آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

ساتواں باب

ہماری شادی کو دو ماہ ہو چکے تھے۔ صمد کی ماں حمل کے آخری مہینے میں تھیں۔ ہم سب ان کے دردِ زہ کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

سہ پہر کا وقت تھا۔ میں گھر کے کاموں سے ابھی ابھی فارغ ہو ئی تھی اور تھوڑا آرام کرنا چاہتی تھی۔  کبریٰ نے سراسیمہ ہو کر میرے کمرے کا دروازہ کھولا اور کہا: ’’قدم! بھاگو۔۔۔بھاگو۔۔۔ ماں کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘

میں گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کمرے کی طرف بھاگی جہاں میری ساس تھیں۔ وہ درد سے دوہری ہوئی جا رہی تھیں۔ میں حواس باختہ ہو گئی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میں نے کہا: ’’کسی بندے کو دائی کے پاس بھیجیں۔‘‘

مجھے یاد آ گیا کہ میری بہن اور بھابھی کے وضع حمل کے وقت شیرین جان نے کیا کیا کام کیا تھا۔میں اپنی نند کے ساتھ مل کر ایک بڑا سماور([1]) لے آئی۔ اسے ہم نے کمرے کے ایک کونے میں رکھا اور روشن کر دیا۔ میری ساس کا جب درد کم ہو جاتا تو وہ ہمیں ہدایات دینا شروع ہو جاتیں؛ مثلاً یہ کہ انہوں نے نومولود کے تمام کپڑے الماری میں رکھ دیے تھے یا سارے ناکارہ کپڑےانہوں نے اسی کام کے لیے رکھ چھوڑے تھے۔ صحن کی سیڑھیوں کے نیچے کچھ بڑے طشت اور صاف رومال پڑے ہوئے تھے۔ میں اور میری نند پھرکی کی طرح گھوم رہی تھیں اور جو جو چیزیں ضرورت تھیں انہیں لا لا کر جمع کر رہی تھیں۔

بالآخر دائی آ گئی۔ساس کو اس حالت میں دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے ان کی طرف پشت کر لی اور اپنے آپ کو سماور کے ساتھ مشغول کر دیا تا کہ ایسا لگے کہ میں اس کے فتیلے کو کم یا زیادہ کر رہی ہوں۔ یا انہیں ایسا محسوس ہو کہ میں پانی کو دیکھ رہی ہوں کہ گرم ہوا ہے یا نہیں۔ میں اپنی ساس کے نالہ و فریاد سے رونے لگی۔  میں ان کے لیے دعا کر رہی تھی۔ ان کی چیخیں اونچی ہونے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک نومولود کے  معصوم اور دلنواز گریے کی آواز پورے کمرے میں پھیل گئی۔

میری ساس کے اردگرد بیٹھی ساری عورتیں خوشی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ دائی نے بچے کو ایک خوبصورت سفید کپڑے میں لپیٹا اور عورتوں کے حوالے کر دیا۔ سب خوش تھیں اور تھوڑی دیر پہلے اپنے سینوں میں روکی گئی اندیشوں بھری سانسوں کو خوشی سے باہر نکال رہی تھیں۔ لیکن میں ابھی تک کمرے کے کونے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میری نند نے کہا: ’’قدم! گرم پانی سے  اس طشت کو بھر دو۔‘‘

میری چھوٹی نند بھی میری مدد کو آ گئی۔ ہم نے جو طشت سماور کی ٹونٹی کے نیچے رکھا ہوا تھا اس کے بھرنے کا انتظار کرنے لگیں۔ اس نے کہا: ’’قدم! آؤ اپنے دیور کو دیکھو۔ بہت ہی پیارا ہے۔‘‘

طشت آدھا بھر چکا تھا۔ ہم نے اسے اٹھایا اور جا کر دائی کے سامنے رکھ دیا۔ میری ساس ابھی تک درد کی وجہ سے کراہ رہی تھیں۔ عورتیں اونچی اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ دائی نے ایک دفعہ غصے سے کہا: ’’کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو؟! خاموش رہیں۔زچہ کے سرہانے اتنی باتیں نہیں کرتے۔ مجھے اپنا کام کرنے دیں۔ ایک بچے کی پیدائش میں مشکل ہو رہی ہے۔ یہ جڑواں ہیں۔‘‘

دوبارہ سانسیں تھم گئیں اور کمرے میں پھر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ دائی نے تھوڑی کوشش کی اور مجھے، جو ایک طرف ہو کر کھڑی تھی، آواز دی: ’’بھاگو۔۔۔ بھاگو۔۔۔ کسی گاڑی کا بندوبست کرو۔ اسے  ہسپتال لے کر جانا پڑے گا۔ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے۔‘‘

میں بھاگ کر صحن میں گئی۔ میرے سسر سیڑھیوں پر بیٹھے تھےا ور ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ انہوں نے تعجب سےمجھے دیکھا۔ میں نے جلدی جلدی کہا: ’’بچے جڑواں ہیں۔ ایک تو پیدا ہو گیا ہے جبکہ دوسرے کی پیدائش میں مشکل ہو رہی ہے۔ انہیں شہر لے کر جانا پڑے گا۔ گاڑی! گاڑی کا انتظام کریں۔‘‘

میرے سسر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ سر پر مار کر کہنے لگے: ’’یا امام حسینؑ۔‘‘ اور جلدی سے گلی میں نکل گئے۔

تھوڑی دیر بعد میرے بھائی کی گاڑی دروازے پر تھی۔ کچھ خواتین نے مدد کی اور مل کر میری ساس کو آغوش میں لے کر مشکل سے گاڑی میں سوار کیا۔ میری ساس کا درد سے بہت برا حال تھا۔میرے بھائی نے کہا: ’’انہیں رزن([2]) لے جاتے ہیں۔‘‘

کچھ خواتین میری ساس کے ساتھ چلی گئیں۔ پیچھے میں، میری نند کبریٰ اور وہ نومولود رہ گئے تھے جو ابھی ابھی دنیا میں آیا تھا۔ ہمیں کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ اس بچے کو کیسے سنبھالیں۔ اس کے بدن پر ایک لباس تھا اور وہ ایک کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ کبریٰ نے اسی حالت میں اسےمیرے سپرد کرتے ہوئے کہا: ’’تم بچے کو پکڑو، میں پانی میں تھوڑی چینی گھول لوں۔‘‘ میں بچے کو آغوش میں لینے سے ڈر رہی تھی۔ میں نے کہا: ’’بچے کو تمہی پکڑو۔ چینی میں گھولتی ہوں۔‘‘

میں نے اپنی نند کے جواب کا انتظار نہ کیا۔ سماور کی طرف گئی  اور ایک کٹورا اٹھا کر سماور کی ٹونٹی کے نیچے رکھ دیا۔ کچھ ٹکڑے قند کے بھی اس میں ڈال دیے اور چمچ سے انہیں حل کر دیا۔ بچہ مسلسل روئے جا رہا تھا۔  سماور قل قل کر رہا تھا اور اس کی بھاپ ہوا میں اڑ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ بہتر ہے کہ اتنے بڑے سماور کو اب بند کر دینا چاہیے، لیکن اس کام کی فرصت نہ تھی۔ فی الحال سب سے زیادہ ضروری، بچہ تھا  جو ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔

میں نے کٹورا کبریٰ کو دیا۔  اس نے کوشش کی کہ چمچ کے ذریعے پانی بچے کے حلق میں ڈالے لیکن بچہ اسے پی نہیں پا رہا تھا۔ وہ منہ کھول رہا تھا تا کہ اپنی ماں کے سینے سے  اپنی غذا حاصل کرے، مگر دھاتی چمچ  اس کے ہونٹوں سے لگ کر اسے اذیت پہنچا رہی تھی۔ اسی وجہ سے وہ اور زیادہ رو رہا تھا۔ میری اور کبریٰ کی حالت اس نومولود سے زیادہ اچھی نہ تھی لہٰذا جب ہم نے دیکھا کہ ہم اس بچے کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہیں تو دونوں رونے لگیں۔

میری ساس نے اسی رات رزن ہسپتال میں دوسرے بچے کو بھی جنم دے دیا۔ دوسرا نومولود بیٹی تھی۔ اگلے دن صبح انہیں گھر میں لے آئے۔ ابھی وہ ٹھیک سے اپنے بستر پر لیٹی بھی نہ تھیں کہ ان کے بیٹے کو ہم نے ان کی بغل میں رکھ دیا تا کہ وہ اسے دودھ پلائیں۔ بچہ پوری اشتہاء اور رغبت سے اور گھونٹ بھر بھر کے دودھ پی رہا تھا۔ خوشی سے ہمارے آنسو نکل آئے تھے۔

جڑواں بچوں کی ولادت کے بعد ہم سب کی زندگی میں ایک تازہ رنگ آ گیا تھا۔ میں اس صورتحال سے بہت زیادہ خوش تھی۔ صمد اپنی ڈیوٹی میں مشغول تھا اور ہفتے میں ایک دن گھر آتا تھا۔ اسی وجہ سے میرا زیادہ تر وقت احساس تنہائی اور بے چینی میں گزرتا تھا۔  لیکن جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد جب گھر میں مہمانوں کا آنا جانا زیادہ ہو گیا تو میرے کام اتنے زیادہ بڑھ گئے کہ مجھے صمد کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہ ملتی۔ میں ہر وقت مہمانوں کی آؤ بھگت کرنے،  گھر کی جھاڑ پونچھ کرنے، برتن دھونے، صحن میں جھاڑو لگانے اور کھانا پکانے میں مشغول رہتی۔ رات کو خستہ اور بے حال ہو کر کسی چیز کے بارے میں سوچے بغیر ہی گہری نیند سو جاتی۔

چند ہفتے بعد صمد گھر آیا تو مجھے دیکھتے ہی حیران ہو گیا: ’’قدم! مجھے اپنی جان کی قسم، تم تو بہت کمزور ہو گئی ہو۔ مریض تو نہیں ہو؟‘‘

میں ہنس دی: ’’تمہارے نئے بھائی اور بہن  نے تھکا دیا ہے۔‘‘

یہ باتیں تو میں مذاق میں کر رہی تھی لیکن سچی بات تو یہ تھی کہ میں اس سے زیادہ بھی کرنے کے لیے تیار تھی بشرطیکہ میرا شوہر میرے پاس ہی رہے۔ بعض اوقات جب صمد کسی کام کے سلسلے میں باہر  چلا جاتا میں ماہی بے آب کی طرح  بے تاب ہو جاتی اور اس کے آنے تک ادھر ادھر ہوتی رہتی۔ آنکھیں دروازے پر لگی رہتیں۔ میں اس سے کہتی: ’’کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم یہ دو دن گھر ہی میں رہو اور کہیں اور نہ جاؤ۔‘‘

وہ کہتا کہ مجھے کچھ کام ہوتے ہیں، جنہیں انجام دینا ضروری ہوتا ہے۔

میرا دل اس کےلیے بے چین ہو جاتا۔ وہ پوچھتا: ’’قدم! یہ بتاؤ کہ تم ایسا کیوں چاہتی ہو کہ میں تمہارے پاس ہی رہوں۔‘‘

اسے میرے منہ سے سننا اچھا لگتا تھا کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں اور اس کے لیے اداس ہو جاتی ہوں۔

میں سر نیچے کر کے اسے ٹال دیتی۔

وہ کوشش کرتا کہ زیادہ تر میرے پاس ہی رہے۔ وہ میرے کسی کام میں میرا ہاتھ نہیں بٹا سکتا تھا۔ کہتا تھا: ’’یہ بری بات ہے۔ تمہارے لیے اچھا نہیں ہے کہ میں اپنے باپ اور ماں کے سامنے اپنی بیوی کی مدد کروں۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب ہم اپنے گھر میں جائیں گے تو میں تمہارے لیے سارے کام کروں گا۔‘‘

وہ میرے پاس بیٹھ جاتا اور کہتا: ’’تم کام کرو اور باتیں کرو، میں تمہیں دیکھتا رہوں گا۔‘‘

میں کہتی: ’’تم باتیں کرو۔‘‘

وہ کہتا: ’’نہیں، تم باتیں کرو۔ مجھے اچھا لگتا ہے کہ تم باتیں کرتی رہو  تا کہ جب میں چھاؤنی واپس جاؤں تو تمہاری اور تمہاری باتوں کو یاد کروں اور میرے دل کا اضطراب کچھ کم ہو جائے۔‘‘

صمد آتا اور چلا جاتا اور میں اس کی لازمی فوجی تربیت ختم ہونے اور اس کے بعد اپنی زندگی کو منظم کرنے کی امید لیے سب کچھ برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔

جڑواں بچے آہستہ آہستہ بڑے ہو رہے تھے۔ہم لوگ جب بھی گھر سے باہر جاتے تو ان میں سے ایک میرے حوالے ہوتا تھا۔ میں زیادہ تر حمید کو اپنی آغوش میں لے لیتی۔ جس رات اس نے ہمیں بہت زیادہ تنگ کیا تھا اور روتا رہا تھا، اس رات میں نے اپنے اندر اس کے لیے مادرانہ جذبات محسوس کیے تھے۔ جو لوگ ہمیں دیکھتے تھے وہ مسکراتے ہوئے ہم سے مذاق کرتے: ’’مبارک ہو۔ ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب تم بھی صاحب اولاد ہو گئی ہو؟!‘‘

ایک ماہ بعد میری ساس کی طبیعت کافی سنبھل گئی اور وہ پہلے والی حالت میں واپس آ گئیں۔ وہ صبح روٹیاں پکانے کے لیے جلدی اٹھ جایا کرتیں۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ ان سے پہلے بیدار ہو کر تنور روشن کروں اور روٹیاں پکنے تک ان کی مدد کروں۔ اسی وجہ سے میں سحر خیز ہو گئی تھی؛ البتہ بعض اوقات میں سوئی رہتی اور میری ساس مجھ سے پہلے بیدار ہو جاتیں اور خود ہی تنور روشن کر کے روٹیاں پکانے لگتیں۔ ایسے موقع پر مجھے صحن میں جانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ہر صبح جب میں بیدار ہوتی تو سب سے پہلے کمرے کے پردے کو ایک طرف کر کے باہر کی طرف دیکھتی تھی۔ اگر وہ پائپ جسے ہم تنور روشن ہونے کے بعد اس کی چمنی پر رکھتے تھے، دیوار کے ساتھ پڑا ہوتا تو میں خوش ہو جاتی اور سمجھ جاتی کہ میری ساس ابھی تک بیدار نہیں ہوئیں۔ لیکن اگر وہ چمنی تنور پر ہوتی تو میں بہت زیادہ سوگوار ہو جاتی۔ وہ گھڑی میرے لیے مصیبت اور رنج سے کم نہ ہوتی تھی۔

*****

([1]) پانی گرم کرنے کا دوہرا برتن جو تانبے یا پیتل کا ہوتا ہے۔ جس کے اندر آگ جلتی ہے اور باہر پانی گرم ہوتا ہے۔پاکستان میں تو اس کا استعمال شاید کچھ علاقوں میں ہو مگر ایران میں یہ تقریباً ہر گھر کی ضرورت ہے ۔

([2]) ایران کے شہر ہمدان میں ایک علاقے کا نام۔