آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

دسواں باب

عید [نوروز] کے بعد صمد ہمدان چلا گیا۔  ایک روز آیا اور کہنے لگا: ’’انعام دو، قدم! میں پاسدار([1]) ہو گیا ہوں۔ میں نے کہا تھا نا کہ امام کا سپاہی بنوں گا۔‘‘

جیسا کہ وہ بتا رہا تھا، اس کی ڈیوٹی انقلاب کورٹ میں لگ گئی تھی۔ وہ ہفتے کو علی الصبح ہمدان چلا جاتا اور جمعرات کی سہ پہر کو  واپس آتا۔ اس سے پہلے کہ میں اعتراض کروں اور کوئی بداخلاقی کر بیٹھوں، وہ خود ہی کہہ دیتا: ’’کاش تم جان سکتیں کہ عدالت میں کتنا کام ہوتا ہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اگر تمہارا اور خدیجہ کا خیال نہ ہوتا تو یہ دو روز بھی میرے لیے آنا مشکل تھا۔‘‘

انہی دنوں مجھے یہ محسوس ہو گیا کہ میں دوبارہ امید سے ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ نہیں جانتی تھی کہ دوسروں کو کیسے اس بارے میں بتاؤں۔ میں نے بے چینی سے کہا: ’’میرا دل نہیں چاہتا کہ تم ہمدان جاؤ۔ میری طبیعت بہت خراب ہے۔ کچھ تو میری حالت کا خیال کرو۔ ایسا لگتا ہے کہ میں دوبارہ امید سے ہو گئی ہوں۔‘‘

اس نے ماتھے پر بل ڈالے بغیر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر دیے: ’’خدا کا شکر، لاکھ بار شکر۔ خدایا تو اس قدم کو بخش دے جو اتنی ناشکری کر رہی ہے۔ خدایا! ہمیں ایک نیک اور صالح فرزند عطا فرما۔‘‘

مجھے غصہ آ گیا: ’’کیا کہا؟! خدا کا شکر۔تم تو ہوتے نہیں ہو کہ دیکھو، میں کتنی مشکل میں پڑی رہتی ہوں۔ اس سردی میں اکیلی میلے کپڑے دھوؤں، گھر کے کام کروں، بچی کو سنبھالوں، گھر کے سارے کام میرے ہی سر پر رہتے ہیں۔ تھکن سے ٹوٹ جاتی ہوں۔‘‘

ہنس کر کہنے لگا: ’’پہلی بات تو یہ ہےکہ موسم تھوڑا تھوڑا گرم ہو رہا ہے اور دوسری بات یہ کہ تم ماؤں کو جنت ایسے تھوڑی ہی مل جائے گی۔ زحمت کرو، تکلیف جھیلو۔‘‘

میں نے کہا: ’’مجھے نہیں معلوم۔ تمہیں کچھ کرنا ہو گا۔ بہت جلد میں دوبارہ ایک بچے کی ماں بننے والی ہوں۔‘‘

اس نے کہا: ’’ایسی باتیں نہ کرو۔ خدا کو اچھی نہیں لگتیں۔ خدیجہ کو ایک بھائی یا بہن چاہیے۔ دیر یا جلد تمہیں ایک بچہ اور پیدا تو کرنا ہی تھا۔ اس سال نہ ہوتا تو اگلے سال۔ اب ہو گیا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ دونوں اکٹھے ہی بڑے ہوں گے۔‘‘

وہ اس انداز میں بات کرتا تھا کہ انسان مطمئن ہو جاتا تھا۔ پھر اس نے تھوڑی دیر باتیں کیں، اپنے کام کے بارے میں بتایا اور پھر خدیجہ کے ساتھ شرارتیں کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے بچے کے لیے اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ میں بالکل ہی بھول گئی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے تو میں اس سے کافی ناراض تھی۔

اس کے بعد صمد پھر ہمارے پاس سے چلا گیا تھا۔ میرے دل کے لیے یہی خوشی کافی تھی کہ تہران کی نسبت ہمدان قایش سے زیادہ نزدیک ہے۔

میں روز بہ روز بوجھل ہوتی جا رہی تھی۔ خدیجہ ایک سال کے لگ بھگ ہو گئی تھی اور ہاتھوں کے بل چلتی تھی۔ جو چیز بھی دیکھتی، اٹھا کر منہ میں ڈال لیتی۔ میرے لیے بہت مشکل تھا کہ اس حالت میں اس کے پیچھے پیچھے بھاگتی رہوں اور اس کی دیکھ بھال کروں۔ دوسری پریشانی یہ کہ جب سے ہم اپنے گھر میں آئے تھے میں اپنی ماں سے دور ہو گئی تھی۔ بابا کی یاد بھی آتی تھا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ میری بہن حوری کا گھر نزدیک ہی تھا۔ دو تین گھروں سے زیادہ کا فاصلہ نہ تھا۔ وہ میری خبر لیتی رہتی۔ خصوصاً میرے حمل کے زمانے میں تو اپنے گھر کے کام شروع کرنے سے پہلے ایک چکر میری طرف لگا جاتی اور حال احوال پوچھ جاتی۔ جب میری طرف سے مطمئن ہو جاتی تو پھر اپنے کام کاج کے لیے گھر چلی جاتی۔ بعض اوقات میں خدیجہ کو لے کر بابا کے گھر چلی جاتی اور تین چار روزہ وہیں رہتی۔ لیکن جہاں بھی ہوتی، جمعرات کی صبح واپس آ جاتی۔ گھر کی جھاڑ پونچھ کرتی۔ صمد کو آبگوشت بہت زیادہ پسند تھا۔ اگرچہ رات کو کوئی بھی آبگوشت نہیں کھاتا لیکن میں اس کے لیے بنا دیتی۔

کبھی تو وہ آدھی رات کو گھر پہنچتا اور دروازہ کھٹکھٹاتا۔ میں کہتی: ’’تمہارے پاس چابی تو ہوتی ہے تو پھر دروازہ کیوں کھٹکھٹاتے ہو؟!‘‘

وہ کہتا: ’’میں یہ سارا راستہ اس لیے طے کر کے آتا ہوں تا کہ تم میرے لیے دروازہ کھولو۔‘‘

میں کہتی: ’’تم میری حالت نہیں دیکھتے؟!‘‘

اس وقت اسے یاد آتا کہ میں آخری مہینے میں ہوں اور اسے میرا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، لیکن اگلے ہفتے اسے دوبارہ سب کچھ بھول جاتا۔ میرے حمل کے آخری ہفتے تھے۔ ہفتے کے دن جب اس نے جانا ہوتا تو پوچھتا: ’’قدم جان! کوئی خبر نہیں ہے؟!‘‘

میں کہتی: ’’فی الحال نہیں۔‘‘

وہ مطمئن ہو جاتا اور اگلے ہفتے تک کےلیے چلا جاتا۔

لیکن اس ہفتے وہ جمعے کے دن سہ پہر ہی کو کپڑے پہن کر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ فروری کے ایام تھے اور برف کافی زیادہ پڑی تھی۔ کہنے لگا: ’’ہفتے کی صبح کو جلدی ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔ بہتر ہے کہ میں ابھی چلا جاؤں تا کہ ڈیوٹی پر جانے سے رہ نہ جاؤں۔ مجھے ڈر ہے کہ آج رات کو کہیں برف اور نہ پڑ جائے اور راستے بند نہ ہوجائیں۔‘‘

جاتے ہوئے اس نے پوچھا: ’’قدم جان! کوئی خبر نہیں ہے؟!‘‘

میری کمر میں درد ہو رہا تھا اور ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ معمولی درد ہو گا۔ میرے خیال میں ابھی پیدائش میں دو ہفتے رہتے تھے۔ میں نے کہا: ’’نہیں، تم خیریت سےجاؤ۔ ابھی  [تمہارا رکنا] جلدی ہے۔‘‘

لیکن صبح جب میں بیدار ہوئی تو دیکھا کہ کمر برے طریقے سے درد کر رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد پیٹ میں بھی درد شروع ہو گیا۔میں نے پرواہ نہ کی اور روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو گئی، لیکن بالکل کوئی فرق نہ پڑا اور درد شدید ہو گیا۔ خدیجہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی۔ اسی درد کی حالت میں اسی برف اور سردی میں اپنی بہن کے گھر چلی گئی۔ میں سردی سے کانپ رہی تھی۔ حوری نے اپنے ایک بچے کو دائی کی طرف دوڑایا اور دوسرے کو میری بھابھی خدیجہ کی طرف۔پھر مجھے دونوں بازؤوں کے نیچے سے سہارا دے کر میرے گھر واپس لے آئی۔ اس سال بلا کی سردی تھا۔ ہم نے کرسی رکھی۔ خدیجہ نے مجھے اس پر لٹایا اور خود طشت اور گرم پانی تیار کرنے میں لگ گئی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ کوئی صمد کو جا کر اطلاع دے دے۔ اتنا جلدی میرا دل اس کے لیے بےقرار ہو گیا تھا۔ میری خواہش تھی کہ وہ ان لمحات میں میرے پاس ہوتا اور میری دستگیری کرتا۔ جب بھی دروازے کی آواز آتی تو میں کہتی: ’’حتماً صمدہو گا۔ صمد آ گیا ہے۔‘‘

درد نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ میرا دل کتنا چاہ رہا تھا کہ صمد کو آواز دوں، لیکن شرم آ رہی تھی۔ جب تک بچہ دنیا میں نہیں آ گیا اس وقت تک صمد کا چہرہ ایک لحظے کے لیے بھی میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا۔ بچے کے رونے کی آواز سنی تو میں بھی رونے لگی۔ صمد! کیا ہو جاتا اگر تم تھوڑی دیر بعد چلے جاتے؟ کیا ہو جاتا اگر میرے پاس ٹھہر جاتے؟!

جمعرات تھی اور میں خوشی سے اڑی جا رہی تھی۔ہمیشہ کی  عادت کے مطابق اس کی منتظر تھی۔ سہ پہر کے وقت کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں جانتی تھی کہ صمد ہے۔ میری بھابھی خدیجہ صحن میں تھی۔اسی نے دروازہ کھولا۔ صمد نے جب خدیجہ کو دیکھا تو وہ بھانپ گیا۔ پوچھنے لگا: ’’کیا خبر ہے! ولادت ہو گئی؟‘‘

خدیجہ نے اسے بتایا کہ بچے کی ولادت ہو گئی ہے، لیکن بیٹا یا بیٹی ہونے کا اس نے اسے نہیں بتایا۔ حوری کمرے میں تھی۔اس نے کھڑکی سے صمد کو دیکھا۔ میری طرف منہ کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگی: ’’قدم! مبارک ہو۔ تمہارا شوہر آ گیا ہے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ صمد کمرے میں داخل ہو وہ باہر چلی گئی۔

میں کرسی کے اوپر ہی لیٹی ہوئی تھی۔صمدجب کمرے میں داخل ہوا تو ہنس کر کہنے لگا: ’’واہ واہ، سلام قدم خانم۔ نئے بچے کی آمد مبارک ہو۔ کہاں ہے میری پیاری بچی!‘‘

میں اس سے ناراض تھی۔ وہ خود بھی جانتا تھا۔ پھر بھی میں نے پوچھا: ’’تمہیں کس نے بتایا؟! خدیجہ نے؟!‘‘

وہ میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے بچی کو اپنے پاس ہی سلایا ہوا تھا۔ وہ جھکا اور اس کی پیشانی چوم کر کہنے لگا: ’’میں خود ہی سمجھ گیا تھا۔ کتنی پیاری بیٹی ہے۔ قدم، مجھے اپنی جان کی قسم خوبصورتی تو اس نے تمہی سے لی ہے۔ دیکھو تو کالی آنکھیں اور کالے ابرو۔ ایسا تو نہیں ہے کہ ماہ محرم میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں اور ابرو اس طرح کالے ہیں۔‘‘

اس کے بعد میری طرف دیکھا اور کہا: ’’میں چاہتا تھا کہ تمہاری بھابھی کو اچھا انعام دوں۔([2]) مگر افسوس کہ اس نے نہ بتایا کہ میرے بیٹی ہوئی ہے۔ اس نے سوچا شاید میں پریشان ہو جاؤں گا۔‘‘

اس کے بعد وہ اٹھ کر خدیجہ کے سرہانے چلا گیا جو کرسی کے ساتھ ہی نیچے سوئی ہوئی تھی، کہا: ’’میری پیاری خدیجہ، کیسی ہے؟!‘‘

میں نے کہا: ’’اسے تھوڑی سردی لگ گئی تھی۔میں نے دوا دےد ی ہے۔ ابھی ابھی سوئی ہے۔‘‘

صمد اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور کچھ دیر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر پیار کرتا اور اس کے لیے لوری گاتا رہا۔

 

اگلے روز صمد منہ اندھیرے ہی جاگ گیا اور کہنے لگا: ’’میں چاہتا ہوں کہ آج اپنی بیٹی کی ولادت کی خوشی میں دعوت کا انتظام کروں۔‘‘

وہ خود گیا اور باپ، ماں، بہنوں، بھائیوں اور کچھ نزدیکی رشتہ داروں کو دعوت دے کر آیا۔ اس کے بعد آستینیں چڑھا کر صحن میں چولہا درست کیا۔ میری ماں، بہنیں اور بھابھیاں اس کی مدد کرنے لگیں۔

تھوڑی تھوڑی دیر بعد کمرے میں میری خبر لینے آ جاتا اور کہتا: ’’قدم! کاش تمہاری حالت اچھی ہوتی اور میرے پاس کھڑی ہوتیں۔ تمہارے بغیر پکانے میں وہ لذت نہیں رہتی۔ ‘‘ موسم سرد تھا۔ ہمارا چھوٹا سا صحن برف سے اٹا ہوا تھا۔ اس نے پھاؤڑا اٹھایا اور برف کو اکٹھا کر کے صحن کے ایک کونے میں جمع کر دیا۔ صحن کے کونے میں بیت الخلاء کے ساتھ برف کا ڈھیر سا بن گیا تھا۔

وہ اس بہانے سے کہ اسے سردی لگ رہی ہے، کمرے میں آ گیا۔ کرسی([3]) کے نیچے بیٹھا اور اپنے ہاتھ لحاف میں ڈال دیے تا کہ گرم ہو جائیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ باتیں کرنا شروع ہو گیا۔ اپنے کام کے بارے میں، اپنے دوستوں کے حوالے سے، اپنے ان واقعات کی بابت جو اسے گذشتہ ہفتے پیش آئے تھے۔ میں نے خدیجہ کو اپنے دائیں طرف سلا دیا تھا اور دوسری بچی دوسری طرف تھی۔ کبھی اسے دودھ پلاتی اور کبھی خدیجہ کی پیشانی پر بھیگا رومال رکھتی۔ اچانک وہ خاموش ہو گیا اور کچھ سوچنے لگا۔ پھر کہا: ’’میں نے تمہیں بہت تکلیف دی  ہے۔ مجھے معاف کر دینا۔ جب سے تم نے مجھ سے شادی کی ہے، ایک لحظے کے لیے بھی تمہیں سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا۔ اگر تم نے مجھے معاف نہ کیا تو میں اُس جہان میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔‘‘

میری آنکھیں بھر آئی تھیں۔ میں نے کہا؛ ’’یہ کیا باتیں کر رہے ہو!‘‘

اس نے کہا: ’’اگر تم نے مجھے معاف نہ کیا تو کل قیامت کے دن میں بدبخت رہوں گا۔‘‘

میں نے کہا: ’’کیوں نہیں بخشوں گی؟!‘‘

اس نے لحاف کے اندر ہی سے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ ابھی تک ٹھنڈے تھے۔ کہنے لگا: ’’اس وقت تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے، لیکن تم دیکھ رہی ہو کہ میں تمہارے پاس نہیں رہ سکتا۔ انقلاب نیا نیا کامیاب ہوا ہے۔ ملک کی حالت ابھی تک صحیح طریقے سے سنبھلنے میں نہیں آ رہی۔ ہمیں سارے کام مکمل طریقے سے انجام دینا ہیں۔ اگر میں تمہارے پاس رہ جاؤں تو کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو تمام کاموں کو مکمل کرے۔ اور اگر چلا جاؤں تو میرا دل تمہارے پاس ہی رہتا ہے۔‘‘

میں نے کہا: ’’میری فکر نہ کرو۔ یہاں میرے سارے دوست احباب، بھائی اور بہنیں میری مدد کے لیے موجود ہیں۔ خدا شیرین جان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو میں تو کب کا حوصلہ ہار چکی ہوتی۔ تمہیں جیسا اچھا اور مناسب لگتا ہے اپنا کام کرو اور خدمت انجام دو۔‘‘

اس نے میرا ہاتھ دبایا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی ہیں۔ جب وہ بہت زیادہ اداس ہوتا تو اس کی آنکھیں ایسے ہی ہو جایا کرتی تھیں۔ اگرچہ مجھے اس کی یہ حالت اچھی لگتی تھی مگر میرا دل کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اسے بے چین دیکھوں۔ میں نے بھی اس کے ہاتھ کو دبا کر کہا: ’’اب اس سے زیادہ بھی اچھا نہیں ہے۔اٹھو اور جاؤ۔ سب یہی سوچیں گے کہ ہمارا جھگڑا ہو گیا ہے۔‘‘

میری بہن کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ اس نے کھڑکی کے شیشے پر ٹھوکر لگائی۔ صمد گھبرا گیا۔ جلدی سے اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور شرم کے مارے سرخ ہو گیا۔ میری بہن بھی شرمندہ ہو گئی اور سر نیچے کر کے کہنے لگی: ’’آغا صمد، شیرین جان چاولوں کو دم دینا چاہتی ہیں۔ آپ ذرا دیگ پکڑنے کے لیے آئیں گے؟‘‘

وہ جانے کے لیے اٹھا۔ دروازے پر پہنچا تو میری طرف پلٹ کر پوچھا: ’’تم نے اپنی بات دل سے کہی تھی نا؟‘‘

میں نے ہنس کر کہا: ’’ہاں، خاطر جمع رکھو۔‘‘

ظہر ہو گئی تھی۔ ہمارا چھوٹا سا کمرہ مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی دسترخوان بچھا رہا تھا، اور کوئی روٹی اور کوئی دہی اور اچار دسترخوان پر لگا رہا تھا۔ صمد مہمانوں کے سامنے پیالیاں رکھ رہا تھا۔  دو پیالیاں آپس میں ایک دوسرے کے اندر پیوست ہو گئی تھیں اور جدا نہیں ہو رہی تھیں۔ وہ انہیں نکالنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ان میں سے ایک ٹوٹ گئی اور اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ شیرین جان جلدی سے آگے بڑھیں اور ایک رومال لے کر اس کے ہاتھ کو باندھ دیا۔  اس افراتفری میں میرا بہنوئی گھبرایا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور کہا: ’’گرجی کے بری طرح نکسیر پھوٹ پڑی ہے۔ آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے اس کا خون بند ہونے کا نام ہیں نہیں لے رہا۔‘‘

کچھ ہی دن پہلے صمد نے ژیان([4]) خریدی تھی۔  اس نے طاقچے سے چابی اٹھائی اور کہا: ’’جلدی سے اسے تیار کرو۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔‘‘

اس کے بعد میری طرف دیکھ کر کہا: ’’تم اپنا کھانا کھا لینا۔‘‘

دسترخوان بچھا کر کھانا چن دیا گیا تھا۔ اچانک میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ میں نے اپنا سر لحاف کے اندر کر لیا اور سب سے نظریں بچا کر رونے لگی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ اس وقت صمد مہمانوں کے پاس ہوتا اور مہانوں کی خاطرمدارات کرتا۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ صمد کے اپنی بیٹی کی دعوت میں شریک نہ ہو سکنے کے سارے اسباب یکدم جمع ہو گئے ہیں۔

جب کھانا لگ گیا اور سب لوگ کھانے میں مصروف ہو گئے اور چینی کی پلیٹوں میں بجتی چمچوں کی آواز بلند ہونے لگی تو میری بھانجی کمرے میں داخل ہوئی اور میرے پاس آ کر سرگوشی کی: ’’خالہ! آغا صمد، ماں اور بابا کے ساتھ رزن چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ سے کہہ دوں کہ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘

مہمانوں نے کھانا کھا لیا تھا۔ کھانے کے بعد چائے لائی گئی۔ میری بہنیں اور بھابھیاں برتن بھی دھو چکی تھیں، مگر صمد نہ آیا۔

سہ پہر ہو گئی۔ مہمانوں نے پھل اور مٹھائی بھی کھا لی، تب بھی صمد نہ آیا۔ بابا نے بچی کو گود میں لے لیا، اس کے کانوں میں اذان و اقامت کہی اور نام بھی رکھ دیا: معصومہ، اور اس کے دونوں کانوں میں اس نام پکارا۔

باہر تھوڑا تھوڑا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ مہمان اٹھے اور خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔

رات ہو گئی تھی۔ سارے چلے گئے تھے۔ شیرین جان اور خدیجہ میرے پاس ہی رہ گئیں۔ شیرین جان نے میرے لیے رات کا کھانا تیار کیا۔ خدیجہ نے دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ دروازہ کھلا اور میری بہن اور بہنوئی کمرے میں داخل ہوئے ۔ لیکن صمد اب بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ میں نے پریشانی سے پوچھا: ’’صمد کہاں ہے؟!‘‘

میری بہن میرے پاس بیٹھ گئی۔ اس کی حالت بہتر ہو گئی تھی۔ میرے بہنوئی نے کہا: ’’ظہر کے وقت ہم یہاں سے رزن گئے، ڈاکٹر نہیں ملا۔ آغا صمد نے کافی زحمت کی۔ ہمیں ہمدان ہسپتال میں لے گیا۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیکوں اور گولیوں کے ذریعے گرجی کی نکسیر روک دی۔ سہ پہر ہو گئی تھی۔ جب ہم واپس ہونے لگے تو صمد نے کہا کہ تم لوگ گاڑی لو اور چلے جاؤ۔ مجھے ویسے بھی کل صبح دوبارہ پلٹ کر آنا ہے۔ اب اتنا سارا راستہ طے کر کے قایش جانے کا فائدہ نہیں ہے۔ قدم سے کہہ دینا کہ میں اگلی جمعرات کو آ جاؤں گا۔‘‘

میں نے اپنی بہن اور بہنوئی کے سامنے کوئی بات نہ کی، مگر غم سےمیرا برا حال ہو گیا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد سارے چلے گئے۔ شیرین جان میرے پاس رہنا چاہتی تھیں مگر میں نے انہیں زبردستی بھیج دیا۔ میں نےکہا: ’’بابا اکیلے ہیں۔ انہوں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ میں اس بات پر راضی نہیں ہوں کہ آپ میری خاطر انہیں اکیلا چھوڑ دیں۔‘‘

جب سب چلے گئے تو میں نے اٹھ کر بتیاں بجھا دیں اور اندھیرے میں زار و قطار رونے لگی۔

*****

([1]) سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جسے مختصراً پاسدارانِ انقلاب یا پاسداران بھی کہا جاتا ہے، ایران کی افواج کا ایک حصہ ہے جو نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی۔ یہ کسی حد تک عام افواج سے الگ اپنا آزاد وجود رکھتی ہے۔ انگریزی خبروں میں اسے Army of the Guardians of the Islamic Revolution    کہا جاتا ہے۔

([2]) ایران میں رسم ہے کہ جو بھی والد کو بچے کی ولادت کی سب سے پہلے خوشخبری سناتا ہے اسے کوئی نہ کوئی چیز بطور انعام دی جاتی ہے۔

([3]) اس کرسی کے بارے میں گذشتہ صفحات کے حواشی میں وضاحت کی جا چکی ہے۔

([4]) ایک کار کا نام۔