آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

جنگ کے واقعات

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ ایک خزانہ ہے۔ اب آیا ہم اس خزانے سے کچھ حاصل کر سکیں گے یا نہیں؟ یہ ہماری استعداد و  ہنرپر موقوف ہے۔ امام سجاد علیہ السلام نے عاشور کے چند گھنٹوں پر مشتمل خزانے سے بہت کچھ حاصل کر لیا۔ امام باقر علیہ السلام اور آپؑ کے بعد آنے والے ائمہ طاہرینؑ نے بھی انہیں سے اسے اخذ کیا اور اس جوش مارتے ہوئے چشمے کو ایسے جاری کیا کہ یہ آج تک نہیں رُکا۔ یہ چشمہ انسانی زندگی میں خیر کا منشأ رہا، اس نے ہمیشہ بیداری عطا کی، ہمیشہ درس دیا اور یہ سکھایا کہ کیا کرنا چاہیے۔ آج بھی یہی صورتحال ہے۔ آج بھی ہم امام حسین علیہ السلام کی ان عبارات میں سے جو وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں، ایک جملہ بھی پڑھتے ہیں تو ہمیں یاد آ جاتا اور احساس ہوتا ہے کہ ایک تازہ روح ہمارے اندر پھونک دی گئی ہے اور ہمارا ذہن ایک تازہ مطلب و مفہوم سے آشنا ہو گیا  ہے۔

رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی

[حدیث ولایت: ج7، ص238]


مقدمہ مترجم

’’سلام ہو ابراہیم پر!‘‘ ایک ایسے شہید کی داستانِ شجاعت و شہادت ہے جس نے نہ صرف اپنی پہلوانی کے جوہر دکھا کر کئی بڑے انعامات اور خطابات حاصل کیے بلکہ شجاعت، عبادت، خلوص، نیک نیتی، مروّت، مردانگی، حیا، ایثار، جانثاری اور سرفروشی کے کئی تمغے بھی اپنے نام کیے۔

موجودہ زمانے میں جب کہ نوجوان نسل عجیب و غریب قسم کے آئیڈیلز کا شکار ہے ایسے میں ابراہیم ہادی جیسے جوانوں کی زندگیوں کا مطالعہ ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے فکری اور احساساتی رجحانات معین کر کے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔

ابراہیم ہادی مکتبِ ولایت کا پروردہ تھا جس نے خلوص، عشق اور ایثار کی جرعہ نوشی ساقی کوثر کے جام سےکی تھی۔ جس نے نفس کے بے لگام گھوڑے کو عبادت و دعا کے ذریعے مہار کیا تھا۔ اس کا نفس اس کا نہیں رہا تھا بلکہ اس نے اسے اپنے آقا و مولا کی دسترس میں دے رکھا تھا۔

زمانہ قبل از اسلام ہی سے ایران کی سرزمین پر ایسے ایسے پہلوانوں نے جنم لیا جن کی شجاعت و بہادری کی گونج چاردانگ عالم میں گونجتی تھی۔ جب اس سرزمین پر اسلام کی آمد ہوئی اور یہاں کے لوگ ولایت و محبت اہل بیتؑ کے نشے میں چور ہوئے تو پہلوانی اور زور آزمائی جیسے غصیلے کھیلوں میں بھی ایسے ایسے جوانمرد، نفس پر قابو رکھنے والے، عبادت گزار اور ایثار کرنے والے پہلوان پیدا ہوئے کہ جن کے نام آج بھی ایرانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

ایران کا مشہور عارف پہلوان پوریائی ولی  ہویا غلام رضا تختی، انہوں نے کھیل کو کبھی بھی اپنا مقصدِ حیات اور نفس کی تسکین کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اکھاڑے میں اترنے کے بعد بھی انہوں نے انسانی اقدار کا خیال رکھا اور مدمقابل کے حق میں جان نثاری اور قربانی کے ایسے ایسے نمونے چھوڑے کہ آج بھی ان سے حقیقی پہلوانی کا درس لیا جاتا ہے۔

ابراہیم ہادی بھی ایسا ہی پہلوان تھا جس نے پہلوانی کے کھیل کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ بنایا، اپنے جسم و اعصاب کو مضبوط کرنے  کا تا کہ اس کے ذریعے وہ خلقِ خدا کی مدد اور دشمنانِ دین کا مقابلہ کر سکے۔ یہی وجہ تھی کہ کشتی کے مقابلوں کے دوران کئی دفعہ یہ دیکھنے میں آیا کہ ابراہیم کو حریف پہلوان کی انعام کے لیے احتیاج و ضرورت کا علم ہوا تو وہ جان بوجھ کر مقابلہ ہار گیا۔ اسے مقابلے کے دوران حریف کو تکلیف سے دوچار کرنا سخت برا لگتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اکھاڑے میں اترنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کرتا تھا کہ اس کے ہاتھ سے حریف پہلوان کو اذیت نہ پہنچے۔

لوگوں کی خدمت اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ اکثر اپنی تنخواہ ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دیا کرتا تھا۔

وہ نہ صرف ایک منجھا ہوا پہلوان تھا بلکہ اچھا استاد، رہنما اور کوچ بھی تھا جس نے مختلف سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ بھی انجام دیا اور ایسا انجام دیا کہ اس کا حق ادا کر دیا۔

اسے امام خمینیؒ سے عشق تھا۔ ایران کے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعدجب عراق نے ایران پر جنگ مسلط کر دی تو اس نے رضاکار فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور پھر محاذ جنگ پر اپنی شجاعت و مردانگی اور ایثار و قربانی کے وہ شاہکار نمونے اور یادیں چھوڑیں کہ جن کے نقش آج تک تازہ ہیں۔

جنگ کے دوران جب ہر مجاہد کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ شہادت سے ہمکنار ہو جائے تو ابراہیم نے یہاں بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی اور اپنی ماں سے یہ دعا کرنے کا کہہ رکھا تھا کہ وہ گمنام شہید ہو کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے والہانہ عقیدت کی بنا پر اس کا کہنا تھا کہ جب ان کی قبر کا نشان آج تک نہیں معلوم ہو سکا تو میں یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ میری قبر کا نشان سب کو معلوم ہو۔ یہی وجہ تھی کہ ایرانی سرحدی علاقے فکہ کے محاذ پر عراقی فوج سے سخت مڈبھیڑ میں اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے پیچھے بھیج دیا اور خود گمنامی کے ایسے تاریک راستے پر چلا گیا کہ آج تک اس کی کوئی خبر نہیں۔

یہ کتاب اس کے دوستوں کے تاثرات کا مجموعہ ہے جنہوں نے ابراہیم ہادی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور اپنی یادوں کے گل ہائے رنگارنگ کو اس خوبصورت گلدستے میں سمو کر رکھ دیا ہے۔