گیارہواں باب
اب میری دو بیٹیاں تھیں اور ڈھیر سارا کام۔ صبح نیند سے اٹھتے ہی یا گھر کے کام تھے، یا دھلائی ستھرائی تھی، یا جھاڑ پونچھ تھی، یا باورچی خانے میں مصروفیت یا بچوں کے کام۔ میری بھابھی میرے لیے ایک بڑی نعمت تھی۔ وہ کبھی بھی مجھے اکیلا نہ چھوڑتی تھی۔ یا وہ میرے گھر میں ہوتی یا میں اس کے گھر میں۔میں اکثر بابا کے گھر چلی جاتی اور کافی دن ان کے پاس ہی رہتی، مگر جمعرات کا دن دوسرے دنوں سے کافی مختلف ہوتا۔ اس دن میں صبح جلدی بیدار ہو جاتی اور خوشی سے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ دراصل بدھ کی رات کو میں جلدی سو جاتی تا کہ جمعرات کی صبح جلدی اٹھ سکوں۔ علی الصبح ہی گھر کی صفائی ستھرائی میں جُت جاتی اور پورے گھر کو چمکا کر رکھ دیتی۔ بچوں کو نہلاتی دھلاتی ۔ ہر چیز پر کپڑا لگاتی۔ جو بھی دیکھتا یہی سمجھتا کہ کوئی خاص مہمان آنے والا ہے۔ صمد میرا عزیز ترین مہمان تھا۔ اس کا پسندیدہ کھانا پکانے کے لیے رکھ چولہے پر چڑھا دیتی۔ اس کھانے کو تیار کرنے میں اتنا وقت لگ جاتا کہ میرا حوصلہ جواب دے جاتا۔ سہ پہر کے وقت میری بھابھی بھی آ جاتی۔ وہ بچوں کو لے جاتی اور مجھے کہتی: ’’اپنا حلیہ بھی تھوڑا سا ٹھیک کر لو۔‘‘
اسی طرح دن اور ہفتے گزر رہے تھے کہ عید [نوروز] آن پہنچی۔ عید کا پانچواں دن تھا اور مہمان نوازیوں اور ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا۔ صبح جاگے تو صمد نے کہا: ’’میں آج جانا چاہتا ہوں۔‘‘
میں نے اعتراض کیا: ’’اتنی جلدی کیوں؟ تمہیں رکنا چاہیےا ور سیزدہ بہ در([1]) کے بعد جانا چاہیے۔‘‘
اس نے کہا: ’’نہیں قدم، مجھے مجبور نہ کرو۔ مجھے جانا ہے۔ بہت کام پڑے ہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں بالکل اکیلی ہوں۔ ایسے میں اگر اچانک گھر میں مہمان آ گئے تو ان دو چھوٹے چھوٹے اور ہر وقت چپکے رہنے والے بچوں کے ساتھ کیسے کام کروں گی؟‘‘
اس نے کہا: ’’تم بھی آؤ، اکٹھے چلتے ہیں۔‘‘
میں اپنی جگہ سے ہل کر رہ گئی۔ پوچھا: ’’رات کو کس کے گھر جائیں گے۔ کوئی جگہ ہے تمہارے پاس؟‘‘
اس نے کہا: ’’میں نے ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا ہے، بُرا نہیں ہے۔ تم آ کر دیکھو تو تمہیں اچھا لگے گا۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’ہمیشہ کے لیے؟‘‘
وہ نرمی سے ہنس دیا: ’’ہاں،اس طرح میرے لیے بھی بہتر ہے۔ روز بہ روز میرا کام مشکل ہوتا جا رہا ہے اور آنا جانا اس سے بھی زیادہ مشکل۔ چلو، سامان اکٹھا کریں اور ہمدان چلیں۔‘‘
مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی آسانی سے اپنے بابا، بھابھی، شیرین جان، گھر اور اس زندگی سے دور ہو پاؤں گی۔ میں نے کہا: ’’مجھ سے یہ نہیں ہونے والا۔ میرا دل پریشان ہو جائے گا۔‘‘
اس کے چہرے پر شکنیں گہری ہو گئیں: ’’بہت چالاک ہو۔ تم میں دوری کا حوصلہ نہیں ہے تو پھر میرا دل تمہارے اور بچوں کے لیے بے چین نہ ہو؟ میں ڈرتا ہوں کہ اتنی جلدی تم لوگ تعداد میں چار پانچ ہو گئے تو میں کیا کروں گا؟!‘‘
میں نے کہا: ’’توبہ کرو، صمد۔ اللہ نہ کرے۔‘‘
اس نے اتنی باتیں کیں یہاں تک میں راضی ہو گئی۔ اچانک ہی مجھے ایسا لگا کہ مذاق مذاق میں ہم ہمدان جانے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔
میں نے کہا: ’’فقط عید کے آخر تک۔ اگر مجھے لگا کہ میں نہیں رہ سکتی تو میں لوٹ آؤں گی، ہاں!‘‘
جیسے ہی اس نے میرے منہ سے بات سنی تو دوڑ کر گیا، مختصر سا سامان جمع کیا اور ژیان پر لاد کر کہنے لگا: ’’اچھا، ایک ہفتہ اسی طرح گزرے گا۔ اس کے بعد انشاء اللہ تم میں طاقت آجائے گی۔‘‘
میں نے قبول کر لیا اور ہم بابا کے گھر چلے گئے۔ شیرین جان کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ان کے منہ سے بات ہی نہیں نکل رہی تھی۔ ہم نے بچوں کو ان کے پاس چھوڑا اور ظہر تک سب رشتہ داروں کو مل کر رخصت ہوتے رہے۔ بچے میری ماں سے جدا نہیں ہو رہے تھے۔ خدیجہ شیرین سے ایسی لپٹی کے نیچے اترنے کانام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ رو رہی تھی اور اپنی میٹھی زبان سے مسلسل کہے جا رہی تھی: ’’شینا، شینا۔‘‘
جیسے تیسے میں نے اسے شینا سے جدا کیا۔ ہم گاڑی پر بیٹھے اور ہمدان کے راستے پر نکل کھڑے ہوئے۔ صمد نے گاڑی میں اتنا سامان رکھ دیا تھا کہ ہمارے بیٹھے کی جگہ ہی نہ رہی تھی۔ ژیان فراٹے بھرتی آگے بڑھ رہی تھی۔
ہمدان قایش سے کافی مختلف تھا۔ میرے لیے ہر چیز اور ہر جگہ اجنبی تھی۔ شروع کے دنوں میں تو بابا سے دوری نے مجھے بہت ہی بے تاب کیے رکھا۔ اتنی بے قرار تھی کہ بعض اوقات صمد کی نظروں سے بچ کر بیٹھ جاتی اور زاروزار رونے لگتی۔ اس سفر میں ایک ہی خوبی تھی۔ وہ یہ کہ صمد کو ہر روز دیکھتی تھی۔ پہلے ہفتے میں تو وہ دن کے کھانے کے وقت گھر پر آ جاتا۔ دن کا کھانا ہم اکٹھے ہی کھاتے۔ اس کے بعد وہ بچوں کے ساتھ تھوڑا کھیلتا، چائے پی کر چلا جاتا اور پھر رات کو واپس آتا۔ اس کا کام کافی سخت تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے شروع کے ایام تھے۔منافقوں اور دہشت گردوں کی تخریب کاریاں عروج پر تھیں۔ صمد چھوٹے گروپوں کے ساتھ جا کر مقابلہ کرتا تھا۔ یہ خطرناک کام تھا۔
ہمدان میں ہمارے آنے کا ایک فائدہ اور بھی ہوا۔ اب دوست احباب اور رشتہ دار جانتے تھے کہ ہمدان میں ان کے رہنے کی جگہ موجود ہے، اس لیے انہیں اگر کوئی خریداری کرنا ہوتی یا ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا تو وہ ہماری امید پر ہمدان آ جاتے تھے۔اس حساب سےہمارے گھر اکثر مہمان ہی رہتے۔ ایک مہینہ گزرا تو صمد کا بھائی تیمور ہمارے پاس آ گیا۔ وہ پڑھتا تھا۔ قایش میں مڈل سکول نہیں تھا۔ اکثر طلاب پڑھنے کے لیے رزن جانتے تھے، جو کہ بذات خود ایک مشکل کام تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صمد تیمور کو اپنے پاس ہی لے آیا تھا۔ اب تو واقعاً میرا کام بہت بڑھ چکا تھا۔ بچوں کی زحمت، مہمان نوازی اور روزمرہ کے کام مجھے تھکا کر رکھ دیتے تھے۔
اس دن صمد دن کے کھانے کے لیے گھر نہ آیا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ تیمور بیٹھا اپنا سکول کا کام لکھ رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ تیمور نے جا کر دروازہ کھولا۔ میں کھڑکی سے صحن میں دیکھ رہی تھی۔ میرا دیور ستار آیا تھا۔ وہ صحن میں کھڑا ہو کر تیمور سے باتیں کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد تیمور آیا اور کپڑے بدل کر کہنے لگا: ’’میں ستار بھائی کے ساتھ جا رہا ہوں۔ کتاب اور کاپی خریدنی ہے۔‘‘
میں نے تعجب سے کہا: ’’کل ہی تو صمد تمہارے لیے ساری کتابیں اور کاپیاں خرید لایا تھا۔ ‘‘
تیمور کو جانے کی جلدی تھی۔ اس نے کہا: ’’میں ابھی واپس آتا ہوں۔‘‘
مجھے شک پڑ گیا، میں نے کہا: ’’ستار اندر کیوں نہیں آ رہا؟‘‘
اس نے دروازے سے نکلتے نکلتے کہا: ’’رات کے کھانے پر آ جائیں گے۔‘‘
مجھے کھٹکا لگ گیا۔ میں نے سوچا کہ کہیں صمد کو برا حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ لیکن پھر جلد ہی اپنے آپ کو تسلی دی: ’’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ دراصل صمد کے گھر نہ ہونے کی وجہ سے ستارکو اندر آتے ہوئے شرم محسوس ہوئی۔ وہ دونوں چاہتے ہوں گے کہ پہلے عدالت میں جا کر صمد سے مل لیں پھر رات کو اکٹھے گھر آ جائیں۔‘‘ کچھ گھنٹے گزرے تو مغرب کے نزدیک دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔ اس بار میرے سسر تھے اور زار و زار رو رہے تھے۔ میں نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا: ’’کیا ہوا؟! کوئی حادثہ ہو گیا کیا؟!‘‘ میرے سسر انتہائی پریشانی کے عالم میں کمرے میں ایک جگہ بیٹھ گئے۔ میں نے لاکھ پوچھا مگر انہوں نے سچی بات نہ بتائی۔ کہنے لگے: ’’کیا کوئی حادثہ پیش آنا ضروری ہے؟! بس ایسے ہی بچوں کی یاد ستا رہی تھی تو تیمور اور صمد سے ملنے کے لیے آ گیا ہوں۔‘‘
کیا مجھے یقین کر لینا چاہیے تھا؟! نہیں، میں نے بالکل یقین نہیں کیا لیکن رات کے کھانے کا کچھ انتظام کرنا ضروری تھا۔ میرے دل کی بے قراری اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ پریشان سوچوں میں گھری ہوئی تھی کہ دوبارہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں گھبرا کی دروازے کی طرف لپکی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک منی بس ہمارے گھر کے سامنے آ کر رکی اور اس میں سے بابا، شیرین جان، ہمارے کچھ رشتہ دار اور میرے دیور گاڑی سے اتر رہے ہیں۔ میں دروازے پر ہی نڈھال ہو گئی۔ اب مجھے یقین ہو گیا تھا کہ کوئی نہ کوئی حادثہ ضرور پیش آ گیا ہے۔ میں نے انہیں ہزار قسمیں دیں مگر کسی نے صحیح بات نہ بتائی۔ سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ صمد نے پیغام بھجوایا ہے کہ ہم سارے تمہارے پاس پہنچیں۔
مجھے ان کی بات کا یقین کر لینا چاہیے تھا مگر میں نے نہ کیا۔ میں جانتی تھی کہ وہ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ سچ کہہ رہے تھے تو صمد اتنی رات گئے تک کیوں نہ آیا تھا۔ تیمور اپنے بھائی کے ساتھ کہاں چلا گیا تھا؟! وہ ابھی تک واپس کیوں نہ آئے تھے۔ یہ اتنے سارے مہمانوں کو اچانک ہماری اتنی یاد کیوں ستانے لگی؟!
مجھے ہر حال میں مہمانوں کے لیے رات کے کھانے کا بندوبست کرنا تھا۔ میں باورچی خانے میں چلی گئی۔ کھانا پکا رہی تھی اور آنسو بہا رہی تھی۔ بالآخر رات کا کھانا تیار ہو گیا لیکن ابھی تک صمد اور اس کے بھائیوں کی کوئی خبر نہ تھی۔ مجبوراً میں نے کھانا لگا دیا۔ کھانے کے بعد جو دو تین بسترے اور لحاف ہمارے پاس تھے وہی مہمانوں کے لیے بچھا دیے۔ تھوڑی دیر بعد سب سو گئے لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ مجھے صمد کا انتظار تھا۔ پریشانی اور بے چینی نے میری نیند اڑا دی تھی۔ ذرا سی آہٹ کی آواز آتی، آنکھیں صحن میں پھیلی تاریکی میں جم جاتیں، لیکن نہ صمد کا کوئی نام و نشان تھا، نہ تیمور اور ستار کا۔
میں نہیں جانتی کہ مجھے کیسے نیند آ گئی مگر اتنا یاد ہے کہ صبح تک برے برے خواب آتے رہے۔ میرے سسر علی الصبح نماز کے بعد ناشتہ کیے بغیر ہی جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ میری ساس بھی چادر اوڑھے ان کے پیچھے پیچھے ہو لیں۔ میرا حوصلہ جواب دے چکا تھا۔ میں نے بھی چادر اوڑھی اور کہا: ’’میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔‘‘
میرے سسر نے غصے سے کہا: ’’نہیں، تم نہیں آ سکتیں۔ تم کہاں جاؤ گی؟! ہمیں کام ہے۔ تم گھر میں ہی اپنے بچوں کے پاس رہو۔‘‘
میں رونے لگی: ’’آپ کو خدا کی قسم، سچ بتائیں، صمد پر کون سی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے؟! مجھے معلوم ہے کہ صمد کو کچھ ہو گیا ہے۔ آپ سچ سچ بتائیں۔‘‘
سسر نے دوبارہ کہا: ’’تم مہمانوں کی دیکھ بھال کرو۔ ابھی جاگ جائیں گے تو انہیں ناشتہ بھی دینا ہو گا۔‘‘
میں زارو قطار رو رہی تھی اور آنسو میرے چہرے پر پھیلتے چلے جا رہے تھے۔ میں نے کہا: ’’شیرین جان ہیں۔ اگر آپ مجھے ساتھ نہیں لے کر جاتے تو میں خود ہی انقلاب کورٹ چلی جاتی ہوں۔‘‘
میں نے یہ کہا تو میرے سسر بھی کچھ ڈھیلے پڑ گئے۔ میری ساس کا دل بھی میرے لیے کڑھ رہا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں بھی صحیح معلوم نہیں ہے۔ کہتے ہیں صمد زخمی ہو گیا ہے اور اب ہسپتال میں ہے۔‘‘
میں نے یہ سنا تو میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں کہ کیسے ہم گاڑی میں بیٹھے اور ہسپتال پہنچے۔ میں ہسپتال میں صمد کا جسد ڈھونڈ رہی تھی کہ تیمور کو دوڑتےہوئے اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس نے اپنے والد کے کان میں کچھ کہا تو وہ دونوں وارڈ کی طرف چل دیے۔ میں اور میری ساس بھی ان کے پیچھے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ تیمور آہستہ آہستہ سارے واقعات اپنے والد کو سنا رہا تھا۔ ہم بھی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں کہ کل کا واقعہ ہے کہ صمد اور اس کا ایک ساتھی کچھ منافقوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ ان منافقوں میں سے ایک عورت تھی۔ صمد اور اس کا دوست اسلامی آداب کا خیال رکھتے ہوئے عورت کی جسمانی تلاشی نہیں لیتے اور کہتے ہیں: ’’سچ بتاؤ کہ تمہارے پاس اسلحہ تو نہیں ہے؟‘‘ عورت قسم کھا کر کہتی ہے کہ اس کے پاس اسلحہ نہیں ہے۔ صمد اور اس کا ساتھی عدالت میں لے جانے کے لیے اس عورت کو گاڑی میں بٹھاتے ہیں۔ راستے میں وہ عورت اچانک اپنے دستی بم کی پن کھینچ کر گاڑی کے درمیان میں پھینک دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں صمد کے دوست آغا مسگریان شہید ہو جاتے ہیں جب کہ صمد زخمی ہو جاتا ہے۔
وارڈ کے دروازے کے سامنے پہنچ کر تیمور نے دروازے پر بیٹھے نگہبان سے کہا: ’’ہم آغا ابرہیمی سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
نگہبان نے منع کر دیا: ’’ان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا۔ میں رونے اور التماس کرنے لگی۔ اسی وقت ایک نرس پہنچ گئی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں صمد کی بیوی ہوں تو اس کے دل میں رحم آ گیا اور مجھ سے کہنے لگی: ’’فقط تم اندر جا سکتی ہو۔ دو تین منٹ سے زیادہ مت ٹھہرنا۔ جلدی واپس آ جانا۔‘‘
میرے قدموں میں چلنے کی طاقت نہ رہی تھی۔ میں نے دروازے میں کھڑے ہو کر اس کی چوکھٹ پکڑ لی تا کہ گر نہ جاؤں۔ وارڈ میں موجود تمام بستر دیکھ ڈالے۔ صمد اس کمرے میں نہیں تھا۔ میرے دل کی دھڑکن رُک رہی تھی۔ سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا تھا۔ میرا صمد کہاں ہے؟! اسے کیا مصیبت پیش آ گئی ہے؟!
اچانک میری نظر صمد کے دوست آغا یادگاری پر پڑی۔ وہ کھڑکی کے پاس لگے بستر پر سو رہے تھے۔ انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا اور کہا: ’’سلام، خانم ابراہیمی، آغا ابراہیمی یہاں سوئے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے ساتھ والے بستر کی طرف اشارہ کیا۔
مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ مرد جو بستر پر سویا ہوا تھا، وہ صمد تھا۔ وہ کتنا لاغر، زرد اور کمزور ہو گیا تھا۔ اس کے رخسار اندر کو دھنس گئے تھے اور آنکھوں کے نیچے کی ہڈیاں باہر کو نکل آئی تھیں۔ میں آگے بڑھی تو ایک لمحے کے لیے لرز کر رہ گئی۔ اس کے زرد پاؤں جو لحاف سے باہر نکلے ہوئے تھے لاغر اور خشک ہو چکے تھے۔ میں نے سوچا، خدا نہ کرے۔۔۔
میں اس کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔اسے معلوم ہو گیا کہ میں آئی ہوں۔ اس نے آرام سے آنکھیں کھولیں اور مشکل سے پوچھا: ’’بچے کہاں ہیں؟!‘‘
میں روہانسی ہو گئی۔ میرے منہ سے بات نہیں نکل رہی تھی۔ میں نے ہزار کوشش کر کے ضبط کیا اور کہا: ’’میری بہن کے پاس ہیں۔ وہ ٹھیک ہیں۔ تم کیسے ہو؟!‘‘
وہ جواب نہیں دے سکتا تھا۔ تائید کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ بس یہی تھیں وہ ساری باتیں جو میرے اور اس کے درمیان ہوئی تھیں۔ میری آنکھیں ڈرپ اور خون کی اس تھیلی پر لگی تھیں جو اسے لگائی گئی تھیں۔ وہی نرس آ گئی اور مجھے باہر جانے کا اشارہ کرنے لگی۔
راہدار ی میں پہنچی تو میری جسم میں جان نہ رہی۔ دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی۔ نرس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور کہا: ’’آؤ، اس کے ڈاکٹر سے بات کر لو۔‘‘
وہ مجھے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئی جو راہداری میں نرسنگ سٹاف کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے ڈاکٹر کو بتایا: ’’یہ آغا ابراہیمی کی بیگم ہیں۔‘‘
ڈاکٹر فائل دیکھ رہا تھا۔ اس نے فائل بند کی اور میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے نرمی سے سلام اور احوال پرسی کے بعد کہنے لگا: ’’خانم ابراہیمی! خدا نے آپ پر بھی رحم کیا اور آغا ابراہیمی پر بھی۔ آپ کے شوہر کے دونوں گردے شدت سے متاثر ہوئے ہیں، لیکن ایک گردے کی حالت کافی خطرناک ہے۔ احتمال یہی ہے کہ اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ اس نے کہا: ’’گذشتہ رات انہیں تہران ہسپتال میں بھیج رہے تھے کہ میں اچانک پہنچ گیا اور ان کا آپریشن کیا۔ اگر مجھے پہنچنے میں تھوڑی دیر ہو جاتی اور انہیں تہران لے جاتے تو راستے میں ضرور کوئی بڑی مشکل پیش آ سکتی تھی۔ جو آپریشن میں نے کیا ہے وہ تسلی بخش ہے۔ فی الحال خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ البتہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان کے ایک گردے کو سنبھالنا ہمارے بس میں نہ تھا۔‘‘
شروع کے چند دن میرے لیے ہر چیز کو برداشت کرنا سخت مشکل تھا لیکن آہستہ آہستہ مجھے ان حالات کی عادت ہو گئی۔
صمد دس روز ہسپتال میں رہا۔ میں ہر روز خدیجہ اور معصومہ کو اپنے ساتھ والے ہمسایوں کے گھر چھوڑتی اور ہسپتال چلی جاتی اور ظہر تک صمد کے پاس ہی رہتی۔ ظہر کے وقت گھر آتی۔ بچوں کو دیکھتی بھالتی، دن کا کھانا کھاتی اور ظہر کے بعد دوبارہ بچوں کو دوسرے ہمسایوں کے حوالے کر کے ہسپتال چلی جاتی اور مغرب تک وہیں رہتی۔
ایک دن بچوں نے شدید تنگ گیا۔ ہزار جتن کیے مگر کسی طرح چپ ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ دن کے گیارہ بج چکے تھےا ور میں ابھی تک ہسپتال نہیں گئی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو صمد کا ایک دوست دروازے پر کھڑا تھا۔ اس نے مسکرا کر سلام کیا اور کہا: ’’خانم ابراہیمی! آغا صمد کا بستر بچھا دیں اور ان کے لیے ملائی کا انتظام کر دیں۔ ہم انہیں لے آئے ہیں۔‘‘
میں نے خوشی سے گلی میں جھانکا۔ صمد گاڑی میں لیٹا ہوا تھا۔ اس کے دو دوست اس کے دونوں اطراف میں موجود تھے۔ اس کا سر ایک دوست کے زانو پر اور پاؤں دوسرے دوست کے زانو پر تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے میرے لیے ہاتھ ہلایا اور مسکراتے ہوئے سر ہلا کر سلام اور احوال پرسی کرنے لگا۔ میں نے جلدی جلدی اس کے لیے بستر بچھا دیا۔
اس کے دوست ظہر تک اس کے پاس رہے اور اس کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہے۔ باتیں کرتے، ہنستے، لطیفے سناتے ظہر کی اذان ہو گئی۔ اس وقت انہیں جانے کا خیال آیا۔ انہوں نے پلاسٹک کے دو تھیلے میرے ہاتھ میں تھمائے اور دواؤں کے طریق استعمال اور اوقات کی تفصیل بتا کر رخصت ہو گئے۔
وہ چلے گئے تو صمد نے کہا: ’’بچوں کو لے آؤ، میرا دل ان کے لیے بہت پریشان ہو رہا ہے۔‘‘
میں نے بچوں کو لا کر اس کے پاس بٹھا دیا۔ خدیجہ اور معصومہ نے پہلے تو تھوڑی اجنبیت برتی لیکن صمد نے ان کے ساتھ اتنا لاڈ پیار کیا، ان کے ساتھ اٹھکیلیاں کی اور ان کے لیے منہ سے عجیب و غریب شکلیں بنائیں کہ انہیں دوبارہ یاد آ گیا کہ یہ لاغر، کمزور اور زرد مرد ان کا باپ ہے۔
اگلے روز دوست، احباب اور رشتہ دار صمد کی عیادت کے لیے ہمارے گھر آنے لگے۔ صمد کو یہ سب اچھا نہ لگتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اسے پسند نہیں ہے کہ یہ بے چارے دیہات سے فقط میری احوال پرسی کے لیے یہاں آئیں۔ اسی لیے چند روز گزرے تو اس نے کہا: ’’سامان اکٹھا کرو۔ قایش چلتے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ راستے میں اگر کسی کو کچھ ہو گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔‘‘ میں نے بچوں کے بیگ باندھے اور جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ صمد نہ بچوں کو بغل میں لے سکتا تھا اور نہ ہی بیگ اٹھانے کے قابل تھا، حتی کہ گاڑی بھی نہیں چلا سکتا تھا۔ میں نے معصومہ کو اٹھایا اور خدیجہ سے کہا کہ آہستہ آہستہ ساتھ چلتی رہو۔ بیگ میں نے اپنے کندھوں پر رکھ لیے۔ ہم نے کتنی مشکل سے خود کو گاڑیوں کے اڈے تک پہنچایا اور منی بس پر سوار ہو گئے۔ رزن پہنچے تو ہمیں اتر کر دوسری گاڑی پر بیٹھنا پڑا۔ جب تک ہم قایش جانے والی گاڑی تک پہنچے، مجھے کئی بار بیگ اپنے کندھوں پر جابہ جا کرنا پڑے۔ معصومہ کو نیچے اتارا اور دوبارہ اٹھا لیا۔ خدیجہ کا ہاتھ پکڑا اور اس کی منت کی کہ وہ خود چلے۔ اس وقت میری ساری کی ساری آرزو یہی تھی کہ کوئی گاڑی مل جائے جو ہمیں قایش پہنچا دے۔ منی بس میں بیٹھ چکے تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ معصومہ میری گودمیں سو گئی تھی لیکن خدیجہ بے چین تھی۔ اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ ہم نے لاکھ کوشش کی مگر اسے چپ نہ کرا سکے۔ گاڑی میں ہمارے کچھ جاننے والے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے خدیجہ کو اٹھا لیا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگے۔ اسی وقت معصومہ جاگ گئی اور دودھ مانگنے لگی۔ میں معصومہ کو دودھ پلاتے پلاتے تھکاوٹ سے بے حال ہو کر سو گئی۔
دوستوں اور رشتہ داروں کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ ہم قایش واپس آ گئے ہیں تو وہ عیادت اور احوال پرسی کے لیے میرے بابا کے گھر آنے لگے۔ یہ پہلی بار تھی کہ میں قایش میں تھی اور پریشان نہ تھی کہ صمد نے چلے جانا ہے۔ صمد ایک ہی جگہ پڑا رہتا تھا اور اِدھر اُدھر نہ جاتا تھا۔ میں ہر روز اس کی پٹی تبدیل کرتی اور وقت پر اسے دوائیں دیتی۔ اب صورت حال برعکس ہو چکی تھی۔ اب میرا دل چاہتا تھا کہ ادھر ادھر جاؤں اور دوستوں اور جاننے والوں کے پاس بیٹھوں لیکن وہ میرے قدم روک لیتا: ’’قدم! کہاں ہو، ادھر آؤ، میرے پاس بیٹھو۔ مجھ سے باتیں کرو۔ میری ہمت کم ہو رہی ہے۔‘‘
ہماری شادی کو کئی سال ہو چکے تھے، لیکن یہ پہلی دفعہ ایسا ہو رہا تھا کہ ہم دوری اور جدائی کے خوف و ہراس کے بغیرایک دوسرے کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے تھے۔ خدیجہ نے اپنی شیرین زبانی سے سب کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی۔ میرے بابا تو بچوں کے عاشق تھے۔ اکثر انہیں اٹھا کر ادھر اُدھر لے جاتے۔
خدیجہ شیرین جان کی گود سے ہلنے کا نام نہ لیتی تھی۔ اس کی زبان پر ہر وقت ’’شینا، شینا‘‘ ہوتا تھا۔ شینا بھی خدیجہ پر جان چھڑکتی تھیں۔
خدیجہ نے شیرین جان کوشینا کہنا شروع کیا تو سارے رشتہ دار شیرین جان کو شینا کہہ پکارنے لگے۔ بابا بچوں کو بہت خیال رکھتے تھے۔ میں بھی زیادہ تر صمد کے پاس ہی رہتی تھی۔ ایک بار صمد نے کہا: ’’بہت عرصہ ہو گیاہے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اسی طرح تمہارے پاس بیٹھوں اور تم سے ڈھیر ساری باتیں کروں۔ قدم! کاش یہ دن ختم نہ ہوں۔‘‘
اس نے میرے منہ کی بات چھین لی تھی۔ میں نے جلدی سے کہا: ’’صمد! اپنے شہر ہی میں کوئی کام تلاش کر لو۔ ہم دوبارہ قایش واپس آ جاتے ہیں۔‘‘
اس نے فوراً کہا: ’’نہیں، نہیں، تم ہر گز یہ بات نہ کرو۔ میں امام کا سپاہی ہوں اور عہد کیا ہے کہ امام کا سپاہی ہی رہوں گا۔ آج میرے ملک کو میری ضرورت ہے۔ ان باتوں کی بجائے دعا کرو کہ میں جلدی سے ٹھیک ہو جاؤں اور اپنے کام پر جانا شروع کر دوں۔ تم نہیں جانتیں، میں یہ دن کتنی مشکل سے کاٹ رہا ہوں۔ مجھے بستر پر نہیں سونا بلکہ جا کر اس ملک کی خدمت کرنی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے صمد کو دو ماہ تک استراحت کرنے کو کہا تھا لیکن ہم دس روز بعد ہی ہمدان واپس آ گئے۔ گھر پہنچتے ہیں صمد نے کہا: ’’میں اب کام پر جاتا ہوں۔‘‘
میں نے اصرار کیا: ’’نہ جاؤ، ابھی تک تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہوئی۔ ٹانکے ابھی پکے نہیں ہیں۔ اگر زیادہ حرکت کرو گے تو ٹانکے کھل جائیں گے۔‘‘
وہ نہ مانا: ’’میں اپنے دوستوں کے لیے کافی پریشان ہوں۔ جاؤں گا اور کام کو تھوڑا دیکھ بھال کر واپس آ جاؤں گا۔‘‘
صمد اصرار اور ضد کے آگے ہتھیار ڈال کر گھر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔ جب وہ کہتا کہ اسے جانا ہے تو وہ حتماً چلا جاتا تھا۔ اس دن بھی وہ چلا گیا اور رات کو واپس آ گیا۔ وہ تھوڑا گوشت، پھل اور کچھ دوسری کھانے پینے کی چیزیں خرید لایا تھا۔ مجھے دیتے ہوئے کہنے لگا: ’’قدم! مجھے جانا ہے۔ شاید دو تین دن تک لوٹ کر نہ آؤں۔ ان دنوں میں وہاں نہیں تھا تو سارے کام الٹ پلٹ ہوئے پڑے ہیں۔ اب ضروری ہے کہ جا کر ان ادھورے کاموں کو مکمل کروں۔‘‘
ان دنوں ہمدان میں ہمارا نہ کوئی رشتہ دار تھا اور نہ ہی کوئی دوست کہ جس کے گھر ہم آنا جانا رکھتے۔ میری واحد سیر و تفریح یہی تھی کہ خدیجہ کا ہاتھ پکڑوں اور معصومہ کوگود میں اٹھا کر گلی کی نکڑ پر کوئی چیز خریدنے چلی جاؤں۔ جب گلی میں یا سڑک پر اپنے کسی ہمسائے کو دیکھتی تو خوش ہو جاتی اور کھڑے ہو کر اس کے ساتھ باتیں کرنے لگتی۔
ایک روز سہ پہر کے وقت میں روٹی خرید کر واپس آ رہی تھی کہ دیکھا کہ ہمسائی عورتیں ایک گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں اور آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ میرا دل بہت گھبرا رہا تھا۔ میں نے سلام و احوال پرسی کے بعد انہیں اپنے گھر آنے کے لیے کہا: ’’آئیے، میں صحن میں قالین بچھاتی ہوں۔ آپ کے لیے چائے کا انتظام کرتی ہوں۔ اکٹھے پیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے قبول کر لیا۔
اسی وقت ایک شخص گلی میں دوڑتا دوڑتا داخل ہوا اور ہماری طرف آ گیا۔ اس نے اپنی بغل میں ایک جھاڑو اور ہاتھ میں کچھ کتابیں پکڑ رکھی تھیں۔ ہم سے پوچھنے لگا: ’’تم لوگ حاجی آباد گاؤں سےہو؟!‘‘
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: ’’نہیں۔‘‘
مرد نے پوچھا: ’’تو پھر کہاں کی ہو؟!‘‘
صمد نے مجھے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ہدایت کر رکھی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ آمد و رفت نہ رکھوں اور اپنی ذاتی اور خاندانی معلومات کسی بھی شخص کو نہ دوں۔ میرے ذہن میں اس وقت یہی بات تھی۔ میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔
مرد مسلسل بولے چلا جا رہا تھا: ’’تمہارا گھر کہاں ہے؟! تمہارا شوہر کیا کام کرتا ہے؟! تم لوگ کس گاؤں کے رہنے والے ہو؟!‘‘
میں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو چابی تالے میں ڈال کر گھر کا دروازہ کھولا۔ ایک عورت کہنے لگی: ’’بھائی، تم جو اتنے سوال پوچھنا چاہتے ہو تو ہم سے کیوں پوچھ رہے ہو۔ ذرا ٹھہرو میں اپنے میاں کو آواز دیتی ہوں۔ وہ تمہاری بہتر طریقے سے رہنمائی کر سکتے ہیں۔‘‘
مرد نے جیسے ہی یہ سنا تو خدا حافظ کہے اور کوئی اور سوال کیے بغیر ہی ہمارے پاس سے رفوچکر ہو گیا۔ جب وہ چلا گیا تو ہمسائی عورت مجھ سے کہنے لگی: ’’خانم ابراہیمی! تم نے دیکھا، میں نے کیسے اس کی خبر لی۔ میں نے تو ویسے ہی اسے کہہ دیا تھا کہ میرے میاں گھر پر ہیں، حالانکہ ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
ایک اور عورت نے کہا: ’’میرا خیال ہے کہ یہ مرد تمہارے میاں کی سُن گُن لینے آیا تھا۔ جن منافقوں کو تمہارے میاں نے پکڑا تھا، انہوں نے ہی اسے بھیجا ہو گا تا کہ وہ تمہیں یہاں پہچان کر چلا جائے اور ان منافقوں کا انتقام لیا جا سکے۔‘‘ اس عورت کی یہ باتیں سن کر میں ڈر گئی۔ میری زیادہ پریشانی صمد کے لیے تھی۔ میں ڈرتی تھی کہ اسے کہیں کوئی اور حادثہ پیش نہ آ جائے۔
اس مرد نے سب کو بری طرح ڈرا دیا تھا۔ اسی لیے ہمسایہ عورتیں میرے گھر نہ آئیں اور اپنے اپنے گھروں کو واپس چلی گئیں۔ میں نے بھی دروازے کو تہرا قفل لگا دیا، حتی کے اندر والے کمرے کو بھی تالا لگا دیا اور ایک سٹول دروازے کے پیچھے رکھ دیا۔
اس رات صمد جلدی گھر آ گیا۔ اس نے جب یہ صورت حال دیکھی تو پوچھا: ’’یہ سب کیا ہے؟!‘‘
میں نے اسے ساری بات بتائی تو وہ ہنس کر کہنے لگا: ’’تم عورتیں بھی کتنی ڈرپوک ہوتی ہو۔ کچھ بھی نہیں ہے۔ تم خواہ مخواہ ڈر رہی ہو۔‘‘
رات کا کھانا کھانے کے بعد صمد نے اپنی وردی پہنی۔
میں نے پوچھا: ’’کہاں؟!‘‘
اس نے کہا: ’’کمیٹی جانا ہے۔ وہاں کچھ کام ہے۔ شاید چند روز تک نہ آ سکوں۔‘‘
مجھے رونا آ گیا۔ میں نے التماس کی: ’’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم نہ جاؤ؟‘‘
اس نے نرمی سے کہا: ’’نہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں ڈرتی ہوں۔ اگر آدھی رات کو وہ مرد اور اس کے غنڈے آ گئے تو میں کیا کروں گی؟!‘‘
صمد پہلے تو یہ بات سن کر ہنس دیا لیکن جب اس نے دیکھا کہ میں واقعی ڈری ہوئی ہوں تو اس نے اپنی کمر سے لٹکا پستول مجھے دے دیا اور کہنے لگا: ’’اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اسے استعمال کر لینا۔‘‘ پھر اس نے آرام سے مجھے اسلحہ استعمال کرنے کا طریقہ سکھایا اور چلا گیا۔ میں نے پستول کو اپنے تکیے کے نیچے رکھا اور ڈری سہمی سو گئی۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ کسی آواز سے میں بستر سے اچھل کر بیٹھ گئی۔ کوئی بندہ دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ میں نے پستول اٹھایا اور صحن میں چلی گئی۔ دروازے پر جا کر پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘ کسی نے جواب نہ دیا۔ میں خوف سےلرزتی ہوئی کمرے میں آ گئی کہ دوبارہ دستک ہوئی۔ میں شش و پنج میں تھی کہ کیا کروں؟ پہلے کی طرح جا کر دروازے کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور کئی بار پوچھا: ’’کون ہے؟!‘‘ اس بار بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ کئی بار ایسا ہوا۔ میں جیسے ہی کمرے میں جاتی تو گھنٹی کی آواز بڑھنا شروع ہو جاتی اور جب دروازے پر جاتی تو کوئی جواب نہ دیتا۔ میں نے اپنے آپ کو تسلی دے لی تھی کہ کوئی ہمیں تنگ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے ڈر کے مارے تمام بتیاں جلا دیں۔ آخری بار جب دروازے کی گھنٹی بجی تو میں چھت پر چلی گئی اور جیسا کہ صمد نے سکھایا تھا، اسلحہ تیار کر لیا۔ دو مرد گلی میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ حتماً وہی ہوں گے۔ میں نے اسلحہ ان کی طرف کیا تو اچانک دیکھا کہ ان میں سے ایک مرد ہمارے ساتھ والے ہمسائے آغا عسکری ہیں کہ جن کی بیوی کے بچہ ہونے والا تھا۔ میں اتنی خوش ہوئی کہ وہیں چھت سے انہیں آواز دی: ’’آغا عسکری، آپ ہیں؟!‘‘ اس کے بعد میں دوڑ کر گئی اور دروازہ کھول دیا۔
آغا عسکری بہت شرمیلے اور جھجکنے والے مرد تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ دروازے کی گھنٹی بجا کر چند قدم دروازے سے دور جا کر کھڑے ہو جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر بار جب میں دروازے پر جا کر پوچھتی تو ان تک میری آواز نہ پہنچتی۔ وہ مجھ سے مدد لینے آئے تھے۔ ان کی بیوی کے ہاں ولادت کا وقت قریب تھا۔
*****
([1]) نو روز ایران کا سالانہ قومی تہوار ہے۔ عیسوی تقویم کے مطابق 21 مارچ کو ایرانیوں کا نیا سال شروع ہوتا ہے ۔ اس دن یہاں عید نوروز منائی جاتی ہے ۔ تیرہ کے عدد کو فارسی میں سیزدہ کہا جاتا ہے۔ ایرانی سال کے پہلے مہینے کی 13 تاریخ (2 اپریل) کو یہ لوگ روز طبیعت ( قدرتی ماحول کا دن ) کے عنوان سے مناتے ہیں۔ اس دن تمام ایرانی لوگ صبح سویرے اپنا سیرو تفریح اور کھانے پینے کا سامان لیے گھروں سے نکل جاتے ہیں اور پورا دن پارکوں اور مختلف سیر گاہوں میں گزارتے ہیں اور شام ڈھلے گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔ (البتہ قدیم خرافاتی عقائد کے مطابق اس دن گھر میں ٹھہرنا نحوست سمجھا جاتا تھا لہٰذا لوگ صبح نکلتے اور شام ڈھلے واپس لوٹتے۔) عرف عام میں اسے سیزدہ بہ در کہا جاتا ہے ۔