نواں باب
گرمیوں کے آخر میں گھر کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ گھر چھوٹا سا تھا۔ فقط ایک کمرہ اور ایک باورچی خانہ؛ بس یہی۔ صحن کے ایک کونے میں بیت الخلاء تھا جس کے ساتھ صمد نے ایندھن، کوئلے اور کاٹھ کباڑ رکھنے کے لیے ایک گودام بھی بنا دیا۔
بہنوں اور بھائیوں نے ہمارا مختصر سا سامان ہمارے اپنے گھر لانے میں ہماری مدد کی۔ سب سے زیادہ شیرین جان کام کر رہی تھیں اور ہمارے گھر کی خوشی محسوس کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گھر کی کتنی خوشی منائی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم نے کوئی محل کھڑا کر دیا ہے۔ میری نظر میں وہ گھر ان تمام گھروں سے زیادہ خوبصورت، وسیع اور پاکیزہ تھا جو میں نے ابھی تک دیکھ رکھے تھے۔ جب ہم نے سامان چن دیا تو گھر چاند کی طرح چمک اٹھا۔
اگلے دن صمد دوبارہ کام پر چلا گیا۔ وہ ایک روز رزن میں جاتا اور ایک دن ہمدان چلا جاتا۔ بالآخر وہ دوبارہ تہران جانے پر مجبور ہو گیا۔ ایک ہفتے بعد واپس لوٹ آیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ اس نے کوئی کام ڈھونڈ لیا تھا۔ میری تنہائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔ وہ جلد یا بدیر آتا جاتا رہتا۔ جب وہ گھر آتا تو ایک کونے میں بیٹھ کر ہمارے گھر میں موجود چھوٹے سے ریڈیو کو کانوں سے چپکا کر بیٹھ جاتا اور اس کے چینل تبدیل کرتا رہتا۔ میں پوچھتی: ’’کیا ہوا؟! کیا کر رہے ہو؟! آواز تھوڑی اونچی کرو، میں بھی سنوں۔‘‘
شروع شروع میں تو اس نے مجھے کچھ نہ بتایا، مگر ایک رات اس نے اپنی قمیص کی جیب سے ایک چھوٹی سے تصویر نکالی اور مجھے دکھاتے ہوئے کہا: ’’یہ آغا خمینی کی تصویر ہے۔ شاہ نے انہیں جلاوطن کر دیا ہے۔ لوگ مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آغا خمینی واپس آئیں اور وطن میں اسلامی حکومت قائم کریں۔ بہت سے شہروں میں احتجاجات ہو رہے ہیں۔‘‘
اس کے بعد وہ کمرے کے درمیان کھڑا ہو کر کہنے لگا: ’’لوگ تہران میں اس طرح نعرے لگاتے ہیں۔‘‘
اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائی اور چلا کر کہا: ’’شاہ مردہ باد۔۔۔ شاہ مردہ باد۔‘‘
اس کے بعد وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور امام کی تصویر میرے ہاتھ میں دے کر کہنے لگا:’’یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں۔ جہاں تک ہو سکتا ہے اسے دیکھتی رہا کرو تا کہ ہمارا بچہ بھی امام خمینی کی طرح نورانی اور مومن ہو۔‘‘
میں نے تصویر لے کر دیکھی۔ بچے نے میرے پیٹ میں کروٹ بدلی۔
دن یکے بعد دیگرے گزرتے رہے۔ ہمدان، تہران اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاجات کی خبریں قایش میں بھی پہنچ چکی تھیں۔ صمد کے چھوٹے بھائی جو تہران میں کام کرنے کے لیے گئے تھے، جب وہ واپس آتے تو خبر لاتے کہ صمد ہر روز مظاہروں میں جاتا ہے بلکہ وہ تو ہر قسم کے لانگ مارچ اور مظاہروں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
ایک بار ہمارے گاؤں کا ایک شخص یہ خبر لایا کہ صمد اور اس کے ساتھ چند اور لوگ تہران کی ایک بیرک میں گئے اور وہاں سے انہوں نے اسلحہ لیا۔ رات کو وہ اسلحہ لے کر رزن آئے اور اسے شیخ محمد شریفی کے حوالے کر دیا۔([1])
جب میں ان خبروں کو سنتی تھی تو میرا دل ڈولنے لگتا۔ اس بات کی فکر ہونے لگتی کہ صمد کیوں ان خطرناک کاموں میں پڑ گیا ہے۔
اب وہ دیر سے گاؤں آتا تھا اور بہانہ یہ کرتا تھا کہ سردیاں ہیں جن کی وجہ سے راستے پھسلواں اور خطرناک ہیں اور دوسری طرف جس عمارت میں کام کر رہے ہیں وہ کام جلدی ختم کر کے صاحب عمارت کے حوالے بھی کرنا ہے۔ میں جانتی تھی کہ وہ سچ نہیں بتا رہا اور بجائے اس کے کہ کام کاج اور زندگی کے پیچھے دوڑے، مظاہروں میں چلا جاتا ہے اور اعلامیے تقسیم کرتا پھرتا ہے یا اسی طرح کے دوسرے کاموں میں مصروف ہے۔
ہمارے ایک رشتہ دار کی شادی تھی۔ صمد اور اس کے بھائیوں کو پہلے ہی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ لوگ حتماً آئیں۔ شادی کے روز صمد آگیا۔ سہ پہر کے وقت اطلاع ملی کہ ہمارے گاؤں کے ایک شخص حجت قنبری، جو چند روز پہلے ہمدان کے ایک مظاہرے میں شہید ہو گئے تھے، کے جسد کو گاؤں میں لے آئے ہیں۔
لوگوں نے شادی کی تقریب چھوڑی اور گلیوں میں نکل کھڑے ہوئے۔ صمد اس ہجوم کے آگے آگے تھا اور مُکا بنا کر نعرے لگا رہا تھا: ’’شاہ مردہ باد۔۔۔ شاہ مردہ باد۔‘‘ مرد آگے آگے اور عورتیں ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پہلے مرد ’’شاہ مردہ باد‘‘ کہتے، ان کے پیچھے عورتیں کہتیں۔ گھر میں کوئی بھی نہ ٹھہرا تھا۔
حجت قنبری کے گھر والے بھی اس ہجوم میں شامل تھے۔ وہ روتے جاتے اور نعرے لگاتے جاتے تھے۔
نماز جنازہ کے لیے آنے والا ہجوم کافی باشکوہ تھا۔ ہم نے حجت کو دفنا دیا۔ صمد کافی بے چین تھا۔ اس نے مجھے ہجوم میں دیکھا تو آ کر مجھے خود گھر تک چھوڑ گیا اور کہہ گیا کہ وہ شہید قنبری کے گھر جا رہا ہے۔
رات ہو چکی تھی مگر صمد ابھی تک واپس نہ آ یا تھا۔ میرا دل گھبرا رہا تھا۔ میں بابا کے گھر چلی گئی۔ شیرین جان کافی پریشان تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ تمہارے بابا بھی ابھی تک گھر نہیں آئے۔ میں نے بہتیرا پوچھا کہ وہ کہاں ہیں مگر کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے چادر سر پر اوڑھی اور کہا: ’’اگر یہ بات ہے تو میں اپنے گھر چلی جاتی ہوں۔‘‘ میری بہن نے مجھے روک لیا اور جانے نہ دیا۔
میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ بابا اور صمد کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے کہا: ’’مجھے جانا چاہیے۔ صمد ابھی گھر آ جائے گا اور میرے لیے پریشان ہو جائے گا۔‘‘
خدیجہ نے دیکھ لیا کہ میں پیچھے نہیں ہٹنے والی تو اس نے اس انداز میں بتایا کہ میں اچانک پریشان نہ ہو جاؤں: ’’سلطان حسین کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔‘‘ سلطان حسین ہمارے گاؤں کا تھا۔
میں نے پوچھا: ’’کیوں؟!‘‘
خدیجہ نے ویسے ہی آرام سے جواب دیا: ’’سلطان حسین ہی تو خبر لایا تھا کہ حجت کو لے آئے ہیں۔ وہ اس چیز کی وجہ بنا تھا کہ لوگ مظاہرے کریں اور نعرے لگائیں۔ اسی وجہ سے اسے گرفتار کر کے دمق کے تھانے میں لے گئے ہیں۔ صمد بھی تھانے جانا بلکہ سلطان حسین کو آزاد کروانا چاہتا تھا، لیکن تمہارے بابا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اسے اکیلا نہ جانے دیا اور خود بھی اس کے ساتھ چلے گئے ہیں۔‘‘
بابا کا نام سنتے ہی میں رونے لگی اور اپنی بہنوں اور ماں پر برس پڑی: ’’آپ لوگوں کی غلطی ہے۔ آپ نے بابا کو جانے کیوں دیا۔ وہ بوڑھے اور بیمار ہیں۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو آپ لوگ قصوروار ہیں۔‘‘
میں نے وہ پوری رات جاگ کر گزاری۔ اگلی صبح بابا اور صمد آ گئے۔ وہ خوش تھے اور کہہ رہے تھے: ’’چونکہ ہم لوگوں نے ایکا کر لیا تھا اس لیے انہوں نے سلطان حسین کو آزاد کر دیا، ورنہ نہیں معلوم اس کے سر کیا مصیبت آجاتی۔‘‘
دوپہر کے نزدیک صمد نے کپڑے بدلے۔ وہ تہران جانا چاہتا تھا۔ میں پریشان ہو گئی: ’’میرا دل نہیں چاہتا کہ تم جاؤ۔ آج یا کل بچہ پیدا ہو جائے گا تو پھر ہم تمہیں کہاں ڈھونڈیں گے۔‘‘
اس نےہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’’پریشان مت ہو۔ میں خود پہنچ جاؤں گا۔‘‘
میں نے منہ بنا لیا۔ وہ اپنا کوٹ اتار کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: ’’اگر تم ناراض ہوتی ہو تو میں نہیں جاتا۔ لیکن تمہاری جان کی قسم، میرے پاس ایک ریال تک نہیں ہے۔ پھر کیا یہ طے نہیں پایا تھا کہ اس دفعہ میں جاؤں گا تو بچے کے لیے کپڑے اور دوسری چیزیں خرید کر لاؤں گا؟!‘‘
میں اٹھ کھڑی اور اس کے لیے تھوڑا کھانا تیار کیا۔ اس نے کھانا کھا لیا تو میں نے فرمائشیں شروع کر دیں۔ دروازے تک میں اس کے ساتھ گئی۔ خداحافظ کہتے وقت میں نے اسے کہا: ’’کمبل مت بھول جانا؛ وہ سوتی کمبل، وہی جو آج کل کافی چل رہا ہے۔ بہت ہی خوبصورت ہے۔ گلابی رنگ کا خرید لینا۔‘‘
جب وہ گلی کے موڑ سے مڑا سے تو میں نے چلا کر کہا: ’’اب مظاہروں میں نہ جانا۔ وہاں خطرہ ہوتا ہے۔ ہم تمہارے منتظر رہیں گے۔‘‘
میں گھر واپس آ گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ گھر اچانک مٹی مٹی ہو کر میرے سر پر آن گرا ہے۔ اداسی اور تاریکی نے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مجھ میں رہنے کی طاقت نہیں تھی۔ چادر اوڑھی اور بابا کے گھر چلی گئی۔
صمد کو گئے ہوئے دو روز ہو چکے تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری حالت روزانہ کی طرح نہیں ہے۔ کمر اور پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’مجھے برداشت کرنا چاہیے۔ اتنی جلدی تو بچہ دنیا میں نہیں آتا۔‘‘
بہرحال میں نے اپنے کام معمول کے مطابق انجام دیے۔کھانا لگایا۔ دو تین جوڑے کپڑوں کے میلے پڑے تھے، انہیں اٹھا کر صحن میں چلی گئی اور قایش کی اس برف اور سردی میں بیٹھ کر انہیں دھویا۔
ظہر ہو گئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اب مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا۔ میں گرتی پڑتی خدیجہ کے پاس پہنچی۔ اس نے اپنے ایک بچے کو دائی کی طرف دوڑا دیا اور میرے ساتھ ہمارے گھر میں آ گئی۔
میں درد کے مارے چیخ رہی تھی۔ خدیجہ جلدی جلدی میرے لیے گرم پانی اور نبات کا انتظام کر رہی تھی اور دم لگا زعفران مجھے کھانے کے لیے دے رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد سہ پہر کے وقت شیرین جان اور میری بہنیں بھی آ گئیں۔ جیسے ہی اذان مغرب کا وقت نزدیک ہوا تو بچہ دنیا میں آ گیا۔ اس رات کو میں کسی صورت بھی بھول نہیں سکتی۔ ہلکی سی آواز پر میں بستر پر اٹھ کر بیٹھ جاتی۔ دل چاہتا تھا کہ دروازہ کھلے اور صمد آ جائے۔ اگرچہ صبح تک بچے کی رونے کی وجہ سے میری آنکھ نہ لگی مگر جب بھی تھوڑی جھپکی آتی تو خواب میں صمد کو دیکھتی اور گھبرا کر نیند سے اٹھ جاتی۔
بچے کی پیدائش کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اسے پنگھوڑے میں سلایا ہی تھا کہ کوئی آواز آئی۔ شیرین جان کمرےمیں تھیں اور میری اور بچے کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ صمد کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ماں باہر چلی گئیں۔
صمد آیا اور میرے بستر کے پاس سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ اس نے آہستہ سے سلام کیا۔ میں نے زیرِ لب جواب دیا۔ میرا ہاتھ تھام کر میرا حال احوال پوچھنے لگا۔ میں نے بوجھل سر کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ کہنے لگا: ’’ناراض ہو؟!‘‘ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔
اس نے میرا ہاتھ دبایا: ’’تم حق رکھتی ہو۔‘‘
میں نے کہا: ’’ایک ہفتہ ہو گیا ہے تمہارے بچے کو پیدا ہوئے۔ اب بھی نہ آتے۔ میں نے کہا نہیں تھا کہ نہ جاؤ۔ تم نے کہا تھا کہ تم آ جاؤ گے۔ یہ ہمارا پہلا بچہ ہے۔ کیا تمہیں میرے پاس نہیں رہنا چاہیے تھا؟!‘‘
اس نے کچھ نہ کہا اور اٹھ کر اپنے بیگ کی طرف چلا گیا۔ اس کی زنجیری کھول کر کہنے لگا: ’’تم جو بھی کہو میں مانتا ہوں، لیکن دیکھو کہ میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔ تم نہیں جانتیں میں نے کتنی مشکلوں سے اسے ڈھونڈا ہے۔ دیکھو یہی ہے نا؟‘‘
اس نے ایک اونی کمبل پکڑا اور میرے سامنے ہوا میں لہرانے لگا۔ وہ گلابی نہ تھا بلکہ نیلا تھا، جس میں سفید ریشے تھے۔ میں یہی کمبل چاہتی تھی۔ وہ ایک مربع شکل کا کمبل تھا جس کے ایک کونے پر سرمئی، نیلے اور سفید اُونی دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی۔
میں نے کمبل لیا اور گہوارے کے ساتھ رکھ دیا۔ اس نے پوری دلچسپی سے کہا: ’’تم نہیں جانتیں میں نے کتنی مشکل سے اسے خریدا ہے۔ اپنے دو دوستوں کو لیا اور انہیں موٹرسائیکل کے پیچھے بٹھا کر سڑکوں پر مارا مارا پھرا۔ ایک سڑک کے اس طرف دیکھتا جاتا اور دوسرا دوسری طرف۔ بالآخر میں نے خود ہی اسے ڈھونڈ لیا۔ ایک دکان کے کاؤنٹر کے پیچھے لٹکا ہوا تھا۔‘‘
میں نے آہستہ سے کہا: ’’بہت شکریہ۔‘‘
اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور دبا کر کہنے لگا: ’’تمہارا شکریہ۔ میں جانتا ہوں تم نے کافی تکلیف جھیلی ہے۔ کاش میں تمہارے پاس ہوتا۔ مجھے معاف کر دو۔ قدم! میں جانتا ہوں میرا ہی قصور ہے۔ اگر تم معاف نہیں کرو گی تو میں کیا کروں گا!‘‘
اس کے بعد اس نے جھک کر میرے ہاتھ پر بوسہ دے کر اسے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ میرا ہاتھ گیلا ہو گیا۔
اس نے کہا: ’’لاؤ میری بیٹی کو، میں بھی دیکھوں۔‘‘
میں نےکہا: ’’میری حالت ٹھیک نہیں ہے، خود ہی اٹھا لو۔‘‘
اس نے کہا: ’’نہیں۔۔۔ اگر تمہیں زحمت نہ ہو تو خود اسے اٹھا کر میری گود میں رکھو۔ بچی کو تمہارے ہاتھ سے لوں گا۔ اس کا اپنا ہی لطف ہے۔‘‘
میرا پیٹ اور کمر ابھی تک درد کر رہی تھی، لیکن پھر بھی میں مشکل سے نیچے جھکی اور بچی کو پنگھوڑے سے اٹھا کر اس کی گود میں رکھ دیا۔
اس نے بچی کو چوم کر کہا: ’’خدایا، تیرا لاکھ لاکھ شکر۔ تو نے کتنی خوبصورت اور پیاری بچی عطا کی ہے۔‘‘
اسی رات صمد نے سب کی دعوت رکھ دی اور میرے بابا نے ہماری پہلی بچی کا نام تجویز کیا، خدیجہ۔
جب مہمان بھگت چکے تو میں نے پوچھا: ’’کتنے روز رہو گے؟!‘‘
اس نے کہا: ’’جب تک تمہارا دل چاہے، دس پندرہ روز۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’وہاں تمہارا کام کیا ہے؟‘‘
اس نےبتایا: ’’ایک عمارت تیار کر کے مالکوں کے حوالے کر دی ہے۔ اس کا کام ختم ہو گیا ہے۔ دو تین ہفتے بعد نئے کام کی تلاش میں نکل جاؤں گا۔‘‘
اس کا آنا برائے نام ہی تھا۔ اگر وہ ہمارے پاس نہ ہوتا تو یا تو ہمدان میں ہوتا یا رزن اور یا پھر دمق ([2])میں۔ میں بچی کی دیکھ بھال یا پھر گھرداری میں مشغول رہتی تھی۔ ایک رات دسترخوان بچھایا اور اس پر پلیٹیں چننے لگی۔ صمد ہمیشہ کی طرح ریڈیو آن کیے اسے کانوں سے چپکائے بیٹھا تھا۔ میں سالن والا دیگچہ اٹھا کر لائی اور اسے آواز دی: ’’اسے چھوڑ بھی دو۔ کھانا کھالو، مجھے سخت بھوک لگی ہے۔‘‘
وہ نہ آیا۔ میں بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔ میں نے دیکھا کہ اچانک اس نے ریڈیو کو زمین پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ ہوا میں ایک چٹکی بجائی اور کمرے میں ادھر ادھر چلنے لگا۔ اس کے بعد خدیجہ کے پاس گیا اور اسے پنگھوڑے سے نکال لیا۔ پھر اسے گود میں اٹھا کر بوسہ دیا اور ایک ہاتھ پر رکھ کر بلند کر دیا۔
میں گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور بچی کو اس کے ہاتھ سے لے لیا: ’’صمد، کیا ہو گیا ہے۔ بچی کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔ یہ ابھی ایک ماہ کی بھی نہیں ہوئی۔ ابھی چالیسویں میں ہے۔ اسے پاگل کر دو گے!‘‘
وہ ہنستے ہوئے گھوم رہا تھا اور کہے جا رہا تھا: ’’خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدایا، تیرا شکر ہے۔‘‘
میں نے خدیجہ کو پنگھوڑے میں لٹایا۔ اس نے میرے شانے پکڑ کر ہلائے اور میرے سر پر بوسہ دے کر کہنے لگا: ’’قدم! امام آ رہے ہیں۔ امام آ رہے ہیں۔ تیرے اور تیری بچی کے قربان جاؤں کہ یہ اتنی نیک قدم واقع ہوئی ہے۔‘‘ اس کے بعد اس نے اپنا کوٹ کھونٹی سے اتارا۔
میں نے تعجب سے پوچھا: ’’کہاں؟!‘‘
میں دوسرے ساتھیوں کو اطلاع دینے جا رہا ہوں۔ امام آ رہے ہیں۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ خوشی سے اس کے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ خدیجہ اس کی آواز سے سو گئی تھی۔ میں نے پوچھا: ’’تو کھانا؟! مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘
اس نے پلٹ کر تیز نگاہوں سے مجھے دیکھا: ’’امام آ رہے ہیں، اور اس وقت بھی تمہیں بھوک لگی ہے۔ اپنی جان کی قسم، میری تو بھوک ہی ختم ہو گئی ہے۔ میں بالکل سیر ہو چکا ہوں۔‘‘
میں مبہوت ہو کر اسے دیکھتی رہ گئی: ’’جب تک تم نہیں آؤ گے میں کھانا نہیں کھاؤں گی۔‘‘
کافی دیر گزر گئی مگر وہ نہ آیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ بھوک سے آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہیں۔ میں نے کھانا ڈالا اور کھا لیا۔ دسترخوان کو لپیٹا تو خدیجہ جا گ گئی۔ وہ بھوکی تھی۔ اسے دودھ دیا۔ اس کی کپڑے بدلے اور پنگھوڑے میں دوبارہ سلا دیا۔ اس کے بعد میں کھڑکی سے باہر پھیلی تاریکی پر نظریں گاڑے بیٹھ گئی۔ اسی حالت میں مجھے نیند نے آ لیا۔
رات کافی گزر چکی تھی کہ دروازے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ صمد آ گیا تھا۔ آہستہ سے اس نے کہا: ’’یہاں کیوں سوئی ہوئی ہو؟!‘‘
اس نے میرا بستر بچھایا اور مجھے اس پر لٹا دیا۔ میری نیند اڑ چکی تھی۔ میں نے پوچھا: ’’کھانا کھایا ہے؟!‘‘ دستر خوان کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا: ’’اب کھاؤں گا۔‘‘
خدیجہ جاگ گئی تھی۔ میں نے اٹھنے کے لیے لحاف کو ایک طرف کیا تو اس نے کہا: ’’تم سوئی رہو، تھکی ہوئی ہو۔‘‘
میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ کھانا بھی کھا رہا تھا اور پنگھوڑے کو ہلا بھی رہا تھا۔
خدیجہ آہستہ آہستہ سو گئی۔
اس نے اٹھ کر بتی بجھا دی۔ میں نے کہا: ’’کھانا؟!‘‘ اس نے کہا: ’’کھا لیا۔‘‘
علی الصبح جب میں نماز کے لیے اٹھی تو دیکھا کہ وہ اپنا بیگ باندھ رہا ہے۔ میں نے روہانسی ہو کر پوچھا: ’’کہاں؟!‘‘
اس نےجواب دیا: ’’مسجد کے ساتھیوں کے ساتھ طے پایا ہے کہ اذان کے بعد ہم نکل کھڑے ہوں گے۔ میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ امام آ رہے ہیں۔‘‘
اچانک میرے آنسو ڈھلکنے لگے۔ میں نے کہا: ’’جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو،یا تو ٹریننگ میں مصروف رہے یا کام کے پیچھے بھاگتے رہے ہو۔ اور اب یہ! آخر میرا گناہ کیا ہے؟! جب سے شادی ہوئی ہے تم ایک ہفتے تک میرے پاس نہیں ٹھہرے ہو۔ تہران چلے گئے تو کہا کہ گھر بنا لوں تو قایش ہی میں کوئی کام دھندا ڈھونڈوں گا، مگر تم نہ آئے۔ میں جانتی ہوں کہ تہران تو صرف ایک بہانہ ہے۔ حقیقت میں تم مظاہروں اور اعلانات تقسیم کرنے اور اسی طرح کے کاموں میں مشغول رہتے ہو۔ اگر تم نے یہی سب کچھ کرنا تھا تو شادی ہی کیوں کی؟! مجھے اپنے بابا سے جدا کیوں کیا؟ شادی کر لی تا کہ اس طرح مجھے عذاب میں مبتلا رکھو۔ میرا قصور ہی کیا ہے۔ میں نے شادی کی کہ خوش قسمتی میری قدم چومے۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میرے روز و شب غم و اندوہ میں گزریں گے اور اسی فکر میں غلطاں رہوں گی کہ میرا شوہر آج رات آتا ہے، کل رات آ تاہے۔۔۔‘‘
خدیجہ میرے رونے کی آواز سے جاگ گئی تھی اور رونے لگی تھی۔ صمد پنگھوڑے کو ہلاتے ہوئے کہنے لگا: ’’تم سچ کہتی ہو۔ جو کچھ بھی کہو میں قبول کرتا ہوں، لیکن قدم کی جان کی قسم، یہ میری آخری دفعہ ہے۔ اس دفعہ مجھے جانے دو اور امام سے ملنے دو۔ اس کے بعد اگر میں تمہارے پاس سے ہٹ کر کہیں اور گیا تو جو کہو گی مجھے منظور ہے۔‘‘
خدیجہ نے رو رو کر کمرا سر پر اٹھا رکھا تھا۔ میں نے پنگھوڑے کے بند کھولے اور اسے گود میں اٹھا لیا۔ وہ بھوکی تھی۔ صمد آ کر میرے پاس بیٹھ گیا۔ خدیجہ غٹر غٹر دودھ پی رہی تھی۔ اس نے جھک کر خدیجہ کو بوسہ دیا اور اپنی آواز کو بچوں جیسی آواز میں بدل کر اسے کہنے لگا: ’’میں تم سے اور تمہاری ماں سے بہت شرمندہ ہوں۔ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد تمہارے پاس ہی رہوں گا۔ آغا خمینی آ رہے ہیں۔ تم اور تمہاری ماں دعا کرو کہ وہ صحیح و سالم اور خیریت سے پہنچ جائیں۔‘‘
اس کے بعد وہ کھڑا ہو گیا اور ایک خاص انداز میں مجھ سے کہنے لگا: ’’قدم! تمہاری سانسیں نیک ہیں، تم ابھی ابھی گناہوں سے دُھلی ہو۔([3]) امام کے لیے دعا کرو کہ ان کا جہاز سلامتی اور خیریت کے ساتھ اترے۔‘‘
میں نے رو کر کہا: ’’میرا دل تمہاری خاطر بہت بے چین ہو جاتا ہے۔ میں کب جی بھر کر تمہیں دیکھوں گی۔‘‘
اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں: ’’تم سوچتی ہو کہ میرا دل تمہارے لیے اداس نہیں ہوتا؟! بے انصاف! اگر تمہارا دل فقط میرے لیے مضطرب ہوتا ہے تو میرا دل تم دونوں کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے۔‘‘
اس نے جھک کر میرے چہرے پر بوسہ دیا۔ میرا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔
کچھ دن بعد ایسا لگا کہ گاؤں میں زلزلہ آگیا ہو۔ سب لوگ گلیوں، گھروں کی چھتوں پر اور گاؤں کے مرکزی میدان میں نکل آئےتھے۔وہ ایک دوسرے کو مٹھائیاں پیش کر رہے تھے۔ عورتوں نے تنور روشن کر دیے تھے اور ان میں روٹیاں اور کماج([4]) پکا رہی تھیں۔ سب کہہ رہے تھے: ’’امام آ گئے۔‘‘
مجھے اس وقت صمد کی فکر لگی ہوئی تھی۔ میں جانتی تھی کہ وہ ہم سب سے زیادہ امام سے لگاؤ رکھتا ہے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش میں پرندہ بن کر اڑتی ہوئی اس کے پاس جاتی اور پھر ہم اکٹھے جا کر امام کو دیکھتے۔
قایش میں ایک دو گھروں کے علاوہ کسی کے پاس ٹیلی ویژن نہیں تھا۔ سب لوگ ان کے گھروں میں جمع ہو گئے۔ ان کے گھروں کے صحن اور سامنے والی گلیاں لوگوں سے بھر گئی تھیں۔کہہ رہے تھے: ’’طے پایا ہے کہ امام کی آمد اور ان کی تقریر کو ٹیلی ویژن پر نشر کی جائے گا۔‘‘ بہت سے لوگ اور جوان لڑکے اسی وقت گاڑیوں پر سوار ہوئے اور تہران چلے گئے۔
کچھ دن بعد صمد آ گیا۔ وہ بہت زیادہ خوش تھا۔ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو بتانا شروع ہو گیا: ’’تمہاری نیک دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ میں نے اتنے زیادہ ہجوم میں اپنے آپ کو امام تک پہنچایا۔ امام تو نور کا ایک ٹکڑا ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کتنے مہربان ہیں۔ قدم! تم یقین کرو گی کہ امام نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اسی وقت میں نے اپنے آپ اور اپنے خدا سے عہد و پیمان کر لیا کہ امام اور اسلام کا سپاہی بنوں گا۔ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ امام کی باتوں پر عمل کروں گا۔ اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک ان کا جانباز سپاہی رہوں گا۔ تمہیں نہیں پتا ، بہشت زہرا([5]) میں کتنے لوگ آئے تھے۔ قدم! ایسا لگتا تھا کہ سارے ایران کے لوگ ہی تہران میں امڈ آئے ہیں۔ بہت سی جگہوں سے لوگ پیدل بہشت زہرا آئے تھے۔ایک رات پہلے سڑکوں پر جھاڑو لگا دیا گیا تھا، انہیں دھو دیا گیاتھا اور سڑکوں کے درمیان گلدان اور پھولوں کی شاخیں سجا دی گئی تھیں۔ تم نہیں جانتیں کہ امام کی تشریف آوری کتنی باعظمت و باشکوہ تھی۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور جوان سبھی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ میں نے اپنی موٹر سائیکل بغیر تالے اور زنجیر کے اسی طرح سڑک کنارے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی کر دی تھی۔ میں وہاں تک چلا گیا تھا جہاں امام نے تقریر کرنا تھی۔ واپسی پر اچانک مجھے اپنی موٹر سائیکل کی یاد آئی۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص اس پر سوار ہونا چاہتا ہے۔ میں موقع پر پہنچ گیا تھا۔ اسی وقت میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں ایسے شخص کے لیے کوئی کام کروں تو اس کا اجر ضرور ملے گا۔ اگر مجھے تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو میری موٹر سائیکل اڑا کر لے جاتے۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنے بیگ کی زنجیری کھولی اور ایک بڑی تصویر نکالی جسے اس نے گول کر رکھا تھا۔وہ امام کی تصویر تھی۔ اس نے تصویر کمرے کی دیوار پر لگا دی اور کہا: ’’یہ تصویر ہماری زندگی میں برکت لے کر آئے گی۔‘‘
اگلے روز صمد کا کام شروع ہو گیا۔ وہ رزن جاتا، فلم لاتا اور مسجدمیں سب لوگوں کو دکھاتا۔ ایک بار وہ امام کے آنے اور شاہ کے فرار ہونے کی فلم لے آیا۔ وہ ہنس رہا تھا اور ساتھ ساتھ بتا بھی رہا تھا۔ جب لوگوں نے شاہ کی تصویر دیکھی تو وہ ٹیلی ویژن کو توڑنے کے لیے بے قرار ہونے لگے۔
*****
([1]) شیخ محمد شریفی بعد میں رزن کے امام جمعہ مقرر ہو گئے تھے۔
([3]) کتاب ’’مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، ج15، ص: 214‘‘ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ایک طویل روایت میں ہے کہ حضرت آدم و حوا علیہما السلام کے قصے میں خداوند کریم نے حضرت حواؑ سے فرمایا: ’’اے حوا! جو خاتون بھی صحیح و سالم زچگی کے مراحل سے گزر کر بچے کو جنم دے تو میں اس کے تمام گناہ معاف کر دوں گا چاہے وہ دریا کی جھاگ، ریگستان کی ریت کے ذروں اور درختوں کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔‘‘ / صمد نے قدم سے جو کہا کہ تم ابھی ابھی گناہوں سے دھلی ہو تو اس کا اشارہ اسی حدیث کی طرف ہے، کیونکہ انہی دنوں ان کے ہاں خدیجہ کی ولادت ہوئی ہوتی ہے۔
([5]) تہران کا مشہور قبرستان۔جب امام خمینیؒ جلاوطنی ختم کر کے واپس آئے تو وہاں اترے اور اپنی مشہور زمانہ تقریر کی۔