حدیث عشق، شہید ناصر الدین باغانی کا وصیت نامہ
1967ء میں قم کے ایک مذہبی اور عالم گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کا خاندان انقلاب کےحادثات شروع ہوتے ہی لوگوں کی مدد کےلیے سبزوار منتقل ہو گیا۔
ان کے والد پہلے پارلیمانی انتخابات میں سبزوار سے عوامی نمائندہ منتخب ہوئے۔
ناصر الدین حزب جمہوری کے یوتھ ونگ میں شامل ہو گئے۔ اس عرصے میں انہوں نے قرآن کے منعقدہ مقابلوں میں چار بار پہلا رتبہ حاصل کیا۔ ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد امام صادق علیہ السلام یونیورسٹی میں ان کا داخلہ ہو گیا۔
وہ کہتے تھے: میں نے امام صادق علیہ السلام یونیورسٹی چھوڑ کر امام حسین علیہ السلام یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ہے اور اپنی تعلیمی سند حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے ہاتھوں سے وصول کی ہے۔
پہلی بار انہوں نے معرکہ بدرمیں شرکت کی اور 12 مارچ 1987ء میں ہونے والے معرکہ کربلا 5 میں شہید ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر 19 سال سے بھی کم تھی۔
ان کی تحریریں اور وصیت نامہ بہت ہی عجیب ہیں۔
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی اس عظیم شہید کے بارے میں فرماتےہیں: ’’میں نے اس عزیز کی تحریروں کو کئی بار پڑھا ہے اورہر بار ان سےتازہ فیض پایا ہے۔‘‘
بسم رب الشہداء و الصدیقین
میں خداوند کریم کی بارگاہ کا حقیر بندہ ناصر الدین باغانی وصیت کی رسم پوری کرنےکے لیے چند جملے لکھتا ہوں۔ میں اپنی بات کا آغاز عشق کے بارےمیں کروں گا۔
هر آنکه نیست در این حلقه زنده به عشق |
]جو اس حلقے میں عشق سے زندہ نہیں ہے تو اس مردے پر میرے فتوے کے مطابق نماز پڑھ دو۔[ |
وه عشق کےجرم میں ہمارا مؤاخذہ کرتےہیں، گویا نہیں جانتے کہ عشق گناہ نہیں ہے۔ مگر کون سا عشق؟!
خداوندا، معبودا، عاشقا، تو نے مجھے پیدا کیا اور ماں باپ سے عشق مجھے ودیعت فرمایا۔
ایک مدت گزر گئی۔ میں عشق کرنا تو سیکھ گیا مگر کس سے عشق کروں؟ یہ نہ سیکھ سکا۔ دنیا سےعشق کیا، دنیا کے مال و منال سے عشق کیا، اپنے مدرسے سےعشق کیا، اپنی یونیورسٹی سے کیا۔
لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد ان سب کی جگہ حقیقی اور اصلی عشق نے لے لی؛ یعنی تجھ سے عشق۔ مجھے اس بات کا ادراک ہو گیا کہ تجھ سےکیا جانےوالا عشق ہی پائیدار ہے اور دوسرے عشق جھوٹےہیں۔ مجھے یہ بھی سمجھ آ گئی کہ ’’لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَ لَا بَنُوْنَ۔([1])‘‘ [نہ ہی مال فائدہ دے گا اور نہ ہی اولاد۔] اور اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ گیا کہ جب حالات بدل جائیں تو ’’يَوْمَ يفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ۔ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ۔ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ۔([2])‘‘ [تو جس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، نیز اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی زوجہ اور اپنی اولاد سے بھی۔]
پس میں نےتیرے عشق سےلَو لگا لی۔ تجھ سے عشق کرنے کے بعد جب اپنے آپ میں آیا تو دیکھا کہ میں تو اس سے کہیں کم تر ہوں کہ تجھ سےعشق کروں اور تو اس سے کہیں برتر ہے کہ میرا معشوق قرار پائے۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ اس عرصے میں مَیں جو اپنے آپ کو تمہارا عاشق سمجھتا رہا ، غلطی پر تھا۔
یہ تو تھا جو میرا عاشق تھا اور مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ اگر میں تیرا عاشق ہوتا تو ہمیشہ تیری تلاش میں رہتا، لیکن جب میں غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کئی دفعہ شیطان کے جال میں پھنس گیا لیکن پھر راہ مستقیم پر آ گیا۔ اب میں سمجھا کہ یہ تو تھا جو اپنے اس بندے کا عاشق تھا کہ وہ جب بھی شیطان کے چنگل میں آیا تو نے شیطان کے جال کو تارتار کر دیا۔ تو ہر شب اس کےانتظار میں رہا تا کہ کم از کم ایک رات تو اسے دیکھ سکے۔ اب میرے فہم میں یہ بات آئی کہ اپنے بندے کا سچا عاشق تو تُو ہے، بندے کی کیا مجال کہ وہ تیرا عاشق بن سکے۔ عنقا شکار کس نشود دام بازگیر۔([3])
ہاں تو ہی میرا عاشق تھا جو ہر شب مجھے بیدار کرتا اور اپنے معشوق کی ایک آواز کے انتظار میں بیٹھ جاتا تھا۔ لیکن میں بدبخت ناز و نخرےکرتا اور شبِ خلوت کو ہاتھ سے جانے دیتا اور سو جاتا لیکن تو مجھ سے ہاتھ نہ کھینچتا اور جب تک مجھے جیسے بھگوڑے کو اپنے دست رحمت سے تھام نہ لیتا، مسلسل مجھے جگاتا رہتا۔
میں سوچتا کہ میں خود ہی جاگ گیا ہوں۔ یہ کتنا باطل خیال تھا۔ یہ تیرے عشق کی کمند تھی جو تو نے میری گردن میں ڈال دی تھی۔ تو نے میرا ہاتھ تھام لیا تھا تا کہ ہر قسم کی ہاؤہو سے دور لے جا کر مجھ سے اپنے عشق کا اظہار کر سکے۔ جبکہ میں تیرے اس کام سے حیران تھا اور تیرے کرم پر تعجب کرتا تھا۔ آخر تو بڑا تھا اور میں چھوٹا۔ تو کریم تھا اور میں لئیم۔ تو جمیل تھا اور میں قبیح۔ تو مولا تھا اور میں بندہ۔ اور میں تیرے ان سبھی احسانات کے سامنے شرمندہ تھا۔
تو نے اپنی عشق کی کمند کو اور مضبوط کر دیا اور مجھے عشق کے خطِ مقدم([4]) پر لے آیا۔ یہاں تو نے مجھےاپنےعشق کی شراب پلائی اور یہ مقدس شراب تھی۔ میں ابھی تک اس کی لذت میں مست ہوں۔ اس کا پہلا ہی گھونٹ پیا تومیں مدہوش ہو گیا اور اسی مدہوشی کے عالم میں دوسرا گھونٹ مانگ لیا۔ لیکن اس بارتو نے ناز و ادا سے کام لیا اور مجھےاپنے پیچھے سرگرداں کر دیا۔ میں نے اپنا پیالہ تیری طرف بڑھایا اور دوسرا گھونٹ مانگا مگر تو نے میرا پیالہ ہی توڑ دیا۔
میں نےلاکھ منت سماجت کی کہ ایک اور جام مجھے پلا دے تا کہ اپنے جسمانی پردوں سے باہر نکل سکوں مگر تو نے نہ دیا بلکہ زیرلب مجھ پر مسکرانے اور معشوقانہ ادائیں دکھانےلگا۔ اب حالت یہ ہے کہ میں نشے میں ہوں اور جام میرے ہاتھ میں ہے۔ ابھی تک تیرے عشق کی شراب کے ایک اور گھونٹ کے انتظار میں پگھلا جا رہا ہوں۔
اے میرے عاشق! اے میرے معبود!میرے پیالے کو بھر دے اور مجھے اس خماری سے باہر نکال۔ تُو خود تو ایک عرصے تک انتظار کرتا رہا، اور اب جب مجھ تک پہنچ گیا ہے تو کیوں مجھ سے کترا رہا ہے؟ تُو تو سراپا عشق تھا اور عشق کا خریدار تھا تو اب مجھےکیوں انتظار کی اذیت میں ڈال رکھا ہے؟!
اگر مجھےمعلوم ہو جائے کہ تو میری متاعِ عشق کا خریدار نہیں ہے اور اگر مجھےیہ بھی معلوم ہو جائے کہ تو میرے جام میں کچھ بھی نہیں انڈیلے گا تو میں خود اپنے جام کو توڑ کر رکھ دوں گا اور اپنی متاع عشق کو آگ میں جھونک دوں گا تا کہ تو آتشِ حسرت میں جلتا رہے اور حیرت سے اپنے انگلیاں دانتوں میں چباتا رہے۔
به آهی گنبد خضرا بسوزم | جهان را جمله سر پا بسوزم |
[میں اپنی ایک آہ سےگنبدِ خضریٰ اور سرتاپا اس دنیا کو جلا دوں۔ تو میرے بگڑے ہوئے کام کو سنوارے گا یا میں اپنےآپ کو جلا کر کر رکھ کر دوں؟ اب خود ہی بتاؤ کہ میرا کام کرو گے یا میں اپنے آ پ کو جلا دوں؟] | |
لیکن شہادت کیا ہے؟
جس لمحے میں دو دلدار آپس میں ملتے ہیں، عاشق کا اپنے معشوق سے وصال ہوتا ہے، بندۂ خاکی جمالِ حق کی زیبائیوں پر نظر ڈالتا ہے اور روئے یار کے دیدار میں کھو جاتا ہے تو اس لمحے کو شہادت کے علاوہ ہم کون سا نام دے سکتے ہیں؟
جس وقت ایک مجاہدجنگجو دشمنِ حق کی طرف جاتا ہے، ملائکہ اس کی رزم کے انداز دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں، شیطان چیخیں مارتا ہوا بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اچانک ایک غنچہ کھل اٹھتا ہے تو اس لحظے کو شہادت کےعلاوہ کیا کہا جا سکتا ہے؟!
شہادت، عاشق و معشوق کی خلوت کا نام ہے۔ شہادت کی تفسیر بیا ن نہیں ہو سکتی۔ اے وہ لوگو!جو اپنےجسم کےزندان میں قید ہو، شہادت کی تفسیر کے انتظار میں مت بیٹھے رہو کیونکہ تم شہادت کا معاملہ سمجھنے سے عاجز ہو۔ فقط شہید ہی ہے جو شہادت کا ادراک کر سکتا ہے۔
شہید وہ نہیں ہے جو اچانک ہی خون میں لت پت ہو جائے اور اسے شہید کا عنوان دے دیا جائے۔ شہید تو اس دنیا میں خون میں نہانے سے پہلے بھی شہید ہوتا ہے۔
تم لوگ جو شہیدوں کو ان کی زندگی میں نہیں جان سکتے اور نہ ہی ان کی معرفت حاصل کر سکتے ہو تو ان کی شہادت کے بعد بھی تم انہیں درک کرنے سے عاجز ہو۔
شہید کو فقط ایک شہید ہی سمجھ سکتا ہے۔ اگر تم شہید ہو جاتے ہو تو تب جا کر کسی شہید کی معرفت حاصل کر سکتے ہو، ورنہ زنگ لگا آئینہ تو کسی بھی چیز کے عکس کو ہر گز منعکس نہیں کر سکتا۔ اٹھو اور اپنے حال کی فکر کرو کہ شہید اپنی شہادت تک پہنچ چکا ہے اور اسے اس کا غم بھی نہیں ہے۔
شہداء تمہاری حالت دیکھ کر رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ تمہیں اپنی فکر کیوں نہیں ہے؟! ہوش میں آؤ اور اپنے آپ کو سمجھو۔ اپنے جسم کے زندان کو گرا دو۔ اس پنجرے کو شکستہ کر دو اور پرواز کرتےہوئے اپنے دوست (خدا) کی گلی تک جا پہنچو۔ جان لو کہ تم پرواز کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہو نہ کہ زندان میں پڑے رہنے کےلیے۔ اس ویران منزل کو چھوڑ دو اور ملکِ سلیمان کی طرف بڑھے چلو۔
ای خوش آن روز کزین منزل ویران بروم |
[مبارک ہےوہ دن جب میں اس ویرانے سے اپنا رختِ سفر باندھ کو ملکِ سلیمان کی جانب چلا جاؤں۔] |
اے میرے رہبر!
اے وہ کہ جس پر جانِ عالم فدا ہو! اےوہ کہ جس کے ایک بال پر یہ دنیا قربان ہو جائے! اے خمینی! اے وہ ہستی جسے خدا نے شیعوں کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا۔ میں اپنے آپ کو آپ کا رہینِ احسان سمجھتا ہوں۔ اپنے پورے وجود کو مکمل خلوص کے ساتھ آپ پرفدا کرتا ہوں۔ آپ ویسے ہی مصباحِ ہدایت ہیں اور ویسی ہی کشتیٔ نجات ہیں جیسا کہ میرے مولا حسین علیہ السلام ’’ان الحسین مصباح الھدی و سفینۃ النجاۃ۔‘‘
آپ ہمارے زمانے کے حسین ہیں۔ آپ ہی تھے جو ظلم کی تاریک رات میں ضوفشاں ہوئے اور اپنے نور سے ہمارے تاریک دلوں کو روشن کر دیا۔ آپ ہی نے ہمیں بتایا کہ ہماری ذمہ داری کو سید الشداء علیہ السلام نے مشخص کیا ہے۔ آپ ہی نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ جو بھی پیغمبر اسلامﷺ کا عاشق ہے اس پر استقامت اور ثابت قدمی فرض ہے۔ ہم نے درسِ شہادت آپ ہی سے لیا ہے کیونکہ آپ تمام شہداء کے باپ ہیں۔
خدایا! اس چراغِ ہدایت کو حضرت حق صاحب العصر والزمان حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور مقدس تک طولِ عمر عطا فرما۔
اے ایران کی مسلمان اور شہید پرور امت!
امام کی پیروی کرو، فقط باتوں کی حد تک نہیں بلکہ عمل میں بھی۔ اپنے دل کی سماعتیں بیدار کر کے ان کی باتیں سنو اور انہیں بے چون و چراں تسلیم کرو۔ اور ہر زمانے میں اپنے امام کو پہچانو۔ اس وقت جب کہ حضرت صاحب الامر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پردۂ غیبت میں ہیں تو اپنے زمانے کے ولی فقیہ کو پہچانو۔
اگر تم نے اپنے امام کو پہچان لیا تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے ورنہ اِدھر اُدھر بھٹکتے پھرو گے۔ اسلام کو مجاہد اور اصلی علماء سےسیکھو نہ کہ منحرف لوگوں کی زبان و قلم سے۔ اس زمانے میں کچھ ایسے فسادی اور جاہل لوگ بھی پیدا ہو گئے ہیں جو ایک ایسے اسلام کی ترویج کر رہے ہیں جو علماء سےخالی ہو۔
دوسرے لفظوں میں وہ دین کی سیاست سے جدائی کے نظریے کا پرچار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں: ’’علماء نے انقلاب میں شرکت اور اس کی رہبری کی جس کے نتیجے میں انقلاب کامیاب ہو گیا تو خدا انہیں اس کا اجر دے! لیکن اب ان علماء کو چاہیے کہ حوزہ ہای علمیہ میں بیٹھ جائیں اور اپنے درس و مباحثہ کی محافل کو جاری رکھیں۔ ‘‘ ان منحرف لوگوں کو اچھی طرح پہچان لو اور انقلاب کے منظر نامے سے انہیں نکال باہر کرو۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مختلف ناموں لیکن ایک ہی ماہیت کے ساتھ مطہریؒ جیسی شخصیت کو شہید کر دیا۔ بہشتیؒ کی، پہلے تو تہمتوں اور دشنام طرازیوں کے ذریعے شخصیت خراب کی اور پھر اپنے شیطانی کینے کی بنا پر انہیں جسمانی طور پر بھی شہید کر دیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شیخ فضل اللہ نوریؒ کو دار پر لٹکوا کر خوشی کے شادیانے بجائے۔ یہ وہی ہیں جو آغا خامنہ ای کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔۔۔
یہ وہی لوگ ہیں کہ اگر ان کا ہاتھ امام تک پہنچ جائے تو۔۔۔ [بھی کسی بات سے دریغ نہیں کریں گے۔] یہ علماء کے دشمن ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ علماء رہیں۔ یہ علماء اور تمہارے بیچ جدائی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے عزیز امام کے دل کو رنجیدہ کرتے ہیں۔
بیرونی دشمنوں سے جنگ کرنا مشکل نہیں ہے لیکن اپنے اندر گھسے ہوئے یہ منافقین سب سے زیادہ بدتر ہیں۔ منافقین کفار سے زیادہ بدتر ہیں۔ ان منحرف اور گمراہ لوگوں سے دوری اختیار کر کے امام کے دل کو خوش کرو اور دوسری بات یہ کہ مصائب اور مشکلات میں صبر کرو۔
ان اللہ مع الصابرین۔ خدا بہشت ایسے ہی نہیں بلکہ اعمال کے بدلے میں دے گا اور جنت کی قیمت بہت بھاری ہے۔ جنت کی قیمت عشق ہے اور عشق یعنی خون۔ کربلا کی طرف جانا خون کا تقاضا کرتا ہے۔ کربلا کی زیارت ایک ماجرا ہے اور یہ ماجرا خون اور قیام کا ماجرا ہے کہ اے کربلا کے باسیو، پیغام تم دو اور خون ہم دے کر اس پھیلائیں گے۔ جان لو کہ ان اللہ یدافع عن الذین آمنوا۔ (خدا انہی کا دفاع کرتا ہےجو ایمان لائے۔) ہم سب وسیلہ ہیں۔ دراصل یہ جنگ، یہ انقلاب اور یہ سارےحالات خدا کی طرف سے طے شدہ تھے تا کہ وہ اس میں سے اپنے دوستوں کو اپنے پاس بلا لے اور خالص کو ناخالص سے جدا کر لے۔ پس تم بھی میدان میں آؤ اور شہداءکے خون کی لاج رکھو۔
اپنی نفسانی خواہشات کو لگام دو۔ خدا کےلیے کام کرو۔ اپنے کاموں میں نظم و ضبط کا اہتمام کرو۔ مستحبات کو بہت اہمیت دو تا کہ شیطان کے شر سے محفوظ رہو۔ نوافل خصوصاً نمازِ شب کے ذریعے خدا کی قربت حاصل کرو۔ صبر کواپنا ہتھیار بناؤ اور جان لو کہ تم سے پہلے کی امتوں نے تم سے زیادہ سخت اور مشکل حالات دیکھے تھے۔
فساد اور فساد کےاسباب کا شدت سے مقابلہ کرو کیونکہ دشمن اسی راستے سے ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے۔ تمام دوستوں اور جاننے والوں سے عاجزانہ التماس کرتا ہوں کہ اگر ان کا کوئی حق میری گردن پر ہے تو مجھے معاف فرما دیں تا کہ میرے گناہوں کا وزن ہلکا ہو جائے۔۔۔
جہانِ باقی میں حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے جوار میں رہنے کی امید لیے سب سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔
24 جمادی الثانی 1407ھ بمطابق 5 مارچ 1987۔ صبح 9 بج کر 25 منٹ
والسلام علی من اتبع الھدیٰ
ناصر الدین باغانی۔ کرخہ چھاؤنی
*****
پیاری اماں اور ابا جان!
میں آپ پر فخر کرتا ہوں کہ ڈھیروں مشکلات اور مسائل کے باوجود آپ نے ایسے حالات میں مجھے باطل کے خلاف لڑنے کے لیے محاذ پر آنے کی اجازت دی کہ جب اکثر والدین اپنے بچوں کو اس ڈر سے گوداموں میں چھپاتے رہے کہ کہیں انہیں فوج میں بھرتی نہ کر لیا جائے۔
آپ کا یہ کام خدا کی طرف سے اجرِ عظیم کا حقدار ہے۔ میں تکلف سے نہیں کہہ رہا بلکہ یہ حقیقت ہے۔ میں سچ مچ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ من لم یشکر المخلوق لم یشکر الخالق (جو مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خالق کا شکر ادا نہیں کرتا۔) اور خدا کا بھی لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ایسے خاندان میں مجھے بھیجا۔
میری پیاری اماں اور ابا جان!
اگرچہ آپ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں مگر ان الذکری تنفع المؤمنین کے مطابق کہتا ہوں کہ صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور خدا پر توکل کریں تا کہ آپ آیت الذین صبروا و علی ربھم یتوکلون کے مکمل مصداق بن جائیں۔اور کبھی غمگین اور رنجیدہ نہ ہوں اور ناخوشگوار نتائج سے کبھی نہ گھبرائیں کیونکہ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم و لا ھم یحزنون۔
اسلام ہم تک خون کے ذریعے پہنچا ہےاور اس کے بعد اس کی حفاظت کے لیے بھی خون ہی درکار ہو گا۔ اگر شہداء کا یہ خون نہ ہوتا تو آج ہمارے حالات اس قدر اچھے نہ ہوتے۔ جس پودے کو پانی نہ دیا جائے وہ سوکھ جاتا ہےاسی طرح خون کے بغیر اسلام بھی اندر سےکھوکھلا ہو کر بے مقصد رہ جاتا ہے۔
ہم نے دعاؤں میں یہی پڑھ رکھا ہے کہ یا لیتنا کنا معکم۔ کیا اس جنگ میں شرکت امام حسین علیہ السلام کی ہمراہی اور ہمرکابی کے علاوہ بھی کچھ ہے؟! ہم امام حسین علیہ السلام کی طرح جنگ کے لیے نکلے ہیں اور امام حسین علیہ السلام ہی کی طرح ہمیں شہید ہونا ہے۔
اس جنگ میں کامیابی اسلام کی خون بھری تاریخ کا ایک احساساتی اور جذباتی نقطہ عروج ہو گا۔ ہمیں ہر حالت میں اس جنگ میں فتح یاب ہونا ہے اگرچہ اس کے لیے ہمارا سارا خون ہی کیوں نہ بہہ جائے۔
میں عید قربان کے دن بیٹھ کر یہ خط لکھ رہا ہوں۔
حجاج نے منیٰ میں جا کر قربانی کی ہے جبکہ عاشق بسیجیوں نے اس دن عشق کے منیٰ میں جا کر اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ باطل کے خلاف حق کے مورچوں پر گزرا ہوا ہر دن روزِ عاشورا ہےاور ہر روز عید قربان ہے۔
تاریخ: 16 اگست 1986۔ خدا کا حقیربندہ: ناصر الدین باغانی
*****
خدایا! تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے اپنی بندگی کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اس بات کی توفیق بھی عنایت فرمائی کہ میں محاذ پر آ کر جنگ لڑوں اور اس بات کی بھی توفیق دی کہ تیرے خالص بندوں میں سے ہو جاؤں۔
خدایا! یہ تیرے خالص بندے کون ہیں؟! جو تیرے ملائکہ سے بھی برتر ہیں۔یہ بسیجی ہیں۔ یہ اپنے ارادہ و اختیار سے پروانوں کی طرف تیرے عشق کی آگ میں کود پڑے ہیں۔
یہ کون ہیں جو تیرے عشق کی شراب میں ڈوب چکے ہیں۔ یہ کون ہیں جو اتنی بے باکی، اتنی جرأت اور اتنی بہادری سے تیرے دشمنوں کی ناک زمین پر رگڑ رہے ہیں اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا انتقام لے رہے ہیں۔
نہیں، یہ لوگ تو اپنے آپ سے غافل ہو چکے ہیں۔ یہ تیرے اندر اتنے جذب ہو چکے ہیں کہ تجھ میں اور ان میں جدائی محال ہے۔ ان کے جسموں میں تیری ہی روح دوڑ رہی ہے۔ ان کی آستینوں میں نظر آنے والے ہاتھ تیرے ہی ہیں۔ یہ تیرا ہی راز ہے جو ان کےدلوں میں محفوظ ہے۔
وہ کہاں گئے جو کہتے تھے کہ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ (اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔) آؤ اور اب خدا کے ہاتھوں کو دیکھو بل غلت ایدیکم۔ (بلکہ ان کے اپنے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔)
اگر یہ لوگ علی علیہ السلام کے ساتھ ہوتے تو انہیں 25 سال تک اپنے گھر میں نہ بیٹھنا پڑتا۔ اگر یہ لوگ رسول اللہﷺ کےزمانے میں ہوتے تو اس شخص کو رسول اللہﷺ کی شان میں یہ گستاخی کرنے کی جرأت نہ ہوتی کہ ان الرجل لیھجر۔
اگر یہ لوگ اس وقت ہوتے تو خانۂ وحی کو وہ ظالم و جابر لوگ کیسے آگ لگا سکتے تھے؟! اگر یہ لوگ اس وقت موجود ہوتے تو زینب سلام اللہ علیہا نےکہاں اسیر ہونا تھا؟! اگر یہ ہوتے تو علی ابن الحسین علیہما السلام نے کہاں اسیری کی اذیتیں جھیلنا تھیں؟! اگر یہ ہوتے تو کسی کی مجال تھی کہ حسین علیہ السلام کے دانتوں پر چھڑی مارتا؟!
لیکن آج یہ لوگ ہیں۔ اپنے پاؤں پر کھڑے اور ثابت قدم۔ پہاڑ ہل سکتے ہیں مگر یہ نہیں۔ اگر تمام کفار بھی تلواریں ہاتھ میں لیے آ جائیں تو یہ پھر بھی اپنے جگہ پر استقامت دکھائیں گے۔ انہوں نے اپنی جانوں کو خدا کےہاں گروی رکھ چھوڑا ہے۔یہ اپنے دانت مضبوطی سے بھینچ لیتے ہیں اور اپنے پاؤں زمین پر مضبوطی سے مارتے ہیں۔ گویا کہتے ہوں کہ اے دنیا! جان لے، جب تک بسیجی ہیں تب تک تو امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مملکت کی طرف اپنے ناپاک اور لالچی ہاتھ نہیں بڑھا سکتی۔ یہ مہدی عج کی فوج ہے اور مہدی عج کی فوج شکست نہیں کھاتی۔ ہمارے مولا غیبت میں ہیں مگر ان کی طرف سے ہمارے کمانڈر امام خمینی ہیں۔
ہاں! امیری خمینی و نعم الامیر۔
والسلام، ناصر الدین باغانی: 21 جنوری 1987
بسمہٖ تعالیٰ
مرغ باغ ملکوتم نیم از عالم خاک | چند روزی قفسی ساخته اند از بدنم |
[میں باغِ ملکوت کا پرندہ ہوں، عالم خاک سے نہیں ہوں۔ کچھ دنوں میں انہوں نے میرے ہی بدن سے میرا قفس تیار کیا ہے۔ میں کہاں سے آیا ہوں، میرے آنے کا مقصد کیا تھا اور آخر مجھے کہاں جانا ہے؟ تو نے میرا وطن مجھے نہیں دکھایا۔ خوشا وہ روز کہ جب میں اپنے دوست تک پرواز کر کے جاؤں اور اس کی گلی کی ہوا کے ساتھ اپنے پرو بال ٹکراؤں۔] | |
بارِ الٰہا! اے میری گھنیری راتوں کے چراغ، اے میرے تاریک دل کو نور عطا کرنے والے، اے میرے فریاد رس، اے میری امید، اےمیرے سجود، اے میرے رکوع، اے وہ کہ جس کے لیے میرا قیام ہے۔
اے کہ تیرے چاند سے چہرے پر سلام۔ اے وہ کہ جس نے مجھے چاہِ ضلالت و گمراہی سے باہر نکالا اور انسانیت کی بلند چوٹی پر پہنچا دیا۔ اے وہ کہ جس نے میرے سر پر کَرّمنا کا تاج سجایا۔ اے میرےیار، اے میرے دلدار، اے میرے خوبصورت گواہ، اےمیرے غموں سے آگاہ ذات، تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں تیرا ہی بندہ رہا اور اگر میں نے تیرے علاوہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو تو وہ عصیان کی بنا پر نہیں بلکہ نسیان کی بنا پر تھا۔
میرے مولا! تو خود گواہ ہے کہ ان سب گناہوں کے باوجود میں پھر بھی تیرے ہی در پر آتا تھا اور اپنے سر پر خاک ڈالتا تھا۔ تو خود اس چیز کا شاہد ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا تھا ہر چند کہ کبھی کبھار شیطان کےجال میں جا پھنستا تھا۔
میرے مولا! میں اگر خطاکار ہوں تو عفو کی امید بھی تیرے ہی در سے رکھتا ہوں اور اگر تو نےمجھے نہ بخشا تو مجھے تیرے کرم پر اعتراض ہو گا۔
اگر تو مجھ سے پوچھے کہ میں نے گناہ کیوں کیے تو میں بھی تجھ سے سوال کروں گا کہ تو نے اپنےعفو و درگزر کا دروازہ کیوں نہ کھولا؟! اگر تو نےہی مجھے معاف نہ کیا تو تجھ سے زیادہ کون اس کا سزاوار ہو گا؟!
اگر میں جاہل ہوں تو تُو تو ہر گز ظالم نہیں ہے۔ مولا! ہرچند کہ میں جانتا ہوں کہ تو مجھےمعاف فرما دے گا مگر پھر بھی عرض کرتا ہوں کہ اگر تو مجھےعذاب کرنا چاہے اور دوزخ کی گہرائیوں میں جلانا چاہے تو میری زبان کو سلامت رکھنا تا کہ میں اس آگ کے اندر سے تجھ سے باتیں کر سکوں اور تجھے پکار سکوں لیکن تو اس سے زیادہ کریم ہےکہ اپنے بندے کو عذاب کےحوالے کر دے: ھیھات انت اکرم من ان تضیع من ربیتہ۔
بہر حال میں آ گیا ہوں لیکن وہ بھی اس حالت میں کہ گناہوں اور معصیتوں کا بار اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے. مولا! کتنے ہی ایسے نیک افراد ہیں جنہیں میں نے اپنے آپ سے ناراض نہیں کیا ہے! لوگوں کے کتنے ہی حقوق تھے جو مجھ سے ضائع نہیں ہوئے! لیکن میں آ گیا ہوں تا کہ تیری امانت تیرے سپرد کر دوں۔
جو پاک و پاکیزہ جان تو نے مجھے دی تھی اس کےبارے میں مجھ سےسوا ل نہ کرنا کہ میں نے اس کا کیا کیا کیونکہ تیرے سوال کے مقابلے میں میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔یہ امانت مجھ سے لے اور اس کی سنگینی میرے کندھوں سے اتار دے۔
ہائے، ہائے، ہائے! ہم سبھی امانتدار ہیں لیکن کیا امانت کو اپنی منزل تک پہنچا بھی سکتے ہیں یا نہیں؟!
میرے پیارے والد اور ماں!
میں آپ کے ہاتھوں میں امانت ہوں۔ کیا آپ مجھے امانت کے مالک کی طرف نہیں لوٹانا چاہتے؟!مجھے واپس لوٹا دیں کہ میں اپنے مالک سے دور ہو کر سخت غمگین ہوں۔
میرا دل سخت اضطرا ب میں ہے۔ کچھ دنوں سے جانے کی فکر میں ہوں۔ مگر کچھ بندشیں مجھے جانے نہیں دے رہیں۔ اے میرے مولا، اے میرے مالک!میرے پاؤں کی یہ زنجیریں کھول دے۔
اے ہمارے امام، اے خدا کی پاک روح، اے ہمارے ہادی و رہبر، میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ گواہ رہیے گا کہ ہم کوفی نہیں تھے۔ اور اس چیز کی گواہی بھی دیجیے گا کہ ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔ حیف ہے ان پر جنہوں نےآپ کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور اپنے مفادات کے پیچھے پڑے رہے۔
حیف ہے امتِ مسلمہ پر، حیف ہے شہید پرور اور بہادروں کی وارث امت پر۔ آپ خود اس چیز سے آگاہ ہیں مگر ان الذکری تنفع المؤمنین۔
اے لوگو! امام اور ولایت فقیہ کی مدد سےکبھی ہاتھ نہ کھینچنا۔جان لو کہ جس وقت تم نے ولی فقیہ کو تنہا چھوڑ دیا تو وہ دن تمہاری شکست اور نابودی کا دن ہو گا اور خدا وہ دن کبھی نہ دکھائے۔ تاریخ سے عبرت پکڑو۔
فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین۔ جان لو کہ ہمارا جھگڑا ولایت فقیہ ہی پر ہے۔ ان مجاہد علماء کو اکیلا نہ چھوڑنا۔ اگر تم نے علماء کا دامن چھوڑ دیا تو نابود ہو جاؤ گے۔
اسلام اور اس کے احکام کی حفاظت کرو۔ احکام اسلام سےزیادہ اصل اسلام کی حفاظت اہم ہے اور اس راہ میں خون بہانے سے ہر گز گریز نہ کرو۔
جان لو کہ جہاد خدا کی طرف سےایک امتحان ہے۔ جان لو کہ مشکلات بھی امتحانِ الٰہی ہیں۔ کوشش کرو کہ اس امتحان سےکامیابی سے گزر جاؤ۔
آخر میں اپنے بھائیوں، اپنی بہن، رشتہ داروں اور دوستوں سےمعافی طلب کرتا ہوں اور اپنےبھائیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے راستے پر چلیں اور اسے کبھی بھی نہ بھلائیں۔
9 نومبر 1986
([3]) عنقا اس خیالی پرندے کو کہا جاتا ہے جو کسی کی دسترس میں نہیں آتا۔ شہید کہنا چاہتے ہیں کہ کہ خداوند تعالیٰ کی ذات تک کسی رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہ مطلب نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں امیر المومنین علیہ السلام کے اس خوبصورت جملے سے ماخوذ ہے: الذی لا یدرکه بعد الهمم و لا یناله غوص الفطن.
([5]) کتاب کے متن میں یہ شعر اسی طرح درج ہے۔ یقیناً شہید نے اپنی وصیت میں اسے اسی طرح لکھا ہو گا مگر اس کا پہلا مصرع حافظ شیرازی کی ایک غزل کے مطلع کا جب کہ دوسرا مصرع اسی غزل کے تیسرے شعر کا ہے۔ اس غزل کا مطلع ہے: خرم آن روز کزین منزل ویران بروم / راحت جان طلبم و ز پی جانان بروم۔ اور دوسرا شعر یوں ہے: دلم ازوحشت زندان سکندر بگرفت / رخت بربندم و تا ملک سلیمان بروم۔