آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

پہلاب باب: وہ دن

دوسری منزل کا کمرہ

میں صوبہ خراسان کے شہر مشہد مقدس([1]) میں پیدا ہوا، جہاں آٹھویں امام علی بن موسی رضا, ([2])مدفون ہیں۔ میری ولادت 30 مارچ  1939؁ء  کو ہوئی۔

جس گھر میں میری ولادت ہوئی وہ ایک چھوٹا اور سادہ سا گھر تھا جس کے دو کمرے تھے۔ اک کمرہ دوسری منزل پر تھا جس میں والدین اور چھوٹے بچے رہتے تھے، جبکہ ایک کمرہ نچلی منزل میں تھا جس میں میری سوتیلی بہنیں رہتی تھیں جن کی والدہ میرے والد اور والدہ کی شادی سے پہلےفوت ہو چکی تھیں۔ تقریبا 30 سال بعد گھر میں کچھ ترمیم ہوئی اور پھر اس کے بعد اوپر والا کمرہ دو کمروں میں تقسیم ہو گیا۔

میری ولادت کے دوسرے سال ہم سارے میرے نانا سید ہاشم میردامادی نجف آبادی([3]) کے گھر منتقل ہو گئے۔ آپ اپنے علم، زہد اور تفسیرِ قرآن میں یدِ طولی رکھنے کے حوالے سے مشہور تھے۔ آپ ان دسیوں علماء میں سے تھے جنہیں میری ولادت سے کئی سال پہلے رضا شاہ پہلوی([4]) نے شہر بدر کیا ہوا تھا۔ ان کا گھر نسبتًا وسیع تھا، لیکن جوں ہی نانا کی شہری بدری ختم ہوئی اور وہ واپس آئےتو ہم اپنےاسی چھوٹے سے گھر میں لوٹ آئے۔ اس کے بعد میرے والد کے کچھ چاہنے والوں نے ہمارے گھر کی توسیع کا اہتمام کیا۔ گھر کے ساتھ موجود متروکہ زمین خرید لی۔ دوبارہ سے عمارت بنائی گئی اور اس طرح ہمارا نیا گھر بن گیا۔ دونوں گھروں کا مجموعی رقبہ  200 میٹر کے قریب تھا۔ اب یہ گھر دینی مجالس کے لیے عمومی جگہ بن چکا ہے اور اسے "حسینیہ” (امام بارگاہ) کہا جاتا ہے۔

گھر کا سامان انتہائی کم اور  سادہ تھا۔ جب میرے والد فوت ہوئے (یعنی جس تاریخ کی ہم بات کر رہے ہیں اس کے 45 سال بعد) اس وقت  اس سامان کی قیمت ۴۰ ہزار تومان سے کچھ زیادہ لگی۔ البتہ اس میں کتابوں کی قیمت شامل نہیں تھی۔

میں گھر میں دوسرا بڑا بیٹا تھا۔ سید محمد مجھ سے بڑے تھے، جبکہ باقی بہن بھائی مجھ سے چھوٹے تھے۔

بازار والی مسجد کے امام

میرے والد سید جواد خامنہ ای تبریز کے ایک مشہور ومعروف علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی ولادت 1313؁ھ میں نجف اشرف میں ہوئی۔ ان کے والد (میرے دادا) سید حسین خامنہ ای  تبریز کی جامع مسجد کے امام تھے۔

یہاں میں اپنے دادا کے حوالے سے کچھ کہنا چاہوں گا۔ سید حسین نے نجف میں 20 سال تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ فاضل شربیانی اور شیخ عبد اللہ مامقانی کے والد شیخ حسن مامقانی کے شاگرد تھے۔ 1315؁ھ میں، میرزا شیرازی([5]) کی وفات کے تین سال بعد، آپ نجف سے تبریز واپس آئے۔ نہضتِ مشروطہ([6]) کے آغاز سے چند ماہ بعد۱۳۲۵؁ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ تبریز میں آپ کی تشییع جنازہ ہوئی اور پھر آپ کے جسد خاکی کو نجف لے جا کر قبرستان وادی السلام میں دفنایا گیا۔ آپ مشہور انقلابی عالم شیخ خیابانی کے سسر تھے، پس شیخ خیابانی کی زوجہ ہماری پھوپھی ہوئیں۔ والدمحترم، ہمارے  داد سید حسین کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ عشا کے بعد رات کے پہلے پہر سو جایا کرتے تھے، جبکہ بچے ابھی کھیل میں مشغول ہوتے تھے، اور پھر طلوع فجر  سے دو گھنٹے پہلے عبادت اور مطالعے کے لیے اٹھ جایا کرتے تھے۔ ان کے اکثر مطالعات طلوع فجر سے پہلے ہوتے تھے۔ آپ کا شمار مشہور علماء میں ہوتا تھا اور نجف میں تبریز کے بہت سارے علماء نے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا۔ جب آپ تبریز واپس لوٹے تو اس شہر کی جامع مسجد کے امام (جو آپ کے شاگرد تھے اور ان کا تعلق مشہور "مجتہد” گھرانے سے تھا) نے مسجد کی امامت آپ کوسونپ دی۔

ہمارے چچا سید محمد خامنہ ای نجف میں سید محمد پیغمبر کے نام سے معروف تھے اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشہور تھے۔ آپ آخوند خراسانی اور سید ابو الحسن اصفہانی کے قریبی ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے 1377؁ھ میں نجف کا سفر کیا  تو آخوند خراسانی کے چھوٹے بیٹے حسین آغا سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور میرے چچا کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہوئے کہا:  ’’میں آپ کے چچا کے کاموں کو چلانے والے چار افراد میں سے ایک تھا۔‘‘

والد صاحب کی طرف پلٹتے ہیں۔ آپ اپنے فضل، علم اور اجتہاد میں مشہورتھے۔ میرزا نائینی اور ابو الحسن اصفہانی جیسے بڑے بڑے علماء سے کسبِ فیض کیا۔ آپ انتہائی پاکیزہ، باحیاء اور مال و متاع سے بے رغبت انسان تھے۔

مشہد میں بازار کے درمیان موجود مسجد کے امام تھے جہاں بڑے بڑے تاجر اور مالدار لوگ رہتے تھے  لیکن آپ لوگوں کے مال و متاع کی طرف ہرگز توجہ نہیں دیتےتھے بلکہ آپ کو یہ کام بالکل پسند نہ تھا۔ آپ کی یہ طبیعت اپنے کمال پر تھی جس  وجہ سے آپ تنہائی پسند  تھے جبکہ میں ان کی اس قسم کی طبیعت کا مخالف تھا۔ میں نے ان سے اس کام کے برعکس (لوگوں سے گھل مل کے رہنا) سیکھا۔  آپ سر جھکائے، نظریں زمین کی طرف رکھے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے اور نمازیوں میں سے کسی سے بھی کوئی بات کیے بغیر سیدھے محراب کی طرف چلے جاتے تھے۔ وہاں پہنچ کر اپنی عینک اتارتے، سنت پر عمل کرتے ہوئے عمامے کا تحت الحنک باندھتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ اس کے بعد جس طرح سے آتے اسی انداز میں مسجد سے نکل جاتے۔

وہ محافل میں بھی خاموش ہی رہتے مگر یہ کہ ان سے کوئی سوال پوچھا جائے۔  اپنے قریبی ساتھی علماء کے علاوہ کسی سے گفتگو نہ کرتے اور سوائے علمی موضوعات کےکسی بحث کا حصہ نہ بنتے۔

 اس عزلت  کا نتیجہ انتہائی تنگدستی تھی۔

آپ اپنی کتابوں سے بہت زیادہ  لگاؤ کے باوجود بعض دفعہ تنگدستی کی وجہ سے انہیں بیچنے پر مجبور ہوجاتے۔ جب ہمیں ان کتابوں کے صفحے پلٹتے ہوئے دیکھتے تو ان کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ جب ہمارے ہاتھوں میں اپنی لائبریری کی کوئی کتاب دیکھتے تو اس کی حفاظت کی خاطر محبت آمیز لہجے میں کہتے: ’’یہ سب کیا ہے؟ مہربانی کر کے اسے اپنی جگہ رکھ دو۔‘‘  اس کے باوجود وہ بعض دفعہ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ان کتابوں کو بیچنے پر مجبور ہوجاتے۔

وہ اپنی لائبریری کی الماریوں کی طرف بڑھتے، بیچنےکے لیے کوئی کتاب اٹھاتے، پھر ان پراس کتاب کا بیچنا بہت گراں گزرتا اور کتاب کو دوبارہ اپنی جگہ رکھ دیتے۔ دوسری کتاب اٹھاتے، تیسری اٹھاتے۔۔۔ آخرکار نہ چاہتے ہوئے بھی بعض  کتابوں کا انتخاب کرتے اور انہیں اٹھا  کر ہم میں سے کسی ایک سے کہتے: ’’یہ کتابیں شیخ ہادی کے پاس لے جاکر  انہیں  بیچ دو۔‘‘ شیخ ہادی ہر قسم کی کتاب خریدنے کے حوالے سے  مشہور تھے۔ وہ کتاب خرید کر اپنی دکان میں رکھ لیتے اوراسے اچھی قیمت پر آگے بیچ دیتے۔ وہ کہتے تھے: ’’میں گراں فروشی میں مشہور ہوں، لہٰذا کتاب خریدنے پر مجبور لوگ ہی مجھ سے خریدتے ہیں اور جو مجبور ہوتا ہے وہ ہر قیمت پر کتاب خریدتا ہے۔‘‘ اس طرح  شیخ ہادی کتابیں خریدتے اور بیچتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ہم  سارے بچے اپنے نانا سید میردامادی کے گھر جاتے تھے اور وہ ہمیں ایک یا آدھا ریال دیتے تھے، جیسے باپ  دادا اپنے بچوں کو پیسے دیا کرتے ہیں۔ یہ  بہت مختصر رقم تھی لیکن بعض دفعہ ایسا ہوا کہ والدہ یہ رقم لینے پر مجبور ہو گئیں تاکہ   رات کو ہماری بھوک مٹانے کا سامان فراہم کر سکیں۔

میں نے اپنے والد کے گھر ایسا فقر دیکھا ہے کہ شاید ہی علماء کے گھروں میں دیکھنے کو ملے۔ والد صاحب ہرگز اپنے فقر و فاقہ کا تذکرہ کسی سے نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے برخلاف، ان کی خودداری اور ظاہری حالت کی وجہ سے لوگ انہیں امیر سمجھتے تھے۔  گرمیوں میں صرف ’’خاچی‘‘ عبا پہنتے تھے، جو عبا کی سب سے مہنگی قسم ہے۔ اس کے بعد مخلوط اور پھر مشین سے سلی عبا کی قسمیں آتی ہیں۔ سردیوں میں ’’نائینی‘‘ عبا پہنتے تھے۔ یہ علماء کے درمیان رائج عبا ’’ماہوت‘‘  سے زیادہ نفیس ہے جبکہ  بعض دفعہ قبا کو پیوند لگانے پر مجبور ہو جاتے، کیونکہ  وہ عبا کے نیچے چھپی رہتی تھی۔

والد صاحب کو ہمیشہ مجھ سے خاص محبت تھی۔ جب بھی سفر پر جاتے تو مجھ ساتھ لے جاتے۔ ایک مرتبہ آپ کی بینائی چلی گئی، لیکن پھر لوٹ آئی۔ آپ نے تہران میں اپنا علاج جاری رکھا۔ اس دوران تین مرتبہ آپ نے تہران کا سفر کیا اور ہر دفعہ میرے علاوہ کسی اور کو ساتھ لے جانے پر راضی نہ ہوئے۔ ۱384 ؁ھ(1964؁ء) کے دوران میں قم([7]) میں تھا جب والد صاحب نے مجھے خط لکھ کر مشہد بلایا تاکہ میں ان کے ساتھ تہران جا سکوں۔ کچھ تبلیغی امور کے سلسلے میں مجھے زاہدان جانا تھا جس کی وجہ سے مجھے مشہد پہنچنے میں تاخیر ہو گئی۔ جب میں زاہدان گیا تو مجھے گرفتارکر لیا گیا۔ گرفتاری کے دوران میری سب سے بڑی پریشانی والد صاحب کے حوالے سے تھی کہ جو  میرے بغیر سفر نہیں کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے گرفتاری کے بعد  زاہدن سے تہران منتقل ہوتے ہوئے جہاز میں بیٹھے مجھے والد صاحب کی یاد آئی۔ ایسا لگا کہ یہ پریشانی دل کو کھائے جا رہی ہے اور اندر ہی اندرعجیب انداز میں اضطراب کی موجیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں۔ دل ہی دل میں سوچا کہ جہاز کے اندر میری یہ حالت ہے تو جیل جانے کے بعد میری کیا حالت ہوگی؟! اللہ تعالی سے توسل کیا اور گڑگڑایا کہ میرے دل کو سکون مل جائے۔ کچھ دیر کے لیے توجہ ہٹ گئی مگر پھر پلٹ کر دوبارہ والدصاحب یاد آ گئے۔ اس مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ وہ پریشانی اور اضطراب والی کیفیت اب نہیں ہے۔ اب دل محبت، شوق اور رحم بھری حالت سے لبریز تھا، لیکن ساتھ میں اطمینان بھی تھا جس کی چاشنی اب بھی واضح انداز میں یاد ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری دعا سن لی اور اطمینان و سکون کی نعمت سے نوازا۔ یہ ایسی نعمت ہے جس کی قدر صرف پریشانی اور اضطراب کی حالت سے دچار ہونے والا  ہی جان سکتا ہے۔

نجفی لہجہ

میری والدہ نجف میں پیدا ہوئی تھیں اور عربی لہجہ رکھتی تھیں۔ بچپن میں وہ نجفی عربی لہجے میں بات کیا کرتی تھیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں اور خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ زندگی کے آخری ایام میں ان کی آواز بیٹھ گئی، تب میں ان کو ان کی خوبصورت آواز یاد دلایا کرتا تھا۔

آپ روزانہ اپنے والد کی طرف سے تحفے میں دیے گئے قرآن کی تلاوت پابندی سے کرتی تھیں۔ بچپن میں آپ کی تلاوت کا انداز ہمیں اپنی طرف کھینچتا تھا۔ ہم ان کے گرد جمع ہوتے اور غور سے تلاوت سنتے۔ وہ موقع غنیمت جانتے ہوئے ہمارے لیے بعض آیات کا فارسی میں ترجمہ کرتیں اور انبیاء.کے قصے سناتیں۔ حضرت موسیٰ ,کی زندگی سے خاص شغف  کی وجہ سے وہ ہمیں اس عظیم پیغمبر کی زندگی کے بارے تفصیل سے بتاتیں۔ حضرت موسیٰ, کے بارے میں وہ شوق سے بولتی تھیں جس  سے ہمارے دلوں میں ان کے قصے سننے کی رغبت پیدا ہوتی۔

وہ حافظ کے دیوان سے مانوس تھیں۔ اس کے بعض اشعار انہیں یاد بھی تھے اور اس سے فال بھی نکال لیتی تھیں۔ اسی طرح وہ حدیث کی بھی ماہر تھیں اور حدیثیں سناتی تھیں۔ بعض دفعہ والد محترم اعتراض کرتے کہ میں نے یہ حدیث آج تک نہیں سنی تو والدہ حدیث کا مصدر بتاتیں۔ والدہ بھی والد کی طرح خوددارتھیں۔ کبھی اپنے فقر کا تذکرہ کسی سے نہیں کیا اور مختلف انداز میں اپنی مشکلات کو چھپایا کرتیں۔

میں نے اپنی والدہ سے ابتدائی طور پر قرآن پڑھنا اور عربی زبان کے قواعد سیکھے۔ اسی طرح انہوں نے بہادری اور مزاحمت کی روح میرے اندر ایجاد کی۔ میری مسلسل گرفتاری اور ساواک([8]) کے چھاپوں کے دوران والدہ نے بہت زیادہ زحمتیں اٹھائیں۔ آپ حملہ کرنے والے کارندوں کے سامنے شجاعت اور صلابت کے ساتھ کھڑی ہوتیں، ان کو جواب دیتیں اور ان سے بحث کرتیں،  بلکہ اکثر  اس کٹھن راستےمیں آگے بڑھنے کے حوالے سے میری حوصلہ افزائی کرتیں۔ اس کی تفصیل  بعد میں بیان کروں گا۔

سنگدل استاد

میری تعلیمی زندگی کا آغاز مکتب سے ہوا۔ پرائمری اسکول میں جانے سے پہلے مجھے دو مکتبوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلی جماعت کی استاد ایک خاتون تھیں۔ اس وقت میری عمر چار سال تھی اور میں تنہائی پسند تھا۔ میں اپنے آپ کو لکھائی پڑھائی کے ساتھ سازگار نہیں پاتا تھا۔ اس کی وجہ شاید میری نظر کی کمزوری  تھی، جس کی تفصیل بعد میں بیان کروں گا۔ اُس دورانیے کی جو چیز اِس وقت سب سے زیادہ میرے ذہن میں  آتی ہے  وہ اس دور کا غلط  تعلیمی و تربیتی طریقہ کار ہے۔ کوئی خاص تعلیمی نصاب نہیں تھا۔ مکتب پر سختی کا قانون نافذ تھا جس کی کسی طور پر بھی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔ مجھے یاد ہے کہ ’’مُلّا باجی‘‘ (استاد)بعض دفعہ کسی پروگرام میں چلی جاتیں اور اپنی جگہ اپنی ہمسایہ خاتون رباب کو معین کر جاتیں۔ یہ خاتون فضول کاموں میں ہمارا وقت ضائع کرتیں، مثلاً ہمیں ایک صف میں کھڑا کرتیں، پھر اپنے شوہر کے پاس لے جاتیں جو بیماری کی وجہ سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔ ہم باری باری اس کے سامنے سے گزرتے اور وہ ڈنڈے سے ہمارے ہاتھوں پر مارتا جاتا۔ میرے ساتھ میرے بڑے بھائی بھی اس مکتب میں تھے۔

1943؁ء میں جب میری عمر پانچ اور چھ سال کے درمیان تھی، والد محترم ہمیں ایک اور مکتب میں لے گئے جو مسجد کے ایک کمرے میں واقع تھا۔ مجھے آج بھی درس کا وہ کمرہ یاد ہے جو تاریک تھا۔ یہ بھی شاید مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے ایسا لگتا تھا۔ استاد نے گرمجوشی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور اپنی دائیں طرف ہمیں بٹھایا۔  وہ ہمیشہ ہمیں بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ میں نے اور میرے بھائی نے یہاں قرآن کا آخری پارہ ’’عم‘‘ پڑھنا شروع کیا۔ استاد عربی زبان کے حروف تہجی سکھانے سے آغاز کرتے تھے، اور پھر اس کے بعد تیسواں پارہ سورہ والناس سے پڑھانا شروع کرتے تھے۔ ہمارے علاوہ دوسرے طالب علموں کے ساتھ استاد کا رویہ اتنہائی سخت تھا۔ اس مکتب کے حوالے سے جو کچھ میرے ذہن میں ہے وہ استاد کی سختی، کمرے کی ٹھنڈک اور تاریکی ہے۔ گھر سے مکتب  کا راستہ پھٹے ہوئے جوتوں میں طے کرتا تھا اور سردیوں میں کیچڑداخل ہونے کی وجہ سے پاوں آلودہ ہو جاتے تھے۔

استاد کی ایک عجیب عادت یہ تھی کہ وہ جمعرات کے روز گھر جانے سے پہلے طالب علموں کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور ان سے کہتے تھے: ’’میں تمہاری زبانوں پر مہر لگا ؤں گا۔  جمعہ کے دن جو بھی نماز کا پابند رہے گا اس کی زبان پر مہر باقی رہے گی ورنہ اس کا نشان مٹ جائے گا۔‘‘ اس کے بعد، مہر اٹھاتے، اسے سیاہی میں ڈبوتے اور  ہر طالب علم کی زبان کے نیچے مہر لگا دیتے۔ ہفتے کی صبح قیامت کا منظر ہوتا۔ تمام طالب علم صف میں کھڑے ہو جاتے اور پھر ان کی زبانیں دیکھی جاتیں۔ بعض کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ میں بھی طالب علموں کے ساتھ صف میں کھڑا ہوجاتا، اور خوف سے رو رہا ہوتا تھا۔ مار کے ڈر سے نہیں کیونکہ وہ ہمارا احترام کرتے تھے اور ہمیں نہیں مارتے تھے بلکہ اس منظر کی ہولناکی کی وجہ سے۔

وہ روشن دن

موجودہ صدی کی دوسری دہائی (ایرانی شمسی سال کے مطابق) کا آغاز رضا خان کو حکومت سے ہٹانے سے ہوا اور مصدق([9]) کے معاملے پر اس کا اختتام ہوا۔ اس دہائی میں، بالخصوص آذربائیجان والے واقعے کے بعد، ایران کے اندر کمیونیزم کا خطرہ بڑھ گیا۔ حکومت نے اس خطرے کا مقابلے کرنے کے لیے بعض دینی سرگرمیوں کو موقع فراہم کیا۔ اسی دہائی کے دوران مشہد میں پہلے دینی سکول کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام ’’دار دیانتی برائے تعلیم‘‘ تھا۔  اس کے مدیر ’’میرزا حسین تدین‘‘ تھے۔ ان کا تعلق کرمان سے تھا اور وہ مشہد میں رہائش پذیر تھے۔ جس وقت میں ایران کا صدر تھا تب وہ مجھ سے ملنے آئے تھے۔ اس سکول کی بنیاد بعض مؤمن اور مخیّر حضرات نے رکھی تھی، جن میں شیخ غلام حسین تبریزی بھی شامل تھے،  جو تبریز میں شیخ خیابانی کے ہم درس و ہم مباحثہ تھے اور ان کا شمار تبلیغی میدان میں کامیاب علماء میں ہوتا تھا۔ یہ پہلی سے چھٹی جماعت تک کا مکمل پرائمری سکول تھا ۔

جب  میں اس سکول میں داخل ہوا اس وقت میری عمر چھ سال تھی۔ انہوں نے مجھے پہلی جماعت میں بٹھا دیا۔ میرے بھائی کی عمر دس سال تھی اس لیے انہیں چوتھی جماعت کے طالب علموں کے ساتھ بٹھا دیا۔

مجھے یاد ہے کہ میں  پہلے تین سالوں کے دوران اپنے آپ کو پڑھائی  میں دوسرے طالب علموں سے پیچھے محسوس کرتا تھا، لیکن پھر چوتھی، پانچویں اور چھٹی جماعت میں رتبہ اول پر آگیا۔ اس تبدیلی کی وجہ میری سمجھ میں نہ آتی تھی لیکن کچھ سال پہلے مجھے اس حقیقت کا پتا چل گیا۔ مجھے یاد آیا کہ میں جب چوتھی جماعت میں تھا تو پہلی صف میں جا بیٹھا اور استاد جو کچھ بورڈ پر لکھتےتھے اسے دیکھنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں جو وہ بولتے تھے وہ سمجھنے لگا جبکہ پہلے تین سالوں میں، میں بورڈ سے دور بیٹھتا تھا اور نظر کی کمزوری کی وجہ سے جو کچھ اس پر لکھا جاتا تھا اسے میں دیکھ نہیں سکتا تھاجس کے نتیجے میں استاد کا درس بھی مجھے سمجھ نہیں آتا تھا۔ اب بھی مجھے وہ روشن دن یاد ہے جب  مجھے درس سمجھ آنا شروع ہوا۔ پہلا درس ریاضی کا تھا اور میں نے استاد سے خوب شاباش لی۔ یہ تعلیم و تربیت کا ایک اہم مسئلہ ہے جس کی طرف میں نے اس وقت بھی اساتذہ کی توجہ دلائی جب میں ایران کا صدر تھا اور نئے تعلیمی سال کے آغازکے حوالے سے مجھ سے انٹرویو لیا گیا۔

اس اسکول میں خوبصورت آواز میں، تجوید کے ساتھ  قرآن مجید پڑھنے کے حوالے سے میں نمایاں تھا۔ سکول کی محافل  میں اور سکول کا دورہ کرنے والی شخصیات کے سامنے قرآن کی تلاوت میں ہی کیا کرتا تھا۔ جب آیت اللہ کاشانی نے (1950؁ء یا 1951؁ء میں) مشہد کا دورہ کیا اور سکول ان کے استقبال کے لیے گیا تب میں نے ہی ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی تھی اور  اس وقت میری عمر بارہ سال تھی۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ سید چند علماء کے ساتھ بیٹھے تھے لیکن وہ چہرے اب مجھے یاد نہیں ہیں کیونکہ اس وقت میری نظر کمزورتھی۔ اسی طرح سید حسن قمی جب اپنے والد کی وفات کے بعد مشہد آئے تو ان کے سامنے بھی میں نے تلاوت کی تھی۔ سکول کے بانیوں میں سے بعض ا ن کے والد کے مقلد تھے، لہٰذا سید قمی سکول آئے۔ ہم سب صف میں کھڑے تھے۔ میں اور ایک دوسرا طالب علم آگے بڑھے۔  ہم نے قرآن کی تلاوت کی، زبانی یاد کی ہوئی کچھ دینی تعلیمات سنائیں اور ان سے انعام حاصل کیا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ وہ انعام سید حسام الدین فال اسیری شیرازی کی لکھی کتاب ’’تعلیمات دینی‘‘ تھا۔ میں نے بعد میں اس کتاب کے مصنف کو بھی دیکھا جب وہ شہر بدر ہو کر مشہد آئے۔ ان کا میرے والد کے پاس آنا جانا رہتا تھا۔

قرآن کی تعلیم

میں نے بچپنے میں اپنی والدہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد محلے کے ایک دکاندار سے بھی قرآن سیکھا جو قرائتِ قرآن میں مہارت رکھتے تھے اور گھروں میں قرائت کے دوروں کی صدارت کیا کرتے تھے۔ والدِ محترم نے مجھے اور بھائی کو اس مردِ مومن کے حوالے کیا جن کا نام حاج رمضان علی تھا۔ وہ ہمارا  احترام کرتے تھے۔ باہر نکلتے وقت ہمیں خود پر مقدم کرتے تھے جبکہ ان کی عمر پچاس برس تھی۔ ہمیں اپنے دائیں بائیں  بٹھاتے تھے۔ میں ان کے سامنے قرآن پڑھتا تھا اور وہ اصلاح کرتے جاتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ہم سے کہا: ’’تم دونوں اس مرحلے تک پہنچ چکے ہو کہ اب میں مزید کچھ نہیں سکھا سکتا۔‘‘

انہوں نے ہمیں اپنے استاد ملا عباسی کے درس میں جانے کا مشورہ دیا۔ ان کی عمر ۷۰ سال تھی اور وہ حرم امام رضا, کے صحن میں پڑھایا کرتے تھے۔ ہم ان کے پاس گئے اور ان سے درس پڑھا۔ ان کی عادت تھی کہ وہ ہندوستان میں چھپے قرآن کے ایک نسخے سے، باوجود اس کے کہ اس کا خط انتہائی مشکل تھا، پڑھا کرتے تھے کیونکہ وہ ہندوستان والے نسخے کو صحیح سمجھتے تھے۔ اسی طرح ان کی یہ عادت بھی تھی کہ   ملاقات اور خدا حافظی کے وقت سنتِ سلام کی پابندی کیا کرتے تھے جبکہ ایران میں صرف ملاقات کے وقت سلام کرنے کا رواج ہے اور خدا حافظی کے  وقت  کچھ فارسی (دعائیہ) عبارتیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ہم نے ان کے پاس  فارسی زبان میں لکھی سید محمد عرب زعفرانی کی کتاب ’’التجوید‘‘ پڑھی۔ وہ ایک عرب تھے، مشہد میں رہتے تھے اور ہمارے استاد قاری ملا عباسی ان کے شاگرد تھے۔

عمامے کو درپیش مشکلات

ایران میں عموماً دینی علوم سے مربوط لوگ ہی عمامہ پہنتے ہیں چاہے وہ طالب علم ہوں، اساتذہ ہوں یا مبلغین۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک گروہ ایسا ہے جو دین کے معاملات کو سمجھتا  ہے، اس کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مزاحمت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمامہ ہمیشہ استعمار کے ایجنٹوں اور سیکولرازم کے داعیوں کے نشانے پر رہا ہے۔ رضا شاہ نے عمامہ اتارنے اور پہلوی ٹوپی پہننے کا حکم جاری کیا لیکن بعد میں اس کے بیٹے محمد رضا شاہ([10]) کو اس ناکام فرمان سے دستبردار ہونا پڑا، اگرچہ حکومتی مشینری نے عمامے کے خلاف توہین و تمسخر سے بھرپور اجتماعی فضا ایجاد کرنے کی منصوبہ بندی کیے رکھی۔

میں نے اپنے بچپن ہی میں اس وقت عمامہ پہن لیا تھا جب میں پرائمری سکول کے دوسرے سال میں تھا ۔ بہت جلد عمامہ پہننے کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں لوگوں کے درمیان سر  ڈھانپنے کا رواج تھا۔ والد صاحب  اس بات پر راضی نہ تھے کہ ہم پہلوی ٹوپی پہن لیں لہٰذا عمامہ پہننا ضروری ہوگیا۔

  والدہ ہمارا عمامہ خود باندھتیں۔ وہ عمامے کا تحت الحنک بائیں کی بجائے دائیں جانب رکھا کرتی تھیں۔ ہم نے بچپن ہی سے عمامے کے خلاف تمسخرآمیز ماحول کا سامنا کیا۔  لوگوں سے اس قدر تمسخر آمیز کلمات سنے کہ یہ ماحول ہماری نظروں میں معمولی بن گیا تھا۔ اس کی علت کے بارے میں نے غور ہی نہیں کیا تھا مگر جب بڑا ہوا تب سوچنا شروع کیا۔ اپنے حافظے پر زور دیا اور تعجب کا اظہار کیا۔ اس ماحول سے کوئی بھی معمم، چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، نہیں بچ سکا تھا۔

آپ کیوں، سید؟!

عمامہ اور دینی علماء کا تمسخر ایران میں مختلف طریقوں سے رائج تھا، جو ایک  سماجی رویے میں تبدیل ہوکر معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ میں بھی اس سماجی رویے سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ہمارے محلے میں ایک معمم عالم دین تھے جن کا نام شیخ فائقی تھا۔ وہ ایک فاضل انسان تھے اور مجالس میں امام حسین, کے مصائب پڑھا کرتے تھے۔ ان کی ہلکی سی داڑھی تھی اور سر پر ایک بڑا سا عمامہ تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے گدھے پر سوار ہوتے تھے جو  تیز دوڑتا تھا۔ ان کا گھر ہماری  ساتھ والی گلی میں تھا۔ وہ روزانہ گدھے پر سوار تیزی کے ساتھ  گلیاں عبور کرتے ہوئے ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتے تھے۔

ایک دن میں اپنے دوستوں کے ساتھ والی بال کھیلنے میں مصروف تھا۔ میں نے سب سے زیادہ یہی کھیل کھیلا ہے۔ کھیل کےدوران میں صرف قبا پہن کر عمامہ اتار دیا کرتا تھا۔ قبا بھی علماء اور دینی طالب علموں کا لباس ہے۔ کھیلتے ہوئے ہم نے شیخ فائقی کو  گدھے پرسوار تیزی کیساتھ دور سے آتے ہوئے دیکھا۔ لڑکوں نے شیخ کا مذاق اڑانے کی منصوبہ بندی کی۔ جب وہ قریب پہنچے تو سب نے آواز کسنا شروع کی، میں بھی ان میں سے تھا: ’’آشیخ، آشیخ۔‘‘ یہ خود سے کوئی برا لفظ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ’’آغا شیخ‘‘ کا مخّفف ہے، یعنی جناب شیخ۔ لیکن جب چند لوگ مل کر یہ لفظ ہنستے ہوئے بولیں تب یہ تمسخر کی علامت ہے۔ جب شیخ ہمارے پاس پہنچے، اپنے گدھے کا رخ ہماری طرف موڑا اور غصے کی حالت میں ہماری طرف بڑھے تو سب لڑکے بھاگ گئے، اور میں وہیں کھڑا رہا۔ وہ گدھے سے اترے اور میرے نزدیک آئے۔ وہ مجھےاور میرے والد صاحب کو جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں خود بھی معمم ہوں۔ مسکراتے ہوئے لہجے میں، جس میں رعب و ملامت کے ساتھ ساتھ لطافت بھی شامل تھی، انہوں نے کہا: ’’اے پیارے سید! آپ کیوں؟‘‘

افواہوں کی جنگ

یہ فضا ایک خاص منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا جس میں مختلف افواہیں پھیلائی گئیں تاکہ دینی علماء کو معاشرے اور زندگی سے جدا کر دیا جائے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ایک افواہ لوگوں کے درمیان پھیلی ہوئی تھی جس کی کہانی چند دینی علماء سے متعلق تھی جو رات گزارنے کے لیے مشہد کے اطراف میں جمع تھے۔ ان کے آگے سماور([11]) رکھا تھا جس پر چائے کی کیتلی رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے سماور میں عرق اور کیتلی میں شراب ڈالی اور پھر نشہ کرنے اور ناچنے لگے۔ بہت سارے لوگ کہتےتھے: ’’ہم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘‘ اور بعض کہتے تھے: ’’ہم نے اس سے سنا ہے جس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘‘ اس کہانی کا من گھڑت ہونا واضح ہے۔ انہوں نے کیوں شراب اور عرق کو اس انداز میں رکھا؟ کیا وجہ تھی کہ وہ سرِ عام  لوگوں کے سامنےاس انداز میں بیٹھے ہوئے تھے؟ اس کہانی کے مندرجات خود اس کے جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں۔ اس کے باوجود میں نے یہ کہانی بہت سارے لوگوں سے سنی ۔ وہ سب کہتے تھے: ’’میں نے دیکھا۔۔ یا میں نے اس سے سنا جس نے خود دیکھا تھا۔‘‘  

 علمائے دین معاشرے کے اندر تمام تر انحرافات کے مقابلے میں دین کے دفاع کی ذمہ داری  اٹھاتے ہیں۔ وہ اسلامی معاشرے میں ہر ظالم اور اجنبی کے تسلط کا مقابلہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسی ذمہ داری کی وجہ سے ایران کی موجودہ تاریخ میں قابض طاقتوں، ظالموں اور جابروں کے مقابلے میں علماء کےسخت موقف دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی ایک مثال روسیوں کے مقابلے میں میرزا قمی کا موقف ہے۔ انہوں نے اپنے معروف ’’رسالہ عباسیہ‘‘ نامی کتابچے میں مشہور فتوی صادر کیا۔ یہ عباس میرزا ابن فتح علی شاہ کا زمانہ تھا جب وہ روس کے خلاف لڑ رہے تھے۔ عباس میرز انسبتاً مخلص انسان تھے اور اپنے وطن کی نسبت خیانت کار نہیں تھے۔ اس کی ایک اور مثال تنباکو والے مسئلے([12]) میں دینی مرجعیت کا موقف ہے۔ اسی طرح آئینی تحریک (مشروطہ) میں علماء کا موقف ایک اور مثال ہے۔

مرحوم مدرس کے موقف کو بطور مثال لیں۔ وہ اصفہان شہر سے پارلیمنٹ کے پہلے انتخابات میں بطور امیدوار کھڑے ہوئے اور بھاری اکثریت سے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا شمار ان پانچ فقہاء میں ہونے لگا جن کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی قانون اسلامی شریعت کے خلاف آئے تو اسے رد کرسکیں۔ دوسری مرتبہ وہ تہران شہر سے امیدوار بنے اورسب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار قرار پائے۔ اسی طرح تیسرے اور چوتھے انتخابات میں بھی وہ منتخب ہوتے رہے۔ لیکن چوتھے دورے میں  حکومت قاجاریوں سے پہلوی خاندان کی طرف منتقل ہوئی۔ مرحوم مدرس نے انتقالِ اقتدار اور رضاشاہ پہلوی کے اقدامات کی مخالفت کی۔ پانچویں انتخابات آتے ہیں، اور وہ ایک بار پھر حصہ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے حق میں ایک بھی ووٹ نہیں پڑتا۔ مرحوم مدرس بلند آواز میں کہتے ہیں:  ’’میں نے اپنے حق میں ووٹ ڈالا۔ پس میرا ووٹ کہاں ہے؟‘‘

ان مثالوں سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ دینی علماء معاشرے میں اچھا خاص اثر رسوخ رکھتے تھے۔ ان کے موقف ان اصولوں پر استوار ہوتے تھے جن پر قوم ایمان رکھتی تھی اور انہیں مقدس سمجھتی تھی۔ ان اصولوں کی راہ میں جان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور یہ اصول ظلم، لوٹ مار اور بیرونی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔  اسی لیے دینی علماء کو معاشرے سے دور کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں بشمول سیاست سے کاٹنے کے لیےظالم حکمرانوں کو منصوبہ بندی کرنا پڑتی تھی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے انہوں نے ہر راستہ اپنایا، چاہے اس کے لیے علماء کو قتل کرنا پڑے، جیل میں ڈالنا پڑے یا شہر بدر کرنا پڑے۔

1935؁ء میں سانحہ مسجد گوہر شاد([13]) پیش آیا۔ اس  میں بہت سے لوگ مارے گئے اور بہت سے علماء گرفتار کر لیے گئے۔ جن علماء کو گرفتار کیا گیا ان میں میرے نانا سید ہاشم میردامادی، سید خوئی کے والد سید علی اکبر خوئی (جو میرے والد صاحب سے تقریبا ۲۰ سال بڑے  اور ان کے دوست  تھے)، شیخ حبیب اللہ ملکی (وہ بھی میرے والد کے دوستوں میں سے تھے۔ میرے والد کا نکاح اور میرا نکاح انہوں نے پڑھا تھا۔ آپ آخوند کے شاگردوں میں سے تھے)، سید عبد اللہ شیرازی، شیخ صاحب الزمان ارومی، ڈاکٹر مہدی محقق کے والد حاج محقق، شیخ اسماعیل تائب (الرسائل العرفانیہ کے مصنف) اور حاج آغا حسین قمی (آپ رضا شاہ کو نصیحت کرنے تہران گئے  تو  وہاں آپ کو گرفتار کر کے ایران سے جلا وطن کر دیا گیا) شامل تھے۔

اسی ضمن میں بتاتا چلوں کہ میرے والد گرامی مسجد کے راستے میں تھے کہ ایک دوست سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس دوست نے مسجد گوہر شاد([14]) میں جو کچھ ہوا اس کی خبر انہیں  دی، اور ان کو مسجد میں جانے سے روکا۔ گوہر شاد کے حادثے میں ۲۰ کے قریب علماء گرفتار کیے گئے۔ انقلاب کے بعد میں نے ان کی فائلوں سے تصویریں منگوائیں تو ان کے نیچے لکھا ہوا دیکھا: ’’جرم: سیاست‘‘۔ یعنی سیاسی امور میں مداخلت ان کا جرم تھا۔ پہلوی نظام کا فلسفہ ہی یہی تھا کہ دین اور معاشرے کو جدا کیا جائے۔ فردوست([15]) نے جو یاداشتیں لکھی ہیں ان میں یہ بات واضح طور پر آشکار ہے۔

*****

([1]) مشہد الرضا,: آبادی کے لحاظ سے ایران کا دوسرا بڑا شہر۔ ملک کے شمال مشرق میں واقع ہے اور صوبہ خراسان رضوی کا مرکز ہے۔ اس میں امام علی بن موسی رضا, کا روضہ مبارک ہے۔ اسی وجہ سے یہ شہر ہر سال ایران اور ایران کے باہر سے آنے والے لاکھوں زائرین کی مہمان نوازی کرتا ہے۔

([2]) امام علی بن موسی رضا: ائمہ اہل بیت. میں سے ہیں۔ آپؑ نبی اکرم3 کی ذریت سے شیعوں کے آٹھویں امام ہیں۔ آپ کی امامت کا دور ہارون الرشید کے زمانے میں آپ کے والد گرامی موسی بن جعفر- کی شہادت کے بعد شروع ہوا۔ ہارون الرشید کی موت کے بعد مامون عباسی نے آپ کو خراسان آنے اور ولی عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اس ذریعے سے مامون اہل بیت نبوت. کی نیک نامی کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا کیونکہ اسے خطرہ تھا کہ مسلمان امامت اور ولایت کے مسئلے میں اسی شجرہ طیبہ کی طرف رجوع کریں گے لیکن امام رضا, کی ولی عہدی کے باوجود مسلمانوں کے درمیان ان کا مقام کم نہیں ہوا اور مامون اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ آخرکار شہر طوس میں مامون کے دیے ہوئے زہر کی وجہ سے امام کی شہادت واقع ہو گئی۔ آج مشہد شہر کے اندر آپ,کی قبر مبارک ایک عظیم روضے میں تبدیل ہوچکی ہے۔

([3]) سید ہاشم میردامادی نجف آبادی (1886؁ءتا 1960؁ء):آپ آغا خامنہ ای کے نانا ہیں۔ نجف اشرف میں فقہ اور اصول میں اپنے زمانے کے بڑے علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپ عرفان کی طرف مائل تھے اور بڑی شخصیات جیسے سید احمد کربلائی اور سید مرتضی کشمیری سے رابطے میں تھے۔ مشہد کی طرف ہجرت کے بعد رضا شاہ پہلوی کے دورِ حکومت میں آپ کا شمار خراسان کے علماء اور مجاہدین میں ہونے لگا۔ آپ جبری حجاب اتارنے اور پہلوی ٹوپی کو لازمی قرار دینے کے خلاف تھے اور گوہر شاد مسجد کے واقعے میں انتہائی فعال علماء میں سے تھے۔ اس واقعے کے بعد آپ کو گرفتار کیا گیا اور آپ نے چھ سال شہربدری میں کاٹے۔

([4]) رضا پہلوی (1878؁ء تا 1944؁ء): قاجاریہ دور میں روس کی طرف سے بنائی گی عسکری قزاق فورس کا ایک رکن تھا۔ اگرچہ وہ قاجاریہ حکومت کا آخری دور تھا لیکن وہ قزاق فورس کے آفیسرز میں سے تھا۔ برطانوی ایجنسیوں کی طرف سے ایران میں قاجاری حکومت کے خلاف فوجی انقلاب کی ذمہ داری رضا شاہ کے سپرد کی گئی۔ اس نے 1920؁ء میں اس ذمہ داری کو انجام دیا اور برطانوی دباؤ کے نتیجے میں ایران کا وزیر اعظم منتخب ہوا۔ 1925؁ء میں برطانیوں کی مدد سے اس نے قاجاری سلسلے کے رسمی خاتمے کا اعلان کر دیا۔ برطانوی حکومت کے لیے اس نے بہت سی خدمات سرانجام دیں۔ اس کا دور حکومت ایرانی شاہی نظام میں بدترین دور شمار ہوتا ہے جو بعد میں ایک اور برطانوی انقلاب کے ذریعے اپنے اختتام کو پہنچا۔

([5]) سید محمد حسن الحسینی (میرزا شیرازی) (1815؁ء تا 1895؁ء): تشیع کے مراجع اور زعماء میں سے تھے۔ اپنے استاد شیخ مرتضی انصاریؒ کی وفات کے بعد تشیع کی مرجعیت عامہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ ایک با بصیرت اور زمان شناس عالم تھے۔ معاصر تاریخ میں ’’حرمتِ تمباکو‘‘ کے فتوے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ فتوی ظالم برطانوی کمپنی کے نفوذ کو ختم کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ آپ اسلامی ممالک خصوصا ایران میں استعماری نفوذ کے خلاف آواز بلند کرنے اور جدوجہد کرنے والے قائدین میں سے تھے۔

([6]) نہضتِ مشروطہ یا تحریکِ مشروطہ (دستوری تحریک، 1905؁ء تا 1907؁ء): ایران کی ایک ایسی اجتماعی سیاسی تحریک جو بیسویں صدی کے آغاز میں بعض بابصیرت علماء کی قیادت میں شروع ہوئی جس کے اہداف میں شاہی نظام حکومت کا تختہ الٹنا، عدالت کا قیام اور مفادات عامہ کا تحفظ شامل تھا لیکن یہ تحریک برطانیہ اور اس کے ایجنٹوں کی مداخلت کی وجہ سے شاہی مفادات کی محافظ تحریک بن گئی۔ یہ مداخلت ایران کی بدبختی، مشکلات میں اضافے اور بہت سے بے گناہوں کی اموات کا سبب بنی۔ تمباکو کی حرمت کے فتوے کے بعد برطانیہ جب دینی علماء کی عوامی طاقت سے خوف زدہ ہوا تو اس نے ایران میں بحرانی کیفیت ایجاد کر دی جس کے نتیجے میں مؤثر علماء کو معاشرے سے دور کر دیا، اپنے ایجنٹوں کو سامنے لے آیا اور وطن دوست دینی گروہ کو کمزور اور بے اثر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

([7]) قم مقدسہ: ایران کے بڑے شہروں میں سے ہے۔  تہران کے جنوب میں 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس میں امام موسی کاظم, کی بیٹی سیدہ فاطمہ معصومہ/ کا حرم ہے۔ قم کا حوزہ علمیہ، ایران اور پوری دنیا میں دینی علوم کا بڑا مرکز شمار ہوتا ہے۔ یہاں دینی علوم کے اساتذہ اور طالب علموں کی ایک بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔ اسی طرح یہاں بہت سے علمی اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔

([8]) ساواک: شاہ ایران کے دور میں وزیر اعظم کے زیر نظر چلنے والی ملکی ایجنسی تھی۔ 1953؁ء کے انقلاب کے بعدامریکہ کی رہنمائی اور مدد سے پہلوی حکومت نے 1956؁ء میں اس ایجنسی کی بنیاد رکھی۔ یہ، امریکی ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے ایجنڈوں پر کام کرتی تھی۔ اس ایجنسی نے 60 اور 70 کی دہائی میں مزاحمت کرنے والے مجاہدوں کا راستہ روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے انقلابی مجاہدین ساواک کی جیلوں میں قتل کر دیے گئے اور بعض کو جیل کے باہر مختلف حربوں سے مار دیا گیا۔ بہت سے انقلابیوں کے ذہنوں میں ساواک کی جیلوں میں ہونے والے تشدد کی تصویر آج تک باقی ہے۔ ساواک کے کام کرنے کا طریقہ خوف کی فضا ایجاد کرنا، دھمکانا، افواہیں پھیلانا، بے گناہوں کے خلاف کیسز بنانا، بغیر وارنٹ گرفتار کرنا اور مختلف طریقوں سے تشدد کرنا تھا۔ 60 اور 70 کی دہائی کے آخر میں ساواک کے لوگوں نے اسرائیل سے تشدد کے طریقوں کی تربیت حاصل کی جس کے نتیجے میں ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا کام انقلابیوں اور پہلوی نظام کے مخالفین کا راستہ روکنا اور ان کے لیے مشکلات کھڑی کرنا تھا۔

([9]) ڈاکٹر محمد مصدق (1879؁ء تا 1966؁ء): محب وطن ایرانی سیاست دان جو نیشنل پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ آیت اللہ ابو القاسم کاشانی کی سربراہی میں موجود دینی گروہ کی حمایت سے ایران کی وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے۔ اہم ترین قدم جو انہوں نے اٹھایا وہ ایرانی تیل کی صنعت کو حکومتی تحویل میں لینا تھا۔ ان کے نزدیک پہلوی حکومت برطانوی سیاست کی پیداوار تھی۔ برطانیہ سے ٹکراؤ کی وجہ سے وہ امریکہ کی طرف مائل ہوئے لیکن بالآخر 1953؁ء میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ انقلاب کی وجہ سے ان کی حکومت گر گئی۔ انہیں ایران کے اندر امریکہ پر اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

([10]) محمد رضا پہلوی (1919؁ء تا 1980؁ء): یہ شاہ ایران کے نام سے بھی معروف ہے۔ پہلوی سلسلے کا دوسرا اور ایران کا آخری بادشاہ تھا۔ یہ اپنے والد کے خلاف انقلاب کے بعد برطانیہ کی مدد سے کرسی اقتدار تک پہنچا۔ اس کا دور حکومت اس کے باپ کے مظالم اور تباہ کاریوں کا تسلسل اور عروج تھا۔ اس نے ایران کو روز بروز عالمی قوتوں کی غلامی میں دھکیلا۔ رضا شاہ 1953؁ء میں ایرانی حکومت کے خلاف ہونے والے انقلاب کے سرگرم ارکان میں سے تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں بہت سی مغربی کمپنیوں نے ایران کا رخ کیا اور اس کے وسائل کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ شاہ کے زمانے میں ساواک کی بنیاد رکھی گئی جو بدترین مظالم ڈھانے والی خوفناک ایجنسی تھی۔ امریکیوں کو ایران میں عدالتی تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس کے دور حکومت میں ایران مشرق وسطی میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کا اہم اڈہ تھا۔ اسی طرح شاہ کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ 15 سال عوامی جدوجہد کے نتیجے میں شاہ کو ایران سے فرار ہونا پڑا اور یوں ایران میں شہنشاہی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ محمد رضا شاہ نے دوسری جنگ عظیم میں ایران پر قبضے کے بعد اقتدار سنبھالا۔  دوسری دفعہ 1953؁ء میں مصدّق کا تختہ الٹنے کے بعد حکمران بنا۔ 1979؁ء میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے نتیجے میں اس کی حکومت اختتام کو پہنچی۔

([11]) چائے گرم رکھنے کا برتن جس کا استعمال ایران میں عام ہے۔

([12]) تمباکو کی حرمت کا فتوی: 1890؁ء میں برطانوی تاجروں اور ناصر الدین شاہ قاجار کے درمیان تمباکو کی تجارت کے حوالے سے معاہدہ ہوا جس کا اصل مقصد تجارت کے لبادے میں ایرانی وسائل تک پہنچنا اور ان پر قبضہ کرنا تھا۔ اس وقت شیعوں کے بڑے مجتہد مرحوم میرزا محمد حسن شیرازیؒ نے تمباکو کی حرمت کا فتوی جاری کر دیا۔ اس فتوے کا ایران میں بڑا اثر ہوا اور لوگوں نے تمباکو کا استعمال ترک کر دیا۔ اس مزاحمت کے نتیجے میں شاہ اور برطانوی کو اس معاہدے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

([13]) سانحۂ مسجد گوہر شاد: 1935؁ء میں زبردستی حجاب اتروانے اور مردانہ لباس کو یورپی لباس میں تبدیل کرنے کے خلاف مشہد شہر کے متدین اور غیور عوام مسجد گوہر شاد میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ محمد رضا شاہ کے حکم سے سکیورٹی اداروں نے اس اجتماع پر حملہ کر کے بہت سارے لوگوں کو قتل کر دیا۔ اس واقعے نے ایران میں ہونی والی سیاسی تبدیلیوں پر گہرا اثر چھوڑا۔

([14]) مسجد گوہر شاد: امام رضا, کے حرم میں واقع ایک مسجد ہے جس کی بنیاد پندرہویں صدی عیسوی میں شاہ رخ تیموری کی زوجہ گوہر شاد نے رکھی۔

([15]) حسن فردوست: (1917؁ء تا 1987؁ء) شاہ ایران کا بچپن کا قریبی دوست، ساواک کی دوسری اہم شخصیت، محکمہ تفتیش کا سربراہ اور شاہ کا مخلص ترین ساتھی۔ اس کی ’’ڈائری‘‘ ایران کی معاصر تاریخ کے اہم مصادر میں شمار ہوتی ہے جس میں اس نے شاہِ ایران کے بہت سے راز فاش کیے ہیں۔