چھٹا باب
جس دن رخصتی ہونا تھی، اس سے ایک رات پہلے صمد بھی اپنی چھاؤنی سے آ گیا تھا۔ آدھی رات تک وہ مختلف بہانوں سے ہمارے گھر آتا رہا۔
اگلے روز میرا بھائی ایمان میرے پاس آیا۔ اس نے سرخ رنگ کی پک اپ نئی نئی خریدی تھی۔ اس نے مجھے اپنی گاڑی پر بٹھایا۔ بھابھی خدیجہ میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ میں نے اپنا سر نیچے کر رکھا تھا، لیکن چادر اور سرخ جالی جو میں نے اپنے چہرے پر ڈال رکھی تھی، سے باہر کا نظارہ کر سکتی تھی۔ گاؤں کے بچے شور شرابا مچاتے اور خوشی سے اچھلتے کودتے گاڑی کی طرف بھاگ رہے تھے۔ کچھ تو گاڑی کے پچھلے حصے پر سوار بھی ہو گئے تھے۔ بچوں کے پاؤں کی آوازوں اور ان کے اوپر تلے اچھلنے کی وجہ سے گاڑی ہچکولے کھا رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ گاؤں کے سارے بچے گاڑی پر چڑھ گئے ہیں۔ میرے بھائی کا دل اپنی نئی گاڑی کی لیے پریشان ہو رہا تھا۔ وہ کہنے لگا: ’’ابھی گاڑی کی چھت نیچے آ جائے گی۔‘‘ صمد کا گھر ہمارے گھر سے چند گلیوں کے فاصلے پر تھا۔
شیرین جان جو اس بات کی طرف متوجہ ہی نہ ہو پائی تھیں کہ میں کب گاڑی پر سوار ہوئی ہوں، گھبرائی ہوئی میری طرف آئیں۔ وہ میرے صدقے واری ہوئی جا رہی تھی۔ اسی حالت میں انہوں نے مجھے گاڑی سے اتارا اور خود درود و سلام پڑھتے ہوئے قرآن کے سائے سے مجھے گزارا ۔ بابا کی کوئی خبر نہ تھی۔ اگرچہ ہمارے گاؤں میں یہ رسم نہیں تھی کہ دلہن کا باپ شادی میں حتماً شرکت کرےمگر پھر بھی میرا دل چاہ رہا تھا کہ اس وقت بابا میرے پاس ہوں۔ میں اپنی بھابھی خدیجہ کی مدد سے گاڑی پر سوار ہو گئی، جبکہ میں اور شیرین جان مسلسل روئے جا رہی تھیں اور ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھیں۔ خدیجہ نے جس وقت مجھے اور میری ماں کو روتے دیکھا تو وہ بھی رونے لگی۔ بالآخر گاڑی چل پڑی اور میں اور شیرین جان ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں۔ صمد کا گھر آنے تک میں اور خدیجہ روتی ہی رہی تھیں۔
جب ہم پہنچے تو دولہا کے رشتہ دار جو ہمارے آنے کے منتظر تھے، ہماری گاڑی کی طرف جلدی سے بڑھے۔ انہوں نے گاڑی کا دروازہ کھول کر میرا ہاتھ پکڑ لیا تا کہ میں اتر سکوں۔ حرمل کی خوشبو پوری گلی میں پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ صلوات پڑھ رہے تھے۔ ایک مرد رشتہ دار، جس کی آواز بہت اچھی تھی، پیغمبر اعظم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شان میں لکھے گئے خوبصورت اشعار پڑھ رہا تھا اور باقی سارے لوگ درود و سلام پڑھ رہے تھے۔
صمد چھت پر چلا گیا تھا اور وہ اور اس کے شہہ بالے مل کر گلی میں انار، قند، اور نبات پھینک رہے تھے۔ میں انتظار کرتی رہی کہ کوئی نبات یا انار میرے سر پر بھی گرے مگر صمد کا جی نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میری طرف کوئی چیز پھینکے۔ شادی کی تقریب کے اگلے مرحلے میں مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ سہ پہر کے وقت مہمان اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جبکہ قریبی رشتہ دار ٹھہر گئے اوررات کے کھانے کا بندوبست کرنے لگے۔
پہلے دن صمد اور میں شرم کے مارے کمرے سے باہر ہی نہ نکلے۔ ناشتہ، دن اور رات کا کھانا؛ تینوں وقت صمد کی ماں طبق میں کھانا رکھ کر لے آئیں اور ہر بار صمد کو آواز دےکر چلی گئیں: ’’کھانا دروازے کے پاس پڑا ہے۔‘‘
ہم تو اسی چیز کی تاک میں بیٹھے ہوتے تھے۔ جب اطمینان ہو جاتا کہ اب باہر کوئی نہیں ہے تو طبق اٹھا لاتے اور کھانا کھا لیتے۔
ہمارے ہاں یہ رسم تھی کہ دوسری رات دلہا کے گھر والے دلہن کے گھر والوں سے ملنے جاتے تھے۔ اس دن سہ پہر ہی سے میں بے تاب تھی اور کپڑے وپڑے پہن کر ، تیار ہو کر کمرے میں بیٹھ گئی۔ میں چاہتی تھی کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ میرا دل اپنے بابا اور ماں کے لیے کتنا پریشان ہے تاکہ وہ لوگ زیادہ دیر نہ لگائیں۔ بالآخر رات کا کھانا کھا کر ہم لوگ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔
مجھے پَر لگ گئے تھے۔ دل چاہتا تھا کہ سب سے زیادہ تیز دوڑوں تاکہ جلدی جلدی پہنچ جاؤں۔ یہی وجہ تھی کہ میں آگے آگے چل رہی تھی اور صمد میرے پیچھے پیچھے میری چادر کھینچتے ہوئے آ رہا تھا۔
جب ہم بابا کے گھر پہنچ گئے تو مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا۔ جیسے ہی بابا پر نظر پڑی، اپنے آپ کو ان کی آغوش میں گرا دیا اور ہمیشہ کی طرح انہیں بوسے دینا شروع ہو گئی۔ پہلی دائیں آنکھ، پھر بائیں آنکھ، پھر دائیں بائیں رخسار، ناک کی نوک حتی کہ ان کے کانوں تک پر بوسے دے دیے۔ شیرین جان ایک طرف کھڑی رو رہی تھیں اور زیر لب کہہ رہی تھیں: ’’خدا تجھے کبھی مایوس نہ کرے، میری پیاری بیٹی۔‘‘
صمد کے گھر والے تعجب سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ وہ اس لیے کہ پورے قایش میں ایسی کوئی بیٹی نہ تھی جو سب کے سامنے اپنے بابا کو اس طرح بوسے دے رہی ہو۔ وہ چند گھنٹے جو میں اپنے بابا کے گھر میں رہی مجھے ایک اور ہی طرح کا احساس ہو رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں ابھی ابھی دنیا میں آئی ہوں۔ تھوڑی دیر بابا کے پاس بیٹھتی، ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتی اور انہیں اپنی آنکھوں پر لگاتی یا بوسے دیتی۔ کبھی شیرین جان کے پاس جا کر بیٹھ جاتی، انہیں بانہوں میں بھر لیتی اور ان کے صدقے واری جاتی۔
بالآخر واپسی کا وقت آ گیا۔ بابا اور ماں سے جدا ہونا بہت ہی سخت مرحلہ تھا۔ دروازے تک کئی بار گئی اور پلٹ آئی۔ میں بابا کو مسلسل بوسے دیے جا رہی تھی اور ماں کو ان کے بارے میں ہدایات دے رہی تھی: ’’شیرین جان! میرے بابا کا خیال رکھنا۔ بابا کو میں آپ کے حوالے کر کے جا رہی ہوں۔ پہلے خدا اور اس کے بعد آپ اور بابا۔‘‘
جس کیفیت میں مَیں بابا کے گھر آئی تھی، اب واپسی پر اس کے برعکس آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کی وجہ سے دوسروں سے کافی پیچھے رہ گئی تھی۔ دوسروں کی نظروں سے بچ کر رو رہی تھی۔
صمد کچھ بھی نہیں کہہ رہا تھا۔ اس کا دھیان میری طرف تھا کہ میں کہیں تنگ اور خاک آلود گلیوں میں جگہ جگہ پڑے گڑھوں میں گر نہ جاؤں۔
اگلے روز صمد چلا گیا اور اسے جانا بھی تھا کیونکہ وہ فوجی تھا۔ اس کے جانے سے گھر میرے لیے زندان کا سا ہو گیا۔ صمد کی ماں حمل سے تھیں۔ میں جو بابا کے گھر میں کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، اب مجبور تھی کہ برتن دھوؤں، جھاڑو لگاؤں اور دس بارہ افراد کے لیے آٹا گوندھوں۔ میرے ہاتھ چھوٹے تھے اور آٹے کو اچھی طرح الٹ پلٹ نہیں سکتی تھی تا کہ وہ اچھی طرح سے گندھ جائے۔
اکتوبر کا مہینہ تھا۔ ہوا ٹھنڈی ہو گئی تھی اور درختوں کے پتے جو زرد اور خشک ہو چکے تھے، صحن میں گرتے رہتے تھے۔ مجھے ہر روز کافی دیر تک اس ٹھنڈی ہوا میں رہ کر ان پتوں کو جھاڑو سے اکٹھا کرنا پڑتا تھا۔
ہماری شادی کو دو ہفتے گزر چکے تھے۔ ایک روز صمد کی ماں اپنی بیٹی کے گھر گئیں اور مجھ سے کہا: ’’میں شہلا کے گھر جا رہی ہوں، تم رات کا کھانا تیار کر دینا۔‘‘
ان دو ہفتوں میں کھانا پکانے کے علاوہ میں ہر کام کر چکی تھی۔ اب کوئی چارہ نہ تھا۔ میں باورچی خانے میں چلی گئی، جو گھر کے صحن میں تھا۔ میں نے مٹی کے تیل والا چولہا جلایا اور ایک دیگچے میں پانی ڈال کر اسے ابلنے کے لیے چولہے پر چڑھا دیا۔ چولہے کی آنچ مسلسل کم اور زیادہ ہو رہی تھی اس لیے مجھے مجبوراً جلدی جلدی پمپ چلانا پڑتا تا کہ چولہا بجھ نہ جائے۔([1])
بالآخر پانی ابل گیا۔ چاول جو میں نے صاف کر کے دھو دیے تھے، وہ اٹھا کر پانی میں ڈال دیے۔ پریشانی سے میرے ہاتھ بے حس ہو چکے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ کس وقت چاولوں کو چولہے سے اتارنا ہے۔ صمد کی بہن کبریٰ میری مدد کرنے لگی۔ میں مسلسل دعا کر رہی تھی کہ پانی سے اچھے چاول باہر نکلیں اور میری آبرو رہ جائے۔ جب چاول تھوڑے سے ابل گئے تو کبریٰ نےکہا: ’’اب ان کا وقت ہو گیاہے۔ چاول اتار لیتے ہیں۔‘‘
ہم دونوں نے ایک دوسرے کی مدد سے چاولوں کو چھلنی میں ڈالا اور ان کا پانی نکال کر انہیں چھان لیا۔ پھر انہیں دم پر لگا کر آلو، گوشت اور پیاز بھوننے لگیں تا کہ پلو([2]) تیار کر سکیں۔
رات ہو گئی تو سب گھر آ گئے۔ میں نے کھانا لگا تو دیا مگر ڈر کے مارے کمرے میں نہ گئی اور باورچی خانے میں ہی بیٹھ کر دعا کرنے لگی۔ کبریٰ نے مجھے آواز دی۔ میں ڈرتی جھجکتی کمرے میں چلی گئی۔
صمد کی ماں دسترخوان پر بیٹھی تھیں۔ پلو کا خالی طبق دسترخوان کے درمیان میں پڑا تھا۔ سب لوگ کھانا کھا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ’’واہ واہ، کتنا مزیدار ہے۔‘‘
اگلے روز ایک ہمسائی میری ساس کے پاس آئی۔ میں صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ میں نے سنا کہ میری ساس اس ہمسائی کے سامنے میرے کھانے کی تعریفیں کر رہی ہیں: ’’تم نہیں جانتیں، کل رات قدم نے ہمارے لیے کتنا مزیدار کھانا پکایا۔ اس کے پکانے کا کوئی جواب نہیں ہے۔ آخر کیوں نہ ہو، شیرین جان کی بیٹی جو ٹھہری۔‘‘
یہ پہلی دفعہ تھی کہ میں اس گھر میں آرام و سکون کا احساس کر رہی تھی۔
*****
([1]) یہاں وہ چولہا مراد ہے جسے انگریزی میں Primus Stove کہا جاتا ہے۔ اس میں مٹی کا تیل استعمال کیا جاتا تھا اور اس کی آنچ کو زیادہ کرنے یا مسلسل جلائے رکھنے کے لیے اس کے ساتھ منسلک ایک ٹینکی میں پمپ کے ذریعے ہوا بھرنا پڑتی تھی۔