آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

کمیل خندق
[علی نصر اللہ]

میں نے انٹیلی جنس کے ایک افسر  سے مل کر پوچھا: ’’بٹالینز محاصرے میں کیسے گھِر گئیں۔ عراقی تو آگے آئے ہی نہیں تھے اور ہمارے جوان بھی دوسری اور تیسری خندق میں تھے۔‘‘

کمانڈر نےجواب دیا: ’’ریکی کے دوران جو تیسری خندق ہم نے دیکھی تھی وہ اِس خندق سے کافی مختلف تھی ۔ یہ خندق اور اس کے علاقہ کچھ ذیلی خندقیں عراقیوں نے انہی دو تین دنوں میں بنائی ہیں۔ یہ خندقیں سرحدی خط کے بالکل سامنے بنائی گئی ہیں۔ ہیں تو چھوٹی مگر رکاوٹوں سے بھری ہوئی ہیں۔‘‘

اس کے بعد اس نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھایا: ’’ہراول بٹالینز عراقی حملوں سے بچنے کے لیے خندق میں داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی اجالا ہوا تو عراقی ٹینک آگے بڑھے اور انہوں نے دونوں طرف سے خندق کوبند کر کے آگ لگا دی۔‘‘

وہ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولا: ’’عراقیوں نے ہمارے جوانوں کے سامنے سولہ قسم کی رکاوٹیں تیار کر رکھی تھیں۔ یہ رکاوٹیں تقریباً چار کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اوپر سے منافقین نے بھی اس حملے کی تمام معلومات عراقیوں کو دے دی تھیں۔‘‘

میں غم سے نڈھال ہو گیا اور روہانسا ہو کر کہا: ’’اب کیا کرنا چاہیے؟!‘‘

کمانڈر نے کہا: ’’اگر جوان استقامت کا مظاہرہ کریں تو ہم حملے کا دوسرا مرحلہ انجام دیں  گے اور انہیں واپس لے آئیں گے۔‘‘

اسی وقت ہیڈ کوارٹر کے وائرلیس آپریٹر نے کہا: ’’محصور بٹالینز کے بارے میں ایک خبر!‘‘ سب خاموش ہو گئے۔

آپریٹر نے بتایا: ’’برادر ثابت نیا، برادر افشردی سے جا ملے۔‘‘

اس چھوٹی سے خبر کا مطلب تھا کہ کمیل بٹالین کے کمانڈر شہید ہو گئے۔

اسی روز سہ پہر کو خبر پہنچی کہ کمیل بٹالین کے نائب کمانڈر حاج حسینی بھی شہادت پر فائز ہو گئے اور بٹالین کے دوسرے نائب بنکدار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ کیمپ میں موجود سبھی جوان غم سے بوجھل تھے۔ وہاں ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا۔

9 فروری کا دن تھا۔ فوجی جوان فکہ پر ایک نئے حملے کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ میں نے ایک دوست کو دیکھا جو کمانڈ سینٹر سے آ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’کیا حالات ہیں؟‘‘

کہنے لگا: ’’ابھی ابھی کمیل بٹالین کے وائرلیس آپریٹر نے فون کر کے حاج ہمت سے بات کی ہے۔ آپریٹر نے کہا ہے: ’’وائرلیس کی چارجنگ ختم ہو رہی ہے۔ ہمارے بہت سے جوان شہید ہو چکے ہیں۔ ہمارے لیے دعا کریں۔ امام کو ہمارا سلام پہنچائیں اور انہیں کہیں کہ ہم زندگی کی آخری سانسوں تک مقابلہ کرتے رہیں گے۔‘‘

میں نے بے چینی اور دل شکستگی سے کہا: ’’اب ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘

اس نے کہا: ’’خدا پر توکل کرتے ہوئے چلنے پر آمادہ ہو جاؤ۔ آج رات حملے کا اگلہ مرحلہ شروع کیا جائے گا۔‘‘

مغرب کا وقت تھا۔ توپخانے کے جوان پوری مہارت سے دشمن کے مورچوں کو نشانے پر رکھ کر گولیاں اور گولے برسانا شروع ہو گئے۔

حنظلہ بٹالین اور کچھ دوسری بٹالینز نےپیش قدمی شروع کر دی۔ وہ لوگ کمیل خندق کے نزدیک تک پہنچ گئے یہاں تک کہ رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے تیسری خندق تک جا پہنچے لیکن دشمن کی طرف سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ کی وجہ سے بہت کم تعداد میں محصور جوان رات کی تاریکی میں خندق سے باہر نکل کر پیچھے کے طرف واپس آ سکے۔

یہ حملہ بھی ناکام رہا۔ ہم صبح تک اپنے مورچوں میں واپس آ گئے، لیکن حنظلہ بٹالین کے بہت سے جوان انہی سرحدی خندقوں میں رہ گئے۔ اس حملے میں جوانوں کی بھرپور فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں دشمن کی بہت سی بکتر بند گاریاں تباہ ہو گئیں۔

*****

10 فروری 1983؁ کا دن تھا۔ ابھی تک خندق کے اندر سے گولیوں اور گولوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ خندق کے اندر پھنسے جوان ابھی تک استقامت دکھا رہے ہیں، لیکن  یہ سمجھنا مشکل تھا کہ چار دن سے وہ کن وسائل کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

اس دن مغرب کے وقت حملے روک دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ باقی جوان پیچھے واپس آ گئے۔

کل جو جوان خندق سے باہر آئے تھے، میں نے ان میں سے ایک کو یہ کہتے ہوئے دیکھا: ’’تم نہیں جانتے، ہم کس حال میں تھے۔ کھانے پینے کو کچھ نہ تھا۔ اسلحہ بھی بہت ہی کم رہ گیا تھا اور خندقوں کے اردگرد بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں۔ ہم کچھ منٹ کے بعد ایک آدھ گولہ پھینک دیا کرتے تھے تا کہ دشمن سمجھتا رہے کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔ عراقی مسلسل سپیکر پر ہمیں ہتھیار ڈالنے کا کہے جا رہے تھے۔‘‘

سورج کے غروب ہونے کا منظر بہت ہی غمناک تھا۔ میں ایک اونچائی پر کھڑے ہو کر دوربین سے دیکھنے لگا۔ خندق کے اردگرد ابھی تک دھماکے ہوتے نظر آ رہے تھے۔ میرا گہرا دوست ابراہیم وہاں تھا اور میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔

اس رات میں تھوڑی دیر سویا اور اگلے دن محاذ پر واپس ا ٓ گیا۔

*****

11 فروری[1] کے حوالے سے عراقی بہت زیادہ حساس تھے۔ ان کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں شدت آ گئی تھی۔ہمارے اگلے مورچے خالی ہو گئے اور سب جوان پیچھے پلٹ آئے۔

میں نے سوچا: ’’شاید عراق پیش قدمی کرنا چاہتا ہے؟! لیکن یہ بعید لگتا ہے کیونکہ جو رکاوٹیں اس نے ہمارے لیے کھڑی کر رکھیں ہیں وہ خود اس کے راستے میں بھی تو ہیں۔‘‘

عصر کے وقت اسلحے سے برسنے والی آگ تھوڑی ٹھنڈی پڑ گئی۔ میں دوربین پکڑے ایک ایسی جگہ پر چلا گیا جہاں سے خندق کے اندر بہتر طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ میں نے جو کچھ دیکھا وہ  ناقابل یقین تھا۔ خندق کی جگہ سے ایک گہرا دھواں بلند ہوا تھا اور مسلسل دھماکوں کی آواز آ رہی تھی۔

میں دوڑا دوڑا انٹیلی جنس کے جوانوں کے پاس گیا اور انہیں کہا: ’’عراق خندق کو تباہ کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے بھی دوربین سے دیکھا۔ آگ اور دھوئیں کے علاوہ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن میں ابھی تک مایوس نہیں ہوا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ ابراہیم تو اس سے بھی زیادہ برے حالات سے گزر چکا ہے لیکن پھر مجھے حملے سے پہلے کی جانے والی اس کی باتیں یاد آ گئیں۔ میرا بدن لرز کر رہ گیا۔

خونین غروب
[علی نصر اللہ]

جمعہ 11 فروری 1983؁ کی سہ پہر میرے لیے بہت زیادہ غمناک اور رنج آلود تھی۔ انٹیلی جنس کے جوان اپنے مورچوں میں چلے گئے تھے۔ میں نے دوبارہ دوربین سے دیکھا۔ غروب کے نزدیک مجھے محسوس ہوا کہ دور سے کوئی چیز حرکت کر رہی ہے۔ میں نے زیادہ غور سے دیکھا تو واضح ہو چکا تھا کہ تین افراد بھاگتے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں۔ وہ بار بار زمین پر گرتے اور پھر اٹھ جاتے۔ وہ زخمی اور تھکے ہارے تھے۔ یقیناً خندق سے آ رہے تھے۔

میں نے چلّا کر جوانوں کو آواز دی۔ ہم بلندی پر چلے گئے۔ میں نے جوانوں کو فائرنگ سے منع کر دیا۔

غروب کے سرخی کے درمیان بالآخر وہ تین افراد ہمارے مورچوں تک پہنچ گئے۔

جیسے ہی وہ پہنچے تو ہم دوڑ کر ان کی طرف گئے اور پوچھا: ’’کہاں سے آ رہے ہیں؟‘‘ ان میں بات کرنے کی سکت نہ تھی۔ ان میں سے ایک نے پانی طلب کیا۔ میں نے جلدی سے پانی کی بوتل اسے دی۔ دوسرے کا بدن کمزوری اور بھوک سے لرز رہا تھا۔ تیسرے کا پورا جسم خون میں ڈوبا ہوا تھا۔ جب ان کے حواس بحال ہوئے تو کہنے لگے: ’’ہم کمیل خندق میں تھے۔‘‘

میں نے بے چینی سے پوچھا: ’’باقی دوست کہاں ہیں؟!‘‘ اس نے بڑی مشکل سے سر اوپر اٹھا کرجواب دیا: ’’میرا نہیں خیال کہ ہمارے علاوہ کوئی زندہ بچا ہو۔‘‘ میرا دل لرز کر رہ گیا اور دوبارہ حیرت سے پوچھا: ’’یہ پانچ دن تم لوگوں نے کیسے مقابلہ کیا؟!‘‘

اس میں بات کرنے کی طاقت نہ تھی۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر کہنے لگا: ’’ہم ان آخری دو دنوں میں لاشوں کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔ لیکن ہم میں سے فقط ایک تھا جو ان پانچ دنوں تک مسلسل خندق میں ڈٹا رہا اور ذرہ برابر وہاں سے نہیں ہلا۔‘‘

اس نے اپنا سانس بحال کرنے کے بعد دوبارہ آہستہ سے کہا: ’’عجیب آدمی تھا۔ ایک طرف آر پی جی چلا رہا تھا اور دوسری طرف کلاشنکوف سے فائرنگ کر رہا تھا۔ عجیب قدرت و طاقت تھی اس میں۔‘‘

دوسرے ساتھی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’سب شہداء کو اس نے خندق کے آخر میں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا لٹا دیا تھا۔ وہ اپنا کھانا اور پانی تقسیم کر دیتا تھا۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اس لڑکے میں تھکاوٹ نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔‘‘

میں نے کہا: ’’تو کیا بٹالین کمانڈرز اور ان کے نائب شہید نہیں ہو گئے؟! تو پھر تم کس کی بات کر رہے ہو؟‘‘

وہ کہنے لگا: ’’ایک جوان تھا جسے میں نہیں جانتا۔ اس کے بال چھوٹے تھے اور اس نے کُردی شلوار پہن رکھی تھی۔‘‘

دوسرے نے کہا: ’’پہلے روز اس کی گردن میں ایک عربی چفیہ تھا۔ اس کی آواز کیا ہی دلنشین تھی۔ وہ ہمارے سامنے ذاکری کرتا اور ہمارے حوصلے بڑھاتا تھا۔۔۔‘‘

روح میرے بدن سے خارج ہونے لگی تھی۔ سر گھوم رہا تھا۔ میں نے تھوک نگلا۔ یہ تو ابراہیم کی نشانیاں بتا رہے تھے۔

میں بے چین ہو کر بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ میں آنکھیں پھاڑے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا: ’’تم آغا ابرام کی بات کر رہے ہو نا؟ اب وہ کہاں ہے؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’ہاں، شاید کیونکہ ایک دو پرانے دوست اسے آغا ابراہیم کہہ کر ہی بلاتے تھے۔‘‘

میں نے دوبارہ اونچی آواز سے پوچھا: ’’اب وہ کہاں ہے؟‘‘

ان میں سے ایک نے بتایا: ’’آخری لمحات تک جب تک کہ عراقی فوجی ہم پر آگ برسا رہے تھے، وہ زندہ تھا۔ اس کے بعد اس نے ہم سے کہا تھا: ’’عراق اپنے فوجیوں کو پیچھے لے گیا ہے۔ حتماً وہ زیادہ سنگین اسلحہ لے کر آئیں گے۔ تم لوگوں میں اگر ہمت ہے تو اس جگہ کی اطراف ابھی خالی ہیں، تم لوگ پیچھے واپس چلے جاؤ۔‘‘ اس کے بعد وہ خود زخمیوں کی خبرگیری کرنے کے لیے آگے نکل گیا۔ اور ہم پیچھے پلٹ آئے۔

دوسرا کہنے لگا: ’’میں نے اسے عراقیوں کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھا تھا۔ وہیں پہلے دھماکوں کے ساتھ ہی وہ زمین پر گر پڑا تھا۔‘‘

بے اختیار میرا بدن سست ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میرے شانے مسلسل ہل رہے تھے۔ میرے لیے اپنے آپ پر قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے اپنا سر زمین پر رکھا اور رونے لگا۔ ابراہیم کے ساتھ گزرے تمام واقعات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔ اکھاڑے کے دنگل سے لے کر گیلان غرب تک۔۔۔

بارود کی شدید بو اور دھماکوں کی آواز مخلوط ہو گئی تھی۔ میں مورچے کے کنارے چلا گیا۔ میں خندق کی طرف جانا چاہ رہا تھا کہ ایک جوان میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: ’’کیا کر رہے ہو؟ تمہارے جانے سے ابراہیم واپس تو نہیں آ جائے گا۔ دیکھ نہیں رہے کیسی آگ برسا رہے ہیں عراقی؟‘‘

اس رات ہم سب کو فکہ سے نکال کر پیچھے کی طرف واپس لے جایا گیا۔ سب جوانوں کی میرے جیسی کیفیت تھی۔ ہم میں سے بہتوں کے دوست عراقی سرزمین پر رہ گئے تھے۔ جب ہم دوکوہہ[2] پہنچے تو حاج صادق آہنگران کی آواز گونج رہی تھی:

ای از سفر برگشتگان

اے سفر سے پلٹنے والو

کُو شهیدانتان ، کُو شهیدانتان

تمہارے شہید کہاں ہیں، تمہارے شہید کہاں ہیں

جوانوں کے رونے کی آواز بلند ہونے لگی۔ ابراہیم کی شہادت اور اس کے مفقود ہو جانے کی خبر بہت جلد سب جوانوں میں پھیل چکی تھی۔

ایک مجاہد جو اپنے بیٹے کےساتھ محاذ پر تھا، میرے پاس آ کر بے قراری سے کہنے لگا: ’’ہم سب کو ابراہیم کا دکھ ہے۔ خدا کی قسم اگر میرا اپنا بیٹا شہید ہو جاتا تو مجھے اتنا دکھ نہ ہوتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ ابراہیم کیسا عظیم انسان تھا۔‘‘

اگلے دن ڈویژن کے  سب جوانوں کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ ہم بھی تہران آ گئے۔ ابراہیم کی شہادت کی خبر دینے کی کسی میں ہمت نہ تھی، لیکن چند دنوں میں اس کے مفقود ہو جانے کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔

مظلومیت کی انتہا
[مہدی رمضانی]

اگرچہ میری عمر زیادہ نہیں تھی مگر خدا کا لطف اور عنایت تھی کہ کمیل بٹالین میں اس کے بہترین بندوں کے ساتھ اپنی زندگی کے کچھ لمحات گزار سکوں۔

جس رات حملہ ہوا تو ہم لوگ تیسری خندق تک پہنچ چکے تھے۔ یہ خندق چھوٹی اور تقریباً ایک میٹر تک گہری تھی۔ جبکہ دوسری خندق ایسی نہ تھی بلکہ وہ اس سے زیادہ بڑی اور رکاوٹوں سے بھری ہوئی تھی۔

اس رات سبھی جوان دوسری خندق کی طرف واپس آ گئے تھے۔ یہ خندق بعد میں ’’کمیل خندق‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ میں نے بھی دوسرے جوانوں کے ساتھ اس خندق میں پانچ دن گزارے تھے۔

اگلی صبح عراقیوں کے نشانہ باز ہر حرکت کرنے والی چیز کا نشانہ لے رہے تھے۔ وہ محاصرے کے دن ہماری زندگی کا عجیب دورانیہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ابراہیم ہادی اپنے جسم کی مضبوطی اور جسمانی قوت کے سبب خندق میں ڈٹا رہا تھا۔ ہماری بٹالین کے  کمانڈر اور ان کے نائب شہید اور زخمی ہو چکے تھے۔ اب فقط ابراہیم ہی تھا جو تمام جوانوں کی مدیریت کر رہا تھا۔

اس نے سب جوانوں کو تین تین کی ٹولی میں تقسیم کر دیا اور ہر ٹولی کو خندق میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایک ایک نقطے پر ٹھہرا دیا۔ ہر ٹولی میں سے ایک شخص خندق کی منڈیر پر تھا اور حالات پر نظر رکھے ہوئے تھا اور دو افراد خندق میں اس کے ساتھ کھڑے تھے۔

خندق کے آخر پر تھوڑی سی ٹیڑھ تھی۔ ابراہیم اور کچھ دوسرے جوانوں نے مل کر شہداء کو وہاں منتقل کر دیا تا کہ جوانوں کی نظر سے دور رہیں۔ زخمیوں کو بھی وہ خندق کے ایک کنارے پر لے گیا تاکہ وہ فائرنگ کی زد میں نہ آ جائیں۔

ابراہم ان دنوں اذان کی آواز سے جوانوں کو نماز کے لیے آمادہ کیا کرتا تھا۔ ان سخت حالات میں بھی ہم تینوں وقت[3] نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔ ابراہیم اس کام سے ہمارا حوصلہ بڑھاتا اور سب جوانوں کے دلوں میں آئندہ کے لیے امید بھر دیتا۔

حملہ شروع ہونے کے دو دن بعد حملے کے دوسرے مرحلے کے ناکام ہوتے ہی اکثر جوانوں کی کوشش تیز ہونے لگی۔ ہم چاہتے تھے کہ اس بند جگہ سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔ ہمارا آخری ٹیلیفونک رابطہ جو ڈویژن کے ساتھ ہوا اس میں کمانڈر حاجی پور (شہید) نے نہایت اضطراب کے عالم میں کہا تھا: ’’ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ جیسے بھی ممکن ہو تم لوگ پیچھے واپس آ جاؤ۔‘‘

جمعرات 10 فروری کاروز تھا کہ ہمارے سامنے اور پشت سے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی آواز زیادہ ہونے لگی۔ جوانوں نے خندق کی دیواروں کو کھود کر سیڑھیاں بنا لیں۔ کچھ جوانوں نے سمجھا کہ ہمارے لیے کمک آ گئی ہے۔ لیکن نہیں، ہمارا محاصرہ زیادہ تنگ کر دیا گیا تھا۔ عراقی کمانڈوز ٹینکوں کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ اس دشت میں فقط اس خندق کے اندر ہی ہماری فوجی جوان باقی بچے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جعفر طاہری (شہید) نامی ایک سید نوجوان نے آر پی جی ہاتھ میں پکڑی اور خندق کی دیوار پر بنائی گئی سیڑھیوں سے اوپر جا کر ایک مارٹر گولہ دشمن کے ٹینک پر داغ دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ دشمن تھوڑا پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے بعد دوسرے جوانوں نے بھی مسلسل فائرنگ کر کے کچھ عراقی کمانڈوز کو ہلاک کر دیا اور کچھ فوجیوں کو جو بہت قریب آ چکے تھے، اسیر کر لیا۔

ان سخت حالات میں پانچ قیدیوں کا بھی ہم میں اضافہ ہو چکا تھا۔ کھانے اور پانی کی عدم موجودگی نے ہمارا دماغ چکرا کر رکھ دیا تھا۔ ہمارے اکثر جوان خستگی اور بے جان حالت میں خندق میں اِدھر اُدھر پڑے ہوئے تھے۔

جو ٹینک خندق سے دور ہو چکے تھے، انہوں نے اپنے لاؤڈ سپیکرز آن کر لیے۔ ایک شخص جو منافقین میں سے معلوم ہوتا تھا، کہنے لگا: ’’ایرانیو، ہتھیار ڈال دو۔ ہمیں تم سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ٹھنڈا پانی اور کھانا تمہارے لیے تیار ہے۔ آ جاؤ۔۔‘‘ اور اس طرح وہ ہمیں اسیر ہو جانے کی ترغیب دے رہا تھا۔

بھوک اور پیاس نے سب کا برا حال کر دیا تھا۔ کچھ جوان کہنے لگے: ’’آؤ، ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ ہم نے اپنا وظیفہ انجام دے دیا۔ اب ہماری نجات کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔‘‘

انہی بسیجی جوانوں میں سے ایک نے جواب دیا: ’’اگر آج ہم اسیر ہو جاتے ہیں، عراقی ٹی وی پر ہمارے چہرے دکھا دیے جاتے ہیں اور امام ہمیں دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں تو پھر ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم امام کے دل کو خوش کرنے کے لیے نہیں آئے؟‘‘

اس بات کا یہ اثر ہوا کہ کسی نے بھی ہتھیار نہ ڈالے۔ جب ابراہیم جوانوں کے ارادے کو سمجھ گیا تو خوش ہو کر کہنے لگا: ’’پس ہمارے پاس جتنا بھی آذوقہ اور اسلحہ ہے اسے جمع کریں اور سب جوانوں میں تقسیم کر دیں۔‘‘

ہمارے پاس جتنا بھی کھانا پانی بچا تھا سب ابراہیم کے حوالے کر دیا۔ اس نے ہر پانچ افراد کو ایک بوتل پانی کی اور تھوڑا سا کھانا دیا۔ ان پانچ عراقی اسیروں کو بھی ایک بوتل پانی کی دی۔ بعض جوان اس بات پر ناراض ہو گئے لیکن ابراہیم نے کہا: ’’یہ ہمارے مہمان ہیں۔‘‘

اسلحہ جمع کر کے ہم نے ان جوانوں کے حوالے کر دیا جو زخمی نہیں تھے تا کہ وہ اچھے طریقے سے حفاظت کر سکیں۔

اگلے دن 11 فروری کی سحر کے وقت دشمن کے ٹینک تھوڑا پیچھے ہٹ گئے۔ کچھ جوانوں نے اس فرصت سے فائدہ اٹھایا اور کچھ کچھ افراد کی ٹولیاں بنا کر پیچھے کی طرف واپس پلٹ آئے لیکن ان میں سے بھی بعض غلطی سے بارودی سرنگوں والے میدان میں جا پھنسے اور شہید ہو گئے۔

کوئی ایک گھنٹہ گزرا ہو گا کہ دشمن کی طرف سے حملوں میں شدت آ گئی۔ اب کسی کے بس میں کچھ بھی نہ رہا تھا۔

11 فروری کی سہ پہر کو دشمن کے کمانڈوز خندق پر شدید گولہ باری کے بعد ہم تک پہنچ ہی گئے۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ عراقی ٹینکوں کی نالیں ہمارے سروں پر خندق کے اوپر سے جھانک رہی تھیں۔

ایک عراقی افسر، ان سیڑھیوں سے نیچے خندق میں اترا جو ہمارے جوانوں نے خندق کی دیوار کے ساتھ بنا دی تھیں۔ ایک فوجی بھی اس کے پیچھے تھا۔ اس نے ہمارے پہلے زخمی کو لات ماری۔ جب اس معلوم ہو گیا کہ وہ زندہ ہے تو اس نے فوجی سے کہا کہ اسے گولی مار دو۔ فوجی نے اسے گولی مار کر شہید کر دیا۔ اگلا زخمی ایک معصوم نوجوان تھا جس کے منہ پر اس بعثی افسر نے لات ماری اور اپنے فوجی سے کہا کہ اسے بھی گولی مار دو مگر اس نے انکار کر دیا اور گولی نہ ماری۔ عراقی افسر ہماری موجودگی میں اس پر چلّایا لیکن فوجی واپس چلا گیا اور گولی نہ چلائی۔ افسر نے اپنا پستول نکالا اور اس کے چہرے پر گولی مار دی۔ وہ عراقی فوجی بھی زمین پر ہمارے شہداء کے ساتھ گر گیا۔ عراقی افسر جلدی خندق سے باہر نکل گیا اور اپنے فوجیوں کو فائرنگ کا حکم دے دیا۔

کچھ لمحوں بعد جب عراقی سمجھ گئے کہ خندق میں موجود تمام افراد شہید ہو چکے ہیں تو وہ واپس لوٹ گئے۔ اب گولیوں کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ سورج غروب ہوتے ہی فکہ پر ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا۔

میں اور کچھ اور افراد جو شہدا کے درمیان زندہ بچ گئے تھے، اپنی جگہ سے اٹھے۔ اِدھر اُدھر دیکھا، وہاں کوئی نہ تھا۔ زندہ بچ جانے والوں میں سے اکثر زخمی تھے۔ جب ہم نے چلنا شروع کیا تو مکمل تاریکی چھا چکی تھی اور اجالا ہونے سے پہلے پہلے اپنے آپ کو اپنی فوج تک پہنچا دیا۔

قید
[امیر منجر]

ابراہیم کی گمشدگی کی خبر کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ میں ظہر سے پہلے مسجد کے سامنے آیا۔ جعفر جنگروی بھی وہاں تھا۔ وہ بہت زیادہ پریشان اور رنجیدہ تھا۔ کوئی بھی اس خبر پر یقین نہیں کر رہا تھا۔ مصطفیٰ بھی پہنچ گیا تھا۔ ہم ابراہیم کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اچانک محمد آغا تراشکار آیا اور سب سے بے خبر کہنے لگا: ’’دوستو، تم میں سے کوئی ابراہیم ہادی کو جانتا ہے؟!‘‘

ہم اچانک خاموش ہو گئے اور حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ہم نے اس سے پوچھا: ’’کیا ہوا؟! کیا کہہ رہے ہو؟!‘‘

وہ بے چارہ بہت گھبرا گیا۔ کہنے لگا: ’’کچھ نہیں یار، میرا سالا کچھ ماہ پہلے گم ہو گیا تھا۔ میں ہر روز رات کو بارہ بجے بغداد ریڈیو سنتا ہوں۔ عراقی حکومت رات گئے قیدیوں کے ناموں کا اعلان کرتی ہے۔ کل رات کو میں ریڈیو سن رہا تھا کہ اچانک ریڈیو کے اینکر نے جو فارسی زبان میں بات کر رہا تھا، پروگرام کو ختم کیا اور موسیقی نشر کی۔ اس کے بعد خوش ہو کر اعلان کیا: ’’اس حملے میں مغربی محاذ پر مصروفِ جنگ ایرانی کمانڈر ابراہیم ہادی بھی ہماری فوج کی قید میں آ چکا ہے۔‘‘

ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ابراہیم کے زندہ ہونے کی خبر سن کر ہم سب بہت ہی خوش ہوئے۔

سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ ہاتھ پاؤں قابو میں نہیں رہے تھے۔ جلدی سے دوسرے دوستوں کی طرف بھاگے۔ حاج علی صادقی نے ریڈ کراس کو خط لکھ دیا۔ رضا ہوریار ابراہیم کے گھر گیا اور اس کے بھائی کو خبر دی۔ سب دوست ابراہیم کے زندہ ہونے سے بہت زیادہ خوش تھے۔

*****

کچھ دنوں بعد ریڈ کراس کی طرف سے خط کا جواب موصول ہوا۔ جواب میں لکھا تھا: ’’میں ابراہیم ہادی، عمر پندرہ سال، نجف آباد اصفہان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ آپ لوگوں نے بھی عراقیوں کی طرح غلطی سے مجھے مغربی محاذ پر مصروف ایک کمانڈر کا ہم نام ہونے کی وجہ سے وہی کمانڈر سمجھ لیا ہے۔‘‘

اگرچہ خط کا جواب آ چکا تھا مگر پھر بھی بہت سے دوست قیدیوں کی آزادی تک ابراہیم کے لوٹ آنے کے منتظر رہے۔

انجمن کے پروگراموں میں جب بھی ابراہیم کا نام آتا تو سب دوست حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مصائب پڑھتے اور ان کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگتیں۔


[1] ایران کے انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کا دن۔

[2] تہران میں ایک علاقے کا نام۔

[3] اہل تشیع عام طور پر ظہر کے وقت ظہرین اور مغرب کے وقت مغربین کی نمازیں اکٹھی ہی جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔