ساتواں باب
فقر و غنا
وہ شہادت کے لیے لمحات گن رہے تھے۔ اپنے آپ کو سب کی دعاؤں کا محتاج سمجھتے تھے۔ شہدا کے بچوں سے لے کر بیابان کے ہرنوں تک سے شہادت کی دعا کرنے کی التجا کرتے۔ شہدا کے بچوں سے التماس کرتے کہ وہ ان کی شہادت کے لیے دعا کریں۔
اس مرحلے میں انسان حق تعالیٰ کی ذاتی تجلی تک پہنچ جاتا ہے اور صرف ’’ہستیٔ مطلق‘‘ اور ’’ وجودناب‘‘ کا شہود کرتا ہے اور فنائے مطلق تک پہنچ جاتا ہے۔ اس مرحلے میں سالک کی فنائے تام پر وحدتِ تامِ الٰہی جلوہ افروز ہوتی ہے۔
انگوٹھی کا حق ادا کریں
میں نے کہا: ’’حاج قاسم! کیا آپ اپنی انگوٹھی مجھے ہدیہ دے سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے سر نیچے کر لیا اور مسکرانے لگے۔ میں نے دوبارہ کہا: ’’کیا آپ مجھے اپنی انگوٹھی تحفے میں دے سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’آپ کس شہر سے آئی ہیں؟‘‘ میں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ’’مشہد سے آئی ہوں۔‘‘ انہوں نےا پنی انگوٹھی اتاری اور مجھے دیتے ہوئے کہا: ’’میں اپنی انگوٹھی آپ کو دیتا ہوں مگر آپ کو اس کا حق ادا کرنا ہو گا!‘‘
شہید محرابی کی بیٹی زینب کہتی ہیں: ’’مجھے ان کی اس بات پر تعجب ہوا۔ میں نے ان سے پوچھا:’’حاج قاسم! کیا مطلب کہ انگوٹھی کا حق ادا کروں؟!‘‘ ہنس کر کہنے لگے: ’’یعنی جب بھی امام رضا علیہ السلام کے حرم میں جائیں تو میرے لیے شہادت کی دعا کریں۔‘‘ اچانک میرا دل لرز گیا، میں نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ’’مجھے انگوٹھی نہیں چاہیے۔ آپ سلامت رہیں، آپ مزاحمت کا مرکز و محور ہیں، آپ آغا(۱ ) کے بازو ہیں۔ مجھ جیسے اور میرے بچوں جیسے سو شہدا بھی شہید ہو جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کا ہونا ضروری ہے۔‘‘
(۱ )رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ علی خامنہ ای۔
شہادت سے پہلے شہدا کی ہجرت
شہید کا وہ باپ جسے میں نام سے جانتا ہوں، جب اس نے اپنی بیٹی کو خداحافظ کہنا چاہا تواپنا ہاتھ اپنی بیٹی کے چہرے پر ملا اور پھر اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس کی بیوی نے اس سے پوچھا:’’تم اسے دیکھ کیوں نہیں رہے؟!‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میں ڈرتا ہوں کہ وہ میرے پاؤں کی زنجیر نہ بن جائے اور میں جا نہ سکوں۔‘‘
شہید سردار سلیمانی
قیدیوں کو پانی دینا
ہمارا کام ختم ہو گیا۔ گرمیاں تھیں اور موسم شدید گرم تھا۔ جوان پانی لے کر آئے۔ محاذ کے انہی سرخ رنگ کے پلاسٹک کے گلاسوں میں انہوں نے پانی ڈالااور ہم نے پیا۔ اس کے بعد میں نے گلاس میرزائی کو دیا اور واپس آ گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے پانی نہیں پیا اور ایک بسیجی( ۱) سے جو قیدیوں کی نگرانی پر مامور تھا، پوچھا: ’’انہیں پانی پلایا ہے؟!‘‘ بسیجی نے کہا: ’’پانی نہیں ہے۔انہیں بعد میں پلائیں گے۔‘‘ میں دور سے دیکھ رہا تھا۔ میرزائی قیدیوں کی طرف گیا۔ پانی کا گلاس پہلے قیدی کے ہاتھ میں دیا۔ بسیجی برادر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: ’’اگر عراقی ہمیں قید کر لیتے تو کیا ہمیں پانی پلاتے؟‘‘ میں نے میرزائی کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا: ’’ہم ان سے مختلف ہیں۔ہمارے پاس امام خمینیؒ جیسا رہبر ہے۔‘‘
(۱ ) ایران عراق جنگ میں امام خمینیؒ کے حکم پر وجود میں آنے والی رضاکار عوامی فوج، جسے بسیج کہا جاتا ہے۔ اس فوج میں موجود سپاہی بسیجی کہلاتے ہیں۔
شہید سردار سلیمانی
پچھلی کرسی پر قرآن حفظ کرنا
ایک گاؤں میں ہونے والی محفلِ قرآن میں وہ اچانک ہی آ گئے اور باقی افراد کی طرح ایک کونے میں بیٹھ کر زبانی قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے۔ میں نے پوچھا: ’’آپ کو اتنی ڈھیر ساری مصروفیات میں قرآن حفظ کرنے کا وقت کیسے مل گیا؟‘‘ کہنے لگے: ’’مختلف شہروں میں ماموریت کے دوران ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر قرآن مجید پڑ ھتا رہتا ہوں۔‘‘
ایسا مجاہد جو ضریح کی گرد جھاڑنے گیا
ایک بار جب حاج قاسم امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ مقدس میں شرفیاب ہوئے تو وہ ضریح مقدس سے غبارروبی( ۱) کا دن تھا۔ غبارروبی میں فقط علما ہی ضریح مقدس کے اندر جا سکتے ہیں۔ حاج قاسم امام رضا علیہ السلام سے راز و نیاز کر رہے تھے اور اشک بہا رہے تھے۔ غبارروبی مکمل ہوئی تو میرے دل نے کہا کہ یہ مرد جو کھڑا ہے اور امام رضا علیہ السلام کے لیے آنسو بہا رہا ہے، اس نے حرم اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کی ہے، یہ حقیقی خادم ہے۔ میرے ذہن میں آیا کہ ضریح میں فقط علماء کے جانے کی دائمی رسم پر دلیل اور فلسفے کی روشنی میں اعتراض کروں۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا: ’’حاج قاسم سے کہیں کہ ضریح مطہر کے اندر آ جائیں۔‘‘ ان پر عجیب روحانی کیفیت طاری تھی۔جن مقامات پر انہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے شہادت کی آرزو کی تھی، ان میں سے ایک وہ جگہ بھی تھی۔
(۱ )ضریح مقدس سے گرد و غبار صاف کرنے اور اندر سے صفائی ستھرائی کرنے کو غبارروبی کہا جاتا ہے۔
آیت اللہ رئیسی
حضرت امام رضؑا کے خادم سے حاج قاسم کی درخواست
جس شب حاج قاسم نےحضرت امام رضا علیہ السلام کا خادم بننے کا حکم لیا، تو میں نے اس تقریب میں یہ شعر پڑھا:
ای صفای قلب زارم ، هر چه دارم از تو دارم
تا قیامت ای رضا جان ، سر ز خاکت برندارم (۱)
اتفاق سے شبِ جمعہ تھی۔ میں نے کہا کہ مرکزِ بحالی صحت چلتے ہیں۔ سب دوست آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔‘‘
ہم چائےپی رہے تھے تو انہوں نے شکریہ ادا کیا اور اپنے اسی کرمانی لہجے میں کہا: ’’اگر کسی دن اس حرم میں میرا جنازہ آئے تو وعدہ کرو کہ وہی شعر میرے لیے دوبارہ پڑھو گے!‘‘
(۱ ) اے میرے مضطرب دل کا اطمینان! میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ آپ ہی کی وجہ سے ہے۔ اے میرے امام رضا علیہ السلام! میں تاقیامت آپ کی خاک سے سر نہ اٹھاؤں۔
امیر عارف، امام رضا علیہ السلام کے خادم