تیسرا باب
اس رات جب مہمان چلے گئے تو بابا نے ماں سے کہا تھا: ’’خدا کی قسم، میں قدم کی شادی پر ابھی بھی راضی نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ نوبت یہاں تک پہنچ کیسے گئی۔ میرے چچازاد بھائی کا قصور تھا۔ اس کے رونے دھونے نے مجھے مجبور کر دیا۔ اس نے انتہائی غم و اندوہ سے کہا کہ اگر اس کا بیٹا زندہ ہوتا تو کیا قدم کو اس کے ساتھ نہ بیاہتے؟! اب یہی سمجھو کہ صمد میرا ہی بیٹا ہے۔‘‘
بابا کے چچازاد بھائی کا بیٹاکئی سال پہلے جوانی ہی میں بیمار پڑا اور دنیا سے رخصت ہو گیاتھا۔ اس کے جانے کے بعد اس کے والد ہر وقت اس کی یاد میں روتے رہتے، جنہیں دیکھ دیکھ کر آس پاس کے لوگ بھی رنجیدہ ہو جاتے۔ اب انہوں نے اسی بات کی آڑ لے کر بابا کی رضامندی حاصل کر لی تھی۔
قایش میں رسم ہے کہ منگنی سے پہلے رشتہ دار مرد اور سفید ریش معمر حضرات ایک جگہ مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں کچھ باتیں طے کر لیتے ہیں۔ حق مہر معین کرتے ہیں اور شادی کی خرید و فروخت اور دوسرے اخراجات کا تخمینہ لگاتے اور انہیں ایک کاغذ پر لکھتے ہیں۔یہ کاغذ ایک آدمی جا کر دولہا کے خاندان والوں کو دے دیتا ہے۔ اگر دولہا کے گھر والے ان اخراجات پر راضی ہوں تو کاغذ پر دستخط کر دیتے ہیں اور اس کے ساتھ واپسی پر دلہن کے گھر والوں کے لیے ایک تحفہ بھی بھیج دیتے ہیں۔
اس رات میں صبح تک دعا کرتی رہی کہ بابا حق مہر اور شادی کے اخراجات زیادہ رکھ دیں تا کہ دولہا کے گھر والے قبول ہی نہ کریں۔
اگلے روز گھر آئے مہمانوں میں سے ایک آدمی وہ کاغذ لے کر صمد کے والد کے گھر چلا گیا۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا تھا کہ بابا نے میرا حق مہر پانچ ہزار تومان مقرر کیا تھا۔جو اخراجات بابا اور ماں نے مشخص کیے تھے، صمد کے گھر والوں کو وہ منظور نہ تھے لیکن صمد نے جیسے ہی مہر کی رقم دیکھی تو ناراض ہو کر کہنے لگا:’’اتنا کم کیوں؟! مہر زیادہ کریں۔‘‘اردگرد کے لوگوں نے مخالفت کی تھی۔ صمد اپنی بات پر قائم رہا اور مہر میں پانچ ہزار تومان کا اضافہ کر کے کاغذ کے نیچے اپنے دستخط کردیے۔
اس دن سہ پہر کے وقت ایک آدمی نے وہ دستخط شدہ کاغذ اور زنانہ لباس کا ایک جوڑا ہماری طرف بھیجا۔ اب میری امید ختم ہو چکی تھی۔ بابا نے اتنی سادگی سے پہلی مرتبہ ہی میرا رشتہ لے کر آنے والے کو مثبت جواب دے دیا اور اپنی آخری اولاد کو بیاہ دیا تھا۔
کچھ دن بعد ہمارے گھر میں منگنی اور مہمانوں کو مٹھائی کھلانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ مرد ایک کمرے میں جبکہ عورتیں دوسرے کمرے میں تھیں۔میں صحن کے کونے میں موجود گودام کے اندر چھپ گئی اور زارو قطار رونے لگی۔ خدیجہ ہر جگہ مجھے تلاش کر رہی تھی بالآخر اس نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا۔جب اس نے مجھے اس روتی ہوئی حالت میں دیکھا تو مجھے نصیحت کرنے لگی: ’’لڑکی! ان حرکتوں کا کیا مطلب ہے؟ تم بچی تو نہیں ہو نا! چودہ سال تمہاری عمر ہو گئی ہے۔ تمہاری عمر کے ساری لڑکیاں یہی آرزو رکھتی ہیں کہ صمد جیسا کوئی لڑکا ان کا ہاتھ مانگنے کے لیے آئے اور ان سے شادی کر لے۔ مگر صمد میں عیب ہی کیا ہے۔ اچھا خاندان ہے۔ ماں باپ بھلے لوگ ہیں۔ اگر اس سال شادی نہیں کرو گی تو اگلے سال تو کرنا ہی پڑے گی نا۔ ہر لڑکی کو بالآخر اپنے شوہر کے گھر کو سدھارنا ہی ہوتا ہے، تو اس صورت میں صمد سے بہتر کون ہے۔ تم سوچتی ہو کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں صمد سے بہتر کوئی شوہر تمہیں ملے گا؟! کہیں ایسا تو نہیں کہ تم اس چیز کا انتظار کر رہی ہو کہ کسی اور دنیا سے کوئی شہزادہ اترے گا اور تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں خوابوں کے محل میں لے جائے گا۔ دیوانی لڑکی نہ بنو۔ اپنی قسمت کو ٹھوکر مت لگاؤ۔ صمد اچھا لڑکا ہے۔ اس نے تجھے دیکھا اور پسند کیا ہے۔ ضد چھوڑو اور ایسا کام نہ کرو کہ وہ لوگ پشیمان ہو جائیں اور اٹھ کر چلے جائیں۔ پھر کہیں گے کہ حتماً لڑکی میں کوئی نہ کوئی عیب ہو گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو ساری عمر گھر کے ایک کونے ہی میں پڑی رہو گی۔‘‘
بھابھی کی باتوں سے میری کچھ ڈھارس بندھی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور صحن میں لے گئی۔ کنویں سے میرے لیے پانی نکالا،پانی کو ایک طشت میں ڈالا اور بچوں کی طرح میرے ہاتھ منہ دھلانے لگی۔ اس کے بعد مجھے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئی۔ میں شرم سے مری جا رہی تھی۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو چکے تھے اور دھڑکنیں قابو سے باہر ہوئی جا رہی تھیں۔ میری بہن نے مجھے دیکھا تو کھڑی ہو گئی اور اپنی سرخ شال میرے سر پر ڈال دی۔ سب خواتین تالیاں بجانے اور ترکی زبان میں میرے لیے شعر پڑھنے اور گانے گانے لگیں لیکن مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اب کے اب میں دلہن بنی جا رہی تھی۔ دل میں خدا خدا کر رہی تھی کہ جتنا جلدی ہو سکے مہمان جائیں اور اپنے بابا کو دیکھوں۔ مجھے یقین تھا کہ بابا جیسے ہی میرے سر پر ہاتھ پھیریں گے میرا سارا رنج و غم اور پریشانی کافور ہو جائے گی۔
اس واقعے کو چند روز گزر گئے۔ ایک دن صبح بہار کی سی فضا تھا۔ میں صحن میں کھڑی تھی۔ ہمارا صحن کافی بڑا تھا۔ اس کے اردگرد کمرے ہی کمرےتھے۔ دو دروازے تھے، جن میں سے ایک گلی میں جبکہ دوسرا ایک باغ میں کھلتا تھا جسے ہم باغیچہ کہتے تھے۔
باغیچہ خوبانی کے درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہاں جاؤں۔ باغیچہ سرسبز اور خوبصورت تھا۔درختوں پر کونپلیں پھوٹ پڑی تھیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی پتیاں بہار کی پُر کیف دھوپ میں چمک رہی تھیں۔ شدید جاڑا گزارنے کے بعد اس سرسبز فطری منظر کو دیکھنا اور خوشگوار اور دلنشین ہوا کو محسوس کرنا انتہائی لذت بخش ہوتا تھا۔ اچانک میں نے ایک آواز سنی، گویا درختوں کے پیچھے سے کوئی مجھے آواز دے رہا ہو۔ پہلے تو میں ڈری اور پھر حیران رہ گئی۔جیسے ہی میں نے اپنے کان کھڑے کیے تو آواز زیادہ صاف ہو نے لگی۔ اس کے بعد ایک آدمی درختوں کے پیچھے چھوٹی دیوار سے کود کر باغیچے میں آگیا۔ میں نے جیسے ہی وہاں سے حرکت کرنا چاہی، دیوار پر ایک سایہ بھاگتا ہوا آیا اور میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ صمد تھا۔ اس نے خوشی سے مجھے سلام کیا۔ میں حواس باختہ ہو گئی۔ سر پر اپنی چادر سیدھی کی۔ سر نیچے کو جھکا لیا اور کچھ کہے بغیر، حتی کہ سلام کا جواب بھی نہ دیا اور سر پر پاؤں رکھ کر سرپٹ بھاگتی، صحن سے ہوتی، دو دو سیڑھیوں کو ایک ایک قدم میں پھلانگتی ہوئی کمرے میں گھس گئی اور کمرے کو اندر سے تالا لگا لیا۔
صمد نے تھوڑی دیر کھڑے ہو کر انتظار کیا۔ جب میرے آنے سے مایوس ہو گیا تو ناگواری کی حالت میں سیدھا میری بھابھی کے پاس چلا گیا اور اس سے میری شکایت کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’ایسا لگتا ہے کہ قدم مجھے اصلاً پسند نہیں کرتی۔ میں نے لاکھ جتن کر کے چھاؤنی سے چھٹی لی، فقط اس واسطے کہ قدم سے مل لوں اور اس سے چار باتیں کر لوں۔ کافی دیر تک ان کے گھر والے باغیچے کی دیوار کے پیچھے تاک لگائے بیٹھا رہا یہاں تک کہ اسے اکیلے دیکھ ہی لیا۔ لیکن وہ ایسی بے انصاف ہے کہ اس نے میرے سلام کا جواب تک نہ دیا اور مجھے دیکھتے ہی بھاگ گئی۔‘‘
ظہر کے نزدیک خدیجہ ہمارے گھر میں آئی اور کہنے لگی: ’’قدم! سہ پہر کو ہمارے گھر آؤ۔ آج گھر میں کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ میں اکیلی ہوں۔ تم آ کر میری تھوڑی مدد کر دو۔‘‘
سہ پہر کے وقت میں ان کے گھر چلی گئی۔ وہ رات کا کھانا تیار کر رہی تھی۔ میں اس کی مدد کرنے لگی۔ میں اس چیز سےغافل تھی کہ خدیجہ نے میرے بارے میں کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جیسے ہی مغرب کی اذان ہوئی اور اندھیرا پھیلنا شروع ہوا تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلا اور صمد اندر داخل ہو گیا۔ مجھے خدیجہ پر بہت غصہ آیا۔ میں نے کہا: ’’اگر ماں اور بابا کو پتا چل گیا تو ہم دونوں کو مار ہی ڈالیں گے۔‘‘
خدیجہ ہنس کر کہنے لگی: ’’اگر تمہارا منہ بند رہا تو کسی کو بھی خبر نہیں ہو گی۔ تمہارا بھائی بھی آج گھر پر نہیں ہے۔وہ اپنے کھیتوں میں پانی لگانے گیا ہے۔‘‘
جب میری پریشانی کچھ کم ہوئی تو میں نے کنکھیوں سے اسے دیکھا۔ اس کی شکل ایسے کیوں تھی؟! وہ گنجا تھا۔ خدیجہ نے اسے اندر آنے کو کہا تو وہ اس کمرے میں آ گیا جہاں میں تھی۔ اس نے سلام کیا۔ میں اس وقت بھی اس کے سلام کا جواب نہ دے سکی۔ میں کچھ کہے بغیر اٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ خدیجہ نے مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ صمد کو لیے دوسرے کمرے میں بھی آ گئی۔ خدیجہ نے آنکھوں کے اشاروں سے مجھے سمجھایا کہ میں اچھا نہیں کر رہی۔ اس کے بعد وہ کمرے سے نکل گئی۔ اب کمرے میں صمد اور میں رہ گئے تھے۔ میں تھوڑی سی ہچکچائی اور پھر اٹھ کھڑی ہوئی تا کہ اس کی بوجھل نظروں سے بھاگ جاؤں۔ وہ دروازے کی چوکھٹ میں کھڑا ہو گیا اور اپنے دونوں بازو کھول کر میرا راستہ روک لیا۔ ہنس کر کہنے لگا: ’’کہاں؟! کیوں مجھ سے بھاگتی ہو؟! بیٹھو، مجھے تم سے کچھ کام ہے۔‘‘
میں اپنا سر جھکا کر بیٹھ گئی اور وہ بھی بیٹھ گیا؛ البتہ مجھ سے کافی فاصلے پر۔ اس کے بعد اس نے آہستہ آہستہ بات کرنا شروع کی: ’’مجھے اچھا لگتا ہے کہ میری بیوی اِسی طرح کی ہو۔ ایسی ویسی نہ ہو۔ پھر کہنے لگا: ’’فی الحال تو میں تربیتی فوج میں ہوں۔ اس کے بعد چاہتا ہوں کہ جیسے ہی میری تربیت ختم ہو، تہران جا کر کوئی اچھا اور بڑا سا کام شروع کروں۔‘‘ میرے چہرے پر پریشانی دیکھی توکہنے لگا: ’’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاید قایش میں ہی رہ جاؤں۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنا کام کاج بتایا کہ مکان پلستر کرنے کا کام کرتا ہے اور تہران میں بہتر طور سے یہ کام کر سکتا ہے۔
میں اسی طرح اپنے سر کونیچے کیے بیٹھی تھی اور کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔ صمد ہی آہستہ آہستہ باتیں کیے جا رہا تھا۔ آخرکار اسے غصہ آ گیا اور کہنے لگا: ’’تم بھی تو کچھ بولو، کوئی بات کرو تا کہ میرا دل خوش ہو جائے۔‘‘
میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ میں نے چادر کو گلے کے نیچے سے سختی سے پکڑ رکھا تھا اور ٹک ٹک سامنے والے کمرے کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ میرے منہ سے کوئی بات نکلوانے میں اس کی ساری کوشش بے فائدہ ہے تو خود ہی سوال پوچھنا شروع ہو گیا: ’’تم کہاں زندگی گزارنا چاہتی ہو؟!‘‘
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا: ’’اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہو؟!‘‘
بالآخر میں نے سکوت توڑا اور فقط ایک ہی لفظ کہا: ’’نہیں!‘‘ اس کے بعد پھر خاموشی۔
جب اس نے دیکھا کہ اتنی آسانی کے ساتھ مجھ سے کوئی بات نہیں اگلوا سکتا تو وہ بھی خاموش ہو گیا۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور خدیجہ کی مدد کرنے کے بہانے اٹھ کر دسترخوان بچھانے لگی۔ کھانا بھی میں نے لگایا۔ خدیجہ اصرار کر رہی تھی: ’’تم صمد کے پاس جا کر بیٹھو اور باتیں کرو۔ میں خود کام کر لوں گی۔‘‘ لیکن میں نے سنی ان سنی کر دی اور باورچی خانے کے کام کرنے لگی۔ صمد تنہا رہ گیا تھا۔ دسترخوان پر بھی میں خدیجہ کے ساتھ بیٹھی۔
کھانا کھانے کے بعد میں نے برتن جمع کیے اور چائے لانے اور باورچی خانے کی صفائی کے بہانے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
صمد نے خدیجہ سے کہا: ’’میرا خیال ہے کہ قدم مجھے پسند نہیں کرتی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پھر ہم دونوں اکٹھے زندگی نہیں گزار سکتے۔‘‘
خدیجہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’تم پریشان نہ ہو۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ تھوڑا عرصہ گزر جائے تو وہ تمہیں پسند کرنے لگے گی۔ تم ذرا صبر و تحمل سے کام لو۔‘‘
صمد چائے پی کر چلا گیا۔ میں نے خدیجہ سے کہا: ’’وہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ گنجا ہے۔‘‘ خدیجہ ہنسنے لگی: ’’بس، تمہارا یہی مسئلہ ہے، پاگل؟! ابھی تو وہ تربیتی فوجی ہے۔ کچھ ماہ بعدجب اس کی لازمی فوجی تربیت([1]) کا دورانیہ ختم ہو جائے گا تو اس کے بال نکل آئیں گے۔‘‘
اس کے بعد اس نے پوچھا: ’’اچھا، دوسری خامی؟!‘‘
میں نے کہا: ’’باتیں بہت کرتا ہے۔‘‘
خدیجہ پھر ہنس دی: ’’اس کا بھی حل ہے۔ تم صبر کرو اور اپنی کھال سے باہر آ کر اس شرم و حیا کو کنارے کرو تو اسے ہرا سکتی ہو۔ اس کے بعد اسے بات کرنے کی مہلت ہی نہیں ملےگی۔‘‘
خدیجہ کی باتوں سے مجھے ہنسی آ گئی۔ اس ہنسی نے ہنسی مذاق کا دروازہ کھول دیا اور ہم کافی دیر تک جاگتی، باتیں کرتی اور ہنستی رہیں۔
کچھ دن بعد صمد کی ماں نے اطلاع بھجوائی کہ وہ ہمارے گھر آنا چاہتی ہیں۔
وہ سہ پہر کے وقت اکیلی ہمارے گھر آئیں اور اپنے ساتھ ایک پوٹلی بھی لائیں۔ ماں نے شکریہ ادا کیا،پوٹلی لی اور کمرے کے درمیان میں رکھ کر مجھے اشارہ کیا کہ میں اسے کھولوں۔ میں بادلِ نخواستہ کمرے کے درمیان میں جا کر بیٹھ گئی اور اس پوٹلی کی گرہ کھول دی۔ اس میں کچھ کرتیاں، لہنگے اور کچھ اَن سلے کپڑے تھے جن میں سے ایک بھی مجھے اچھا نہ لگا۔ میں نے بغیر کوئی شکریہ ادا کیے کپڑوں کو تہہ کیا، انہیں پوٹلی میں رکھا اور جیسے پوٹلی کھولی تھی ویسے ہی اسے دوبارہ گرہ لگا دی۔
صمد کی ماں سمجھ گئیں؛ مگر انہوں نے کچھ نہ کہا۔ میری ماں نے اپنے ہونٹ کاٹے اور خفگی سے مجھے اشارہ کیا کہ میں شکریہ ادا کروں، مسکراؤں اور کہوں کہ بہت اچھے کپڑے ہیں اور مجھے بہت پسند آئے ہیں۔ لیکن میں کچھ نہ بولی اور منہ بنا کر ایک طرف کو جا بیٹھی۔
صمد کی ماں چلی گئیں اور انہوں نے جا کر سب کچھ صمد کو بتا دیا تھا۔ کچھ دن بعد صمد آیا۔ اس نے سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی تا کہ اس کا گنجا پن ظاہر نہ ہو۔ اس کے ہاتھ میں ایک بیگ بھی تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا دیا اور بیگ میرے ہاتھ میں دے کہنے لگا: ’’لو، یہ تمہارے لیے ہے۔‘‘
میں نے کچھ کہے بغیر بیگ لیا اور تہہ خانے میں بنے کمروں میں سے ایک کمرے کی طرف بھاگ گئی۔([2]) وہ مجھے آواز دیتے ہوئے میرے پیچھے آ گیا۔ اس نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور کہا: ’’قدم! خدا کا واسطہ، مجھ سے مت بھاگو۔ دیکھو، یہ چھٹی کا اجازت نامہ ہے۔ میں نے فقط تم سے ملنے کے لیے چھاؤنی سے چھٹی لی ہے۔‘‘
میں نے کاغذ کی طرف دیکھا؛ لیکن چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ گویا صمد بھانپ گیا تھا۔ کہنے لگا: ’’میری چھٹی کا اجازت نامہ ہے۔ ایک دن کی چھٹی تھی، دیکھو میں نے ایک کو دو کر دیا تا کہ ایک دن مزید ٹھہر جاؤں اور تم سے مل سکوں۔ اللہ کرے کسی کو سمجھ نہ آئے۔ اگر کسی کو پتا چل گیا کہ میں نے اس کاغذ پر اپنی استادی دکھائی ہے تو میرا حشر نشر کر دیں گے۔‘‘
میں ڈر رہی تھی کہ اگر اس دوران کوئی آ گیا اور اس نے ہمیں باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔ میں نے کچھ نہ کہا اور کمرے میں چلی گئی۔ نہیں معلوم وہ کمرے میں کیوں نہ آیا۔ وہی دروازے کے سامنے ہی سے کہنے لگا: ’’پس کم از کم مجھے یہ تو بتاؤ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اگر میں تمہیں اچھا نہیں لگتا تو بتا دو تا کہ میں کچھ اور سوچوں۔‘‘
اس بار بھی میرے پاس جواب دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔اس کمرے میں ایک دروازہ تھا جو دوسرے کمرے میں کھلتا تھا۔ میں اس کمرے میں چلی گئی۔ صمد خدا حافظ کہے بغیر چلا گیا۔ بیگ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں ایک طرف بیٹھ گئی اور اسے کھول کر دیکھنے لگی۔ اس نے کچھ قمیصیں، زنانہ لباس اور کچھ مقنعے میرے لیے خریدے تھے۔ مجھے اس کا انتخاب اچھا لگا۔ نہیں معلوم مجھ میں اتنی جرأت کیسے آ گئی۔ میں نے کپڑوں کو جمع کیا، بیگ میں ڈالا، اس کی زنجیری بند کی اور صحن کی طرف دوڑ پڑی۔ صمد وہاں نہیں تھا۔ وہ جا چکا تھا۔
اگلے دن وہ نہ آیا۔ اس سے اگلے دن اور پھر بعد کے دنوں میں بھی وہ نہیں آیا۔ میں اس کے لیے تھوڑا تھوڑا پریشان ہونا شروع ہو گئی تھی۔ کسی کو اپنے دل کا حال نہیں بتا سکتی تھی۔ ماں سے بھی صمد کے بارے میں پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ ایک دن میں چشمے پر گئی تو عورتوں سے سنا کہ چھاؤنی میں ریڈ الرٹ کی کیفیت ہے اور کسی کو بھی چھٹی نہیں دے رہے۔ بابا، شاہ([3]) کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا تذکرہ گھر میں کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اکثر شہروں کو فوج نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے اور لوگ شاہ اور اس کی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ لیکن ہمارا گاؤں پُر امن تھا اور لوگ سکون سے اپنی زندگی کے روزمرہ معمولات میں مشغول تھے۔
آخری بار صمد کو دیکھے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ اس دن خدیجہ اور میرا بھائی ہمارے گھر میں تھے۔ ہم لوگ ڈیوڑھی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے دیہاتی گھروں کی طرح ہمارے گھرکا دروازہ بھی رات کے علاوہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ میں نے سنا کہ دروازے کے پیچھے کوئی ’’یا اللہ۔۔۔ یا اللہ۔۔۔‘‘ کی آواز دے رہا ہے۔([4]) وہ صمد تھا۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اس کی آواز سنتے ہی میری حالت اور ہو گئی تھی۔ دل دھڑکنےلگا تھا۔ میرا بھائی ایمان جلدی سے دروازے پر گیا اور سلام و احوال پرسی کے بعد صمد کو اندر آنے کا کہا۔ صمد نے مجھے دیکھا تو ہمیشہ کی طرح مسکرا کر سلام کیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے چہرے پر آگ لگ گئی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ میرے گالوں پر کسی نے دو گرم گرم چمچے رکھ دیے ہوں۔ میں نے سر جھکا لیا اور کمرے میں چلی گئی۔ خدیجہ نے صمد کو اندر آنے کا کہا۔ جب وہ آیا تو میں کمرے سے باہر چلی گئی۔ مجھے شرم آ رہی تھی کہ اپنے بھائی کے سامنے صمد سے بات کروں یا جس کمرے میں وہ بیٹھا ہے میں بھی اسی میں بیٹھوں۔ صمد ایک گھنٹے تک ٹھہرا اور میرے بھائی اور بھابی سے باتیں کرتا رہا۔ جب وہ مجھے دیکھنے سے نا امید ہو گیا تو کھڑا ہوا اور رخصت کے لیے خداحافظ کہا۔ڈیوڑھی میں مجھے دیکھا تو کنایہ آمیز لہجے میں کہنے لگا: ’’معذرت چاہتا ہوں، میں مخل ہوا اور تمہیں تکلیف دی۔ بابا اور شیرین جان کو سلام کہنا۔‘‘
خدیجہ نے مجھے بلایا اور کہا: ’’قدم! تم نے پھر بے وقوفی کر دی۔ اندر کیوں نہ آئیں۔ بے چارہ! دیکھو تو، تمہارے لیے کیا لے کر آیا ہے۔‘‘ خدیجہ نے اس بڑے بیگ کی طرف اشارہ کیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور کہنے لگی: ’’پاگل! یہ وہ تمہارے لیے لایا ہے۔‘‘
میں صمد کو دیکھ کر اتنی حواس باختہ ہو چکی تھی کہ اس کے ہاتھ میں موجود بیگ کو اصلاً دیکھ ہی نہ پائی تھی۔ خدیجہ نےمیرا ہاتھ پکڑا اور کمرے کے اندر والے کمرے میں مجھے لے گئی۔ ہم نے کمرے کے دروازے کواندر سے کنڈی لگا لی اور بیگ کھول دیا۔ صمد نے بیگ کے اندر والے حصے پر اپنی ایک بڑی تصویر چپکا رکھی تھی اور اس کے اردگرد ٹیپ لگا دی تھی۔ تصویر دیکھ کر میں اور خدیجہ ہنسنے لگیں۔ بیگ کپڑوں اور ملبوسات سے بھرا ہوا تھا۔ کپڑوں کے اندر اس نے دلہنوں والے کچھ خوشبودار صابن رکھ دیے تھے تا کہ سارے کپڑوں میں خوشبو بھر جائے۔
ملبوسات پورے سلیقے سے تہہ کیے گئے تھے۔ خدیجہ نے مذاق شروع کر دیا: ’’مرتی مرو، تم کتنی خوش قسمت ہو۔ وہ تمہیں کتنا پسند کرتا ہے۔‘‘
ایمان جو ہمارے پیچھے پیچھے آ گیا تھا، دروازہ کھٹکھٹائے جا رہا تھا۔ میں ڈر کر اٹھی اور کہا: ’’خدیجہ! آؤ بیگ کو کہیں چھپا دیں۔‘‘
خدیجہ نے تعجب سے پوچھا: ’’چھپا کیوں دیں؟!‘‘
مجھے شرم آ رہی تھی کہ ایمان بیگ کو آ کر دیکھے گا۔ میں نے کہا: ’’اگر ایمان نے صمد کی تصویر دیکھ لی تو وہ یہ سمجھے گا کہ میں نے بھی اسے اپنی تصویر دے رکھی ہے۔‘‘
ایمان نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: ’’دروازہ بند کیوں کیا ہوا ہے؟! کھولو، میں بھی دیکھوں۔‘‘
میں اور خدیجہ نے کوشش کی کہ تصویر کو اکھاڑ لیں مگر وہ نہ اکھڑی۔ ایسا لگتا تھا کہ صمد نے تصویر کے نیچے بھی ایلفی یا گوند وغیرہ لگا دی تھی کہ اتنی آسانی سے اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ خدیجہ نے مذاق کرتے ہوئے کہا: ’’دیکھو، مجھے تو لگتا ہے کہ اس نے میجک بونڈ کے ساتھ تصویر چپکائی ہے۔ کس قدر خود پسند ہے۔‘‘
ایمان دروازے کو ایسے کوٹے جا رہا تھا کہ جیسے اسے اکھاڑنے پر تلا بیٹھا ہو۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی چارہ نہیں ہےا ور تصویر کو کسی بھی صورت میں اکھاڑا نہیں جا سکتا تو بیگ کو بند کیا اور کمرے کے ایک کونے میں اوپر نیچے رکھے گئے بستروں میں چھپا دیا۔خدیجہ نے دروازہ کھولا۔ ایمان کی چھٹی حس بیدار ہو چکی تھی کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اندر آتے ہی اس نے نظروں سے پورے کمرے کو ٹٹولا اور پوچھا: ’’وہ بیگ کہاں ہے۔ صمد قدم کے لیے کیا لایا تھا؟!‘‘
میں نے آہستگی سے خدیجہ سےکہا: ’’اگر تم نے اس بات کی ہوا بھی لگنے دی تو تمہاری خیر نہیں۔‘‘
خدیجہ نے ایمان کو ٹال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے گئی۔
*****
([1]) ایران میں اٹھارہ سال سے اوپر ہر مرد کے لیے دو سال تک فوج میں اپنی خدمات پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، سوائے ان افراد کے جو قانونی طور پر مستثنیٰ ہیں۔ اس خدمت کو انجام دیے بغیر وہ بہت سے شہری حقوق سے محروم رہ جاتا ہے۔ ایران میں اس تربیت کو ’’سربازی‘‘ اور فوجی کو ’’سرباز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سروس پاکستان کے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی دفاعی فوجی تربیت جسے این سی سی (نیشنل کیڈٹ کورس) کہا جاتا ہے ، کی طرح ہے۔ ۲۰۰۲ تک پاکستان کے تعلیمی اداروں میں یہ تربیت کسی نہ کسی حد تک رائج تھی۔ پھر 2002 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے ملک بھر کے اداروں سے اسے ختم کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ اس تربیت کا مقصد اپنے دفاع، ابتدائی طبی امداد، جنگی حالات میں بہتر نطم و نسق اور ہتھیار چلانے کی بنیادی مہارت کا حصول ہوتا ہے۔
([2]) ہر گھر کے اندر تہہ خانہ بنانا ایرانی گھروں کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تہہ خانہ اکثر اوقات ایک مکمل گھر ہوتا ہے جس میں ایک خاندان آرام سے زندگی گزارتا ہے۔
([4]) ایران میں جب مرد کسی گھر میں داخل ہوتے ہیں تو یا اللہ یا اللہ پکارتے ہیں تا کہ گھر کی خواتین اور دوسرے افراد سنبھل جائیں۔