آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

بارہواں باب: کوٹھڑی نمبر 14

خفیہ لفظ (Code Word)

1971؁ء کی شدید گرمیوں کی ایک رات تھی۔ مجھے اکتاہٹ محسوس ہوئی جس کی وجہ معلوم نہیں تھی۔ میں نے خدا کی پناہ مانگی اور خود کو مطالعے میں مشغول کر لیا۔ اچانک بجلی چلی گئی جو ان دنوں معمول بن چکا تھا۔ میری بے چینی بڑھی اور سینہ بوجھل ہونے لگا۔ میں نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا لیکن اپنے اندر اس کی بھی رغبت محسوس نہیں کی۔ گھر میں کوئی چراغ نہ تھا جو بجلی کی کمی کو پورا کرتا۔ میں اندھیرے میں کیا کروں؟ میں اسی حالت میں تھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ میں دستک دینے والے کا نام پوچھے بغیر معمول کے مطابق خود دروازہ کھولنے گیا۔ اچانک ایک تہرانی دوست کو دروازے پر پایا۔ اس مناسب وقت میں اسے دیکھ کر دلی طور پر خوش ہوا۔ میں نے اس کا پوری کشادہ دلی سے استقبال کیا لیکن دوسری طرف وہ زیادہ خوش نظر نہیں آیا۔ میں نے اس چیز کی پروا کیے بغیر اسے اندرآنے کو کہا۔ میں نے دیکھا اچانک اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چیز باہر نکالی۔ یہ میرے اور ایک خفیہ مسلح جہادی تنظیم کے درمیان خفیہ لفظ تھا اور میں اس تنظیم  کے صدر اور ایک رکن کے ساتھ رابطے میں تھا۔ اس تنظیم کی نشریات اور بیانات تقسیم سے پہلے اصلاح کی غرض سے مجھ تک پہنچتے تھے تاکہ ان کے صحیح  ہونے کا اطمینان ہو سکے۔

تنظیم پکڑی گئی

اس کی اس رمزیہ حرکت سے میری خوشی دوبالا ہو گئی۔ میں نے اسے خوشی سے کہا:’’آپ کے آنے سے قبل میں اکتایا ہوا اور پریشان تھا۔آپ مناسب وقت پرآئے ہیں اور میری اس تاریک رات کو روشن کر دیا ہے۔

میری توقع کے برخلاف  اس نے کہا: ’’عنقریب آپ کی پریشانی بڑھ جائے گی۔‘‘ میں نے اس کی بات کی زیادہ پروا نہیں کی۔ اسے بٹھایا اور چائے پیش کی۔ پھر اس سے تعجب سے پوچھا:’’آپ اس تنظیم کے رکن ہیں؟‘‘

اس نے فوراً جواب دیا: ’’خاموش! شاید گھر میں جاسوسی کا سسٹم لگا ہو۔‘‘

مجھے اس کی بات پر تعجب ہوا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا: ’’میں ایک طالب علم ہوں۔ میرے گھر میں کون جاسوسی کا سسٹم لگائے گا؟!‘‘

اس نے کہا: ’’نہیں، معاملہ آپ کی سوچ سے بڑھ کر ہے۔ میں آپ کو وضاحت سے بتاتا ہوں۔ اس نے مجھ سے تھوڑا سا خمیر طلب کیا تاکہ کمرے میں موجود سراخ بند کرے۔

میں حیرت اور کچھ پریشانی کے عالم میں اس کے لیےآٹا لے کرآیا۔ وہ سوراخ بند کرنے کے بعد بیٹھا۔ میں نے جلدی سےکہا: ’’بتائیے کیا ہوا ہے؟‘‘

وہ تھوڑی دیر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا: ’’سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘‘

میں نے کہا: ’’کیا مطلب؟‘‘

اس نے کہا: ’’تنظیم پکڑی گئی ہے۔ سب دوستوں کا پتا چل گیا  ہے اور بعض کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ پھر اس کی باتوں سے مجھے پتا چلا کہ جن دو افراد کے ساتھ میرا رابطہ تھا ان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: ’’میں آپ کے لیے پیغام لایا ہوں۔ تنظیم سے مربوط چیزیں اپنے گھر سے نکال دیں۔‘‘ پھر اس نے ان نشریات کے بارے میں تفصیل سے بات شروع کی جو مجھے اصلاح کے لیے بھیجی گئیں تھیں۔ اس نے کہا: ’’فلاں نشریات کو تلف کردیں اور فلاں کو  باقی رکھیں اور انہیں تہران میں فلاں شخص کو  بھیج دیں۔‘‘ میں نے پوچھا:’’آپ ان نشریات کو تہران لے جائیں گے؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں۔آپ اپنے مخصوص طریقے سے بھیجیں۔‘‘

میں چپ چاپ بیٹھا دیکھتا رہا اور وہ مجھے بتاتا رہا کہ مجھے کون سے انجام دینا ہیں۔ یہ ساری باتیں سن کر میں بہت پریشان ہو گیا اور وہ مجھے اس حال میں چھوڑ کر چلا گیا۔

ڈائریوں اور کاغذات کی ضبطی

یہ گرمیوں کا وسط تھا۔ دن گزرتے گئے اور خزاں کا موسم آن پہنچا۔ شہنشاہیت کی 25 صدیاں گزرنے کے حوالے سے طاغوت جشن منانے کی تیاری کرنے لگا۔ امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی اور اسلام پسندوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا۔

مہر کا مہینہ آیا۔ میرے پاس قم کے ایک عالم اپنے اہل و عیال سمیت مہمان تھے۔ ہم دونوں لائبریری کے ساتھ مہمان خانے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لائبریری کا ایک دروازہ مہمان خانے میں کھلتا تھا۔ ہمارے سامنے دوپہر کے کھانے کا دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی اور کچھ دیر بعد کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں اٹھا اور دروازہ کھولا تو اچانک میری زوجہ کہنے لگیں: ’’ساواکی دروازے کے پیچھے ہیں۔‘‘ مجھے ان کی بات سے تعجب ہوا اور میں نے کہا: ’’آپ کو کیسے پتا چلا وہ ساواکی ہیں؟‘‘ انہوں نے قسمیں کھانا شروع کیں کہ وہی لوگ ہیں۔ شاید انہوں نے دروازے کے شیشے پر ان کے سائے دیکھے ہوں لیکن سائے یہ نہیں بتاتے کہ کون لوگ ہیں! وہ مکمل اعتماد اور وثوق سے بات کر رہی تھیں اور بار بار یہ کہہ رہی تھیں کہ مجھے یقین ہے وہ ساواکی ہیں۔ شاید یہ بات انہیں الہام ہوئی ہو۔

میں گیا اور دروازہ کھولا۔ وہ ساواک کے کچھ لوگ تھے۔ ان کے خیال کے مطابق میں روپوش تھا لہٰذا وہ خوش ہوگئے کہ میں ان کے چنگل میں پھنس گیا ہوں۔ وہ گھر میں گھسے،  برآمدے سے ہوتے ہوئے لائبریری میں گئے اور کتابوں کو الٹنا اور کھنگالنا شروع کر دیا۔ ایک اہلکار کمرے میں پڑے اوراق اور کاپیاں جمع کرنے لگا۔ اس چھاپے کے دوران میری بہت سی ڈائریاں اور اہم کاغذات ضائع ہو گئے جن میں سے ایک کاغذ بھی واپس میرے ہاتھ نہیں لگا۔

میں کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا کہ شاید وہ لائبریری کی تلاشی پر اکتفا کریں اور مہمان خانے کا دروازہ نہ کھولیں تاکہ مہمان خوفزدہ اور تنگ نہ ہو۔ میں یہی بات سوچ رہا تھا کہ اتنے میں ایک اہلکار نے دروازہ کھولا اور مہمان کی طرف بڑھا۔ ان کے پاس بیٹھا اور ان سے سوال پر سوال کرنے لگا۔

انہوں نے تمام کتابیں چھان ماریں پھر گھر میں ہر جگہ کی تلاشی لی۔ مجھے یاد ہے ایک اہلکار میرے بیٹے مجتبیٰ کے جھولے کے پاس گیا جو اس وقت ۹  یا ۱۰ ماہ  کا خوبصورت اور معصوم بچہ تھا اور اسے دیکھ کر ترس کھانے لگا۔ ان لوگوں نے میرے بہت سارے کاغذات ضبط کر لیے اور مجھے ساتھ لے گئے۔ وہ مجھے ایک گاڑی میں بٹھا کر ساواک کے دفتر لے گئے۔ دفتر ایک نئی جگہ منتقل ہو چکا تھا۔ میں دفتر کے ایک کمرے میں گھنٹے تک بیٹھا رہا اور اس دوران مجھ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے میری آنکھوں پرپٹی باندھی اور مجھے ایک بکتر بند گاڑی میں بٹھا دیا جو نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔

مشہد کی سیاسی جیل

گاڑی رکی، انہوں نے مجھے اتارا اور میری آنکھوں سے پٹی کھول دی۔ میرے سامنے ایک وسیع و عریض ہال تھا جس کے اوپر بلندو بالا چھت اور چاروں طرف چھوٹے چھوٹے  کمرے تھے۔ یہ جگہ ایک بڑے گودام کی مانند تھی۔ مجھے بعد میں معلوم  ہوا کہ وہ ایک بڑے اسطبل کا حصہ ہے جو مشہد کی فوجی چھاؤنی کے پچھلے حصے میں واقع تھا۔ میں پہلے بھی اس جیل میں رہ چکا تھا۔ ہم گودام سے گزرے۔ اس کے آخر میں ایک بڑا دروازہ تھا جو ایک اور بڑے گودام میں کھلتا تھا۔ اس کے وسط میں ایک طویل عمارت تھی جس کی اونچائی کم، لمبائی  تقریباً 20 میٹر اور چوڑائی تقریباً ساڑھے 5 میٹر تھی۔ اس کی لمبائی میں دونوں طرف دس چھوٹے دروازے موجود تھے۔ نئی کوٹھڑیاں اسی پرانی عمارت میں تھیں۔

میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مشہد میں سیاسی قیدیوں کے لیے مخصوص جیل نہیں تھی۔  مجھے تیسری اور چوتھی بار پولیس چوکی کے نزدیک ایک فوجی جیل میں قید رکھا گیا۔ اس سال انہوں نے سیاسی قیدیوں کے لیے چھاؤنی کے آخر میں جیل بنائی اور اس کے لیے ایک مستقل دروازہ کھولا گیا جس کا افتتاح میں کر رہا تھا۔

کل بیس کوٹھڑیاں تھیں۔ عمارتوں کے دونوں طرف پانی کے نلکے لگے ہوئے تھے اور وہاں چھوٹے اور سادہ بیت الخلا بنائے گئے تھے۔  وہ لوگ مجھے چوتھی کوٹھڑی میں لے گئے۔ میں نے اس سے پہلے اتنی چھوٹی کوٹھڑی نہیں دیکھی تھی جس کی مساحت ڈیڑھ مربع میٹر تھی۔ اس میں نہ روشن دان تھا اور نہ ہی روشنی کا کوئی اور انتظام۔ کوٹھڑی مکمل تاریک تھی۔ اس میں رہنے والا قیدی صرف اس وقت روشنی دیکھ پاتا جب نگہبان یا جیل کا کوئی عہدیدار قیدی سے بات کرنے کے لیے کوٹھڑی کا دروازہ یا دروازے میں لگی کھڑکی کھولتا۔

قیدیوں کا حوصلے بڑھانا

انہوں نے مجھے دو کمبل دیے۔ موسم سرد ہو رہا تھا اور سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ میں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی۔ میں نے ان سے وضو کرنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے مجھے اجازت دی اور میں وضو خانے کی طرف گیا۔ جب میں کوٹھڑیوں کے پاس سے گزر رہا تھا تو مجھے محسوس ہوا کہ ان میں قیدی ہیں۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ قیدی دروازے پر لگی کھڑکی سے مجھے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ایک کوٹھڑی کے سامنے سے گزر رہا تھا تو میں نے ایک کانپتی ہوئی آواز میں سرگوشی سنی: ’’میں فلاں ہوں۔‘‘ وہ ہمارے جہادی ساتھیوں میں سے تھا۔ وہ اسی دن یا اس سے ایک دن پہلے قید ہوا تھا۔ میں اس کی قید کے بارے نہیں جانتا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ قیدیوں کے حوصلے پست ہیں تو میں نے نگہبانوں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنا شروع کی تاکہ میں اپنی اونچی آواز سے قیدیوں کے حوصلے بڑھاؤں۔ میں کبھی وضو خانے کے بارے پوچھتا اور کبھی قبلہ کی سمت کے بارے سوال کرتا۔ مجھے یاد ہے جب میں نے قبلہ کے بارے پوچھا تو ایک اہلکار نے جواب دیا: ’’کونے کی طرف۔۔۔‘‘ اس کی مراد کوٹھڑی کا کونہ تھا۔ میں نے اونچی آواز میں کہا: ’’جی ہاں، کوٹھڑی کا کونہ ہمیشہ قبلہ ہی ہوتا ہے۔‘‘ یہ اس بات سے کنایہ تھا کہ مومن کا دل ہمیشہ خانہ کعبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔

ایک اہلکار نے مجھ سے عمامہ اتارنے کا مطالبہ کیا تو میں نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ جیل کے قوانین میں سے ہے۔ میں نے کہا میں ایسے قوانین کو نہیں مانتا۔ میں نے پچھلی جیلوں میں آج تک کسی کے کہنے پر عمامہ نہیں اتارا۔ جاؤ اور اپنے سربراہ سے اس بارے میں پوچھ لو۔

میں اپنی بات کے دوران آواز اونچی کرتا تھا تاکہ کوٹھڑیوں میں پڑے قیدی میری آواز سنیں اور ان کے حوصلے بلند ہوں۔ اس طرح کی باتیں عموما ڈرے ہوئے لوگوں کو حوصلہ دیتی ہیں۔ میں نے اذان اقامت اور رکوع و سجود کے اذکار بھی اونچی آواز میں پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد میں سوچنے لگا کہ مجھے کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟

مجھے گرفتار کرنے کے بہت سے عوامل ہو سکتے تھے لیکن کس وجہ سے مجھے گرفتار کیا گیا؟ اور میری کس سرگرمی کا انکشاف ہوا؟

میری بہت سی مخفی نشستیں تھیں جن میں سے بعض دینی طالب علموں کے ساتھ تھیں۔ میں ان نشستوں میں ایک درس لکھتا پھر اس کی تشریح کرتا اور اسے طالب علموں کے حوالے کرتا تاکہ وہ اس کے متعدد نسخے تیار کریں۔ ان دروس کا محور اسلام کا مزاحمتی پیغام ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک نشست میں چھ طالب علم، دوسری میں تین اور تیسری میں صرف ایک طالب علم شریک ہوتا تھا۔ یہ طالب علم افغانستان سے تعلق رکھتا تھا جو بعد میں افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے ہاتھوں شہید ہو گیا۔ اس حکومت نے افغانستان کے علماء کی ایک بڑی تعداد کو شہید کیا۔

میری سکول اور یونیورسٹیوں کے جوانوں کے ساتھ بھی خفیہ نشستیں تھیں۔ اسی طرح ایک نشست تاجروں کے ساتھ اور کچھ عملی نشستیں دینی طالب علموں کے ساتھ بھی تھیں جن میں ہم سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے اور ضروری فیصلے لیتے تھے۔ مثلاً بیانات نشر کرنا اور انہیں قم بھیجنا یا وہاں سے بیانات وصول کرنا۔ اسی طرح میرے ایک خفیہ گروہ کے ساتھ بھی تعلقات تھے جو حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف تھا۔

کیا ان نشستوں میں سے کسی کا انکشاف ہوگیا ہے یا میری گرفتاری کا سبب میرے تفسیر اور اسلامی مفاہیم کے عمومی دروس ہیں؟

جو چیز میری پریشانی میں مزید اضافہ کر رہی تھی وہ خفیہ نشستیں تھیں کیونکہ خفیہ اداروں کے سامنے ان کا دفاع کرنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے استغفار کیا اور خدا پر توکل کرتے ہوئے اس کی پناہ مانگی۔ میں نے کوٹھڑی میں ارد گرد دیکھا تو مجھے پچھلی جیلیں یاد آگئیں۔ مجھے لگا کہ میں جیل کی فضا کا عادی اور اس سے مانوس ہو چکا ہوں۔ مجھے اس وقت تک اس جیل اور سابقہ جیلوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

عینک پہننا ممنوع ہے

کچھ دیر بعد ایک اہلکار آیا اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اپنا سامان جمع کروں۔ وہ مجھے دوسری طرف واقع ۱۴ نمبر کوٹھڑی میں لے گیا۔ یہ پچھلی کوٹھڑی سے کچھ بڑی تھی لیکن اس سے زیادہ تاریک تھی یہاں تک کہ میں اپنے ہاتھ میں موجود تسبیح کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اگلے دن میں جیل کی روز مرہ کے امور سے آگاہ ہوا۔ کوٹھڑی کا دروازہ دن میں تین مرتبہ کھانے اور ایک دفعہ صفائی کے لیےکھلتا تھا۔ وہ لوگ صفائی کے لیے قیدی کو جھاڑو پکڑاتے تھے۔

اگلے دن دوپہر کے وقت میں نے کھانا کھایااور کچھ دیر کے لیے سو گیا۔ پھر جاگا اور نگہبان کو آواز دی۔ وہ میرے پاس آیا تو میں نے اس سے کہا: میرے پاس کچھ رقم ہے۔ اس سے ایک تربوز خرید لاؤ۔ اس نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔ پھر وہ کچھ دیر بعد تربوز لے آیا۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا: ’’تمہارے پاس چھری ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ وہ کوٹھڑی میں داخل ہوا ۔  اس کے پاس چھری تھی۔ جیل کی قوانین کے تحت یہ کام ممنوع تھا کیونکہ قیدی موقع پا کر چھری سے نگہبان پر حملہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ نگہبان بہت سارے دوسرے نگہبانوں کی طرح جن کا پچھلی جیلوں میں مجھ سے واسطہ پڑا تھا، سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ جیسا شخص ایسا کر سکتا ہے۔ نگہبان تربوز کاٹنے میں مشغول تھا اور کوٹھڑی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اتنے میں ساواک کا ایک اہلکار وہاں سے گزرا تو اس نے یہ منظر دیکھا۔ وہ سخت غصہ ہوا اور اور اس نے نگہبان کو ڈانٹنا شروع کیا۔ وہ اسے سمجھانے لگا کہ یہ کام کس قدر خطرناک ہے۔ پھر اس نے نگہبان سے کہا: ’’اس کی عینک لےلو۔ جیل میں عینک پہننا ممنوع ہے۔‘‘ نگہبان نے میری عینک لی اور دروازہ بند کر دیا۔

جب کوٹھڑی کا دروازہ کھلا تھا تو میں نے دیکھا کہ برآمدے میں حالات پہلے سے مختلف ہیں۔ غیرمعمولی نقل و حرکت دیکھنے میں آرہی تھی جبکہ پہلے ایسا کچھ نہ تھا۔ دروازہ بند ہونے کے بعد بھی یہ نقل و حرکت جاری رہی۔ کوٹھڑیوں کے دروازے کھلنے اور بند ہونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں غور سے یہ آوازیں سن رہا تھا کہ اچانک دور سے کسی چیخ کی آواز آئی گویا کسی قیدی کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک قیدی کی آواز سنی جسے اس کی کوٹھڑی کی طرف لے جایا جا رہا تھا اور وہ دردناک انداز میں سسکیاں لے رہا تھا۔ میں نے دروازے کے سوراخوں سے دیکھنے کی کوشش کی۔ میری نظر ایک عالمِ دین پر پڑی جنہیں میں جانتا تھا۔ اہلکار انہیں لے جارہے تھے اور ان کی داڑھی مونڈی جا چکی تھی۔ شدید تشدد کی وجہ سے وہ اپنے پاؤں پر چل نہیں پا رہے تھے۔

تشدد کی چارپائی پر

کچھ دیر بعد ایک اہلکار نے میری کوٹھڑی کا دروازہ کھولا اور پوچھا: ’’تم فلاں ہو؟ میرے ساتھ آجاؤ۔‘‘ میں اس کے ساتھ مذکورہ گودام کے کونے میں واقع ایک کمرے میں گیا۔ میں کمرے میں داخل ہوا۔  وہاں چھ سے سات افراد موجود تھے۔ میں عینک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نہیں پہچان سکا۔ میں نے خطرہ محسوس کیا اور اپنی عادت یا فطرت کی وجہ سے ان لوگوں پر زبانی حملہ شروع کر دیا۔ میں نے عینک لیے جانے پر اعتراض کیا۔ تم لوگوں نے میری عینک کیوں لی؟ میں عینک کے بغیر نہیں دیکھ سکتا۔

جب میں نے احتجاج کرتے ہوئے آواز بلند کی تو ایک اہلکار آگے بڑھا۔ جب وہ میرے قریب پہنچا تو میں پہچان گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے سابقہ جیل میں مجھ سے تفتیش کی تھی اور عدالت کو میرے متعلق رپورٹ لکھی تھی۔ (وہ انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے پہلے مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔) میں نے عدالت میں اس کی رپورٹ کو غلط ثابت کیا  تھا اور اس کا نام لیے بغیر کہا تھا: ’’رپورٹ لکھنے والا جاہل ہے۔‘‘

 وہ میرے قریب آیا اور اس نے غصے کے ساتھ تمسخر آمیز لہجے میں کہا: ’’تم کیا سمجھتے ہو، یہ عدالت ہے، جہاں تمہیں ہر بات کہنے کی اجازت ہوگی؟‘‘ پھر وہ تمسخر آمیز انداز میں میری نقل اتارنے لگا اور اس نے میرے چہرے پر طمانچہ مارا۔ میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا لیکن اس نے ایک دفعہ پھر ہاتھ اٹھایا اور میں نیچے گر گیا۔ میں کمرے کے کونے میں موجود چارپائی پر جا گرا۔ اٹھنے کا ارادہ کیا تو ایک اہلکار نے کہا: ’’اسی جگہ رہو۔ تم مناسب جگہ پر گرے ہو۔‘‘ میں جان گیا کہ وہ تشدد کی چارپائی ہے۔ انہوں نے میرے پاؤں چارپائی کے ساتھ باندھے اور ایک اہلکار نے دیوار پر لٹکے تازیانوں میں سے ایک تازیانہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہاں مختلف حجم کے تازیانے موجود تھے۔ اس نے وحشیانہ طریقے سے میرے پاؤں پر مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر دوسرے اہلکار نے تازیانہ پکڑا اور مارنا شروع کیا۔ وہ بھی تھک گیا تو تیسرے اہلکار نے تازیانہ اٹھا لیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔

سوائے میرے ان سب کو باری باری آرام کا موقع مل رہا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک لمحے کے لیے بھی آرام کا موقع نہیں دیا۔ اس حالت میں جسے بیان کرنا ممکن نہیں، میں بعض اہلکاروں کی خباثت سے حیران تھا۔ تازیانہ اٹھانا اور مجھے مارنا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان کی یہ بھی ذمہ داری تھی کہ مجھے اتنا ماریں کہ میں ان کے سامنے ہار مان جاؤں۔ پس ان کا مجھے مسلسل مارنا طبیعی سی بات تھی لیکن بعض اہلکار اپنی مخصوص خباثت کا اظہار کرتے تھے۔ وہ ایک ہاتھ سے تازیانہ پکڑتے، دوسرے ہاتھ سے اس کا سرا کھینچ کر کمر کے پیچھے لے جاتے اور زور سے مارتے تاکہ اپنی بھڑاس نکال سکیں۔

تشدد کے دوران ایک اہلکار میرے سر کے قریب آتا اور مجھ سے مطالبہ کرتا کہ میں اسلامی تحریک یا فلاں شخص سے بیزاری کا اظہار کروں لیکن میں انکار کر دیتا۔ ان لوگوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ اس ناخوشگوار تجربے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ پاؤں کے تلووں پر مارنا سخت ترین تشدد ہے کیونکہ اس طرح قیدی کے بے ہوش ہوئے بغیر اس تشدد کو گھنٹوں جاری رکھا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ تشدد اعصاب پر برا اثر چھوڑتا ہے۔ میں نے سنا کہ تشدد کرنے والے اہلکار، اسرائیلی ماہرین کی زیر نگرانی مختلف کورسز کر چکے تھے۔  یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں اور قیدی سے اعتراف لینے میں ماہر تھے۔

قابل ذکر بات ہے کہ میں جسمانی تشدد کے اس تجربے سے پہلے اپنے دوستوں کے ساتھ مخصوص نشستوں میں تشدد کے ذرائع، ان سے مقابلے کے طریقوں اور جیل میں بھوک ہڑتال  پر گفتگو کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ کہا کہ میری بھوک ہڑتال طولانی نہیں ہوگی اور میرے اوپر زیادہ دیر تشدد بھی نہیں ہو سکے گا کیونکہ اگر میں بھوک ہڑتال کروں گا تو معدے کی کمزوری کی وجہ سے فوراً بیمار ہو جاؤں گا اور جیل سے ہسپتال منتقل ہو جاؤں گا۔ اسی طرح میرے اوپرتشدد بھی زیادہ دیر نہیں ہو سکے گا چونکہ میں کمزور جسم کی وجہ سے فورا بے ہوش جاؤں گا۔

نشست میں بیٹھے ایک دوست نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ پانی کا ایک گلاس آپ کے چہرے پر پھینکا جائے گا اور آپ ہوش میں آجائیں گے۔

جسمانی تشدد کے اس پہلے تجربے میں دوست کی وہ بات سچ ثابت ہوئی۔ میں نے احساس کیا کہ میں بے ہوش ہو گیا ہوں۔ گویا میں اس عالم سے کسی دوسرے عالم کی طرف منتقل ہو رہا ہوں۔ اسی اثناء میں تشدد کرنے والے ایک اہلکار نے پانی سے بھرا گلاس میرے چہرے پر پھینکا۔ جونہی میں ہوش میں آیا تو اس نے باقی پانی میرے پاؤں پر پھینک دیا تاکہ تازیانے کا وار زیادہ تکلیف دہ ہو۔

میری پسندیدہ کوٹھڑی

جس طرح سے ہر چیز ختم اور زائل ہوتی ہے، اس طرح تشدد، سختی اور لذت بھی آخرکار ختم ہوجاتی ہے۔ لہذا یہ تشدد بھی ختم ہو گیا اور انہوں نے میرے پاؤں کی زنجیریں کھول دیں۔ میں لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا لیکن مجھ میں چلنے کی طاقت نہیں تھی۔ میرے دونوں پاؤں میں ورم آچکا تھا اور میں پورے وجود میں درد  محسوس کر رہا تھا۔ ایک تفتیش کار نے مجھ سے کہا: ’’اپنی کوٹھڑی میں جاؤ اور جب تک اعتراف نہیں کرتے ہم تمہیں یہاں لاتے رہیں گے۔‘‘

جب میں کوٹھڑی کی طرف واپس آیا اور اس میں داخل ہوا تب عجیب سا سکون محسوس ہوا اور ایک خاص قسم کے امن و اطمینان کا احساس ہوا۔ اس وحشیانہ اور خوفناک تشدد کے بعد کوٹھڑی کی دیواریں اور بند دروازہ میرے اندر ایک سکون اور اطمینان پیدا کر رہے تھے۔

میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس کوٹھڑی کو جو عام طور پر وحشت اور تنہائی کا موجب ہوتی ہے، میرے لیے آرام اور سکون کا سبب قرار دیا۔ مجھے زمین پر بیٹھ کر راحت محسوس ہوئی۔ میں اپنی ٹانگیں پھیلا رہا تھا اور کوئی ان پر تشدد کرنے والا نہ تھا۔ اسی طرح میں اپنا سر دیوار پر رکھ رہا تھا اور وہاں مجھے برے الفاظ سے پکارنے والا کوئی نہ تھا۔

وہ لوگ قیدی سے معلومات لینے کے لیے مختلف قسم کا دباؤ ڈالتےتھے۔ مثال کے طور پر وہ قیدی کو چند سفید کاغذ دیتے اور اس سے مطالبہ کرتے کہ وہ اپنے اعترافات کو سوال و جواب کی شکل میں لکھے۔ وہ اس حوالے سے قیدی پر شدید دباؤ ڈالتے تھے۔ خدا نخواستہ اگر قیدی پوچھ لیتا کہ کیا لکھوں تو وہ اسے مارنا پیٹنا اور گالیاں دینا شروع کرتے اور اسے کہتے: ’’لکھو۔۔ لکھو۔۔ ‘‘ بعض اوقات قیدی دو تین صفحات لکھتا تو تفتیش کار ان صفحات کو لے کر تحقیر آمیز انداز میں دیکھتا اور قیدی کے سامنے پھاڑ دیتا اور اس پر دباؤ ڈالتا کہ وہ اور زیادہ لکھے۔

میں تشدد کی تمام تفصیلات بیان نہیں کر سکتا چونکہ الفاظ ان کے بیان سے قاصر ہیں اور نہ ہی انہیں بیان کرنے کی ضرورت ہے چونکہ وہ بہت دردناک اور تکلیف دہ ہیں۔ لہذا میں ان تکلیف دہ مناظر سے ایک دوسرے منظر کی طرف منتقل ہوتا  ہوں تاکہ آپ لوگ راحت اور سکون محسوس کریں۔ البتہ ان باتوں میں عبرت لینے والوں کے لیے عبرت بھی ہے۔

کل کا داروغہ آج کا قیدی

انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے پانچ چھے ماہ بعد ایک کام کے سلسلے میں تہران سے اپنے شہر مشہد گیا۔ اس وقت میں انقلاب کونسل کا رکن، وزارت دفاع میں اس کونسل کا اور مختلف حکومتی اداروں میں امام خمینی@کا نمائندہ تھا۔ اللہ تعالی کی مشیت یہی تھی کہ برسوں کے ظلم و ستم، پریشانی اور بے چینی کے بعد، میں اسلام اور مسلمانوں کی اور راہ خد ا میں لڑنے والے مجاہدین کی عزت کو محسوس کرتے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں۔

مشہد شہر کی انتظامیہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں ’’مرکزی انقلابی کمیٹی‘‘ کے دفتر کا دورہ کروں۔ اس دوران ایران میں شہروں کے اکثر امور انقلابی کمیٹیاں چلاتی تھیں۔  ’’رستاخیر‘‘ پارٹی کے مشہد میں موجود  دفتر کو اس غرض کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ کئی منزلوں پر مشتمل بہت بڑی اور اونچی عمارت تھی جسے شاہ کی پارٹی نے اپنے دفتر کے لیے بنایا تھا۔ تعمیر مکمل ہو چکی تھی لیکن اللہ تعالی نے شاہ کو سرنگوں کیا۔ یہ عمارت انقلابیوں کے ہاتھ آگئی اور انہوں نے اسے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔ یہ عمارت انقلاب کی کامیابی کے بعد مشہد شہر میں  انقلابی کمیٹی کے مرکزی دفتر میں تبدیل ہوگئی۔

انہوں نے مجھے بتایا آخری منزل خطرناک قیدیوں کے لیے مختص ہے۔ ان قیدیوں کے نام مجھے بتائے گئے جن میں سے اکثر کو میں جانتا تھا۔ ان میں  سے ایک برومند بھی تھا۔ اس کا ایک اور نام بابائی تھا۔ نہیں معلوم کون سا اس کا اصلی نام تھا۔ میری پانچویں گرفتاری کے دوران وہ مجھے ٹارچر کرنے والوں میں سے تھا۔

میں نے کہا: سبحان اللہ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

ہم عمارت کی طرف بڑھے۔ انقلابی کمیٹی کے سربراہ اور آستان قدس رضوی میں امام خمینی کے نمائندے شیخ طبسی کے علاوہ مشہد شہر کے گورنر بھی میرے ہمراہ تھے۔ یہ گورنر میرے ساتھ جیل میں رہ چکے تھے اور انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہم اوپر والی منزل پر گئے۔ بڑے بڑے کمرے تھے جن میں قیدی رکھے گئے تھے۔ کمروں میں بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جو سڑک کی طرف کھلتی تھیں اور ان پر لوہے کی سلاخیں بھی نہیں تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ کمرے قیدیوں کے لیے مناسب نہیں کیونکہ ممکن ہے کوئی خطرناک قیدی کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا دے۔ لیکن لگ ایسا رہا تھا کہ انقلابی کمیٹی کے منتظمین یہ بات جانتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنی زندگی بہت عزیز ہے اور کبھی بھی اس طرح جان کی بازی نہیں لگائیں گے لہٰذا انہیں ان بڑی کھڑکیوں والے کمروں میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

وہ مجھے ایک خاص کمرے میں لے گئے جہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ ان میں سے بعض کو میں نے پہچان لیا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور نصیحت کی کہ ان کے پاس جو معلومات ہیں وہ بتا دیں۔ انقلابیوں کے ساتھ تعاون کریں۔ ایسی کوئی امید نہ رکھیں کہ شاہ کا سرنگوں نظام دوبارہ واپس آئے گا۔ یہ انقلاب کامیاب ہو چکا ہے اور اپنی کامیابیاں خدا کے اذن سے جاری رکھے گا۔ پس تمہارے پاس سوائے اعتراف اور تعاون کے کوئی راستہ نہیں ہے۔

کمرے کے کونے میں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا۔ میں پہچان گیا کہ بابائی ہے۔ میں نے قیدیوں سے پوچھا: کیا یہ بابائی ہے؟ انہوں نے کہا: ’’جی۔‘‘ میں نے کہا: ’’عجب! اس کے ساتھ میری بڑی یادیں ہیں۔‘‘ سب کی نظریں اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔  وہ سلام کیے بغیر مسلسل نماز پڑھے جا رہا تھا۔ وہ مجھ سے خوف زدہ نظر آ رہا تھا اور خطرہ محسوس کر رہا تھا لہٰذا اس نے دکھاوے کے طور پر خود کو نماز میں مشغول کر لیا تھا تاکہ میرا سامنا نہ کر سکے۔ میں ایک اور کمرے میں گیا۔  وہاں موجود قیدیوں کے احوال پوچھےاور پھر پہلے والے کمرے میں واپس آگیا۔ اچانک دروازہ کھولا۔ بابائی نے جب مجھے دیکھا تو حیران ہوگیا۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا اور وہ فورا نرم پڑ گیا۔ مجھے واسطے دینے لگا اور بڑی بڑی قسمیں کھانے لگا کہ وہ ایک غصے والا جوان تھا جسے دھوکہ دیا گیا۔ میں جواب دیے بغیر اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر اس سے کہا: ’’تمہیں یاد ہے تم جیل میں میرے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتے تھے؟ میں تمہیں صرف ایک واقعہ یاد دلاتا ہوں۔ مجھے یاد ہے تم ٹارچر سیل میں میری داڑھی پکڑ کر مجھے زمین پر گراتے تھے، پھر داڑھی پکڑ کر اٹھاتے تھے اور مجھے گالیاں دیتے تھے۔ پھر مجھے زمین پر گراتے تھے، اور اسی طرح۔۔۔‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں، مجھے یاد ہے۔‘‘

یہ باتیں سن کر میرے ساتھی آپے سے باہر ہوگئے اور اگر میں انہیں نہ روکتا تو انہوں نے اسی وقت اس کا کام تمام کرنے کی ٹھان لی تھی۔ پھر میں نے بات جاری رکھی اور اس سے کہا: ’’میں تمہیں چھڑانے کے لیے تیار ہوں اور تم جانتے ہو کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں لیکن ایک شرط کے ساتھ اور وہ یہ کہ تم ہمیں اپنے سربراہ کے چھپنے کی جگہ بتا دو۔‘‘

یہ سربراہ جس کے بارے میں، میں نے بابائی سے پوچھا ساواک کا ایک خطرناک افسر تھا۔ اسی نے مشہد شہر میں ساواک کی بنیاد رکھی تھی اور تاسیس سے لے کر اس کے زوال تک اپنے عہدے پر باقی رہا جبکہ دوسرے سربراہ مسلسل تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ اس شخص کے پاس نہ صرف مشہد شہربلکہ صوبہ خراسان سے متعلق تمام معلومات تھیں۔ میں جانتا تھا کہ بابائی اس کے چھپنے کی جگہ کا علم رکھتا ہے کیونکہ انقلاب اسلامی کے دنوں یہ گروہ آپس میں مربوط اور اس کے افراد ایک دوسرے سے رابطے میں تھےلیکن اس کا اصرار تھا کہ اسے سربراہ کی جگہ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا: ’’میرا خیال میں وہ ایران سے بھاگ گیا ہے۔‘‘

بہرحال بابائی پر عدالت میں کیس چلایا گیا اور اسے سزائے موت ہو گئی۔ اس نے ایسے ایسے جرائم انجام دیے تھے جن میں سے ہر ایک پر پھانسی کی سزا بنتی تھی۔ آخر کار، کئی سال چھپنے کے بعد، ساواک کے مذکورہ سربراہ کو پکڑ لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔

میری پانچویں جیل کے دوران بابائی کی گستاخی اور بے شرمی کے بارے میں مجھے بہت کچھ یاد ہے۔ جس تشدد کا میں نے تذکرہ کیا، اس کے اگلے دن یہ شخص میری کوٹھڑی میں آیا۔ مکمل تاریکی کے باوجود میں نے اسے پہچان لیا۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا حالانکہ کوٹھڑی میں قیدیوں کے علاوہ کسی اور کا بیٹھنا ممنوع ہوتا ہے۔ اپنی بات کا آغازمحترمانہ لہجے میں میری احوال پرسی سے کیا۔ کہنے لگا: ’’جناب سید آپ کا کیا حال ہے؟ امید ہے جیل میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘ اس نے اپنی بات جاری رکھی: ’’آپ کے لیے میرے پاس ایک نصیحت ہے۔ وہ یہ کہ آپ کے پاس جو کچھ معلومات ہیں وہ بتا دیں۔ تمام سوالوں کا شفاف انداز میں جواب دیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہواتو خدا نخواستہ۔۔ خدا نخواستہ۔۔ یہ لوگ آپ کے ساتھ وہ کچھ کریں گے جو آپ کے مقام ومنزلت اور آپ کی شخصیت کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ اس بے شرمی کے لہجے میں وہ شخص مجھ سے بات کر رہا تھا جس نے ابھی کل ہی مجھ پر مختلف قسم کا جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا تھا۔

میں اس کی بات سن کر ہنسا اور کوئی جواب نہیں دیا لہٰذا وہ وہاں سے چلا گیا۔

اس طرح مجھے قرآن مل گیا!

میری گرفتاری رجب کے مہینے کے آخر یا ماہ شعبان کے شروع میں ہوئی تھی۔ دن گزرتے گئے اور رمضان المبارک قریب آگیا۔ میں نے برآمدے میں تفتیش کاروں کے سربراہ کے چلنے کی آواز سنی۔ جب وہ قریب آیا اور میری کوٹھڑی کے نزدیک ہوا تو میں نے اسے آواز دی۔ اس نے دروازہ کھولا اور مجھ سے حال احوال پوچھا۔ وہ مجھے ’’شیخ‘‘ کہ کر پکارتے تھےاور اپنی باطنی خباثت کی وجہ سے شیخ کی شین کو زیر کے ساتھ پڑھتے تھے جبکہ عام طور پر مجھ جیسوں کو ’’سید‘‘ کہہ کے پکارا جاتا ہے۔

میں نے اس سے کہا: ’’رمضان کا مہینہ نزدیک ہےاور میرے لیے کوٹھڑی میں نماز، روزہ اور دعا جیسی عبادات انجام دینا ممکن نہیں لہٰذا اس مہینے میں مجھے یہاں سے نکالیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’حیرت ہے، رمضان آرہا ہے؟! روزے کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ یہ مسجد ہے (اس نے کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا) اور یہ حمام ہے (اس نے جیل کے حمام کی طرف اشارہ کیا)۔ یہیں رہو، نماز پڑھو اور روزے رکھو۔

مجھے پتا تھا وہ مجھے یہاں سے آزاد نہیں کریں گے لیکن میں نے اس سے ایک بڑا مطالبہ کیا تاکہ وہ میرا چھوٹا مطالبہ پورا کر دے۔ میں نے فورا کہا: ’’ٹھیک ہے، پھر مجھے قرآن ساتھ رکھنے کی اجازت دیں۔‘‘

اس نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔‘‘

اس نے قرآن ساتھ رکھنے کی اجازت دے دی۔ میرے گھر سے ایک قرآن لایا گیا۔

مکمل تاریکی میں قرآن پڑھنا ممکن نہ تھا۔ میں نے نگہبان سے کہا: ’’میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں، لہذا تھوڑا سا دروازہ کھول دو۔‘‘

وہ گیا اور اس نے اجازت مانگی۔ انہوں نے دس سینٹی میٹر تک دروازہ کھولنے کی اجازت دے دی۔ قرآن پڑھنے کے لیے اتنا فاصلہ کافی تھا۔ میں نے اس مہینے میں بہت زیادہ قرآن پڑھا اور جتنا ممکن تھا قرآن حفظ کیا۔ جیل میں تشدد کے علاوہ تلاوت اور روزوں کی وجہ سے میری نظر اور زیادہ کمزور ہوگئی۔

حسد میں مبتلا عالم

اس جیل کی یادوں میں سے ایک ان کا میری داڑھی مونڈنا ہے۔ داڑھی مروجہ سنت ہونے کے علاوہ علماء کے علمی اور دینی حلیے کا لازمی جزو ہے۔ پہلی جیل میں داڑھی مونڈنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اگلی جیلوں میں ایسا نہیں ہوا کیونکہ مشہد کی جیلوں میں داڑھی مونڈنے کا قانون نہیں تھا۔ اس جیل میں ایک عالمِ دین کو دیکھا جن کی داڑھی مونڈی گئی تھی۔ انہیں دیکھ کر مجھے اپنی داڑھی کے انجام کا اندازہ ہوگیا۔ داڑھی مونڈنے کے لیے ہفتے میں ایک دن معین تھا۔ وہ دن آگیا۔ میں قیدیوں کی آوازیں سن رہا تھا جو یکے بعد دیگرے حجام کے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد میری باری تھی۔ میں کیا کروں؟ میں ان کی بات مان لوں یا مزاحمت کروں؟ اللہ کے سامنے گڑگڑایا کہ وہ میرے لیے آسانی پیدا کرے۔ میری باری آگئی۔ کوٹھڑی کا دروازہ کھلا۔ جیل کے سربراہ کی نظر جونہی مجھ پر پڑی فورا کہا: ’’نہیں، تم یہیں رہو، اور دروازہ بند کر دیا۔‘‘

مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ ہر ہفتے یہی واقعہ تکرار ہوتا رہا۔ وہ داڑھی مونڈتے ہوئے مجھے چھوڑ دیتے تھے اور میں واحد قیدی تھا جسے اس سزا سے معاف رکھا گیا تھا۔

یہاں میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جو باعثِ عبرت ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صرف جیل جانا انسان کی شخصیت سازی کے لیے کافی نہیں ہےبلکہ جیل کا  تجربہ بھی، زندگی کے دوسرے تجربوں کی طرح، بعض لوگوں کو سکھاتا ہے، ان کے عزم اور ارادے کو پختہ کرتا ہے اور ان کی شخصیت کو نکھارتا ہےجبکہ بعض دوسرے لوگوں میں بالکل اثر نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کو یہ تجربہ ذلت اور پستی تک بھی لے جاتا ہے۔ مسئلے کا تعلق اس بات سے ہے کہ زندگی کے تجربوں کے مقابلے میں اس شخص کا نظریہ اور ہدف کس قدر بلند ہے؟!

اس جیل کی ایک کوٹھڑی میں ایک عالمِ دین تھے جو عمر میں مجھ سے بڑے اورحسد کے مرض میں شدید مبتلا تھے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس مرض سے محفوظ رکھے۔ ان کی داڑھی منڈوانے کی باری آئی۔ انہیں پتا چلا کہ مجھے داڑھی منڈوانے سے معاف رکھا گیا ہے۔ نگہبانوں نے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا تاکہ انہیں داڑھی مونڈنے لے جائیں۔ میں نے ان کی آواز سنی تو  وہ کہہ رہے تھے: ’’میں اپنی داڑھی نہیں منڈواؤں گا۔ تم لوگ کوٹھڑی نمبر ۱۴ میں موجود قیدی کی داڑھی کیوں نہیں مونڈتے؟‘‘ (یقینا وہ میرے بارے میں کہہ رہا تھا) اسی طرح وہ داڑھی مونڈنے پر اعتراض کرتے رہے۔ ان کے اس اعتراض کی وجہ میری داڑھی نہ مونڈنا تھا۔ مجھے بہت افسوس ہوا اور اس حرکت پر تعجب بھی جس کے ذریعے وہ مجھے خطرے میں ڈال رہے تھے۔ اعتراض کرنا ان کا حق تھااور یہ بھی ان کا حق تھا کہ وہ اپنے اعتراض کی مختلف وجوہات بیان کریں لیکن وہ مجھے کیوں خطرے میں ڈال رہے تھے۔

انہوں نے پلٹ کر پھر سے محافظ سے کہا: ’’تم جاؤ اور افسران سے کہو: ۱۴ نمبر کوٹھڑی والا قیدی داڑھی منڈوانے نہیں آتا لہٰذا میں بھی نہیں آؤں گا۔‘‘

میں پریشان ہوا اور اللہ تعالی سے دعا کی وہ مجھے داڑھی منڈوانے سے بچا لے۔ کچھ ہی دیر بعد جیل کا سربراہ آیا۔ اس نے اس عالم کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا، انہیں گالیاں دیں، ان کی توہین کی اور داڑھی منڈوانے لے گیا۔ وہ لوگ یکے بعد دیگرے قیدیوں کو کوٹھڑیوں سے نکال رہے تھے اور میں اندازہ لگا رہا تھا کہ اس دفعہ اس عالم کی اعتراض کے بعد وہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے لیکن جونہی وہ لوگ میری کوٹھڑی تک پہنچے تو مجھے چھوڑ کر اگلی کوٹھڑی کی طرف چلے گئے۔ میں نے سکون کا سانس لیا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔

میرے شاگردوں پر تشدد

اس جیل کی تلخ یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بعض شاگردوں پر تشدد ہوتے دیکھا۔ اس جیل میں دس سے زیادہ دینی طالب علم تھے جن میں سے اکثر میرے شاگرد تھے۔ اسی طرح یہاں کچھ میرے یونیورسٹی کے شاگرد بھی تھے۔ اس جیل میں بعض خاص شاگردوں پر تشدد ہوتے بھی دیکھا جن کے ساتھ میری خفیہ نشستیں ہوتی تھیں۔

ان میں سے ایک سید عباس موسوی قوچانی تھے۔ وہ ایران عراق جنگ میں شہید ہوئے۔ وہ میرے ساتھ والی کوٹھڑی (کوٹھڑی نمبر 15) میں تھے۔ میری دوسری طرف ۱۳ نمبر کوٹھڑی میں ایک دوسرے طالب علم تھے۔ دونوں کو ایک بیان تقسیم کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ مجھے ایک اور مسئلے میں گرفتار کیا گیا تھا جس کا ان دونوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

۱۳ نمبر کوٹھڑی والے طالب علم نے تشدد کی سختی برداشت نہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس نے یہ بیان سید موسوی سے لیا تھا۔ ان وحشیوں کے تشدد کے نتیجے میں اعتراف ایک طبیعی امر تھا جس پر کسی کی ملامت نہیں کی جا سکتی لیکن سید موسوی کے لیے اعتراف کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ ان کا اعتراف ایک بڑی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ اعتراف تحریک کے بلند پایہ افراد کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔ معاملہ بہت خطرناک تھا اور ان کے پاس سوائے مزاحمت کے کوئی راستہ نہ تھا۔

اس طالب علم کے پاؤں کے تلووں پر اتنی ضربیں لگائی گئیں کہ ان میں شگاف پڑ گیا جس کا اثر ممکن ہے اب بھی موجود ہو۔ جب کہ سید موسوی پر ان سے زیادہ تشدد کیا گیا۔ وہ تشدد سہنے کے بعد کراہتے ہوئے کوٹھڑی کی طرف لوٹتے تھے جس سے میرا دل چھلنی ہو جاتا تھا۔ وہ لوگ بہت وحشیانہ طریقے سے ان پر تشدد کرتے تھے، شاید ہی اس کی کوئی مثال ملے۔ ایک دن ان کو لے گئے، تشدد کا نشانہ بنایا اور واپس لے آئے۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ لے گئے، پھر تشدد کیا اور واپس لے آئے۔ رات کو جونہی استراحت اور سونے کا وقت ہوا ایک بار پھر بلایا، تشدد کیا اور واپس لے آئے۔ اور پھر آدھی رات  کو ان کو ایک دفعہ پھر ٹارچر سیل لے گئے۔ میں ان کی چیخیں اور فریادیں دن رات سنتا تھااور میرا دل ان کی ہر چیخ پر چھلنی ہو جاتا تھا۔ اس درندگی اور وحشیانہ سلوک کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اس جیل میں سید موسوی کو تسلی دینے کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ جب وہ ٹارچر سیل سے واپس آتے میں قرآن کی تلاوت شروع کر دیتا۔ میں اس مقصد کے لیے مخصوص آیات کا انتخاب کرتا تاکہ ان کے زخموں کے لیے مرحم، دل کے لیے سکون اور ارادے کی پختگی کا سبب بن سکیں۔ بعض اوقات میں ان کے ساتھ قرآن والے لہجے کے ساتھ عربی زبان میں بات کرتا اور ان کو حق پر ڈٹے رہنے اور صبر کی تلقین کرتا۔

جیل کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ سید موسوی کو اس طالب علم سے دور کیا جائےلہٰذا سید کو سامنے والی کوٹھڑی میں لے گئے۔ اس طرح وہ اکیلے ہوگئے جہاں انہیں تسلی دینے والا کوئی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی وہ انواع و اقسام کے بہانے بنا کر میرے نزدیک آتے تھے اور میری آواز سنتے تھے۔

ان کی ٹانگ تشدد کی وجہ سے زخمی تھی، اور وہ چل نہیں سکتے تھے لہٰذا رینگتے ہوئے بیت الخلاء جاتے تھے۔ جیل میں دو بیت الخلاء تھے: ایک ان کی کوٹھڑی کے قریب اور دوسرا میری کوٹھڑی کے نزدیک۔ مجھ سے نزدیک ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے سید حفاظت پر مامور شخص سے کہتا تھا: ’’جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میری ٹانگ زخمی ہے، میں اس والے بیت الخلاء تک نہیں جا سکتا (اپنے قریب والے بیت الخلاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) لہٰذا میں اس بیت الخلاء میں جاؤں گا۔ (میرے نزدیک والے بیت الخلاء کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے۔)

نگہبان عام طور پر سادہ سے سپاہی ہوتے تھے جو اکثر قیدیوں، خصوصاً زخمیوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے ایک نگہبان کو دیکھا جو سید موسوی کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر بیت الخلاء لے جا رہا تھا۔ نگہبان نے سید کو میری کوٹھڑی کے ساتھ والے بیت الخلاء جانے کی اجازت دی۔ سید نے بیت الخلاء سے نکل کر کہا: ’’میں وہاں(میری کوٹھڑی کے سامنے والی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) تیمم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ نگہبان نے اس کی بھی اجازت دے دی۔ وہ نزدیک آئے اور تیمم کرنے لگے۔ ساتھ ساتھ عربی زبان میں ایسے لہجے میں بات کرنے لگے گویا وہ دعا پڑھ رہے ہوں۔ جو بھی عربی نہیں جانتا وہ اسے سن کر یہی سوچتا کہ سید دعا میں مشغول ہیں۔

ان کی جو باتیں مجھے یاد ہیں، بطور مثال:

’’جناب سید! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نہیں جانتے مجھے کس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیا اس حالت میں مرجاؤں تو شہید شمار ہوں گا؟!‘‘

جب تیمم مکمل ہوا تو انہوں نے اپنی ٹانگ پھیلا دی، اور ایسے ظاہر کیا جیسے وہ ہل نہیں سکتے۔ سکیورٹی والے نے کہا: جلدی کرو۔ جلدی۔‘‘ سید نے جواب دیا: ’’میں چل نہیں پا رہا۔ مجھے تھوڑی دیر آرام کرنے دو۔‘‘ نگہبان کے پاس اجازت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ جونہی بات مکمل ہوئی میں نے اسی دعا والے لہجے کے ساتھ عربی زبان میں جواب دینا شروع کیا: ’’اے عظیم سید! صبر کریں۔ صبر۔ یہاں تک کہ یہ مجرم آپ سے مایوس ہو جائیں۔ کچھ بھی زبان پر مت لانا۔ یقیناً اللہ تعالی آپ کو نجات دلائے گا۔‘‘ میں نے ان کے ساتھ اسی انداز میں بہت ساری باتیں کیں۔ ان کا حوصلہ بڑھا اور واپس اپنی کوٹھڑی چلے گئے۔ سید نے کئی مرتبہ اس طرح کا بہانہ کیا۔ میرے شاگردوں کو جیل میں جس تشدد کا نشانہ بنایا گیا یہ اس کی صرف ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔

بادشاہت کے 2500 سال

اس جیل کے اندر میری یادوں میں سے ایک، بادشاہت کے ۲۵۰۰ سال([1])  مکمل ہونے پر منعقد ہونے والے جشن ہیں۔ جشن کا یہ سارا سلسلہ اسلام پسندوں اور اسلامی نہضت کے لیے ایک چیلنج تھا۔ شاہِ ایران کی طرف سے اس جشن پر خطیر رقم خرچ کی گئی اور اس میں بڑے پیمانے پر اسراف اور فضول خرچیاں دیکھنے میں آئیں۔ یہ سارا سلسلہ ان لوگوں کے دل زخمی کرنے کے لیے کافی تھا جو دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر اور صاف پانی، بجلی ، سڑک، صحت اور تعلیم کی سہولیات  سے محروم لاکھوں ایرانیوں کا درد رکھتے تھے۔

شاہ نے اس جشن کے ذریعے ایران کے اسلام کے ساتھ تاریخی تعلق کو توڑنے کی کوشش کی۔ ما قبلِ اسلام کے ایران کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگا تاکہ غیر محسوس طریقے سے یہ پیغام دیا جائے کہ اسلام نے ایران کی عظمت کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاہی دربار سے منسلک لکھاریوں کی طرف سے سکول کی کتابوں میں یہ باتیں کھل کراور صراحت کے ساتھ کی جانے لگیں۔ شاہ نے چاہا کہ ایران کی ایسی تہذیب کے بارے بات کی جائے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو اور اس کی جڑیں اسلام سے پہلے والی تہذیبوں سے ملتی ہوں۔

اور واقعا ایسا ہی ہوا۔ کچھ ہی عرصے بعد شاہ نے شمسی ہجری تاریخ کو ختم کرتے ہوئے اسے شہنشاہی تاریخ([2]) میں تبدیل کر دیا۔ لہذا 1350 شمسی ہجری کا سال ایک لحظے میں 2550 شہنشاہی میں بدل گیا۔ یہ تبدیلی اپنے اندر ایک بڑا پیغام رکھتی تھی۔

جس بات پر ایک طرف ہنسی اور دوسری طرف رونا آتا ہے وہ یہ کہ  بہت سارے عرب ممالک کے وفود نے بھی اس جشن میں شرکت کی اور شاہ کو اسلام، اسلامی فتوحات اور ایران عرب تعلقات کی توہین پر مبارکباد دی۔

ہاں، اسلام پسندوں نے اس جشن کے منصوبے کو ناکام بنانے اور اس میں ہونے والی فضول خرچیاں عوام کے سامنے آشکار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے ہجری تاریخ  تبدیل کرنے پر مزاحمت کی یہاں تک کہ شاہ کی حکومت کچھ سالوں بعد اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی اور انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے چند مہینے پہلے شہنشاہی کیلنڈر کو رسمی طور پر ختم کر دیا۔

ایران کی مسلم عوام نے ایران  کو اسلامی تاریخ اور اسلامی دنیا سے الگ کرنے والے قوم پرستی پر مبنی تمام نعروں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ خدا کے اذن سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور ایران امتِ اسلامی کے آغوش میں واپس آگیا۔ انقلاب کی شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ ایران اور عرب بھائیوں کے درمیان فاصلوں کو مٹایا جائے۔ لیکن اس کے مقابلے میں بعض حکمرانوں کا رویہ کیسا رہا؟ اللہ تعالی ہمیں اور ان کو ہدایت دے! قصہ بہت دردناک ہے۔

بہرحال جب ہم اس جیل میں تھے تو اپنی کوٹھڑیوں میں جشن کی کچھ آوازیں سنتے تھے۔ جیل پر حاکم خوفناک فضا کے باوجود قیدی اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے تھے۔ اپنے دکھ کے اظہار کے لیے وہ کسی شاعر کے اشعار کا سہارا لیتے تھے، جن کا مطلع کچھ یوں تھا:

شبِ دَد، شبِ بد، شبِ اهرمن

وقاحت به شادی گشوده دهن

وحشی رات، بری رات، شیطانی رات۔ برائی اپنا منہ کھول کر خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔

*****

([1]) بادشاہت کی 2500ویں سالگرہ کا جشن: ایرانی بادشاہت کے 2500 سال مکمل ہونے پر شیراز میں موجود تاریخی تختِ جمشید میں کئی روز تک جاری رہنے والا جشن۔ اس جشن میں ملکی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ ان تقریبات میں 70 ممالک کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس پورے جشن کا مقصد پہلوی نظام حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنا تھالیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور یہ تقریبات حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمتی تحریک میں شدت کا سبب بن گئیں۔

([2]) شہنشاہی تاریخ: 1976؁ء میں پہلوی حکومت نے ایرانی تاریخ کے آغاز کو ہجری شمسی سے شہنشاہی میں تبدیل کر دیا اعلان کیا کہ 1355 ہجری شمسی، 2535 شہنشاہی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ تاریخ ہجری شمسی رسول اللہ3 کی ہجرت سے شروع ہوتی ہے لیکن شمسی تاریخ کے مطابق۔  یہی وجہ ہے کہ قمری سال کی نسبت اس میں گیارہ دن زیادہ ہوتے ہیں۔