آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

گیارہواں باب: فوجی عدالت

شیر دل ماں

مذکورہ ماہ کے ایک دن، میں اپنے والد کی طرف دوپہر کے کھانے پر مدعو تھا۔ وہاں چند علماء کی دعوت تھی۔ میں مصطفیٰ (بیٹا) کے ساتھ گیا جو اس وقت چار یا پانچ سال کا تھا۔ مصطفیٰ کو میں نے اپنی والدہ کے پاس چھوڑا اور خود گھر کے بیرونی حصے میں والد کے پاس چلا گیا۔ عموماً علماء کے گھر، چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نا ہوں، دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں:ایک بیرونی حصہ جو مہمانوں کے لیے ہوتا ہے اور دوسرا اندرونی حصہ جو گھر والوں کے لیے ہوتا ہے اور ہر حصے کا الگ دروازہ ہوتا ہے۔

جب ہم مہمانوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے تو میرا بھائی آیا اور مجھ سے کہا: ’’ساواکی گھر میں داخل ہو گئے ہیں۔ میں جلدی سے ان کی طرف بڑھا تاکہ وہ مہمانوں والے حصے میں داخل نا ہوں۔‘‘ میں نے اپنی والدہ کو گھر کے صحن میں ساواک کے دو آدمیوں کے ساتھ شدید بحث کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ برقع پہن کر، منہ چھپائے ہوئے، دونوں آدمیوں کے سامنے شیر کی طرح کھڑی تھیں۔ وہ شخص جو میری والدہ کے ساتھ بحث کر رہا تھا، ساواک کے مشہور تفتیش کاروں میں سے تھا۔ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد قتل ہوگیا۔

والدہ اور اس ساواکی کے درمیان ہونے والی بحث سے میں یہ سمجھ گیا کہ پہلے یہ لوگ گھر کے اندرونی حصے کی طرف آئے تھے لیکن والدہ نے انہیں روکا اور کہا: ’’سید علی یہاں نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے گھر میں گھسنے کی جتنی بھی کوشش کی والدہ نے انہیں روک دیا اور دروازہ ان کے لیے بند کر دیا۔ پھر وہ لوگ دوسرے دروازے کی طرف مڑے اور اسے کھٹکھٹایا تو میرا بھائی آیا جو نہیں جانتا تھا کہ دروازے کے پیچھے کون ہےلہٰذا اس نے دروازہ کھول دیا تو وہ لوگ گھر میں داخل ہوئے اور غیض وغضب کی حالت میں والدہ کے ساتھ بحث کرنے لگے۔ جب انہوں نے مجھے صحن کی طرف نیچے آتے دیکھا تو ان میں سے ایک نے والدہ سے کہا: ’’یہ رہا سید علی۔ تم کیوں کہہ رہی تھیں کہ وہ یہاں نہیں ہے؟‘‘ والدہ پیچھے نہ ہٹیں اور ان کو بڑی تندی کے ساتھ جواب دیتی رہیں۔

میں نے بحث میں مداخلت کی اور ساواکی تفتیش کار کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: ’’کیا تم جانتے ہو یہ محترمہ کون ہیں؟‘‘ میں نے والدہ کا نام بڑے احترام کے ساتھ لیا پھر والدہ کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے کہا: ’’اماں جان! آپ ان کے ساتھ مخاطب نہ ہوں۔ مجھے ان سے بات کرنے دیں۔‘‘ پھر میں نے ساواک والوں سے کہا: ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’تم ہمارے ساتھ آؤ۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں تیار ہوں۔ ‘‘

میرا بیٹا مصطفیٰ اس سارے منظر کو حیرت بلکہ وحشت سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے خدا حافظی کی اور اسے والدہ کے پاس چھوڑ دیا۔ والدہ کو بھی خدا حافظ کہا۔ دروازے کی طرف جاتے ہوئے ایک کارندے نے والدہ کے متعلق میری گفتگو کے جواب میں نازیبا بات کی تو میں نے بھی شدت کے ساتھ جواب دیا۔ وہ لوگ مجھے ساواک کی عمارت میں لے گئے۔

کمرۂ تفتیش میں

وہ لوگ مجھے سربراہ کے کمرے میں لے گئے۔ یہ ایک نفیس سامان سے مزین ایک بڑا کمرہ تھا۔ کمرے میں ایک بڑی میز رکھی ہوئی تھی، جس کی دوسری طرف سربراہ بیٹھا ہوا تھا۔ وہ سر جھکائے اپنے سامنے رکھے کاغذات میں مصروف ہونے کا ڈرامہ رچا رہا تھا۔ عموماً ساواکی افسران اس طرح کے نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہیں۔ میں بھی جواب میں اپنے خاص طریقے کے مطابق کمرے میں پڑی ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو ایسے کاموں میں مصروف کر دیا جو میری سربراہ سے بے اعتنائی کو ظاہر کر رہے تھے۔ اس نے جب یہ دیکھا تو سر اٹھا کر مجھ سے پوچھا: ’’کون ہو تم؟‘‘ وہ یقیناً مجھے اچھی طرح جانتا تھا اور کیا میں اس جیسے عہدیدار کے لیے نا معلوم ہو سکتا تھا؟ میں نے اسے جواب دیا۔ اس نے کہا: ’’عجیب! سید خامنہ ای! تم کہاں تھے؟‘‘ میں ان کے سوالات کے لہجے سے سمجھ گیا کہ ساواک کی معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ میں ان کی معلومات کے مطابق روپوش تھا اور انہیں میرے مشہد واپس آنے کا علم نہیں تھا نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ میرا الگ سے گھر ہے بلکہ ان کے خیال کے مطابق میں اپنے والد کے گھر میں رہتا تھا۔ یہ ظالم اور سفاک نظام اپنی معلومات اور اطلاعات میں اس حد تک کمزور تھا۔

اس نے سختی اور ملامت کے ساتھ اپنی بات شروع کی۔ کبھی میں اسی سختی کے ساتھ اسے جواب دیتا اور کبھی میں اس کی بات سے بے اعتنائی برتتے ہوئے خاموش رہتا۔ اسی دوران ایک تفتیش کار داخل ہوا جس کے ہاتھ میں ایک ضخیم فائل تھی۔ وہ سربراہ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس نے فائل کھولی اور اپنی انگلی سے ان کاغذات میں مخصوص جگہوں کی طرف اشارے کرنے لگا۔ سربراہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سر ہلا رہا تھا اور یہ ظاہر کر رہا تھا کہ فائل میں موجود معلومات انتہائی حیرت انگیز ہیں۔ صاف واضح تھا کہ تفتیش کار اور سربراہ کی یہ حرکت مکمل بناوٹی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف رعب اور خوف ایجاد کرنا تھا۔ پھر سربراہ نے اپنا سر اٹھایا اور غصے سے کہا: ’’لے جاؤ اسے۔ ‘‘

وہ لوگ مجھے ایک ایسے کمرے میں لے گئے جہاں ساواک والے دائرے کی شکل میں کھڑے تھے۔ مجھے دائرے کے درمیان کھڑا کر دیا اور مجھ پر نازیبا اور توہین آمیز کلمات سے حملہ آور ہوگئے۔ میں اس جیسے تجربے سے پہلے گزر چکا تھا لہٰذا اس مرتبہ ان کا سامنا کرنے اور قوت و شدت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار تھا۔ ظاہراً اس وقت تک جیلوں میں جسمانی تشدد نہیں کیا جاتا تھا۔

مجھے اب بھی یاد ہے ایک ساواکی کرنل جس کا نام نشاط تھا (یہ اس کا لقب تھا) اور وہ سول لباس پہنتا تھا، نے مجھ سے کہا: ’’تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ تمہارے خیال میں تم کیا کر لو گے؟ دیکھو، اردن میں ملک حسین نے کیا کیا ہے؟ اس نے کمزور حکومت کےباوجود ایک دن میں پانچ لاکھ فلسطینیوں کو مار ڈالا ہے جبکہ ہم اپنی قوت اور اقتدار کے ساتھ پچاس لاکھ انسانوں کو بڑی آسانی سے مار سکتے ہیں۔‘‘

مجھے اس کی بات سے بڑا تعجب ہوا کیونکہ اس نے جو تعداد ذکر کی اس میں بہت زیادہ مبالغہ تھا۔ وہ یا تو جاہل اور فریب خوردہ تھا یا پھر مجھے دھوکہ دینا چاہتا تھا۔ دونوں صورتوں میں یہ بات اس شخص کی پستی اور بے وقوفی کی عکاس تھی۔

یہ تو پہلی بات ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ اس طرح کی گفتگو  کسی طالب علم سے نہیں کی جاتی جس کے پاس قلم اور ممبر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں اگر میں لاکھوں افراد پر مشتمل کسی عوامی تحریک کا سربراہ ہوتا تو پھر اتنی بڑی تعداد کو مارنے کی دھمکی کچھ معنی رکھتی لیکن میں، اور وہ بھی اس حال میں! اس آدمی کی بات سے یہی پتا چلتا ہے کہ وہ مجھ سے کئی گنا کمزور تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی شخصیت اور موقف میں بہت زیادہ کمزور تھے۔ یقیناً کمزور بھی تھے اور پاگل بھی۔ پاگل بعض اوقات اچانک حملہ آور ہوجاتا ہے اور سامنے والے کی جان لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری نظر میں ساواکی کمزور، حقیر اور بے وقوف لوگ تھے۔ مجھے ان سے کچھ خوف محسوس ہوتا تھا اور اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی۔

انہوں نے میری جیبوں کی تلاشی لی، لیکن اپنے کام کی کسی چیز کو نہ پاسکے۔ وہ لوگ باہر نکل گئے اور میں تنہا ایک گھنٹے سے زیادہ وہیں رہا۔ پھر ان میں سے ایک آیا اور مجھے کہا: ’’آجاؤ۔‘‘

وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر دوسری عمارت کی طرف لے گئے۔ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے علم ہوا کہ یہ وہی جیل ہے جس میں تین سال پہلے رہ چکا ہوں۔ مجھے اس کی سفید دیواروں سے پتا چلا کہ یہ وہی جیل ہے جسے ہم سفید ہوٹل کہتے تھے۔ گویا یہ میرا اپنا ہی گھر تھا۔

انہوں نے مجھے ایک کوٹھڑی میں ڈال دیا۔ جیل میں کچھ تربیت یافتہ فوجی تھے جو کوٹھڑی کے دروازے پر جمع ہوگئے اور نئے قیدی کے لیے اپنی عقیدت و احترام کا اظہار کرنے لگے۔ واضح سی بات ہے کوٹھڑی کا دروازہ بند تھا  اور مجھے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔

کچھ دن گزرنے کے بعد میں نے سوچا سید قطب کی کتاب ’’الاسلام و مشکلات الحضارۃ‘‘ کا ترجمہ مکمل کر لوں۔ اس کتاب کے تین چوتھائی حصے کا ترجمہ میں اپنی تیسری قید کے دوران کر چکا تھا اور چوتھے اور آخری حصے کا ترجمہ اپنے بھائی سید ہادی کے ذمے لگایا تھا۔ میں نے بھائی سے وہ ترجمہ منگوایا اور پھر اس کی اصلاح کی تاکہ وہ گزشتہ ترجمے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔ پھر میں نے آخری فصل کا ترجمہ کیا۔ اس فصل میں مضبوط عبارت کے ساتھ مغربی تہذیب پر بھرپور تنقید کی گئی تھی۔ میں نے ایک بہترین مقدمہ لکھا جس میں نئی اصطلاحات اور عبارتوں کا استعمال کیا اور انہیں اصل عبارت سے علیحدہ کرنے کی خاطر بریکٹ میں رکھا۔ یہ کام تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ پھر میں نے کتاب مکمل کر کے اپنے بھائی سید ہادی کو دے دی اور اس آدمی کا نام بھی بتا یا جس نے اسے چھپوانا تھا۔

انہی ایام میں مجھے بتایا گیا کہ شیخ رضی آل یاسین کی کتاب ’’صلح امام حسن,‘‘ کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔ یہ کتاب صلح امام حسن, کی تاریخی تحلیل پر مشتمل تھی اور اس کا ترجمہ میں نے کیا تھا۔ وہ میرے لیے اس کا ایک نسخہ لے آئے جسے دیکھ کر میں بہت خوش ہوا۔

دو متضاد شخصیات سے لگاؤ

قید ہونے کے دو ہفتے بعد میں نے ایک فوجی قیدی کو پکارتے سنا: ’’خوش خبری۔۔۔ خوش خبری۔۔۔ عبد الناصر مر گیا۔‘‘ میرے لیے یہ انتہائی دردناک خبر تھی۔ یہاں میں اپنے اور اسلام پسند مزاحمت کاروں کے ایک متضاد موقف کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ ہماری ہمدردیاں سید قطب اور اس کی فکری تحریک کے ساتھ بھی تھیں اور اس کے قاتل جمال عبد الناصر کے ساتھ بھی۔ میں سید قطب کی پھانسی کی خبر سننے پر بھی رویا تھا اور جمال عبد الناصر کی وفات کی خبر سننے پر بھی۔

سید قطب کی طرف ہمارا جھکاؤ واضح ہے جس کی وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ادبی قلم، عملی جدوجہد اور قرآنی فکر کی بنیاد پر اسلام کو ایک آفاقی اور متحرک دین کی شکل میں پیش کیا جو ایک مسلمان میں اپنے دین کے متعلق عزت کا احساس پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے پستیوں سے نکالتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی تفسیر میں ایسی اسلامی اور انقلابی زبان استعمال کی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان، چاہے جس مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہو، اپنے اعتقادات سے تعارض محسوس نہیں کرتا۔ ہاں ایک جگہ وہ شراب کی حرمت کے متعلق نازل ہونے والی آیت کے شان نزول میں ایک من گھڑت روایت ذکر کرتا ہے جو امیرالمؤمنین, کی عصمت کو ماننے والوں کے عقیدے کے خلاف ہے۔ میں اس حوالے سے اسے قصور وار نہیں سمجھتا کیونکہ وہ امام کی عصمت کا قائل نہیں ہے، خصوصاً اس کے نزدیک یہ شراب کی حرمت کے حکم سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سید قطب کا اس من گھڑت روایت کو نقل کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ اسے امیرالمؤمنین, کی شخصیت کی مکمل معرفت نہیں تھی۔

جہاں  تک بات ہے جمال عبد الناصر پر فخر کرنے کی تو اس کی وجہ عقیدتی نہیں بلکہ نفسیاتی تھی۔ ہم ایران میں بڑے پیمانے پر استکباری وحشتناک مظالم کا سامنا کر رہے تھے، جن کا مقصد دین اور علماء کی تحقیر تھا۔ ان مظالم کا بڑا اثر جوانوں اور پڑھے لکھے طبقات کا نفسیاتی شکست سے دوچار ہونا تھا جو دنیا کی فرعونی طاقتوں سے مرعوب ہو چکے تھے۔ اس شکست خوردہ ماحول میں ہم ہر اس آواز کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے جو مغرب اور امریکہ جیسی طاقتوں کو قدرت اور جرات کے ساتھ للکارتی تھی۔ عبد الناصر ان طاقتوں کو ایسے ہی للکارتا تھا۔  عبد الناصر جب دنیا کے تمام طاغوتوں کو للکارتا تھا تو اسے سن کر ہم فخر محسوس کرتے تھے۔ صوت العرب چینل سے ہم اس کی تقریریں سننے کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ ہم ہر اس عملی اقدام کی حمایت کرتے تھے جس کا مقصد اسلامی دنیا بلکہ پوری تیسری دنیا کو مکروہ استعماری قبضے سے نجات دلانا ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں آنے والے تمام انقلابات کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے۔

مجھے یاد ہے جونہی لیبیا میں انقلاب کی خبر آئی تو میں نے فوراً منبر سے اس کی تائید کی۔ میں نے انقلابیوں کو ایک ایسے حاکم سے لیبیا کو آزاد کرانے پر مبارکباد دی جسے میں نے ادریس کی بجائے ابلیس کہا تھا۔ بعد میں جب میری ملاقات شیخ ہاشمی رفسنجانی سے ہوئی تو مجھے پتا چلا کہ خود شیخ نے بھی فوراً اپنی نشستوں میں لیبیا کے انقلاب کی تائید کی تھی۔

ان اقدامات کا سبب طاغوتی حکمرانوں کی طرف سے پامال کی گئی عزت اور کرامت کو دوبارہ بحال کرنے کا جذبہ اور شوق تھا۔

یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جمال عبد الناصر کا نام ہمارے ذہنوں میں علاقے میں موجود اسرائیلی اور دقیانوسی قوتوں کے مقابلے میں مسلمان عرب بھائیوں کی مقاومت، استقامت اور عزت کے ساتھ جڑا ہوا تھا اگرچہ ہم اس کے اسلام پسندوں کے ساتھ ٹکراؤ کی روش سے نالاں رہتے تھے۔

ضمناً یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ایران میں شاہی میڈیا کو عبد الناصر کے خلاف فضا بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ عبد الناصر کی وفات کی خبر سننے پر مجھے جس چیز نے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ اس فوجی کا خبر دینے کا انداز تھا۔ وہ اس خبر پر بہت خوش تھا۔ البتہ وہ اپنی خوشی کا سبب نہیں جانتا تھا اور نہ ہی یہ جانتا تھا کہ عبد الناصر کون ہے؟ وہ تو صرف شاہی میڈیا سے متاثر تھا۔

میرے پاس ایک چھوٹا ریڈیو تھا جو مجھ تک بعض نرم دل نگہبانوں کے ذریعے پہنچا تھا۔  میں اسے سخت گیر نگہبانوں سے چھپا کر رکھتا تھا۔ جیل میں عموماً ریڈیو کے استعمال پر پابندی تھی۔ عبد الناصر کی موت کی خبر سننے کے بعد میں صوت العرب چینل کو توجہ سے سننے لگا۔ ان دنوں میرے لیے سب سے تسلی بخش چیز اسی ریڈیو سے قرآن کی تلاوتیں سننا تھا جو مجھے ابھی بھی تفصیل کے ساتھ یاد ہیں۔ مثلا مجھے یاد ہے کہ مصر کے بڑے قراء جیسے عبد الباسط، مصطفیٰ اسماعیل اور محمود علی بناء نے اس آیت مجیدہ کی تلاوت کی:

وَ كَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثيرٌ فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ في‏ سَبيلِ اللَّهِ وَ ما ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكانُوا وَ اللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرينَ۔([1])

اور کتنے ہی ایسے نبی گزرے ہیں جن کی ہمراہی میں بہت سے اللہ والوں نے جنگ لڑی لیکن اللہ کی راہ میں آنے والی مصیبتوں کی وجہ سے نہ وہ بد دل ہوئے نہ انہوں نے کمزری دکھائی اور نہ ہی وہ خوار ہوئے اور اللہ تو صابروں کو دوست رکھتا ہے۔

 ان میں سے ایک قاری اس حصے (قاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ) کو بار بار پڑھ رہا تھا۔ میں نے اس وقت جن قاریوں کو سنا ان کے نام قرآن کے پیچھے لکھ لیے۔ میں رات کے آغاز سے تلاوت سننا شروع کرتا یہاں تک کہ جب صوت العرب کی نشریات ختم ہوتیں تو میں دوسرے چینلز پر تلاوت ڈھونڈنے لگتا۔

تیرے جد کی قسم! تجھے قتل کر دوں گا

جیسا کہ میں نے عبد الناصر کی موت کی خبر سننے پر اس فوجی کی خوشی کو بیان کیا جس کا سبب فوج پر میڈیا کا خاص نفوذ تھا، اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان کرتا چلوں جو اس وقت فوج میں رائج ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

جیل کے قیدیوں میں ایران کے صوبہ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والا ایک نگہبان بھی تھا جو ترکی زبان بولتا تھا۔ اسے ایک معمولی جرم کی بنا پر ۶ ماہ قید ہوئی تھی۔ لگتا ہے وہ ایک غریب آدمی تھا اور اسے پیسوں کی ضرورت تھی۔ اسے جیل کے اندر بیت الخلاء کے نزدیک ایک چھوٹی سی جگہ دی گئی تاکہ وہ چائے بنا کر قیدیوں کو بیچ سکے۔ میں اس کے ساتھ ترکی زبان میں بات چیت کرتا تھا جس کی وجہ سے ہمارے درمیان ایک خاص انس اور محبت پیدا ہوگئی تھی۔ فوجی اس جگہ کے اردگرد جمع ہو جاتے اور چائے پیتے تھے۔ میں اس نشست میں شرکت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میرا کوٹھڑی سے نکلنا ممنوع تھا اور ویسے بھی میں اس غیر مناسب جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا البتہ میں اس نگہبان کے گاہکوں میں سے تھا۔ وہ میرے لیے کوٹھڑی میں چائے لاتا تھا اور میں اسے نقد قیمت ادا کرتا تھا۔ اسی طرح جن چیزوں نے ہمیں نزدیک کیا وہ جیل اور مشترک زبان کے علاوہ میرا اس کا اچھا گاہک ہونا تھا۔

ایک صبح میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔ بعض اوقات ہمیں اس کی اجازت دی جاتی تھی۔ میں عام طور پر صحن کے ایک کونے میں بیٹھتا تھا اور فوجی میرے گرد حلقہ بنا لیتے تھے۔ میں انہیں مختلف قصوں، خبروں اور لطیفوں سے لطف اندوز کرتا تھا۔ ایک دن گفتگو کمیونسٹوں کے بارے میں چل پڑی۔ اگرچہ ان سالوں میں ان کا کوئی واضح نام و نشان نہیں تھا بلکہ اسی سال ان کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ جب میں جیل میں تھا تو بعض جوان لائے گئے جنہیں کمیونسٹ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پہلوی حکومت ان کی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی تھی۔

یہ نگہبان (چائے والا) کمیونسٹوں کے متعلق اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ہماری گفتگو میں شرکت کرتا تھا۔ وہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ جب 1946؁ء میں کمیونسٹوں نے آذربائیجان میں اپنی علیحدہ حکومت کا اعلان کیا تب اس نے کئی کمیونسٹوں کو قتل کیا تھا۔ وہ کمیونسٹوں کے ساتھ سخت رویہ نہ اپنانے پر ساواک والوں کی بھی ملامت کرتا تھا۔ وہ بڑے یقین کے ساتھ کہتا تھا: ’’اگر ساواک مجھے اجازت دے تو میں کمیونسٹوں کو چن چن کر مار سکتا ہوں اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوگی۔ لیکن ساواک والے ان کے ساتھ نرمی برتتے ہیں اور انہیں جیل میں چھوڑ جاتے ہیں تاکہ وہ آرام سے کھائیں اور سوئیں۔‘‘ وہ بار بار ساواک والوں کی ملامت کرتا تھاکہ وہ اسے کمیونسٹ قیدیوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

مجھے اس کے ساتھ مذاق کی سوجھی۔ میں نے اس سے کہا: ’’اگر ساواک تمہیں مجھے قتل کرنے کا کہے تو؟‘‘ اس نے فوراً مضبوط لہجے میں کہا: ’’تمہارے جد کی قسم! تمہیں قتل کر دوں گا۔‘‘ (تمہارے جد کی قسم!) اس نے میرے جد کی قسم کھائی کیونکہ وہ میرے کالے عمامے کی وجہ سے جانتا تھا کہ میرا نسب رسول خدا3 سے ملتا ہے۔ اگرچہ ہمارے درمیان بہت ساری مشترکات تھیں، اس کے باوجود وہ پوری سنجیدگی سے کہ رہا تھا: ’’میں تمہیں قتل کر دوں گا۔‘‘

یہ اس زمانے میں فوجیوں کی برین واشنگ کا نتیجہ تھا۔

اس مدت کے دوران یونیورسٹی کے جوانوں کا ایک گروہ جیل لایا گیا۔ یہ پہلی بار تھا کہ مشہد میں حکومت نے یونیورسٹی کے جوانوں کو حراست میں لیا۔ میں اس واقعے سے سمجھ گیا کہ معاشرے میں کوئی نیا تحرک وجود میں آیا ہے اور اس چیز نے مجھے بہت خوش کیا۔ مجھے جیل سے باہر کے حالات جاننے کا بہت اشتیاق ہوا لیکن اس کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

جب ان جوانوں کو جیل میں لایا گیا تو جیل انتظامیہ کو میری کوٹھڑی کی ضرورت پڑی کیونکہ اس جیل میں کوٹھڑیاں کم تھیں لہٰذا انہوں نے مجھے کوٹھڑی سے نکال کر جیل کے دروازے کے پاس ایک بڑے کمرے میں ڈال دیا جو قیدیوں سے ملاقات کے لیے بنایا گیا تھا۔ پھر چونکہ میں دو مہینے یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ کوٹھڑی میں گزار چکا تھا لہٰذا اب ان کے نزدیک ضروری نہیں تھا کہ میں اس سے زیادہ کوٹھڑی میں رہوں۔

ماقوت([2])

جب میں (بڑے کمرے میں جانے سے پہلے) کوٹھڑی میں تھا تو رمضان کا مہینہ آن پہنچا۔ اس مہینے کی آمد سے میرا دل خوشی سے سرشار ہوگیا۔ میں اس مہینے کو بچپن سے بہت پسند کرتا ہوں کیونکہ اس میں روزمرہ زندگی تبدیل ہوجاتی ہے اور روزہ دار ایک خاص معنوی لذت کا احساس کرتا ہے۔

رمضان کا پہلا دن گزرا۔ جب افطاری کا وقت ہوا تو وہ میرے لئے کچھ بھی نہیں لائے کیونکہ ماہ رمضان کو چھاؤنی میں کوئی اہمیت دی جاتی تھی نہ جیل میں۔ میں نے نماز ادا کی اور اس مہینے کی یادوں میں کھو گیا، خاص طور پر افطار کی گھڑیوں اور افطار کے وقت روزہ دار کو ملنے والی خوشی کی یاد میں سیر کرنے لگا۔ مجھے اہل و عیال کے ساتھ افطار کے دسترخوان پر گزری وہ پر مسرت گھڑیاں یاد آئیں جب ہمارے سامنے سماور([3])میں چائے ابل رہی ہوتی اور افطاری سے مخصوص ہلکی پھلکی غذائیں ہماے سامنے ہوتی تھیں، خاص طور پر ماقوت کی بہت یاد آئی (یہ مشہد کا مشہور کھانا ہے اور ظاہرا مشہد والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔) جو افطاری میں میرا پسندیدہ کھانا ہے۔ یہ غذا پانی، نشاستہ، اور چینی سے تیار ہوتی ہے اور ایک خاص طریقے سے اسے پکایا جاتا ہے۔ میری زوجہ اسے بھی دوسرے کھانوں کی طرح اچھے طریقے سے بنانا جانتی ہیں۔ اچانک میں متوجہ ہوا تو خدا سے مغفرت طلب کی۔ شاید بھوک نے میرے اندر ان یادوں کو ابھارا تھا یا پھر تنہائی نے۔ بہرحال صبر کے سوا چارہ نہ تھا۔

مغرب کے آدھے گھنٹے بعد مجھے چائے کا ایک کپ ملا۔ اس کے بعد کافی دیر بعد وہ رات کا کھانا لائے جس کی بری حالت دیکھ کر کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا پھر بھی میں نے اس میں سے کچھ کھایا اور باقی حصہ سحری کے لیے رکھ دیا۔ سحری میں اس بچے ہوئے کھانے کو نہ چاہتے ہوئے کھایا کیونکہ وہ پہلے ہی سے بری حالت میں تھا اور  اب رات گذرنے کے بعد تو اس کی حالت بدتر ہوچکی تھی۔ اس طرح پہلا دن گزر گیا۔

دوسرے دن ظہر کے بعد نگہبان نے مجھے خبر دی کہ میرے لیے کچھ بھیجا گیا ہے۔ میں نے اسے لیا اور جب کھولا تو اس میں مختلف قسم کے کھانے تھے جنہیں میں افطاری میں پسند کرتا تھا۔ یہ کھانے متعدد پلیٹوں میں بھیجے گئے تھے۔ کھانا بہت سے افراد کے لیے کافی تھا جسے میری زوجہ نے تیار کیا تھا اور وہ اسے مجھ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ اسی دن میرے لیے گھر سے چائے کا سامان بھی لایا گیا۔ حسب معمول افطاری انتہائی لذیذ تھی۔ میں نے ضرورت کے مطابق اس میں سے تناول کیا اور باقی دوسرے قیدیوں کے لیے بھیج دیا۔ پھر یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری رہا۔

زندان کا خراب ماحول

رمضان المبارک کی راتوں میں مجھے تلاوت، دعا اور ذکر کی فرصت میسر ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ عید الفطر کی رات میں نے وہ مستحب نماز ادا کی جس میں سورہ حمد کے بعد ہزار مرتبہ سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔

جیل میں رمضان المبارک گزارنے کا یہ دوسرا تجربہ تھا۔ پہلی جیل میں، میں نے ماہ رمضان کے پندرہ دن گزرے تھے جبکہ اس جیل اور پانچویں جیل میں پورا ماہ رمضان گزارا۔ یہ ایسی فرصتیں تھیں جن سے میں نے تہذیب نفس، خدا کی طرف توجہ، قرآنی آیات اور ان کے عالی مفاہیم میں تدبرکے حوالے سے استفادہ کیا۔ اگرچہ ان جیلوں میں، خصوصا پانچویں جیل میں، کچھ خاص مشکلات بھی تھیں جنہیں میں بعد میں بیان کروں گا۔

اس جیل میں لکھی گئی اکثر یادوں کا تعلق ماہ مبارک سے تھا۔ اس جیل اور اس سے پہلے والی جیلوں میں فوجی قیدیوں کے درمیان جس اخلاقی آفت کا میں نے خود مشاہدہ کیا وہ لاپرواہی سے زیادہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی پر دلالت کرتی تھی۔ میں نے فوجی قیدیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر منشیات کا استعمال دیکھا حالانکہ جیل میں جانے والی ہر چیز کی مکمل تلاشی لی جاتی تھی۔

مجھے بتایا گیا کہ جس جیل میں افسران قید ہیں اس میں شراب بھی پی جاتی ہے۔ میں نے اس اور اس سے پہلے والی جیل میں دیکھا کہ بعض لوگ بھنگ کا نشہ کرتے ہیں۔ وہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ کر بھنگ پیتے ہیں اور نیم بے ہوشی کے عالم میں ہزیان کہتے ہیں۔

جب ایک پاکیزہ جوان ان جیلوں میں داخل ہوتا تو وہ حتماً خراب ہو جاتا تھا۔ یہ جیلیں مکمل طور پر گندے پانی کے جوہڑ کی مانند تھیں جو ہر آنے والے کو اپنی عفونت اور گندگی سے متاثر کرتی تھیں مگر وہ کہ جسے خدا بچا لے۔ جب ایک فوجی جیل کا یہ حال تھا جس کے باقاعدہ قوانین و ضوابط مقرر تھے، تو پھر عام جیلوں کا کیا حال ہوگا؟

یہی وجہ ہے کہ میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ جیلوں کے اس گندے ماحول سے جس کو جتنا ممکن ہو بچاؤں۔ رمضان المبارک کے قریب میں نے قیدیوں کو جمع کیا، انہیں وعظ و نصیحت کی، اور موت، آخرت اور حساب و کتاب کی یاد دلائی تو سب نے مجھ سے وعدہ کیا اور قسم اٹھائی کہ روزہ رکھیں گے۔ انہوں نے واقعاً پہلے دن روزہ رکھا بھی۔ دوسرے دن دوپہر تک تو انہوں نے روزے کو برداشت کیا لیکن جیل کے فاسد ماحول کی وجہ سے ان کے ارادے سست پڑ گئے۔ اس وجہ سے ان کے درمیان میری نصیحت کا اثر بھی ختم ہو گیا اور انہوں نے روزہ توڑ ڈالا۔ میں نے اپنی ڈائری میں ان کے نام لکھے جنہوں نے صرف پہلے دن روزہ رکھا۔ اسی طرح ان لوگوں کے نام بھی جنہوں نے دوسرے دن روزہ رکھا اور توڑ ڈالا۔

عدالت میں دفاع

اس جیل میں میری فائل فوجی عدالت کے سامنے پیش گئی۔ یہ عدالت فوجی چھاؤنی کے وسط میں واقع تھی۔ قید کے دوران میرا عدالت سے مسلسل واسطہ رہا۔ وہاں مجھے سوالوں کے جواب دینے کے لیے یا میرے اعتراضات کو رد کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ یہ اعتراضات میں مختلف امور کے حوالے سے عدالت کے نام لکھتا تھا۔ میں نے اعتراض کیا کہ ضمانت کے باوجود مجھے آزاد نہیں کیا گیا حالانکہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میں نے اہل و عیال اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اعتراض کیا اور اسی طرح اعتراض کیا کہ تفتیشی مراحل مکمل ہونے کے باوجود مجھے انفرادی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے۔ میں جانتا تھا کہ میں نے عدالت سے جتنے مطالبات کیے ہیں وہ ان میں سے کسی کو پورا نہیں کر سکتی لیکن میں ان کی قانونی خلاف ورزیوں کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا چاہتا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ عدالت کے جج نے میری کسی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ’’مجھے ساواک سے پوچھنا پڑے گا۔‘‘ اس کی زبان کا پھسلنا تھا کہ میں نے فوراً ہی اسے اس بات پر پکڑ لیا اور اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’عدالت کیسے ساواک کے زیر اثر ہو سکتی ہے؟‘‘ اس نے فورا اپنی بات بدلی اور مشہد میں موجود ساواک کے سربراہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کی خوبیوں کا تذکرہ کرنے لگا۔

فیصلے کا دن مقرر ہوا۔ میں نے نظر ثانی اور دفاع کی خاطر اپنی فائل طلب کی۔ عدالت نے میرے لیے ایک سرکاری وکیل مقرر کر دیا لیکن میں جانتا تھا کہ اس کا دفاع برائے نام  اور بے سود ہوگا۔ میں نے خود اپنے دفاع میں ۳۰ صفحات لکھے۔

فیصلے والے دن میں ہال میں داخل ہوا تو سامنے تین جج، ایک مدعی اور وکیل بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سب کے سب فوجی تھے اور متکبرانہ انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ اپنے عہدوں کے مطابق مخصوص فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ میں نے اپنے دفاع کے مسودے کو بلند آواز اور مضبوط انداز میں پڑھا۔ یہ مسودہ بھی پچھلی جیل میں پیش کیے جانے والے مسودے کی مانند انتہائی دقّت کے ساتھ قانونی شقوں سے اخذ شدہ اور منظم تھا۔

انہیں ایک دینی طالب علم سے اس طرح کی گفتگو سننے کی توقع ہرگز نہ تھی اور نہ ہی اس طرح کا موقف دیکھنے کی امید تھی۔ وہ اپنے اذہان میں دین اور علماء سے متعلق ایک غلط تصور لیے ہوئے تھے۔ میں عدالت کے اراکین کے چہروں پر حیرت کی علامات اور پر معنی نظروں کا تبادلہ دیکھ رہا تھا۔ وقفے کے دوران انہوں نے کھل کر اپنے تعجب کا اظہار کیا اور میرے الفاظ و معانی کے انتخاب اور بولنے کے انداز کی تعریف کی۔

عدالت ختم ہونے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں ہال سے باہر چلا جاؤں اور دروازے کے پاس انتظار کروں۔ میں عدالت کا فیصلہ جاننے کے شوق میں لمحات گننے لگا۔ اتفاق سے فیصلے کا دن وہی قیدیوں سے ملاقات والا دن تھا۔ میرے اہل و عیال بھی مجھ سے ملنے آئے ہوئے تھے اور دروازے کے پاس انتظار کر رہے تھے۔ عدالت دروازے سے دور چھاؤنی کے وسط میں واقع تھی۔ اہل و عیال ظہر تک انتظار کرتے رہے، بعض تو چلے گئے اور بعض وہیں رہے۔ عدالت کا فیصلہ یقیناً سنایا جا چکا تھا لیکن اس کا ٹائپ رائٹر سے رسمی کاغذات پر لکھا جانا باقی تھا۔ پھر اس کا عدالت کے اراکین اور ملزم کی موجودگی میں اعلان ہونا تھا اور میں اسی اعلان کا انتظار کر رہا تھا۔

دفتری وقت ختم ہو چکا تھا۔ عدالت کا ایک رکن باہر نکلا۔ جب وہ فوجی چھاؤنی کے دروازے پر پہنچا تو اس نے ایک فیملی کو پایا جو اپنے قیدی کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پہچان لیا کہ یہ میرے ہی اہل و عیال ہیں لہٰذا اس نے انہیں میرے آزاد ہونے کی خبر دے دی۔ یوں میرے اہل و عیال کو مجھ سے پہلے ہی عدالت کے فیصلے کا پتا چل گیا۔

جب انتظار طویل ہوا تو انہیں چھاؤنی کے ایک نگہبان نے کہا: ’’آپ لوگ چلے جائیں، وہ آزاد ہونے کے بعد آجائے گا لہٰذا وہ گھر واپس لوٹ گئے۔

ظہر کے دو گھنٹے بعد انہوں نے مجھے طلب کیا۔ عدالت نے مجھے اتنی مدت کی قید سنائی جس سے زیادہ میں پہلے ہی جیل میں گزار چکا تھا۔ اگلی عدالت تک مجھے آزاد کر دیا گیا۔ نظر ثانی کی عدالت عام طور پر پہلی عدالت کے چند ماہ بعد لگتی ہے۔ عدالت کے جج نے محافظوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اسلحے کاندھوں پر رکھ لیں۔ یہ اس چیز کی علامت تھی کہ ان کے ساتھ والا قیدی رہا کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح عدالت نے حکم دیا کہ جیل سے نکلنے کے لیے ضروری کاغذی کاروائی میں میری مدد کی جائے۔ اس کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میرا کمرہ جیل کے دروازے کے پاس تھا جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ میں نے اپنا سامان جمع کیا اور قیدیوں کو الوداع کہا۔ اس وقت رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔

سردی کا موسم تھا اور رات  کچھ زیادہ سرد تھی۔ چھاؤنی کے دروازے پر میں نے اپنے کچھ رشتہ دار جوانوں کو دیکھا جو ایک گاڑی لیے میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے میرا سامان لے لیا۔ میں گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اتنے میں ایک سپاہی آیا اور کہنے لگا: ’’تم نہیں جا سکتے۔ میرے ساتھ آؤ۔‘‘ اس نے مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا جس میں کچھ فوجی سوار تھے۔ میں نے رستے سے پہچان لیا کہ گاڑی کا رُخ ساواک کی عمارت کی طرف ہے۔ کیا چھاؤنی سے میری آزادی بس نام کی تھی؟ کیا یہ مجھے ساواک اور وہاں سے تہران لے جانا چاہتے ہیں؟ اس طرح کے سوالات میرے ذہن میں گھومنے لگے۔ گاڑی تاریکی اور سردی میں مجھے ایک نامعلوم منزل کی طرف لے کر جا رہی تھی۔

انہوں نے مجھے ساواک کی عمارت کے پاس اتار دیا۔ جس تفتیشی افسر سے میرا سامنا ہوا اسے میں تیسری اور چوتھی جیل سے پہچانتا تھا۔ اس کا نام غضنفری تھا، اس نے مجھے مکر اور تکبر بھرے لہجے میں کہا: تم کیوں آئے ہو؟

میں نے کہا: ’’میں خود نہیں آیا بلکہ یہ لوگ مجھے یہاں لائے ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’ہم نے نہیں بلایا۔ چلے جاؤ۔ ہم نے تمہیں آزاد کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ میں باہر نکل آیا جبکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا؟ میں تاریک اور سرد سڑک کی طرف گاڑی کی تلاش میں نکلا جو مجھے گھر تک پہنچا دے۔ اگر میرے ہاتھ میں سامان ہوتا تو رات کے اس وقت نکلنا بہت مشقت طلب کام تھا لیکن میں نے اپنا سامان چھاؤنی کے دروازے پر ان جوانوں کے حوالے کر دیا تھا جو مجھے لینے آئے تھے۔

اچانک ایک گاڑی میرے سامنے آکر رکی۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہی جوان تھے جو چھاؤنی کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ فوجی کیمپ سے ساواک کی عمارت تک یہ جاننے کے لیے ہمارا پیچھا کرتے رہے کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

میں گھر پہنچا تو زوجہ کو دروازے پر آنکھ لگائے اپنے انتظار میں پایا جبکہ بچے انتظار میں تھک ہار کر سو چکے تھے۔

ایک قریبی دوست کا عجیب رویہ

مجھے یاد ہے جیل سے گھر واپس آنے کے بعد اسی رات امام رضا, کی زیارت اور مسجد گوہر شاد میں نماز ادا کرنے کے لیے حرم گیا۔ کافی دیر ہو  چکی تھی اور حرم کا صحن تقریبا خالی ہو چکا تھا، میں  نے دور سے دو دوستوں کو دیکھا جو حوزوی دروس میں میرے ہم جماعت تھے۔ ان میں سے ایک کے ساتھ میرا خاص تعلق تھا۔ ہمارا قیافہ آپس میں اس حد تک ملتا تھا کہ اگر کوئی ناشناس ہمیں دیکھتا تو وہ ہمیں سگے بھائی سمجھتا تھا۔ میں اس اچانک ملاقات سے بہت خوش ہوا کیونکہ رات کے اس پہر مجھے وہاں کسی سے ملاقات کی توقع نہیں تھی۔ میں انتہائی شوق سے ان چہروں کی زیارت کے لیے آگے بڑھا جن کے اور میرے درمیان جیل اب تک حائل تھی۔ مجھے توقع تھی کہ جونہی وہ دونوں مجھے دیکھیں گے میری طرف بڑھیں گے اور اس جدائی کے بعد مجھ سے مل کر بہت خوش ہوں گے۔

میں جلدی سے ان کی طرف بڑھا اور ان کے نزدیک پہنچا۔ میں انہیں سلام کرنے لگا تو انہوں نے منہ موڑ لیا۔ شاید ایک نے دوسرے سے کہا: ’’یہ ابھی جیل سے رہا ہوا ہے اور شاید اس کی نگرانی کی جا رہی ہے، ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔‘‘ یہ رویہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ مجھ جیسا قیدی جسے چند گھڑیاں قبل رہائی ملی ہو، وہ اپنے دوستوں خصوصاً ان  لوگوں سے جن کی ذمہ داری اسلام کے درد کو محسوس کرنا ہے،  اس کے برعکس رویے کی توقع رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے بعض علماء سے ایسے بہت سے رویے دیکھے جبکہ جوانوں سے، چاہے وہ دینی مدارس کے طالب علم ہوں یا یونیورسٹیوں کے، اس کے برعکس رویہ دیکھنے کو ملا۔ جب بھی مجھے جیل بھیجا جاتا یا میں حکومت کے ظلم کا شکار ہوتا تو جوان میرے زیادہ قریب اور میرے ساتھ پہلے سے زیادہ مربوط ہو جاتے تھے۔

علماء کے مزاحمتی موقف

یہاں ضروری ہے کہ میں ایران میں اسلامی مزاحمت کاروں کے ساتھ دینی علماء کے تعلق کے حوالے سے کچھ بیان کروں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی علماء ہر دور میں ظالم حکومت کے مقابل صف اول میں نظر آتے ہیں۔

عصر حاضر میں اس کی چند مثالیں روس کے خلاف میرزا قمی کا فتوی، ’’تمباکو والے واقعے میں‘‘ مراجع عظام کا موقف، ’’دستوری تحریک‘‘ میں دینی علماء کا کردار اور رضا شاہ کے مقابلے میں مرحوم سید حسن مدرس کی جدوجہد ہیں۔  اسی طرح شاہ کے فیصلوں پر علماء کا احتجاج ایک اور مثال ہے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں کئی بڑے سانحات رونما ہوئے، جیسے مسجد گوہر شاد کا واقعہ جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اسی طرح عراق پر برطانوی قبضے کے خلاف ’’ثورۃ العشرین‘‘([4]) میں مراجع عظام کا کردار ایک اور روشن مثال ہے۔

امام خمینی نے معاصر تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے اپنے اسلاف کے جہادی سلسلے کو بطریق احسن آگے بڑھایا۔ آپ نے ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس خطے کے سب سے بڑے جابر کا تختہ الٹا جسے دنیا کی نام نہاد سپر پاور کی پشت پناہی حاصل تھی۔

اس میں کوئی تعجب نہیں کہ دینی علماء ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنیں کیونکہ وہ طول تاریخ میں انبیاء اور صالحین کے وارث ہیں۔ لیکن ایران میں دینی علوم میں مشغول تمام افراد احساس ذمہ داری کے اس درجہ پر فائز نہیں تھے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں۔

بعض علماء خود میدان میں اترنے کی بجائے اسلام پسندوں کی حمایت پر اکتفا کرتے تھے۔ بعض مکمل طور پر غیر جانبدار تھے جو اسلامی تحریک کی حمایت کرتے تھے اور نہ ہی مخالفت لیکن بعض ایسے علماء بھی تھے جو اسلامی مزاحمت کاروں کی مخالفت کرتے تھے۔ یہ مخالفت کہیں کم تھی تو کہیں زیادہ۔ جب بھی اس موضوع پر بات ہوتی تو بعض علماء اسلامی تحریک کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے اور بعض کا تو کام ہی بلا وجہ اعتراض کرنا تھا۔

ایک واقعہ بیان کرتا چلوں جو چند روز قبل مجھے یادآیا۔ ۱۹۷۶؁ءمیں شہر کو ایک بڑے سیلاب کا سامنا تھا اور میں امدادی کاموں میں مصروف تھا۔ ایک قصہ جسے اختصار کے ساتھ بیان کروں گا۔ حکومت نے مجھے فوراً شہر چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ جب پولیس افسر نے مجھے اس فیصلے کی خبر دی تو میں شہر کی جامع  مسجد  کے بڑے ہال میں موجود تھا جسے ہم نے سیلاب زدگان کے امدادی سامان کا گودام بنایا ہوا تھا۔ وہ سامان انتہائی مرتب انداز میں رکھا گیا تھا۔ امدادی کاموں میں ہم جیسے غیر تجربہ کار لوگ بہت کم ایسا کر پاتے ہیں۔ میں ہال کے ساتھ واقع اس کمرے کی طرف بڑھا جس میں شیخ ذبیح  اللہ اور ان کچھ ساتھی بیٹھے تھے۔ میں نے درد بھرے تلخ لہجے میں انہیں بتایا: ’’انہوں نے مجھے شہر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ سب کے چہروں پر پریشانی نمودار ہو گئی۔ جونہی ان میں سے ایک (ان دو علماء سے ایک جن سے میں رہائی کے فوراً بعد حرم امام رضا,  میں ملا تھا) وہاں بیٹھے لوگوں کی میرے ساتھ ہمدردی دیکھی تو فوراً کہنے لگا: ’’یہ  لوگ امدادی کاموں کے لیے نہیں آئے، بلکہ یہ فسادی اور تخریب کار ہیں۔‘‘

بعض لوگ اسلام کے لیے کام کرنے والوں سے اس حد تک بغض رکھتے تھے۔

عدالت میں دوبارہ پیشی

اپیل دائر کرنے والی عدالت میں پیشی سے قبل کچھ اداری امور کو انجام دینا لازمی تھا۔ اس حوالے سے فوجی عدالت کی طرف رجوع  کرنا ضروری تھا۔ جب میں فوجی عدالت میں اداری امور انجام دے رہا تھا میں نے ایک جوان افسر کو دیکھا جو مسلسل میری طرف دیکھ رہا تھا۔ گویا وہ مجھ سے کوئی بات کہنا چاہتا تھا۔ میں  اس کے قریب ہوا تو وہ بولا: ’’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

میں نے کہا:’’ بولیں۔‘‘

اس نے کہا: ’’آپ نے پہلی پیشی میں جس طرح کی لمبی تقریریں جھاڑی تھیں اس دفعہ ان سے گریز کریں۔ اگر انہیں آپ کی ذہانت اور مضبوط شخصیت کا احساس ہوا تو وہ آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے۔آپ کی  بھلائی اسی میں ہے کہ اپنےآپ کو ایک سادہ لوح اور پسماندہ شخص کے روپ میں ظاہر کریں۔‘‘

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور چل پڑا۔ میں جانتا تھا کہ دینی علماء کی توہین کرنے والی متکبر عدالت کے سامنے اس طرح کا روپ دھارنا میرے بس میں نہیں ہے۔ میں جب کمرۂ عدالت میں داخل ہوا تو دیکھا وہ جوان عدالت کا محرر تھا۔

اس مرتبہ عدالت کا جج ایک مشہور شخص تھا۔ اس سے پہلے وہ اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز تھا، بعد میں وہ عدالت کا جج بن گیا۔ جج کی طرف سے مختلف امور کے حوالے سے مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی اور میں جواب دیتا رہا۔ پھر وہ اپنی دونوں جانب بیٹھے مشیروں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: ’’اس شخص کو دس سال جیل کی ضرورت ہے تاکہ اس عرصے میں تحقیق اور تالیف و تصنیف کو مکمل وقت دے سکے۔‘‘

میں نے کہا: ’’ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔‘‘

یقیناً جج نے یہ بات از راہ مزاح کہی تھی لیکن اس کا مزاح اس جوان افسر کی نصیحت والی بات کی تائید  کر رہا تھا۔ یہ عدالت، سابقہ عدالت  کے فیصلے کی تائید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

مجھے جیل سے رہا  ہوئے زیادہ  عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک مرتبہ پھر مجھے مہر کے مہینے میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ میری پانچویں جیل تھی۔ میری چوتھی گرفتاری  23 ستمبر 1970؁ء کو اور پانچویں 27 ستمبر 1971؁ء کو ہوئی۔

*****

([1]) آل عمران : 146

([2]) ایک قسم کا کھانا۔

([3]) چائے گرم رکھنے کا برتن جس کا استعمال ایران میں عام ہے۔

([4]) 1920؁ء کا عراقی انقلاب (ثورۃ العشرین): 1920؁ء میں برطانیہ نے عراق پر قبضہ کیا۔ اسی سال کی گرمیوں میں عراقی عوام نے آیت اللہ سید کاظم یزدی (عروۃ الوثقی کتاب کے مصنف) کی قیادت میں اور پھر آیت اللہ میرزا محمد تقی شیرازی کی قیادت میں برطانیہ کے خلاف قیام کیا۔ اس تحریک میں بہت سے لوگ اور دینی طالب علم شہید ہوئے جن میں سید کاظم یزدی کے بڑے بیٹے بھی شامل تھے۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا اور فوجی طاقت کے ساتھ اس تحریک کو کچل دیا گیا۔