آٹھواں باب
سردیاں بھی ختم ہو رہی تھیں۔ مارچ کے دن تھے مگر برف ابھی تک پگھلی نہ تھی۔ گاؤں کی گلیاں مٹی، کیچڑ اور برف سے بھری ہوئی تھیں۔ برف غبار اور گول انگیٹھیوں سے نکالی گئی راکھ کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی۔ عورتیں اپنے گھروں کی جھاڑ پونچھ اور گدوں، بستروں اور کپڑوں کی دھلائی ستھرائی میں مصروف ہو گئی تھیں۔ دن کو ہم شیشے صاف کرتے۔ سہ پہر کے وقت آسمان ابر آلود ہو جاتا، آدھی رات کو آسمانی بجلی کڑکتی، بارش آتی اور ہماری پورے دن کی محنت پر پانی پھیر جاتی۔
عید [نوروز] کے آنے میں کچھ زیادہ دن نہ رہتے تھے کہ صمد کی لازمی فوجی تربیت کا دورانیہ ختم ہو گیا۔ میں سوچتی کہ میں قایش کی خوش قسمت ترین لڑکی ہوں۔ پوری رغبت اور عشق کے ساتھ صبح سے لے کر سہ پہر تک گھر میں جھاڑو لگاتی اور سر سے پاؤں تک سارے گھر کو دھو ڈالتی۔ میں اپنے آپ سے کہتی: ’’کوئی بات نہیں۔ اس کے بدلے میں میرے پاس بہترین عیدی ہے۔ میرا شوہر میرے پاس ہے اور ہم اکٹھے اس صفائی ستھرائی اور عید کے انتظامات سے لطف اندوز ہوں گے۔‘‘
صمد آ گیا تھا اور کام کاج کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ وہ گھر میں کم ہی ملتا۔ وہ کوئی اچھا اور مناسب کام ڈھونڈنے کے لیے رزن جاتا رہتا۔
ایک روز صبح جب ہم بیدار ہوئے اور ناشتہ کر چکے تو میری ساس نے ہمارے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سلام و احوال پرسی کے بعد دونوں بچوں کو ایک ایک کر کے لائیں اور کمرے میں رکھ کر صمد سے کہنے لگیں: ’’میں آج تمہاری بہن کے گھر جانا چاہتی ہوں۔ شہلا کو کوئی کام ہے۔ میں چاہتی ہوں اس کا تھوڑا ہاتھ بٹا دوں۔ یہ بچے تو باندھ کر رکھ دیتےہیں۔ ان کا دھیان رکھنا۔‘‘
جاتے ہوئے مجھ سے کہنے لگیں: ’’قدم! ساتھ والا کمرا کافی گندا ہو گیا ہے۔ وہاں جھاڑو لگا دینا اور گردوغبار بھی صاف کر دینا۔‘‘
صمد لباس پہن کر جانے کےلیے آمادہ ہو چکا تھا۔تھوڑی دیر سوچ کر کہنے لگا: ’’کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال بھی کرو اور گھر کی صفائی ستھرائی بھی؟!‘‘
میں نے اپنے کندھے اوپر کی طرف اٹھا دیے اور ہونٹ بے ارادہ لٹک گئے۔ میرے جواب دینے سے پہلے وہ خود ہی کہنے لگا: ’’تم ایسا نہیں کر سکتیں کہ گھر کی صفائی بھی کرو اور بچوں کی دیکھ بھال بھی۔‘‘
اس نے اپنا کوٹ اتار دیا اور کہا: ’’میں بچوں کو سنبھالتا ہوں تم کمروں کی صفائی کر لو۔ جب تمہارا کام ختم ہو جائے گا تو میں چلا جاؤں گا۔‘‘
میں نے سوچا کہ ابھی صبح صبح کا وقت ہے اور بچے سوئے ہوئے ہیں۔ بہتر ہے کہ میں جا کر کمروں کی صفائی کر لوں۔ صمد بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کمرے ہی میں ٹھہر گیا۔
میں نے ساتھ والے کمرے کی کھڑکیاں کھلی رکھیں۔ لحاف کرسی([1]) کو چاروں کونوں سے اٹھا کر کرسی پر سمیٹا اور گدوں کو اٹھا کر تہہ کیے گئے لحاف پر رکھ دیا۔ جیسے ہی کمرے میں جھاڑو لگانے کے لیے جھاڑو اٹھایا تو دونوں بچوں کے رونے کی آواز آنے لگی۔ پہلے تو میں نے کوئی اہمیت نہ دی اور سوچا کہ صمد انہیں چپ کرا لے گا لیکن تھوڑی دیر صمد کی بھی آواز بلند ہوئی: ’’قدم! قدم! آؤ دیکھو تو یہ بچے کیا چاہتے ہیں؟!‘‘
میں نے جھاڑو وہی کمرے میں پھینکا اور اپنے کمرے کی طرف دوڑی جو صحن کی دوسری طرف تھا۔ دونوں بچے بیدار ہو گئے تھے اور دودھ چاہتے تھے۔ میں نے ایک کو صمد کے حوالے کیا اور دوسرے کو خود اٹھا لیا اور اپنی بغل میں اٹھائے ان کے لیے دودھ تیار کرنے لگی۔ صمد نے اپنی گود میں اٹھائے بچے کو دودھ پلایا اور میں نے اپنی گود والے کو۔ بچے اپنا اپنا دودھ پی کر خاموش ہو گئے۔ میں نے اس فرصت سے استفادہ کیا اور دوبارہ کمرے میں جھاڑو لگانے چلی گئی۔ ابھی آدھا کمرا ہی صاف کیا ہو گا کہ بچوں کے رونے کی آواز دوبارہ آنے لگی۔ میں نے سوچا کہ یقیناً انہوں نے اپنے کپڑے گیلے کر دیے ہوں گے۔ مجھے صمد کی آواز بلند ہونے سے پہلے بچوں کے پاس پہنچنا پڑا۔ میرا اندازہ درست نکلا۔ دونوں بچوں نے اپنا اپنا دودھ پی لیا تھا اس وجہ سے انہوں نے پاجامے گیلے کر دیے تھے۔ میں بچوں کے کپڑے تبدیل کرنے لگی۔ صمد میرے سر پر کھڑا ہو گیا اور دیکھنے لگا۔ اس نے کہا: ’’میں بھی سیکھ لوں تا کہ اپنے بچوں کے لیے استاد بن جاؤں۔‘‘
میں نے بچوں کو دھویا اور خشک کیا۔ وہ دودھ پی چکے تھے لہٰذا مجھے تھوڑی تسلی ہو گئی کہ اب کچھ دیر تک وہ آرام کریں گے اور سو جائیں گے۔ میں دوبارہ جھاڑو ہاتھ میں لے کر کام میں جت گئی۔ کمرے میں گرد و غبار اڑ رہا تھا۔ میں نے سکارف سے اپنے منہ کو ڈھانک لیا۔ کمرے میں تھوڑی تھوڑی دھوپ بھی آ رہی تھی اور گرد و غبار کے ذرے سورج کی روشنی میں ہوا کے اندر کھیل رہے تھے۔ میں سوچ ہی رہی تھی کہ کمرے تو صاف ہو گئے، اب گدے اٹھا کر صحن میں پھیلا دوں تا کہ انہیں اچھی طرح دھوپ لگ جائے کہ اتنے میں بچوں کے رونے کی آواز دوبارہ آئی اور اس کے بعد صمد کی آواز بھی بلند ہوئی: ’’قدم! قدم! آؤ دیکھو تو یہ بچے کیا چاہتے ہیں؟!‘‘
میں نے جھاڑو زمین پر رکھا اور دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ بچے دودھ پی چکے تھے، انہیں خشک بھی کر دیا تو اب وہ کیوں رو رہے تھے؟! ناچار ان میں سے ایک کو میں نے اٹھایا اور دوسرے کو صمد نے اور ہم کمرے میں ٹہلنے لگے۔ مجھے باقی رہ جانے والے کام کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ صمد کو بھی دیر ہو رہی تھی، لیکن وہ اس حالت میں بھی میری دلجوئی کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ’’بچے سو جائیں تو میں خود تمہاری مدد کے لیے آتا ہوں۔‘‘
بچے ہماری آغوش میں آہستہ آہستہ سونے لگے تھے، لیکن جیسے ہی ہم انہیں خاموشی سے زمین پر لٹاتے تو وہ دوبارہ جاگ جاتے اور رونے لگتے۔ ہم کمرے میں اتنا چلے اور اتنا ٹہلے کہ تھک گئے۔ بچوں کو اپنے پاؤں پر رکھ کر بیٹھ گئے اور پاؤں ہلانے لگے تا کہ وہ سو جائیں لیکن وہ تو سونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ صمد میرے ساتھ باتیں کر رہا تھا؛ اپنے گزرے ہوئے زمانے کی، اس دن کی جب اس نے پہلی دفعہ مجھے میرے بابا کے چچا کے گھر والی سیڑھیوں پر دیکھا تھا۔ وہ کہنے لگا: ’’تم نے اسی روز میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘‘ وہ ان دنوں کی باتیں کر رہا تھا جب میں اس کی کسی بات کا جواب نہ دیتی تھی اور وہ ناامیدی کی حالت میں ہر روز کسی نہ کسی کو واسطہ بناتا تا کہ میرا ہاتھ مانگنے کے لیے آ سکے۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’اب جب کہ میں نے اتنی مشکلوں سے تمہیں حاصل کیا ہے تو تمہیں قایش کی خوش قسمت ترین لڑکی ہونا چاہیے۔‘‘
صمد کی آواز بچوں کے لیے لوری کا کام دے رہی تھی۔ جیسے ہی وہ چپ ہوتا تو بچے دوبارہ رونے لگتے۔ ہم نے سو جتن کر لیے مگر بچوں نے نہ سونا تھا نہ سوئے۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے کہ کیا کریں۔ جیسے ہی انہیں زمین پر لٹاتے تو وہ پھر رونے لگتے۔ ناچار میں نے دوبارہ ان کے لیے دودھ تیار کیا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے دودھ ختم کیا تو پھر کپڑے گیلے کر دیے۔ میں نے انہیں خشک کیا تو وہ تازہ دم ہو گئے۔ ان کی نیند اڑ گئی اور وہ کھیلنے لگے۔ اب وہ چاہتے تھے کہ ایک بندہ انہیں اٹھا کر کمرے میں گھومتا رہے۔
ظہر ہو گئی تھی اور میں ابھی تک کمرے میں جھاڑو نہ لگا سکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے بچوں کو جیسے تیسے صمد کے پاس چھوڑا اور خود کھانا بنانے چلی گئی۔ مگر اکیلے صمد سے بچے نہیں سنبھالے جا رہے تھے۔ دوسری طرف باہر موسم بھی سرد تھا اور بچوں کو کمرے سے باہر بھی نہیں نکالا جا سکتا تھا۔ لاکھ مشکل سے میں فقط دن کا کھانا ہی تیار کر سکی۔ ظہر کے وقت سوائے صمد کی ماں اور بہن کے سب گھر واپس آ گئے۔ میں نے صمد کے والد اور بھائیوں کو دن کا کھانا دیا، لیکن جیسے ہی دسترخوان سمیٹنے لگی تو بچوں کے رونے کی آواز ایک بار پھر بلند ہوئی۔ اب میری مصروفیت نکل آئی تھی۔ میں یا تو ان کے لیے دودھ تیار کر رہی تھی، یا ان کے کپڑے بدل رہی تھی اور یا انہیں سلانے کے جتن کر رہی تھی۔
پلک جھپکتے ہی سہ پہر ہو گئی اور میری ساس واپس آ گئیں، لیکن میں ابھی تک نہ تو گھر میں جھاڑو لگا پائی تھی، نہ صحن کو دھو سکی تھی، نہ رات کا کھانا آمادہ کیا تھا اور نہ ہی برتن دھونے کی فرصت ملی تھی۔ دوسری طرف صمد بھی اپنے کام پر نہ جا سکا تھا۔ میری ساس نے جب یہ حالت دیکھی تو انہیں اچھا نہ لگا اور وہ تھوڑا ناراض ہو گئیں۔ صمد نے میری طرفداری کرتے ہوئے ماں کو بتایا کہ بچوں نے صبح سے کیسی مصیبت ہمارے سر پر ڈال رکھی تھی۔ ساس نے کچھ بھی نہ کہا۔ ہم نے بچے ان کے حوالے کیے اور سکون کا سانس لیا۔
اگلے روز صمد دوبارہ کام کاج کی تلاش میں نکل گیا۔ قایش میں اسے کوئی کام نہ ملا۔ مجبوراً اسے رزن جانا پڑا۔ جب اس نے دیکھا کہ رزن میں بھی کام نہیں مل رہا تو اس نے اپنا بیگ باندھا اور تہران چلا گیا۔
چند دن بعد وہ واپس آ گیا اور اس نے بتایا: ’’تہران میں بہت اچھا کام مل گیا ہے۔ انہی دنوں کام شروع کرنا پڑے گا۔ میں تمہیں بتانے کے لیے آیا ہوں۔ بری خبر یہ ہے کہ اس عید پر میں تمہارے پاس نہیں رہ سکوں گا۔ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘‘
میں بہت ناراض ہو گئی اور اعتراض کیا: ’’میں نے اس سال عید کے لیے پروگرام بنا رکھے تھے۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ تم جاؤ۔‘‘
صمد مجھ سے زیادہ پریشان تھا: ’’کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ کب تک ماں باپ میرا خرچہ اٹھائیں گے۔ اب مجھے شرم آتی ہے۔ میں اب ان پر مزید بوجھ نہیں بن سکتا۔ مجھے اپنا کام کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی روزی روٹی کھانی چاہیے۔‘‘
صمد چلا گیا اور وہ عید جو ہماری شادی کے بعد پہلی عید تھی، میں نے تنہا ہی گزاری۔ بہت مشکل دن تھے۔ میں ہر روز دل گرفتہ سی ہو کر روتے ہوئے اپنا سر سرہانے پر رکھ دیتی۔ ہر رات خواب میں صمد کو دیکھتی۔ جب میں دوسری دلہنوں کو دیکھتی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کبھی اس گھر اور کبھی اس گھر جا رہی ہیں اور عیدی لے رہی ہیں تو میں اپنے آنسوؤں کو بہت مشکل سے ضبط کر پاتی تھی۔
اپریل کا وسط آ چکا تھا۔ ہوا میں شگوفوں اور پھولوں کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ خدا کے پاس جتنا سبز رنگ تھا وہ سارا اس نے اوپر سے قایش کی زمین پر پھینک دیا تھا۔
ایک دن میں گھر کے کام کاج میں مشغول تھی کہ صمد کے چھوٹے بھائی موسیٰ نے گلی سے آواز لگائی: ’’صمد بھائی آ گئے۔‘‘
مجھے سمجھ نہ آ رہی تھی کیا کروں۔ ننگے پاؤں ہی صحن کی سیڑھیوں کو دو دو کر کے پھلانگتی ہوئی نیچے آ گئی۔ صحن کے وسط میں پڑے کپڑے ٹانگنے والے سٹینڈ سے ایک کپڑا اٹھایا، اسے اپنے سر پر رکھا اور گلی میں نکل گئی۔ صمد آ گیا تھااور مسکراتے ہوئے میری طرف جلدی جلدی بڑھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دو بڑے بیگ تھے۔ ہم گلی کے درمیان ایک دوسرے کے پاس پہنچ گئے۔ کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ صمد کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ میں بھی رونے لگی تھی۔ اچانک ہم ہنسنے لگے۔ مسکراہٹیں اور آنسو خلط ملط ہو چکے تھے۔
ہم ایک دوسرے کو سلام کہنا بھول گئے تھے۔ کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہوئے صحن میں آگئے۔ جیسے ہی اپنے کمرے کے سامنے پہنچے تو صمد نے ایک بیگ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تمہارے لیے لایا ہوں۔ اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ۔‘‘
گھر والوں کو صمد کی آمد کا پتا چل چکا تھا۔ سب اس کے استقبال کے لیے آئے اور صحن میں جمع ہو گئے۔ سلام و احوال پرسی کے بعد ہم سب میری ساس کے کمرے میں چلے گئے۔ صمد نے بیگ زمین پر رکھ دیا۔ سب لوگ اکٹھے بیٹھ گئے اور اس کا حال احوال پوچھنے لگے۔ اسے پلستر کا کام ملا تھا اور ایک زیر تعمیر عمارت پر کام میں مشغول ہو گیا تھا۔
تھوڑی دیر گزری تو اس نے بیگ کھولا اور والد، ماں، بہنوں اور بھائیوں کے لیے جو کچھ تحفے تحائف لایا تھا وہ ان میں تقسیم کر دیے۔
وہ مقنعہ اور شال سے لے کر کُرتی، شلوار،جوتے اور چھتری تک ہر چیز لے آیا تھا۔ کبریٰ نے کھڑکی سے میرا بیگ دیکھ لیا تھا۔ وہ اصرار کرنے لگی: ’’قدم! تم بھی اپنے تحفے لے آؤ تا کہ ہم بھی دیکھ لیں۔‘‘
مجھے شرم آ رہی تھی۔ ڈرتی تھی کہ صمد کہیں کوئی ایسی چیز میرے لیے نہ لے آیا ہو جو اس کے بھائیوں کو دکھانا مناسب نہ لگے۔ میں نے کہا: ’’بعد میں۔‘‘ میری نند بھی سمجھ گئی اور اس کے بعد اس نے اصرار نہ کیا۔
جب ہم اپنے کمرے میں گئے تو صمد نے اصرار کیا کہ میں جلدی سے بیگ کھولوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ اس نے میرے لیے کچھ مقنعے، آنچل اور قمیصیں خریدیں تھیں۔ اس کے علاوہ وہ چادر، شلواروں کے لیے کپڑا حتی کہ قینچی، کپڑے سینے کا سامان، صابن اور ہیئر پن تک خرید لایا تھا۔ اتنا سامان تھا کہ بیگ کا ڈھکن مشکل ہی سے بند ہوا تھا۔ میں نے کہا: ’’یہ سب کیا ہے؟ کیا تم مکہ گئے تھے؟!‘‘
اس نے کہا: ’’یہ تمہارے شانِ شایان تو نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم ہمارے گھر میں کتنی زحمت کرتی ہو۔ دس بارہ بندوں کے لیے گھر کے کام کاج کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو تمہاری زحمتوں کی مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’کیوں نہیں، بہت زیادہ ہیں۔‘‘
وہ ہنس کر کہنے لگا: ’’پہلا دن جب میں تہران گیا تو میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہر روز تمہارے لیے ایک چیز خریدوں گا۔ ان سب چیزوں کے پیچھے ایک حکایت ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہیں ان میں سے کون سی چیز زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔‘‘
اس نے میرے لیے جتنی بھی چیزیں خریدیں تھیں، ساری ہی اچھی تھیں۔ میں اسے یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ ان میں سے سب سے بہتر کون سی ہے۔ میں نے کہا: ’’سب ہی بہت اچھی ہیں۔ تمہارا بہت شکریہ۔‘‘
اس نے اصرار کیا: ’’نہیں، قدم جان، بتاؤ۔ ان میں سے تمہیں کون سی زیادہ اچھی لگتی ہے۔‘‘
میں نے سب چیزوں پر دوبارہ نظر ڈالی۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ گھر میں پہننے والی شلواروں کے لیے اس نے جو اَن سِلے کپڑے خریدے تھے وہ واقعاً بہت ہی اعلیٰ تھے۔ میں نے کہا: ’’یہ ان سب سے زیادہ اچھے ہیں۔‘‘
صمد خوش ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا: ’’تمہیں پتا ہے؟ جب میں نے ان کپڑوں کو خریدا تھا تو کیا حالت تھی میری! اس دن میرا دل تمہارے لیے بہت بے چین ہو گیا تھا۔ ان کپڑوں کو میں نے ایک خاص عشق و محبت سےخریدا ہے۔ اس دن میں تمہارے لیے اتنا اداس تھا کہ ایک دفعہ تو جی چاہا کہ سب کام کاج چھوڑ چھاڑ کر ہر چیز کو ذہن سے نکال دوں اور تمہارے پاس آجاؤں۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنا سر نیچے کر لیا تا کہ میں اس کی سرخ آنکھیں اور ان میں آنے والے آنسو نہ دیکھ سکوں۔
اسی رات سے صمد کے واپس آنے کی خوشی میں رشتہ داروں کی طرف سے دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جن رشتہ داروں کو معلوم ہو گیا تھا کہ صمد واپس آ گیا ہے وہ ہماری دعوت کر رہے تھے۔ میری نند شہلا، شیرین جان، میری بہنیں اور بھابھیاں، سبھی۔
صمد کھلے دل سے سب کی دعوت قبول کر رہا تھا۔ ہم ان رشتہ داروں اور جاننے والوں کے گھروں میں رات دیر تک بیٹھتے اور باتیں کرتے رہتے۔ گپیں لگاتے اور ہنستے رہتے۔ جب گھر واپس آتے تو صمد میرے سامنے بیٹھ جاتا اور مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کہتا: ’’ان دعوتوں کی وجہ سے میں تمہیں زیادہ دیکھ نہیں پاتا۔ تم عورتوں میں چلی جاتی ہو اور میں تمہیں دیکھ نہیں سکتا۔ میرا دل تمہارے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ یہ چند روز جو میں تمہارے سامنے ہوں، مجھے تمہاری زیادہ قدر کرنی چاہیے۔ بعد میں جبکہ میں چلا جاؤں گا تو میرا دل بہت اداس ہو جائے گا۔ اس چیز کا غم رہے گا کہ میں تمہارے پاس زیادہ کیوں نہ رہا اور کیوں تم سے زیادہ باتیں نہ کیں۔‘‘
یہ خوشی ایک ہفتے سے زیادہ نہ رہی۔ ہفتے کے آخر میں صمد چلا گیا۔ وہ سہ پہر کے وقت گیا تھا۔ میں رات تک اپنے کمرے میں پڑی رہی اور سب کی نظروں سے بچ کر روتی رہی۔
گھر کے کونے کونے کو دیکھتی تو اس کی یاد ستانے لگتی۔ ہر چیز سے اس کی خوشبو آتی تھی۔ کسی سے ملنے اور کچھ کام کرنے کا حوصلہ باقی نہ رہا تھا۔ اس چیز کا انتظار کرتی رہتی کہ کوئی مجھے بہلانے آ جائے تاکہ میں جی بھر کر رو لوں۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ صمد کے جاتے ہی میں بالکل تنہا ہو چکی ہوں۔ میرا دل بابا کی طرف جانے کو چاہ رہا تھا۔ شیرین جان کی یاد آ رہی تھی۔ میں نے لحاف کو سر پر اوڑھ لیا کہ اس میں سے صمد کی خوشبو آ رہی تھی۔ دل اپنے گھر جانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ بابا جان، کیسے آپ کے دل نے برداشت کیا کہ اپنی بیٹی کو اس طرح تنہا چھوڑ دیا؟! کیوں میری خبر نہیں لیتے۔ ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ شیرین جان، کیوں میرا حال نہیں پوچھتیں؟!
اس رات میں بہت زیادہ روئی اور نیند آنے تک لحاف کے اندر اپنے آپ سے باتیں کرتی رہی۔
اگلی صبح میری حالت پچھلے دن کی نسبت کافی بری تھی۔ میں کافی زودرنج ہو گئی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ سارے لوگ ہی میرے لیے اجنبی ہو گئے ہیں۔ دل چاہتا تھا کہ بابا کے گھر چلی جاؤں لیکن جڑواں بچوں کے پاس چلی گئی۔ ان کے لباس تبدیل کیےاور صاف کپڑے انہیں پہنائے۔ میری ساس باہر چلی گئی تھیں۔ میں نے ان بچوں کو دودھ دے کر سلایا اور دن کا کھانا پکانے لگی۔ گزشتہ رات کے برتن دھوئے اور گھر میں جھاڑو لگایا۔ بچوں کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گئی۔ دن کے کھانے کے بعد دوبارہ میرے کام شروع ہو گئے؛ برتن دھونا، رات کا کھانا پکانا، صحن میں جھاڑو لگانا اور دونوں جڑواں بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔ میں اس قدر تھک گئی تھی کہ رات ہوتے ہی نیند نے دبوچ لیا۔
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ صبح ہو گئی ہے۔ ہڑبڑا کر اٹھی اور عادت کے مطابق پردے کا کونہ اٹھا کر دیکھا۔ باہر روشنی ہو چکی تھی۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔ روٹی پک چکی تھی اور تنور بند کیا چکا تھا۔ میں کیوں سوئی رہی۔ وقت پر اٹھ کیوں نہ سکی۔ اب ساس کو کیا جواب دوں۔ لاکھ سوچا مگر اپنے آپ میں ان سے الجھنے اور ان کی باتیں سننے کا حوصلہ نہ پایا۔ اسی لیے سر پر چادر اوڑھی اور چپ چاپ جلدی جلدی بابا کے گھر کی طرف چل دی۔
صحن میں شیرین جان کو دیکھتے ہی میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ بابا گھر میں تھے۔ مجھے دیکھا تو پوچھنے لگے: ’’کیا ہوا۔ کس نے اذیت دی ہے۔ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ایسی کیا بات ہو گئی؟ کیوں رو رہی ہو؟!‘‘
میں کچھ بتا نہ سکتی تھی، بس مسلسل روئے جا رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ گھر مجھے پرانی باتیں یاد دلا رہا تھا۔ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کر کے میرا دل پریشان ہو رہا تھا۔ کوئی میرے درد کو نہیں جان سکتا تھا۔ اب ایسا بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ میرا دل اپنے شوہر کے لیے بے چین ہو رہا ہے، مجھ میں تنہائی کی طاقت نہیں ہے اور دل چاہتا ہےکہ جب تک صمد نہ آئے میں آپ کے پاس ہی رہوں گی۔
بابا کے گھر میں آئے ہوئے مجھے ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اگرچہ صمد کے لیے کافی اداس ہو جاتی تھی مگر بابا، ماں اور بہن بھائیوں کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ سکون محسوس ہوتا رہتا تھا۔ ایک دن دروازہ کھلا اور صمد آ گیا۔ میں مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ یقین نہ آتا تھا کہ وہ آ گیا ہے۔ پہلے تو مجھے کچھ برا محسوس ہوا اور میں نے سوچا کہ شاید وہ مجھ سے لڑائی کرے گا یا خفا ہو گا کہ میں کیوں بابا کے گھر آ گئی ہوں۔ لیکن وہ ہمیشہ کی طرح تھا۔ ہنس رہا تھا اور مسلسل میرا حال پوچھے جا رہا تھا۔ اپنی اداسی کا بتا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس عرصے میں اس کا دل میرے لیے کیسے تڑپتا رہا تھا۔وہ کہہ رہا تھا: ’’میں محسوس کر رہا تھا کہ خدانخواستہ کوئی برا حادثہ نہ ہو گیا ہو کہ جس کی وجہ سے میرا دل اتنا پریشان ہے اور ہر رات کو برے برے خواب آ رہے ہیں۔‘‘
تھوڑی دیر بعد بابا اور ماں آ گئے۔ صمد نے ان کے ساتھ بھی ہنس ہنس کر باتیں کیں ۔ اس کے بعد میری طرف منہ کر کے کہا: ’’قدم! اٹھو، چلیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’آج رات یہیں رہ جاتے ہیں۔‘‘
اس نے اپنے ہونٹ کاٹتےہوئے کہا: ’’نہیں، چلتے ہیں۔‘‘
میں نے اپنی چادر اوڑھی اور دونوں بابا اور ماں کو خدا حافظ کہہ کر گھر سےنکل آئے۔وہ راستے میں مجھ سے باتیں کرتا، اپنی بیتیاں سناتا اور ہنستا جا رہا تھا۔گاؤں چھوٹا ہوتا ہے اور خبر جلدی پھیل جاتی ہے۔ سب جانتے تھے کہ میں ایک ہفتے سے سسرال والوں کو خدا حافظ کیے بغیر اپنے باپ کے گھر آ گئی ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ مجھے اور صمد کو ہنسی خوشی باتیں کرتے ہوئے دیکھتے تو حیران رہ جاتے۔ کسی کو بھی اس بات کی توقع نہیں تھی کہ میرے ساتھ صمد کا یہ رویہ ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ شاید صمد کو اس واقعے کی خبر نہیں ہے۔ جیسے ہی گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ ٹھہر گیا اور مجھے کہنے لگا: ’’قدم جان! تم نے کچھ نہیں دیکھا۔ ایسا لگے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ بالکل معمول کے مطابق رویہ رکھو، ہمیشہ کی طرح سلام و احوال پرسی کرو۔ میں سب سے بات کر چکا ہوں اور انہیں کہہ چکا ہوں کہ تمہیں لے آؤں گا لیکن کوئی بھی اس معاملے پر کوئی بات نہ کرے۔ ٹھیک ہے؟!‘‘
میں نے سکھ کا سانس لیا اور گھر میں داخل ہو گئی۔ جیسا صمد نےکہا تھا ویسا ہی میں نے کیا۔ ساس اور سسر نے بھی مجھے کچھ نہ جتلایا۔ تھوڑی دیر بعد ہم اپنے کمرے میں چلے گئے۔ صمد کمرے کے کونے میں پڑا بیگ اٹھا لایا۔خوشی خوشی کھول کر کہنے لگا: ’’آؤ دیکھو، میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔‘‘
میں نے کہا: ’’تم نے دوبارہ تکلیف کی۔‘‘
ہنس کر کہنے لگا: ’’تم دوبارہ تکلف کر رہی ہو۔ بیگم، کیوں شرمندہ کرتی ہو۔‘‘
صمد دو تین دن گھر پر رہا۔ وہ میری زندگی کے بہترین دن تھے۔ وہ مجھے ہلنے کی اجازت ہی نہ دیتا تھا۔ کہتا تھا: ’’تم فقط بیٹھو اور مجھے سے باتیں کرو۔ میرا دل تمہارے لیے بہت اداس ہے۔‘‘
ہر دن اور ہر رات ہم کہیں نہ کہیں مہمان ہوتے۔ اکثر فقط سونے کے لیے گھر آتے تھے۔ آہستہ آہستہ دوست احباب، ہمسائے اور جاننے والے لوگ باتیں کرنے لگے: ’’خوشا نصیب، قدم! صمد تمہیں کتنا چاہتا ہے۔‘‘
یہ باتیں سن کر میرا دل خوشی سے بھر جاتا؛ لیکن یہ دو تین دن بھی بجلی کی سی تیزی سے گزر گئے۔
جس روز اس نے جانا تھا، سہ پہر کے وقت مجھے ایک کونے میں لے گیا اور کہا: ’’قدم جان! میں جا رہا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل تمہاری طرف سے مطمئن رہے۔ اگر یہاں تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہے تو یہیں رہو لیکن اگر سمجھتی ہو کہ یہاں تمہارا رہنا مشکل ہے تو اپنے بابا کی گھر چلی جاؤ۔ میرے حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ شاید ایک دو سال تہران رہوں۔ وہاں بھی کوئی مناسب جگہ نہیں ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں، لیکن یقین کرو کہ میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ جتنا جلدی ہو سکے پیسے جمع کر کے ایک گھر بنا لوں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اگر تم اپنے بابا کے گھر جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ۔ میں نے اپنے بابا اور ماں سے بات کر لی ہے۔ انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سب کچھ تمہاری مرضی پر ہے۔‘‘
میں نے تھوڑا سوچ کر کہا: ’’میں چاہتی ہوں کہ بابا کے گھر چلی جاؤں۔ یہاں مجھے کافی گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ بہت مشکل میں رہتی ہوں۔‘‘
بغیر اس کے کہ اس کے ماتھے پر کوئی بل پڑے، اس نے کہا: ’’پس جب تک میں ہوں، تم اپنا سامان اور کپڑے وغیرہ جمع کرو۔ میرے ساتھ ہی چلی جاؤ تو بہتر ہے۔‘‘
میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور بغیر کسی ناراضگی کے سب کو خدا حافظ کہا اور دونوں بابا کے گھر کی طرف چل پڑے۔ صمد نے مجھے ان کے حوالے کیا، خدا حافظ کہا اور چلا گیا۔
اس کے جانے سے میرے وجود میں کچھ ٹوٹ سا گیا۔ میں مزید اس کی دوری کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے میرے ساتھ مہربانی اور نرمی کی انتہا کر دی تھی۔ میں اس کی خوبیوں کو یاد کرتی تو میرا دل اور زیادہ پریشان ہو جاتا۔ پورے گاؤں میں آج تک کوئی مرد ایسا نہیں تھا جس نے اپنی عورت کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھا ہو۔ میں جہاں بھی بیٹھتی اس کی اچھائیوں اور خوبیوں ہی کا تذکرہ سنتی۔ روز بہ روز اس کے ساتھ میرا عشق بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی بھی یہی حالت تھی کیونکہ ہفتے کے آخر پر وہ دوبارہ آ گیا۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’قدم! تم نے میرے ساتھ کیا کر دیا ہے! جمعرات کی صبح ہوتی ہے تو میرا دل سینے میں نہیں ٹھہرتا۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر تمہیں نہیں دیکھوں گا تو مر جاؤں گا۔‘‘
وہ اسی روز میرے بھائی کے ساتھ اپنی ماں کے گھر گیا اور میرا سارا ساز و سامان اٹھا لایا اور بابا کے گھر میں ایک کمرے میں رکھ دیا۔ وہ پہلی رات تھی کہ صمد میرے بابا کے گھر سویا تھا۔ ہمارے گاؤں میں یہ رسم نہ تھی کہ داماد اپنے سسر کے گھر سوئے۔ صبح جب ہم بیدار ہوئے تو صمد شرم کے مارے کمرے سے باہر نہ نکلا۔
میں ناشتہ اور دن کا کھانا کمرے ہی میں لے گئی۔ رات ہوئی تو اس نے کپڑے بدلے اور کہنے لگا: ’’میں جا رہا ہوں۔ تم بھی اپنا سامان جمع کرو اور میرے چچا کے گھر چلی جاؤ۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ تمہارے بابا سے شرم آتی ہے۔‘‘
اسی روز مجھے معلوم ہوا کہ میں حمل سے ہوں۔ صمد کو میں نے کچھ نہ بتایا۔ اگلے دن صمد کے چچا کے گھر چلی گئی۔ وہ بے چارے اکیلے ہی رہتے تھے۔ ان کی بیوی کا چند سال پہلے انتقال ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: ’’چچا جان، میرے اور صمد کے لیے اپنا پدرانہ فریضہ نبھائیے۔ ہم کچھ دن تک آپ کے مزاحم ہونا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے سارا ماجرا انہیں سنا دیا۔
چچا بہت ہی خوش ہو گئے تھے۔ انہوں نے کھلے دل سے ہمیں قبول کیا۔میں نے ماں اور بابا کو بھی ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہی کی مدد سے اپنا سارا سامان جمع کیا اور یہاں لے آئی۔ چچا نے اسی رات گھر ہمارے حوالے کر دیا۔ چابی ہمارے سپرد کی اور خود میری ساس کے گھر چلے گئے اور جب تک ہم ان کے گھر سے نہ گئے وہ وہیں رہے۔
کچھ دن بعد میں نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر اپنے بھابھی کی دی۔ خدیجہ نے ماں کو بتایا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک لحظے کے لیے بھی مجھے تنہا نہ چھوڑا۔
صمد کو آنے میں ایک مہینہ لگ گیا۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں امید سے ہو گئی ہوں تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ جتنے دن وہ گھر رہا مجھے اس نے ہلنے نہ دیا۔ انہی دنوں اس نے میری بہن سے ساڑھے چار سو تومان میں زمین کا ایک ٹکڑا خرید لیا۔ ہم دونوں بہت ہی خوش تھے۔ صمد کہتا تھا: ’’کچھ دنوں بعد تہران کی عمارت والا کا م ختم ہو جائے گا اس کے بعد میں کوئی اور کام نہیں لوں گا۔ یہاں آ جاؤں گا اور پھر ہم مل کر اپنا گھر بنائیں گے۔‘‘
گرمیاں شروع ہوتے ہی صمد آ گیا۔ ہم دونوں نے کمر کسی اور گھر کی تعمیر شروع کر دی۔ وہ مستری بن گیا اور میں اس کی مزدور۔ تھوڑے دنوں بعد اس کا بھائی تیمور بھی ہماری کی مدد کو آ گیا۔
گرمی سخت تھی۔ اتفاق سے رمضان المبارک کا مہینہ بھی تھا۔ اس حالت میں میں گھر بنانے میں صمد کی مدد بھی کر رہی تھی اور روزے بھی رکھ رہی تھی۔
ایک روز میں خدیجہ کے ساتھ حمام([2]) میں گئی۔ حمام سے لوٹے تو میری حالت بہت بری ہو گئی۔ مجھے شدید گرمی لگ گئی اور میں پیاس سے ہلاک ہوئی جا رہی تھی۔ خدیجہ میرے سر اور چہرے پر ٹھنڈا پانی ڈال رہی تھی مگر مجھے کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں بے حال ہو کر ایک کونے میں پڑ رہی۔ خدیجہ میرے پیچھے لگ گئی کہ روزہ توڑ دوں۔ میری حالت بہت بری تھی لیکن میں ٹال رہی تھی۔
اس نے کہا: ’’میں ابھی جا کر صمد کو بتاتی ہوں کہ تمہیں ہسپتال لے جائے۔‘‘
صمد گھر کا کام کر رہا تھا۔ میں نے کہا: ’’وہ بے چارہ بھی روزے سے ہے۔ رہنے دو۔ میں ابھی ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘
تھوڑی دیر گزری تومیری حالت بجائے ٹھیک ہونے کے اور زیادہ بگڑ گئی۔ خدیجہ نے اصرار کیا: ’’روزہ توڑ دو تا کہ اپنے اور بچے کے گلے کوئی مصیبت نہ ڈال بیٹھو۔ ‘‘
میں نہ مانی: ’’سوؤں گی تو کچھ بہتر ہو جاؤں گی۔‘‘ خدیجہ جو پریشان اور ناراض ہو گئی تھی، کہنے لگی: ’’تمہاری اپنی مرضی، مجھے کیا۔کل کو اگر کوئی ناقص بچہ پیدا کر بیٹھیں تو پھر کہتی پھرو گی کہ کاش خدیجہ کی بات مان لی ہوتی۔‘‘
اس نے یہ کہا تو میں شدید گھبرا گئی لیکن میں نے پھر بھی قبول نہ کیا۔ دل میں کہا کہ اگر میں نے روزہ توڑ دیا تو میرا بچہ بے دین و ایمان پیدا ہو گا۔
جب میری حالت بہت بری ہو گئی اور میرے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تو خدیجہ نے چادر سر پر اوڑھی تا کہ صمد کو جا کر بتائے۔ میں نے کہا: ’’صمد کو نہ بتانا وہ پریشان ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے میں روزہ توڑتی ہوں، مگر ایک شرط ہے۔‘‘
خدیجہ جسے تھوڑی تسلی ہو گئی تھی، پوچھنے لگی: ’’کیا شرط ہے؟!‘‘
میں نے کہا: ’’تم بھی میرے ساتھ اپنا روزہ توڑ دو۔‘‘
حیرت سے خدیجہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حلقوں سے باہر نکل آئیں: ’’تمہاری تو طبیعت خراب ہے، میں کیوں اپنا روزہ توڑوں؟!‘‘
میں نے کہا: ’’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یا تو ہم اکٹھے روزہ توڑیں گی یا میں بھی کچھ نہیں کھاؤں گی۔‘‘
خدیجہ کچھ مضطرب ہو گئی۔ میں بے ہوش ہوئی جا رہی تھی۔ گھر میرے سر کے گرد گھوم رہا تھا۔ سارا بدن ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور کانپ رہا تھا۔ وہ بھاگ کر گئی اور دو انڈے توڑ کر دیسی گھی میں نیم تلے کر لائی اور ساتھ روٹی اور سلاد بھی لے آئی۔ انڈوں کی خوشبو میری ناک میں گئی تو میرے ہاتھ پاؤں بےحس ہو گئے اور دل کمزور پڑ گیا۔ اس نے ایک لقمہ میرے منہ کے سامنے کیا۔
میں نے اپنا منہ پیچھے کو کھینچ لیا: ’’نہیں، پہلے تم کھاؤ۔‘‘
خدیجہ غصے میں آگئی۔ چلّا کر کہنے لگی: ’’یہ کیا بےوقوفی ہے۔حاملہ تم ہو، مری تم جا رہی ہو اورروزہ میں اپنا توڑ دوں؟! ‘‘
میں رونے لگی: ’’خدیجہ! میری جان، تمہیں خدا کی قسم، میری خاطر کھا لو۔‘‘
خدیجہ نے اچانک لقمہ اپنے منہ میں رکھا اور کہا: ’’اب آرام آ گیا تمہیں، اب کھا لوگی؟!‘‘
میرے ہاتھ پاؤں لرز رہے تھے۔ خدیجہ کو کھاتے دیکھا تو میں بھی شیر ہو گئی۔ روٹی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور انڈا اس پر رکھ کر پہلا لقمہ کھا لیا۔ اس کے بعد لقمہ لقمہ کر کے کھانے لگی۔
جب خوب سیر ہو گئی اور میرے ہاتھ پاؤں میں جان آ گئی تو میں نے خدیجہ کی طرف دیکھا۔ اس نے بھی میری طرف دیکھا۔ ہمارے ہونٹ انڈے کی چربی سے چمک رہے تھے۔
میں نے کہا: ’’اب اگر کسی نے ہمیں دیکھ لیا تو یہی سمجھے گا کہ ہم نے روزہ توڑ دیا ہے۔‘‘
پہلے خدیجہ نے اور اس کے بعد میں نے اپنے ہونٹ چادر کے کونے سے صاف کیے، لیکن جتنا ہونٹوں کو رگڑتے تھے ان کی سرخی اور چمک اور زیادہ ہو جاتی۔کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ دیوار سے تھوڑی سے گاچی اتاری اور اسے اپنے ہونٹوں پر رگڑا۔ اس کے بعد چادر سے صاف کر دیا۔ یہ اچھا خیال تھا۔ کسی کو پتا بھی نہ چلا کہ ہم روزہ توڑ چکی ہیں۔
*****
([1]) ایران اور افغانستان میں استعمال ہونے والی ایک ایک میٹر لمبی چوڑی مربع یا مستطیل شکل کی میز جس کے اوپر چار چار میٹر یا سات سات میٹر کا لحاف سِلا ہوتا ہے۔ میز کو لحاف کے درمیان میں رکھ کر لحاف کو میز کے ساتھ سی دیا جاتا ہے اور لحاف کے چاروں کونے چاروں طرف پھیلا دیے جاتے ہیں۔ سردیوں میں گھر کے افراد چاروں طرف اس لحاف کے اندر ٹانگیں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور درمیان میں رکھی میز پر کھانے پینے کی چیزیں رکھ کر کھاتے اور باتیں کرتے جاتے ہیں۔
([2]) پہلے پہل ایران میں عموماً گھروں میں نہانے کا اتنا زیادہ رواج نہیں تھا۔ عام طور پر لوگ عمومی حماموں میں ہی جا کر نہاتے تھے۔ مردانہ حمام الگ ہوتے اور زنانہ الگ۔ آج کل یہ رواج تقریبا ختم ہو چکا ہےاور گھروں میں ہی نہایا جاتا ہے۔