تیس ماہ اور
[شہید عبداللہ میثمیؒ]
1955ء میں اصفہان میں آنکھ کھولی۔ نوجوانی ہی میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ اصفہان میں داخل ہو گئے۔اس کے بعد قم آ گئے۔ یہاں عظیم شہید ردانی پور کے ہم حجرہ ٹھہرے۔یہی اس بات کا سبب بنا کہ یہ بھی انقلابیوں میں شامل ہو گئے۔ شاہ کی آمرانہ حکومت سے ٹکراؤ کی وجہ سے تہران کے زندان قصر میں انہیں قید کر دیا گیا۔ انہیں زیادہ سے زیادہ اذیت دینے کے لیے ایک کیمونسٹ کو بھی ان کی کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا۔ آزاد ہونے کے بعد جنگ و تبلیغ کے لیے شہر کُرد چلے گئے۔ جنگ شروع ہو گئی۔ انہوں نے شادی بھی کی مگر بقول ان کے اپنے، محاذ ہی ان کی زندگی تھی۔ وہ محاذ پر پوری نماز پڑھا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا وطن ہے۔وہ خاتم الانبیاءؐ کمانڈ سینٹر میں امام خمینیؒ کے نمائندے بھی تھے۔ ان کی نمازِ جماعت کافی معروف تھی۔ وہ کبھی بھی نماز جماعت کو طولانی نہیں کرتے تھے مگر فرادیٰ نماز میں ان کے سجدے کافی طولانی ہوتے اور گریہ بہت زیادہ ہوتا تھا۔ اپنے آخری دنوں میں کہا کرتے تھے: میں اپنے آپ کو اچھا نہیں جانتا۔ میں تھک چکا ہوں۔ شہداء کی محافل میں بے حساب تقریریں کر چکا ہوں۔ جب سے محاذ پر آیا ہوں تو مہینوں کو شمار کر رہا ہوں۔ جب تیس ماہ پورے ہو جائیں گے تو اس کی تنخواہ خدا سے لوں گا!!
شہادت پر جانے سے پہلے انہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھی۔ معرکہ کربلا۵ کے دوران وضو کرنے کے لیے مورچے سے باہر آئے تو پھر پلٹ کر نہ آ سکے۔(زخمی ہوئے تو) انہیں ہسپتال لے جایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے اور کچھ دن بعد یکم فروری 1987ء کو شہادت سے ہمکنار ہو گئے۔ جس دن وہ شہید ہوئے اس دن حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا دن تھا اور اسی دن ان کی اس بات کو تیس مہینے پورے ہو چکے تھے کہ میں اپنی تیس مہینوں کی تنخواہ خدا سے وصول کروں گا۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الحمد لله رب العالمین و الصلوة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین ابی القاسم محمد صلی الله علیه و علی اهل بیته الطیبین الطاهرین.
اما بعد!
خدا نے مجھے توفیق عنایت فرمائی کہ 7 مارچ 1982ء کی رات یعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام میں اس وصیت نامے کو لکھ رہا ہوں:
خدایا! تو خود گواہ ہے کہ اس وقت جبکہ میں تیری بارگاہِ وحدانیت میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں، سخت شرمندہ اور شرمسار ہوں کیونکہ میں تیرے بندوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ حق کے محاذوں پر باطل کے خلاف جنگ لڑتے ہیں اور اپنے مورچوں میں بیٹھ کر اپنی وصیتیں لکھتے ہیں۔
خدایا! میرا دل اس بات پر کڑھتا رہتا ہے کہ میں کیوں زمین سے چپک کر بیٹھ گیا ہوں۔ خدایا! اگر میں بے چارہ اسی لمحے مر جاؤں تو کل روزِ قیامت ان جوانوں کے سامنے اپنا سر نہ اٹھا پاؤں گا جو دنیا کی عیش و عشرت کو ٹھوکر مار کر تیری بارگاہ میں آ چکے ہیں۔
۔۔۔اے میرے عظیم بابا، میری مہربان ماں، بہنو، بھائیواور وہ تمام لوگو جن کے ساتھ میں دنیا میں مانوس رہا ہوں، سب سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ میری مغفرت کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہو کیونکہ میں روسیاہ اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ تم نہیں جانتے کہ خدا نے مجھ پر کتنا لطف کیا اور میرے گناہوں کو تم سب سے پوشیدہ رکھا۔
پوری زندگی میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا اور میرا خون جلایا، وہ میرے اندر اخلاص کا نہ ہونا تھا۔ اب نہیں جانتا کہ خدا کی بارگاہ میں اپنا کون سا عمل لے کر جاؤں؟!
دوسری چیز جس نے میری زندگی کو ناکامیوں کی دلدل میں دھکیلا اور میں بہت سی نعمتوں سے فیضیاب نہ ہو سکا وہ میری بدنظمی تھی کہ میں ہر کام میں ہاتھ ڈال دیتا اور کسی کو بھی پایہ تکمیل نہ پہنچاتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرا دامن نیکیوں سے خالی ہے۔
تیسری چیز جس نے میرا پتا آب کیے رکھا اور دنیا ہی میں مجھے ہلکان کیے رکھا کہ کل قیامت کو میرا کیا حشر ہو گا، وہ تھی غیبت کرنا۔
خدا کرے کہ آپ کی دعاؤں کے صدقے میں خدا ان تمام لوگوں کو ہم سے راضی کر دے جن کا ہماری گردن پر کوئی نہ کوئی حق رہتا ہے۔
بابا! مجھے وہ لمحات کبھی نہیں بھول سکتے جب آپ قصر جیل کی سلاخوں کے پاس کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے: ’’خدایا! میں اپنے اس بیٹے سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی رہنا۔‘‘ آپ کی ان باتوں نے مجھے کتنا آسودہ کر دیا تھا۔۔۔
میری ماں! آپ وہ ماں ہیں کہ آپ نے جیل میں مجھ سے پہلی ہی ملاقات کے وقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا والا جذبہ دکھایا تھا۔ آپ نے کہا تھا: میرے بیٹے! پریشان نہ ہونا، تم امام زمانہ عج کے سپاہی ہو، اپنے درس اچھی طرح پڑھتے رہو۔‘‘ آپ نے ان باتوں سے مجھے ہولناک گرداب سے اطمینان کے ساحل پر پہنچا دیا تھا۔
اب اگر آپ کا یہ حقیر بیٹا اپنا سفید چہرہ لیے فاتحانہ انداز میں اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو جان لیں کہ یہ اسی دعا کے مستجاب ہونے کا ثمر ہو گا جو آپ نے اپنی شادی کے پہلے سال ایک صالح فرزند کے لیے کی تھی۔ اب خدا نے اس صالح فرزند کو آپ سے قبول کر لیا ہے۔
اے میری بہنو! اپنی اولاد کی حبِ اہل بیتؑ پر تربیت کرو۔ انہیں ولایت فقیہ سے آشنا کرو۔
تم جانتی ہو کہ پیغمبر خداؐ نے ہمیں اہل بیتؑ کے سپرد کیا اور امام زمانہ عج نے ہمیں فقہاء کے حوالے کیا ہے۔ کہیں ایسا قدم نہ اٹھا بیٹھنا جو مرجع تقلید کے راستے سے ہٹ کر ہو کیونکہ اس صورت میں خدا کے حضور تمہارے پاس کوئی دلیل و حجت باقی نہیں رہے گی۔
میرے عزیز بھائیو! اس بات کو کبھی فراموش نہ کرو کہ تم امام زمانہ عج کے سپاہی ہو۔تمہارا یہ بھائی تو اس عظیم سعادت کی لیاقت نہ رکھتا تھا مگر تم سے امید ہے کہ تم امام زمانہ عج کے اصحاب و انصار میں سے شمار ہو گے۔
کوشش کرو کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرتے ہوئے اہل بیتؑ کے سرچشمے سے استفادہ کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو سیاسی گروہوں میں بٹ جاؤ اور علم و علماء کی معنویت و روحانیت سے ہاتھ دھو بیٹھواور اچانک تمہیں معلوم ہو کہ سوائے لباس کے تمہارے اندر علماء والی کوئی خوبی باقی نہیں رہی! اِدھر اُدھر نہ جھانکو، فقط نائب امام زمانہ عج کی طرف اپنی نگاہ رکھو تاکہ کسی دھوکے کا شکار نہ ہو جاؤ۔
غیبتوں اور تہمتوں کے گرداب میں نہ گر جانا۔ خدا گواہ ہے کہ یہ بدگوئیاں ایمان کو کھا جاتی ہیں اور انسان کے اندر سے معنویت اور روحانیت کو نکال باہر کرتی ہیں۔ اور نہ صرف یہ بلکہ خدا کے ساتھ کی جانے والی مناجات کی لذت کو بھی ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔
میں اپنے تمام دوستوں سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ فقط دو دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ میری قبر پر زیادہ آیا کریں۔ ایک آغا مصطفیٰ ردّانی پور اور دوسرے کتاب ’’فصول‘‘ کے مصنف سید مرتضیٰ۔ میری جانب سے سید احمد حجازی کی قبر پر بھی جائیں اور شب جمعہ مرحوم علامہ مجلسی کی زیارت کو بھی فراموش نہ کریں۔
آغا مطہری کی قبر کی زیارت انسان کو علم و حکمت، آغا مدنی کی زیارت تقویٰ و زہد اور آغا بہشتی کے مرقد کی زیارت سوز و گداز عطا کرتی ہے۔ ان قبور کی زیارت کبھی نہ بھولیں۔
خدایا! ہمیں امام زمانہ کے مددگاروں میں سے شمار فرما!
خدایا! ہمیں شہداء کے ساتھ ملحق فرما۔ پروردگارا! ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔ خدایا! ہمارے والدین کو ہم سے راضی و خوشنود فرما۔ پروردگارا! محبت اہل بیتؑ کو ہم سے اور ہمارے بچوں سے سلب نہ فرما۔
افسوس که عمری پی اغیار دویدیم | از یار بماندیم و به مقصد نرسیدیم |
افسوس کہ ہم ساری عمر غیروں کے پیچھے بھاگتے رہے۔ اپنے دوست سے بچھڑ گئے اور مقصد تک نہ پہنچ سکے۔ سرمایہ ہمارے ہاتھوں سے جاتا رہا اور ہم نے تجارت نہیں کی۔ سوائے حسرت و اندوہ کے کچھ بھی نہ خریدا۔ | |
والسلام