فن پہلوانی
[شہیدؒ کے کچھ دوست]
ہائی سکول میں اس کی تعلیم کے اوائل کا زمانہ تھا جب وہ فن پہلوانی سے آشنا ہوا۔ رات کو وہ حاج حسن کے اکھاڑے میں جایا کرتا تھا۔
حاج حسن توکل جو حاج حسن نجار کے نام سے معروف تھے، ایک زاہد اور متقی عارف تھے۔ ان کا اکھاڑا ابوریحان ہائی سکول کے نزدیک ہی تھا۔ ابراہیم بھی اس کھیل اور معنویت والے ماحول کا ایک کھلاڑی تھا۔
حاج حسن کسرت کو قرآن مجید کی ایک یا چند آیات کی تلاوت سے شروع کرتے۔ اس کے بعد ایک حدیث اور اس کا ترجمہ بیان کرتے۔ اکثر راتوں میں وہ ابراہیم کو اکھاڑے میں بھیج دیتے جو عموماً قرآن مجید کا ایک سورہ یا دعائے توسل اور یا پھر اہل بیتؑ کی شان میں کچھ اشعار پڑھ کر اپنے مرشد کی مدد کرتا۔
اس اکھاڑے کی سرگرمیوں میں سے ایک اہم سرگرمی یہ تھی کہ کسرت کے دوران جیسے ہی اذانِ مغرب ہوتی تو تمام جوان اپنی کسرت بند کرتے اور وہیں اکھاڑے کے دنگل ہی میں حاج حسن کی اقتداءمیں نماز باجماعت پڑھتے۔
حاج حسن انقلاب سے پہلے کے ان حالات میں کھیل اور ورزش کے ساتھ ساتھ جوانوں کو ایمان و اخلاق کا درس بھی دیتے تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار جب کھیل کے بعد سب جوان اپنے اپنے کپڑے بدل ا ور ایک دوسرے کو خداحافظ کہہ رہے تھے تو اچانک ایک مرد کافی گھبرایا ہوا اکھاڑے میں داخل ہوا۔ اس کے پہلو میں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔
اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور آواز لرز رہی تھی: ’’حاج حسن، میری مدد کیجیے۔ میرا بچہ مریض ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ یہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ آپ کی پھونک میں شفا ہے۔ خدا کا واسطہ اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپ کو خدا کا واسطہ۔۔۔‘‘ اس کے بعد وہ رونا شروع ہو گیا۔
ابراہیم کھڑا ہو گیا اور کہا: ’’سب اپنے کپڑے تبدیل کریں اور دنگل میں آ جائیں۔‘‘
وہ خود بھی دنگل کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ اس رات ابراہیم اتنے وقت تک جوانوں کے ساتھ دعائے توسل پڑھتا رہا جتنے وقت میں ان کی کسرت کا ایک راؤنڈ مکمل ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد دل کی گہرائی سے اس بچے کے لیے دعا کی۔ وہ مرد بھی اپنے بچے کے ساتھ اکھاڑے کی ایک طرف بیٹھا ہوا رو رہا تھا۔
دو ہفتے بعد ایک دن حاج حسن کسرت کے بعد کہنے لگے: ’’جوانو! جمعے کے دن تم سب کو دن کے کھانے کی دعوت ہے۔‘‘
میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کہاں؟‘‘
کہنے لگے: ’’وہ بے چارہ شخص جو اس دن اپنے بیمار بچے کو لایا تھا، اسی نے دعوت کی ہے۔‘‘ اس کے بعد حاج حسن نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’الحمد للہ اس کا بچہ شفایاب ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ بچے کو اب کوئی بیماری نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس نے دن کے کھانے پر سب کو بلایا ہے۔‘‘
میں نے پلٹ کر ابراہیم کو دیکھا۔ وہ جانے کے لیے اس انداز میں تیار ہو رہا تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ لیکن مجھے شک و شبہ نہیں رہا تھا کہ یہ اسی دعائے توسل کی قبولیت کا نتیجہ تھا جو اس دن ابراہیم نے پورے خضوع و خشوع سے اس بچے کے شفایابی کے لیے پڑھی تھی۔
*****
کئی دفعہ میں نے دیکھا کہ ابراہیم ایسے جوانوں کےساتھ بھی دوستی کر لیتا تھا جو نہ تو ظاہراً مذہبی لگتے تھےا ور نہ ہی دینی مسائل میں انہیں کوئی دلچسپی ہوتی تھی۔ وہ انہیں کسرت کی طرف لے آتا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں مسجد اور مذہبی انجمنوں کی راہ دکھا دیتا۔
ان نوجوانوں میں سے ایک، دوسروں کی نسبت کافی بُرا تھا۔ ہمیشہ شراب اور برے کاموں کے بارے میں باتیں کرتا رہتا۔ دین نام کی کسی چیز کو نہیں جانتا تھا۔ نماز، روزہ جیسی کسی بھی چیز کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا۔ حتی کہ یہاں تک اعتراف کرتا کہ وہ آج تک کسی بھی مذہبی محفل یا انجمن میں نہیں گیا۔ میں نے ابراہیم سے کہا: ’’ابرام، یہ کون لوگ ہیں جنہیں تم اپنے ساتھ لے آتے ہو؟‘‘ اس نے حیران ہو کر پوچھا: ’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘
میں نے کہا: ’’کل رات یہ جوان تمہارے پیچھے پیچھے انجمن میں داخل ہوا۔ اس کے بعد میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ حاجی آغا اپنی تقریر کے دوران امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور یزید کے ظلم و ستم بیان کر رہے تھے۔ یہ جوان بڑے بھونڈے طریقے سے غصے میں ساری گفتگو سن رہا تھا۔ جب بتیاں بجھا دی گئیں تو آنسو بجھانے کی بجائے یزید کو لگاتار گالیاں دینے لگا۔‘‘
ابراہیم حیران ہو کر سن رہا تھا، اچانک ہنسنے لگا: ’’کوئی بات نہیں۔ یہ جوان ابھی تک کسی مذہبی انجمن میں نہیں گیا ہے اور اس نے عزاداری میں آنسو نہیں بہائے ہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ اب یہ امام حسین علیہ السلام کی رفاقت میں آ گیا ہے تو سدھر جائے گا۔ ہم بھی اگر ان جوانوں کو مذہبی جوان بنا دیں تو سمجھو ہم نے بہت بڑا کمال کر دیا۔‘‘
اس جوان کے ساتھ ابراہیم کی دوستی نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا کہ اس نے تمام برے کام چھوڑ دیےا ور اکھاڑے کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگا۔ کچھ ماہ بعد عید کے دنوں میں مَیں نے اس جوان کو دیکھا کہ کسرت کے بعد اس نے مٹھائی کا ایک ٹوکرا خریدا اور جوانوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد کہنے لگا: ’’دوستو! میں تم سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، خصوصاً آغا ابرام کا۔ خدا کی قسم، تم سب دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اگر میں آپ لوگوں سے آشنا نہ ہوتا تو نہیں معلوم اب کہاں ہوتا۔۔۔؟‘‘
ہم بھی حیران ہو کر اسے دیکھ رہے تھے۔ جب ہم اکھاڑے سے باہر نکلے تو ابراہیم کے ان کارناموں کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
وہ کتنی خوبصورتی سے جوانوں کو ایک ایک کر کے کھیل کی طرف راغب کرتا اور پھر انہیں آہستہ آہستہ مسجد و انجمن کی طرف کھینچ لاتا اور بقول اس کے اپنے، وہ انہیں امام حسین علیہ السلام کے دامن میں لا پھینکتا۔
مجھے پیغمبر اکرم ﷺ کی وہ حدیث یاد آ گئی جو انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی تھی: ’’اے علی! اگر ایک انسان بھی تمہارے وسیلے سے ہدایت یافتہ ہو جاتا ہے تو وہ مشرق و مغرب میں پائی جانے والی ان تمام چیزوں سے زیادہ افضل ہے جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔‘‘[6]
*****
اس اکھاڑے میں انجام دی جانے والی دیگر سرگرمیوں میں سے ایک خاص سرگرمی یہ تھی کہ جوان ایک گروہ کی شکل میں دوسرے اکھاڑوں میں جاتے تھے اور وہاں جا کر کھیلتے تھے۔ ماہِ رمضان المبارک کی ایک رات ہم کرج[7] کے ایک اکھاڑے میں گئے۔
مجھے وہ رات کبھی بھی نہیں بھولتی۔ ابراہیم شعر پڑھتا، دعا کرتا اور کھیلتا ہی چلا جا رہا تھا۔ کافی دیر سے وہ دنگل کے کنارے ڈنڈ پیل رہا تھا۔ اکھاڑے میں اترنے والے جوان مسلسل تبدیل ہو رہے تھے مگر ابراہیم بغیر کسی وقفے کے ڈنڈ پیلے جا رہا تھا۔اصلاً کسی کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں تھی۔
چبوترے پر ایک معمر شخص بیٹھا سب جوانوں کا کھیل دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے پریشانی سے پوچھا: ’’یہ جوان کون ہے؟‘‘ میں نے حیران ہو کرالٹا سوال کر دیا: ’’کیوں، کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’جب سے میں اکھاڑے میں داخل ہوا ہوں یہ مسلسل ڈنڈ پیل رہا ہے۔ میں تسبیح سے اس کے ڈنڈ گنتا رہا۔ اب تک سات دفعہ میں اپنی یہ تسبیح ختم کر چکا ہوں یعنی سات سو دفعہ یہ ڈنڈ۔ خدا کے لیے اسے اوپر لے آؤ، اس کی حالت خراب ہو جائے گی۔‘‘ جب کھیل ختم ہوا تو ابراہیم کو اصلاً تھکن کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ بالکل لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ چار گھنٹے سے ڈنڈ پیلتا رہا تھا۔
البتہ ابراہیم مضبوط ہونے کے لیے ایسے کام انجام دیتا رہتا تھا۔وہ ہمیشہ کہتا: ’’خدا اور بندوں کی خدمت کرنے کے لیے ہمارا جسم مضبوط ہونا چاہیے۔‘‘ وہ اکثر دعا کرتا: ’’خدایا! اپنی خدمت کے لیے میرے جسم کو قوت عطا فرما۔‘‘
انہی دنوں ابراہیم اپنے لیے کافی بھاری گُرزوں[8] کی ایک جوڑی خرید لایا۔ اس جوڑی کا کافی چرچا ہوا اور لوگوں میں بہت مشہور ہوئی۔ لیکن اس کے بعد کبھی بھی اس نے جوانوں کے سامنے ان گرزوں کے ساتھ کوئی ورزش نہ کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسے کام انسان میں غرور پیدا کر دیتے ہیں۔
وہ کہتا تھا: ’’لوگ اس بات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ کون کس سے زیادہ طاقتور ہے۔ اگر میں اوروں کے سامنے اس قسم کی سخت ورزش کا مظاہرہ کروں گا تو اپنے دوستوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن جاؤں گا۔ ایسا لگے گا کہ میں اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز ظاہر کرنا چاہ رہا ہوں اور یہ بات صحیح نہیں ہے۔‘‘
اس کے بعد جب وہ کھیل کا نگران مقرر کر دیا گیا تھا تو جب بھی دیکھتا کہ کوئی کھلاڑی تھک گیا ہے یا صحیح طریقے سے کھیل نہیں پا رہا تو وہ فوراً کھیل کا انداز تبدیل کر دیتا۔
لیکن ایک بار ابراہیم نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ وہ اس وقت جب کشتی کے عالمی چیمپئن اور حاج حسن کے ارادتمند سید حسین طحامی حاج حسن کے اکھاڑے میں تشریف لائے اور اکھاڑے کے جوانوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔
پہلوان
[حسین اللہ کرم]
کشتی کے عالمی چیمپئن سید حسین طحامی حاج حسن کے اکھاڑے میں تشریف لائے اور اکھاڑے کے جوانوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔
اگرچہ سید کو چیمپئن شپ کے مقابلوں میں شرکت کیے کافی عرصہ ہو چکا تھا لیکن ان کا بدن ابھی تک کافی کسرتی اور مضبوط تھا۔ کھیل ختم ہونے کے بعد وہ حاج حسن کو مخاطب کر کے کہنے لگے: ’’حاجی، کوئی ہے جو میرے ساتھ کشتی لڑے؟‘‘
حاج حسن نے جوانوں پر ایک نگاہ ڈالی اور کہا: ’’ابراہیم!‘‘ اس کے بعد انہوں نے ابراہیم کو اکھاڑے میں اترنے کا اشارہ کیا۔
کشتی میں عموماً جو حریف زمین پر گر جائےیا چِت ہو جائے وہ ہار جاتا ہے۔ کشتی شروع ہو گئی۔ ہم سب تماشا دیکھنے لگے۔ دونوں پہلوان کافی دیر تک ایک دوسرے میں گتھے رہے لیکن کوئی بھی چت نہیں ہو رہا تھا۔
دونوں پہلوان کافی دباؤ میں آ گئے تھے، لیکن کوئی بھی دوسرے کو پچھاڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ یہ کشتی بغیر ہار جیت کے ختم ہو گئی۔
کشتی کے بعد سید حسین زور زور سے کہنے لگے: ’’بارک اللہ، بارک اللہ[9]، کیا بہادر جوان ہو۔ ماشاء اللہ پہلوان!‘‘
*****
کھیل ختم ہو گیا تھا۔ حاج حسن ٹک ٹک ابراہیم کی چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ابراہیم نے آگے بڑھ کر حیرانی سے پوچھا: ’’کیا ہوا، حاجی؟‘‘
حاج حسن کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے: ’’اسی تہران میں پرانے وقتوں میں دو پہلوان ہوا کرتے تھے: حاج سید حسن رزّاز اور حاج صادق بلور فروش۔ وہ آپس میں کافی گہرے دوست تھے۔ کشتی میں بھی وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نہ آتے تھے، لیکن اس سے بھی اہم بات ان میں یہ تھی کہ وہ خدا کے مخلص بندے تھے۔ ہمیشہ کھیل شروع کرنے سے پہلے وہ قرآن کی چند آیات تلاوت کرتے اور روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا مختصر سا مصائب پڑھتے۔ ان کی پھونک سے مریض شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’ابراہیم! میں تمہیں انہی جیسا ایک پہلوان سمجھتا ہوں۔‘‘
ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’نہیں، حاجی، وہ کہاں اور ہم کہاں!‘‘
حاج حسن جب ابراہیم کی اس انداز میں تعریف کر رہے تھے تو بعض جوانوں کو اچھا نہ لگا۔
اگلے روز تہران کے ایک اکھاڑے سے پانچ پہلوان ہمارے اکھاڑے میں آئے۔ طے پایا کہ ورزش کے بعد وہ ہمارے جوانوں کے ساتھ کشتی لڑیں گے۔ سب اس چیز پر آمادہ ہو گئے کہ حاج حسن کشتی کے ریفری ہوں گے۔ ورزش کے بعد کشتیاں شروع ہو گئیں۔
کل چار مقابلے ہوئے۔ دو مقابلے ہمارے جوانوں نے جیتے جبکہ دو مقابلے مہمان پہلوانوں نے۔ لیکن آخری کشتی میں آپس میں تھوڑی سی گرما گرمی ہو گئی۔ ان لوگوں نے حاج حسن کے سامنےہلڑبازی شروع کر دی جس کی وجہ سے حاج حسن کافی رنجیدہ ہو گئے۔
معلوم ہوا کہ آخری کشتی ابراہیم اور مہمان آئے ہوئے ایک جوان کے درمیان طے پائی ہے۔ وہ لوگ ابراہیم کو اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں پورا یقین تھا کہ وہ لوگ کشتی ہار جائیں گے اس واسطے انہوں نے غل غپاڑہ شروع کر دیا تا کہ اگر ہار جائیں تو سارا قصور ریفری کے کھاتے میں ڈالیں۔
سب غصے میں تھے۔ چند لمحے نہ گزرے تھے کہ ابراہیم اکھاڑے میں کود پڑا۔ اس نے مسکراتے ہوئے تمام مہمان جوانوں سے ہاتھ ملایا اور آرام سے اکھاڑے سے نکل کر ہماری طرف واپس آ گیا۔ وہ کہنے لگا: ’’میں کشتی نہیں لڑوں گا۔‘‘
ہم سب نے حیرت سےپوچھا: ’’کیوں؟‘‘
تھوڑی دیر خاموش رہ کر اس نے پرسکون انداز میں جواب دیا: ’’ہماری دوستی اور رفاقت ان کاموں اور باتوں سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔‘‘
اس کے بعد اس نے حاج حسن کا ہاتھ چوما اور ایک صلوات کے ذریعے کشتی کے مقابلے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
اگرچہ اس دن ہم میں سے کوئی بھی نہ جیتا تھا نہ ہارا تھا مگر حقیقی فاتح ابراہیم تھا۔ جب ہم کپڑے تبدیل کر کے جانے لگے تو حاج حسن نے ہم سب کو بلایا اور کہا: ’’اب تم لوگ سمجھ گئے کہ میں نے ابراہیم کو کیوں پہلوان کہا تھا؟‘‘
ہم سب خاموش تھے۔ حاج حسن نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’دیکھو، میرے جوانو! پہلوانی یہ ہے جو آج تم لوگوں نے دیکھی ہے۔ ابراہیم نے اپنے نفس کے ساتھ کشتی لڑی اور جیت گیا۔ ابراہیم نے خدا کی خاطر ان سے کشتی لڑنے سے انکار کر دیا تا کہ اس طرح وہ کینے اور جھگڑے کا راستہ روک سکے۔ جوانو! حقیقی پہلوانی یہی ہوتی ہے جو آج تم نے دیکھی ہے۔‘‘
*****
ابراہیم کی کامیابی کی داستانیں اسی طرح جاری تھیں کہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو گیا۔ اس کے بعد اکثر جوان انقلاب کے مسائل میں الجھ گئے اور پہلوانی کے کھیل میں ان کی شرکت کم ہونے لگی۔
ایک دن ابراہیم نے تجویز پیش کی کہ صبح اکھاڑے میں سب جمع ہو کر نماز فجر باجماعت پڑھا کریں اس کے بعد ورزش کر لیا کریں۔ سب نے اس تجویز سے اتفاق کر لیا۔
اس کے بعد ہم سب ہر روز صبح کے وقت اذان کے لیے اکھاڑے میں جمع ہو جاتے، نماز فجر باجماعت پڑھتے اور ورزش شروع کر دیتے۔ اس کے بعد مختصر سا ناشتہ کرتے اور پھر اپنے اپنے کام پرنکل جاتے۔
ابراہیم اس صورتحال سے بہت ہی خوش تھا، کیونکہ اس طرح ایک طرف تو ورزش کا سلسلہ منقطع نہ ہوا تھا اور دوسری طرف سب لوگ فجر کی نماز باجماعت پڑھ لیتے تھے۔
وہ ہمیشہ پیغمبر اکرمﷺ کی یہ حدیث بیان کرتا رہتا: ’’اگر میں فجر کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھ لوں تو مجھے صبح تک شب بیداری کرنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘
عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کے شروع ہوتے ہی اکھاڑے کی رونق بھی ماند پڑ گئی تھی کیونکہ اکثر جوان محاذ پر چلے گئے تھے۔
ابراہیم بھی اب کم ہی تہران آتا تھا۔ ایک بار آیا تو اپنا سارا ورزشی سامان اپنے ساتھ لے گیا اور وہیں محاذ والے علاقوں میں پہلوانی کا اکھاڑا جما لیا۔
حاج حسن توکل کا اکھاڑا حقیقی پہلوانوں کی تربیت کے حوالے سے کافی مشہور تھا۔ابراہیم کے علاوہ بھی وہاں سے تربیت پانے والے بہت سے جوان ایسے تھے جنہوں نے خداوند کریم کی بارگاہ میں اپنی پہلوانی کو ثابت کیا تھا۔ انہوں نے اپنے خون کے ذریعے اپنے ایمان کو محفوظ کیا۔ دراصل حقیقی پہلوان یہی لوگ ہیں۔
دفاع مقدس (ایران عراق کےمابین لڑی جانے والی آٹھ سالہ جنگ) کے اوائل ہی میں شہید حسن شہابی (اکھاڑے کے گرو)، شہید اصغر رنجبران (عمار بریگیڈ کے انچارج)، سید صالحی، محمد شاہرودی، علی خرمدل، حسن زاہدی، سید محمد سبحانی، سید جواد مجد پور، رضاپند، حمد اللہ مرادی، رضا ہوریار، مجید فریدوند، قاسم کاظمی اور ابراہیم کی شہادتوں، حاج علی نصراللہ، مصطفیٰ ہرندی، علی مقدم اور کچھ دوسرے دوستوں کی مجروحیت اور خود حاج حسن توکل کے انتقال کی وجہ سے ان کے اکھاڑے کا خوبصورت اور روحانیت بھرا دورانیہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
کچھ عرصہ بعد وہ اکھاڑا ایک رہائشی عمارت میں تبدیل ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی وہاں ہماری کشتیوں کا زمانہ فقط یادوں کا حصہ بن کر رہ گیا۔
یک نفری والی بال
[شہیدؒ کے کچھ دوست]
ہائی سکول کے ابتدائی عرصے ہی میں ابراہیم کے مضبوط بازؤوں کو دیکھ کر معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ بہت سے کھیلوں میں چیمپئن ہے۔ تفریح کے پیریڈ میں وہ ہمیشہ والیبال ہی کھیلتا تھا۔ جوانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابلے پر آنے کی ہمت نہ کر سکتا تھا۔
ایک دفعہ اس نے چھ کھلاڑیوں پر مشتمل ایک ٹیم کا اکیلے ہی مقابلہ کیا۔ اس مقابلے میں اسے تین بار گیند کو اچھالنے کی اجازت تھی۔
ہم سب اپنے کھیل کے استاد کے ساتھ مل کر اس کی جیت کا منظر دیکھ رہے تھے۔ اس کے بعد ابراہیم زیادہ تر یک نفری والیبال ہی کھیلتا تھا۔
چھٹی کے دنوں میں ہم زیادہ تر ۱۷ شہریور روڈ پر واقع فائربریگیڈ کے دفتر کے عقب میں کھیلتے تھے۔ بہت سے بڑے بڑے نامی کھلاڑی ابراہیم کے مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے۔
لیکن ابراہیم کا سب سے زیادہ یادگار مقابلہ جنگ کے دوران گیلان غرب کے شہر میں ہوا۔ وہاں والی بال کا ایک میدان تھا جہاں فوجی جوان کھیلا کرتے تھے۔
ایک دن کچھ بسوں میں کچھ سرکاری عہدیدار جنگ زدہ علاقوں کا دورہ کرنے گیلان غرب آئے۔ اس کاروان کے سربراہ محکمہ کھیل اور ورزش کے انچارج آغا داؤدی تھے۔ آغا داؤدی ہائی سکول کے زمانے میں ابراہیم کے ورزش کے استاد رہ چکے تھے اور اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ انہوں نے ابراہیم کو کھیلوں کا کچھ سامان دیا اور اسے کہا کہ جیسے چاہو اسے استعمال کر لو۔ اس کے بعد کہا: ’’ہمارےیہ دوست کھیلوں کے ہر قسم کے شعبے سے ہیں اور دورے پر آئے ہوئے ہیں۔‘‘
ابراہیم تھوڑی دیر مہمان کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کرتا اور انہیں شہر کے مختلف حصے دکھاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ والی بال کے میدان میں پہنچ گئے۔
آغا داؤدی نے کہا: ’’تہران کی والی بال ٹیم کے کچھ کھلاڑی بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے، ایک مقابلہ ہو جائے؟‘‘
سہ پہر تین بجے مقابلے کا آغاز ہو گیا۔ پانچ کھلاڑی ایک طرف تھے کہ جن میں سے تین والی بال کے منجھے ہوئے پیشہ ور کھلاڑی تھے اور دوسری طرف ابراہیم اکیلا۔ اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے کافی زیادہ تماشائی جمع ہو گئے تھے۔
ابراہیم اپنے سابقہ انداز میں ننگے پاؤں، پائنچے اوپر کیے اور بنیان پہنے ان کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا۔ وہ اتنے جاندار انداز میں کھیلا کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہوتا تھا۔
وہ مقابلہ ایک ہاف سے زیادہ نہ چل سکا اور دس پوائنٹ کی برتری سے ابراہیم کی جیت پر ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ان کھلاڑیوں نے ابراہیم کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک سادہ سا جنگجو مشاق کھلاڑیوں کی طرح کھیل بھی سکتا ہے۔
ایک دفعہ میں نے دوکوہہ کے بیرک میں مجاہدین کے سامنے ابراہیم کے والی بال کی تعریف کی۔ ایک جوان گیا اور والی بال کی گیند لے آیا۔ اس کے بعد اس نے دو ٹیمیں بنائیں اور ابراہیم کو بھی بلا لایا۔
پہلے تو ابراہیم ٹالتا رہا اور کھیلنے سے انکار کرتا رہا مگر جب ہم نے اصرار کیا تو کہنے لگا: ’’ٹھیک ہے، لیکن تم سارے ایک طرف رہو گے اور میں اکیلا مقابلہ کروں گا۔‘‘
کھیل ختم ہونے کے بعد کچھ کماندڑز کہنے لگے: ’’ہم آج تک اتنا نہ ہنسے تھے۔ ابراہیم جیسے ہی گیند کو اچھالتا تو مقابل میں کچھ کھلاڑی گیند کی طرف جاتے تو آپس میں ٹکرا جاتے اور زمین پر گر جاتے تھے۔‘‘
ابراہیم نے کافی زیادہ پوائنٹس کی برتری سے یہ مقابلہ جیت لیا۔
شرط بندی
[مہدی فریدوند، سعید صالح تاش]
تقریباً 1975 کا سال تھا۔ ایک جمعے کی صبح ہم کھیل رہے تھے۔ تین اجنبی افراد آئے اور کہنے لگے: ’’ہم مغربی تہران سے آئے ہیں۔ ابراہیم کون ہے؟‘‘
اس کے بعد کہا: ’’ہم دو سو تومان پر شرط لگاتے ہیں۔‘‘
کچھ دیر کھیل شروع ہو گیا۔ ابراہیم اکیلا اور وہ تین، لیکن اس کے باوجود وہ ابراہیم سے ہار گئے۔
اسی روز ہم شہر کے جنوبی حصے میں واقع ایک محلے میں گئے۔ وہاں ہم نے 700 تومان کی شرط باندھی۔ مقابلہ اچھا رہا اور ہم جلدی جیت گئے۔ پیسے دیتے وقت ابراہیم سمجھ گیا کہ وہ لوگ پیسے جمع کرنے کےلیے قرض لے رہے ہیں تو فوراً اس نے کہا: ’’دوستو! ایک اکیلا کھلاڑی مجھ سے مقابلہ کرے۔ اگر وہ جیت گیا تو ہم پیسے نہیں لیں گے۔ ان میں سے ایک آگے بڑھا اور کھیل شروع ہو گیا۔ ابراہیم بہت برا کھیلا۔ اتنا برا کہ اس کا حریف مقابلہ لے اڑا۔‘‘
وہ سارے خوشی خوشی وہاں سے رخصت ہو گئے۔ میں سخت غصے میں تھا اور ابراہیم سے کہا: ’’آغا ابرام، اتنا برا کیوں کھیلے؟‘‘ اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا: ’’میں چاہتا تھا کہ ان بے چاروں کی سبکی نہ ہو۔ ان سب کے پاس ملا کر بھی سو تومان نہیں تھے۔‘‘
اگلے ہفتے دوبارہ وہی تہرانی جوان اپنے دو اور دوستوں کو لے آئے۔ 500 تومان شرط لگا کر وہ پانچ ایک طرف ہو گئے اور ابراہیم اکیلا ایک طرف۔ ابراہیم نے اپنی شلوار کے پائنچے اوپر کیے اور ننگے پاؤں کھیلنے لگا۔وہ گیند کو ایسے شاٹ لگاتا کہ کوئی بھی اس کی گیند کو نہ اٹھا سکتا تھا۔ اس دن بھی ابراہیم بہت زیادہ پوائنٹس کی برتری سے جیت گیا۔
رات کو ہم ابراہیم کے ساتھ مسجد میں گئے۔ نماز کے بعد امام جماعت احکام بیان کرنے لگے۔ جب وہ شرط بندی اور حرام پیسوں کے احکام تک پہنچے تو کہا کہ پیغمبر اکرمﷺ فرماتے ہیں: ’’جو کوئی بھی ناجائز طریقے سے مال کماتا ہے وہ اسے باطل راستے اور سخت حالات میں اپنے ہاتھ سے دھو بیٹھے گا۔‘‘ اور آنحضرتؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’جو حرام کا ایک لقمہ کھائے تو چالیس شب و روز تک اس کی نماز اور دعا قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
ابراہیم حیرانی سے ساری گفتگو سن رہا تھا۔ اس کے بعد ہم اکٹھے امام جماعت صاحب کے پاس چلے گئے۔ ابراہیم نے ان سےپوچھا: ’’میں نے آج والی بال کے ایک مقابلے میں 500 تومان کی شرط جیتی ہے۔‘‘ اس کے بعد اس نے تمام ماجرا انہیں بتاتے ہوئے کہا: ’’لیکن میں نے یہ پیسے ایک مستحق خاندان کو دے دیے ہیں۔‘‘
امام جماعت صاحب نے فرمایا: ’’آئندہ احتیاط کرنا، کھیلو ضرور مگر شرط نہ باندھو۔‘‘
ایک ہفتہ گزرا تو پھر وہی لوگ آ گئے۔ اس دفعہ وہ اپنے ساتھ زیادہ مضبوط اور ماہر کھلاڑی دوستوں کو لے آئے تھے۔ آتے ہی کہنے لگے: ’’اس دفعہ ایک ہزار تومان کی شرط لگاتے ہیں۔‘‘
ابراہیم نے کہا: ’’میں کھیلوں گا تو سہی، لیکن شرط نہیں باندھوں گا۔‘‘ انہوں نے تمسخر اڑانا شروع کر دیا اور ابراہیم کو جوش دلانےلگے: ’’ڈر گیا۔ اسے معلوم ہے کہ اس دفعہ ہار جائے گا۔‘‘ دوسرا کہنے لگا: ’’اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔‘‘
ابراہیم نے انہیں جواب دیا: ’’شرط بندی حرام ہے۔ مجھے اگر معلوم ہوتا تو میں پچھلے ہفتے بھی آپ لوگوں کے ساتھ شرط نہ باندھتا۔ تم سے جیتے گئے پیسے بھی میں نے ایک ضرورتمند خاندان کو دے دیے ہیں۔ اگر تم پسند کرو تو بغیر شرط کے میں تمہارے ساتھ کھیلنے کو تیار ہوں۔‘‘ لیکن اتنے تمسخر اور ابراہیم کے سمجھانے کے باوجود بھی مقابلہ نہ ہو سکا۔
*****
اس کا دوست کہتا تھا: ’’اس کے بعد ابراہیم ہمیں بہت نصیحت کرتا تھا کہ ہم شرط نہ باندھیں، مگر اس کے باوجود بھی ہم نے ایک محلہ نازی آباد کے جوانوں کے ساتھ ایک مقابلہ کیا اور بھاری شرط باندھ لی۔ کھیل ختم ہونے کو تھا کہ ابراہیم آ گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ ہم شرط باندھ کر کھیل رہے ہیں تو وہ ہم سے کافی ناراض ہو گیا۔‘‘
دوسری طرف ہمارے پاس دینے کے لیے اتنی زیادہ رقم بھی نہیں تھی۔ جب کھیل ختم ہوا تو ابراہیم نے آگے بڑھ کر گیند اٹھا لی اور کہا: ’’کوئی ہے جو آگے آئے اور اکیلا میرے ساتھ کھیلے؟‘‘
نازی آباد کے جوانوں میں سے ح۔ق نامی ایک جوان تھا جو والی بال کی قومی ٹیم کا رُکن اور واپڈا والی بال ٹیم کا کپتان تھا۔ وہ بہت مغرورانہ انداز میں آگے بڑھتے ہوئے کہنے لگا؛ ’’کیا شرط لگاتے ہو؟‘‘
ابراہیم نے کہا: ’’اگر تم شکست کھا گئے تو ان لوگوں سے پیسے نہیں لو گے۔‘‘ اس نے قبول کر لیا۔
ابراہیم نے اتنے اچھے انداز میں کھیل کھیلا کہ ہم سب حیران رہ گئے۔ اس نے کافی زیادہ پوائنٹس سے اپنے حریف کو شکست دے دی۔ لیکن اس کے بعد اس نے شرط بندی کی وجہ سے ہمیں خوب ڈانٹ پلائی۔
*****
والی بال کے علاوہ ابراہیم دوسرے کھیلوں میں بھی کافی مہارت رکھتا تھا۔ وہ کوہ پیمائی میں بھی مکمل کھلاڑی تھا۔ انقلاب کی کامیابی سے تین سال پہلے سے لے کر انقلاب کے ایام تک ہر ہفتے جمعے کی صبح کو اکھاڑے کے چند دوستوں کے ساتھ تہران کے علاقے تجریش چلا جاتا تھا۔ فجر کی نماز امام زادہ صالح کے حرم میں پڑھتے۔ اس کے بعد دوڑتے ہوئے پہاڑ پر چڑھنا شروع ہو کر دیتے۔ وہاں جا کر ناشتہ کرتے اور پھر واپس آ جاتے۔
میں یہ واقعہ کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایک دفعہ ابراہیم کشتی کی مشق کر رہا تھا اور اپنی ٹانگوں کو مضبوط کرنا چاہتا تھا تو اس نے دربند چوک سے ایک جوان کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور اوپر آبشار دوقلو[10] تک لے گیا۔
دربند اور کولکچال کے علاقے میں ہونے والی یہ کوہ پیمائی انقلاب کی کامیابی تک ہر ہفتے ہوتی تھی۔
ابراہیم فٹ بال بھی بہت اچھا کھیلتا تھا۔ ٹیبل ٹینس میں بھی استاد تھا اور دونوں ہاتھوں میں ریکٹ پکڑ کر کھیلتا تھا۔ اس کھیل میں بھی کوئی اس سے مقابلہ نہیں کر پاتا تھا۔
کُشتی
[شہیدؒ کے بھائی]
ابراہیم کو کشتی کے کھیل میں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ اپنے دوستوں اور بذات خود حاج حسن کی تجویز پر وہ باقاعدہ طور پر کشتی کے مقابلوں میں حصہ لینے لگا۔
اس نے خراسان چوک کے نزدیک ابومسلم کلب میں داخلہ لے لیا اور 53 کلوگرام کے مقابلوں سے اپنی کشتیوں کا آغاز کیا۔
آغا گودرزی اور آغا محمدی ان دنوں ابراہیم کے بہت اچھے کوچ ہوا کرتے تھے۔ آغا محمدی، ابراہیم کو اس کے اخلاق اور حسن سلوک کی وجہ سے بہت پسند کرتے تھے۔ آغا گودرزی بہت ہی اچھے انداز میں ابراہیم کو فن کشتی کے اسرار و رموز سکھاتے تھے۔
وہ ہمیشہ کہتے تھے: ’’یہ لڑکا بہت ہی نرم خُو ہے، مگر جب کشتی کے لیے اکھاڑے میں اترتا ہے تو اپنے بلند قد اور مضبوط لمبے بازؤوں کے ساتھ ایک چیتے کی طرح حملہ آور ہوتا ہے۔ جب تک وہ کوئی پوائنٹ نہ لے لے حریف کو چھوڑتا نہیں ہے۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ابراہیم کا نام ’’سویا ہوا شیر‘‘ رکھ چھوڑا تھا۔
وہ بارہا کہتے: ’’تم دیکھ لینا، یہ لڑکا ایک دن تمہیں کشتی کے عالمی مقابلوں میں نظر آئے گا۔‘‘
80 کی دہائی میں ابراہیم نے تہران میں ہونے والے چیمپئن شپ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ ان مقابلوں میں اس نے تمام حریفوں کو پوری قوت سے پچھاڑ کر رکھ دیا۔ ابھی اس کی عمر فقط 15 سال ہی تھی جب وہ ایران کے قومی مقابلوں کے لیے منتخب ہو گیا۔
اکتوبر کے آخر میں مقابلوں کا آغاز ہوتا تھا لیکن ابراہیم نے ان مقابلوں میں شرکت نہ کی۔ اس کے کوچ اس سے کافی ناراض ہوئے۔ یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ مقابلوں میں ولی عہد بھی موجود تھا اور انعامات بھی اسی نے تقسیم کرنا تھے۔ اسی وجہ سے ابراہیم نے ان مقابلوں میں حصہ نہ لیا۔
اگلے سال ابراہیم نے مختلف کلبوں کے درمیان ہونے والے چیمپئن شپ کے مقابلوں میں حصہ لیا اور چیمپئن شپ جیت لی۔ اسی سال اس نے تہران کے کلبوں کے درمیان ہونے والے 62کلوگرام کے مقابلوں میں شرکت کی۔
اگلے سال جب اس نے کلبوں کے درمیان ہونے والےمقابلوں میں دیکھا کہ اس کا ایک قریبی دوست 68 کلوگرام کے مقابلوں میں شریک ہے تو ابراہیم نے اس سے اوپر والے درجے یعنی 74 کلوگرام میں حصہ لیا۔
اس سال ابراہیم کی ترقی حیران کن تھی۔ 18 سال کی عمر میں اس نے کلبوں کے درمیان ہونے والے 74 کلو گرام کے مقابلوں میں شرکت کر کے چیمپئن شپ اپنے نام کر لی تھی۔
کشتی میں قُفلی پیچ اور اپنے مضبوط اور لمبے بازؤوں کا بروقت استعمال ابراہیم کا خاص گُر تھا جو اس چیز کا باعث بنا کہ کشتی کے تمام معیارات تبدیل ہو کر رہ گئے۔
*****
ایک دن ابراہیم اپنی کشتی کا سامان لیے علی الصبح ہی گھر سے نکل گیا۔ میں اور میرا بھائی بھی ساتھ ہو لیے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہم اس کے پیچھے پیچھے ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ ہفتِ تیر ہال میں داخل ہو گیا۔ہم بھی ہال میں داخل ہو گئے اور جا کر تماشائیوں میں بیٹھ گئے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد کشتی کے مقابلے شروع ہو گئے۔
اس دن ابراہیم نے کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور سبھی میں جیت گیا۔ اچانک اس کی نظر ہم پر پڑ گئی۔ ہم تماشائیوں میں بیٹھے اس کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ وہ غصے سے ہماری طرف آیا اور کہنے لگا: ’’تم لوگ یہاں کیوں آئے؟‘‘
ہم نے کہا: ’’ایسے ہی، تمہارے پیچھے آئے تھے، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم کہاں جاتے ہو۔‘‘
اس نے کہا: ’’کیا مطلب؟! یہ جگہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ جلدی اٹھو، گھر چلیں۔‘‘
میں نے حیران ہو کر پوچھا: ’’مگر ہوا کیا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا: ’’تمہیں یہاں نہیں ٹھہرنا چاہیے، اٹھو، اٹھو گھر چلیں۔‘‘
اس کی باتوں کے دوران ہی لاؤڈ سپیکر سے اعلان ہوا: ’’سیمی فائنل وزن 74 کلو گرام، آغا ہادی اور آغا تہرانی۔‘‘
ابراہیم نے ایک دفعہ کشتی کے فرش (Wrestling Mat) کی طرف دیکھا اور ایک دفعہ ہمیں اور پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرش کی طرف چلا گیا۔ ہم بھی پورے زور و شور سے چلّا کر اس کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔
ابراہیم کا کوچ مسلسل چلّا چلّا کر اسے بتا رہا تھا کہ کیا کرے، لیکن ابراہیم فقط دفاع کر رہا تھا۔ کنکھیوں سے ہماری طرف بھی دیکھ رہا تھا۔ کوچ کافی غصے میں ہو کر چیخ رہا تھا: ’’ابرام، کشتی کیوں نہیں لڑ رہے؟ مارو اسے۔‘‘
ابراہیم نے ایک خوبصورت پینترا بدل کر ایسا داؤ لگایا کہ حریف کو زمین سے اٹھایا اور ایک چکر کاٹ کر اسے زور سے فرش پر پٹخ دیا۔ ابھی کشتی ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ فرش سے نیچے اتر آیا۔
اس دن اسے ہم پر بہت غصہ آیا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ ہمارے پیچھا کرنے کی وجہ سے غصے میں ہے۔ واپسی پر باتوں کے دوران اس نے کہا: ’’انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے بدن کو مضبوط کرنے کے لیے کھیلے نہ کہ چیمپئن بننے کےلیے۔ میں بھی اگر ان مقابلوں میں شرکت کرتا ہوں تو وہ فقط اور فقط اس لیے کہ مختلف قسم کے فنون کو سیکھ سکوں۔ اس کے علاوہ میرا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے کہا: ’’لیکن اس میں برائی ہی کیا ہے کہ انسان چیمپئن بن جائے اور مشہور ہو جائے کہ سارے لوگ اس جانتے ہوں۔‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا: ’’مشہور ہونے کا ظرف ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ مشہور ہونے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان، حقیقی انسان بن جائے۔‘‘
اس روز ابراہیم فائنل میں پہنچ گیا۔ لیکن آخری مقابلے سے پہلے ہی وہ ہمارے ساتھ گھر واپس آ گیا۔ اس طرح اس نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ رتبہ و مقام اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ابراہیم ہمیشہ امام خمینیؒ کا یہ جملہ دہراتا تھا: ’’کھیل زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
چیمپئن
[حسین اللہ کرم]
کلبوں کے درمیان ہونے والی 74 کلوگرام چیمپئن شپ کے مقابلے تھے۔ ابراہیم نے اپنے تمام حریفوں کو یکے بعد دیگرے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اس سال اس نے مقابلوں کے لیے کافی مشق کی تھی۔ اکثر حریفوں کو تو اس نے چند ہی راؤنڈز میں پچھاڑ ڈالا تھا۔
اگر وہ یہ مقابلہ جیت جاتا تو حتماً فائنل میں جا کر چیمپئن شپ اپنے نام کر سکتا تھا، مگر سیمی فائنل میں اس نے بہت بری کشتی کھیلی۔ بالآخر ایک پوائنٹ سے وہ کشتی ہار گیا۔
اس سال ابراہیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، لیکن کئی سال بعد وہی جوان جو سیمی فائنل میں ابراہیم کا حریف تھا، اس سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ ابراہیم سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا۔
وہ ابراہیم کے ساتھ گزرے ہوئے اپنے لمحات کا ذکر کر رہا تھا۔ ہم سب غور سے سن رہے تھے۔ باتیں کرتے کرتے وہ ابراہیم کے ساتھ اپنے تعارف کے تذکرے تک پہنچ گیا: ’’ہماری آشنائی کلبوں کے درمیان 74 کلوگرام چیمپئن شپ کے مقابلوں میں سیمی فائنل کے دوران ہوئی تھی۔ طے پایا تھا کہ میرا مقابلہ ابراہیم سے ہونا ہے۔‘‘
وہ جب بھی اس واقعے کو تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تو ابراہیم آڑے آ جاتا اور بحث کا رخ پھیر دیتا۔ آخر کار اس نے اسے وہ ماجرا بیان نہ کرنے دیا۔ اگلے ر وز میں اس جوان سے ملا اور کہا: ’’کیا ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی کشتی کا سارا واقعہ مجھے سنائیں۔‘‘
اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا: ’’اس سال میں سیمی فائنل میں ابراہیم کا حریف ٹھہرا تھا لیکن میری ایک ٹانگ میں سخت تکلیف تھی۔ میں اس وقت تک ابراہیم کو نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے اسے کہا: ’’دوست، میری یہ ٹانگ زخمی ہے، ذرا دھیان رکھنا۔‘‘
ابراہیم نے بھی جواباً کہا: ’’ٹھیک ہے بھائی، خاطر جمع رکھو۔‘‘
’’میں نے اس کی کشتیاں دیکھ رکھی تھیں۔ وہ کشتی میں استاد تھا۔ اگرچہ کشتی کے دوران ابراہیم کی اصل تکنیک ہی یہی تھی کہ وہ ٹانگ پر قفلی لگا کر حریف کو پچھاڑتا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے اس روز میری ٹانگ کو چھوا تک نہیں۔ لیکن میں نے نامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے زمین پر دے مارا اور خوشی خوشی فائنل میں پہنچ گیا۔ ابراہیم انتہائی آسانی سے مجھے شکست دے کر چیمپئن بن سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’لیکن میرا خیال ہے کہ ابراہیم نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تا کہ میں جیت جاؤں۔ وہ اپنی شکست سے پریشان بھی نہیں تھا کیونکہ اس کے نزدیک چیمپئن شپ کی تعریف ہی کچھ اور تھی۔ لیکن میں کافی خوش تھا۔ میری خوشی کی زیادہ وجہ یہ تھی کہ فائنل میں میرا حریف ہمارے اپنے ہی علاقے کا ایک جوان تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ سارے کھلاڑی ہی بھائی ابرام جیسی معرفت اور اخلاق کے مالک ہیں۔ لیکن فائنل میں بھی حالانکہ میں نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے اپنے حریف سے یہی کہا تھا کہ میری ٹانگ زخمی ہے مگر اس نے مقابلے کے پہلے جھٹکے ہی میں میری اسی زخمی ٹانگ کو پکڑ لیا۔ میں درد سے بلبلا اٹھا۔ اس کے بعد اس نے مجھے زمین پر دے پٹخا اور بالآخر میں فائنل ہار گیا۔ اس سال میری دوسری پوزیشن آئی جبکہ ابراہیم کی تیسری، مگر مجھے پورا یقین تھا کہ چیمپئن شپ کا اصل حقدار ابراہیم تھا۔ وہ دن اور آج کا دن، میری اس کے ساتھ دوستی ہے۔ میں نے اس میں کچھ عجیب چیزوں کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ایسا دوست مجھے عطا کیا۔‘‘
اس کی بات ختم ہوئی تو وہ خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔ میں بھی واپس آ گیا اور سارے راستے اسی کی باتوں کے بارے میں سوچتا رہا۔
مجھے یاد آ گیا کہ گیلان غرب کی چھاؤنی میں ایک دیوار پر ہر مجاہد کے بارے میں ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔ ابراہیم کے بارے میں وہاں تحریر تھا:
’’ابراہیم ہادی، پوریائی ولی[11] جیسی خصوصیات کا حامل مجاہد۔‘‘
پوریائی ولی
[ایرج گرائی]
1976 کا سال تھا۔ کلبوں کے درمیان چیمپئن شپ کے مقابلے ہو رہے تھے۔ فائنل میں جیتنے والے کو نقد انعام کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کا حصہ بھی بنا دیا جاتا تھا۔ ابراہیم کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ جو کوئی اس کا ایک مقابلہ بھی دیکھ لیتا تو وہ اس بات کی تائید کرتا۔ کوچ کہہ رہے تھے کہ اس سال 74 کلوگرام کے مقابلوں میں ابراہیم کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکے گا۔
مقابلوں کا آغاز ہو گیا۔ ابراہیم ایک ایک کر کے سب کو پچھاڑتا جا رہا تھا۔ چار کشتیوں کے بعد وہ سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ کشتی میں وہ حریف کو یا تو چاروں شانے چِت کر دیتا یا کافی زیادہ پوائنٹس کی برتری سے مقابلہ جیت لیتا۔
میں نے اپنے دوستوں سے کہہ رکھا تھا: ’’خاطر جمع رکھو۔ اس دفعہ ہمارے کلب سے ایک پہلوان قومی ٹیم کا حصہ بننے جا رہا ہے۔‘‘
سیمی فائنل میں اگرچہ اس کا حریف ایک جانا مانا اور منجھا ہوا پہلوان تھا لیکن ابراہیم نے اسے شکست دے دی اور فاتحانہ انداز میں فائنل میں پہنچ گیا۔
فائنل میں اس کا مقابلہ آغا محمود۔ ک سے تھا۔ اس نے اسی سال بین الاقوامی فوجی چیمپئن شپ کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
فائنل مقابلہ شروع ہونے سے پہلے میں ابراہیم کے پاس اس کے ڈریسنگ روم میں گیا اور اس سے کہا: ’’میں نے تمہارے حریف کے مقابلے دیکھے ہیں۔ وہ کافی اناڑی ہے۔ فقط ابرام جان، خدا کے لیے خیال رکھنا۔ صحیح طریقے سے کشتی لڑنا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس بار قومی ٹیم کے لیے تمہارا ہی انتخاب ہو گا۔‘‘
کوچ اپنی آخری ہدایات ابراہیم کے گوش گزار کر رہا تھا جبکہ ابراہیم اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہا تھا۔ اس کے بعد وہ اکٹھے کشتی کے فرش (Wrestling Mat) کی طرف چلے گئے۔
میں جلدی سے تماشائیوں میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابراہیم کشتی کے فرش پر پہنچا۔ اس کا حریف بھی پہنچ گیا۔ ریفری ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ ابراہیم نے آگے بڑھ کر اپنے حریف کو مسکراتے ہوئے سلام اور مصافحہ کیا۔
اس کے حریف نے کچھ کہا جسے میں نہ سمجھ سکا، لیکن ابراہیم نے تائید کے انداز میں سر ہلایا۔ پھر حریف نے ہال میں بیٹھے تماشائیوں میں ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے اسے کچھ دکھایا۔ جب میں نے بھی وہاں دیکھا تو وہاں ایک معمر خاتون دکھائی دی جو تسبیح ہاتھ میں لیے ایک اونچی جگہ پر بیٹھی تھی۔
میں سمجھ نہ سکا کہ اس نے کیا کہا اور کیا ہوا، لیکن ابراہیم نے بہت ہی برے انداز میں کشتی کا آغاز کیا۔ فقط دفاع کر رہا تھا۔ ابراہیم کا کوچ بے چارہ اس کی رہنمائی کرتے ہوئے اس قدر چیخ رہا تھا کہ اس کا گلا بیٹھ گیا۔ یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ابراہیم اپنے کوچ حتی کہ میری چیخ و پکار بھی نہیں سن رہا۔ وہ فقط وقت ضائع کر رہا تھا۔
ابراہیم کا حریف اگرچہ شروع میں کافی خوفزدہ تھا مگر اب آہستہ آہستہ اس میں جرأت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ مسلسل وار کر رہا تھا جبکہ ابراہیم پوری متانت سے فقط دفاع میں مشغول تھا۔
ریفری نے ابراہیم کو ایک دفعہ وارننگ دی، پھر دوسری اور پھر آخر میں تیسری وارننگ دے دی۔ تیسری وارننگ کے ساتھ ہی ابراہیم مقابلہ ہار گیا اور اس کا حریف 74 کلوگرام مقابلوں کا چیمپئن بن گیا۔
جب ریفری حریف کا ہاتھ بلند کر رہا تھا تو ابراہیم خوش ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ چیمپئن وہ بنا ہے۔ اس کے بعد دونوں پہلوان ایک دوسرے کے گلے ملے۔
ابراہیم کے حریف نے خوشی سے روتے روتے جھک کر اس کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ اب دونوں پہلوان ہال سے باہر نکل رہے تھے۔ میں چبوترے سے نیچے کودا اور غصے سے بھرا ہوا ابراہیم کی طرف آ گیا۔
میں نے چلّا کر کہا: ’’بے وقوف کہیں کے، یہ کیسی کشتی تھی؟‘‘ اس کے بعد میں نے ابراہیم کے بازو پر زور سے مکّا مارتے ہوئے کہا: ’’اگر تم کشتی نہیں لڑنا چاہتے تو بتا دو۔ ہمارا وقت تو ضائع نہ کرو۔‘‘
ابراہیم نے پرسکون انداز میں ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے کہا:’’اتنی لالچ نہ کیا کرو۔‘‘
اس کے بعد وہ جلدی سے ڈریسنگ روم میں گیا، اپنے کپڑے پہنے اور سر نیچے کر کے چلا گیا۔
میں غصے سے دروازے اور دیوار پر گھونسے برسانے لگا۔ اس کے بعد ایک جگہ بیٹھ گیا۔جب تھوڑی دیر گزر گئی اور میرا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اٹھ کر جانے لگا۔
کلب کے دروازے پر ابھی ہجوم تھا۔ وہی ابراہیم کا حریف اپنی ماں اور سارے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ لوگ بہت خوش تھے۔ اچانک اس نے مجھے بلایا۔ میں نے پلٹ کر غصے سے پوچھا: ’’کیا ہے؟‘‘ وہ میرے پاس آ گیا: ’’آپ آغا ابرام کے دوست ہیں نا؟‘‘ میں نے پھر غصے سے کہا: ’’جی، فرمائیے!‘‘
اس نے بے ساختہ کہا: ’’تمہارا دوست بہت ہی اچھا ہے۔ میں نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے آغا ابرام سے کہا کہ میں یقیناً تم سے جیت تو نہیں سکتا مگر میرا خیال رکھنا۔ میری ماں اور بھائی ہال کے اُوپری حصے میں بیٹھے ہیں۔ ہمیں شرمندہ نہ ہونے دینا۔‘‘
اس کے بعد اس شخص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’تمہارے دوست نے تو دریا دلی کی حد ہی کر دی۔ تم نہیں جانتےکہ میری ماں کتنی خوش ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص رونے لگا: ’’میں نے ابھی ابھی شادی کی ہے۔ مقابلے سے ملنے والے نقد انعام کی بہت سخت ضرورت تھی۔ تم نہیں جانتے، میں کتنا خوش ہوں آج۔‘‘
میں دم سادھے کھڑا تھا۔ میرے پاس کچھ کہنے کو رہا نہیں تھا۔ تھوڑی دیر خاموش رہا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ سارا ماجرا تو مجھے اب سمجھ میں آیا تھا۔ میں نے اس سے کہا: ’’دوست، اگر میں ابراہیم بھائی کی جگہ پر ہوتا تو اتنی زیادہ مشقتوں اور مشقوں کے بعد ایسا کام تو ہرگز نہ کرتا۔ ایسے کام ابرام ہی جیسے عظیم لوگوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔‘‘
میں نے اسے خداحافظ کہا۔ کنکھیوں سے اس خوش باش اور ہنستی مسکراتی بڑھیا کو دیکھا اور چل پڑا۔ راستے میں ابراہیم کے کام کے بارے میں چتا رہا۔اس طرح آسانی سے ایسا کام انجام دے دینے کے بارے میں ایک عام عقل سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ پوریائی ولی کو جب معلوم ہوا کہ اس کے حریف کو مقابلہ جیتنے کی بہت زیادہ احتیاج ہے اور حاکم شہر انہیں تنگ کر رہا ہے تو اس نے اپنے حریف کو مقابلہ جتوا دیا۔ لیکن ابراہیم۔۔۔۔۔
مجھے وہ محنتیں اور سخت مشقیں یاد آنے لگیں جن سے اس مدت میں ابراہیم گزرا تھا اور پھر اس بڑھیا کی ہنسی اور اس جوان کی خوشی جیسے ہی یاد آئی تو میں یکدم رونے لگا ۔ عجیب آدمی ہے یہ ابراہیم بھی!!
نفس کشی
[شہیدؒ کے بعض دوست]
تہران میں شدید بارش ہوئی تھی اور 17 شہریور روڈ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ کچھ بوڑھے مرد روڈ کی ایک طرف کھڑے تھے اور دوسری طرف جانے کے جتن کر رہے تھے۔ اسی وقت ابراہیم بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے اپنی شلوار کے پائنچوں کو اوپر چڑھایا۔ ان بوڑھوں کو کندھوں پر اٹھایا اور انہیں روڈ کی دوسری طرف پہنچا دیا۔
ابراہیم اکثر ایسے کام کرتا رہتا تھا۔ ایسے کاموں سے نفس کشی کے علاوہ اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا تھا۔ بالخصوص اس زمانے میں تو وہ اور بھی زیادہ ایسے کام انجام دیتا تھا جب وہ جوانوں میں کافی مشہور ہو چکا تھا۔
*****
گرمیوں کی ایک سہ پہر تھی۔ ہم ابراہیم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ ایک گلی کے سامنے پہنچے جہاں کچھ لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے۔ جیسے ہی ہم وہاں سے گزرے تو ایک لڑکے نے زور سے فٹ بال کو کک لگائی اور گیند سیدھی ابراہیم کے منہ پر آ کر لگی۔ ضرب اتنی شدید تھی کہ ابراہیم فوراً زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ شدید سرخ ہو چکا تھا۔
مجھے بہت غصہ آیا۔ میں نے لڑکوں کی طرف دیکھا تو وہ ہمارے ہاتھوں پٹائی سے بچنے کے لیے بھاگنے ہی والے تھے کہ ابراہیم نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی کِٹ میں ہاتھ ڈالا اور اخروٹوں کا ایک پیکٹ باہر نکال کر لڑکوں کو آواز دی: ’’کہاں چلے؟ ادھر آؤ، اخروٹ لے لو۔‘‘
اس کے بعد اس نے پیکٹ کو گول نیٹ کے پاس رکھااور پھر ہم چل دیے۔
راستے میں میں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا: ’’ابرام بھائی، یہ تم نے کیا؟‘‘
کہنے لگا: ’’وہ بے چارے ڈر گئے تھے۔ جان بوجھ کر تو انہوں نے نہیں مارا تھا۔‘‘
اس کے بعد اس نے بات کا رخ بدلا اور جہاں سے ہمارا سلسلہ گفتگو منقطع ہوا تھا وہیں سے آگے ہم باتیں کرنے لگے۔ لیکن میں جانتا تھا کہ عظیم لوگ اپنی زندگی میں ایسے ہی کام کرتے رہتے ہیں۔
*****
ہم کشتی کلب میں تھے اور مشق کےلیے آمادہ ہو رہے تھے کہ ابراہیم داخل ہوا۔ کچھ دیر بعد ایک اور دوست بھی آ گیا۔ وہ آتے ہی کہنے لگا: ’’ابرام جان، تمہاری شکل و صورت اور قدو قامت بہت دلکش ہے۔ آج جب تم آ رہے تھے تو دو لڑکیاں بھی تمہارے پیچھے پیچھے تھیں اور تمہارے ہی بارے میں مسلسل باتیں کیے جا رہی تھیں۔‘‘ اس کے بعد اس نے کہا: ’’تم نے خوبصورت پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور سپورٹس کٹ بھی تمہارے ہاتھ میں تھی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ تم کھلاڑی ہو۔‘‘
میں نے ابراہیم کی طرف دیکھا۔ وہ کسی سوچ میں پڑ گیا تھا اور کافی بے چین لگ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے ایسی باتوں کی توقع ہی نہیں تھی۔
اگلی بار جب میں مشق کے لیے گیا تو ابراہیم کو دیکھتے ہی میری ہنسی نکل گئی۔ اس نے لمبی قمیص اور کھلی شلوار پہن رکھی تھی اور کھیل کے کپڑے کٹ کی بجائے پلاسٹک کے ایک تھیلے میں ڈال رکھے تھے۔ اس دن کے بعد وہ ہمیشہ اسی ہیئت میں کلب میں آیا کرتا تھا۔
سب دوست اسے کہتے: ’’یار، تم بھی عجیب انسان ہو! ہم کلب میں اس لیے آتے ہیں تاکہ ہماری بدن کسرتی ہو جائے اور اس کے بعد ہم تنگ قمیصیں پہن سکیں مگر تم اتنے بھرے ہوئے اور خوبصورت جسم کے ساتھ اس قسم کا عجیب سا لباس پہن کر آ جاتے ہو؟!‘‘
ابراہیم ان کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔
وہ اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا رہتا کہ اگر کھیل خدا کے لیے ہو تو عبادت ہے لیکن اگر اس کے علاوہ اور کوئی نیت ہو تو تم خسارے میں رہو گے۔
*****
ہم میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔ اچانک ابراہیم پر نظر پڑی جو ایک چبوترے کے پاس کھڑا تھا۔ میں جلدی سے اس کے پاس گیا۔ اسے سلام کیا اور خوشی سے کہا: ’’عجب، تم یہاں کہاں؟‘‘
اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا۔ اس نے اٹھا کر کہا: ’’تمہاری تصویر چھپی ہے۔‘‘
میں خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر رسالہ اس کے ہاتھ سے لینا چاہا۔ اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور کہا: ’’ایک شرط پر دوں گا۔‘‘
میں نے کہا: ’’جو کہو، قبول ہے۔‘‘
اس نے دوبارہ پوچھا: ’’جو کچھ کہوں گا، تم مانو گے؟‘‘
میں نے کہا: ’’ہاں یار، مانوں گا۔‘‘
اس نے مجلہ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ درمیان والے صفحے پر میرے پوری بڑی تصویر چھپی ہوئی تھی، جس کے ساتھ لکھا تھا: ’’جوانوں کے فٹ بال کا جدیدچہرہ‘‘ اور میری تعریفوں کی ڈھیر لگے ہوئے تھے۔
میں وہیں چبوترے کے پاس بیٹھ گیا اور صفحے کے متن کو دوبارہ پڑھنے لگا اور اچھی طرح اسے کھنگال ڈالا۔ اس کے بعد سر اٹھا کر ابراہیم سےکہا: ’’تمہارا بہت بہت شکریہ، ابرام جان۔ تم نے مجھے بہت خوش کیا۔ اب بتاؤ، تمہاری شرط کیا تھی؟‘‘
اس نے آہستہ سے پوچھا: ’’جو شرط بھی ہو، تسلیم کرو گے؟‘‘
میں نے کہا: ’’ہاں، میرے بھائی۔‘‘
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولا: ’’تم آئندہ سے فٹ بال مت کھیلو!‘‘
میں بھونچکا رہ گیا اور حیرت سے دیدے پھاڑے اس کی طرف دیکھنے لگا: ’’کیا مطلب، میں آئندہ فٹ بال نہ کھیلوں؟! ابھی ابھی تو میں مشہور ہو رہا ہوں!‘‘
اس نے کہا: ’’میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اصلاً فٹ بال کھیلنا ہی چھوڑ دو۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ پیشہ ورانہ فٹ بال میں مت جانا۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’کیوں؟‘‘
اس نے آگے بڑھ کر مجلہ میرے ہاتھ سے لے لیا۔ میری تصویر پر ہاتھ رکھ کر مجھے دکھاتے ہوئے کہنے لگا: ’’اس رنگین تصویر کو دیکھو۔ یہاں تمہاری تصویر سپورٹس شرٹ میں ہے۔ یہ مجلّہ فقط میرے اور تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ بہت سی لڑکیاں بھی ممکن ہے اسے دیکھ چکی ہوں، یا دیکھیں گی۔‘‘ اس کے بعد اس نے کہا: ’’تم چونکہ ایک متدین جوان ہو اور مسجد سے تعلق رکھتے ہو اس وجہ سے میں تمہیں یہ بات کہہ رہا ہوں ورنہ مجھے تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تم پہلے اپنے اعتقادات کو مضبوط کرو اس کے بعد پیشہ ورانہ فٹ بال میں جاؤ تا کہ تمہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔‘‘
اس کے بعد کہنے لگا: ’’مجھے کچھ کام ہے۔‘‘ اور خداحافظ کہہ کر چلا گیا۔
میں اپنی جگہ سے ہل کر رہ گیا تھا۔ بیٹھ کر اس کی ساری باتوں پر غور کرنے لگا۔
وہ انسان جو ہمیشہ مذاق کرتا رہتا تھا اور عوامی باتیں کیا کرتا تھا، اس سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی۔ ہرچند کہ بعد میں مجھے اس کی تمام باتیں سمجھ آ گئی تھیں، جب میں دیکھتا تھا کہ مسجد میں آنے جانے والے بعض جوان اور نمازی جو پختہ عقائد کے مالک نہ تھے، جب پیشہ ورانہ فٹ بال میں داخل ہوئے تو ماحول کا رنگ اپناتے ہوئے نماز تک سے دور ہو گئے۔
یداللہ
[سید ابوالفضل کاظمی]
ابراہیم بازار کی ایک دکان میں کام کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے اسے بہت ہی عجیب حالت میں دیکھا اور حیران رہ گیا۔ اس نے سامان کے دو بڑے کارٹن کندھے پر اٹھا رکھے تھے۔ ایک دکان کے سامنے اس نے یہ کارٹن رکھے۔ جب اس کا لین دین ختم ہو گیا تو میں نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا۔ اس کے بعد اس سے کہا: ’’ابرام بھائی، تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔ یہ قلیوں کا کام ہے نہ کہ تمہارا۔‘‘
اس نے میری طرف دیکھ کر کہا: ’’کام کرنا تو کوئی عیب نہیں ہے بلکہ بے کار رہنا بری بات ہے۔ یہ کام جو میں انجام دیتا ہوں میرے لیے بہت ہی مناسب ہے۔ اس سے مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ اس طریقے سے میرا غرور مر جاتا ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’اگر کوئی تمہیں اس حالت میں دیکھ لے تو اچھا نہیں لگے گا۔ تم کھلاڑی ہو۔ بہت سے لوگ تمہیں جانتے ہیں۔‘‘
ابراہیم نے ہنس کر کہا: ’’او یار! ہمیشہ ایسا کام کرو کہ اگر خدا تمہیں دیکھے تو اسے ا چھا لگے نہ کہ لوگ۔‘‘
*****
ہم کچھ دوست اکٹھے بیٹھے ابراہیم کی باتیں کر رہے تھے۔ایک دوست جو اسے نہ جانتا تھا، اس نے میرے ہاتھ سے اس کی تصویر لے کر دیکھی اور پھر حیران ہو کر پوچھا: ’’تمہیں پورا یقین ہے کہ اس کا نام ابراہیم ہے؟!‘‘
میں نے بھی حیران ہو کر کہا: ’’ہاں، یہی ہے۔ کیوں؟‘‘
کہنے لگا: ’’بازارِ سلطانی میں میری دکان ہوتی تھی۔ ابراہیم ہفتے میں دو دن بازار میں آ کر کھڑا ہو جاتا۔ کندھے پر ایک تھیلا لٹکائے بوجھ ڈھوتا رہتا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘ تو اس نے کہا: ’’مجھے یداللہ بلا لیا کریں۔‘‘ کچھ دن بعد اس کا ایک دوست وہاں آیا ہوا تھا۔ اس نے اسے دیکھا تو وہ حیرت سے کچھ کہنے لگا: ’’تم اسےجانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں، بات کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ والی بال اور کشتی کا چیمپئن ہے۔ بہت متقی انسان ہے۔ یہ فقط اپنے نفس کو مارنے کے لیے ایسے کام کرتا رہتا ہے۔ تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ یہ بہت عظیم انسان ہے۔‘‘ اس کے بعد میں نے پھر کبھی ابراہیم کو بازار میں نہ دیکھا۔‘‘
اس دوست کی باتوں نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ میرے لیے بہت عجیب تھا۔ نفس سے ایسے جنگ کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
*****
کافی عرصہ بعد ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی۔ ہم ابراہیم کی باتیں کرنے لگے۔ دوران گفتگو اس نے کہا: ’’انقلاب سے پہلے ایک دن ظہر کے وقت ابرام ہمارے پاس آیا۔ مجھے، میرے بھائی اور دو اور دوستوں کو ایک ریستوران میں لے گیا اور چلو کباب[12]، بہترین کھانا، سلاد اور کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیا۔ ‘‘
کھانا کافی مزیدار تھا۔ اس دن تک میں نے ایسا کھانا کبھی نہ کھایا تھا۔کھانے کے بعد ابراہیم نے پوچھا: ’’کھانا کیسا تھا؟‘‘
میں نے کہا: ’’بہت ہی اعلیٰ اور مزیدار۔ تمہارا بہت بہت شکریہ۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں آج صبح سے بازار میں بوجھ ڈھوتا رہا ہوں۔ کھانے کی یہ لذت اس تکلیف کی وجہ سے ہے جو میں نے اس کے پیسے حاصل کرنے کے لیے اٹھائی ہے۔‘‘
*****
آغا مجتہدی کا مدرسہ
[ایرج گرائی]
انقلاب سے پہلے کے آخری سال تھے۔ بازار میں جانے کے علاوہ ابراہیم کوئی اور کام بھی کرتا تھا۔ نہ تو اس بارے میں کوئی جانتا تھا اور نہ ہی کبھی ابراہیم اس بارے میں کچھ بتاتا تھا لیکن اس کا رویہ اور چال چلن مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا۔
وہ پہلے سے زیادہ روحانی ہوتا جا رہا تھا۔ صبح کے وقت پلاسٹک کا ایک کالاشاپنگ بیگ اس کے ہاتھ میں ہوتا اور وہ بازار کی طرف جا رہا ہوتا۔ اس میں اس نے کچھ کتابیں رکھی ہوتیں۔
ایک دن میں اپنی موٹرسائیکل پر بیٹھا سڑک سے گزر رہا تھا کہ ابراہیم پر نظر پڑ گئی۔ میں نے پوچھا: ’’ابراہیم بھائی، کہاں جا رہے ہو؟‘‘
اس نے کہا: ’’بازار جا رہا ہوں۔‘‘
میں نے اسے بٹھا لیا اور راستے میں پوچھا: ’’کچھ دنوں سے میں تمہارے ہاتھ میں یہ کالا شاپنگ بیگ دیکھ رہا ہوں۔ اس میں کیا ہے؟‘‘
کہنے لگا: ’’کچھ نہیں، کتابیں ہیں۔‘‘
گلی نائب السلطنۃ کی نکڑ پر وہ اتر گیا اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔ مجھے حیرانی ہوئی۔ ابراہیم یہاں تو کام نہیں کرتا تھا۔ پھر کہاں چلا گیا؟
میں تجسس کے مارے اس کا تعاقب کرنے لگا۔ وہ چلتے چلتے ایک مسجد میں داخل ہو گیا اور وہاں بیٹھے جوانوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنی کتاب کھول لی۔
میں سمجھ گیا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ میں مسجد سے باہر آ گیا اور وہاں سے گزرنے والے ایک بوڑھے آدمی سے پوچھا: ’’معاف کیجیے گا، اس مسجد کا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’مدرسہ حاج آغا مجتہدی۔‘‘
میں نے تعجب سے دائیں بائیں دیکھا۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ابراہیم طالب علم ہو گیا ہے۔
وہاں دیوار پر پیغمبر اکرمﷺ کی ایک حدیث لکھی ہوئی تھی: ’’آسمان، زمین اور فرشتے روز و شب تین قسم کے لوگوں کے لیے دعاء مغفرت کرتے ہیں: علماء، طلاب، سخاوت مند۔[13]‘‘
رات کو اکھاڑے سے نکلتے نکلتے میں نے ابراہیم سے کہا: ’’ابراہیم بھائی، مدرسے جاتے ہو اور ہمیں کچھ بتاتے نہیں ہو؟‘‘
اس نے حیرت سے پلٹ کرمجھے دیکھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ میں نے کل اس کا تعاقب کیا تھا۔ اس نے بہت آہستہ سی آواز میں کہا: ’’بہت ہی بری بات ہے کہ انسان اپنی زندگی کو فقط کھانے پینے اور سونے میں گزار دے۔ میں باقاعدہ طور پر تو طالب علم نہیں ہوا ہوں، فقط وہاں سے استفادہ کرنے کی غرض سے جاتا ہوں۔ سہ پہر کے وقت بھی بازار میں جاتا ہوں، لیکن ابھی کسی کو یہ بات بتانا مت۔‘‘
انقلاب کی کامیابی کے زمانے تک ابراہیم کا یہی معمول تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں کہ وہ اپنے پہلے کے کاموں کو جاری نہ رکھ سکا۔
الٰہی پیوند
[رضا ہادی]
ایک روز سہ پہر کے وقت ابراہیم اپنے کام سے گھر کو لوٹ رہا تھا۔ جب وہ گلی میں داخل ہوا تو اچانک اس کی نظر اپنے ایک ہمسایہ لڑکے پر پڑی جو ایک جوان لڑکی سے باتیں کرنے میں مشغول تھا۔ لڑکے نے جیسے ہی ابراہیم کو دیکھا، فوراً لڑکی کو خداحافظ کہا اور رفوچکر ہو گیا۔ وہ ابراہیم کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کچھ دن بعد یہی ماجرا دوبارہ پیش آیا۔ اس بار جب وہ لڑکا لڑکی کو خدا حافظ کہہ کر جانے ہی والا تھا تو اس نے دیکھ لیا کہ ابراہیم ان کے نزدیک آتا جا رہا ہے۔ لڑکی تو جلدی سے ایک اور گلی کی طرف چلی گئی مگر لڑکے کا ابراہیم سے سامنا ہو گیا۔
ابراہیم نے علیک سلیک شروع کی اور مصافحہ کیا۔ لڑکا ڈر گیا تھا، مگر ابراہیم کے ہونٹوں پر وہی ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑائے، اس نے آرام سے اس لڑکے سے گفتگو شروع کر دی: ’’ہمارے گلی محلے میں ایسی باتیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔ میں تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم اگر واقعاً اس لڑکی کو چاہتے ہو تو میں تمہارے باپ کے ساتھ بات کرتا ہوں کہ ۔۔۔‘‘
لڑکے نے اس کی بات کاٹ دی اور جلدی سے کہا: ’’نہیں، آپ کو خدا کا واسطہ، بابا کو کچھ نہ بتائیں۔ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دیں۔۔۔‘‘
ابراہیم نے کہا: ’’نہیں! تم میرا مطلب نہیں سمجھے۔ دیکھو، تمہارے باپ کا گھر بہت بڑا ہے اور تم اس کی دکان پر اس کے ساتھ کام بھی کرتے ہو۔ میں آج رات مسجد میں تمہارے باپ سے بات کروں گا۔ اگر چاہو تو اس لڑکی سے شادی کر لو۔ اس کے علاوہ اور تمہیں کیا چاہیے؟‘‘
لڑکے نے سر نیچے کر لیا تھا اور کافی شرمندہ سا ہو گیا تھا۔ کہنے لگا: ’’بابا کو پتا چل گیا تو بہت ناراض ہوں گے۔‘‘
ابراہیم نے کہا: ’’بابا کو تم مجھ پر چھوڑ دو۔ وہ مجھے جانتے ہیں۔ اچھے اور سمجھدار انسان ہیں۔‘‘
لڑکے نے کہا: ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا، کیا کہوں؟ جیسا آپ کہتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔
رات کو نماز کے بعد ابراہیم نے اس لڑکے کے باپ سے بات شروع کی۔ پہلے تو اس نے شادی کے بارے میں باتیں کی اور پھر کہا کہ اگر کوئی جوان شادی کی شرائط رکھتا ہو اور مناسب بیوی بھی اسے مل رہی ہو تو اس کی شادی کر دینی چاہیے ورنہ وہ حرام میں مبتلا ہو سکتا ہے، جس کے لیے اسے خدا کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اب ہمارے بڑوں کو چاہیے کہ اس حوالے سے جوانوں کی مدد کریں۔
لڑکے کےباپ نے پہلے تو ابراہیم کی باتوں کی تائید کی لیکن جب اس کے بیٹے کی بات آئی تو اس کی بھنویں سکڑ گئیں۔
ابراہیم نے پوچھا: ’’محترم، اگر آپ کا بیٹا گناہ سے بچ کر اپنی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور وہ بھی ایسے معاشرتی ماحول میں، تو کیا اس نے غلط کیا؟‘‘
باپ نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: ’’نہیں۔‘‘
دوسرے دن ابراہیم کی ماں نے اس لڑکے کی ماں سے بات کی اور اس کے بعد لڑکی کی ماں سے۔
اس بات کو ایک مہینہ ہو گیا تھا۔ رات کو ابراہیم بازار سے گھر واپس آ رہا تھا۔ کوچے کے آخر پر چراغاں ایک گھر میں کیا گیا تھا۔ ابراہیم کے ہونٹوں پر خوشی کی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس بات کی خوشی کہ اس نے ایک شیطانی دوستی کو ایک الٰہی پیوند میں بدل دیا تھا۔ یہ شادی ابھی تک کامیاب جا رہی ہے اور یہ جوڑا اپنی زندگی کو ابراہیم کے اُس دن والے نیک رویے کا مرہون منت جانتا ہے۔
[6] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لِعَلِيٍّ ع لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ عَبْداً مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خَيْرٌ لَكَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ مِنْ مَشَارِقِهَا إِلَى مَغَارِبِهَا۔ [بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج1، ص: 216]
[7] ایران کا ایک شہر۔
[8] ایک بھاری چیز جسے عموماً کشتی جیسے کھیلوں میں زور لگانے کے لیے بطورِ مشق اٹھایا جاتا ہے۔
[9] عربی کا دعائیہ جملہ ہے جو کسی کو شاباش دیتے وقت کہتے ہیں، یعنی اللہ برکت دے۔
[10] دوقلو جڑواں کو کہتے ہیں۔ تہران میں موجود یہ جڑواں آبشاریں ’’آبشار دوقلو‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔
[11] پوریائی ولی، ایران کا نویں صدی ہجری کا مشہور پہلوان جو نہ صرف مایہ ناز اور بہادر پہلوان تھا بلکہ اپنے حسن اخلاق اور عرفانی کمالات کی وجہ سے بھی عوام الناس میں کافی شہرت کا حامل تھا۔ ایرانی پہلوان، اسے فن پہلوانی کے استادِ اعظم کے علاوہ اپنا روحانی مرشد بھی تسلیم کرتے ہیں۔
[12] ایک ایرانی کھانا جو چاول اور گوشت کو ملا کر پکاتے ہیں۔ البتہ یہ پاکستانی یا ہندوستانی بریانی سے کافی مختلف ہے۔
[13] المواعظ العددیۃ، ص111