پانچواں باب
گاؤں میں جیسےہی عید آتی ہے تو شادیوں کی رونق شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ فصلوں کی برداشت سے فارغ ہوتے ہی اپنے جوانوں کی شادیوں میں مصروف ہو جاتےہیں۔
۳ دسمبر 1977 کا دن تھا۔ ہم صبح جلدی ہی تیار ہو گئے تھے تا کہ نکاح کا خطبہ پڑھوانے کے لیے دمق جا سکیں۔ دمق اس وقت شہر کا مرکز تھا۔ صمد اور ان کے والد ہمارے گھر آئے۔ میں نے سر پر چادر اوڑھی اور بابا کے ساتھ چل پڑی۔ ماں نے دروازے تک آ کر ہمیں رخصت کیا۔ مجھے بوسہ دیا اور سرگوشی میں میرے لیے دعا کی۔ میں بابا کی موٹرسائیکل پر ان کے پیچھے بیٹھ گئی جبکہ صمد اپنے بابا کی موٹر سائیکل پر ان کے پیچھے۔ دمق میں فقط ایک ہی دفتر تھا۔ دفتر کا انچارج ایک خوش مزاج سن رسیدہ شخص تھا۔اس نے میرا اور صمد کا شناختی کارڈ لیااور صمد کو تھوڑا سا پریشان کر کے کہنے لگا: ’’جاؤ اور خدا کا شکر کرو کہ تمہاری دلہن کے شناختی کارڈ پر اس کی تصویر نہیں ہے، جس کی وجہ سے میں تمہارا نکاح نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاؤاور اپنے آپ کو اس خطرے میں نہ ڈالو۔‘‘
ہم اس کے اس مذاق پر ہنس پڑے؛ لیکن جب متوجہ ہوئے کہ انچارج واقعاً سنجیدہ ہے اور بغیر تصویر والے شناختی کارڈ پر ہر گز نکاح کا خطبہ جاری کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو پہلے تو ہم کافی پریشان ہوئے مگر پھر خالی ہاتھ لوٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور اپنی اپنی موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر قایش واپس آ گئے۔ سب حیران تھے کہ ہم اتنی جلدی واپس کیوں آ گئے ہیں۔ ہم نے انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ موٹرسائیکلوں کو گھر میں کھڑا کیا اور منی بس پر سوار ہو کر ہمدان چلے گئے۔
سہ پہر کے وقت ہم پہنچے۔ صمد کے والد نے کہا: ’’بہتر ہے کہ پہلے تصویر بنوا لیں۔‘‘
ہمدان میں ایک بہت ہی بڑا، خوبصورت اور قابلِ دید چوراہا تھا۔ چوراہے کے بیچ کی جگہ سبزے اور پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔ ان کے درمیان ایک بڑا سا حوض بھی تھا جو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ اس حوض کے درمیان میں ایک پتھریلی سطح پر گھوڑے پر سوار شاہ کا مجسمہ نصب تھا۔ گھوم پھر کر تصویریں بنانے والا ایک فوٹوگرافر وہاں تصویریں بنا رہا تھا۔ صمد کے والد کہنے لگے: ’’بہتر ہے کہ یہیں تصویر بنوا لیتے ہیں۔‘‘ وہ گئے اور فوٹوگرافر سے بات کرنے لگے۔ فوٹوگرافر نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں سترہ لیٹر تیل والے ایک کنستر پر بیٹھ جاؤں جو شمشاد کے درختوں کے پاس پڑا تھا۔ فوٹوگرافر سٹینڈ پر لگے اپنے کیمرے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ سیاہ کپڑا جو اس نے کیمرے کے ساتھ لگا رکھا تھا، اٹھایا اور اپنے سر پر رکھ لیا۔ پھر اپنا ہاتھ ہوا میں لے جا کر ٹھہرا لیا اور کہا: ’’یہاں دیکھو۔‘‘ میں بیٹھ گئی اور بت بنی فوٹوگرافر کے ہاتھ کی طرف ٹک ٹک دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد فوٹوگرافر سیاہ کپڑے سے باہر نکلا اور کہنے لگا: ’’آدھے گھنٹے بعد تصویر تیار ہو جائے گی۔‘‘ ہم تھوڑی دیر کے لیے چوراہے پر گھومنے پھرنے لگ گئے یہاں تک کہ تصویر تیار ہو گئی۔ صمد کے والد نے تصویر لی اور مجھے دے دی۔ میں اس میں بہت بری اور بھدی لگ رہی تھی۔ میں نے بابا کی طرف دیکھ کر کہا: ’’بابا! یعنی میری شکل ایسی ہے؟!‘‘
بابا نے بھی ناگواری سے فوٹوگرافر سے کہا: ’’جناب، یہ تصویر آپ نے ایسے کیوں لی؟ میری بیٹی کی شکل ایسی تو نہیں ہے۔‘‘
فوٹوگرافر نے کچھ نہ کہا۔ وہ پیسے گننے میں مشغول تھا؛ لیکن صمد کے والد نے کہا: ’’بہت ہی خوبصورت تصویر ہے میری پیاری بہو، اس میں تو کوئی خرابی نہیں ہے۔‘‘
میں نے تصویر کو اپنے بیگ میں رکھا اور پھر ہم سب صمد کے والد کے دوست کے گھر کی طرف چل دیے۔ رات وہاں بسر کی۔ بابا علی الصبح چلے گئے اور شناختی کارڈ پر میری تصویر لگوا لائے۔ پھر ہمارے پاس آئے تا کہ اب سب مل کر دفتر جائیں۔دفتر کے انچارج نے ہمارے شناختی کارڈ لیے اور بابا سے حق مہر پوچھنے کے بعد کہنے لگا: ’’خانم قدم خیر محمدی کنعان!میں آپ کا وکیل ہوں اور ایک قرآن مجید اور دس ہزار تومان حق مہر کے بدلے آپ کا عقد آغا۔۔۔‘‘ میں نے نکاح خوان کا باقی جملہ نہ سنا۔ میرا دل بے چین ہو رہا تھا۔ میں نے بابا کی طرف دیکھا۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کئی بار تائید کے انداز میں اپنا سر ہلایا۔ میں نے کہا: ’’اپنے بابا کی اجازت سے، ہاں۔‘‘
نکاح خوان نے ایک بڑا سا رجسٹر میرے اور صمد کے آگے رکھ دیا تا کہ ہم اس پر دستخط کریں۔ میں کبھی سکول نہ گئی تھی اور پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھی لہٰذا جس جگہ نکاح خوان نے نشاندہی کی میں نے وہاں انگوٹھا لگا دیا جبکہ صمد نے دستخط کیے۔
دفتر سے باہر نکلے تو میری کیفیت ہی بدل گئی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی چیز اور کوئی انسان مجھے میرے بابا سے جدا کیے جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے میں یہ سارا وقت روہانسی ہو کر اپنے بابا کے پہلو میں کھڑی رہی اور ایک لحظہ کے لیے بھی ان سے جدا نہ ہوئی۔
ظہر ہو چکی تھی اور دن کے کھانے کا وقت بھی ہو چلا تھا۔ ہم ایک ہوٹل میں چلے گئے۔ صمد کے والد نے دیزی([1]) کا آرڈر دے دیا۔ میں اور بابا ایک دوسرے کے پاس بیٹھ گئے۔ صمد نے اس اندازمیں کہ کوئی متوجہ نہ ہو، مجھے اشارہ کیا کہ میں اس کے پاس جا کر بیٹھوں۔ میں نے ایسا ظاہر کیا کہ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آ رہی۔ اس کے پاؤں ایک جگہ نہیں ٹک رہے تھے۔ مسلسل ادھر سے ادھر ہو رہا تھا۔ وہ میری میز کے پاس آکر ٹھہر جاتا اور کہتا: ’’آپ کو کوئی چیز تو نہیں چاہیے؟ کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے؟‘‘
بالآخر اس کے والد کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے کہا: ’’کیوں نہیں، بس صرف تمہاری کمی ہے۔ تم ادھر آ کر بیٹھ جاؤ۔‘‘
کھانا آ گیا تھا۔ اب میرے لیے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا تھا کہ صمد اور اس کے والد کے سامنے کھانا کیسےکھاؤں؟ اوپر سے آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی تھیں۔ کوئی چارہ نہ تھا۔ جب سب کھانے میں مشغول ہو گئے تو میں نے اپنی چادر منہ پر کھینچی اور سر اوپر کیے بغیر کھانا شروع ہو گئی اور پھر کھاتی ہی چلی گئی۔ سالن بہت مزے دار تھا۔دن کا کھانا کھانے کے بعد ہم منی بس پر سوار ہوئے اور اپنے گاؤں کو چل دیے۔ صمد نے آہستہ سے اشارہ کیا کہ میں اس کے ساتھ بیٹھوں۔ میں نے آہستہ سے بابا سے کہا: ’’بابا، میں آپ کے پاس بیٹھنا چاہتی ہوں۔‘‘
میں کھڑکی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ بابا میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ میں جانتی تھی کہ صمد کو میرے رویے سے اذیت پہنچی ہے، اسی لیے گاؤں پہنچنے تک میں نے ایک بار بھی اس کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا حالانکہ وہ ہمارے برابر والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔
قایش پہنچے تو سب ہمارے منتظر تھے۔ بہنیں، بھابھیاں اور باقی رشتہ دار، سب لوگ ہمارے گھر آئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا تو میری طرف دوڑ پڑے۔ وہ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور میری آنکھیں چوم رہے تھے۔ صمد اور اس کے والد گھر کے دروازے تک ہمارے ساتھ آئے اور وہیں سے رخصت لے کر چلے گئے۔
صمد کے جانے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک دن جو ہم نے اکٹھے گزارا ہے میرا دل اس سے کس قدر مانوس ہو چکا ہے۔ مجھے اچھا لگ رہا تھا کہ وہ ہوتا اور میرے پاس ہوتا۔ رات تک میری آنکھیں دروازے پر لگی رہیں۔ میں منتظر رہی کہ جب بھی دروازہ کھلے تو وہ ہمارے گھر میں داخل ہو، مگر وہ نہ آیا۔
اگلے روز جب ہم لوگ ناشتہ کر رہے تھے تو مجھے کچھ اچھا محسوس نہ ہوا۔ میں اپنے بابا سے شرما رہی تھی۔ میں جو کہ بچپن سے ان کی گود میں بیٹھ کر یا ان کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتی تھی، اب ایسا محسوس کر رہی تھی کہ میرے اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ بابا کچھ سوچ رہے تھے اور سر نیچے کیے، بغیر کچھ کہے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔
تھوڑی دیر بعد بابا گھر سے باہر نکل گئے۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ مجھے ماں کی آواز سنائی دی۔ وہ صحن میں کھڑی مجھے پکار رہی تھیں: ’’قدم! آؤ، صمد آیا ہے۔‘‘
مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیسے میں دو دو سیڑھیوں کو ایک ایک کر کے اتری اور پاؤں میں ایک جوتا اور، دوسرے میں اورپہنے، بدحواسی کے عالم میں صحن تک پہنچی۔صمد نے فوجی لباس پہن رکھا تھا۔ اس کا بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ پہلی بار میں نے اس سے پہلے اسے سلام کیا۔ وہ مسکرا دیا اور پوچھا: ’’کیسی ہو؟!‘‘
میری حالت اچھی نہ تھی۔ میرا دل اتنی جلدی اس کے لیے پریشان ہو گیا تھا۔ وہ کہنے لگا: ’’میں چھاؤنی جا رہا ہوں۔ میری چھٹی ختم ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ شادی تک ہم ایک دوسرے سے ملاقات نہ کر سکیں۔ اپنا خیال رکھنا۔‘‘
مجھے رونا آ گیا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو میں ان موٹے موٹے آنسوؤں کی طرف متوجہ ہوئی جو بے اختیار میرے رخساروں پر پھسلتے چلے جا رہے تھے۔ میرا چہرہ بھیگ چکا تھا۔میں اپنے آنسؤوں کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور نہیں چاہتی تھی کہ کوئی مجھے اس حال میں دیکھ لے۔ میں باغیچے کی طرف چلی گئی اور اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر رونے لگی جہاں منگنی کے بعد پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔
اگلے روز شادی کی خصوصی رسومات یکے بعد دیگرے شروع ہو گئیں؛دلہن کا جوڑا، دلہن کی تیاری، دولہے کے گھر جہیز پہنچانا۔
بابا نے میرا جہیز تیار کر لیا تھا۔ بےچارے میرے بابا نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ چینی سے بنے کھانےکے برتنوں کا ایک پورا سیٹ، دو بیڈ، قالین، ایک چولہا، سلائی مشین اور باورچی خانے کے دوسرے لوازمات وغیرہ۔
پھر ایک روز ہمارے رشتہ دار جمع ہوئے۔ خوشی خوشی میرے جہیز کا سامان پک اپ پر لادا اور میرے سسرال لے گئے۔ وہاں جا کر ایک کمرے میں سارا سامان چن دیا۔ اس کے بعد وہ کمرا میرا اور صمد کا ہو گیا۔
*****
([1]) ایران میں پتھر یا مٹی سے بنی سلنڈر شکل کی مخصوص ہانڈی جس میں عام طور پر فقط گوشت کا سالن ایک خاص طریقے سے پکایا جاتا ہے۔