تیرہواں باب: خفیہ کوڈ
مسجد کی امامت
میری چھٹی گرفتاری 1975ء میں ہوئی۔ اس وقت میرا معاشرتی مقام پانچویں جیل سے پہلے والے مقام سے بالکل مختلف تھا۔ مسجد کی امامت کی وجہ سے معاشرے میں میرے وسیع تعلقات بن چکے تھے۔ میں نے مسجد امام حسن, سے نماز پڑھانا شروع کیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مسجد تھی اور گلی کے اندر واقع تھی۔ پھر میں مسجد کرامت میں نماز پڑھانے لگا۔ یہ ایک بڑی مسجد تھی۔ اس کی اہمیت صرف اس کے بڑے ہونے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اس وجہ سے بھی تھی کہ یہ ایک اہم جگہ پر واقع تھی اور شہر کے مرکز سے بالکل نزدیک تھی جہاں امام رضا, کے حرم کے علاوہ بہت سارے دینی مدرسے بھی تھے۔ اور پھر یہ شہر کی نئی آبادی کے بھی نزدیک تھی جہاں یونیورسٹی اور کئی سینما گھر واقع تھے۔ اسی طرح یہ بازار سے بھی دور نہ تھی۔ لہذا یہ مسجد مختلف گروہوں کے اجتماع کی جگہ تھی جو ہمیشہ ایک دوسرے سے دور رہے تھے اور لڑتے رہے تھے: تاجر حضرات، دینی علوم کے طالب علم اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے۔
اس مسجد میں میری سرگرمیاں بڑھنا تھیں کہ حکومت کی حساسیت میں اضافہ ہوا اور اس نے مداخلت کرتے ہوئے میرے نماز پڑھانے پر پابندی لگا دی۔
اس پابندی کے تین ماہ بعد میں مسجد امام حسن, واپس آ گیا۔ چونکہ یہ مسجد چھوٹی تھی اور شہر کے مرکز سے دور بھی لہٰذا خفیہ ایجنسی والے اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ جونہی میں نے اس چھوٹی سی مسجد میں نماز پڑھانا شروع کیا، طالب علموں اور تاجروں نے اس مسجد کا رخ کر لیا۔ مسجد میں جگہ کم پڑگئی، لہذا انتظامیہ اس کی توسیع پر مجبور ہوئی۔ اب یہ، مسجد کرامت سے بڑی مسجد بن چکی تھی۔ حساسیت ختم کرنے یا اسے کم کرنے کے لیے میں صرف ہفتے کی رات نماز پڑھاتا اور اس کے بعد نہج البلاغہ کا درس دیتا تھا جس میں ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔
مسجد کی امامت کے علاوہ، میرا اپنا گھر بھی ملاقاتیوں سے بھرا رہتا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں آتے، اپنے سولات پوچھتے، مشورے دیتے اور مختلف امور کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے۔ میں تمام لوگوں سے کشاہ دلی کے ساتھ ملتا تھا، یہاں تک کہ بعض دفعہ ملاقاتیوں کا سلسلہ آدھی رات تک جاری رہتا۔ ملاقات کے لیے آنے والے صرف مشہد سے نہیں بلکہ ایران کے دوسرے مختلف شہروں سے بھی ہوتے تھے۔
دروس اور مجالس
مجھے دار الحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں سے لیکچرز کی دعوت ملتی تھی۔ بعض دعوتوں کو قبول کرتا تھا اور اکثر موقعوں پر وقت کی کمی کی وجہ سے معذرت کر لیتا تھا۔ ایک مرتبہ امام صادق, کی شہادت کی مناسبت سے شیخ مفتح کی دعوت قبول کی۔ جب میں تہران سے واپس آیا تو شیخ مفتح گرفتار کر لیے گئے۔ مجھے ان کی گرفتاری کی توقع پہلے سے تھی۔ اسی طرح سے ہمدان اور کرمان سے موصول ہونے والی دعوتوں کو بھی قبول کیا۔ جب میں لیکچر کے لیے اراک کے سفر کی تیاری کر رہا تھا تب مجھے چھٹی بار گرفتار کیا گیا۔ ملاقاتوں اور دعوتوں کی کثرت کے باوجود میں روزانہ حوزہ علمیہ میں دو درس پڑھاتا تھا۔ ایک درس فقہ کا اور دوسرا اصول فقہ کا۔ ان درسوں کا آغاز تب ہوا تھا جب میں 1964ء میں قم سے واپس مشہد آیا۔
مازندران کا سفر
اسی سال آذر کے مہینے([1]) میں جب موسم سرد ہونے لگا تو میں نے بہت زیادہ سستی اور تھکاوٹ محسوس کی۔ کچھ استراحت کا دل کرنے لگا۔ میں نے زوجہ کو چند دنوں کے لیے سیر وتفریح کی غرض سے سفر پر چلنے کا مشورہ دیا لیکن وہ نہ مانیں۔ کچھ دنوں بعد میں نے دوبارہ اس حوالے سے بات کی۔ اس مرتبہ ہم نے ایران کے شمالی صوبے مازندران جانے پر اتفاق کر لیا۔
اس وقت ہمارے تین بچے تھے۔ بڑا بیٹا مصطفیٰ سکول پڑھ رہا تھاجبکہ باقی دو ابھی سکول جانے کے قابل نہ تھے۔ ہم نے مصطفیٰ کو اس کی نانی کے پاس چھوڑا۔ میں نے زوجہ کے ماموں سے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ وہ تاجر تھے اور ہم آپس میں گہرے دوست تھے۔ مصیبت اور مشکلات کے وقت وہ ہمیشہ میری مدد کرتے تھے۔ ان کی گاڑی بھی تھی اور وہ میری زوجہ کے محرم بھی تھے۔ وہ اپنی بیوی بچوں سمیت ہمارے ساتھ چلنے پر راضی ہو گئے۔ ہم مازندران کے لیے نکلے، جہاں ہم نے تین دن گزارے۔ اس کے بعد میں نے فوراً مشہد لوٹنے پر اصرار کیا تاکہ ہفتے کی رات مسجد والی نشست میں پہنچ سکوں۔ لیکن ساواکیوں نے نشست سے پہلے ہی گھر پر چھاپہ مارا، مجھے گرفتار کیا اور جیل لے گئے۔
یہاں اس سفر کی کچھ یادیں ہیں جنہیں بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں چونکہ یہ چھٹی گرفتاری سے قبل معاشرے میں میرے مقام اور منزلت کو بیان کرتی ہیں۔
میں صوبہ مازندران کے صدر مقام ساری میں تھا۔ بیٹے مجتبیٰ کو لے کر مغرب سے کچھ دیر قبل شہر کی جامع مسجد گیا اور نماز کے انتظار میں مسجد کے ایک ہال میں بیٹھ گیا۔ ایک جوان میرے نزدیک آیا، میری طرف غور سے دیکھا، سلام کیا اور بات کیے بغیر میرے قریب بیٹھ گیا۔ پھر ایک اور جوان آیا اور پہلے والے کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر تیسرا آیا اور پھر چوتھا۔ یہاں تک کہ مغرب تک ان جوانوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی۔ مجھے ان سے ڈر لگنے لگا لیکن ان سے کوئی بات نہ کی کیونکہ ممکن تھا یہ خفیہ ایجنسی کے لوگ ہوں۔
ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا: ’’آپ فلاں ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ پھر انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں۔ میں نے کہا: ’’مسجد کے ہالوں میں مختلف جگہوں پر نماز جماعت ہو رہی ہے (مسجد میں متعدد جماعتوں کا ہونا افسوسناک بات تھی۔) آپ ان میں کیوں شرکت نہیں کرتے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہم ان میں سے کسی امام جماعت کو نہیں مانتے۔‘‘ تمام ایرانی مومن جوانوں کی یہی حالت تھی۔ وہ حکومت کے خلاف ڈٹ جانے والے اور قربانی دینے والے انقلابی علماء کو پسند کرتے تھے جبکہ وہ علماء انہیں پسند نہ تھے جو ان کی اس فکر کے مخالف ہوں اور ان کی امیدوں کے مطابق اس طرح متحرک نہ ہوں چاہے ان کے دلوں میں اسلامی تحریک کے لیے مثبت احساسات ہی کیوں نہ ہوں۔ جوان صرف اس بات پر قانع نہیں ہوتے تھے کہ علماء اچھے احساسات کا اظہار کریں بلکہ وہ ان سے عملی اقدام، قربانی اور ڈٹ جانے کا مطالبہ کرتے تھے۔
میں نے ان سے کہا: ’’ہر رات آپ لوگوں کا معمول کیا ہے؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’فلاں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں (میرے ایک دوست کا نام لیا)۔ اب وہ تہران گئے ہوئے ہیں اور ان کا ہال خالی ہے۔ وہ اصرار کر کے مجھے اس ہال میں لے گئے۔ میں نے نماز جماعت پڑھائی۔ کچھ اور جوان بھی نماز میں شریک ہوئے۔ نماز کے بعد میں نمازیوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے سامنے سورہ حمد کی تفسیر کے حوالے سے چند نکات بیان کیے۔ اس سورے کے مفاہیم کو چند حصو ں میں تقسیم کیااور ہر قسم کی الگ تفسیر بیان کی۔ پھر اپنی بات ختم کی اور جانے کے لیے کھڑا ہوا۔ ان کا اصرار تھا کہ میں ان کے درمیان چند دن رہوں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے مولانا تہران گئے ہوئے ہیں۔ ہمیں درس دینے اور نماز پڑھانے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ہفتے کی رات مشہد میں میرا درس ہے، جس کے لیے وہاں پہنچنا ضروری ہے۔‘‘ یہ سن کر انہیں افسوس ہوا اور کہا: ’’کاش ہمارے مولانا بھی ہمیں اتنی اہمیت دیتے جتنی آپ اپنی مسجد والوں کو دے رہے ہیں۔‘‘ وہ اکثر ہمیں چھوڑ کر اپنے کاموں کے لیے تہران چلے جاتے ہیں۔
میں اسی سفر کے دوران ’’شاہی‘‘ شہر (جسے اب قائم شہر کہا جاتا ہے) میں اپنے بیٹے مصطفیٰ کے ساتھ کتابوں کی ایک دکان پر گیا۔ میں ایک کتاب کی ورق گردانی میں مشغول تھا کہ اتنے میں ایک جوان آیا اور مجھ سے پوچھا: ’’آپ فلاں ہیں؟‘‘ میں نے گمان کیا کہ وہ ساواک کا اہلکار ہے۔ لیکن جب بات چیت چل نکلی تو مجھے اطمینان ہوا۔ اس دکان والے نے بھی مجھے پہچان لیا۔
بحرِ خزر کی کچھ مچھلیاں لے کر ہم مشہد واپس آگئے۔ جب ہم ساحل پر مچھیروں کے پاس سے گزر رہے تھے تو انہوں نے یہ مچھلیاں ہمیں تحفے میں دیں۔ جونہی انہوں نے ہمیں دیکھا ان میں سے ایک تیزی سے ہماری طرف بڑھا اور اپنے شکار میں سے کچھ مچھلیاں ہمیں دیں۔ ہم نے ان کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے انکار کیا۔ اس نے برکت کے حصول کے لیے ہمیں یہ مچھلیاں دی تھیں۔ جب کوئی سید ان کے پاس سے گزرے اور وہ ان کے شکار میں شریک ہو تو وہ اسے نیک شگون سمجھتے ہیں۔
کاش میں ان جوانوں کی بات مان لیتا!
ہم جمعے کی رات دیر سے مشہد پہنچے۔ اگلی صبح میری زوجہ اپنی والدہ کے ہاں چلی گئیں جہاں ہم بڑے بیٹے مصطفیٰ کو چھوڑ گئے تھے۔ ظہر کے وقت میں بھی وہاں چلا گیا۔ انہوں نے ہمیں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ہوئی تھی۔ میں گھر واپس آیا تاکہ ہفتے والے درس کی تیاری کروں۔
میں نماز جماعت کے دوران ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد آخری پارے سے ایک سورت پڑھتا تھا۔ فقہ اہل بیت. کے مطابق نماز گزار کے لیے حمد کے بعد ایک مکمل سورہ پڑھنا ضروری ہے۔ عام طور پر لوگ سورۂ حمد کے بعد سورۂ اخلاص، قدر یا کسی دوسری چھوٹی سورت کو پڑھتے ہیں۔ میں حمد کے بعد نسبتا بڑی سورتیں پڑھتا تھا جن میں تحرک کا پیغام ہو تاکہ اس طرح لوگ اندورنی طور پر تبدیل ہوں اور اسلامی شخصیت کی صفات ان میں پروان چڑھیں۔ اس دن عصر کے وقت میں سورہ مطففین دہرا رہا تھا تاکہ بعد میں نماز میں اسی سورت کی تلاوت کروں کہ اچانک گھر کی گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ یہ وہی چہرے تھے جن کو ہر چھاپے کو وقت میں خوب پہچان لیتا تھا۔ وہ لوگ بغیر اجازت گھر میں داخل ہوئے اور سیدھا میری لائبریری کی طرف چلے گئے جہاں کتابیں، کچھ اوراق اور میری کاپیاں تھیں۔ ہر وہ چیز جو انہیں مشکوک لگتی اسے اپنے قبضے میں لے لیتے۔ اتنے میں مغرب کی اذان ہوئی۔ میری عادت تھی کہ اذان سے پہلے مسجد پہنچ جاتا، نمازیوں کو سلام کرتا اور ان کے حال احوال پوچھتا تھا۔ میں نے ساواکیوں سے کہا: ’’نماز کا وقت ہوگیا ہے، مجھے مسجد جانا ہے اور نماز پڑھانی ہے۔ اگر مجھے نماز میں دیر ہوئی تو اس کے برے نتائج ہوں گے جو تمہارے حق میں بہتر نہیں۔‘‘
انہوں نے سرد لہجے میں جواب دیا: ’’ہمارے حوالے سے آپ فکرمند نہ ہوں۔‘‘ اتنے میں میری زوجہ کے بھائی آگئے۔ وہ مسجد میں میری تاخیر کی وجہ سے پریشان ہوگئے اور مجھے دیکھنے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: ’’آج میں مسجد نہیں آسکتا۔‘‘ وہ بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔
ساواکیوں نے مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا۔ میری آنکھوں پر پٹی تھی یا نہیں مجھے یاد نہیں۔ وہ مجھے اسی پرانی جیل میں لے گئے جہاں 1971ء میں رہ چکا تھا۔ اس کی کوٹھڑیاں انتہائی تاریک تھیں اور سوائے چند سوراخوں کے روشنی کے لیے کوئی راستہ نہ تھا۔ معمول کے مطابق مجھے عمامے اور علماء والے لباس میں ہی ایک کوٹھڑی میں قید کر دیا گیا۔ کوٹھڑی میں بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کرنے لگا۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ میں اصرار کر کے مازندران سے مشہد آیا تھا۔ کاش مازندران میں ان جوانوں کی بات مان لیتا اور چند روز ان کے ہاں ٹھہر جاتا!
ریل میں قیدی بن کر
اگلے دن ظہر سے کچھ دیر پہلے ایک نگہبان آیا اور اس نے کہا: ’’اپنا سامان جمع کرو۔‘‘ میں نے سوچا وہ لوگ مجھے آزاد کرنا چاہتے ہیں ورنہ دن کے اس وقت سامان جمع کرنے کا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے؟!
انہوں نے مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن لے گئے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ لوگ مجھے مشہد سے باہر لے کر جا رہے ہیں۔ لیکن ریل کیوں؟ یہ کنجوس لوگ کیا جہاز کا ٹکٹ نہیں خرید سکتے تھے؟ ریلوے اسٹیشن پر سادہ لباس میں ملبوس دو پولیس اہلکاروں نے مجھے اپنی تحویل میں لیا۔ میں ان میں سے ایک کو جانتا تھا چونکہ وہ ہمارے محلے میں رہتا تھا اور میں اسے ہر روز دیکھتا تھا۔ مجھے پہلے سے اندازہ تھا کہ وہ ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے۔
ہم تہران کی ریل میں بیٹھ گئے۔ یہ دوسرے درجے کی ریل تھی اور ایک بوگی میں چھے لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ اس بوگی میں میرے ساتھ دو اہلکاروں کے علاوہ تین عام لوگ بھی تھے۔ اہلکاروں نے ان کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ہم تینوں بھی ان کی طرح عام مسافر ہیں۔ انہوں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے ظاہر ہو کہ میں ایک قیدی ہوں۔ مجھے خوف محسوس ہوا کہ کہیں مسافر میرے ساتھ کوئی ایسی گفتگو نہ کریں جو ان کے لیے سیاسی طور پر مشکل کا سبب بنے۔ اور یہ بعید نہیں تھا کیونکہ لوگ، خصوصا جوان طبقہ، عام طور پر علماء کے سامنے اپنی مشکلات اور شکایات بیان کرتے رہتے تھے۔ لہذا میں نے پہل کرتے ہوئے، آرام سے، مسکراہٹ کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا: ’’یہ دو اہلکار ہیں اور میں ان کی قید میں ہوں۔ یہ لوگ تہران میں مجھے ساواک کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
مسافروں کے چہروں پر ہمدردی کے آثار ظاہر ہوئے جو پورے سفر میں ان کے چہروں پر عیاں رہے۔ وہ مسلسل میری طرف دیکھتے جا رہے تھے اور ان کی آنکھیں درد اور غصے سے بھری ہوئی تھیں۔
ہم صبح سویرے تہران ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ وہ دو اہلکار مجھے اسٹیشن پر موجود پولیس چوکی لے گئے اور وہاں کی پولیس کو اپنے کام سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے فون پر رابطہ کیا اور تھوڑی دیر بعد کچھ افراد آئے اور مجھ سے ساتھ چلنے کا مطالبہ کیا۔ مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا، میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور میرے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ گاڑی تہران کی سڑکوں پر چلنے لگی۔ جب بھی گاڑی رش کی وجہ سے رکتی وہ مجھے حکم دیتے کہ اپنا سر سامنے والی سیٹ پر رکھوں۔
مشترکہ کمیٹی کی جیل میں
گاڑی ایک جگہ آکر رکی۔ وہ لوگ مجھے وہاں سے چند میٹر آگے لے گئے۔ پھر جب میری آنکھوں سے پٹی کھولی میں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں پایا جس میں کچھ اہلکار بھی تھے۔ وہ دو اہلکار بھی وہاں نظر آئے جو میرے ساتھ مشہد سے ریل میں آئے تھے۔ وہ دونوں آپس میں سرگوشی کر رہے تھے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا: ’’اپنا مذہبی لباس عمامہ، عبا، قبا وغیرہ اتار دو۔‘‘ اب میں صرف شلوار قیمص میں ملبوس تھا۔ مجھے قیدیوں والا لباس دیا گیا اور میں نے وہ پہن لیا۔ میری نظر ان دو اہلکاروں پر پڑی جو میرے ساتھ آئے تھے۔ وہ دونوں افسوس، دکھ اور ہمدردی کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ شاید انہیں اندازہ نہ تھا کہ وہ لوگ مجھے اس حالت میں دیکھیں گے۔ میں انہیں دیکھ کر مسکرایا۔
جیل کے اہلکاروں نے مجھے حکم دیا کہ قمیض اتار لوں اور اسے سر پر ڈال کر اپنا چہرہ چھپا لوں۔ مجھے کمرے سے نکال کر نامعلوم مقام کی طرف لے جانے لگے۔ ایک دروازے کی طرف لے گئے جس کی زنجیروں کی آواز کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ پھر ایک اور جگہ لے گئے جس کے بارے اندازہ ہوا کہ کوئی بڑا ہال ہے۔ ایک دروازے کے قریب مجھے روکا، دروازہ کھولا، مجھے اندر دھکیل دیا اور پھر دروازہ بند کر دیا۔ میں نے منہ سے قمیص ہٹائی تو اپنے آپ کو ایک نیم تاریک کوٹھڑی میں پایا جس میں کم روشنی والا ایک بلب جل رہا تھا۔
کوٹھڑی میں ایک جوان پہلے سے موجود تھا۔ وہ میرے آنے سے بہت خوش ہوا۔ اس نے میرا نام پوچھا۔ جب میں نے اپنا نام بتایا تو وہ ششدر رہ گیا۔ بار بار پوچھتا جا رہا تھا: ’’آپ واقعا وہی ہیں؟‘‘ وہ انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے چومنے لگا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ بیس دنوں سے اس کوٹھڑی میں تنہا ہے۔ میں نے بھی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا لیکن اس سے کھل کر بات نہیں کی۔
سیاسی جیلوں میں ایسا ہی رویہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ وہاں ہر چیز ممکن ہے۔ممکن ہے کوئی قیدی آپ سے ہمدردی اور خلوص کا اظہار کرے اور وہ در حقیقت آپ سے معلومات لے رہا ہو۔ میں اس جوان کے ساتھ بیٹھتا، گپ شپ کرتا اور اسے تسلی دیتا تھا۔ وہ میرے ساتھ دو ماہ اس کوٹھڑی میں رہا۔ پھر اسے ایک اور کوٹھڑی یا عمومی جیل منتقل کیا گیا۔ اگرچہ اس کا تعلق اسلام پسندوں سے نہیں تھالیکن وہ ایک سیاسی قیدی تھا۔
وہ جیل ’’کمیٹی جیل‘‘ کے نام سے مشہور تھی۔ اسی سال یا ایک سال قبل اس جیل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جیل کا یہ نام اس لیے رکھا گیا تھا کیونکہ اس جیل کو ساواک، پولیس اور سپیشل فورس کی ایک مشترکہ کمیٹی([2]) چلاتی تھی۔ بہت سے مسائل میں تعاون کی کمی کو دیکھتے ہوئے ان تین اداروں میں باہمی تعاون بڑھانے کی خاطر یہ جیل بنائی گئی تھی کیونکہ اس سے پہلے اداروں خصوصاً پولیس اور ساواک کے درمیان، شاہ کو خوش کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک دوڑ لگی ہوئی تھی۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مشترکہ امن کمیٹی بنائی گئی اور ان دو اداروں کے ساتھ سپیشل فورس کا بھی اس کمیٹی میں اضافہ کیا گیا۔ بعض انقلابی تحریکیں شہروں سے دور جنگلات کو اپنا مرکز بناتی تھیں اور سپیشل فورس اس طرح کی تنظیموں کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار تھی۔
کوٹھڑی میں دن گزرتے گئے۔ یہ انتہائی سخت دن تھے جن کی سختی کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزر چکا ہو۔ کوٹھڑی کا ایک دن عمومی جیل کے ایک مہینے کے برابر ہے۔ گویا کہہ سکتے ہیں کہ اس جیل میں گزرے میرے آٹھ ماہ، عمومی جیل کے آٹھ سال کے برابر تھے۔ اسی مناسبت سے بتاتا چلوں کہ شہید رجائی نے اسی خوفناک جیل کی ایک کوٹھڑی میں 28 ماہ گزارے۔
کوٹھڑی کی لمبائی دو میٹر اور چالیس سینٹی میٹر تھی جبکہ چوڑائی ایک میٹر اور ساٹھ سینٹی میٹر تھی۔ اس تنگ کوٹھڑی میں بعض دفعہ میں تنہا ہوتا تھا اور بض اوقات ایک، دو یا تین اور قیدیوں کے ساتھ۔ چار مربع میٹر سے کم جگہ میں چار لوگ! کاش مشکل صرف جگہ کی تنگی ہوتی۔ لیکن یہاں اس کے ساتھ نفسیاتی دباؤ اور جسمانی تشدد بھی تھا۔
قیدیوں کی چیخیں
دن بھر قیدیوں کے چیخنے کی آوازیں کانوں تک پہنچتی تھیں۔ بعض اوقات یہ چیخیں رات بھر جاری رہتی تھیں۔ وہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تشدد کے مختلف طریقے آزماتے۔ اس جیل میں ان کا مکمل ہدف یہ تھا کہ طرف مقابل کو نفسیاتی طور پر توڑ دیں۔ یہاں تک کہ بیت الخلاء لے جاتے وقت بھی وہ تحقیر جاری رکھتے تھے۔ جیل کے بیت الخلاء ہال کے اندر ہی تھے۔ قیدی کے بیت الخلاء جاتے ہی نگہبان آوازیں لگانا شروع کرتا: ’’جلدی کرو۔ جلدی کرو۔ جلدی نکلو۔‘‘ بعض دفعہ وہ بیت الخلاء کے دروازے کو دھکا دیتے تاکہ قیدی جلدی نکلنے پر مجبور ہو۔
جیل کے نگہبان زبان اور ہاتھ کے ذریعے قیدیوں کی ہر قسم کی توہین کرتے تھے۔ ایک ہی کوٹھڑی میں موجود قیدیوں کے لیے آپس میں بات کرنا ممنوع تھا۔ لہذا یا تو سرگوشی میں بات ہوتی تھی یا اشاروں میں۔ جونہی نگہبان محسوس کرتا کہ ہم سرگوشی کر رہے ہیں تو فوراً غصیلے لہجے میں ڈانٹنا شروع کر دیتا۔ کھانا اکثر انتہائی پست معیار کا ہوتا تھا۔ اگر باورچی نے کھانے میں گوشت کا ایک ٹکڑا ڈال بھی دیا ہوتا تو نگہبان اسے اپنے لیے اٹھا لیتے۔ کھانا انتہائی توہین آمیز طریقے سے پیش کیا جاتا تھا۔ وہ ایسا رویہ اپناتے جیسے ایک جانور کو کھانا پیش کر رہے ہوں جبکہ اکثر قیدی علماء، مفکرین اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔
قیدیوں کو کوٹھڑیوں سے نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ صرف بیت الخلاء جاتے وقت یا تفتیش کے لیے جاتے وقت کوٹھڑی سے نکلنا نصیب ہوتا۔ جیسے میں نے بتایا بیت الخلاء جانا بھی ایک مصیبت تھی اور تفتیش کی مصیبت تو ناقابل بیان ہے جیسا کہ میں پہلےبھی کہہ چکا ہوں کہ کوٹھڑی میں ایک ماہ رہنا عمومی جیل کے ایک سال کے برابر ہے۔ ایسے ہی یہاں بھی کہتا ہوں کہ تفتیش کا ایک دن کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی کے ایک ماہ کے برابر ہے۔
ایک مرتبہ انہوں نے مجھے تفتیش کے لیے بلایا۔ میرے ساتھ کوٹھڑی میں تین افراد تھے۔ وہ مجھے صبح لے گئے اور شام تک تفتیش والے کمرے میں رکھا۔ کوٹھڑی والے ساتھی سمجھے کہ میں تشدد کے نتیجے میں وفات پا گیا ہوں لہٰذا وہ بہت پریشان ہوئے۔ دلچسپ بات یہ کہ جب میں کوٹھڑی میں لوٹا تو وہ مجھے پہچان نہ سکے۔ میں لمبی داڑھی کے ساتھ انہیں چھوڑ کر گیا تھا اور بغیر داڑھی کے ان کے پاس لوٹا۔ جب میں نے ان سے بات کی تو انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ ان میں سے بعض گریہ کرنے لگے۔ کوٹھڑی میں میرا ایک ساتھی تھا (اس کا نام احمد احمدی تھا اور وہ امام خمینی= کے فلسفہ اور عرفان میں استاد شیخ محمد علی شاہ آبادی کا نواسہ تھا)۔ وہ لوگ جب اسے تفتیش کے لیے لے جاتے تو اس میں چلنے کی سکت باقی نہ رہتی اور وہ رینگتے ہوئے واپس آتا۔ وہ اسی طرح تشدد برداشت کرتا رہا یہاں تک کہ اسی جیل میں شہید ہو گیا۔ وہ جب کوٹھڑی میں لوٹتا تو ہمارے اوپر گہرا غم طاری ہو جاتا جس سے ہمارے دل چھلنی ہو جاتے۔ وہ فوراً ہمارا غم کم کرنے کی کوشش کرتا اور ہمیں تسلی دیتا۔
مجھے ساواک کے وحشیانہ تشدد کے مختلف مناظر یاد ہیں لیکن میں ان مصائب کی مکمل تصویر کشی نہیں کر سکتا۔ اس جیل کے منتظمین انتہائی خبیث اور پست تھے۔ قیدیوں پر تشدد کی آوازیں صبح تک سنائی دیتی تھیں۔ جونہی میری آنکھ لگتی تو کسی قیدی کی چیخیں سن کر بیدار ہو جاتا۔ نہیں معلوم وہ اصلی آوازیں تھیں یا ریکارڈ شدہ؟
والدہ کی فکر
اس جیل میں مجھے سب سے زیادہ والدہ کی پریشانی تھی۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا وہ شجاعت اور استقامت کے بلند مرتبے پر فائز تھیں لیکن میری اس گرفتاری سے پہلے انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے مجھے لگا کہ اپنے بیٹے کی مصیبتیں برداشت کرتے کرتے ان کا صبر ختم ہو چکا ہے۔ میں ایک دن ان کے گھر میں تھا تب انہوں نے مجھ سے کہا: ’’اگر تمہیں پھر گرفتار کیا گیا تو میں مر جاؤں گی۔‘‘ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور کہا: ’’اماں جان! مجھے کیوں گرفتار کریں گے؟ میں نے کونسا جرم کیا ہے؟ پھر اگر مجھے گرفتار کیا بھی جائے تو اس طرح کی سوچ کیوں؟ ایسی باتیں کیوں جو آپ سے کبھی نہیں سنیں؟‘‘ لیکن میں نے انہیں اپنی بات میں سنجیدہ پایا۔ جب سے میں قید ہوا تھا والدہ کے یہ کلمات میرے کانوں میں گونج رہے تھے اور مجھے پریشان کیے جا رہے تھے۔ میں ۶ ماہ تک اسی کیفیت میں مبتلا رہا۔ اس دوران مجھے والدہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ ۶ ماہ بعد انہوں نے مجھے صرف ایک فون کرنے کی اجازت دی۔ میں نے والد کے گھر فون کرنے کو ترجیح دی۔ والد نے فون اٹھایا۔ میں نے سب سے پہلا سوال کیا: ’’والدہ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’وہ ٹھیک ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’وہ ابھی کہاں ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’وہ گھر سے باہر ہیں۔‘‘ میں مطمئن نہ ہوا۔ میں نے پوچھا:ٖ ’’وہ کہاں گئی ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’وہ فلاں کے گھر مجلس میں گئی ہیں۔‘‘ مجھے یاد آیا کہ والدہ اس مجلس میں ہمیشہ جایا کرتی تھیں۔ میں مطمئن ہو گیا اور سکھ کا سانس لیا۔ پھر میں نے بیوی بچوں کے بارے میں پوچھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں قوت بیان رکھنے کے باوجود اس جیل میں قیدیوں پر جو کچھ گذرتا تھا وہ بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے اس جیل میں جو درندگی دیکھی، آج تک اس جیسی نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی۔
قیدیوں کی خفیہ زبان
انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ جن حالات کو پسند نہیں کرتا ان کے مقابلے میں سرکشی کرتا ہے۔ اور جب سرکشی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سامنے نوآواری اور خلاقیت کے رستے کھل جاتے ہیں۔ اس جیل میں قیدیوں کی سوچ دو رکاوٹیں عبور کرنے پر مرکوز تھی۔ پہلی نگہبانوں کی رکاوٹ جن میں سے اکثر ان پڑھ اور سادہ تھے اور پیسوں پر بکتے تھے۔ اور دوسری ایجنسی اہلکاروں کی رکاوٹ۔ قیدی معمولاً پہلی رکاوٹ پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرتے تھے اور اکثر اس میں کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔ اس حوالے سے مجھے بہت سے دلچسپ واقعات یاد ہیں۔
جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایک ہی کوٹھڑی میں قیدیوں کے لیے آپس میں بات کرنا ممنوع تھا چہ جائیکہ دوسری کوٹھڑی کے قیدیوں کے ساتھ!یہ ایک خطرناک کام تھا کیونکہ اہلکاروں کی نظر میں اس کی وجہ سے تفتیش اور معلومات کے حصول کا عمل متاثر ہوتا تھا۔ خاص طور پر ان قیدیوں کے ساتھ زیادہ سختی کی جاتی تھی جو ایک ہی الزام میں پکڑے گئے ہوں۔ ان تمام خطرات کے باوجود قیدیوں نے بات چیت کے لیے مورس کوڈ([3]) کا سہارا لیا۔ میرے اور آقای رجائی کی کوٹھڑی کے درمیان ایک کوٹھڑی کا فاصلہ تھا۔ میں ساتھ والی کوٹھڑی کو مورس کوڈ کے ذریعے مخاطب کرتااور پیغام رجائی کی کوٹھڑی تک جاتا، پھر وہاں سے جواب آتا۔
میں نے مورس کوڈ کی زبان اسی جیل میں سیکھی۔ کہانی کچھ اس طرح سے شروع ہوئی کہ میں ساتھ والی کوٹھڑی سے دیوار پر ہاتھ مارنے کی آواز سنتا لیکن مجھے اس سے کچھ سمجھ نہ آتا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ دیوار پر ہاتھ مار کر کچھ کہنا چاہ رہا ہے۔ ایک دن میں کوٹھڑی کی دیوار کو غور سے دیکھ رہا تھا، عام طور پر قیدی یہ کام اس لیے کرتا ہے تاکہ خود کو ایک نئی چیز میں مشغول کرے، میں نے دیوار پر قیدیوں کی یادیں، مزاحیہ تحریریں اور لطیفے پڑھے۔ اور جب میں نے غور سے دروازے کے ساتھ والی دیوار کو دیکھا کہ جس تک بہ مشکل روشنی پہنچ رہی تھی تو وہاں حروف اور رموز کا ایک جدول نظر آیا۔ چونکہ میں حروف اور اعداد والے بعض علوم سے کچھ آشنائی رکھتا تھا لہٰذا اس جدول کی زبان سمجھنے لگا۔ یہ مورس کوڈ کی زبان کے رموز تھے۔ میں نے انہیں سیکھنا شروع کر دیا اور اپنے ہمسایے کے دیوار پر ہاتھ مارنے کا مطلب سمجھنے لگا۔ پھر ایک مرتبہ میں نے آہستہ آہستہ اسے جواب دینے کی کوشش کی۔ ہمسایہ میرا جواب سمجھ گیا اور بہت خوش ہوا۔ میرے اور اس کے درمیان گفتگو شروع ہوئی۔ وہ جلدی اور مہارت کے ساتھ مجھے مخاطب کرتا اور میں آہستہ آہستہ اسے جواب دیتا۔ وہ میری مدد کرنے کی کوشش کرتا۔ جونہی وہ کسی کلمے کے ایک یا دو حرف سنتا تو اشارہ کرتا کہ میں کلمہ سمجھ گیا ہوں، باقی حروف کی ضرورت نہیں ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں مورس کوڈ کی زبان میں ماہر ہوگیا، یہاں تک کہ میں اس طرح مورس کوڈ کے ذریعے بات کرتا کہ میری کوٹھڑی والے کو بھی پتا نہ چلتا۔ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھتا اور اپنا ہاتھ کمر کے پیچھے رکھتا۔ پھر اپنے ناخن کے ساتھ دیوار پر مارتا۔ اسی دوران میں بالکل عام انداز میں اپنی کوٹھڑی کے ساتھی سے بات چیت کرتا اور اسے بالکل اندازہ نہ ہوتا کہ میں مورس کوڈ کے ذریعے ساتھ والی کوٹھڑی میں موجود شخص سے بھی بات کر رہا ہوں۔ وہ مجھ سے کوئی غیر معمولی حرکت نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ وہ متوجہ ہو جاتا میں ذہنی طور پر مشوش ہوں اور اس طرح کی تشویش کا ہر قیدی میں پایا جانا ایک عام سی بات ہے۔ بعض اوقات میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ لیٹے ہوئے پاؤں کی انگلیاں دیوار پر مارتا۔ لیکن اس حالت میں چونکہ کان دیوار سے دور ہوتے تھےلہذا جواب سننا مشکل ہوتا تھا۔
ذہین قیدی
ہمسائے کے ساتھ تمام موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔ مختلف امور کے بارے میں سوالات کا تبادلہ ہوتا تھا: کیا آج تمہیں تفتیش کے لیے لے کر گئے؟ تم نے آج کیا کیا؟ تم نے خواب میں کیا دیکھا؟ مجھے پتا چلا کہ وہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ اس سے زیادہ میں اس کے بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنا اصلی نام بھی مجھ سے چھپایا اور یہ عام سی بات تھی۔ سیاسی قیدیوں کے لیے اپنی معلومات چھپانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ جوان بہت ہی زندہ دل اور چالاک تھا۔ مختلف طریقوں سے کوشش کرتا کہ رضا کارانہ طور پر جیل کے بیت الخلاء دھوئے۔ قیدی عام طور پر اس کام کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لیتے تھے تاکہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی کوٹھڑی سے باہر نکلیں۔ وہ جوان کوٹھڑی سے نکلنے کی فرصت سے استفادہ کرتا اور ایسے کام کرتا جو اس کی تیزی اور مہارت کو واضح کرتے۔
ایک مرتبہ اس نے اپنی ذہانت سے نگہبان کو کوٹھڑیوں سے دور بھیجا اور تیزی کے ساتھ میری کوٹھڑی کی طرف بڑھا۔ کوٹھڑی کے دروازے میں موجود چھوٹی کھڑی کا پردہ اٹھایا۔ مجھے بلایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا اور کسی کو پتا چلے بغیر بیت الخلاء کی طرف اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
ایک دفعہ اس نے صفائی کرتے ہوئے دیکھا کہ برآمدے میں پڑے فریج کے اندر کچھ مکھن اور جام پڑا ہے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ مکھن اور جام قیدیوں کے ناشتے سے نگہبانوں نے چرایا ہے۔ اس رات کا کھانا انتہائی بد مزہ تھا جو نگہبان کو پسند نہیں تھا۔ اسی لیے اس نے یہ چیزیں چرا کر فریج میں رکھی تھیں تاکہ رات کے کھانے میں کھائے۔ یہ چیزیں دیکھ کر میرے ساتھی کا دل للچایا، خاص طور پر وہ اس دن روزے سے بھی تھا۔ اس نے تیزی سے وہ چیزیں اٹھائیں اور اپنی کوٹھڑی میں چلا گیا اور مورس کوڈ کے ذریعے مجھے اس سارے معاملے سے آگاہ کیا۔ میں نے اس سے کہا: مزے سے افطار میں یہ چیزیں کھاؤ۔ شام کا وقت ہوا تو نگہبان بڑے شوق سے فریج کی طرف بڑھا تاکہ وہ چیزیں اٹھا لے لیکن جب اس نے دیکھا کہ وہ چیزیں وہاں سے چوری ہوگئی ہیں تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی قیدی اس طرح کر سکتا ہے۔ اس نے دوسرے نگہبانوں سے پوچھا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ یہ کسی قیدی کا کام ہے تو اس نے باقی نگہبانوں کے ساتھ مل کر کوٹھڑیوں کی تلاشی شروع کر دی۔ میرے ساتھی نے ان چیزوں میں سے کچھ حصہ کھا لیا تھا اور کچھ ابھی باقی تھا۔ اس نے خوف کے عالم میں مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ بچے ہوئے حصہ کا کیا کریں؟ میں نے اسے کہا: جتنا کھا سکتے ہو کھا لو اور باقی حصہ چٹائی کے نیچے چھپا لو اور جرم کے آثار مٹا دو۔ کوٹھڑیوں کی تلاشی مکمل ہوئی۔ میرے ساتھی کی کوٹھڑی کی بھی تلاشی لی گئی لیکن انہیں کوئی چیز نہیں ملی۔ قصہ خیریت سے اپنے انجام کو پہنچا اور اس جیل کی یادوں میں ثبت ہوگیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب انسان تنگ آجائے تو وہ سرکشی پر اتر آتا ہے۔
پست قیدی
میں اس کوٹھڑی میں مختلف قسم کے افراد کے ساتھ رہا جن میں مومن اور انقلابی جوان بھی تھے۔ ان میں سے ایک نہاوند سے تعلق رکھنے والا جوان تھا جو ’’ابوذر پارٹی‘‘ کا کارکن تھا۔ اس پارٹی کا ایک مرتبہ مکمل خاتمہ کیا گیا پھر نہاوند شہر کے جوانوں نے اس کی از سر نو بنیاد رکھی۔ میں نے خصوصی طور پر اس جوان کا تذکرہ کیا کیونکہ کچھ عرصہ پہلے میں نے اسے دیکھا تھا۔ ایک گروہ مجھ سے ملنے آیا تو میں نے ان کا نام پوچھے۔ ان میں سے ایک نے اس جوان کا نام لیا۔ میں یہ نام سن کر تھوڑی دیر رکا پھر فوراً مجھے یاد آیا کہ وہ میرا کوٹھڑی کا ساتھی ہے۔
اس کوٹھڑی میں میرے ساتھ رہنے والوں میں کچھ کمیونسٹ بھی تھے۔ ان میں ایک جوان تھا جس نے نہیں بتایا کہ وہ کمیونسٹ ہے۔ وہ جس وقت ہماری کوٹھڑی میں آیا تو ہم پہلے سے تین افراد موجود تھے۔ اسے ملا کر چار ہوگئے۔ وہ اس طرح کوٹھڑی میں آیا جیسے اسے یہاں نہیں رہنا بلکہ فوراً چلے جانا ہے۔ جب میں نے اس کا تعارف پوچھا تو اس نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور غیر ضروری باتیں کرنے لگا۔ میں نے محسوس کیا وہ ذاتی طور پر ایک اچھا انسان ہے۔ ایک دن اس سے کہا: ’’میں آپ میں دین کی طرف رغبت دیکھتا ہوں۔‘‘ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسے کوٹھڑی سے نکال کر کہیں لے گئے جس کا ہمیں علم نہیں تھا۔ انقلاب سے کچھ عرصہ پہلے اس نے فون پر مجھ سے رابطہ کیا اور کہا: ’’میں فلاں اخبار میں کام کرتا ہوں اور اس جملے کو بار بار دہرایا جو میں نے اسے جیل میں کہا تھا۔‘‘ پھر مجھے پتا چلا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہے۔ہمیں بعد میں ایسے کاغذات ملے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ ساواک سے تعلق رکھتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے خلاف کاروائی کے دوران یہ جوان گرفتار ہوا۔ اس کی بیوی مجھے خط لکھ کر اس کی رہائی کا مطالبہ کرتی تھی اور مجھے وہ جملہ یاد دلاتی تھیں جو میں نے اس کے شوہر سے جیل میں کہا تھا۔ وہ کچھ عرصہ قید رہا اور پھر رہا کر دیا گیا۔
کمیونسٹ اپنے خبث باطن اور دین دشمنی میں ایک جیسے نہیں تھے۔ یہ جوان دین کے خلاف زیادہ تعصب نہیں رکھتا تھا۔ لیکن اسی کوٹھڑی میں میرا واسطہ ایک ایسے کمیونسٹ سے پڑا جو انتہائی پست، دین دشمن اور بد اخلاق تھا۔
جب اس شخص کو کوٹھڑی میں لایا گیا تو میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ بیٹھ کر مغرب کی تعقیات پڑھ رہا تھا۔ جیل میں میری عادت تھی کہ نماز پڑھتے وقت اپنے کسی سفید کپڑے کے ساتھ عمامہ باندھتا اور اور عبا کے بدلے کمبل اوڑھتا تھا۔ کوٹھڑی کی تاریکی میں مجھے دیکھنے والا یہ سمجھتا کہ میں علماء کے لباس میں ملبوس ہوں۔
جیسا کہ میں نے بتایا، میں نماز مغرب کے بعد اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا جب کوٹھڑی کا دروازہ کھلا اور ایک لمبے قد کا شخص داخل ہوا۔ شروع میں اسے کچھ دکھائی نہ دیاکیونکہ وہ روشنی سے تاریکی میں آیا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر مجھ پر اور میرے ساتھی پر پڑی تو اس کا چہرہ اتر گیا اور حزن و ملال کی کیفیت میں کوٹھڑی کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ میں اس کے قریب ہوا اور اس کی دلجوئی کرنے لگا جیسے ہر نئے قیدی کے ساتھ کرتا تھا۔ میں نے اس سے کہا: ’’تمہیں بھوک لگی ہے؟ پیاس لگی ہے؟‘‘ مگر اس کا چہرہ اسی طرح اترا رہا۔ میں سمجھا کہ وہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے پریشان ہے۔ میں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینے لگا۔ اس کی کوشش تھی کسی سوال کا جواب نہ دے۔ پھر مجھے پتا چلا کہ اسے آج صبح گرفتار کیا گیا ہے اور اس نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔ اور شاید اس پر تشدد بھی ہوا تھا۔
میری عادت تھی ناشتے سے کچھ حصہ بچا کر رکھ لیتا، کیونکہ اس جیل میں معدے کے زخم کی وجہ سے میں ہر کچھ دیر بعد تھوڑا کھانا کھاتا تھا۔ میں نے اسے ایک روٹی اور کچھ جام پیش کیا۔ اس نے کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے زبردستی کھانا کھلایا اور پانی پلایا۔ وہ کچھ نرم پڑ گیا۔ میں نے اس کی شدید پریشانی کا لحاظ کرتے ہوئے اور اس کی دیکھ بال کی خاطر نماز عشاء کچھ دیر سے ادا کی۔ میں اسے مسلسل تسلی دیتا اور ہمدردی کا اظہار کرتا رہا۔ جب اس نے دیکھا میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھ رہا ہوں تو وہ سمجھا کہ میں اسے اسلامی تحریک کا قیدی سمجھ رہا ہوں یا اسے اسلامی تحریک کی طرف جذب کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا سر اٹھایا اور سرد لہجے میں کہا: ’’مجھے اعتراف کرنے دیں کہ میں کسی دین کو نہیں مانتا۔‘‘
میں سمجھ گیا کہ اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ میں اس کی ذہنیت، فکر اور حالت کے مطابق جملہ تلاش کرنے لگا۔ میں نے اس سے کہا: ’’انڈونیشیا کے صدر احمد سکارنو(Ahmad Sukarno)نے بنڈنگ کانفرنس(Bandung Conference) میں کہا تھا: ’’مختلف قوموں کے درمیان اتحاد کا معیار دین، تاریخ یا ثقافت کا ایک ہونا نہیں بلکہ ضرورتوں کا ایک ہونا ہے۔‘‘ اور اس وقت ہماری ضرورتیں ایک جیسی ہیں۔ مشکلات ایک جیسی اور انجام نا معلوم ہے لہٰذا دین کا فرق اس موقع پر زیادہ اہم نہیں ہے۔
اسے مجھ سے اس جواب کی توقع نہ تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر واضح تبدیلی دیکھی۔ اس کے رویے میں تبدیلی آئی اور وہ ہمارے ساتھ گھل مل گیا۔ پھر میں نے اس سے کہا: ’’آپ آرام کریں، ہم نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
اس کی بیوی اسی جیل کی ایک اور کوٹھڑی میں قید تھی۔ میں نے اس جیل میں اپنے طویل تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان رابطہ کروایا اور اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہر قسم کی مدد کی پیشکش کی۔
وہ ہمارے ساتھ دو ماہ رہا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: ’’جب میں نے پہلی دفعہ آپ کو دیکھا تھا تو خیال آیا کہ مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ میں نے دل میں کہا: مولوی سے پالا پڑ گیا۔ ابھی آپ سے کہتا ہوں: میں نے زندگی بھر آپ جیسا وسیع القلب اور غیر متعصب شخص نہیں دیکھا۔‘‘
لیکن میری ان تمام کاوشوں کے باوجود اس کے خبث باطن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کا اندازہ مجھے بعد میں ہوا۔ وہ دین اور علماء کے تمسخر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مختلف طریقوں سے کوشش کرتا کہ دینی عادات و اقدار کی اہانت کرے تاکہ لوگ ان سے متنفر ہو جائیں۔
میں نےبھی تم جیسا کوئی نہیں دیکھا
مجھے یاد ہے کہ ایک دن میرے پیٹ میں شدید درد تھا اور مجھے مسلسل بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ جیل کے قوانین کے مطابق ایک دن میں صرف تین مرتبہ بیت الخلاء جانے کی اجازت ہوتی تھی اور بعض اوقات صرف ایک یا دو مرتبہ۔
جس دن میں پیٹ درد میں مبتلا تھا، خوش قسمتی سے نگہبان کچھ نرم مزاج تھا۔ اس نے کئی مرتبہ میرے لیے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا اور بیت الخلاء جاتے وقت میرا پیچھا بھی نہیں کیا بلکہ کوٹھڑی کے دروازے پر ہی میرا انتظار کرتا رہا۔ میں ایک مرتبہ بیت الخلاء سے واپس آرہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرا ساتھی قیدی اس کمیونسٹ کو مار رہا تھا اور اسے زمین پر گرایا ہوا تھا۔ مجھے پتا چلا کہ اس بد اخلاق شخص نے نگہبان کے سامنے میرا تمسخر اڑایا تھا۔ نگہبان کے سامنے ایک قیدی کی طرف سے دوسرے قیدی کا مذاق اڑانا قیدیوں کے نزدیک ناقابل معافی جرم تھا۔
ایک دفعہ میں نے اس سے کہا: ’’تمہیں یاد ہے تم نے مجھ سے کہا تھا: میں نے پوری زندگی میں تمہارے جیسا غیر متعصب اور وسیع القلب شخص نہیں دیکھا؟‘‘
اس نے کہا: ’’ہاں۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں بھی تم سے کہتا ہوں: میں نے تم جیسا متعصب اور کینہ پرور شخص نہیں دیکھا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اس کے ساتھ میرا یہ رویہ میرے عقیدے کا تقاضا تھا اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق عمل کر رہا تھا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اپنے احکام کی مکمل پیروی کی ترغیب دلاتا ہے۔ ایک مسلمان خدا کے قوانین کی رعایت کرتا ہے۔ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ خوش اخلاقی اور نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے اور ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے سخت لہجہ اپنانے سے منع کرتا ہے۔
قرآن کی یہ آیات اسلام کے اس موقف کو واضح انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے:
فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ۔([4])
پس آپ میرے ان بندوں کو بشار ت دیجیے جو بات سنا کرتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ۔([5])
اے رسول3 حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے پروردگار کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں۔ یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔
اسی طرح فرمایا:
إِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلى هُدىً أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ۔([6])
تو ہم اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر یا صریح گمراہی میں ہے۔
اور فرماتا ہے:
لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ۔([7])
جن لوگوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اللہ تمہیں ان کے ساتھ احسان کرنے اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، اللہ یقینا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اسی طرح احادیث پیامبر3 بھی اسی بات کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ ’’علم حاصل کرو چاہے چین ہی جانا پڑے۔‘‘ یہ کلام اس وسعت فکری پر واضح دلیل ہے۔ ایک مسلمان غیر مسلم سے تمام علوم حاصل کر سکتا ہے اور پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق ان میں تصرف کر سکتا ہے۔ جبکہ کمیونسٹ ہر قسم کی لچک سے عاری خشک قسم کے لوگ ہیں جن کا نظریہ، روح اور احساسات سے عاری ہے۔ ان کے نزدیک اخلاق اور اقدار بے معنی ہیں۔ یہی نظریہ تمام مادی فکر رکھنے والوں کے رویوں پر حاکم ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ آج بعض مسلمان اصول پسند ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور ان کی مراد تعصب اور شدت پسندی ہوتی ہے۔ یہ اسلام پر سب سے بڑا ظلم ہے۔
روشنی کی کرن
میرے ذہن میں اس وقت بہت سے ایسے واقعات ہیں جو تنگ و تاریک کوٹھڑی میں دنیا سے کٹی ہوئی زندگی کے تجربے سے ناواقف لوگوں کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتےلیکن اس طرح کی کوٹھڑی میں رہنے والے قیدی کے لیے یہ بہت اہم واقعات ہیں جو اپنی اہمیت کی وجہ سے اس کی یادوں میں باقی رہ جاتے ہیں۔ ان واقعات میں سے ایک سورج کی ایک کرن کا کوٹھڑی میں داخل ہونا تھا۔ ایک دن میں متوجہ ہوا کہ ایک مدہم سی روشنی کوٹھڑی کی کھڑکی پر موجود گرد وغبار اور تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کوٹھڑی کے اندر داخل ہوئی۔ میں خوشی سے خود پر قابو نہ پا سکا اور اونچی آواز سے پکارا: ’’سب دیکھو! خوش خبری! سورج! سورج!‘‘ ہماری آنکھیں اسی روشنی پر ٹھہر گئیں جو ہمیں باہر کی آزاد فضا سے ملا رہی تھی۔ ہم خوشی کے ساتھ اسی روشنی کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آدھے گھنٹے یا اس سے کم مدت میں غائب ہوگئی۔ اگلے دن روشنی کچھ زیادہ تھی اور زیادہ دیر تک کوٹھڑی کو روشن کرتی رہی۔ یہ سلسلہ چند ہفتوں تک جاری رہا یہاں تک کہ سورج ایک ایسے زاویے میں چلا گیا جہاں سے اس کی یہ مختصر عطا ہم سے چھن گئی۔
ایک دن میں چڑیوں کی آواز پر بیدار ہوا جو کوٹھڑی کے باہر چہچہا رہی تھیں۔ یہ خوبصورت آوازیں بہار کی آمد کی خوشخبری سنا رہی تھیں اور ہمیں کوٹھڑی سے باہر کی آزاد اور خالص فضا سے ملا رہی تھیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ کوٹھڑی کی پشت پر کچھ درخت ہیں اور شاید ان پر تازہ پتے نکلے ہیں جو فضا کو خوشگوار بنا رہے ہیں اور یہ چڑیاں ان کے گیت گا رہی ہیں۔ چڑیوں کی آوازوں کی وجہ سے ہمارے ذہن میں یہ سارے خوبصورت مناظر ایجاد ہو رہے تھے۔ ان آوازوں نے ہمیں ان مشکل اوقات میں خوشی فراہم کی اور لذت کا احساس دلایا۔
ابھی تک اس جیل کی ایک بات جو اکثر مجھے یاد آتی ہے وہ صبح کی اذان کی آواز ہے۔ وہ انتہائی دھیمی آواز تھی جو یقیناً کہیں دور سے آتی تھی۔ اذان کی یہ آواز فجر کے وقت شہر کے سکون اور صاف ہوا کی وجہ سے کوٹھڑی تک پہنچ پاتی تھی۔ میرے کان پورے شوق کے ساتھ اس آواز کو سنتے اور یہ آواز میرے اندر ایک ایسی لذت ایجاد کرتی جس کی چاشنی آج بھی باقی ہے۔ آواز کے دور سے آنے کی وجہ سے میں بعض کلمات کو واضح طور پر نہ سن پاتا۔ لیکن ہر صبح میں اس آواز کا انتظار کرتا اور اسے غور سے سنتا۔
خوفناک خواب
اس جیل میں ہر چیز کی اپنی اہمیت تھی اور ہر بات کی اپنی دلالت۔ وہاں کی ہر بات تنگ و تاریک کوٹھڑی کی زندگی کی ایک اہم یاد بن جاتی تھی۔ ان میں سے ایک چیز خواب تھے۔ہم اپنے وقت کا ایک حصہ ایک دوسرے کو اپنے خواب سنانے میں صرف کرتے تھے۔ میں نے اس جیل میں بہت سے حیرت انگیز خواب دیکھے۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
ایک دن میں صبح کی نماز کے بعد سویا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بے آب و گیاہ صحراء میں کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک خشک نہر ہے جس کے کنارے پر کچھ درخت ہیں جن کے پتے جھڑ چکے ہیں۔ پھر اچانک دور سے ایک بڑا اور خوفناک کتا بھونکتے ہوئے میری طرف آتا ہے۔ میرے اور اس کتے کے درمیان نہر کا فاصلہ تھا۔ مجھ پر شدید خوف طاری تھا اور میں حیرت میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا کروں؟ میں دائیں بائیں کوئی پناہ ڈھونڈنے لگا لیکن وہاں کوئی پناہ گاہ نہ تھی۔ جونہی کتا مجھ سے دس میٹر کے فاصلے پر پہنچا اس کی سرعت کم ہوگئی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی آواز کم ہوئی یہاں تک کہ وہ آرام سے زبان نکال کر میرے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر وہ مجھے چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔ میں حیران ہوا اور میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔
جب میں بیدار ہوا تو مجھے کچھ یاد نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد نگہبان نے کوٹھڑی کا درواز کھولا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ اس نے پوچھا: ’’علی کون ہے؟‘‘ وہ قیدیوں کو پکارتے وقت پورا نام نہیں لیتے تھے تاکہ ان کا پورا نام صیغہ راز میں رہے کیونکہ ممکن تھا نگہبان بھول کر کسی دوسری کوٹھڑی میں چلا جائے اور وہاں مطلوبہ شخص کا پورا نام لے بیٹھے۔ اس صورت میں دوسری کوٹھڑی میں موجود قیدیوں کو پتا چل جاتا کہ فلاں شخص بھی اسی جیل میں ہے۔ چونکہ نگہبانوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ باری باری ڈیوٹی دیتے تھے لہذا وہ ہر شخص کو اس کے نام کے ساتھ نہیں پہچانتے تھے۔ میں نے کہا: ’’میں ہوں۔‘‘ اس نے کہا: ’’تم کون سے علی ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’علی خامنہ ای۔‘‘ اس نے کہا: ’’اپنا چہرہ ڈھانپو اور میرے ساتھ آجاؤ۔‘‘ کسی شخص کو بلاتے وقت وہ اس کی قمیص اترواتے، اس سے اس کا منہ ڈھانپتے اور پھر اسے مطلوبہ مقام تک لے جاتے تھے۔ راستے کے پیچ و خم سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ لوگ مجھے کمرۂ تفتیش میں لے جا رہے ہیں۔ ضمناً بتاتا چلوں کہ میں اندازوں سے جیل کے تمام حصوں کو جان چکا تھا۔ جب میں جیل سے نکلا تب میں نے اپنے ذہن میں موجود تصویر کے مطابق کاغذ پر جیل کی عمارت کا نقشہ بنایا۔ پھر جب انقلاب کے بعد میں نے اس جیل کا دورہ کیا تو وہ تقریبا ویسے ہی تھی جیسے میں نے ذہن میں اس کا خاکہ بنایا ہوا تھا۔
مشہد کا خمینی
وہ اہلکار مجھے کمرے میں لے گیا، کرسی پر بٹھایا اور کہا: ’’سر اٹھاؤ۔‘‘ اس جملے کا مطلب تھا کہ سر سے کپڑ ا اتارو۔ میں نے کپڑا ہٹایا تو تفتیشی افسر کو اپنے سامنے پایا جس کے پاس میرا کیس تھا۔ (ہم اسے انورسادات کہتے تھے چونکہ اس کا چہرہ انور سادات سے ملتا تھا۔) اس نے وہی عام سوالات پوچھنے شروع کیے اور میں جواب دیتا رہا۔ اسی دوران ایک شخص نے دروازہ کھولا اور سر اندر کر کے بولا: ’’ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس چائے ہے؟‘‘ تفتیشی افسران ایک دوسرے کو ڈاکٹر اور انجینئر کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ چیز ان جاہلوں اور ان پڑھ لوگوں کی شخصیات کی پستی اور حقارت کی نشانی تھی۔ اور پھر سوال بھی چائے کے بارے میں؟! ان کی یہ عادت میں پہلے سے جانتا تھا۔ پوچھنے والا ایسے اظہار کرتا گویا وہ بغیر کسی ارادے کے معمول کے مطابق کمرے میں داخل ہوا ہے۔
وہ داخل ہوا اور گویا مجھے دیکھ کر چونک گیا۔ کہنے لگا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ جیل میں یہ مشہور سوال تھا کیونکہ میں نے کسی تفتیشی افسر کو قیدی کے بارے میں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ کون ہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا: یہ خامنہ ای ہے، مشہد سے۔ اندر آنے والا شخص میرا نام سن کر حیران ہوگیا۔ بولا: ’’عجب! یہ ہے وہ؟ یہ ہے جو مشہد کا خمینی بننا چاہتا ہے؟‘‘ یہ جملہ میری فائل میں کئی بار تحریر تھا: ’’یہ چاہتا ہے کہ مشہد کا خمینی بنے۔‘‘ اس نے مزید کہا: ’’ڈاکٹر، یہ خطرناک شخص ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنا سر ہلایا اور مجھے مخاطب کر کے کہا: ’’خامنہ ای! تم یہاں سے بچ کر نہیں جاؤ گے۔‘‘ پھر کہا: ’’میں تم سے تقیہ اور توریہ کا معنی پوچھتا ہوں۔‘‘ وہ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر تفتیشی افسر کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا: ’’یہ لوگ اپنے حقیقی کاموں کو چھپا کر جھوٹے کاموں کا اظہار کرتے ہیں اور اسے تقیہ کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ حقیقت کے برخلاف بات کرتے ہیں اور اسے توریہ کہتے ہیں۔‘‘
ایسا لگتا ہے کہ اسے ہمارے تقیہ سے سخت چِڑ تھی۔ اسے چڑنا بھی چاہیے تھا کیونکہ ہم حکومت کے سامنے تقیہ کرتے تھے اور تقیہ ہماری مزاحمتی تحریک کے لیے خندق کا کام کرتا تھا۔ حکومت اس خندق میں ہمارا مقابلہ کرنے سے عاجز تھی۔ میں اس ساری مدت میں سر نیچے کیے بیٹھا رہا۔ جب دیکھا کہ وہ ان اصطلاحات (تقیہ اور توریہ) کی وضاحت کے لیے اصرار کر رہا ہے تو اسی طرح سر نیچے کیے ہوئے اسے ایک مناسب جواب دیا۔
اس نے کہا کہ نہیں۔ حقیقت ایسے نہیں ہے اور مجھے دھمکانا شروع کر دیا۔ اس شخص کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے اس سے خوف محسوس ہوا تھا کیونکہ میں نے جان لیا تھا کہ یہ شخص مجھے تکلیف پہنچانے کی ذمہ داری نبھانے آیا ہے۔ جب اس کی دھمکیاں بڑھیں تو میں میرا خوف بھی بڑھنے لگا۔ اسی اثناء میں، میں نے اپنا سر اٹھایا اور عجیب منظر دیکھا۔ یہ وہی کتا تھا جسے میں نے رات خواب میں دیکھا تھا۔
تمام تر تفصیلات کے ساتھ اس خواب کے مناظر میرے ذہن میں آنے لگے۔ کتے کا میری طرف دوڑنا، اس کا مسلسل زور زور سے بھونکنا، پھر اس کا مجھے کوئی نقصان پہنچائے بغیر رک جانا۔ میں اچانک ایک عجیب اطمینان اور مکمل سکون محسوس کرنے لگا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یہ شخص مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اسی طرح ہوا۔ یہ تفتیش کئی گھنٹے جاری رہی جس دوران ان دونوں کے اور ساتھی بھی ان کے ساتھ ملحق ہوئے اور ان کی تعداد ۹ تک پہنچ گئی۔ ان سب نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
میں نے بعد میں اسے پہچانا۔ اس کا نام کمالی تھا۔ انقلاب کے بعد اس کا دلچسپ قصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو تکلیف دینے میں اس کا بڑا حصہ تھا۔ وہ بھاگ کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر چند ماہ بعد وہ خود ’’اوین‘‘ کی جیل کے منتظمین کے پاس آیا اور اپنی تنخواہ کا مطالبہ کیا جو چند ماہ سے اسے نہیں ملی تھی۔ اس نے اپنا تعارف کروایا۔ انہوں نے خوش آمدید کہا، اسے اندر لے گئے اور اس سے تفتیش کی۔ اس کے خلاف علی الاعلان مقدمہ چلایا گیا جسے ٹیلی وژن سے بھی نشر کیا گیا۔ عدالت نے مجھ سے اس کے متعلق گواہی دینے کا مطالبہ کیا لیکن میں نے انکار کیا کیونکہ اس نے مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی تھی۔ کچھ دوسرے لوگ عدالت گئے اور اس کے خلاف گواہی دی اور بالآخر اسے سزائے موت ہوئی۔
اس تفتیش کے بعد اور بھی کئی مرتبہ مجھے تفتیش کے لیے بلایا گیا جن میں بعض اوقات نفسیاتی ٹارچر، داڑھی مونڈنے اور جسمانی ٹارچر جیسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تفتیش کرنے والوں کی عادت تھی کہ اگر زیادہ دیر تفتیش کے باوجود قیدی استقامت دکھاتا رہے تو قیدی کو نفسیاتی طور پر ٹارچر کرتے تھے۔ وہ پانچ، چھ یا اس سے زیادہ لوگ تفتیش والے کمرے میں اکٹھے ہوجاتے، قیدی کو چاروں طرف سے گھیر لیتے، اسے برا بھلا کہتے اور اس کی اہانت کرتے۔ یقیناً اصل تفتیش کرنے والا ایک ہوتا تھا جبکہ باقی لوگ ایک ایک کر کے کمرے میں داخل ہوتے تھے۔ وہ لوگ ایسے ظاہر کرتے تھے جیسے ان کا کمرے میں داخل ہونا بغیر کسی قصد کے ہو اور سب کا مشترکہ طریقہ ڈاکٹر صاحب سے چائے مانگنا ہوتا تھا۔
انہوں نے کئی مرتبہ مجھے اس طرح گھیرا۔ میں ان کے سوالات کا بغیر کسی تردید کے جواب دیتا تھا۔ کوشش کرتا تھا کہ ایسے جوابات نہ دوں جو میرے لیے مشکلات کھڑی کریں۔ ایک مرتبہ تفتیش کے دوران کوچصفہانی نامی تفتیشی افسر نے متکبرانہ اور توہین آمیز لہجے میں مجھ سے پوچھا: ’’سید! سید سعیدی کو جانتے ہو؟‘‘
میں نے کہا: ’’جی ہاں، وہ میرے دوست ہیں۔‘‘
یہ بات ساواک والوں سے پوشیدہ نہیں تھی کیونکہ ہم دونوں خراسان سے تھے۔
پھر اس نے کہا: ’’تمہیں معلوم ہے کہ وہ جیل میں فوت ہوا ہے؟‘‘
میں نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘
اس نے کہا: ’’کیا جانتے ہو کہ اس کی تفتیش بھی اسی کمرے میں ہوئی تھی؟‘‘
البتہ اس کا یہ سوال جھوٹ پر مبنی تھا۔ میں خاموش ہوگیا۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میں نے سعیدی سے کہا تھا تمہارے پاس جو معلومات ہیں اگل دو۔ اس نے جواب دیا کہ میں قرآن سے استخارہ کروں گا۔ اگر جواب دینے میں مصلحت ہوئی تو جواب دوں گا ورنہ نہیں۔ میں نے سعیدی سے کہا: یہ استخارہ نہیں، بدشگونی ہے۔ اس نے میری بات نہیں مانی اور پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔
یہاں کوچصفہانی تھوڑی دیر خاموش ہوا، پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور میرے قریب آیا۔ اس نے قلم کا ایک سرا پکڑا اور دوسرا سرا میرے سر پر مارنے لگا، جیسے متکبر استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا: ’’سید! یہ بدشگونی ہے، بد شگونی۔۔۔‘‘
میں اس کی حماقت، جھوٹ اور مجھے ڈرانے کے لیے مصنوعی منظر کشی پر دل ہی دل میں ہنسا۔ اس کی باتوں کا مجھ پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا۔
میرا اور میرے ساتھی کا خواب
قید کے دوران سچے خوابوں والی بات کی طرف آتے ہیں۔ ابھی مجھے ان خوابوں میں سے صرف دو خواب یاد ہیں جن میں سے ایک میں نے جبکہ دوسرا میرے جیل کے ایک ساتھی نے دیکھا تھا۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ مشہد کی ایک مسجد میں ہوں۔ میں اس مسجد کو جانتا ہوں اور وہ ابھی تک موجود ہے۔ مسجد بازار کے وسط میں واقع ہے اور سید میلانی کے قریبی اور خاص شاگر سید علم الہدی اس مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں۔ سید میلانی نے ہی انہیں اس مسجد کا امام معین کیا ہے۔ میں نے دیکھا مسجد کے دروازے کے دونوں طرف دو فرشتہ نما مرد کھڑے ہیں۔ ان کا قد اتنا بلند تھا کہ میں ان کی ٹانگیں دیکھ رہا تھا لیکن ان کے سر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مسجد کی تعمیرات کی خاطر مسجد کا قالین اٹھایا گیا ہے۔ دیوار کے بعض پتھر گر گئے ہیں اور مسجد کے فرش پر مٹی اور پتھر بکھرے پڑے ہیں۔
جب میں جاگا تو مجھے خواب یاد تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا سید علم الہدی یا سید میلانی میں سے کوئی ایک وفات پا گیا ہے۔
اسی دن یا اس سے اگلے دن مجھے تفتیش کے لیے بلایا گیا۔ وہ مجھے تفتیش والے کمرے کے علاوہ ایک اور کمرے میں لے گئے۔ تفتیش کاروں کا سربراہ ’’کاوہ‘‘ میرے انتظار میں تھا۔ اس نے دورانِ تفتیش مجھ سے کہا: ’’تمہیں تو معلوم ہوگا کہ سید میلانی وفات پا گئے ہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟‘‘
اس نے کہا: ’’ہاں۔ وہ فوت ہوگئے ہیں۔‘‘
یہ 1975ء کے اوائل کی بات ہے۔
دوسرا خواب جیل کے ساتھی نے دیکھا جسے میں اس کی زبانی نقل کر رہا ہوں۔ (وہ عالمِ دین تھا اور جیل میں میرے ساتھ قید تھا۔ ایک حد تک ظالم حکومت کا طرفدار بھی تھا۔ لیکن اس کے باوجود اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شاید اسے میری کوٹھڑی میں میرے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ لیکن مجھے رہا کر دیا گیا اور وہ جیل میں ہی باقی رہا۔) وہ کہتا ہے:
میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ اور میں شہر ’’رَے‘‘ میں واقع حضرت عبد العظیم حسنی([8])کے حرم مبارک گئے۔ آپ نے حرم کے بلند مینار کی طرف دیکھتے ہوئے مجھ سے کہا: ’’میں اس مینار کی چوٹی تک جانا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا: ’’یہ ممکن نہیں۔‘‘ آپ نے جواب دیا: ’’ممکن ہے۔‘‘ پھر میں نے اچانک دیکھا کہ آپ زمین سے بلند ہوئے اور مینار کی چوٹی تک پہنچ گئے۔ جب آپ مینار کی چوٹی تک پہنچے تو مجھے دور سے آواز دی اور ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظی کرتے ہوئے کہا: ’’دیکھا میں یہ کر سکتا ہوں۔‘‘ میں حیرت اور پریشانی سے آپ کو دیکھتا رہا۔ آپ مینار کی چوٹی سے اوپر گئے گویا پرواز کر رہے ہوں۔ آپ نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے خدا حافظ کیا اور آسمان کی طرف چلے گئے۔‘‘
جب اس نے مجھے اپنا خواب سنایا تو میں نے کہا: ’’یہ ضرور شہادت کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ لیکن ایسا نہ تھا بلکہ یہ رہائی کی طرف اشارہ تھا کیونکہ کچھ دن بعد ہی مجھے رہا کر دیا گیا۔
تم یوسف بنو گے
سچے خوابوں کی بات چل رہی ہے تو میں اسی مناسبت سے اپنے ذہن میں موجود حیرت انگیز خوابوں میں سے ایک کا ذکر کرتا ہوں۔ یہ خواب 1967ء یا 1968ء میں دیکھا۔
ان دنوں مشہد کے سیاسی حالات انتہائی کشیدہ تھے اور اسلام پسندوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ میرے ساتھیوں میں سے چند افراد ہی میدان میں رہ گئے تھے اور باقی جہاد کے راستے سے کنارہ کش ہوچکے تھے۔
ان حالات میں، میں نے خواب دیکھا کہ امام خمینی= وفات پاگئے ہیں اور ان کا جنازہ مشہد میں میرے والد کے گھر کے پاس ایک گھر میں رکھا گیا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد تشییع جنازہ کے لیے اکٹھی ہوئی۔ میں بھی غم و اندوہ سے نڈھال اور حزن وملال کی کیفیت میں وہاں موجود تھا۔ ہم نے تابوت گھر سے نکالا اور اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ جنازے کے پیچھے لوگوں کا ایک جمع غفیر آرہا تھا جس میں دینی علماء کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میں علماء کے ساتھ چلتے ہوئے بلند آواز کے ساتھ گریہ کر رہا تھا اور شدتِ غم میں اپنا زانو پیٹ رہا تھا۔ جس چیز نے میرے حزن و ملال میں اضافہ کیا وہ یہ تھی کہ بعض علماء (جن کے چہرے ابھی مجھے یاد نہیں) عبرت لینے کی بجائے باتیں کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ ان کے چہروں پر غم اور پریشانی کے آثار بھی نہیں تھے۔ میرے لیے اس مصیبت پر سوائے صبر وتحمل کے کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
جنازہ شہر کے آخر تک پہنچا تو اکثر لوگ واپس لوٹ گئے۔ جنازے نے شہر سے باہر اپنا سفر جاری رکھا اور اس کے ساتھ مجھ سمیت ۲۰ سے ۳۰ افراد موجود تھے۔ جنازہ ایک ٹیلے تک پہنچا اور ساتھ چلنے والوں میں سے اکثر ٹیلے کے نیچے ہی رک گئے۔ جنازے نے ٹیلے کی چوٹی کی طرف اپنا سفر جاری رکھا جبکہ جنازے کے ساتھ مجھ سمیت ۴ یا ۵ افراد ہی بچ گئے۔ بالآخر ہم جنازے کے ساتھ چوٹی تک پہنچ گئے۔
عموماً نیچے سے ٹیلوں کی چوٹیاں چھوٹی دکھائی دیتی ہیں لیکن انسان جب انہیں سر کرتا ہے تو انہیں وسیع و عریض پاتا ہے لیکن یہ چوٹی جیسے نیچے سے دکھائی دے رہی تھی اسی طرح حقیقت میں بھی چھوٹی اور ایک چارپائی کی مانند تھی۔ ہم نے وہاں تابوت رکھا۔
میں امام خمینی= کے پاؤں کی طرف گیا تاکہ وداع کروں۔ میں ان کے پاؤں کے ساتھ کھڑا ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا کہ اچانک انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا۔ میں شدید حیران ہوا۔ پھر میں نے دیکھا کہ امام خمینی= بیٹھ رہے ہیں اور ان کی آنکھیں بند ہیں۔ ان کے ہاتھ کی انگلی میری پیشانی تک پہنچ گئی اور میں حیرت سے دیکھتا رہا۔ انہوں نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دو مرتبہ کہا: ’’تم یوسف بنو گے۔ تم یوسف بنو گے۔‘‘
میں بیدار ہوا تو خواب کی تمام تفصیلات میرے ذہن میں موجود تھیں جیسے آج تک ہیں۔ میں نے اپنا یہ خواب بہت سے دوستوں اور رشتہ داروں کو سنایا۔ والدہ مرحومہ نے خواب کی تعبیر کچھ یوں فرمائی:
’’ہاں، تم یوسف بنو گے یعنی ہمیشہ جیلوں میں رہو گے۔‘‘
میں نے شیخ جواد حافظی کو بھی اپنا خواب اور والدہ کی تعبیر سنائی۔ یہ 1970ء کی بات ہے جب میں اور شیخ حافظی مشہد میں ایک جیل کی کوٹھڑی میں اکٹھے قید تھے۔
جب میں ایران کا صدر منتخب ہوا تو ایک دن شیخ حافظی میرے پاس آئے اور کہنے لگے: ’’صدارتی انتخابات والے دن میں حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھا۔ جب میں ووٹ ڈالنے کے لیے وہاں رکھے بیلٹ بکس کی طرف بڑھ رہا تھا تو مجھے آپ کا خواب اور آپ کی والدہ کی تعبیر یاد آگئی۔ میں زار و قطار رونے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ خواب کی تعبیر صرف جیل نہیں تھی۔‘‘
اسلام کا غلبہ
جیل کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ وہاں کا ماحول مختلف قسم کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد سے آلودہ تھا۔ جیل کے منتظمین انتہائی ظالم، سنگدل اور بے رحم تھے اور اسلام پسند قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھتے تھے۔ اسلام پسند اس وقت انتہائی ضعیف اور اسلام دشمن طاقتور تھے۔ ان سب چیزوں کے باجود جو چیز تعجب خیز تھی وہ جیل میں اسلام کی عزت اور غلبے کا احساس تھا۔ میری آخری گرفتاری کے برسوں میں مشکلات اپنے عروج کو پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسلام دوبارہ معاشرے میں طاقتور ہوگا۔ ہم بشارت دینے والی قرآنی آیات کی تلاوت سے صبر و حوصلہ لیتے، نماز میں سورہ کوثر کی تکرار کرتے اور اپنے آپ کو یقین دلاتے تھے کہ کوثر کی تفسیر ضرور حکومتِ اسلامی کی شکل میں ظاہر ہوگی اگرچہ مادی حساب و کتاب کے مطابق اسلام کا واپس لوٹنا نا ممکن ہو چکا تھا۔
اسی مشکل دور میں ایک دن مجھے جیل کے ٹارچر سیل لے جایا گیا۔ وہ لوگ مجھے اس مرتبہ ایک نئے کمرے میں لے کر گئے۔ میں کمرے میں بیٹھا تفتیشی افسر کا انتظار کر رہا تھا۔ اتنے میں تفتیش کاروں کا سربراہ کاوہ (یہ انقلاب کے بعد بھاگ گیا) مسکراتا ہوا داخل ہوا اور کشادہ روی کے ساتھ مجھ سے بات چیت کرنے لگا۔ اس نے میرا حال احوال پوچھا اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ میں کافی حیران ہوا کہ اس شخص نے مجھ پر تشدد کیا تھا اور اب یہی شخص اتنی نرمی سے پیش آرہا ہے۔ اس نے کہا: ’’آپ کے اوپر کوئی بڑا الزام نہیں۔ آپ کا مقدمہ آسان ہے۔‘‘ اسی اثناء میں میرا تفتیش کار مشیری کمرے میں داخل ہوا اور میرے اور کاوہ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ (وہ جوان تھا مگر اس کے باوجود تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کا سربراہ تھا۔) واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا کہ وہ ان باتوں سے مجھے رہائی کی خبر دینا چاہ رہا ہے۔ وہ مجھ پر ہونے والے مظالم سے بری الذمہ ہو کر ان کا ذمہ دار اس چھوٹے تفتیشی افسرکو ٹھہرانا چاہ رہا تھا۔
مشیری نے موقع ضائع کیے بغیر ظریفانہ لہجے میں کہا:
’’ہاں، ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ تمہارا مقدمہ آسان ہولیکن یاد رکھو کہ تمہارا مقدمہ ہمارے سربراہ کے پاس ہے (اس نے کاوہ کی طرف اشارہ کیا۔) اور وہ اگرچہ عمر میں ہم سے چھوٹے اور جوان ہیں لیکن ایک بڑا اور روشن مستقبل رکھتے ہیں۔‘‘
میں جان گیا کہ وہ مجھے آزاد کرنا چاہ رہے ہیں، لیکن یہ خوشامد کیوں؟ میرے سامنے سربراہ اور تفتیشی افسر کے درمیان یہ بحث کیوں؟ کیوں ان میں سے ہر ایک خود کو بری الذمہ ثابت کرنا چاہ رہا تھا؟ یہ دونوں اسی وقت مجھے آسانی سے قتل کر سکتے تھے جبکہ میں تنہا تھا، نہ طاقت رکھتا تھا اور نہ ہی کوئی مددگار۔ ان دونوں سے پہلے کوچصفہانی نامی تفتیش کار بھی میرے پاس آیا تھا۔ وہ مجھے اپنی دینداری کے متعلق بتاتے ہوئے کہنے لگا: ’’میں بچپن سے شیخ حسام کی مجالس ضرور سنتا ہوں۔‘‘ (شیخ حسام صوبہ گیلان کے شہر رشت کے معروف واعظ اور خطیب تھے۔)
خدایا! وہ دینداری کا اظہار کر رہا تھا۔ مگر کیوں؟
ان سب چیزوں کا واحد سبب اسلام کی عزت اور کرامت تھی۔ وہ سب با اختیار اور قدرت مند ہونے کے باوجود ایک مسلمان کے سامنے پستی اور کمزوری کا احساس کرتے تھے جبکہ مسلمان ان کی نظر میں باعظمت اور بلند مرتبہ تھا۔
تم آزاد ہو
ایک دن میں اپنی کوٹھڑی میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ ان میں سے ایک عالمِ دین تھے جن کا ذکر کر چکا ہوں۔ اور دوسرے ایک مخلص مجاہد تھے جو شیخ محمد علی شاہ آبادی کے نواسے تھے۔ پولیس اہلکار معمول کے مطابق آیا اور کہا: ’’علی کون ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’میں ہوں۔‘‘ اس نےپھر پوچھا: ’’کونسا علی؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’علی خامنہ ای۔‘‘ اس نے کہا: ’’اپنا سر اور چہرہ ڈھانپو اور میرے پیچھے آؤ۔‘‘
وہ مجھے کاوہ کے کمرے میں لے گیا۔ کاوہ نے مجھے دیکھتے ہی کہا: ’’تم آزاد ہو۔‘‘ مجھے بہت تعجب ہوا۔ میں تفتیشی افسران کے سربراہ کے کمرے سے نکلا جبکہ مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے مجھے پہلی مرتبہ چہرہ ڈھانپے بغیر سربراہ کے کمرے سے نکلنے کی اجازت دی۔ میں نے پہلی مرتبہ جیل کا برآمدہ دیکھا۔ جو بھی میری رہائی کی خبر سنتا حیرت کے ساتھ پوچھتا: ’’تمہیں کیوں رہا کیا گیا ہے؟‘‘ میں فوراً جواب دیتا: ’’جیل کے عہدیداروں سے پوچھو۔‘‘
میں پہلے اپنی کوٹھڑی کی طرف گیا۔ میرا ایک ساتھی وہاں موجود تھا جبکہ دوسرا ساتھی کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ وہاں موجود ساتھی میری رہائی کی خبر سن کر بہت خوش ہوا۔ میں نے اسے الوداع کیا۔ پھر وہ لوگ مجھے کپڑوں والے کمرے میں لے گئے۔ یہ وہی کمرہ ہے جہاں ہم جیل میں آتے وقت اپنے کپڑے اتار کر جیل والا لباس پہنتے تھے۔ مغرب کا وقت قریب تھا لیکن باہر ابھی تک گرمی تھی۔ میری گرفتاری سردی کے موسم میں ہوئی تھی اور رہائی گرمی کے آخری ایام میں ملی۔ لہذا گرمی کے ایام میں میرے پاس سردی والا لباس ہی تھا۔
میں نے جبہ، عبا، قبا اور عمامہ پہنا اور جیل کے دروازے سے باہر نکلا۔ ہر چیز نئی، خوبصورت اور متاثر کن دکھائی دے رہی تھی۔ لوگ، نگہبانوں کے بغیر چلنا اور روشنیاں جو ایک عرصہ تاریک کوٹھڑی میں رہنے کے بعد میری آنکھوں کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی تھیں۔
میں بھی دوسرے قیدیوں کی طرح اکثر خواب میں اپنی رہائی کے مناظر دیکھتا تھا۔ کیا یہ بھی ایک خواب تھا؟ میں جیل کے نزدیک واقع ’’توپخانہ‘‘ نامی علاقے کی طرف چلا گیا۔ میرے پاس تھوڑی سی رقم تھی۔ مجھے بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کچھ کھانا خریدا اور یہ سوچے بغیر کہ مجھ جیسے ایک عالم کو سڑک پر نہیں کھانا چاہیے، وہ کھانا کھا لیا۔
میں نے ڈاکٹر بہشتی کے گھر فون ملایا۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا: ’’یہ آپ ہیں؟ جیل سے کب نکلے؟ انہوں نے کیسے رہا کر دیا؟‘‘ پھر کہا: ’’میں شدت سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘
میں سید بہشتی کے گھر گیا۔ وہاں برادر شفیق بھی تھے جو وہاں سے نکلنے لگے تھے لیکن میرے آنے کا سن کر مجھ سے ملاقات کے لیے وہیں رک گئے۔
ان دونوں کی نظر سب سے پہلے میرے چہرے پر پڑی۔ جب انہیں داڑھی دکھائی نہ دی تو وہ حیران ہوگئے۔ میں نے کہا: ’’انہوں نے داڑھی مونڈ ڈالی۔ دوبارہ آجائے گی۔‘‘ کچھ دیر وہاں رکا، کچھ رقم لی اور اپنے بڑے بھائی کے گھر چلا گیا جو تہران میں مقیم تھے۔ وہاں سے مشہد فون کیا اور مشہد کے لیے رخت سفر باندھ لیا ۔
اہل وعیال نے میری قید کے دوران انہیں درپیش مشکلات، پریشانیوں اور ناامیدیوں کے بارے عجیب قصے سنائے۔ میری زوجہ نے بتایا کہ ان کی والدہ میرے بیٹے مجتبیٰ کو امام رضا, کے حرم لے جاتی تھیں۔ مجتبیٰ اس وقت ایک معصوم اور پاکیزہ بچہ تھا اور بعض عبادات کا پابند بھی تھا۔ وہ مجتبیٰ سے کہتیں: ’’امام رضا,کے وسیلے سے خدا سے دعا مانگو کہ آپ کے والد رہا ہو جائیں۔‘‘ بچہ معصومانہ انداز میں امام رضا, کی طرف متوجہ ہوتا اور توسل کرتا تھا۔ ایک رات مجتبیٰ اپنی نانی کے ساتھ گیا اور اسی طرح دعا کی۔ اس مرتبہ بچے کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیااور وہ زار و قطار رونے لگا۔ اس نے امام, کو مخاطب کیا۔ اس کے لہجے سے اس کا دلی دکھ اور اس کے پیمانہ صبر کا لبریز ہونا واضح تھا۔ یہاں تک کہ بچے کی نانی اپنے کیے پر نادم ہوئیں اور فیصلہ کیا کہ آئندہ بچے سے ایسا مطالبہ نہیں کریں گی۔ اسی واقعہ کے دو دن بعد گھر میں فون کی گھنٹی بجی اور گھر والوں نے میری آواز سنی۔ میں تہران میں بھائی کے گھر سے انہیں بتا رہا تھا کہ میں آزاد ہو گیا ہوں۔
*****
([1]) ایرانی سال کا نواں مہینہ جو ۲۲ نومبر کو شروع ہوتا ہے۔
([2]) فسادات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کمیٹی: شاہی فرامین پر عمل درآمد کے لیے ساواک، سپیشل فورس اور پولیس پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد مزاحمت کاروں اور سیاسی مخالفین پر تشدد اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ تشدد کے اکثر وسائل اور طریقے سی آئی اے اور موساد کی طرف سے مہیا کیے جاتے تھے۔ اسی کمیٹی کی جیل کے اندر انقلابیوں پر انواع و اقسام کے تشدد کے ذریعے ان سے جبری طور معلومات اگلوائی جاتی تھیں۔ 1971ء سے 1979ء کے دوران اس کمیٹی نے ہزاروں انقلابیوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
([3]) مورس کوڈ (Morse code): متن اور معلومات کی ترسیل کا ایک طریقہ ہے جو آن-آف ٹونز، روشنی یا کلکس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
([8]) عبد العظیم الحسنیؒ (173ھ تا 252ھ): حسنی سادات میں سے تھے۔ آپ احادیث کے راوی اور شیعہ فقیہ تھے۔ آپ کا نسب 4 واسطوں سے امام حسن مجتبیٰ, سے ملتا ہے۔ آپ امام رضا,، امام تقی, اور امام نقی, کے ہم عصر تھے۔ اہل بیت. کی احادیث میں آپ کی بہت زیادہ شان اور منزلت بیان کی گئی ہے۔ آپ کا مزار تہران کے جنوب میں شہر ’’رَے‘‘ میں واقع ہے۔