تہران کے پانی سے کم نہیں تھا جو ایران میں اپنی مٹھاس کی وجہ سے مشہور ہے۔ میں نے مسرت اور خوشی محسوس کی۔ شہر میں موسم گرم، خوشگوار اور میری طبیعت کے ساتھ سازگار تھا جو موسم سرما کی سخت سردی برداشت نہیں کر سکتی۔ منظر دلکش تھا۔ میں نے اپنی عبا قبا اتاری، انہیں ایک کونے میں رکھا، وضو کیا اور نماز کے لیے تیار ہو گیا۔ میں نے خدا کے ساتھ خلوت میں راز و نیاز کیا جس کی لذت اب بھی محسوس کرتا ہوں۔ میں اس وقت اپنے اہل و عیال، بچوں اور دوستوں سے دور اپنے پورے وجود کے ساتھ  خدا کی طرف متوجہ تھا۔ اس احساس کی لذت سے بڑھ کر کوئی لذت قابل تصور نہیں۔

میں اپنا بیگ اٹھائے مسجد سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ جان چکے تھے کہ میں ان کے شہر کی طرف شہر بدر کیا گیا ہوں۔ یہ شہر اس حوالے سے مشہور تھا کہ سیاسی لوگوں کو اس کی طرف شہر بدر کیا جاتا ہے۔ میں شہر کی مرکزی شاہراہ کی طرف  چلا گیا۔ میرے پاس رؤوفی نامی ایک مومن کا پتا تھا۔ مجھے اس کی دکان کی طرف رہنمائی کی گئی جسے میں نے بند پایا۔ میں کچھ گھوم پھر کر واپس لوٹا تب بھی اس کی دکان بند تھی۔ کچھ دیر وہیں رک کر دکان کے شیشے سے اندر دیکھنے لگا۔ پھر جب میں دکان کے سامنے سے ہٹا تو دیکھا کہ ایک گاڑی میرے سامنے آکر رکی جس میں دو لوگ سوار تھے۔ ایک نے مجھ سے پوچھا:’’آپ کس سے ملنا  چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’رؤوفی صاحب سے۔‘‘ اس نے کہا: ’’آپ رؤوفی کو جانتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں، لیکن مجھے فلاں شخص نے ان کی طرف بھیجا ہے۔‘‘ وہ گاڑی سے اترا اور کہا: ’’میں رؤوفی ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں۔‘‘ ہم آپس میں گلے ملے اور میں گاڑی میں سوار ہوا۔ مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا۔ہم نے فاطمیہ کا رخ کیا جو ذکر و نماز کی جگہ تھی اور اس کا نام جناب زہراء/ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ میں نے وہاں مغرب کی نماز پڑھی۔ چونکہ میں بہت تھکن محسوس کر رہا تھا لہٰذا میں نے ان سے کہا: ’’میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مجھ سے کہا: ’’آپ چاہیں تو یہیں آرام کریں اور چاہیں تو ہمارے ساتھ گھر چلیں۔‘‘ میں نے اسی جگہ آرام کرنے کو ترجیح دی۔ کچھ دیر بعد بیدار ہوا تو ابھی تک نیند کا غلبہ تھا۔ میں نے کچھ اجنبی چہرے دیکھے۔ وہ لوگ فاطمیہ میں محرم کی مناسبت سے جمع ہوئے تھے، پھر شیخ حجتی کرمانی کو دیکھا اور ہم اکٹھے روؤفی کے گھر چلے گئے۔

دوستوں سے ملاقات

ہم تین یا چار دن رؤوفی کے گھر رہے، پھر میں نے اور شیخ حجتی کرمانی نے رؤوفی کے اصرار کے باوجود ایک اور گھر منتقل ہونے کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے ایک گھر ڈھونڈا، ہم اس میں منتقل ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اتنے میں زاہدان سے ایک ۲۰ رکنی وفد ہمیں ملنے آ گیا۔ زاہدن کے مشہور عالم دین شیخ معین الغرباء وفد کی سربراہی کر رہے تھے۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ ہم دوسرے گھر منتقل ہو رہے ہیں تو انہوں نے ہمارے ساتھ اس گھر کی صفائی میں حصہ لیا۔ ہم نے اس گھر میں چند ماہ قیام کیا اور اس کے بعد ایک بہتر گھر میں منتقل ہو گئے۔

معین الغرباء دوسری شخصیت تھی جنہوں نے شہر بدری میں ہم سے ملاقات کی۔ ان سے پہلے کریم پور ہماری ملاقات کو آچکے تھے۔ جب ہم رؤوفی کے گھر تھے، کریم پور آدھی رات کے وقت ہم سے ملنے آئے۔ جوں ہی انہوں نے دروازے پر دستک دی، مجھے ایک خاص کیفیت کا احساس ہوا۔ مشہد میں رات کے وقت ساواک کے حملے کے بعد جب کبھی رات کے وقت دروازے پر دستک ہوتی مجھے خوف کی مانند ایک کیفیت کا احساس ہوتا۔ رؤوفی گھر پر نہیں تھے لہذا شیخ حجتی گئے اور دروازہ کھولا۔ انہوں نے ایک مطمئن اور پرکشش جوان کو دیکھا۔ ہم پہچان گئے کہ یہ رؤوفی کے رشتہ دار ہیں۔ وہ قیدیوں اور شہر بدر ہونے والے افراد کے ساتھ بہت مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور راہِ خدا میں بلند ہمتی سے کام کرتے تھے۔ انہوں نے تحریکِ اسلامی کے کاموں کو آگے بڑھانے کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک پورا منصوبہ پیش کیا۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران شہید ہو گئے۔

حاج علی شَمَقْدری وہ پہلے شخص تھے جو مشہد سے مجھ سے ملنے آئے۔ وہ میرے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ میرے ان شاگردوں کا امتیاز یہ تھا کہ اگرچہ وہ رائج معنی کے مطابق عام  لوگوں میں سے تھے لیکن در حقیقت وہ بلند اسلامی ثقافت کے حامل تھے۔ یہ جوان اسلام کے متعلق ایسی معلومات رکھتے تھے کہ شاید بہت سے اہلِ علم بھی ان سے نابلد ہوں۔ ان کے نفوس انقلاب اسلامی کے مفاہیم سے سرشار تھے لہذا پورے وجود کے ساتھ اسلام کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔

حاجی علی مشہد میں میری تمام مجالس کو پورے اہتمام اور دقت سے سنتے تھے اور گہرے اسلامی مفاہیم سے متعلق اہم نکات لکھ لیتے تھے۔ میں جب اپنے پہلے گھر میں منتقل ہوا تو وہ دوسرے دن ہی اپنے بچوں اور بھائیوں کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ان کا بھائی اور بیٹا دین کا دفاع کرتے ہوئے راہِ خدا میں شہید ہو گئے۔

شہر بدری کے دوران جب ہم دوسرے گھر میں تھے تو شیخ صدوقی، شیخ راشد اور کچھ دوسرے علماء نے ہم سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نوروز سے کچھ دن پہلے انجام پائی۔ پھر یہ لوگ چابہار چلے گئے جہاں شیخ ناصر مکارم شیرازی شہر بدر تھے۔ واپسی پر بھی وہ لوگ میرے اور شیخ حجتی کے ساتھ شدید لگاؤ کی وجہ سے ایک رات ہمارے پاس ٹھہرے۔ شیخ راشد یزدی خوشگوار تعلقات بنانے، حاضر دماغی اور شوخ مزاجی میں مشہور تھے۔ علم و ادب کے باوجود ان کے لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی تھی اور زبان پر ہمیشہ مزاح۔ میں ان سےآشنا  ہوتے ہی مانوس ہو گیا، وہ بھی  مجھ سے مانوس ہوئے اور مجھے پسند کرنے لگے۔ وہ یزد کی طرف جاتے ہوئے بار بار کہہ رہے تھے: ’’میری شدید خواہش ہے کہ میں ایرانشہر کی طرف شہر بدر ہو جاؤں تاکہ سید خامنہ ای کے ساتھ رہ سکوں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ برادران کے واپس جانے کے تقریبا ً دو ہفتے بعد ایک پولیس اہلکار میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے ایک ورق تھمایا جس میں شیخ راشد نے اپنے دستخط کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں ہیں۔ میں فورا پولیس اسٹیشن کی طرف گیا تو دیکھا کہ شیخ راشد آٹھ پولیس اہلکاروں کے حصار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ انہیں لطیفے سنا رہے تھے اور وہ لوگ ہنسی سے بے حال تھے۔ میں نے شیخ سے ان کے آنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا: ’’یزد میں 30 مارچ 1978؁ء کو شہداء تبریز کے ایصال ثواب کی مجلس منعقد ہوئی۔ میں نے اس مجلس میں تقریر کی جس کی وجہ سے مجھے گرفتار کر کے ایک ایمبولینس کے ذریعے سیدھا ایرانشہر لے آئے ہیں۔‘‘  میں انہیں اپنے گھر لے گیا۔ بعد میں ہم اکٹھے اس شہر میں اسلامی تحریک کی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔

مجھے یاد ہے کہ نوروز کے ابتدائی ایام میں (شیخ راشد کےآنے سے پہلے)  شیخ حجتی کو ایرانشہر سے سنندج کی طرف شہر بدر کیا گیا جہاں کا موسم ٹھنڈا اور خوشگوار تھا۔ وہ سنندج سے مجھے خط بھیجتے اور کہتے: مجھ پر یہاں کا خوشگوار موسم حرام ہے جبکہ آپ لوگ ایرانشہر کی گرمی میں رہ رہے ہیں۔

بہار کا آغاز ہوتے ہی اس شہر کی گرمی میں اضافہ ہوا۔ میرے اہل و عیال ان ہی دنوں مجھ سے ملنےآئے۔ میرا چھوٹا بیٹا میثم اس وقت چھ ماہ کا تھا۔ گرمی کی وجہ سے اہل و عیال کے لیے میرے ساتھ ایرانشہر میں رہنا ممکن نہیں تھا۔ موسم گرما کےآغاز سے ہی درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا۔ نہ ہی گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے وسائل میسر تھے اور نہ ہی گھر میں آرام کرنے کے۔ اہل وعیال میں چھوٹے بچے بھی تھے لہٰذا وہ یہاں دو ہفتے گزارنے کے بعد مشہد واپس چلے گئے۔

اہل سنت کے ساتھ تعارف اور باہمی تعامل

شروع میں شہر والوں کے ساتھ ہمارا کسی قسم کا کوئی تعلق اور تعامل نہیں تھا۔ ہم رؤوفی، ان کے بھائی اور چند دوسرے افراد کے ساتھ بیٹھتے اور ایک مختصر سی نشست کا انعقاد کرتے جس میں مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی اور کبھی کبھار زاہدان، مشہد اور قم سے بھی کچھ لوگ ہمیں ملنے آجاتے۔ پھر میں نے لوگوں کے ساتھ اور خصوصاً جوانوں کے ساتھ رابطہ شروع کر دیا۔

سب سے پہلے ایرانشہر کے جس جوان سے میری آشنائی ہوئی اس کا نام آتش دست تھا۔ اس کا والد شہر کے چھوٹے تاجروں میں سے تھا۔ یہ جوان اس وقت مڈل سکول کا طالب علم تھا اور اس کی عمر 16 سال کے لگ بھگ تھی۔ میں اس کے ذریعے دوسرے جوانوں سے آشنا ہوا۔ ہم نے ان کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا جن کا سلسلہ میرے ایرانشہر سے نکلنے تک جاری رہا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ آتش دست نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور بعد میں یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ وہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک دفعہ اپنے گھر والوں اور اپنی منگیتر کے ساتھ میرے پاس آیا اور میں نے اس کا نکاح پڑھا۔ بعد میں اس نے ایران عراق جنگ میں شرکت کی اور شہید ہو گیا۔ (خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔) اس کے والد کا ابھی تک میرے پاس آنا جانا رہتا ہے۔

چونکہ شہر کے اندر مجھے کسی بھی کام کی اجازت نہیں تھی لہٰذا میں نے کوشش کی کہ اپنے کام کا دائرہ کار شہر سے باہر پھیلاؤں۔ بزمان شہر (جو ایرانشہر سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے) کے لوگوں میں اس حوالے سے میں نے آمادگی پائی۔ ہم شیخ حجتی کے ساتھ ایک دوست کی گاڑی میں بزمان گئے۔ پھر ہر ہفتے یا ہر دوسرے ہفتے ہم وہاں جانے لگے۔ میں وہاں نماز جماعت کی امامت اور مختصر تقریر کرتا تھا۔ پھر مقامی ادارے حساس ہو گئے اور انہوں نے گاڑی کے ڈرائیور پر دباؤ ڈالا۔ ہمیں ڈرائیور نے اس بات کی خبر نہ دی لیکن ہم جان گئے کہ وہ مشکل میں گرفتار ہے لہذا ہم نے بزمان جانا چھوڑ دیا۔ ایرانشہر میں میری ترجیحات میں سر فہرست مسجد آل الرسول. کو آباد کرنا تھا۔ یہ مسجد ویران تھی اور مشکل یہ تھی کہ اس کا بانی خود ایرانشہر میں نہیں رہتا تھا بلکہ وہ ہر سال محرم کے پہلے عشرے میں آتا، مجلس امام حسین, کا انعقاد کرتا اور چلا جاتا تھا جبکہ مسجد کسی قابلِ ذکر استفادے کے بغیر ایسے ہی پڑی رہتی تھی۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایرانشہر میں فرقہ بندی کی وجہ سے سنیوں کی مساجد، شیعوں کی مساجد سے الگ تھیں۔ اہل سنت کی کچھ چھوٹی مساجد تھیں جن میں سے ہر ایک میں چند نمازی ہوتے تھے اور شیعوں کی ایک ہی مسجد تھی (مسجد آل الرسول.) جو پورا سال بند رہتی تھی۔ میں نے مسجد کو آباد کرنے کی تجویز دی تو بہت سارے لوگوں نے میری تائید کی۔ شیخ راشد کی مدد سے میں نے اس مسجد میں نماز پڑھانا شروع کی۔ میں نماز کے بعد 10 سے 15 منٹ تک لوگوں سے خطاب کرتا تھا۔ نماز اور مختصر گفتگو لاوڈ سپیکر پر نشر کی جاتی تھی جو وہاں کے مقامی لوگوں خاص کر شیعوں میں، دینی روح زندہ کرنے میں بہت موثر تھی۔ اسی طرح اہل سنت کے دین دار لوگوں پر بھی اس کا مثبت اثر تھا چونکہ وہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ ہم نماز میں پابند ہیں اور فصیح قرائت کے ساتھ نماز میں مختلف قرآنی سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر میں نے مؤمنین کو نماز جمعہ شروع کرنے کی تجویز دی اور اس طرح مسجد میں نماز جمعہ بھی شروع ہو گئی۔ اس میں لوگوں کی شرکت بہت اچھی تھی اور یہ ایرانشہر کا سب سے بڑا جمعہ شمار ہوتا تھا۔ شیخ راشد اس نماز کو خصوصی اہمیت دینے کی خاطر خود اذان کہتے تھے۔

آہستہ آہستہ ہمارے علمائے اہل سنت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہو گئے اور میں کسی ایسے مشترکہ عملی قدم کے بارے میں سوچنے لگا جس کے ذریعے شیعہ اور اہل سنت عوام کے درمیان موجود دوریاں کم کی جا سکیں۔ میں نے اپنی گفتگو کاآغاز ایرانشہر کے ایک اہل سنت عالم مولوی قمر الدین کے ساتھ کیا جو مسجد النور کے امام تھے۔ میں نے ان سے کہا: ’’ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کے مستقبل، اسے درپیش خطرات اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے مل کر سوچیں۔ تمام تر مسلکی اختلافات کے باوجود مسلمانوں پر اسلام کے مستقبل کے حوالے سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لیکن اگر ہم ماضی کی بحثوں میں پڑے رہے اور پرانی کتابوں سے اختلافی باتیں ڈھونڈتے رہے تو یہ صرف نفرتوں میں اضافے اور جذبات کو ابھارنے کا باعث بنے گا۔ یہ کام اسلام کی مصلحت میں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی۔‘‘ میں نے ان سے مزید کہا: ’’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ماضی سے اپنا تعلق ختم کر لیں کیونکہ ہمارا فکری اور عقائدی وجود اسی ماضی سے جڑا ہوا ہے۔ ہاں، ہمارا باہمی تعاون اسلام کے روشن مستقبل کی خاطر ہونا چاہیے۔‘‘ میں برادرانِ اہل سنت کے جتنے علماء سے ملا، سب کے ساتھ میری گفتگو کا محور حقیقت میں یہی نکتہ تھا اور مخلص علماء کی طرف سے اس حوالے سے ہمیشہ مثبت رد عمل پایا۔

عید میلاد النبینقطہ اتحاد

میں نے اسی فکر کو آگے بڑھتے ہوئے ایک مختصر سا عملی منصوبہ تیار کیا جس کے مطابق ہم نے 12 سے 17 ربیع الاول کے درمیان ایک مشترکہ جشن کا انعقاد کرنا تھا (کیونکہ اہل سنت کی روایات کے مطابق آپ3 کی ولادت 12 جبکہ اہل تشیع کے مطابق 17 ربیع الاول ہے۔) ہم نے اس محفل کے انعقاد پر اتفاق کر لیا۔

جشن کے لیے مسجد آل الرسول کو سجایا گیا۔ یہ شدید گرمی کے دن تھے۔ ایران شہر میں گرمیوں کی دھوپ میں درجہ حرارت 63 ڈگری تک جبکہ سائے میں درجہ حرارت 54 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس گرمی میں ظہر کے وقت بیت الخلا جانا مشکل ترین کاموں میں سے ایک تھا کیونکہ یہ گھر کے صحن میں 20 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ سورج کی حرارت گویا چہرے اور جلد کو جلا رہی ہوتی تھی۔ دن بھر موسم ایسے ہی رہتا تھا۔ رات کے 10 بجے موسم قدرے بہتر ہونا شروع ہوتا تھا جو رات گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بہتر ہو جاتا تھا۔ اس کے باوجود زمین ویسے ہی گرم رہتی اور اس پر چٹائی بچھانے کے باوجودآرام سے بیٹھنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔

لیکن جشن والے دن عصر کے وقت موسم بالکل مختلف تھا۔ آسمان پر بادل نمودار ہوئے جن کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی آئی۔ پھر غیر معمولی ہوا چلنے لگی جس کے بعد ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔ ہمیں امید تھی کہ جشن کی رات بہت ہی خوشگوار ہوگی۔

عید میلاد النبی اور جشن کا دن اپنے ساتھ خوشگوار موسم اور باران رحمت لے کر آیا۔ لوگ گروہ در گروہ گھروں سے نکلے تاکہ وہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسجدآل الرسول. کا رخ کریں جو نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسجد کے علاوہ اس کے اطراف میں موجود کمرے بھی لوگوں سے بھر گئے۔ میں نے مغرب کی نماز پڑھانا شروع کی تو دوسری رکعت میں ایک عجیب سی آواز سنی گویا ایک ریڑھی ہو جو کھجور کی شاخوں کو گھسیٹ رہی ہو اور ان شاخوں کے سرے زمین پر لگ رہے ہوں لیکن یہ آواز بند نہ ہوئی۔ اگر کسی ریڑھی کی آواز ہوتی تو اس کے گزرنے کے بعد ختم ہو جاتی۔ کچھ دیر بعد میں نے پانی کی موجوں کی آواز سنی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سیلاب ہے۔

سیلاب اور خاکِ شفا

نماز کے بعد ہم نے دیکھا کہ سیلاب نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پانی اتنا اوپر آیا کہ مسجد کے ہال میں داخل ہو گیا جو زمین سے آدھا میٹر بلند تھا۔ میں نے بلند آواز میں لوگوں سے کہا کہ سیلاب کے مقابلے میں حفاظتی اقدمات اپنائیں۔ میں نے کہا کہ سب سے پہلے مسجد کے قالین لپیٹ کر ایک اونچی جگہ رکھ دیے جائیں تاکہ وہ خراب نا ہوں۔ پھر میں نے خواتین اور بچوں کو بچانے کے لیے ضروری تدابیر اپنانے کا کہا۔ سیلاب دو سے تین گھنٹے تک جاری رہا جس دوران ہم یکے بعد دیگرے گھروں کے گرنے کی آوازیں سنتے رہے یہاں تک کہ مجھے خوف لاحق ہوا کہ مسجد بھی گر جائے گی۔ ہر چیز خوفناک تھی، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے تاریکی، ہر چیز بہا کر لے جانے والا سیلاب، گھروں کا گرنا اور لوگوں کی فریادیں۔ اس خوفناک اور مشکل گھڑی میں انسان کا ذہن   اس حالت سے نکلنے کے لیے کسی بھی وسیلے کی تلاش میں ہوتا ہے۔ میں نے ایک بات سن رکھی تھی کہ ایسی بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے امام حسین, کی تربت سے توسل کیا جائے۔ میں نے اپنی جیب سے خاک شفا کا ایک ٹکڑا نکالا (جسے خداوند عالم نے امام حسین, کی وجہ سے شرف بخشا ہوا ہے۔) اور خدا پر توکل کرتے ہوئے اسے موجیں مارتے ہوئے پانی میں پھینک دیا۔ کچھ ہی لمحات میں خدا کے فضل و کرم سے سیلاب رک گیا۔

سیلاب رکنے کے فوراً بعد میں نے متاثرین کی مدد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ رات کے وقت امدادی کاروائیاں ممکن نہ تھیں لہٰذا صبح کا انتظار کیا گیا۔ میں گھر کی طرف گیا جو دو حصوں پر مشتمل تھا اور ان کے درمیان ایک مشترکہ دروازہ تھا۔ میں اور شیخ راشد ایک گھر میں جبکہ سید رحیمی اور سید موسوی دوسرے گھر میں رہتے تھے۔ (یہ دونوں بھی شیخ راشد کے بعد ایرانشہر کی طرف شہر بدر کیے گئے تھے۔ سید رحیمی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اس وقت شہید کر دیے گئے جب آپ پارلیمنٹ کے رکن تھے۔) میں نے گھر کو محفوظ پایا۔ پانی اگرچہ گھر کے نزدیک پہنچ گیا تھا لیکن گھر میں داخل نہیں ہوا تھا۔

یہ خبر پھیل گئی کہ شہر بدر افراد کے گھر میں پانی داخل نہیں ہوا اور لوگ اسے ہماری کرامت سمجھنے لگے۔ لیکن میں نے وضاحت کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ہمارے گھر میں پانی اس لیے نہیں آیا چونکہ یہ اونچی جگہ پر واقع ہے۔ اس میں کرامت والی کوئی بات نہیں ہے۔

امدادی کاروائیوں کا مرکز

اگلی صبح میں سید رحیمی اور شیخ راشد کے ساتھ شہر کے نشیبی علاقوں کا جائزہ لینے گیا جہاں سیلاب کی وجہ سے گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ یہ وہی گھر تھے جو حادثے کی بڑی وجہ بنے۔ اس سے پہلے بھی ہر سال اس شہر میں بارشیں ہوتی تھیں اور بارشوں کا پانی اس نشیبی علاقے سے ہوتے ہوئے گزر جاتا تھا۔ اس طرح شہر صدیوں سے سیلاب سے محفوظ تھا۔ نشیبی علاقے میں کسی قسم کی عمارت بنانے پر پابندی تھی تاکہ اس وجہ سے پانی کا راستہ بند نہ ہو اور پانی شہر کی طرف نہ جائے۔ لیکن کچھ لوگ جو مفت زمین کی تلاش میں تھے انہوں نے اس نشیبی علاقے میں گھر بنا لیے۔ یہ کام ابھی تک کچھ لوگ بعض علاقوں میں انجام دیتے ہیں اگرچہ وہ نہیں جانتے کہ اس کام کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ پورے شہر کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

جب ہم اس نشیبی علاقے میں گئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں موجود گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ابھی ہم وہاں پہنچے ہی تھے کہ دور سے ایک بلوچی خاندان کو اپنی طرف آتے دیکھا جس میں بچے، خواتین اور مرد حضرات تھے۔ مرد کے ہاتھوں پر ایک بچہ سویا ہوا تھا جبکہ خواتین گریہ و زاری کر رہی تھیں۔ جب وہ ہمارے نزدیک پہنچے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ بچہ فوت ہو چکا ہے۔ مجھے اس منظر نے گہرا صدمہ پہنچایا اور میں اونچی آواز میں رونے لگا۔ میں بچوں اور خواتین کی نسبت بہت حساس ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی بچے یا خاتون کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔ میں نے کئی بار اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ میں مرد اور عورت کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ  فیصلے کے وقت میری ہمدردی یقیناً خاتون کی طرف ہوگی۔ اسی طرح میں بچوں کو تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں کر سکتا چاہے وہ فلم کا کوئی منظر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ میں سیلاب میں مرنے والے بچے کو دیکھ کر بہت غمگین ہوا اور بلند آواز سے رونے لگا۔ بچے کے اہل و عیال میرے گریے اور درد کو سمجھ گئے۔ شیخ راشد نے مجھ سے کہا: ’’بچے کے گھر والوں نے آپ کو ان سے بھی زیادہ تکلیف میں دیکھا تو وہ بہت حیران ہوئے۔‘‘ میرے رونے کی خبر بلوچوں کے درمیان پھیل گئی ۔

جب ہم شہر کی طرف لوٹے تو امدادی کمیٹی نے ہمیں بتایا کہ شہر کے 80 فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں اور جو گھر سالم ہیں وہ پانی سے بھر چکے ہیں۔ ایران شہر کے اکثر گھر ایک منزلہ تھے۔

مجھے اچانک یاد آیا کہ شہر کے لوگوں نے کل دوپہر سے کھانا نہیں کھایا اور وہ یقینا بھوکے ہوں گے۔ تندور والوں نے سیلاب کی وجہ سے تندور بند کر دیئے تھے۔ پانی دکانوں اور گوداموں میں داخل ہو چکا تھا اور چند دنوں تک دکانوں کے کھلنے کا امکان نہ تھا لہٰذا شہر میں قحط کا خطرہ تھا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ہمیں اس پیغام کو نشر کرنا ہوگا: ’’بھوکے شہر کو بچائیں‘‘ اور ہر ممکن طریقے سے کھانا مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے لوگوں کو سڑکوں پر سرگردان اور مبہوت حالت میں دیکھا جو سیلاب کی وجہ سے اپنی بھوک سے غافل تھے۔ میں نے راستے میں ایک چھوٹی سی دکان دیکھی جو زمین سے بلند ہونے کی وجہ سے سیلاب سے محفوظ تھی۔ دکاندار دروازے کے پاس کھڑا دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: کیا تمہاری دکان میں کوئی ایسی چیز ہے جو لوگوں کی بھوک مٹا سکے؟ اس نے کہا صرف بسکٹ ہیں۔ میں نے کہا: جو کچھ ہے دے دو۔ میں نے اس کے پاس موجود بسکٹ کے تمام ڈبے خرید لیے جو بہت زیادہ نہ تھے، اور اسی جگہ متاثرہ لوگوں میں تقسیم کر دئیے۔ یہ وقتی طور پر تسکین کا باعث ضرور تھا لیکن مستقل حل نہیں تھا۔

میں ڈاک خانے گیا، شیخ کفعمی کو ٹیلی فون کیا اور انہیں حادثے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ (شیخ کفعمی صوبہ بلوچستان کے مشہور اور بڑے عالم دین ہیں۔) میں نے ان سے کہا کہ ہمیں روٹی اور کھجور کی ضرورت ہے، اسی طرح اگر ممکن ہو تو پنیر بھی۔ جتنا جلدی ہو سکے اور جتنی مقدار میں ممکن ہو یہ چیزیں بھیج دیں۔ میں نے مزید کہا کہ وہ یزد میں شیخ صدوقی سے رابطہ کریں اور اسی طرح مشہد اور تہران میں بھی رابطے کر کے سب کو بتائیں کہ ہمیں اشیائے خورد ونوش کی ضرورت ہے۔ میں نے کئی دفعہ بلند آواز سے کہا: ’’سب سے کہیں میں بڑی شدت سے روٹی اور کھجور کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

جب میں نے ٹیلی فون رکھا تو دیکھا بہت سارے لوگ میرے پیچھے کھڑے ہیں۔ وہ بڑی حیرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ میں کس قدر ان کو اہمیت دیتے ہوئے امداد اکٹھی کر رہا ہوں۔ اس دوران وہ ایک دوسرے کی طرف بھی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ عام سی بات تھی کہ ایک گھنٹے سے بھی کم مدت میں میرے اس کام کی خبر پورے شہر میں پھیل جائے۔ لوگوں کی امیدیں میری کوششوں سے وابستہ ہو گئیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے علماء اور وہاں کے سرکاری افسران انہیں کسی قسم کی فوری مدد فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔علماء کے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا اور سرکاری افسران نہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور نہ کچھ کرنے کی سکت رکھتے تھے۔

میں مسجد آل الرسول. گیا اور اسے امدادی کاروائیوں کا مرکز قرار دیا۔ سب کی امیدیں مسجد سے وابستہ ہو گئیں۔ ابھی دو تین گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ روٹی، کھجور، تربوز اور پنیر سے بھرا ایک بڑا ٹرک پہنچ گیا۔ ہم نے مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے قرآن مجید کی تلاوت لگائی۔ پھر ہم نے اعلان کیا کہ امدادی کاروائیوں اور کھانے کی تقسیم کے لیے مسجد آل الرسول. کو مرکز قرار دیا گیا ہے۔ میں نے برادران سے کہا کہ جو بھی آپ کے پاس آئے اسے کھانا دیں اور اگر وہ کہے کہ یہ کھانا کم ہے تو اسے مزید دیں۔ اگر وہ دوبارہ کھانا لینے آئے تو بھی منع نہ کریں اور اسے یہ نہ کہیں کہ تم پہلے لے چکے ہو۔ اس طرح ہم لوگ زیادہ کھانے کی لالچ نہیں کریں گے۔ مجھے یقین تھا کہ دوسرے شہروں میں موجود برادران بھی ہماری مدد کریں گے۔ یوں ہم نے امدادی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔

میں نے بڑی دقت کے ساتھ برادران میں ذمہ داریاں تقسیم کیں جس کی وجہ سے ہمارا کام باقاعدہ ایک تنظیمی شکل میں ڈھل گیا۔ میں نے ان کاموں میں اپنے گزشتہ تجربات سے بھی استفادہ کیا۔ امدادی کاروائیاں 50 دن تک جاری رہیں۔ ہم اس دوران لوگوں سے ان کے گھروں، جھونپڑیوں اور خیموں میں جا کر ملے اور متاثرہ خاندانوں کے افراد کی تعداد معلوم کی۔ کبھی کبھار ہمیں بتائے جانے والی تعداد درست نہیں ہوتی تھی لیکن ہم ان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے درست سمجھ لیتے تھے۔ اسی وجہ سے ہم لوگوں کے دلوں میں اتر چکے تھے۔

ہم نے اعدادو شمار کے مطابق کھانے کے کارڈ بنائے اور کھانے کی تقسیم شروع کی۔ ہر خاندان کارڈ کے مطابق اپنا حصہ لیتا تھا۔ ہم نے اس دوران ایک سادہ زندگی کے لیے ضروری چیزیں جیسے بلب، کمبل، برتن اور چٹائیاں فراہم کیں۔اس کے علاوہ کبھی کبھار اشیائے خورد ونوش بھی تقسیم کی جاتی تھیں۔ بعض نے جعلی کارڈ بنا کر ان پر میرے جعلی دستخط کیے ہوئے تھے۔ (میرے دستخط دیکھنے میں سادہ سے ہیں لیکن ان کی ایک علامت ہے جو صرف میں جانتا ہوں۔)میں اپنے جعلی دستخط پہچان گیا تھا لیکن اس چیز کا اظہار نہیں کیا۔

امدادی کاروائیوں کے دنوں میں شیخ حجتی سنندج سے ایرانشہر آئے۔ وہ اپنی دوسری شہر بدری کے دوران (سنندج میں) بیمار ہو گئے تھے۔ انہوں نے کرمان آنے کی اجازت مانگی اور انہیں اجازت مل گئی۔ وہاں سے وہ ہم سے ملنے ایرانشہر آئے۔ ان کا آنا بہترین موقع تھا لہٰذا ہم رات بھر بات چیت میں مصروف رہے۔ صبح میں نے انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں شہر جانے اور وہاں امدادی کاروائیوں کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا اور خود گاڑی چلائی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ عام لوگ مرد، خواتین اور بچے ہماری گاڑی دیکھ کر اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہمیں سلام  کر رہے ہیں تو وہ بہت حیران ہوئے۔ انہوں نے حیرت سے کہا کیا آپ کو یاد ہے شروع میں لوگ ہمیں سلام بھی نہیں کرتے تھے؟میں نے کہا: ’’جی ہاں یاد ہے۔ لوگوں کے دلوں میں انسان کا مقام اس وقت بنتا ہے جب وہ ان کی خوشی اور غم میں شریک ہوتا ہے۔‘‘

امداد کے 50 دن ختم ہونے اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا حتی الامکان ازالہ کرنے کے بعد ہم نے ایک بڑی محفل منعقد کی جس میں، میں نے خطاب کیا۔ اس خطاب کی ریکارڈنگ اور محفل کی تصاویر ابھی تک موجود ہیں۔

شہر بدر افراد کی مقبولیت

رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی لوگوں کے ساتھ رابطے کا بہترین موقع فراہم ہوا۔ پولیس کا سربراہ ہماری اس مقبولیت سے بہت نالاں تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ہمارے ساتھ کیسا رویہ اپنائے۔ اس نے کئی مرتبہ ہماری نسبت اپنی باطنی خباثت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو خوش قسمتی سے پولیس کا یہ سربراہ دو ہفتے کی چھٹی پر تھا۔ اس کی جگہ جو افسر آیا وہ ایک جوان، باشعور اور سمجھ دار انسان تھا جس کی گفتگو سے ہمدردی اور محبت جھلکتی تھی۔ ہماری پہلی ملاقات مسجد میں ہوئی۔ ظاہر سی بات ہے پولیس کے سربراہ کا مسجد میں آکر ہم سے ملنا ایک غیر معمولی امر تھا۔

میں دوسرے دو شہر بدر افراد کے ساتھ ایک رات سڑک پر پیدل چل رہا تھا۔ ایک گاڑی ہمارے پاس آکر رکی اور وہ جوان افسر نیچے اترا۔ اس نے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی۔ وہ مجھے کوئی خفیہ بات بتانا چاہ رہا تھا۔ میں اپنے دونوں برادران سے الگ ہو کر اس کے ساتھ پیدل چلنے لگا۔ اس نے مجھے بتایا: ’’(ایرانشہر میں موجود) شہر بدر افراد کو تین شہروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ایک فرد کو جیرفت، دوسرے کو ایذہ اور تیسرے کو اقلید کی طرف بھیجا جائے گا۔ (ہمارے چوتھے ساتھی کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا تھا۔) اس نے کہا کہ یہ خبر صرف شہر بدر افراد کے درمیان ہی رہنی چاہیے۔ میں نے برادران کو اس بات سے آگاہ کیا۔ یہ جوان افسر اس وقت ایرانشہر سے جانے والا تھا کیونکہ اصل افسر چھٹی سے واپس آچکا تھا۔ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ہمیں ایک دوسری جگہ شہر بدر ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

رات کے وقت پولیس والے آئے اور سید رحیمی سے کہا کہ وہ شہر چھوڑ دیں۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ تمہیں بھی دو گھنٹے بعد شہر چھوڑنا ہوگا۔ ہم نے صبح سفر کرنے کے لیے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ رات کے وقت ہی نکلنے پر اصرار کر رہے تھے۔ ہم نے اس راز کو بھانپ لیا کیونکہ جب ہم اس شہر میں آئے تھے تو بالکل اجنبی تھے اورآج جب ہم رات کے وقت یہاں سے نکل رہے ہیں تو حکومت ہمارے حامی مقامی لوگوں کے رد عمل سے خوفزدہ ہے۔

رحیمی اپنا بیگ باندھنے میں مصروف تھا جبکہ پولیس اہلکار اسے جلدی کرنے کا کہہ رہے تھے۔ جب رحیمی پر ان کا دباؤ بڑھا تو وہ پولیس اور ان کے سربراہ کے ساتھ غصے ہوا اور پرجوش انداز میں مختصر سا خطاب کیا جس کے کلمات ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ اس نے کہا: ’’اس عارضی اقتدار سے دھوکہ مت کھاؤ، یہ یقینا ً ختم ہو جائے گا اور اسلامی حکومت کا سورج طلوع  ہو گا۔‘‘ وہ جذباتی جملے بولتے گئے جنہیں ہم اس وقت نعروں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ میں نے اس انقلابی جذبے کی وجہ سے، جسے میں بے جا سمجھ رہا تھا، شرمندگی محسوس کی۔

بہرحال وہ رحیمی کو لے گئے اور میری باری آگئی۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس اپنی گاڑی ہے اور میں اسی میں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ پھر میں نہیں جاؤں گا، جو کر سکتے ہیں کر لو۔ پولیس کے سربراہ کے پاس میری بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ گاڑی میری ملکیت میں کیسے آئی تو یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جسے میں اختصار کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔