کورس فهرست
1۔ علوم قرآن کا مختصر تعارف
0/3
2۔ قرآن کو قرآن اور کتاب کیوں کہا گیا؟
0/3
3۔ قرآن کو کیوں آیت، وحی اور ذکر کہا گیا؟
0/3
4۔ قرآن کو کیوں کریم، مجید، عظیم, عزیز اور مبین کہا گیا؟
0/3
5۔ نزولِ قرآن کا معنی
0/3
6۔ قرآن کی زبان عربی کیوں؟
0/3
7۔ قرآن کا دفعی اور تدریجی نزول
0/3
8۔ اعجاز قرآن کے مختلف پہلو (مطالب میں اختلاف نہ ہونا)
0/3
9۔ اعجاز قرآن کے مختلف پہلو (فصاحت وبلاغت)
0/3
10۔ اعجاز قرآن کے مختلف پہلو (رسول کا امی ہونا)
0/3
11۔ قرآن میں تحریف کا نہ ہونا
0/3
12۔ قرآن میں تحریف نہ ہونے کی دلیل
0/3
13۔ قرآن کے اہداف اور مقاصد (فکری اہداف)
0/3
14۔ قرآن کے اہداف اور مقاصد (فکری اہداف)
0/3
15۔ قرآن کے اہداف اور مقاصد (اخلاقی اہداف)
0/3
16۔ قرآن کے اہداف اور مقاصد (عملی اہداف)
0/3
17۔ قرآن کا فہم اور استفادہ
0/3
18۔ قرآن کا فہم ممکن ہے (مخالف قرآنی دلیلوں کا جواب)۔
0/3
19۔ قرآن کا فہم ممکن ہے۔ (مخالف روایات کا جواب)
0/3
20۔ قرآن کا فہم ممکن ہے (آیات سے دلیل)
0/3
21۔ قرآن کا فہم جائز ہے۔
0/3
22۔ قرآن سے استفادے کی شرائط
0/3
23۔ قرآن سے استفادے کے موانع
0/3
24۔ قرآن کی تفسیر کی روش
0/3
25۔ تفسیر قرآن کے قواعد وضوابط
0/3
علومِ قرآن

پہلا درس: تعارف

آپ جانتے ہیں کہ ہمارے دین اور ایمان کے مطابق نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ خدا کے آخری نبی تشریف لا چکے اور پھر اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ پیامبر اکرم کے بعدتاقیامت آنے والے لوگوں کی ہدایت کیسے ممکن ہوگی؟ اس حوالے سے پیامبر اکرم کی وہ مشہور حدیث راہ گشا ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا:

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرا اہل بیت۔

پس ہمارے پا س ہدایت کے لیے یہ دو بہترین ذرائع موجود ہیں۔ ان دونوں منابع سے ہدایت کے لیے ان کی معرفت انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر اہل بیت علیہم السلام کی معرفت کے حوالے سے ایک حد تک گفتگو کی جاتی ہے لیکن قرآن کریم بہت حد تک مظلوم ہے اور قرآن کی معرفت کے حوالے سے گفتگو کم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور اہل بیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے کو مکمل کرتا ہے اور دوسرے کی تائید کرتا ہے۔

آپ جانتے ہیں ہر نبی اپنی نبوت کے اثبات کے لیے معجزہ پیش کرتا تھا۔ قرآن کریم ہمارے آخری نبی کو وہ زندہ معجزہ ہے جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ ابدی معجزہ ہے اور اس نے قیامت تک باقی رہنا ہے۔

قرآنِ کلام الہی ہے۔ علم الہی کا مرتبہ ہے۔ اس کتاب میں خداوند متعال نے ہم سے بات کی ہے۔ ہمیں مخاطب قرار دیا ہے۔

علومِ قرآن ایسے علوم کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے ہم قرآن کریم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور قرآن کریم کی معرفت اور شناخت حاصل کرتے ہیں۔قرآن کریم کی معرفت، خدا کی معرفت کا پیش خیمہ اور مقدمہ ہے۔ کوئی بھی مفسر اور محقق ان علوم کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھ سکتا۔

یہ علم تفسیر سے مختلف علم ہے۔ تفسیر میں ہم قرآن کریم کی آیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن علومِ قرآن میں ہم قرآن کریم کا بطور ایک کتاب مطالعہ کرتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں قرآن کے مطالعہ اور قرآن کے حوالے سے تحقیق کے دو راستے ہیں۔ ایک آپ قرآن کو اندر سے دیکھتے ہیں یعنی اس کی آیات میں داخل ہوتے ہیں جسے تفسیر کہا جاتا ہے۔ ایک دفعہ آپ قرآن کو باہر سے دیکھتے ہیں یعنی قرآن کو بطور ایک کتاب موردِ مطالعہ قرار دیتے ہیں کہ یہ کیسی کتاب ہے؟ کن خصوصیات کا حامل ہے؟  اور مختلف موضوعات کے حوالے سے بحث کرتے ہیں۔

مثلا قرآن کے نزول کا معنی کیا ہے؟ وحی کی حقیقت کیا ہے؟  قرآن کے کتنے نزول ہیں؟ قرآن اگر معجزہ ہے تو کس حوالے سے معجزہ ہے؟ قرآن کی تاویل اور تفسیر میں کیا فرق ہے؟ تفسیر کی کتنی قسمیں ہیں؟ شانِ نزول کیا ہوتا ہے؟ مکی اور مدنی آیات میں کیا فرق ہے؟ ناسخ اور منسوخ کیا ہوتا ہے؟قرآن کی عدمِ تحریف کی دلیلیں۔ محکم اور متشابہ کی بحث۔  اور اس طرح کے دوسرے وہ تمام مسائل جو قرآن کریم سے متعلق ہیں۔ ان تمام بحثوں کو علوم قرآن کہا جاتا ہے اور قرآن کے درست فہم اور صحیح تفسیر کے لیے یہ والے علوم انتہائی ضروری ہیں۔

تاریخ

کہا جاتا ہے جس نے علومِ قرآن پر سب سے پہلے کام کیا تھا وہ یحی بن یعمر نامی شخص تھا جو امیر المومنین علی علیہ السلام کے شاگردِ خاص ابو الاسود دوئلی کے شاگر د تھے۔ انہوں نے فنون قرائت کے حوالے سے ایک کتاب لکھی تھی۔

اہلِ سنت میں زرکشی، جلال الدین سیوطی اور زرقانی کی کتابیں علوم قرآن کے حوالے سے معروف ہیں۔ سید خوئی کی کتاب البیان فی تفسیر القرآن اور شیخ محمد ہادی معرفت کی تمہید فی علوم القرآن مشہور ہیں۔

اسی ضمن میں استاد مصباح کی کتاب قرآن شناسی سے کچھ دروس سلسلہ وار آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

استاد مصباح یزدی۔۔۔ جہاں ایک فقیہ، فلسفی، متکلم، عارف اور معلم اخلاق تھے وہیں آپ ایک بہترین مفسر بھی تھے۔

رہبرِ معظم۔۔۔ مطہری زمان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہماری موجودہ نسل علامہ طباطبائی اور شہید مطہری جیسی شخصیات سے استفادہ کر سکیں ۔۔ لیکن خدا کے فضل سے علامہ مصباح نے یہ جگہ پر کی ہے۔ ۔۔ آپ کی زندگی کو مایہ برکت اور آپ کو نظام اسلامی کے ہمیشہ حامی مفکر کے طور پر پیش کیا۔

علامہ طباطبائی کے خاص شاگرد۔۔۔علامہ کے اپنے اعتراف کے مطابق تفسیر المیزان میں آپ کا بھی حصہ تھا۔۔

تفسیر ترتیبی کی جگہ تفسیرِ موضوعی پر کام کیا۔

معارفِ قرآن کے حوالے سےکتابوں کی سیریز:

۱۔ خدا شناسی : معرفتِ خدا قرآن کی نگاہ میں

۲۔ جہان شناسی: کائنات کی معرفت قرآن کی نگاہ میں

۳۔ انسان شناسی: انسان کی معرفت، قرآن کی نگاہ میں

۴۔ راہ و راہنما شناسی

۵۔ جامعہ و تاریخ در قرآن

۶۔ حقوق و سیاست در قرآن

۷۔ اخلاق در قرآن

۸۔ قرآن شناسی۔۔۔ ۲ جلدوں میں

ماہِ مبارک رمضان کو قرآن کی بہار کہا گیا ہے۔

ایسے میں ہم کوشش کریں گے اس ماہ میں قرآن کی معرفت کے حوالے سے کچھ آپ سے بات کریں۔