بارہواں باب
کچھ دنوں بعد ہم نے وہ گھر چھوڑ دیا اور ٹیکنیکل کالج روڈ پر ایک اور گھر کرائے پر لے لیا۔ سامان منتقل کرنے کے دوران معصومہ بیمار ہو گئی۔ نئے گھر میں ہمیں دوسرا دن تھا، معصومہ کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ ہم اسی حالت میں اسے ہسپتال لے جانے پر مجبور ہو گئے۔ صمد نے انہی دنوں اپنی گاڑی بیچی تھی۔ گاڑی کے بغیر ان دو بچوں کے ساتھ ادھر ادھر مارا مارا پھرنا ہمارے لیے عذاب تھا۔ ظہر کے نزدیک ہم ہسپتال سے واپس لوٹے۔ صمد نے سڑک پر ہمیں پہنچایا۔ اسے چونکہ کام تھا اس لیے اس نے وہیں سے ٹیکسی پکڑی اور واپس چلا گیا۔ معصومہ میری بغل میں تھی۔ خدیجہ نے میری چادر پکڑ رکھی تھی اور منہ بسورے میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اسے بھی اٹھا لوں۔ میں نے ایک ہاتھ سے معصومہ اور اس کی دواؤں کا لفافہ پکڑ رکھا تھا، دوسرے ہاتھ سے خدیجہ کو کھینچ رہی تھی اور دانتوں میں چادر کو مضبوطی سے دبا رکھا تھا۔ اب اس بات کو رہنے ہی دیجیے کہ میں کن عذابوں سے گھر پہنچی۔ پرس سے بڑی مشکل سے چابی نکالی اور تالے میں ڈالی۔ دروازہ نہیں کھل رہا تھا۔ دوبارہ چابی گھمائی تو تالا تو کھل گیا مگر دروازہ نہیں کھل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اندر کوئی ہے، جس نے اندر سے دروازہ بند کر رکھا ہے۔ میں نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔ ایک ہمسائے کے دروازے پر دستک دی اور اپنی ہمسائی کو بتایا تو وہ بھی آگے بڑھنے سے ڈرنے لگی۔ میں نے اسے کہا کہ وہ میرے بچوں کو سنبھالے تا کہ میں جا کر صمد کو خبر دوں۔ ہمسائی عورت نے بچوں کو لے لیا اور میں بھاگم بھاگ سڑک پر آ گئی۔ٹیکسی کا کافی انتظار کیا مگر سڑک پر ایک گاڑی بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان دنوں ٹیکنیکل کالج روڈ شہر کی ان سڑکوں میں سے تھا جہاں گاڑیوں کی آمد و رفت کم ہی ہوتی تھی۔ وہاں سے آرامگاہ بو علی تک کافی فاصلہ تھا۔ میں نے وہ سارا راستہ بھاگتے ہوئے طے کیا۔ آرامگاہ سے خواجہ رشید روڈ اور کمیٹی تک اتنا زیادہ فاصلہ نہ تھا مگر مجھ میں ایک قدم اٹھانے کی بھی ہمت باقی نہ رہی تھی۔ گذشتہ چند دنوں کی تھکاوٹ، سامان کی اُتھل پتھل، نیند کی کمی، معصومہ کی بیماری اور ہسپتال کی خجل خواری نے میرا حوصلہ ختم کر دیا تھا۔ لیکن مجھے وہ راستہ بہر حال طے کرنا تھا۔ ناچار دوڑتے ہوئے وہ راستہ بھی کاٹا۔ جب کمیٹی عمارت کے سامنے پہنچی تو میری سانسیں پھول گئیں۔ دروازے پر کھڑے نگہبان سپاہی سے کہا: ’’مجھے آغا ابراہیمی سے کام ہے، انہیں کہیں کہ ان کی بیگم دروازے پر ہیں۔‘‘
وہ سپاہی نگہبانی والے چھوٹے سے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے ٹیلی فون اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا اور بات کرنے لگا: ’’آغا ابراہیمی! آپ کی بیگم دروازے پر کھڑی ہیں۔ انہیں آپ سے کچھ کام ہے۔‘‘
صمد اتنی اونچی آواز میں بات کر رہا تھا کہ میں وہاں کھڑی اس کی بات سن سکتی تھی: ’’میری بیگم؟! تمہیں غلط فہمی تو نہیں ہو رہی؟! میں تو ابھی ابھی اپنی بیوی اور بچوں کو گھر چھوڑ کر آ رہا ہوں۔‘‘
میں اس چھوٹے کمرے کے اندر چلی گئی اور اونچی آواز سے کہا: ’’آغا ابراہیمی! دروازے پر آئیں۔ بہت ضروری کام پڑ گیا ہے۔‘‘
تھوڑی دیر بعد صمد آ گیا۔ میرا چہرہ دیکھتے ہی بغیر سلام و احوال پرسی کے پوچھنے لگا: ’’کیا ہوا؟! بچے ٹھیک ہیں نا؟! تم خود بھی تو ٹھیک ہو نا؟!‘‘
میں نے کہا: ’’سارے ٹھیک ہیں۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ میرا خیال ہے کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں۔ آؤ چلیں۔ گھر کا دروازہ اندر سے بند ہے اور کھل نہیں رہا۔‘‘
اسے تھوڑی سی تسلی ہوئی۔ کہنے لگا: ’’میں ابھی آتا ہوں۔ تھوڑی دیر صبر کرو۔‘‘
وہ گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک اور سپاہی کے ساتھ واپس آ گیا۔ اس سپاہی نے سڑک کنارے کھڑی ایک پیکان([1]) گاڑی کو سٹارٹ کیا۔ صمد آگے بیٹھ گیا اور میں پیچھے۔ گاڑی چل پڑی تو اس نے پیچھے پلٹ کر پوچھا: ’’بچوں کا کیا کیا؟!‘‘
میں نےبتایا: ’’وہ ہمسایوں کے گھر میں ہیں۔‘‘
گاڑی جلدی سے ٹیکنیکل کالج روڈ پر پہنچ گئی اور گلی میں داخل ہو کر ہمارے گھر کے سامنے ٹھہر گئی۔ صمد گاڑی سے اترا اور چابی نکال کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ جب اسے اطمینان ہو گیا کہ دروازہ نہیں کھلے گا تو دیوار سے اوپر چڑھ گیا۔ میں نے سپاہی سے کہا: ’’بھائی! آپ بھی دیکھیں، خدا کا واسطہ آپ بھی اندر چلے جائیں۔ شاید اندر کوئی ہو۔‘‘
سپاہی نے تالے کے دستے پر اپنا پاؤں رکھا اور دیوار کی منڈیر پر پہنچا۔ وہاں سے چھلانک لگا کر اندر صحن میں کُود گیا۔ تھوڑی دیر بعد سپاہی نے دروازہ کھولا اور کہا: ’’اندر تو کوئی نہیں ہے۔ چور چھت کے راستے سے آئے تھے اور چلے گئے۔‘‘
گھر اُلٹ پلٹ ہوا پڑا تھا۔ اگرچہ ہم نے ابھی تک اسباب اور سامان مرتب نہیں کیا تھا، لیکن اتنا بکھرا ہوا بھی نہیں تھا۔ ہمارے کپڑے صحن میں بکھرے پڑے تھے۔ سارے بستر ایک طرف پھینک دیے گئے تھے۔ تھوڑے بہت برتن جو تھے وہ باورچی خانے کے درمیان میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ ٹوٹی ہوئی پلیٹیں اور پیالیاں باورچی خانے کے فرش پر پڑی ہوئی تھیں۔
صمد پریشانی کے عالم میں کسی چیز کو تلاش کر رہا تھا۔ اس نے مجھے آواز دے کر کہا: ’’قدم! اسلحہ، میرا اسلحہ نہیں ہے۔ ہم تو لُٹ گئے۔‘‘
میں نے خود ہی اسلحے کو ایک جگہ چھپا دیا تھا۔ میں جانتی تھی کہ اگر کوئی چیز بھی سلامت نہ رہی تب بھی اسلحہ اپنی جگہ پر حتماً محفوظ رہے گا۔ میں اسی جگہ گئی۔ میرا اندازہ درست تھا۔ اسلحہ اپنی جگہ پر موجود تھا۔ میں نے اسے صمد کے ہاتھ میں دے دیا تو اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی بڑی مصیبت سے باہر نکل آیا ہے۔متانت سے کہنے لگا: ’’فقط پیسے لے کر گئے ہیں۔ چلو کوئی بات نہیں، تمہارا اور بچوں کا صدقہ ہی سہی۔‘‘
یہ سننا تھا کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور میں زمین پر بیٹھ گئی۔ کچھ ہفتے پہلے ہم نے جو اپنی ژیان گاڑی بیچی تھی اس کے پیسے میں نے معصومہ کے خشک دودھ والے خالی ڈبے میں رکھ کر ڈبہ الماری میں رکھ دیا تھا۔ چور وہ ڈبہ لے گئے تھے۔ میرے پاس سونے کی کچھ چیزیں بھی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد ان کی جگہ دیکھا تو سونا بھی غائب تھا۔ صمد مسلسل کہہ رہا تھا: ’’کوئی بات نہیں۔ پریشان مت ہو۔ میں ان سے بہتر تمہارے لیے خرید لاؤں گا۔ تھوڑے سے پیسے اور کچھ سونا، ان کا اتنا غم نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اسلحے کا تھا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنی جگہ پر سلامت رہا۔‘‘
تھوڑی دیر بعد صمد اور اس کے ساتھ آیا سپاہی چلے گئے۔ بچوں کو میں ہمسایوں کے گھر سے لے آئی تھی۔ ہزار جتن کیے مگر کسی کام کی ہمت نہ ہوئی۔ کمرے اور باورچی خانے میں جانے سے ڈر رہی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی تک کوئی الماری یا فریج کے پیچھے یا سیڑھیوں کے نیچے اور ممٹی کے اندر چھپا ہوا ہے۔ میں نے صحن میں قالین بچھایا اور بچوں کو لے کر اس پر بیٹھ گئی۔ معصومہ کی طبیعت کافی خراب تھی مگر مجھے کمرے میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
رات کو جب صمد لوٹا تو ہم اس وقت تک صحن ہی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ صمد نے تعجب کیا تو میں نے کہا: ’’مجھے ڈر لگ رہا تھا اور ڈر پر میرا اختیار نہیں ہے۔‘‘
اس گھر نے مجھے بری طرح وحشت میں مبتلا کر دیا تھا۔ صمد نے بچوں کو گود میں اٹھایا اور کمرے میں لے گیا۔ میں بھی اس کے سہارے اندر چلی گئی اور رات کے کھانے کا انتظام کرنے لگی۔ صمد آدھی رات تک جاگتا رہا اور گھر کی چیزوں کو ترتیب دیتا رہا۔
میں نے کہا: ’’خواہ مخواہ سامان نہ لگاؤ۔ میں یہاں رہنے والی نہیں۔ یا تو کوئی دوسرا گھر لو یا میں قایش ہی لوٹ جاتی ہوں۔‘‘
وہ ہنسنے لگا: ’’قدم! بچی ہو؟ ڈر گئی ہو؟!‘‘
میں نے کہا: ’’تم تو صبح سے رات تک ہوتے نہیں ہو۔ کل پرسوں اگر کسی لمبی ڈیوٹی پر چلے گئے تو میں راتوں کو کیا کروں گی؟!‘‘
کہنے لگا: ’’مجھ سے تو اب یہ نہیں ہو گا کہ مالک مکان کے پاس جاؤں اور مکان اسے واپس کروں۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں خود چلی جاتی ہوں۔ تم فقط مان جاؤ۔‘‘
اس نے کچھ نہ کہا اور خاموش ہو گیا۔ میں جانتی تھی کہ وہ کچھ سوچ رہا ہے۔
اگلے دن ظہر کے وقت آیا تو کافی خوش نظر آ رہا تھا۔ کہنے لگا: ’’میں نے مالک مکان سے بات کر لی ہے۔ ایک اور مکان دیکھا ہے تمہارے لیے، لیکن وہ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ اگر تھوڑا صبر کرو تو میں کوئی بہتر جگہ تلاش کر لوں گا۔‘‘
میں نے کہا: ’’جیسا بھی ہو قبول ہے۔ مگر جتنا جلدی ہو سکے اس گھر سے چلیں۔‘‘
اگلے دن دوبارہ ہم نے سامان سمیٹا۔ نیا گھر ایک ہی بڑے کمرے پر مشتمل تھا جسے تازہ رنگ کیا گیا تھا۔ یہ گھر ایک چاپارخانے([2]) کے ہمسائے میں تھا۔ سامان اتنا زیادہ نہیں تھا۔ سارے سامان کو پورے کمرے میں چن دیا۔ اس رات جو سکون کی نیند آئی، میں اسے ساری زندگی نہیں بھول سکتی، مگر صبح جب آنکھ کھلی تو اور ہی صورتحال تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ابھی ابھی کھلی آنکھوں سے سب چیزوں کو دیکھ رہی ہوں۔ صحن کی دوسری طرف کچھ کمرے تھے جہاں مالک مکان نے گائیں اور بھیڑیں باندھ رکھی تھیں۔ ان کی کھالوں اور گوبر کی بو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی اور مکھیوں کی بہتات کی وجہ سے وہ جگہ رہنے کے قابل نہ تھی۔ بہرحال مجھے اس صورتحال کو برداشت کرنا تھا اور اب اعتراض بھی نہیں کر سکتی تھی۔
رات کو جب صمد آیا تو خود اس سے بھی یہ چیزیں برداشت نہ ہوئیں۔ کہنے لگا: ’’قدم! یہ جگہ اصلاً رہنے کے قابل نہیں ہے۔ کوئی اور بہتر جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ بچے بیمار ہو جائیں گے۔ مجھے بھی شاید کچھ دنوں بعد ڈیوٹی پر جانا پڑے۔ ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ میرے لیے سب سے پہلے تمہاری طرف سے بے فکر ہونا ضروری ہے۔‘‘
*****
([1]) ایران میں چلنے والی ایک کار۔
([2]) چاپارخانہ قدیم ایران میں ہخامنشیان کے عہد حکومت سے تعلق رکھنے والی عمارت کا نام ہے۔ یہ اہم عمارتیں راستوں میں بنائی گئی تھیں، جہاں ہر وقت تازہ دم گھوڑے بندھے رہتے تھے۔ ان عمارتوں کا مقصد سفر کے دوران استراحت اور وہاں سے تازہ دم گھوڑوں کا حصول تھا۔ یہ عمارتیں زیادہ تر سرکاری کاموں کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور سرکاری گھوڑے ہی عموماً یہاں استراحت کرتے اور تبدیل کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم کام جو ان استراحت گاہوں سے لیا جاتا تھا وہ ڈاک کا مضبوط نظام تھا۔ ہخامنشیان عہد حکومت کے بادشاہوں نے دوسرے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ چاپارخانوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج کل کے زمانے میں ہم ان عمارتوں کو ڈاکخانہ کہہ سکتے ہیں۔ برصغیر میں ایسے ڈاکخانوں کا وجود اور انتہائی محکم نظام ہمیں شیرشاہ سوری کے زمانے میں بھی نظر آتا ہے جس کا انتظام اس نے پشاور سے لے کر کلکتہ تک کی معروف جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) پر کر رکھا تھا۔