یا زہراء سلام اللہ علیہا
[شہید محمد رضا تورجی زادہؒ]
وہ عاشق تھے، ایک دلگرفتہ عاشق۔ ملکوتی چہرے کے مالک اور تمام خوبیوں کا مظہر تھے۔ ان کا پورا وجود حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی محبت میں گندھا ہوا تھا۔ ذاکر تھے اور انتہائی خوبصورت اور دلنشین آواز کے حامل۔ آج بھی ان کی ملکوتی آواز دلوں کو آسمانوں کی سیر کرا لاتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام ڈویژن میں ایک بٹالین تھی، جس کانام تھا ’’یا زہرا سلام اللہ علیہا‘‘، اس کی کمانڈ ان کےہاتھ میں تھی۔ محمد بسیجیوں کےدلوں پر حکومت کرتے تھے۔ مجاہد ان کے عاشق تھے۔ مشکل ترین ذمہ داریوں اور معرکوں کے وقت بھی وہ موجود ہوتے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سےتوسل اور ان کی خاص عنایت کے وسیلے سے ان مراحل کو فتح مندی اور کامیابی سے طےکر لیتے تھے۔
1987 کے نوروز کےدنوں میں مشہد کے سفر میں انہوں نے اپنی شہادت کی سند لےلی تھی، حتی کہ وہ اپنی شہادت کی جگہ اور وقت کے بارے میں بھی جان چکے تھے، یہاں تک کہ اپنے قبر کی جگہ بھی خود ہی مشخص کی تھی اور کہا تھا: ’’میری قبر پر فقط اتنا ہی لکھنا: ’’یا زہرا سلام اللہ علیہا۔‘‘
معرکہ کربلا 10 میں انہوں نے اپنی شجاعت کی داستانیں رقم کر دیں۔ 25 اپریل کا دن تھا۔ ایک مارٹر گولہ لگنے سےان کے آسمانی سفر کا آغاز ہو گیا۔ محمد رضاتورجی زادہ نے اپنے پہلو، سر اور بازؤوں پر لگنے والے چھروں کےزخموں کو لیے ہوئے اپنی ماں (حضرت زہرا سلام اللہ علیہا) کی اقتداء کی!
شہادت کے وقت ایک خوبصورت مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پرکھیل رہی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنے پیغام میں کہا: ’’یہ میرے لیے سب سےبڑا افتخار ہے کہ میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ کی آغوش مبارک میں جان دے رہا ہوں۔‘‘
قرآن نے شہداء کو زندہ کہا ہے۔شہادت کے بعد محمد کی موجودگی کا احساس پہلے سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے! ان کا مزار آج بھی گلستانِ شہداء اصفہان میں عشاق کے لیے دارالشفاء اور عارفوں اور دل سوختگان کے لیے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔ ان کے مزار پر وہ لوگ بھی آ تے ہیں جنہوں نے جنگ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رکھا۔ انہیں لوگوں کی مشکلات حل کرنا اچھا لگتا تھا اور یہ سلسلہ اس شکل میں ابھی تک جاری ہے! محمد رضا اس امت کے عزیز امام کے اس نورانی کلام کا مصداق تھے: ’’شہداء کی قبریں قیامت تک کے لیے دار الشفاء ہیں۔‘‘
محمد نے اپنے آخری سفر سے پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ چھوڑا تھا۔ پھر وصیت نامے کی جگہ بتائی اور چلے گئے۔ وہ اپنے وصیت نامے میں کہتے ہیں:
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اس نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے پیغمبر بھیجے کہ جن میں سے آخری پیغمبر نبی اکرم محمد بن عبداللہﷺ ہیں۔اور انہوں نے اس امت کے سیدھے راستے کو جاری رکھنے اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات سے انحراف سے بچنے کے لیے حضرت علی علیہ السلام کواپنے بعد ولی اور وصی منتخب فرمایا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت حق ہے اور انسان کے اعمال کو تولنے کے لیے میزان کا بھی وجود ہے۔ بہشت و دوزخ حق ہیں اور اعمال کے بدلے اجر و سزا بھی حق ہے۔
آج رات میں جو اپنا قلم کاغذ پر چلا رہا ہوں تو اس کا ہدف ان شاء اللہ اپنے دوست کی خوشنودی اور اپنے وظیفہ کی انجام دہی کے علاوہ کچھ نہ ہو گا۔ اس راہ میں ایثار و قربانی کی جو جو ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہوئیں میں نے انہیں انجام دینے میں کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کی۔
جب میں نے اس راہ میں اپنا پہلا قدم رکھا تو وہ خدا سے ملاقات اور شہادت کی نیت سے تھا۔آج اس مدت کے گزرنے کے بعد میرے اندر اس بات کی پہلے سے زیادہ رغبت پیدا ہو چکی ہے کہ یہ دنیا ایسی جگہ ہے ہی نہیں کہ میرا دل جس میں رہنے کی خواہش کرے۔
خدایا! تو گواہ ہے کہ میں نے اس مقدس سپاہ کا لباس اس عشق و نیت سے اپنے تن پر اوڑھا ہے تا کہ وہ میرے لیے خون میں ڈوبا ہوا کفن بن جائے۔
خدایا! مجھے ہمیشہ اس چیز کی فکر رہتی تھی کہ کہیں میری وجہ سے میرے عزیز امام کی آنکھوں میں آنسو نہ آ جائیں۔
اگر اس عرصے میں میں نے اس عظیم نعمت پر شکر نہیں کیا یا ان کے فرامین سے سرتابی کی ہے تو مجھے بخش دے۔ خدایا! اعمال کو جانچنے کا معیار خلوص ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرا خلوص کم ہے لیکن اگر مخلص نہیں ہوں تو پھر بھی تجھی سے امید رکھتا ہوں۔
اگر گناہ و معصیت نے میری بینائی رحمت کو اندھا کر دیا ہے تو اپنے لطف و کرم سے مجھے اپنی حفاظت میں لے لے کہ لیاقت کے ذریعے جس تک پہنچنا سینکڑوں میل کی دوری پر ہے۔
میرے مجاہد دوستو! مجھے تم سے بھی کچھ کہنا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا تھا: بسیجیو، سپاہیو، یہ لباس جو تم نےزیبِ تن کیا ہے یہ فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے ایک خلعت ہے، پس اپنی لیاقت کو ثابت کرنا۔
اپنے امور میں نظم و ضبط کو اپنا اولین اصول قرار دو۔ہر روز اپنی معنویت و روحانیت اور روح کی طہارت میں اضافہ کرتے رہو۔نمازِ شب کو اپنا وظیفہ بنا لو۔ حدودِ الٰہی کے محافظ رہو۔ اپنے اعمال پر گہری نظر رکھو کیونکہ محاذ حرمِ خدا ہے۔اس حرم میں ضروری ہے کہ ناپاکیوں اور آلائشوں سے دور رہو۔
میرے عزیزو! امام کو ایک سورج کی طرح سمجھو۔ اس کے گرد چکر لگاؤ۔اس کے مدار سےخارج نہ ہو جاؤ ورنہ تمہاری نابودی یقینی ہے۔
میرے بابا اور ماں! آپ سے بات کرنامیرے لیے سخت مشکل ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی مجھ سے خصوصی محبت کی وجہ سے اس غم کا بوجھ اپنے دل پر لینا آپ کے لیے سخت مشکل ہے۔ بابا جان! آپ کی کمر خم نہ ہونے پائے۔ میری ماں! آپ کے گریےکی آواز کسی کے کانوں تک نہ پہنچے۔
ماں اور بابا! جس طرح آپ لوگوں نے پہلے استقامت دکھائی اب اپنی زندگی کے اس عظیم مرحلے پر بھی صبر کا مظاہرہ کیجیے۔ اپنے صبر کے ذریعے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیجیے۔
میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا جنازہ سپاہ کے لباس ہی میں لایا جائے اور آپ کے ہاتھوں سے قبر میں اتارا جائے۔
آپ نے بچپن ہی سے ایک محب حسین و زہرا علیہما السلام کے طور پر میری تربیت کی ہے۔ دشمن کے طعنوں سے ہر گز خوف نہ کھائیے۔
محبت کی انتہاء اور معراج یہی ہے کہ عاشق معشوق میں فنا ہو جائے اور میں فانی فی اللہ ہوں۔ ہم سبھی کو جانا ہے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ۔ اہمیت فقط اس بات کی ہےکہ ہم جا کس انداز سے رہےہیں اور ساتھ کیا لے کر جا رہے ہیں۔
میرے بھائی اور میری بہنو! اپنی زندگی میں خوشنودی خدا کے علاوہ کسی بھی چیز پر توجہ نہ دو۔جو کچھ بھی تم کرتے ہو اور کہتے ہو اس میں رضائے خدا شامل ہونی چاہیے۔ ایک شہید کی وجہ سے اپنے آپ کو انقلاب کا وارث سمجھ کر کس قسم کا حق نہ جتانا۔
اگر میں فرزند اور بھائی ہونے کا حق ادا کرنے میں کسی کوتاہی کا شکار ہوا ہوں تو مجھے معاف کر دینا۔ میں نےسب کو معاف کر دیا ہے۔ اگر کسی کی طرف سے میرے لیے غیبت یا تہمت وغیرہ تھی تو وہ میں نے معاف کر دی۔ امید کرتا ہوں کہ تم بھی مجھے معاف کر دو گے۔ میں نےاس لیے معاف کر دیا تا کہ خدا بھی مجھے معاف کر دے۔
اگر میری میت لاتے ہیں تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ میری قبر پر یہ لکھیں: ’’یا زہرا سلام اللہ علیہا۔‘‘
میری طرف سےمیرے تمام رشتہ داروں سے میرےلیے معذرت خواہی کرنا۔
خدایا! نزع کی سختی کو ہم پر آسان فرما! آخری لمحات میں یوسفِ زہرا علیہما السلام کے جمال سے ہماری آنکھوں کو منور فرما!
خدایا!یا مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اور یا زہرا سلام اللہ علیہا کو ہمارا کلام قرار دے۔ خدایا!قبر میں میرا مونس و غمخوار رہنا کہ میرے پاس نہ تو بچھونا ہے، نہ چراغ اور نہ کوئی مونس۔
خدایا! ہمیں ان حقیقی شہداء میں سےقرار دے جو عرشِ الٰہی پر تیرےجوار میں مولا حسین علیہ السلام کے ساتھ رہتے ہیں۔
والسلام
محمد رضا تورجی زادہ