مسافرِ کربلا
[شہید علی رضا کریمیؒ]
چارسال کی عمر میں شدید بیماری نے جکڑ لیا۔ ڈاکٹروں نے یہ کہتے ہوئے جواب دے دیا: ’’یہ بچہ زندہ نہیں رہے گا۔‘‘ اس کے والد نے اسے حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی نذر کر دیا۔ وہ اپنے فرزند کی شفایابی کی نیت سے فقرا کو کھانا کھلاتے تھے یہاں تک کہ معجزانہ طور پر یہ بچہ شفایاب ہو گیا۔
جیسے جیسے بڑا ہوتا جا رہا تھا حضرت قمر بنی ہاشم علیہ السلام سے اس کی دلی ارادت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پرائمری سکول کی دوسری کلاس ہی میں پڑھائی کو چھوڑا ور اپنے برتھ سرٹیفیکیٹ میں رد و بدل کر کے اصفہان محاذ پر چلا گیا۔
محاذ پر اس نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ اسے امام حسین علیہ السلام ڈویژن کے دستےابوالفضل علیہ السلام کا انچارج بنا دیا گیا۔ وہ خوش تھا کہ اپنے مولا کے عاشقوں کی خدمت کر رہا ہے۔
علی رضا کریمی نے اپنی زندگی کی سولہ سے زیادہ بہاریں نہ دیکھیں۔ آخری بار محاذ پر جاتے ہوئے اس نے کہا تھا: ’’کربلا کا راستہ کھلتے ہی لوٹ آؤں گا۔‘‘
پندرہ سال بعد اس کا جسد ملا۔ جس دن پہلا کاروان رسمی طور پر کربلا کی طرف جانا تھا، وہ شہداء کی تلاش کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کے انچارج کو خواب میں آیا اور اس سے کہا: ’’اب وقت آ گیا ہے کہ میں بھی واپس آ جاؤں۔‘‘ اس نے اپنے جسد کے مقام کی نشان دہی بھی کی تھی۔ یہ بات بہت عجیب تھی۔ اس کا پیکر دوسرے شہر منتقل کر دیا گیا تھا۔
کچھ عرصے بعد اسے ایران لے آئے۔ جس دن اس کی تدفین کی گئی اس دن یوم عاشورا تھا۔ حضرت ابوالفضل علیہ السلام کا دن۔
اس نے میرے اور آپ کے نام جو اپنا آخری خط لکھا اس کے آخر میں اس نے لکھا تھا:
’’کربلا میں آپ کی ملاقات کا منتظر۔ آپ کا بھائی علی رضا۔‘‘
اب جس کسی کو بھی سفر کربلا کے لیے کوئی مشکل درپیش آتی ہے وہ اس کی قبر پر جاتا ہے۔
علی رضا نے سولہ سال کی عمر میں اپنی شہادت سے تین ماہ پہلے اپنا وصیت نامہ لکھا تھا:
جو خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔
خدا کے نام سے۔ سلام ہو حضرت مہدی (عجل اللہ) پر، ان کے نائب برحق امام خمینی پر اور ان تمام لوگوں پر جو راہ اسلام میں خدمت کر رہے ہیں۔
خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس قدر مہلت دی کہ حقیقی اسلام کو سمجھ سکوں اور دنیا سے جہالت کی حالت میں نہ جاؤں۔
اسلامی انقلاب اس چیز کا باعث بنا ہے کہ ہم اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچیں، اپنے اردگرد نگاہ کریں اور زندگی کو ایک اور نظر سے دیکھیں۔
ہاں، امام نے جو عظیم کام کیا ہے وہ اس کا باعث بنا ہے کہ دنیا خواب غفلت سے بیدار ہو جائے اور دوبارہ انسانیت کو یاد کرے۔
میں بہت خوش ہوں کہ اپنی جان کو اسلام، رسول اللہﷺ اور علی علیہ السلام کے مکتب پر فدا کر رہا ہوں اور اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ میرا مقصد و مکتب اسلام ہے۔
اسلام نے مجھے سمجھایا کہ کیسے فکر کروں اور راستے کا انتخاب کروں۔ میں اپنے روشن دل کے ساتھ اپنے خون کو اسلام کی خاطر بہا رہا ہوں اور یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہمارے خون کے جاری ہونے ہی سے ہماری حکومت زیادہ نورانی اور صاحب الزمان عجل اللہ کی عادل حکومت سے متصل ہو گی۔ میں اس چیز کی امید رکھتا ہوں کہ ہماری حکومت امام مہدی عجل اللہ کے انقلاب کا ماحول فراہم کرے گی۔
لیکن اماں جان! میری شہادت کی خبر سن کر اشک نہ بہانا کیونکہ ہمارے بزرگوار امام نے بھی اپنے بیٹے کی موت پر اشک نہیں بہائے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسی میں خدا کی خوشنودی ہے۔
اور بابا جان! آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ فقراء اور محتاجوں کی مدد کرتے ہوئے آپ میرے راستے کو جاری رکھیں۔
میری بہنو! تم زینبِ زمانہ بنو، اپنے بیٹوں کی حسینؑ کی طرح تربیت کرو اور راہ خدا میں جنگ کرو۔
خدایا! تو جانتا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ تیری رضا کے لیے ہی کیا پس ہماری مدد فرما کہ تیرے راستے میں قدم بڑھاتے چلیں۔
خدایا! اسلام کو فتح یاب فرما اور اگر مجھ میں کوئی لیاقت دیکھتا ہے تو شہادت کے میٹھے شربت سے مجھے بھی سیراب فرما۔
اور اے خلق خدا سے بھاگے ہوئے منافقین([1])! انقلاب کی کامیابی کے بعد تم لوگ صرف اپنی تنظیم کے نام تک ہی محدود ہو گئے ہو۔ ایک بھائی ہونے کے ناطے میرا دل تمہارے لیے کڑھتا رہتا ہے۔ تم وہ مٹھی بھر پاک جوان ہو کہ جن کے رہبروں نے انہیں منحرف کر دیا ہے۔ تھوڑی غور و فکر کرو اور توبہ کر کے واپس آ جاؤ۔
خدایا! جماران کے اس ضعیف انسان، تاریخ کے اس بت شکن اور ستمگروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے اس بہادر کی حفاظت فرما۔
خداوندا! تو جانتا ہے کہ میں نے اس قدر گناہ کیے ہیں کہ تجھ سے شرمندہ ہوں۔ تجھے تیری عظمت و بزرگی کا واسطہ، مجھے بخش دے۔
خدایا! مجھے اپنے نفس کے حوالے نہ کر۔ میرے بابا اور ماں کو بھی بخش دے اور انہیں اپنی مغفرت و بخشش عطا فرما۔
([1]) یہاں مجاہدین خلق کے اراکین کی طرف اشارہ ہے۔ مجاہدین خلق ایران، ایرانی شاہی نظام کی ایک مخالف تنظیم تھی۔ ایرانی شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف اس تنظیم کی بنیاد 1965ء میں چند جدت پسند ایرانیوں کے ہاتھوں پڑی۔ اس تنظیم نے شاہ کی حکومت کے خلاف کئی مسلحانہ کاروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں اس کے اہم افراد کو ایرانی جاسوسی ادارے ’’ساواک‘‘ کی سختیاں بھی جھیلنا پڑیں۔ امام خمینیؒ کی سربراہی میں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے یہ تنظیم دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ انقلاب کے بعد اس تنظیم کا ایک دھڑا امام خمینیؒ سے آن ملا، مگر امام خمینیؒ کے ساتھ بھی ان کی نہ بنی اور ان کی مخالفت میں بھی انہوں نے شدت اختیار کر لی، جس کی وجہ سے ایرانی عوام میں ان کی مقبولیت بالکل ختم ہو گئی۔ صدام کے دورِ حکومت میں جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو اس تنظیم کے اراکین بغداد چلے گئے اور عراقی فوج کے ساتھ مل کر ایرانی عوام کے خلاف جنگ میں انتہائی موثر اور بھرپور حصہ لیا۔ ایران میں آج بھی انہیں مجاہدین خلق کی بجائے منافقین خلق کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا حالیہ سربراہ مسعود رجوی ہے۔