چودہواں باب
اگلی صبح، صمد کچھ چیزیں خریدنے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے دو تین کلو گوشت، دو مرغے، سبزی اور کافی سارے پھل اٹھا رکھے تھے۔
میں نے پوچھا: ’’اتنا گوشت! مہمان آ رہے ہیں کیا؟! کیا بات ہے؟!‘‘
اس نے کہا: ’’اب میں جاؤں گا تو اگر زندہ رہ بھی گیا تودو تین ماہ تک واپس نہیں آ سکوں گا۔ شاید عید [نوروز] پر بھی نہ آؤں۔ شاید جنگ کے آخر تک بھی نہ آ سکوں۔‘‘
میں نے کہا: ’’ہونہہ۔۔۔ ایسے ہی باتیں کرتے چلے جاتے ہو! شاید جنگ دو تین سال تک جاری رہے۔‘‘
اس نے کہا: ’’نہیں، خدا نہ کرے۔ بہر حال وہاں میری بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اگر تمہارا اور بچوں کا خیال نہ ہوتا تو یہ چند روز بھی میں نہ آتا۔‘‘
میں نے گوشت سنک میں رکھا اور ٹونٹی کھول دی۔ میں نے دوبارہ کہا: ’’خدا کی قسم، تم بہت زیادہ گوشت خرید لائے ہو۔ بچے اتنا کھانا کھاتے نہیں ہیں۔ باقی میں ہی رہ جاتی ہوں۔ بہت زیادہ ہے۔‘‘
وہ ہال میں چلا گیا اور بچوں کو اپنے پاؤں پر بٹھا کر ان کے ساتھ کھیلنے لگا۔
میں نے کہا: ’’صمد!‘‘
اس نے وہیں ہال سے جواب دیا: ’’جانِ صمد!‘‘
مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا: ’’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آج سہ پہر کہیں باہر چلے جائیں۔ بہت بے چین ہو رہی ہوں۔ اس گھر میں میرا دل کافی گھٹن محسوس کر رہا ہے۔‘‘
اس نے جلدی سے کہا: ’’تم چاہتی ہو کہ ابھی سارا کچھ جمع کر کے قایش چلے جائیں۔‘‘
میں نے ٹونٹی بند کی اور گوشت کو جالی میں رکھ کر کہا: ’’نہیں، قایش نہیں۔ وہاں پہنچنے تک تو میرے پاؤں ہی غائب ہو جائیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ کسی ایسی جگہ جائیں جہاں فقط میں، تم اور بچے ہوں۔‘‘
وہ بچوں کو بغل میں لیے باورچی خانے میں آ گیا: ’’جو تم کہو۔ کہاں جائیں؟!‘‘
میں نے کہا: ’’پارک۔‘‘
اس نے باورچی خانے کا پردہ ایک طرف کیا اور باہر دیکھ کر کہنے لگا: ’’موسم ٹھنڈا ہے۔ نومبر کا مہینہ ہے۔ بیگم! بچوں کو سردی لگ جائے گی۔‘‘
میں نے کہا: ’’وہ تو ٹھیک ہے کہ نومبر ہے مگر موسم خوشگوار ہے۔ اس سال اتنی سردی نہیں پڑی۔‘‘
کہنے لگا: ’’ٹھیک ہے۔ آج ظہر کے بعد چلے جاتے ہیں۔ فقط اگر اجازت دو تو میں ایک چکر چھاؤنی کا لگا آؤں۔ ابھی واپس آ جاؤں گا۔ بہت ضروری کام ہے۔‘‘
میں نے ہنس کر کہا: ’’آج تک تم نے چھاؤنی جانے کے لیے مجھ سے اجازت لی ہے؟!‘‘
وہ ہنس دیا: ’’آخر کار یہ چند روز میں تمہارے لیے چھٹی لے کر آیا ہوں۔ تمہارا حق ہے۔ اگر تم اجازت نہیں دیتیں تو میں نہیں جاؤں گا۔‘‘
میں نے کہا: ’’جاؤ، لیکن جلدی لوٹ کر آنا، ورنہ میں معاف نہیں کروں گی۔‘‘
اس نے جلدی سے خدیجہ اور معصومہ کو نیچے رکھا اور اپنی وردی پہن لی۔ بچے اس کے پیچھے جاتے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے انہیں پکڑا۔ وہ سیڑھیوں پر جھک کر اپنے بوٹوں کے تسمے باندھ رہا تھا۔
میں نے پوچھا: ’’دن کے کھانے میں کیا بناؤں؟!‘‘
وہ تسمے باندھ کر سیڑھیوں نیچے جا رہا تھا۔ کہنے لگا: ’’آبگوشت۔‘‘
میں نے پہلے بچوں کو سنبھالا۔ انہیں کھانے کو کچھ دیا اور کچھ کھلونے ان کے سامنے رکھ دیے۔ اس کے بعد اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے۔ سالن چولہے پر رکھا اور سبزی صاف کرنے بیٹھ گئی۔
ساڑھے بارہ بچ گئےتھے۔ میں نے سارے کام نمٹا لیے تھے۔ کھانا بھی تیار ہوچکا تھا۔ آبگوشت لیمو عمانی([1]) کی خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی تھی۔ میں نے دستر خوان بچھایا۔ دہی، اچار اور سبزی اس پر رکھی۔ بچوں کو بھوک لگ رہی تھی۔ تھوڑی روٹی توڑ کر سالن میں ڈالی اور انہیں دی۔ وہ سیر ہو گئے اور کمرے میں ایک جگہ جا کر اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔
میں دسترخوان کے پاس ہی لیٹ گئی اور نظریں دروازے پر گاڑ دیں۔ دو بج چکے تھے مگر صمد ابھی تک نہ آیا تھا۔ ایک بار معصومہ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ تین ہو گئے تھے۔ میں دسترخوان کے کنارے سو گئی تھی۔ بچے آپس میں لڑ پڑے اور رو رہے تھے۔ اچار، دہی اور سبزی کے پیالے دسترخوان کے درمیان الٹے پڑے تھے۔ مجھے غصہ آ گیامگر وہ بچے تھے، انہیں اتنی سمجھ نہ تھی۔ میں نے دسترخوان سمیٹا اورباورچی خانے میں لے گئی۔ اس کے بعد بچوں کا منہ ہاتھ دھویا۔ ان کے کپڑوں کو بدلا جن سے دہی اور اچار کی بو آ رہی تھی۔ معصومہ کو دودھ پلا کر سلا دیا۔ خدیجہ نے بھی تھوڑا سا کھانا کھایا اور ایک کونے میں جا کر سو گئی۔ میں نے ان کے بستر بچھائے اور ان پر کمبل ڈال کر اپنا کام کرنے لگی۔ دستر خوان کو دھویا۔ رات کے کھانے کے لیے آلو کے کباب بنائے۔ آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگا۔ میں خود ہی مشق کر رہی تھی کہ صمد آئے گا تو اسے کیا کہوں گی۔ مجھے اس پر بہت غصہ تھا۔ آج اس سے اپنے دل کی بات کر ہی لینی چاہیے۔ اتنے میں وہ آ گیا۔
دروازے کی آواز آئی تو بچے بھی جاگ گئے اور صمد کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس نے دونوں کو گود میں اٹھایا اور باورچی خانے میں چلا آیا۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا ایک چھوٹا تھیلا تھا۔ اس نے سلام کیا۔ میں نے روکھے منہ سلام کا جواب دیا۔ اس نے تھیلا میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ’’اسے پکڑ لو۔ میرا ہاتھ تھک گیا ہے۔‘‘
وہ جلدی جلدی بچوں کو بوسے دے رہا تھا اور ان کے صدقے واری ہوئے جا رہا تھا۔ میں اس سے ناراض تھی: ’’خود ہی کیبنٹ پر رکھ دو۔‘‘
کہنے لگا: ’’نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ تمہیں میرے ہاتھ سے لینا ہو گا۔‘‘
میں نے بادلِ نخواستہ تھیلا پکڑ لیا۔ اس میں ایک بنفشی رنگ کا بڑا اونی سکارف تھا جس کا ان دنوں نیا نیا رواج چلا تھا۔ اس سکارف پر بڑے بڑے پھول بنے ہوئے تھے۔ پہلے تو میں نے بے اعتنائی برتی لیکن پھر اچانک شینا کی بات یاد آ گئی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں: ’’تمہارا شوہر تمہارے لیے جو چیز بھی خریدے تو اسے یہ ضرور کہنا کہ تمہارا بہت شکریہ اور تم نے بہت زحمت کی اگرچہ تمہیں وہ چیز بہت بری ہی کیوں نہ لگی ہو۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا: ’’تم نے زحمت کیوں کی۔ یہ تو بہت مہنگا ہے۔‘‘
میں نے سکارف سر پر اوڑھ لیا۔ وہ مسکرانے لگا: ’’تمہیں کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ کتنی پیاری ہو گئی ہو۔‘‘
مجھے بالکل ہی بھول گیا کہ میں تو اس سے ناراض تھی اور اس سے لڑنے مرنے پر تلی بیٹھی تھی۔ اس نے کہا: ’’تیار ہو، چلیں؟!‘‘
میں نے کہا: ’’کہاں؟!‘‘
اس نے کہا: ’’پارک، اور کہاں۔‘‘
میں نے کہا: ’’اب! تمہارا بہت شکریہ۔ اب تو رات ہو رہی ہے۔‘‘
کہنے لگا: ’’قدم! میری جان، تنگ نہ کرو۔ موڈ خراب ہو جائے گا۔ کل جب میں چلا جاؤں گا تو تمہارا دل کڑھتا رہے گا۔‘‘
میں نے اور کچھ نہ کہا۔ آلو کے کباب میں نے ایک ڈھکن والے ڈبے میں رکھے۔ سبزی، اچار، دسترخوان، روٹی اور تھرماس اٹھایا اور سب کو ایک بڑی زنبیل میں رکھ دیا۔ کپڑے پہنے، سکارف سر پر اوڑھا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی حالت ذرا درست کرنے لگی۔ صمد ٹھیک کہہ رہا تھا۔ سکارف مجھے بہت ہی اچھا لگ رہا تھا۔
میں نے کہا: ’’تمہارا بہت بہت شکریہ۔ تم نے اچھی چیز خریدی ہے۔ سکارف گرم اور بڑا ہے۔‘‘
وہ بچوں کے کپڑے بدل رہا تھا۔ کہنے لگا: ’’میں نے جان بوجھ کر اتنا بڑا لیا ہے۔ تھوڑے دنوں بعد جب موسم زیادہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو یہ سر اور گوشت کو اچھے طریقے سے ڈھانپ لے گا۔‘‘
طے پایا تھا کہ اس کا ایک دوست جو دواساز ڈاکٹر تھا وہ بھی ہمارے ساتھ آئے گا۔ ان لوگوں کے پاس گاڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ آ گئے۔ ہم ان کی گاڑی پر بیٹھے اور شہر سے باہر نکل گئے۔ گاڑی کافی سفر طے کرنے کے بعد قہرمان بیرک کے سامنے جا کر رکی۔ صمد اتر کر ملٹری پولیس کے دفتر میں چلا گیا۔ ڈاکٹر کی بیوی نے معصومہ کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ مجھے اپنے دل میں اس جوڑے کے لیے کافی ہمدردی محسوس ہو رہی تھی۔ چند سال ہو چکے تھے ان کی شادی کو مگر ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ جب ہمیں بیرک کے اندر جانے کی اجازت ملی تو کافی اندھیرا چھا چکا تھا۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد کچھ پرانے تبریزی درختوں کے نیچے بیٹھنے کے لیے ایک جگہ مل گئی۔ چٹائیاں جو ساتھ لائے تھے وہ بچھا کر ان پر بیٹھ گئے۔ وہاں پر بجلی کی کچھ کھمبے بھی تھے جنہوں نے اس جگہ کو کافی روشن کر دیا تھا۔
خزاں کے دن تھے اور درختوں کے زرد اور خشک پتے زمین پر گرے ہوئے تھے۔ ہوا چل رہی تھی اور درختوں کی شاخوں کو ہلا رہی تھی۔ موسم ٹھنڈا تھا۔ ڈاکٹر کی بیوی نے بچوں کو اپنی چادر کے اندر کر لیا۔ میں تھرماس لے آئی اور چائے ڈالی۔ اچانک بجلی چلی گئی اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔
صمد نے کہا: ’’بسم اللہ۔ میرا خیال ہے کہ ریڈ الرٹ ہو گیا ہے۔‘‘
اس اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ ہم نے تھوڑا انتظار کیا مگر نہ تو میزائلوں کی آواز آ رہی تھی اور نہ ہی ریڈ الرٹ کے سائرن کی۔ صمد اپنی ٹارچ لے آیا اور اسے آن کر کے چٹائی کے درمیان میں رکھ دیا۔ ہم نے پینے کے لیے چائے اٹھا لی۔ وہ اتنی جلدی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
ہوا درختوں کے درمیان سے سائیں سائیں کرتی ہوئی گزر رہی تھی اور باقی بچ جانے والے پتوں کو اِدھر اُدھر بکھیر رہی تھی۔ ہمارے آس پاس پڑے پتوں کی سرسراہٹ انسان کو وحشت میں مبتلا کیے جا رہی تھی۔میں نے آہستہ سے صمد سے کہا: ’’اٹھو، چلیں۔ اس اندھیرے میں کوئی جانور ہی ہماری طرف نہ نکل آئے۔‘‘
صمد نے کہا: ’’ڈاکٹر صاحب کے سامنے ایسی باتیں نہ کرو۔ مجھے شرم محسوس ہوتی ہے۔ دیکھو تو، ڈاکٹر صاحب کی بیوی کیسے آرام سے بیٹھی بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ تم تو اس قسم کے ماحول میں زندگی گزار چکی ہو۔‘‘
ہمارے اردگرد کا ماحول کافی سنسان تھا۔ ایک پرندہ بھی پر نہیں مار رہا تھا۔ بعض اوقات دور سے کتوں یا گیدڑوں کے لڑنے کی آواز آتی۔ ہوا چل رہی تھی اور بجلی جا چکی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو بھی صحیح طریقے سے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ جگہ ٹٹول ٹٹول کر ہم رات کا کھانا لائے۔ ایک دوسرے کے مدد سے دسترخوان بچھایا۔ خدیجہ میرے پاس بیٹھی تھی اور معصومہ ڈاکٹر کی بیوی کی گود میں تھی۔ خدیجہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نے رات کا کھانا کس طرح کھایا۔ میں دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی کہ جلدی جلدی اٹھیں اور گھر کو چلیں، لیکن مردوں کی گپ شپ ابھی ابھی عروج پر پہنچی تھی۔ڈاکٹر کی بیوی بھی بے فکر نظر آرہی تھیں۔ وہ آرام آرام سے میرے ساتھ باتیں کر رہی تھیں۔ میں نے ہزار جتن کیے مگر اپنے حواس مجتمع نہ کر سکی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی درختوں کے پیچھے سے کوئی کتا یا بھیڑیا آ کر ہم پر حملہ کر دے گا۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ علاقہ فوجی تھا۔ اگر ریڈ الرٹ ہو جاتا تو باقی جگہوں کی نسبت یہاں زیادہ خطرہ تھا۔ سردی سے میرے دانت بج رہے تھے۔ بالآخر مرد اٹھنے پر راضی ہوئے۔ ہم نے اپنا سامان جمع کیا اور گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اس لمحہ میں نے سکھ کا سانس لیا اور ڈاکٹر کی بیوی سے باتیں کرنے لگ گئی۔
گھر پہنچے تو بچے سو چکے تھے۔ ان کے بستر بچھائے اور کپڑے تبدیل کیے۔ صمد نے باورچی خانے میں جا کر برتن دھو دیے۔ میں اس کے پیچھے پیچھے باورچی خانے میں چلی گئی۔ اس نے پلٹ کر مجھ سے پوچھا: ’’ڈاکٹر کی بیوی کیسی تھیں؟! تمہارا وقت اچھا گزرا؟!‘‘
میں کہنا چاہتی تھی کہ بہت اچھا گزرا لیکن میں نے اپنے لب سی لیے اور آبگوشت کی طرف بڑھ گئی جو دن کا بچا ہوا تھا۔ اس دن میں نے نہ دن کا کھانا کھایا تھا اور نہ رات کا کھانا صحیح طریقے سے کھا سکی تھی۔ بھوک اور کمزوری سے میرے ہاتھ پاؤں لرز رہے تھے۔
اگلے دن صمد نے ہمیں قایش لے جا کر چھوڑا اور خود محاذ پر چلا گیا۔ میں اور بچے ایک ماہ تک قایش میں رہے۔ سردی تھی اور کافی برفباری ہوئی تھی۔ ہمدان واپس آنے کے بعد موسم زیادہ سرد ہو چکا تھا اور دوبارہ برفباری بھی ہوئی تھی۔ مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہو رہی تھی کہ صمد نے مکان کی قرارداد([2]) لکھتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ مکان کی چھت کی صفائی مالک مکان کے ذمے ہو گی۔
اس سردی اور برفباری میں قایش سے ڈھیروں مہمان بھی پہنچ گئے جو کرمانشاہ جانا چاہتے تھے۔ رات کے کھانے کے بعد میں اس بات کی طرف متوجہ ہوئی کہ ناشتے کے لیے روٹی نہیں ہے۔ میں صبح جلدی اٹھی اور نانبائی پر چلی گئی۔ وہاں تو ماحول ہی اور تھا۔ نانبائی پر لگی قطار گلی کے دوسرے سرے تک چلی گئی تھی۔ موسم بھی بہت سرد تھا۔ کوئی چارہ نہ تھا۔ میں ایک صف میں کھڑی ہو گئی جس میں ہجوم تھوڑا کم تھا۔ اس کے باوجود بھی باری آتے آتے دس منٹ لگ گئے۔ میں نے روٹی لی اور جو عورت صف کے آخر میں کھڑی تھی اسے میں نے کہا: ’’بہن، میری باری کا خیال رکھنا میں ابھی واپس آتی ہوں۔‘‘ گھر پہنچنے تک کئی بار برف سے پھسلی اور گری۔ روٹیاں دسترخوان میں رکھیں۔ مہمان جاگ گئے تھے۔ چولہے پر چائے چڑھائی اور پنیر فریج سے نکال کر باہر رکھ دیا۔ پھر دوبارہ نانبائی کی طرف دوڑ پڑی۔ جب پہنچی تو دیکھا کہ وہ عورت نہیں تھی۔ میں پریشان ہو گئی۔ صف میں کھڑی چند دوسری عورتوں سے کہا: ’’میں ابھی دس منٹ پہلے آ کر یہاں اپنی باری رکھ کر گئی تھی اور دو روٹیاں لے کر چلی گئی تھی۔‘‘ عورتوں نے سمجھا کہ میں بغیر باری کے روٹی لینا چاہتی ہوں۔ کچھ عورتوں نے مجھے برا بھلا کہا اور مجھ سے لڑائی شروع کر دی۔ ایک عورت نے زور سے مجھے دھکا دیا۔ اگر میں دیوار پر ہاتھ نہ رکھتی تو گر جاتی۔ اچانک وہی عورت مجھے نظر آ گئی۔ اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی زنبیل تھی۔ میں نے خوش ہو کر کہا: ’’بہن، بہن، کیا میری باری تمہارے بعد نہیں تھی؟!‘‘ عورت نے مسکرا کر مجھے اشارہ کیا کہ میں آگے آ جاؤں۔ ایسا لگا کہ مجھے دنیا جہان کی نعمتیں مل گئی ہو۔ دوسری عورتوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبوراً مجھے آگے جانے کے لیے راستہ دے دیا۔ اب بھی جب کبھی میں سرخ زنبیل دیکھتی ہوں تو مجھے وہی عورت اور اس دن کا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔
موسم روز بہ روز سرد ہوتا جا رہا تھا۔ برف زمین پر جم چکی تھی۔ گاؤں کے راستوں پر آمد و رفت کم ہو چکی تھی یہی وجہ تھی کہ اب قایش سے کوئی ہمدان نہیں آ رہا تھا۔ ان دنوں مالک مکان نے بھی ہمارا بہت خیال رکھا۔ کبھی کبھی جب وہ اپنے لیے کوئی چیز خریدتا تو ہمارے لیے بھی کچھ نہ کچھ لے آتا لیکن میں یا تو قبول ہی نہ کرتی یا جیسے تیسے کر کے اسے اس چیز کے پیسے ضرور دے دیتی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ اپنے گردن پر کسی کا احسان لوں یا لوگ یہ سمجھیں کہ میرا شوہر گھر پر نہیں ہے تو میں دوسروں کی محتاج ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ میں اپنی طاقت سےزیادہ کام کرتی۔ سردی منفی 42-43 تک پہنچ چکی تھی۔ گھر کو گرم رکھنے کے لیے تیل کی مقدار ناکافی تھی۔ بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے گھر میں بھی انہیں کوٹ اور ٹوپیاں پہنائے رکھتی تھی۔ ایک دن تیل ڈالنے لگی تو دیکھا کہ کُپّا تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ بچے سو گئے تھے۔ بیس لیٹر تیل والا کپا اٹھایا اور تیل والی ایجنسی پر چلی گئی جو سڑک کنارے تھی اور ہمارے گھر سے کافی دور تھی۔ لوگ دکان پر قطار بنائے کھڑے تھے۔ انہوں نے تیل کے کپے رسیوں کی مدد سے ایک دوسرے سے باندھ رکھے تھے تا کہ ان کی باری آگے پیچھے نہ ہو جائے۔ میں نے بھی اپنا کپا قطار کے آخر میں رکھ دیا اور کھڑی ہو گئی۔ تیل ابھی تک دکان پر نہ پہنچا تھا۔ کھڑے کھڑے آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ سردی پاؤں کی انگلیوں سے اوپر آنا شروع ہو گئی یہاں تک کہ میرے دانت بجنے لگے۔ میں نے دیکھا کہ اس طرح تو مجھ سے نہیں کھڑا ہوا جائے گا۔ میں گھر واپس آ گئی اور جتنا ہو سکتا تھا جرابیں اور کوٹ پہن لیے اور پھر واپس دکان پر آ گئی۔ بچوں کو گھر ہی چھوڑ آ ئی تھی اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہ تھا۔ ظہر تک چار پانچ دفعہ گھر آئی اور واپس گئی۔ ظہر کے بعد تیل ایجنسی میں آیا۔ ایک گھنٹے بعد میری باری آئی۔ ان دنوں تیل کی ایجنسیوں پر ریڑھیاں پھر رہی ہوتی تھیں جو لوگوں کے تیل کے کپے ان کے گھروں تک پہنچا دیتی تھیں۔ میری بدقسمتی کہ اس وقت ایک ریڑھی بھی وہاں موجود نہ تھی۔ ایک کپے کو وہیں دکان میں رکھا اور دوسرے کو ہزار مشکلوں سے دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور ہانپتی کانپتی گھر کی طرف چل پڑی۔ پہلے تو ہر دس بیس قدم پر کپے کو نیچے رکھتی اور تھوڑا دم لیتی لیکن آخر میں آ کر ہر پانچ قدم کے بعد ٹھہر جاتی۔ انگلیاں جو سُن ہو چکی ہوتیں انہیں رگڑتی اور ہاتھوں کا پیالہ بنا کر منہ پر رکھ لیتی اور منہ سے بھاپ دیتی تا کہ گرم ہو جائیں۔ کس عذاب سے پہلے کپے کو گھر تک پہنچایا اور پہلی منزل میں سیڑھیوں کے نیچے اسے رکھا۔ جب دوسرے کپے کو اٹھانے کے لیے جانے لگی تو میری حالت رونے والی ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر جیسے ہی دکان سے دوسرا کپا اٹھا کر باہر لائی تو میری سانسیں جواب دے گئیں۔ میں سردی سے برف بن چکی تھی لیکن مجھے ہر حال میں وہ کپا گھر تک پہنچانا تھا۔ ایک تو بچوں کی طرف دھیان لگا ہوا تھا دوسرا چلنے کی طاقت ختم ہو چکی تھی۔ بالآخر ہزار مشکلوں سے گرتی پڑتی گھر تک پہنچی۔ اگلا سخت مرحلہ ان کپوں کو اٹھا کر اوپر والی منزل تک لے جانے کا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ مالک مکان متوجہ ہو جائے اور میری مدد کو آ جائے۔ اسی لیے آہستہ آہستہ اور بغیر کوئی آواز پیدا کیے پہلے کپے کو اٹھایا اور سیڑھیوں سے سے اوپر لے گئی۔ آدھے گھنٹے بعد آ کر دوسرے کپے کو بھی اٹھا لائی۔ میں بے ہوش ہوئی جا رہی تھی۔ تھکاوٹ سے چور ہو کر کمرے کے وسط میں جا کر گر پڑی۔ خدیجہ اور معصومہ خوش ہو ہو کر مجھ سے لپٹ رہی تھیں لیکن میں اس قدر تھک چکی تھی اور میرے پاؤں اور کمر میں اتنا درد ہو رہا تھا کہ ان کی طرف منہ کر کے ہنس بھی نہ سکتی تھی۔ انتظار کر رہی تھی کہ بچے سو جائیں تو میں بھی تھوڑا آرام کر لوں۔ لیکن بچے بھوکے تھے لہٰذا مجھے اٹھ کر رات کے کھانے کا بندوبست کرنا تھا۔
تقریباً ہر روز ریڈ الرٹ ہو جاتا۔ دو تین بار تو ایسا بھی ہوا کہ عراقی جہازوں نے شہر کی صوتی دیوار([3]) کو توڑ دیا جس کے سبب لوگ ڈر گئے اور گھروں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ جیسے ہی ریڈ الرٹ ہوتا اور سائرن کی آواز آتی تو خدیجہ اور معصومہ ڈر کے مارے میری طرف دوڑتیں اور میری گود میں آ کر چھپ جاتیں۔ مصلی ٹیلہ ہمارے گھر کے سامنے ہی تھا اور طیارہ شکن توپ خانہ وہیں نصب تھا۔ توپیں جب اپنا کام شروع کرتیں تو ہمارا گھر لرز جاتا۔ جب گولے داغے جاتے تو آگ سے ہمارا گھر روشن ہو جاتا۔ مالک مکان کی بیوی اصرار کرتی تھی کہ جب ریڈ الرٹ ہو جائے تو بچوں کو اٹھا کر نیچے چلی جایا کروں لیکن یہ ایک یا دو دن کا کام تو تھا نہیں۔ ایک رات جیسے ہی میں لیٹی تو ریڈ الرٹ ہو گیا اور پھر بلا فاصلہ توپوں نے گولے داغنا شروع کر دیے۔ اس دفعہ گولوں کی آواز اتنی زیادہ تھا کہ معصومہ اور خدیجہ ڈر کے مارے چیخنے اور رونے لگیں۔ میں کیا کرتی۔ ہزار جتن کیے مگر وہ چپ ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھیں۔ بچوں کے شور اور رونے کی آواز سن کر مالک مکان کی بیوی اوپر آ گئی۔ وہ بے چاری میرے لیے پریشان ہو رہی تھی۔ اس نے خدیجہ کو زبردستی مجھ سے لیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ معصومہ کومیں نے اٹھا لیا۔ خاتون نے جب توپوں کی آگ اور گھر کی لرزش دیکھی تو کہنے لگی: ’’قدم بیگم! تمہیں ڈر نہیں لگتا؟!‘‘
میں نے کہا: ’’پھر کیا کروں؟‘‘
وہ خود بھی ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔ کہنے لگی: ’’خدا کی قسم، بڑا حوصلہ ہے تمہارا۔ بغیر شوہر کے اور ان دو بچوں کے ساتھ، اللہ کی قسم، شیر جیسا حوصلہ رکھتی ہو۔ چلو نیچے۔ ان بچوں کا کیا قصور ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’آپ کو زحمت ہو گی۔‘‘
وہ بے چاری اصرار کرنے لگی اور زبردستی ہمیں نیچے لے گئی۔ وہاں شور کم تھا جس کی وجہ سے بچے پُرسکون ہو گئے۔
ہر ہفتے پیر اور بدھ کے دن شہداء کو لایا جاتا تھا۔ میری ساری کی ساری خوشی اسی بات میں تھی کہ ہفتے میں ایک بار شہداء کے جنازوں کے ساتھ جاؤں۔ خدیجہ اس وقت اڑھائی سال کی تھی۔ وہ میری چادر کا کونہ پکڑ لیتی اور آہستہ آہستہ میرے ساتھ چلتی جاتی۔ معصومہ کو میں اٹھا لیتی تھی۔ میں جیسے ہی ہجوم میں داخل ہوتی، بے اختیار رونے لگتی۔ ایسا لگتا تھا کہ میں اپنے پورے ہفتے کا غم اٹھائے شہداء کے تابوتوں کے پیچھے آ رہی ہوں تا کہ ان کے ساتھ اپنا غم بانٹ سکوں۔ خیابان شہداء سے لے کر باغِ بہشت([4]) تک روتی ہی رہتی۔ جب گھر لوٹتی تو کافی ہلکی پھلکی ہو چکی ہوتی اور تازہ توانائی اپنے اندر محسوس کرتی۔
مارچ کے دن تھے لیکن برف ابھی تک پگھلی نہ تھی اور موسم نے اپنی سردی والی کیفیت کو ابھی تک چھوڑا نہ تھا۔ عورتیں گھروں کی جھاڑ پونچھ، صفائی ستھرائی اور دھلائی میں مصروف تھیں۔ میں نے لاکھ کوشش کی مگر کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ اس روز بھی چند شہداء کی تشییع جنازہ سے واپس لوٹی تھی۔ بچوں کو گھر چھوڑ کر نانبائی پر جا کر قطار میں کھڑی ہو گئی اور ہمیشہ کی طرح تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کی خبر گیری لینے کے لیے پھر گھر چلی جاتی۔ آخری بار جب گھر آئی تو جیسے ہی سیڑھیوں پر پہنچی، خوف سے میرا حلق خشک ہو گیا۔ بچوں کے ہنسے کی آواز آ رہی تھی۔ کوئی آدمی ہمارے گھر میں تھا جو ان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ میں دوڑ کر سیڑھیاں چڑھی۔ پرانے اور گندے بوٹ دروازے کے باہر پڑے تھے۔ میں نے اپنےا ٓپ سے کہا: ’’حتماً شمس یا تیمور میں سے کوئی ایک ہو گا جو ہماری خیر خیریت دریافت کرنے آیا ہو گا۔ یا شاید ستار ہو۔‘‘ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا تو اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ وہ صمد تھا جو بچوں کو گود میں اٹھائے کمرے میں گھوم رہا تھا اور ان کے لیے اشعار پڑھ رہا تھا۔ بچے بھی مزا لے رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔
اچانک ہمارے آنکھیں ٹکرائیں اور تھوڑی دیر تک کچھ کہے بغیر ایک دوسرے کو دیکھتے ہی چلے گئے۔ ہم چار ماہ بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو جمع ہو گئے۔ پھر بھی اس نے پہلے سلام کیا اور اسی بچوں والی آواز میں جس میں وہ خدیجہ اور معصومہ کے لیے شعر پڑھ رہا تھا، پوچھنے لگا: ’’کہاں تھیں میری بیگم، کہاں تھیں میری پیاری، کہاں تھیں قدم بیگم؟!‘‘
میں دیوانہ وار موٹے موٹے آنسو بہا رہی تھی اور چادر کے کونے سے انہیں پونچھ رہی تھی۔ بچوں کو اٹھائے اٹھائے اس نے میری طرف دیکھ کر پوچھا: ’’رو رہی ہو؟!‘‘
میں اور رونا آ گیا۔ وہ ہنس دیا اور اسی بچوں والے لہجے میں کہنے لگا: ’’آہا، سمجھ گیا۔ تمہارا دل میرے لیے اداس ہو رہا تھا۔ بہت زیادہ۔ یعنی تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ بہت ہی زیادہ!‘‘
وہ جتنا باتیں کرتا جاتا میرا رونا بڑھتا جاتا۔ بچوں کو میرے چہرے کے سامنے لا کر کہنے لگا: ’’ماں کو بوسہ دو۔ ماں کے ساتھ لاڈ پیار کرو۔‘‘
بچے اپنے چھوٹے چھوٹے اور نرم ہاتھ میرے چہرے پر مارنے لگے۔
اس نے پوچھا: ’’کہاں گئی تھیں؟!‘‘
میں نے روتے ہوئے کہا: ’’روٹی خریدنے۔‘‘
پوچھا: ’’خرید لائیں؟!‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں، بچوں کی پریشانی تھی۔ انہیں دیکھنے آئی تھی۔‘‘
کہنے لگا: ’’اچھا، تم بچوں کے پاس رہو۔ میں لے آتا ہوں۔‘‘
میں نے دوبارہ چادر سے اپنے آنسو پونچھے اور کہا: ’’نہیں، تم زحمت نہ کرو۔دو بندوں کے بعد میری باری آنے ہی والی ہے۔ میں خود ہی جاتی ہوں۔‘‘
اس نے بچوں کو زمین پر رکھا اور میری چادر میرے سر سے اتار کر کھونٹی پر لٹکا دی: ’’جب تک میں گھر پر ہوں، گھر کی خریداری میرے ذمے ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’لیکن تمہیں اب قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا۔‘‘
اس نے کہا: ’’میں جاتا ہوں۔ یہ میری ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر روٹی کھانی ہے تو مجھےقطار میں کھڑے ہونا چاہیے۔‘‘
اس کے بعد وہ ہنس دیا۔
وہ اپنے بوٹ پہن رہا تھا تو میں نے کہا: ’’کم سے کم لباس تو تبدیل کر لو۔ ٹھہرو تمہارے جوتوں کو پالش بھی کر دوں اور ذرا نہا بھی لو۔‘‘
ہنس کر کہنے لگا: ’’تم بیس تک گنتی گنو، میں ابھی آیا۔‘‘
میں مسکرا کر کمرے میں آ گئی۔ بچوں کا منہ دھلایا اور ان کے کپڑے بدلے۔ کھانا رکھا۔ گھر کو مرتب کیا۔ اپنا منہ سر درست کیا۔ جب صمد روٹی لے کر پہنچا تو ہر چیز منظم ہو چکی تھی۔ کھانے کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ دھوپ کمرے کے درمیان تک آ گئی تھی۔ گھر کے در و دیوار سے خوشی ٹپک رہی تھی۔
اگلے دن صمد باہر چلا گیا۔ جب لوٹا تو اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کے بڑے بڑے تھیلے تھے۔ وہ دوبارہ خریداری کرنے گیا تھا۔ چنوں اور لوبیا سے لے کر قند، چائے، چینی اور چاولوں تک ہر چیز لے آیا تھا۔
میں نےپوچھا: ’’یعنی تم اتنا جلدی واپس جانا چاہتے ہو؟!‘‘
اس نے کہا: ’’اتنا جلدی تو نہیں، مگر بالآخر جانا تو ہے۔ میں ٹھہرنے والا تو ہوں نہیں۔ بہتر ہے کہ جلد از جلد اپنے کام نمٹا لوں۔ اب مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ایک کلو دال کے لیے دکان پر جاؤں۔‘‘
ہمیشہ جب وہ تھیلے لاتا تو جا کر باورچی خانے رکھ دیتا۔ اس بار بھی اس نے ایسا ہی کیا اور وہیں سے کہنے لگا: ’’کل جب میں آیا اور دیکھا کہ تم نانبائی کی قطار میں جا کر کھڑی ہوتو مجھے بہت ہی برا لگا۔‘‘
میں نے تھیلے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا: ’’یعنی تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے!‘‘
وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا: ’’نہیں، نہیں، میرا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا۔ میری مراد یہ تھی کہ میں تمہارے لیے عذاب اور پریشانی کا باعث بنا ہوا ہوں۔ اگر تمہاری مجھ سے شادی نہ ہوئی ہوتی تو اب تم اپنی ماں کے گھر میں راحت و سکون سے زندگی گزار رہی ہوتیں۔ کھاتیں، پیتیں اور سوتیں۔‘‘
میں ہنس دی: ’’کتنا کھاتی اور کتنا سوتی!‘‘
اس نے ایک بڑے تھال میں چاول ڈالتے ہوئے کہا: ’’میں یہ سارے چاول صاف کر دیتا ہوں۔ تم اپنے کام کر لو۔‘‘
میں نے کہا: ’’سب سے بہترین کام یہی ہے کہ میں یہاں بیٹھ جاؤں۔‘‘
وہ ہنس کر کہنے لگا؛ ’’نہیں، تو تم کہیں جا تھوڑا ہی رہی ہو۔ شاباش، شاباش۔ آؤ، یہاں میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ دونوں مل کر چاول صاف کرتے ہیں۔‘‘
ہم دونوں باورچی خانے ہی میں تھال کے کنارے بیٹھ گئے اور ظہر تک چنے، لوبیا اور چاول سب صاف کر ڈالے۔ ہم باتیں کرتے اور ہنستے جاتے تھے۔
دن کا کھانا کھانے کے بعد صمد نے وردی پہنی اور کہنے لگا: ’’میں ذرا چھاؤنی تک جانا چاہتا ہوں۔ جلدی لوٹ آؤں گا۔‘‘
میں پوچھا: ’’سہ پہر کو کہیں باہر چلے جائیں؟!‘‘
اس نے تعجب سے پوچھا: ’’کہاں؟!‘‘
میں نے کہا: ’’عید [نوروز] نزدیک ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ بچوں کے لیے نئے کپڑے خرید لوں۔‘‘
میں نے دیکھا کہ اچانک اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ہو نٹ سفید ہو گئے۔ کہنے لگا: ’’کیا! عید کے کپڑے؟!‘‘
میں اس سے زیادہ حیران ہو گئی: ’’میں نے کوئی بری بات کہہ دی!‘‘
اس نے کہا: ’’یعنی میں بچوں کا ہاتھ پکڑ کر نئے کپڑے خریدنے جاؤں! اس وقت میں شہداء کے بچوں کو کیا جواب دوں گا۔ یعنی مجھے شہداء کے بچوں سے شرم نہیں آئے گی؟!‘‘
میں نے کہا: ’’تو شہداء کے بچے سڑک پر کھڑے ہو کر ہمیں دیکھ تھوڑا ہی رہے ہیں! اگر دیکھ بھی لیں تو انہیں کیا معلوم کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔‘‘
وہ کمرے کے درمیان میں بیٹھ گیا: ’’ہائے ظلم، ہائے ظلم۔ تم وہاں نہیں ہوتیں کہ دیکھ سکو کہ ہر روز کتنے گلدستے ہمارے آنکھوں کے سامنے بکھر جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ بیوی بچوں والے ہوتے ہیں۔ اس شبِ عید پر کون ان کے لیے نئے کپڑے خریدے گا؟‘‘
میں اس کے سامنے بیٹھ گئی اور ناراض ہو کر کہنے لگی: ’’میں نے غلط کیا۔ میرے بچوں کو عید کے کپڑے نہیں چاہییں۔‘‘
اس نے پوچھا: ’’ناراض ہو گئی ہو؟!‘‘
میں نے کہا: ’’بہت زیادہ! تم تو ہوتے نہیں ہو کہ میری حالت دیکھ سکو۔ تم کب میرے اور بچوں کے پاس رہے ہو؟! خدا کی قسم، ہماری حالت بھی شہداء کے بچوں سے کم نہیں ہے۔‘‘
وہ غصے میں ہو گیا۔ کہنے لگا: ’’ایسی باتیں نہ کرو۔ ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہ ہمارا وظیفہ ہے۔ ذمہ داری ہے، جسے ہمیں بغیر کسی پر احسان دھرے انجام دینا ہے۔ ہم آج سے لے کر جب تک جنگ ہے کوئی عید نہیں کریں گے۔ ہم شہداء کے خاندانوں کے درد و غم میں شریک ہیں۔‘‘
میں دوسرے کمرے میں چلی گئی اور غصے سے کہا: ’’میں نے کہا نا ٹھیک ہے۔ میں معذرت چاہتی ہوں۔ میں نے غلط کیا۔‘‘
وہ اٹھا اور کمرے میں تھوڑا چلنے کے بعد دروازہ بند کر کے چلا گیا۔
سہ پہر تک میں پریشان رہی اور ایک کونے میں منہ بنائے بیٹھی رہی۔ نہ بچوں کو اٹھانے کا دل کر رہا تھا اور نہ ہی اتنی ہمت ہو رہی تھی کہ اٹھ کر کوئی کام کر لوں۔ میرا دل بھر آیا تھا۔ نہ میں رونا چاہ رہی تھی اور نہ ہی ضبط ہو رہا تھا۔
اندھیرا چھا چکا تھا۔ صمد ابھی تک واپس نہ آیا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’دیکھا نا، صمد بغیر خدا حافظ کہے چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘ ایک طرف تو مجھے اس پر غصہ تھا اور دوسری طرف دل اس کے لیے اداس ہو رہا تھا۔ میں نے خود ہی پاگل پنا کیا تھا۔ ڈر رہی تھی کہ کہیں وہ ناراض ہو کر چلا ہی نہ گیا ہو۔
اب اس کےآنے کی امید چھوڑ بیٹھی تھی۔ اٹھی اور بتیاں روشن کر دیں۔نماز کے لیے وضو کیا۔ اسی وقت میرا دل ٹوٹ گیا اور میں نے کہا: ’’خدایا، میں نے غلط کیا۔ مجھے معاف کر دے! یہ میں نے کیا کر دیا۔ میرے صمد کو واپس لے آ۔‘‘
میرے دل میں طوفان بپا تھا۔ اچانک ایک آواز آئی۔ بچوں کے چیخنے اور ہنسنے کی آواز بلند ہوئی تھی۔ میں سمجھ گئی کہ میرا صمد آ گیا ہے۔ میں جانماز پر بیٹھی ہوئی تھی۔ صمد مجھے آواز دے رہا تھا: ’’قدم! قدم جان! قدم بیگم، کہاں ہو؟!‘‘
میرا دل پریشان ہو گیا۔ میں کمرے میں آ گئی۔ دیکھا تو اس نے پشتی کے پاس دو بڑے بیگ رکھے ہوئے تھے اور بچوں کو اٹھا رکھا تھا۔ میں نے آہستہ سے سلام کیا۔
ہنس کر کہنے لگا: ’’سلام میری بیگم۔ قدم بیگم، کیسی ہو؟!‘‘
میں ضبط کر کے کھڑی رہی اور بے اعتنائی سے سلام کا جواب دیا۔
لیکن اندر ہی اندر میں گُھلی جا رہی تھی۔ اس نے کہا: ’’دیکھو، تمہارے لیے کیا خرید کر لایا ہوں۔ اللہ کرے تمہیں پسند آ جائے۔‘‘ اس نے پشتی کے پاس پڑے دو بیگوں کے طرف اشارہ کیا۔
میں باورچی خانے میں چلی گئی اور اپنے آپ کو کھانا پکانے میں مصروف کر دیا لیکن میرے سارے حواس اسی کی طرف لگے ہوئے تھے۔ اس نے بچوں کے لیے کپڑے خریدے تھے اور انہیں پہنا رہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ بچے نئے کپڑے پہنے باورچی خانے میں آ گئے ہیں۔ میں ڈر گئی کہ کہیں ان کے کپڑے گندے نہ ہو جائیں۔ انہیں اٹھایا اور کمرے میں لے آئی۔
وہ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا: ’’ایک چائے کی پیالی نہیں دو گی؟ اچھا کم سے کم یہ تو دیکھ لو کہ تمہارے لیے جو کپڑے خرید کر لایا ہوں وہ تمہیں پسند بھی ہیں یا نہیں؟!‘‘
اس نے دیکھا کہ میں ابھی تک ناراض ہوں تو ہنس کر کہنے لگا: ’’صمد کی جان، ہنسو۔‘‘
میری ہنسی نکل گئی۔ وہ کہنے لگا: ’’اب تم ہنس پڑی ہو تو وہ بیگ تمہارا ہوا۔ قدم کی جان کی قسم، اگر تم اسی طرح ناراض رہو گی تو میں ابھی اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ کچھ سپاہی آج محاذ پر جا رہے ہیں۔‘‘
میں نے دیکھا کہ معاملہ سنجیدہ ہو چکا ہے اور اتنا جلدی حل ہونے والا نہیں ہے تو بیگ اٹھایا اور دوسرے کمرے میں لے جا کر اس میں سے کپڑے نکال کر پہن لیے۔ اس کا انتخاب ہمیشہ کی طرح اعلیٰ تھا۔ اس نے میرے لیے کُرتی اور کڑھائی والی قمیض خریدی تھی جس کا ان دنوں تازہ تازہ رواج چلا تھا۔ میں آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک وہ بھی کمرے میں آ گیا: ’’واہ، واہ، قدم! اپنی جان کی قسم، تم تو چاند لگ رہی ہو۔ یہ کپڑے تم پر بہت جچ رہے ہیں۔‘‘
میں شرما گئی: ’’بہت شکریہ۔ اب باہر جاؤ گے، میں کپڑے بدل لوں؟!‘‘
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا: ’’کیا! تمہیں کپڑے بدلنا ہیں! ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہی کپڑے گھر میں پہنے رکھو۔ کیا میں نے نہیں کہا کہ ہم لوگ عید نہیں کریں گے لیکن جب بھی ہم ایک دوسرے کے پاس ہوں اور تم ہنس رہی ہو تو یہی عید ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’لیکن یہ لباس تو باہر کسی دعوت پر پہن کر جانے والا ہے۔‘‘
وہ ہنس کر کہنے لگا: ’’میں بھی تمہارا مہمان ہوں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم یہ لباس میرے لیے پہنو؟!‘‘
میں ہار مان گئی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ’’بیٹھو۔‘‘
بچے کمرے میں آ گئے تھے اور مجھے اور میرے نئے کپڑوں کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ صمد نے اسی طرح میرا ہاتھ تھامے ہوئے کہا: ’’ظہر کے وقت جو کچھ ہوا اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ میرا قصور تھا۔ مجھے معاف کر دو۔ اگر مجھے غصہ آ گیا تو یہ میرے اختیار میں نہ تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میں بہت غصے میں آ گیا تھا، لیکن مجھے معاف کر دو۔ تم خود جانتی ہو کہ تم ساری دنیا سے زیادہ مجھے عزیز ہو۔ آج تک اس دنیا میں تم سے زیادہ میں نے کسی سے محبت نہیں کی۔ بعض اوقات تو میں سوچتا ہوں کہ خدا نہ کرے میری یہ محبتیں مجھے خدا سے دور کر دیں۔ لیکن جب میں اچھی طرح غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ تم سے محبت کر کے میں خدا سے زیادہ نزدیک ہو جاتا ہوں۔ روزانہ لاکھ مرتبہ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تم میری قسمت میں آئی ہو۔ کیا کروں کہ جنگ چھڑ گئی ورنہ میں نے بھی زندگی کے لیے بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔ اگر تم جان لو کہ محاذ پر کیا قیامت بپا ہے، اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ صدام ہماری عورتوں اور بچوں پر کیا مصیبت لایا ہے، اگر تم ہوتیں اور یہ سارے رنج و غم اور قتل و غارت دیکھتیں تو مجھے صحیح سمجھتیں۔ قدم جان! مجھ سے ناراض نہ ہو۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔ خدا کی قسم، بہت مشکل ہے۔ اس بات کو قبول کر لو کہ اب ہماری کوئی عید نہیں ہے۔ ذرا اٹھو اور کاشانی روڈ([5]) پر جا کر دیکھو کہ جنگ کے مارے یہ لوگ کتنی مشکلات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیا ان کے گھر اور زندگی نہیں تھی؟! ان کا بھی تو دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے شہروں میں اپنے گھروں کو واپس جائیں اور اچھی زندگی گزاریں۔‘‘
میری آنکھیں کھل گئیں۔ میں نے کہا: ’’تم سچ کہتے ہو۔ حق تمہارے ساتھ ہے۔ میں معافی چاہتی ہوں۔‘‘
اس نے سکھ کا سانس لیا اور کہا: ’’خدایا تیرا شکر کہ یہ مسئلہ ہم دونوں کے لیے واضح ہو گیا۔ لیکن ایک اور بات جو کافی دنوں سے میں تمہیں کہنا چاہ رہا تھا، وہ میرے بارے میں ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ اب جنگ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ میں ہر بار آتا ہوں اور تمہیں کہتا ہوں کہ یہ آخری بار ہےکہ میں تم سے اور بچوں سے مل رہا ہوں۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ شاید دوبارہ نہ آ سکوں۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ میری تنخواہ تمہیں دے دیا کریں۔ شمس اللہ، تیمور اور ستار کو بھی دوسری ہدایات کر دی ہیں تا کہ تمہیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
میں رونے لگی: ’’صمد، بس کرو۔ یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو۔ میں نہیں سننا چاہتی۔ اب بس بھی کرو۔‘‘
اس نے شہادت کی انگلی سے میری آنسو پونچھے اور کہا: ’’روؤ مت۔ بچے پریشان ہو جائیں گے۔ یہ باتیں حقیقت ہیں۔ تمہیں ابھی سے مشق کرنی چاہیے تا کہ جب موقع آئے تو تم برداشت کر سکو۔‘‘ تھوڑی دیر ٹھہر کروہ دوبارہ گویا ہوا: ’’اس بار جب میں جاؤں تو تم زیادہ خوش نہ ہونا کہ اتنی جلدی واپس آ جاؤں گا۔ شاید تین چار ماہ لگ جائیں۔ بچوں کا خیال رکھنا اور صبر کرنا۔‘‘
اور میں نے صبر کر لیا۔ صمد چند دن بعد چلا گیا اور پھر تین چار ماہ بعد واپس آیا۔ ایک ہفتہ ٹھہرا اور پھر چلا گیا۔ کبھی وہ ٹیلی فون کرتا اور کبھی چھٹی پر آنے والے اپنے کسی دوست سے کہہ دیتا کہ ہماری خیر خیریت دریافت کرتا آئے۔ اس کے بھائی، شمس اللہ، تیمور اور ستار بھی کبھی کبھی آ جاتے اور ہماری خبرگیری کرتے رہتے۔
میرے بابا میرے لیے ہمیشہ بے چین رہتے۔ کبھی اکیلے میرے پاس آ جاتے اور کبھی شینا کے ساتھ۔ کچھ دن رہتے اور پھر چلے جاتے۔ بعض اوقات ہم بھی قایش چلے جاتے۔ لیکن میں جب وہاں ہوتی تو دل گھر کے لیے اداس ہو جاتا۔ سوچتی رہتی کہ ابھی صمد ہمدان آ گیا ہو گا۔ میں بے چین رہتی اور پر کٹے مرغ کی طرح ادھر ادھر پھرتی رہتی، یہاں تک کہ ہمدان واپس آ جاتی۔ گھر سے ہمیشہ صمد کی خوشبو آتی۔ اس کے کپڑے، جوتے اور جانماز ہمیشہ میرے دل کو سکون بخشتے۔
میں اس زندگی کی عادی ہو گئی تھی۔ میری ساری کی ساری خوشی یہی تھی کہ وہ ہے اور سالم ہے۔ یہی میرے لیے کافی تھا۔
جنگ نے شہروں کا رُخ کر لیا تھا۔ بعض اوقات تو ایک ہی دن میں کئی کئی بار ریڈ الرٹ ہو جاتا۔ عراقی جہاز شہر کے آسمان پر ابھرتے اور رہائشی علاقوں پر بمباری کرتے۔ ان حالات میں بھی ہماری زندگی گزر رہی تھی اور اسی طرح جنگ کے دو سال گزر گئے۔
1983 میں، میں تیسری بار امید سے ہو گئی۔ میں پریشان تھی۔ سوچتی تھی کہ ان حالات میں کیسے بچے کو جنم دوں گی اور اسے پالوں پوسوں گی۔میں پریشان تھی جبکہ صمد خوش۔ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی فرصت سے استفادہ کرتا کہ ہمدان آئے اور ہماری خبرگیری کرتا رہے۔ اسے میری فکر کھائے جا رہی تھی۔ سب رشتہ داروں کو اس نے میرے بارے میں ہدایت کر چھوڑی تھی: ’’جب میں نہ ہوں تو قدم کا بہت زیادہ خیال رکھنا۔‘‘
جب وہ واپس جاتا تو کہتا: ’’قدم! تم نے میرے ساتھ کیا کر دیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی تمہاری یادمیرے دل سے نہیں نکلتی۔ تم ہر وقت میرے ساتھ ہوتی ہو۔‘‘
لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ بھی جانتا تھا اور میں بھی کہ وہ جنگ ہی کو ترجیح دیتا ہے۔ جب ہمدان پر بمباری ہو رہی تھی تو سب لوگ ہمارے لیے پریشان تھے۔ اس کے بھائی آتے اور ہر ماہ مجھے قایش لے جاتے۔ کبھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے اور چند روز ہمارے پاس ٹھہرتے اور جب حالات تھوڑے معمول پر آ جاتے تو چلے جاتے۔
تیسرے بچے کے وجود نے صمد کے اندر زندگی کی امید کو جلا بخش دی تھی۔ اب اسے اپنا گھر خریدنے کی فکر ہونے لگی۔ اس نے مختلف جگہوں سے قرض لے کر گھر کے لیے رجسٹریشن کروا دی۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ خوشی خوشی آیا اور آتے ہی کہنے لگا: ’’اب تمہاری اور بچوں کی طرف سے میری پریشانی ختم ہوئی۔ میں نےتمہارے لیے گھر خریدلیا ہے۔ اب کرائے پر رہنے کے جھنجھٹ سے بھی جان چھوٹی۔ گرمیوں میں ہم اپنے گھر میں چلے جائیں گے۔‘‘
میرا نواں مہینہ تھا۔ صمد دس دنوں کے لیے آیا اور گھر میں رہا لیکن ایسا لگتا تھا کہ بچہ ابھی دنیا میں نہیں آنا چاہتا۔ ہم ڈاکٹر کے پاس گئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ اگلے ایک ہفتے تک بچے کی پیدائش نہیں ہو گی۔ صمد ہمیں قایش لے گیا اور کہا: ’’میں محاذ پر جا رہا ہوں۔ تین چار روز میں واپس آ جاؤں گا۔‘‘
جیسے ہی صمد ہمیں خدا حافظ کہہ کر گاڑی پر سوار ہوا اور چلا گیا تو مجھے درد نے جکڑ لیا۔
میں یقین نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔ صمد نے وعدہ کیا تھا کہ اس بار وہ بچے کی پیدائش کے وقت میرے پاس ہی رہے گا۔ مجھے اس کے واپس آنے تک صبر کرنا چاہیے تھا، لیکن بچہ ان باتوں کو بھلا کہاں سمجھ سکتا تھا۔ اسے دنیا میں آنے کی جلدی تھی۔ میں درد سے دوہری ہوئی جا رہی تھی لیکن کسی سے کچھ کہہ نہ کہا۔ شینا جلدی سمجھ گئیں، کہنے لگیں: ’’ابھی کسی کو دائی کی طرف بھیجتی ہوں۔‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں، ابھی جلدی ہے۔‘‘ وہ ناراض ہو کر کہنے لگیں: ’’اگر مجھے معلوم نہ ہو سکے کہ اس کا وقت کب ہونا ہے تو میرا کیا فائدہ؟!‘‘
وہ گئیں اور میرے لیے بستر بچھا دیا۔ دیگچے میں پانی بھرا اور اسے صحن کے ایک کونے میں رکھے چولہے پر چڑھا دیا۔ اس کے بعد کمرے میں آئیں اور سفید کپڑے کے ٹکڑے کاٹنے لگیں۔ وہ باتیں بھی کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ مجھے کنکھیوں سے دیکھ بھی رہی تھیں۔ خدیجہ اور معصومہ ایک کمرے میں کھیل رہی تھیں۔ شینا میرے اور بچوں کے صدقے واری ہوئی جا رہی تھیں۔ گھڑی گھڑی اٹھتیں اور میرے پاس آ کر اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھ دیتیں۔ میرے سر پر بوسہ دیتیں اور مختلف قسم کے قہوے مجھے پینے کے لیے دیتی جاتی تھیں۔
اچانک میری حالت بگڑ گئی۔ اب اور برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ درد سے میری چیخ نکل گئی۔ شینا نے کپڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑے زمین پر رکھے اور میری بہنوں اور بھابھیوں کی طرف بھاگیں۔ تھوڑی دیر بعد گھر میری مدد کے لیے آنے والوں سے بھر گیا۔ دائی دیر سے آئی۔ شینا میرے اردگرد گھوم رہی تھیں۔ قہوہ میرے حلق میں ڈال کر کہتی تھیں: ’’ڈرو مت، اگر دائی نہ آئی تو میں ہوں نا۔‘‘ دائی ظہر کے بعد آئی اور آدھے گھنٹے بعد بچے کی ولادت ہو گئی۔
شینا نے خوشی خوشی بچے کو گود میں اٹھایا اور کہنے لگیں: ’’قدم جان! بیٹا ہے۔ مبارک ہو۔ دیکھو کیسا موٹا تازہ اور سفید بچہ ہے۔ کتنا پیارا ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کسی کو میری ساس کی طرف بھیج دیا تا کہ ان سے انعام لے سکیں۔ بچے کے رونے کی آواز بلند ہوئی تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ گھر بھرا ہوا تھا مگر جسم کی کمزوری اور خوشی کا خمار ایسا مجھ پر طاری ہو گیا تھا کہ مجھےکوئی شور سنائی نہیں دے رہا تھا۔
اگلے روز صبح بابا چلے گئے تا کہ کسی طرح صمد کو ڈھونڈ کر لا سکیں۔ سہ پہر کو وہ واپس آئے مگر صمد ان کے ساتھ نہ تھا۔ انہیں صمد کا ایک ساتھی مل گیا تھا جسے انہوں نے پیغام دے دیا تھا کہ جیسے بھی ہو صمد کو ڈھونڈ کر اسے بچے کی ولادت کی اطلاع دے دیں۔ اسی لمحے سے میں اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ میں سوچ رہی تھی کہ جو بھی ہو وہ کل حتماً پہنچ جائے گا۔
جب اگلے چند روز تک بھی صمد نہ آیا تو اب طعنوں مِعنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا: ’’قدم کا بچہ! بیٹا ہوا ہے!‘‘
’’عجب لا پرواہ شوہر ہے۔‘‘
’’بے چاری قدم، اب ان تین بچوں کے ساتھ کیسے اپنے گھر کو واپس جائے گی اور کیسے زندگی گزارے گی۔‘‘
’’ایسے بھی شوہر ہوتے ہیں بھلا!‘‘
شینا بھی یہ باتیں سن رہی تھیں اور میرے ساتھ پہلے سے زیادہ محبت کا اظہار کر رہی تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کہہ رہی تھیں: ’’اگر آغا صمد خود آ جاتے ہیں تو ٹھیک ورنہ میں خود ہی اپنے نواسے کے لیے ہفتم([6]) کی تقریب کروں گی اور مہمانوں کی دعوت کا اہتمام کروں گی۔‘‘
میں نے دروازے پر اپنی نظریں گاڑ کر اتنا انتظار کیا تھا کہ حوصلہ جواب دینے لگا تھا۔ جب بھی کوئی بات کرتا تو میں غمگین ہو جاتی اور رونے لگتی۔ ہفتم بھی گزر گیا مگر صمدنہ آیا۔نواں دن تھا کہ ماں نے کہا: ’’میں اب صبر نہیں کر سکتی۔ میں جاتی ہوں اور مہمانوں کو دعوت دیتی ہوں۔ اگر تمہارا شوہر آ گیا تو بہت اچھا!‘‘
دسویں دن صبح کے وقت شینا اٹھیں اور میری بہنوں اور بھابھیوں کو ساتھ لے کر کچھ چیزیں پکانے اور دن کے کھانے کا اہتمام کرنے لگیں۔ ظہر کے نزدیک کا وقت تھا کہ گلی سے کوئی بچہ پکارا: ’’آغا صمد آ گئے۔‘‘ میں بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اسے زمین پر رکھا اور کمر میں چادر باندھ کر سر پر کچھ اوڑھا۔ اونچی اونچی سیڑھیوں سے بمشکل نیچے اتری۔ صحن بھرا ہوا تھا۔ میری بہن آگے بڑھی اور کہا: ’’لڑکی، اس طرح باہر کیوں نکل آئی ہو؟ تم زچہ ہو۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنی چادر اتاری اور میرے سر پر اوڑھا دی۔ میں ٹھیک سے چل نہیں سکتی تھی۔ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو گھسیٹ کر گلی میں لائی۔ گلی کی نکڑ سے ایک مرد آ رہا تھا، جس نے فوجی لباس پہن رکھا تھا اور اس کے کندھے پر ایک بیگ تھا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور وہ گرد سے اٹا ہوا۔ لیکن وہ صمد نہ تھا۔ پھر بھی میں گلی کے درمیان تک چلی گئی۔وہ صمد کا ایک دوست تھا۔ میں نے شرمندگی سے سلام و احوال پرسی کی اورصمد کا حال پوچھا۔ اس نے کہا: ’’وہ خیریت سے ہے۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ اتنا جلدی واپس آئے۔ آپریشنز ہو رہے ہیں۔ میں بھی اپنی پھوپھی کی خیریت دریافت کرنے آیا ہوں۔ مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ کل واپس چلا جاؤں گا۔‘‘
ایسا لگتا تھا کہ کسی نے میرے سر پر ٹھندا یخ پانی ڈال دیا ہے۔ میرا بدن لرزنا شروع ہو گیا۔ ہاتھ پاؤں بے جان ہو گئے۔ میں نے دیوار کا سہارا لیا اور کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ وہ مرد چلا گیا۔ شینا اور میری بہنیں بھی گلی میں آ گئی تھیں تا کہ صمد سے انعام لے سکیں۔ انہوں نے جب مجھے ایسی حالت میں دیکھا تو مجھے بازؤوں کے نیچے سے سہارا دے کر کمرے میں لے گئیں۔
میں بستر پر لیٹ گئی۔ میرا تمام بدن لرز رہا تھا۔ شینا نے میرے لیے شربت بنایا اور مجھے لحاف اوڑھا دیا۔ میں نے اپنا سر لحاف کے اندر کر لیا اور روہانسی ہو گئی۔ میں سونے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے معلوم تھا کہ شینا ابھی تک میرے سرہانے بیٹھی ہوئی ہیں اور میرے لیے رو رہی ہیں۔ میں رونا نہیں چاہتی تھی۔ اس دن میرے بیٹے کی دعوت کی تقریب تھی۔ مجھے یہ تقریب خراب نہیں کرنا تھی۔
ظہر کے وقت مہمان ایک ایک کر کے آنا شروع ہو گئے۔ عورتیں مہمان خانے میں بیٹھ گئیں اور مرد دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ دن کے کھانے کے بعد میری بہن آئی اور میرے بچے کو میری گود سے اٹھا کر لے گئی تاکہ اس کا نام رکھا جائے۔ اس کا نام صمد کے دادا حاج آغا ابراہیم نے مہدی رکھا۔ انہوں نے خود ہی مہدی کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔ ظہر کے بعد مرد خداحافظ کہہ کر چلے گئے۔ اگرچہ جولائی اگست کے دن تھے اور فصلوں کی کٹائی اور کام کاج کا موسم تھا لیکن عورتیں پھر بھی سہ پہر تک بیٹھی رہیں۔میری بہنیں اور بھابھیاں صحن میں چلی گئیں اور برتن دھونے اور پھلوں کو بڑی بڑی ڈشوں میں سجانے لگیں۔ مہدی میرے پاس سویا ہوا تھا۔ عورتوں کی باتیں شروع ہو چکی تھیں۔ میری آنکھیں ابھی تک دروازے پر لگی ہوئی تھیں اور توقع تھی کہ ابھی دروازہ کھل جائے گا اور صمد اپنے بیٹے کی تقریب کے آخری لمحات میں پہنچ جائے گا۔
*****
([2]) ایران میں مکان کرائے پر لینے کے لیے کرایہ دار اور مالک مکان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ قرارداد ایک سال تک کے لیے ہوتی ہے۔ ایک سال کے بعد اگر کرایہ دار وہاں رہنا چاہے تو باہمی رضامندی سے قرارداد میں توسیع کر لی جاتی ہے ورنہ کرایہ دار کو وہ مکان چھوڑ کر کسی اور مکان میں جانا پڑتا ہے۔
([3]) صوتی دیوار ایک سائنسی اصطلاح ہے۔ انگریزی میں اسے Sound Barrier کہا جاتا ہے۔ صوتی دیوار وہ نقطہ ہے جسے عبور کرنے کے لیے ایک متحرک جسم کو آواز کی رفتار سے زیادہ حرکت کرنا پڑتی ہے۔ جب کوئی متحرک جسم اس نقطے کو عبور کرتا ہے تو ایک زوردار دھماکے کی آواز پیدا ہوتی ہے، جس سے آس پاس کئی کلومیٹر تک کے علاقے میں زلزلے جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور مکانوں کی کھڑکیاں اور دروازے لرزنے لگتے ہیں بلکہ بعض اوقات ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ جنگی جہازوں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر عمومی حالات میں انہیں یہ صوتی دیوار عبور کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ فقط جنگ کے دوران ہنگامی صورتحال میں بعض اوقات اس کی اجازت ہوتی ہے۔
([4]) ایران میں شہداء کے قبرستان کو باغِ بہشت کہا جاتا ہے۔
([5]) ہمدان میں شہید کاشانی روڈ کے نام سے ایک سڑک ہے جس کے دونوں طرف ایرانی بینک ’’مسکن‘‘ کی طرف سے بہت سے فلیٹس بنائے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر فلیٹس جنوبی شہروں کے جنگ زدہ لوگوں کو رہنے کے لیے دے دیے گئے تھے۔ ابھی بھی بہت سے لوگ ان فلیٹس میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
([6]) ایران کے بعض علاقوں میں بچے کی ولادت کے ساتویں دن ایک تقریب رکھی جاتی ہے جس میں قریبی رشتہ داروں اور جاننے والوں کو دعوت دی جاتی ہے اور انہیں کھانا کھلایا جاتا ہے۔