دسواں باب: پرانا قالین
فلسطین کی آواز
سن 1970ء میں مجھے گرفتار کیا گیا جس کی وجہ ساواک کو میرے بارے میں ملنے والی متعدد خبریں تھیں۔ میں اسی سال گرمیوں کی ایک رات بیٹھا ریڈیو کا پروگرام ’’صوت فلسطین‘‘ (فلسطین کی آواز) سن رہا تھا۔ یہ اس سیاہ ستمبر کے دن تھے جب اردن میں فلسطینیوں کو ہولناک قتل عام کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک بڑا حادثہ اور عظیم سانحہ تھا۔ ہمارے پاس اس حادثے کے مقابلے میں سوائے اس کے کہ اپنے غمزدہ دلوں کے ساتھ فلسطینی ریڈیو اٹھائیں اور آخر تک اس قتل عام کی خبریں سنیں، کچھ نہیں تھا۔
مجھے یاد ہے ریڈیو اس رات قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس کے لیے اردن سے یاسر عرفات کا پیغام نشر کر رہا تھا۔ میں خبر نگار کے کے ساتھ ساتھ ریڈیو سے اس پیغام کی عبارت لکھ رہا تھا۔
اس پیغام نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ آج بھی اس کی بعض عبارتیں مجھے یاد ہیں۔ 1980ء میں جب یاسر عرفات تہران تشریف لائے تو میں نے انہیں اس پیغام کی بعض جملے یاد دلائے۔ ان کا ایک جملہ یہ تھا: ’’خون کا دریا۔۔۔ بیس ہزار مقتول اور زخمی۔۔‘‘ تو یاسر عرفات نے کہا: ’’نہیں، بلکہ پچیس ہزار مقتول اور زخمی!‘‘
میں سننے اور لکھنے میں مشغول تھا کہ میرے بھائی سید ہادی حیرت اور پریشانی کی حالت میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا: ’’تم یہاں بیٹھے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے کہاں ہونا چاہیے؟‘‘ بولے: ’’انہوں نے تمہیں گرفتار نہیں کیا؟‘‘ میں نے کہا: ’’آپ مجھے اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ وہ زمین پربیٹھے، سانس لیا اور کہا: ’’میں مسجدِ گوہر شاد میں تھا کہ ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا (اس شخص کا نام لیا۔ وہ شخص اسلامی تحریک سے متنفر اور ظالم حکومت کے ساتھ ہمدردری رکھتا تھا) کہ سید علی خامنہ ای کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میں فورا اٹھا اور جلدی سے آپ کے گھر کی طرف آ گیا۔‘‘ بھائی میری گھر میں موجودگی سے مطمئن ہونے کے بعد چلے گئے لیکن میرے ذہن کو کچھ تشویش میں ڈال گئے۔ میں نے مسئلے کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اگلے دن ظہر سے پہلے حسبِ عادت والد گرامی کے گھر گیا۔ ان دنوں میں روزانہ ان کی زیارت کرتا اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتا تھا جس میں ان کے ساتھ فقہی اور علمی مسائل کے متعلق بحث و گفتگو کیا کرتا تھا۔ میں والدِ گرامی کے پاس بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ والدہ دروازہ کھولنے گئیں۔ تھوڑی دیر بعد حیرت زدہ حالت میں واپس آئیں اور کہا ساواک کے دو لوگ آئے تھے۔ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔
’’اور آپ نے کیا جواب دیا؟‘‘
’’میں نے کہا کہ موجود نہیں ہے۔‘‘
’’امی جان! آپ نے انہیں حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کیا؟‘‘
’’یہ لوگ بھیڑیے ہیں۔ ان کے شر کو روکنا ضروری ہے۔‘‘
وہ ساواک اور ساواکیوں کو لعن طعن کرنے اور اپنے غصے کا اظہار کرنے لگیں۔ والد محترم اس واقعے سے کافی متاثر ہوئے۔ ان کے چہرے پر حزن و ملال ظاہر ہوا۔ مجھے شکایت آمیز لہجے میں کہنے لگے: ’’کیا ہوا؟ کیوں دوبارہ اپنے آپ کو قید اور عدالتوں کے لیے پیش کر رہے ہو؟!‘‘
میں نے کوشش کی کہ والدین کو تسلی دوں اور ان کی پریشانی ختم کروں۔ میں نے کہا: ’’کوئی مسئلہ نہیں ہے، یقیناً وہ غلطی سے ہمارے گھر آئے ہیں۔ ‘‘
پھر میرے ذہن میں آیا کہ ساواک والے ابھی میرے گھر جائیں گے پس مجھے ان سے پہلے وہاں پہنچ کر زوجہ کو بتانا چاہیے تاکہ وہ اچانک انہیں دیکھ کر پریشان نہ ہو جائیں۔ میں نے والدین کو الوداع کیا اور جلدی سے نکلا۔ جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ تمام معاملات معمول کے مطابق تھے اور کوئی بھی گھر کی طرف نہیں آیا تھا۔ میں نے زوجہ کو ساری روداد سے آگاہ کیا۔
ثابت قدم زوجہ کی وفاداری
وفا کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں اپنی ہمسر کے کردار کے حوالے سے چاہے تھوڑا ہی سہی، کچھ ضرور کہوں۔ پہلی خصوصیت یہ کہ وہ اطمینان، سکون اور بلند حوصلے کی حامل تھیں۔ باوجود اس کے کہ ہمارا گھر کئی مرتبہ حکومتی کارندوں کے حملوں کا شکار رہا، میں ان کے سامنے متعدد مرتبہ گرفتار ہوا، آدھی رات کے وقت مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پر حملہ کیا گیا اور مجھے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس کی تفصیل بعد میں آئے گی، لیکن میں نے کبھی اپنی زوجہ پر خوف، کمزوری اور بے چارگی کے آثار نہیں دیکھے۔
وہ مجھ سے جیل میں بلند اور مضبوط حوصلے کے ساتھ ملاقات کرتی تھیں۔ وہ اپنی ملاقات کے دوران میرے اندر اعتماد اور اطمینان پیدا کر جاتی تھیں۔ زوجہ نے مجھے جیل میں کبھی کوئی ایسی خبر نہیں سنائی جس نے مجھے پریشان کیا ہو۔ اور مجھے یاد نہیں کہ کبھی بچوں میں سے کسی کے بیماری کی خبر دی ہو یا والدین اور رشتہ داروں سے متعلق کوئی پریشان کن بات بتائی ہو۔
دوسری صفت انقلاب سے پہلے غربت اور تنگدستی پر صبر وتحمل کرنا اور انقلاب کے بعد سادہ زندگی پر اصرار کرنا تھی۔
خدا کا شکر ہمارا گھر ہمیشہ سے فضول خرچیوں اور ان تکلفات و آرائشوں سے مکمل دور رہا جو عام گھروں میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں میری زوجہ کا بڑا کردار اور حصہ ہے۔ درست ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا آغاز اسی طرح کیا اور زوجہ کی بھی اسی راہ کی طرف رہنمائی کی اور ان کے اندر اس روح کو بیدار کیا لیکن ایمانداری کے ساتھ کہوں گا کہ وہ اس میدان میں مجھ پر سبقت لے گئیں۔
میرے ذہن میں اس نیک و صالح خاتون کے زہد کی بہت ساری یادیں موجود ہیں جن میں سے بعض کا ذکر مناسب نہیں ہے۔ جن چیزوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے اپنے لیے لباس خریدنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ وہ مجھے بتاتیں کہ بچوں کے لیے کپڑوں کی شدید ضرورت ہے اور خود جا کے خرید لاتیں۔ انہوں نے کبھی اپنے لیے زیور نہیں خریدا۔ ان کے پاس اپنے والد کے گھر سے اور بعض عزیزوں کی طرف سے تحفے میں ملنے والا زیور تھا جسے انہوں نے بیچ دیا اور اس کی رقم راہِ خدا میں خرچ کر دی۔ ان کے پاس اس وقت کسی قسم کا زیور یہاں تک کہ ایک معمولی انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ مجھے ان کا زیور بیچنے کا واقعہ یاد ہے۔ ایک سال سردی کے ایام تھے اور مشہد میں عموماً سخت سردی پڑتی ہے۔ لوگ اس زمانے میں گھروں کو گرم کرنے کے لیے کوئلہ خریدتے تھے۔ سردی کے دنوں میں بعض مؤمنین مجھ سے رابطہ کرتے اور مجھے کچھ رقم دیتے تاکہ اس سے کوئلہ خریدوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دوں۔ میں معمولاً کوئلے کی دکان سے کوئلہ خریدتا اور ضرورت مندوں کو اس دکان کی پرچی دے دیتا کہ وہ خود دکان سے کوئلہ اٹھا لیں۔
اُس سال مخیر حضرات نے رابطہ نہیں کیا لیکن ضرورت مندوں نے رابطہ کیا جو عام طور پر ان ایام میں کوئلے کے حصول کے لیے علماء کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ وہ لوگ میرے گھر سے نا امید واپس لوٹ رہے تھے۔ اس چیز نے مجھے بہت غمگین کیا۔ زوجہ نے یہ حالت دیکھی تو مجھے تجویز دی کہ میں ان کا وہ دستبند بیچ دوں جو ایک بچے کی ولادت کے موقع پر ان کے بھائی نے انہیں دیا تھا۔ میں نے انکار کیا لیکن ان کا اصرار جاری رہا۔ میں نے وہ دستبند لے لیا اور ارادہ کیا کہ جتنی زیادہ قیمت میں ممکن ہو اسے بیچ دوں۔ جیولری والے عموما سونا وزن کے ساتھ خریدتے ہیں اور اس پر ہونے والی تزئین و آرائش کی اجرت کا حساب نہیں کرتے۔ اتفاقاً ہمارا ایک دوست اور ہمسایہ ہمارے گھر آیا۔ میں نے اسے پوری کہانی سے آگاہ کیا تاکہ اسے رغبت دلاؤں اور وہ زیادہ قیمت کے ساتھ دست بند کو بیچ دے۔ وہ گیا اور اس نے ایک ہزار اور چند سو تومان میں اسے بیچ دیا اور آ کر کہا: ’’میں اس رقم پر اتنی ہی رقم اور اضافہ کرتا ہوں۔‘‘ پس میرے پاس اچھی خاصی رقم جمع ہوگئی جس سے میں نے کوئلہ خریدا، اور اس طرح میری زوجہ کی پریشانی ختم ہوئی۔
جیسا کہ حطیئہ شاعر نے کہا ہے:
و بات أبوهم من بشاشته أبًا لضيفهم والأمّ من بشرها أما
ان کے ماں باپ اتنے خوش اخلاق اور مہربان تھے کہ ان کے مہمانوں کے ساتھ بھی ماں باپ کی طرح پیش آتے تھے۔
میں سمجھا، تمہارے گھر میں سامان ہوگا
فضول خرچی سے دور رہنے کا میری زندگی پر بہت بڑا اثر تھا کیونکہ ضرورت سے بڑھ کر خرچ انسان کو غلام بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا
لقد دقّت و رقّت و استرقّت | فضول العيش أعناق الرّجال |
فضول خرچی لوگوں کی گردنیں کاٹ ڈالتی ہے، انہیں ذلیل کرتی ہے اور انہیں غلام بنا دیتی ہے۔
شیخ ربانی املشی میرے گہرے دوست تھے۔ وہ دو سال تک حوزہ علمیہ قم کے درسوں میں میرے ہم جماعت رہے۔ وہ ایک سال گرمیوں میں مشہد آئے۔ میں اس وقت اسی شہر میں رہتا تھا اور وہاں میرا گھر تھا لیکن ان گرمیوں میں چند ہفتوں کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر شہر کے قریب ایک گاؤں منتقل ہو چکا تھا۔ مشہد کے دیہاتوں میں (جہاں لوگ گرمیاں گزارتے ہیں) رہن سہن سادہ اور کم خرچ ہے۔ دینی طالب علم گرمی کی چھٹیوں میں ان دیہاتوں میں گھر یا کمرے لے کر رہ سکتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہاں کے اخراجات شہر سے بھی کم ہوتے ہیں۔ میں نے شیخ ربانی سے کہا: ’’آپ میرے گھر میں ٹھہر سکتے ہیں۔ گھردو دنوں علاوہ باقی پورے دو ہفتوں کے لیے خالی ہے۔‘‘ میں نے وہ دو دن ایران کے مختلف علاقوں سے آنے والے جوانوں کے ساتھ نشستوں کے لیے مختص کیے ہوئے تھے اور گھر صبح سے ظہر تک جوانوں سے بھرا رہتا تھا۔ میں نے شیخ ربانی کو گھر کی چابی دی۔ چند دنوں بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ شکریہ ادا کرنے کے بعد کہنے لگے: ’’میں نے سمجھا تمہارے گھر میں سامان ہوگا۔ مجھے معلوم نہیں تھا تم سامان اپنے ساتھ لے گئے اور گھر خالی چھوڑ گئے ہو۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں ہوٹل میں رہ لیتا۔‘‘ وہ ایک خاص لہجے کے ساتھ جس میں ان کا میرے ساتھ صمیمانہ تعلق بھی جھلک رہا تھا، شکایت کیے جا رہے تھے۔ مجھے اصل بات سمجھ آگئی۔ میں نے ان سے کہا: ’’میں نے گھر سے چند کمبلوں، چند پلیٹوں، چمچوں اور ایک گلاس کے علاوہ کچھ نہیں اٹھایا۔‘‘ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے اور بولے: ’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’جی ہاں۔ میرے پاس یہی کچھ ہے اور میرا سارا سامان وہی ہے جو آپ نے گھر میں دیکھا ہے۔ اس سے زیادہ سامان میرے پاس نہیں ہے۔‘‘ شیخ پر خاموشی چھا گئی۔ حیرت سے اپنا سر ہلایا جس میں اپنی شکایت پر افسوس بھی شامل تھا اور ایک شفقت بھرا جملہ کہا جو مجھے ابھی تک یاد ہے۔
چٹائی سے سستا قالین
ہمارے رہن سہن کے بارے میں ایک اور مثال، جس کا تذکرہ کرتا چلوں، ہمارے گھر کا قالین ہے۔ ہمارے گھر میں ایک قالین بچھا ہوا تھا، جیسا کہ ایرانی گھروں میں معمول ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ یہ قالین اضافی ہے تو اسے بیچ دیا اور اپنی زوجہ کے مہمانوں کے کمرے میں دو قالین باقی رہنے دیے اور خود سے کہا: میں ان دو قالینوں کو زوجہ کے جہیز کے قالین کا بدل فرض کرتا ہوں۔ جب میں نے قالین بیچنے کا ارادہ کیا تو زوجہ کے گھر والوں کو نہیں بتایا۔ میری زوجہ کے بھائی اور ماموں قالین کی تجارت کرتے تھے اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھے قالین بیچنے سے روک دیتے۔ میں نے ایک برادر حاج صفاریان کو بلایا، وہ آج بھی مشہد میں رہتے ہیں، اور ان سے کہا: ’’اتنے عدد قالین لے جائیں اور بیچ دیں اور اس کے بدلے ہمارے لیے چٹائیاں خرید لیں۔ چٹائی ایران میں سستی اور چھوٹی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جی حاضر خدمت!‘‘ وہ گئےاور چٹائیاں خرید لائے۔ تین کمروں میں چٹائیاں بچھیں اور کافی ساری چٹائیاں بچ گئیں۔ شاید تین کمروں میں ۹ چٹائیاں بچھیں اور ۱۴ یا ۱۵ چٹائیاں باقی بچ گئیں۔ میں نے اپنے ایک شاگرد شہید کامیاب سے کہا: ’’حاج صفاریان کی گاڑی میں بیٹھو اور ان چٹائیوں کو طالب علموں میں تقسیم کر دو۔ ہر طالب علم کو ایک یا دو چٹائیاں اس کی ضرورت کے مطابق دے دو۔‘‘ اس نے ایسا ہی کیااور شاید ابھی تک بعض برادران کے گھروں میں وہ چٹائیاں موجود ہوں۔
جب زوجہ نے یہ سب دیکھا تو صرف یہی کہا: ’’آپ نے یہ دو قالین میرے کمرے میں کیوں باقی رکھے؟‘‘ میں نے کہا: ’’یہ اس قالین کے بدلے ہیں جو آپ اپنے جہیز میں لائی تھیں۔‘‘ کہنے لگیں: ’’نہیں انہیں بھی بیچ دیں۔‘‘ میں نے اسی برادر حاجی صفاریان کو بلایا اور انہوں نے وہ دو قالین بھی بھیچ دیے۔ پھر ہم نے زوجہ کے مہمانوں کے کمرے میں کارپٹ کے دو ٹکڑے بچھائے۔ وہ اس وقت ہماری نظروں میں چٹائیوں سے بہتر تھے۔ پھر زوجہ نے وہ کارپٹ کے دو ٹکڑے بھی تحفے میں دے دیے اور آج بھی ہمارے گھر میں صرف وہی ۹ چٹائیاں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ گھر میں کسی قسم کا قالین موجود نہیں ہے سوائے قالین کے ایک ٹکڑے کے جس کی دلچسپ کہانی میں بعد میں ذکر کروں گا۔
ہمارے قالین بیچنے کے بعد زوجہ کے بھائی اور ماموں ہمارے گھر آئے۔ گھر دیکھا تو حیران ہوئے اور مجھ سے گلہ کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’قالین باقی رہتا ہے اور چٹائی بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ یہ زہد نہیں بلکہ اسراف ہے۔‘‘ میں نے ان سے کہا: ’’پہلی بات یہ ہے کہ میرے خیال میں کفایت شعاری صرف قالین خریدنے اور چٹائی نہ خریدنے میں نہیں ہے اور پھر میں نےیہ اس لیے کیا کیونکہ لوگ مجھے اپنے لیے نمونۂ عمل سمجھتے ہیں لہٰذا میں چٹائی اور کارپٹ پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘
پھر ان میں سے ایک نے کہا: ’’چٹائی سے سستا قالین بھی موجود ہے۔ آپ نے وہ قالین کیوں نہیں خریدا؟‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا ایسا قالین بھی ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’جی ہاں ایک قالین ہے جسے قالین بیچنے والے ’’اقرع‘‘ کہتے ہیں جس کے بعض اطراف سے اون اتر جاتی ہے اور دھاگے باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر آپ قناعت کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کا قالین خرید لیں۔‘‘ میں گیا اور دو قالین خرید لایا جو ابھی تک موجود ہیں۔ یہ وہ استثنائی قالین ہے جس کا میں ذکر کر رہا تھا۔ وہ دونوں قالین میرے کتابخانے میں بچھے ہوئے ہیں۔ جس گھر میں، میں ابھی رہتا ہوں وہ دو منزلہ گھر ہے: ایک منزل اہل وعیال کے لیے اور اوپر والی منزل میں ایک کمرہ میرے کام کے لیے اور دوسرا استراحت کے لیے۔ اس منزل میں لائبریری کے لیے ایک ہال بھی ہے۔ وہ دونوں قالین اسی ہال میں بچھے ہوئے ہیں اور دونوں تاریخی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں ایران کا صدر تھا اور پارلیمنٹ کی پشت پر ایک سادہ سے گھر میں رہتا تھا تو اس گھر میں بھی یہی دو قالین بچھے ہوئے تھے۔ ایک دوست آئے اور قالین دیکھ کر میرے بچوں سے پوچھا: ’’آپ لوگوں نے دونوں قالین الٹے کیوں بچھائے ہوئے ہیں؟‘‘ بچے ہنستے ہوئے کہنے لگے: ’’قالین الٹے نہیں بلکہ سیدھے ہی بچھے ہوئے ہیں۔‘‘ اون اتر جانے اور صرف دھاگے رہ جانے کی وجہ سے اس دوست نے سمجھا کہ قالین الٹے پڑے ہوئے ہیں۔
زہد کے حوالے سے ہمارے گھر کی بعض ایسی باتیں بھی ہیں جن کا بیان کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ میں پھر کہوں گا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہم سب پر اور اس نیک زوجہ پر فضل و احسان کا نتیجہ ہے۔ دنیاوی زرق برق اور فضول خرچیوں کے حوالے سے اس خاتون کا رویہ واقعا ایک عالی مرتبہ روح کا نتیجہ ہے جو خداوند متعال نے انہیں عطا کی تھی اور ہم بھی اس احسان سے بہرمند تھے۔ جیل، تشدد، شہر بدری اور قاتلانہ حملوں سمیت جتنی مشکلات پیش آئیں میں نے کبھی ان کے چہرے پر کمزوری کے آثار نہیں دیکھے بلکہ میں اپنے مزاحمتی راستے کو جاری رکھنے میں ان کے عزم و ارادے سے مدد لیتا تھا یہاں تک کہ میری مرحوم والدہ اگرچہ صبر، بصیرت اور استقامت جیسی صفات کی حامل تھیں لیکن اس درجے کا تحمل اور استقامت نہیں رکھتی تھیں۔ میری والدہ بہادر اور جرات مند خاتون تھیں۔ آپ ہمیشہ مجھے جہاد کے راستے پر گامزن رہنے کی ترغیب دلاتیں۔ یہاں تک کہ پہلی مرتبہ جیل سے آزاد ہونے پر آپ نے کہاتھا: ’’اے میرے بیٹے! مجھے تم پر فخر ہے اور خدا سے دعاگو ہوں کہ وہ اس راستے میں اپنی توفیق تمہارے شامل حال رکھے۔‘‘ لیکن بار بار کی گرفتاریوں اور جیلوں نے انہیں تھکا دیا تھا اور ایسی باتیں کرنے لگی تھیں کہ گویا میری جوانی جیلوں میں گزر جانے پر شاکی ہیں لیکن زوجہ پر کبھی کمزوری، پریشانی یا تھکاوٹ کے آثار دکھائی نہیں دیے۔
کتاب صلحِ امام حسن
دوبارہ اسی بات کی طرف آتا ہوں جب میں والد کے گھر سے اپنے گھر لوٹا۔ زوجہ نے جیل جانے کی تیاری میں فورا میری مدد شروع کر دی۔ مجھے جب بھی لگتا کہ میں گرفتار ہونے والا ہوں تو اپنے ضروری لوازمات مہیا کرتا اور جیل جانے کے لیے آمادہ ہو جاتا۔ اپنا لباس تبدیل کرتا، ناخن کاٹتا اور مونچھیں اور داڑھی بناتا۔ میں نے یہ سارے کام انجام دیے۔ اس وقت جس چیز کی فکر مجھے لاحق تھی وہ کتاب ’’صلح امام حسن,‘‘ کے ترجمے کا نامکمل ہونا تھا۔ میں اس کتاب کے ترجمے میں مشغول تھا اور ناشر اسے جلدی چھپوانے کا خواہش مند تھا۔ میں نے کتاب کے جس حصے کا ترجمہ کیا ناشر نے وہ مجھ سے لے کر پرنٹنگ پریس بھجوا دیا اور بعض نمونے میرے پاس تصحیح کے لیے بھیجے۔ پس کتاب کا کچھ حصہ چھپ چکا تھا اور کچھ حصے کا ترجمہ ہو چکا تھا لیکن اس کا جائزہ لینا ابھی باقی تھا اور کچھ حصے کا ابھی تک ترجمہ ہی نہیں ہوا تھا۔
میں ان کاپیوں اور صفحات کو الگ کرنے، ترتیب دینے اور منظم کرنے میں مشغول ہو گیا تاکہ اگر جیل میں ان کی ضرورت پڑے تو انہیں منگوا سکوں۔ شاید وہ مجھے میرا کام مکمل کرنے کی اجازت دیں۔ ہم نے دن کا کھانا کھایا، نمازِ ظہرین ادا کی اور ساواک والوں کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ زوجہ پر نیند غالب ہوئی اور وہ گہری نیند سو گئیں۔ میں کتابخانے میں داخل ہوا تاکہ بعض کتابیں نکال لوں۔ ممکن ہے جیل میں ان کے مطالعے کی اجازت مل جائے۔ وہاں میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ کیوں نا میں نظروں سے اوجھل ہو کر کسی محفوظ جگہ پر روپوش ہو جاؤں تاکہ کتاب کا ترجمہ مکمل کرلوں۔ بعد میں جو ہونا ہوا دیکھ لیں گے۔ چند مرتبہ قرآن کریم سے استخارہ کیا، تمام آیات مخفی ہونے کی ترغیب دلا رہی تھیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ تھی:
فَقالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ۔([1])
تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔
میں نے جلدی سے صفحات جمع کیے، زوجہ کو جگایا اور انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ وہ خوش ہوئیں اور کہنے لگیں: ’’کہاں؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں معلوم لیکن میں کتاب کا ترجمہ ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے میری سلامتی کے لیے دعا کی اور مجھے الوداع کیا۔ میں گھر سے اس خیال کے ساتھ نکلا کہ شاید گھر کی نگرانی ہو رہی ہے لیکن کوئی دکھائی نہ دیا۔
اپنے دوست مرحوم شاعر غلام رضا قدسی کے گھر پہنچا۔ انہوں نے مجھے ظہر کی گرمی کے وقت اپنے دروازے پر پایا تو کافی حیران ہوئے۔ میں نے سارا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ بھی میری طرح اسلام کا درد رکھنے والے تھے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ میں ان کے گھر رہوں اور وہیں اپنا ترجمہ مکمل کروں لیکن میں نے قبول نہیں کیا اور ان سے کہا کہ میں چار دیواری کے اندر نہیں رہ سکتا بلکہ کسی ایسی جگہ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں جہاں نقل و حرکت بھی ممکن ہو۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ میرے دوست سید جعفر قمی کو بلائیں تاکہ ہم مل کر مشاورت کریں اور میرے رہنے کے لیے مخفی جگہ کا انتخاب کریں۔ یہ دوست بھی اسلام کا درد رکھنے والوں میں سے تھے اور انہوں نے کئی سال شہر بدری کی زندگی گزار رکھی تھی۔ سید جعفر، مرحوم قدسی کے گھر آئے۔ مشاورت کے بعد طے پایا کہ میں مشہد کے اطراف میں واقع ’’اخلمد‘‘ گاؤں میں رکوں، جہاں لوگ گرمیاں گزارنے آتے تھے۔ میں نے مشہد سے نکلنے اور پھر اس گاؤں جانے کے بارے میں استخارہ کیا۔ دونوں استخاروں کا نتیجہ اچھا نکلا۔ میں نے ایک رشتے دار کو بلایا جن کے پاس گاڑی تھی۔ سید جعفر قمی نے اصرار کیا کہ وہ میرے ساتھ رہیں گے تاکہ میں تنہائی محسوس نہ کروں۔ میں وہاں ایک ماہ یا اس سے زیادہ قیام پذیر رہا۔ کتاب کا ترجمہ مکمل کیا اور تہران بھجوا دیا جہاں برادر حسن تہرانی نیری نے اسے چھپوانا تھا۔
میں مشہد واپس آیا اور معمول کے مطابق زندگی شروع کر دی۔ نقل و حرکت بھی کرتا اور مجالس میں بھی شرکت کرتا۔ میں نے کسی کو نگرانی یا پیچھا کرتے ہوئے نہیں پایا۔ میں نے سوچا شاید وہ لوگ میری گرفتاری کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ شاید جس بات نے انہیں میری گرفتاری پر اکسایا تھا وہ اتنی اہم نہیں تھی۔ میں مطمئن ہو چکا تھا لہٰذا جو چیزیں چھپائی تھیں ان کو واپس اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ لیکن میرا گمان درست نہیں تھا کیونکہ ساواک والے دوبارہ مہر کے مہینے([2]) میں آئے اور مجھے گرفتار کر لیا۔ مجھے تین مرتبہ مہر کے مہینے میں گرفتار کیا گیا، یہی
وجہ ہے کہ میں نے اس کا نام ’’ماہ کین‘‘ رکھا ہوا تھا یعنی نفرت کا مہینہ جبکہ ماہِ مہر کا مطلب محبت والا مہینہ ہے۔
*****
([2]) ایرانی کیلنڈر کے مطابق ساتواں مہینہ جو ستمبر کے آخری عشرے میں شروع اور اکتوبر کے آخری عشرے میں ختم ہوتا ہے۔