آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

ولایت
[شہید حسین علی عالیؒ]

شہید مرتضیٰ بشارتی، حسین کا خاص دوست تھا۔وہ اپنے سردار حسین کے بارے میں بہت ہی کم بات کرتا تھا۔ لیکن ایک بار ہمارے اصرار پر بتانے لگا: ایک دفعہ ہم حسین کے ساتھ ریکی پر گئے اور ایک محفوظ مقام پر مورچہ لے کر بیٹھ گئے۔ نماز کا وقت ہوا تو حسین نے بہت ہی غمناک آواز اور دل شکستگی کے ساتھ نماز پڑھی۔ یوں لگتا تھا جیسے خدا اس کے سامنے کھڑا ہو اور وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ اس کے بعد وہ پہرا دینے لگا اور میں نماز پڑھنے لگا۔

قنوت میں میں نے دعا کی کہ خدایا! میرے یقین میں اضافہ فرما۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں بھی اہل یقین کی طرح ہو جاؤں۔ پس میں نے نماز کے بعد دیکھا کہ حسین دور سے میری طرف دیکھ کر ہنسے جا رہا ہے۔ میں نے پوچھا: ’’حسین، کیا ہوا؟!‘‘ کہنے لگا: ’’تم چاہتے ہو کہ تمہارا یقین زیادہ ہو جائے؟‘‘ میں تعجب سے اسے دیکھا۔ اسے میری خواہش کیسے معلوم ہو گئی تھی؟ میں نے کہا: ’’ہاں، لیکن تمہیں کیسے پتا چلا؟!‘‘ وہ ہنسنے لگا: ’’اپنے کان زمین پر رکھو۔‘‘ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔جو حالت پیش آئی تھی اس سے میرا بدن لرز رہا تھا۔ اس لمحے کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے سنا کہ زمین مجھ سے بات کر رہی ہے۔ جو آواز سنی تھی وہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے:

’’مرتضیٰ! مت ڈرو۔ دنیا عبث نہیں ہے۔ تمہارا کام بھی بے ہودہ نہیں ہے۔ میں اور تم دونوں ہی خدا کے بندے ہیں۔ لیکن دونوں کے لباس اور شکلیں مختلف ہیں۔ کوشش کرو کہ اپنے کسی غلط کام سے خدا کو ناراض نہ کر بیٹھو۔۔۔‘‘

میرا بدن لرز رہا تھا، لیکن زمین مسلسل مجھ سے باتیں کیے جا رہی تھی۔ حسین نے ہنستے ہوئے کہا: ’’تمہارا یقین زیادہ ہوا؟!‘‘

میں جانتا تھا کہ انسان خدا سے نزدیک ہو سکتا ہے مگر اس حد تک یقین نہیں تھا۔ اگر میں اپنے کانوں سے نہ سنتا تو قطعاً اس پر یقین نہ کرتا۔ اس دن ہم نے بہت سے چیزیں سنیں۔ حسین کی کچھ اور بھی عجیب و غریب باتیں ہمیں دکھائی دیں جو بیان نہیں کی جا سکتیں۔

اسی طرح کا ایک واقعہ برادر اعتمادی کو بھی پیش آیا تھا، جو اس نے حسین کی شہادت کے بعد ہمیں بتایا۔

حسین علی عالی محرم 1387؁ھ میں زابل کی اطراف میں واقع ایک گاؤں میں عشق حسین علیہ السلام لیے پیدا ہوا۔ جنگ کے آغاز میں اس کی عمر چودہ سال تھی۔ ہائی سکول کے دوسرے سال ہی وہ محاذ پر روانہ ہو گیا۔ پہلے کردستان گیا۔ بہت جلد ہی اسے اپنی ذمہ داری اور توانائی کا احساس ہو گیا۔ اس کے بعد وہ انٹیلی جنس آپریشن کے شعبے میں مشغول ہو گیا۔

والفجر۸، کربلاایک اور فتح مہران جیسے معرکوں میں شامل رہا۔معرکہ کربلا ۴ اور ۵ میں کیمپ انچارج رہے اور ثار اللہ ڈویژن کی ریکی ٹیم کی سربراہی کا فریضہ انجام دیا۔ وہ بچپن ہی سے خلوت میں خدا کے ساتھ راز و نیاز کیا کرتا تھا۔اس کے گھر والے اور دوست اس کی مناجاتوں کے کئی قصے سناتے ہیں۔ ان دعاؤں اور سوز و گداز کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ مکاشفے اور روحانی درجات تک پہنچ چکا تھا۔ اگرچہ وہ اپنے مشاہدات کو کبھی بھی برملا بیان نہیں کیا کرتا تھا مگر اس کے قریبی دوست اس چیز کی آگاہی رکھتے تھے۔

ہم نے کبھی بھی اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کسی بھی شخص کی غیبت کرنے کی کبھی بھی اجازت نہیں دیتا تھا۔ حسین مراقبہ نفس، مجاہدت اور کوشش سے اس درجے تک پہنچ چکا تھا کہ ہمارے لیے اصلاً قابل ادراک نہ تھا۔ اس نے اپنی ایک مناجات میں لکھا تھا:

خدایا! میں نے تیری رحمتوں اور نعمتوں کا ان آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ دل کی آنکھوں سے نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنی انہی آنکھوں سے۔۔۔

وہ اپنے مولا حضرت علی علیہ السلام اور اپنے رہبر حضرت امام خمینیؒ کی طرح ہر موجود میں خدا کے جلوے دیکھتا تھا۔ موجودات عالم کی تسبیح اسے سنائی دیتی تھی۔ بعض اوقات وہ کہتا تھا: ’’انسان ایسے مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ زمین سے باتیں کر سکے، ہوا سے گفتگو کر سکے اور ان کے جوابات بھی سن سکے۔‘‘ اس کے جتنے بھی ساتھی تھے زیادہ تر شہید ہو گئے لیکن جو باقی بچے وہ اس کے بہت ہی عجیب و غریب واقعات سناتے ہیں۔ کبھی کسی چیز کے ساتھ مکالمہ اور کبھی کسی شے کے ساتھ باتیں۔۔۔

اس کی باتیں بھی بہت ہی عجیب ہوا کرتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ’’دائمی حضور‘‘ کی حالت میں رہتا اور اس حالت کی علامت یہ تھی کہ وہ اپنی شہادت سے آگاہ تھا۔

اپنی شہادت سے چودہ روز پہلے اس نے مجھے کہا تھا: ’’میں چودہ دن بعد شہید ہو جاؤں گا۔‘‘

اس نے اپنا وصیت نامہ اپنے ایک دوست کو دے دیا تھا لیکن پھر اس سے واپس لے کر کہنے لگا: ’’تم مجھ سے فوراً بعد شہید ہو جاؤ گے۔‘‘

پھر اس نے وہ وصیت نامہ مجھے دے دیا اور کہا: ’’تم اس معرکے میں شہید نہیں ہو گے۔‘‘

معرکہ کربلا۵ میں تو اس نے شہادت کی داستان رقم کر دی۔ جس جگہ پر ہم لوگ خارداروں تاروں میں پھنس کر رہ گئے تھے وہاں  وہ تاروں کے اوپر لیٹ گیا تا کہ مجاہدوں کے لیے راستہ بنا سکے۔

کچھ دیر بعد دشمن کے مورچے فتح ہوتے ہی وہ علاقہ ہمارے قبضے میں آ گیا لیکن حسین کا بے جان پیکر گویا انہی خاردار تاروں پر رکوع و سجود میں مشغول ہو گیا تھا۔ حسین کے ایک استاد تھے جن کے فراق میں وہ ہمیشہ روتا رہتا تھا۔اس کے استاد شہید یوسف الٰہی تھے جو اس سے ایک سال پہلے ہی شہید ہو گئے تھے۔ حسین، یوسف الٰہی کا نوحہ ان الفاظ میں پڑھتا ہے:

’’اے شہید یوسف الٰہی! اٹھو کہ محرابِ نماز تمہارے سلام کے انتظار میں ہے۔ اٹھو اور اس نماز عشق کو پورا کرو جسے تم سلام کےبغیر ہی چھوڑ کر اپنے معشوق کی طرف پرواز کر گئے ہو۔

یہ نماز جسے تم نے بغیر سلام کے چھوڑ دیا ہے، فرشتگانِ الٰہی کے ذمے لگا دی گئی اور انہوں نے اسے پورا کر دیا ہے۔ اب وہ اسے پورا کرنے پر فخر و مباہات کر رہے ہیں۔۔۔

اے شہیدو! ہمیں بھی بتاؤ کہ ہم بھی تمہارے راستے پر اپنے قدم رکھیں اور تمہارے جوار میں آ جائیں۔ تم کس مکتب کے مؤذن ہو کہ تمہاری آنکھوں میں نورِ ایمان اور تمہاری نگاہوں میں شہادت کا انتظار جلوہ گر رہتا تھا۔

ہمیں بتاؤ اے لالہ کے سُرخ پھولو! اے آزاد اور پارسا لوگو! اے حسینی راستے کے مسافرو! اے کوئے دوست کے راہیو! تم کس ستارے کی طرف بلائے گئے ہو؟! تم نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ اس تک پہنچ بھی گئے ہو اور تمہارے ہونٹوں پر ہمیشہ عروج و پرواز ہی کی باتیں رہتی ہیں؟!

ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہماری بھی رہنمائی کرو اور ہمیں اس دنیا میں تنہا نہ چھوڑو۔ ہاں، اے دوستو! تمہارے سوگ میں زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا ہمارے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ اس دنیا میں جس طرف بھی ہم دیکھتے ہیں تمہاری ہی مقدس روح ہمارے اعمال و افعال کا نظارہ کر رہی ہوتی ہے۔

تمہیں ایسا عروج مبارک ہو! خدایا! جتنا جلدی ہو سکے مجھے میرے دوستوں تک پہنچا دے۔‘‘

شہید حسین عالی کے وصیت نامے میں ایک جگہ لکھا ہے:

خداوندا! نہ جنت کا مشتاق ہوں اور نہ ہی شہادت کا خواہاں! میں فقط ولایت چاہتا ہوں۔ مجھے مولا علی علیہ السلام کی ولایت پر موت دے اور قبر کی پہلی رات انہیں میری مدد کے لیے بھیج دے۔

خدایا! ہمیں امام حسین علیہ السلام کے دوستوں میں سے قرار دے تا کہ آخرت میں ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ہو جنہوں نے حسین علیہ السلام کی مدد کی تھی۔

میرے مزار پر میرا نام اور کوائف نہ لکھیں۔ فقط اتنا لکھیں کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ میری قبر کو زمین سے ہموار کر دینا۔ میری پیشانی پر وہ کپڑا باندھ دینا جس پر یا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نام مبارک لکھا ہو۔

خدایا! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ مظلوموں کے امام اور ہمارے اس عظیم رہبر خمینی نے فرمایا ہے کہ  اس جنگ میں ہمارے سپہ سالار خود حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا لہ الفداء ہیں۔ میں بھی مورچے میں اسی طرح آیا ہوں جس طرح زائرین بیت اللہ تیرے گھر کے گرد جمع ہو جاتے ہیں تا کہ کعبہ ، جو تیرا گھر ہے،کی زیارت کریں اور اس کے دوسرے واجب اعمال بجا لائیں۔۔۔

خدایا! میں عاصی و روسیاہ اگر محاذ پر تیرے گھر کی زیارت نہ کر سکوں تو  (کوئی حرج نہیں) لیکن چاہتا ہوں کہ تجھ سے ملاقات کر کے تیری زیارت کر لوں اور پانی سے غسل کرنے کی بجائے اپنے خون میں نہا جاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا خون بہنے کے بدلے، جو درحقیقت غسل  ہی ہو گا،  تو میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور کسی جانور کی قربانی دینے کی بجائے میں تیری راہ میں اپنی قربانی پیش کرتا ہوں۔ شاید اس سے تیری رضا حاصل ہو جائے، تو مجھے بخش دے اور اس حج کو قبول کر لے!

خدایا! میں چاہتا ہوں کہ شہداء کی طرح مردانگی سے ان کے  راستے پر چلوں اور اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کی اس راہ کو جاری رکھوں۔

میں بھی اپنے دوستوں کی طرح اس ستارے کی طرف پرواز کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھے امید  کے نور سے اجال کر رکھ دیا ہے۔ میرے سب خاندان والوں کی غلطیوں سے درگزر فرما اور میرے ماں باپ کا جو حق میری گردن پر ہے، تجھے اپنے جلال کی قسم، اسے ادا فرما!

معصیت اور سوز و گداز میں سرتاسر ڈوبا ہوا بندہ

  حسین علی عالی