چوتھا باب
دن پے در پے آ رہے تھے اور گزر رہے تھے۔ صمد کبھی تو تھوڑے تھوڑے وقفے سے مجھے ملنے آ جاتا اور کبھی مہینہ مہینہ بھر نظر ہی نہ آتا۔ ملک کے حالات خراب ہو چکے تھے اور شاہ کے خلاف ہونے والے مظاہرے شہروں سے نکل کر گاؤں تک پھیل چکے تھے۔ بہار ختم ہو گئی تھی۔ خزاں آئی اور وہ بھی چلی گئی۔ٹھنڈی اور کڑکڑاتی سردی بھی گزر گئی۔
صمد کی غیر موجودگی میں کبھی تو میں اسے مکمل طور پر بھول جاتی؛ لیکن جیسے ہی وہ آتا تو مجھے ایسا لگتا کہ ابھی میرے اور اس کے درمیان کوئی حادثہ پیش آ جائے گا۔ یہ سوچ کر ہی میں پریشان ہو جاتی؛ مگر بابا کی میری طرف غیر معمولی توجہ میرے دل کے سکون اور خوشی کا باعث بنتی اور جلد ہی مجھے سب چیزیں بھول جاتیں۔
عید([1]) میں زیادہ دن نہیں رہتے تھے۔ ماں نے شام کے کھانے پر اچھا خاصا اہتمام کیا تھا اور رشتہ داروں کو دعوت دی تھی۔سارے گاؤں والے میری ماں کو ایک سگھڑ اور بہترین گھرداری والی خاتون کے نام سے یاد کرتے تھے۔ پورے قایش میں ان جیسا کھانا کوئی بھی نہیں بنا سکتا تھا۔ ان کی محبت سے کوئی بھی سیر نہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب انہیں ’’شیرین جان‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔
اس دن میری بھابھیاں اور بہنیں بھی مدد کرنے کے لیے ہمارے گھر آ گئی تھیں۔
ماں نے صمد کے گھر والوں کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ غروب کے وقت ہم نے دیکھا کہ جس کمرے میں ہم بیٹھے ہوئے تھے اس کی چھت پر کچھ لوگ زور زور سے پاؤں مار کر چل رہے ہیں اور شعر پڑھ رہے ہیں۔ چھت کے درمیان میں ایک دریچہ تھا۔ گاؤں کے سب گھروں کی چھتوں میں اس جیسے دریچے ہوا کرتے تھے۔ بچوں نے آ کر بتایا کہ چھت پر صمد اور اس کے دوست ہیں۔ ہم اسی طرح بیٹھے ان کی آوازیں سن رہے تھے۔ اچانک دیکھا کہ رسی سے بندھی ایک پوٹلی دریچے سے نیچے کمرے میں عین کرسی کے اوپر آ کر لٹک گئی۔
اس دعوت میں میری کچھ سہیلیاں بھی مدعو تھیں۔ انہوں نے تالیاں بجا کر کہا: ’’قدم! اٹھو، پوٹلی کو پکڑو۔‘‘ مجھے اب بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ صمد میرا دولہا ہے اور یہ پوٹلی اس نے ایک رسم کے تحت اندر اتاری ہے، صرف میرے لیے جو کہ دلہن تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں اپنی جگہ سے نہ ہلی اور انہیں کہا: ’’تم جاؤ، لے لو۔‘‘
میری ایک سہیلی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کرسی پر دھکیل دیا اور کہا: ’’جلدی کرو۔‘‘ اب کوئی چارہ نہ تھا۔ میں کرسی پر چڑھی تا کہ پوٹلی کو پکڑ سکوں۔ لگتا تھا کہ صمد مذاق کر رہا ہے۔ اس نے رسی اوپر کی طرف کھینچ لی۔ میں مجبور ہو گئی کہ اپنے پنجوں کے بل اوپر کی طرف اٹھوں؛ لیکن صمد نے دوبارہ رسی اوپر کھینچ دی۔ دریچے سے اس کی ہنسی کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’ابھی تمہیں مزہ چکھاتی ہوں۔‘‘ میں اس طرح جھک گئی کہ صمد کو ایسا لگے کہ میں کرسی سے اترنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنا ایک پاؤں زمین پر رکھ دیا۔ صمد سمجھا کہ مجھے اس کی یہ حرکت اچھی نہیں لگی اور میں پوٹلی کو نہیں پکڑنا چاہتی۔ اس نے رسی کو ڈھیلا چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ میرے سر پر پہنچ گئی۔ میں پلک جھپکتے ہی پلٹی اور پوٹلی کو ہوا میں دبوچ لیا۔ صمد جو یہ کھیل ہار چکا تھا، اس نے رسی کو اور ڈھیلا چھوڑ دیا۔ مہمان خواتین نےمیرے لیے تالیاں بجائیں۔ وہ آگے بڑھیں، خوشی خوشی پوٹلی کو رسی سےجدا کیا اور کمرے کے وسط میں لے جاکر اسے کھول دیا۔
صمد نے اس بار بھی کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔ کرتیاں، شلواریں، لہنگے اور مقنعے کہ جو اس وقت کے تازہ ترین ڈیزائن میں تھے اور خوبصورت اور مہنگے کپڑے، جنہیں دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے تھے۔
ماں نے بھی صمد کے لیے کچھ چیزیں خرید رکھی تھیں۔ وہ لے آئیں اور اسی پوٹلی میں رکھ دیں۔ جوتے، انڈرویئر، جورابیں، ایک قمیص، پینٹ کا کپڑا، صابن اور نبات([2]) وغیرہ۔ پوٹلی کو گرہ لگائی اور چھت سے لٹکی رسی کے ساتھ اسے باندھ کر کہا: ’’قدم جان! صمد سے کہو کہ رسی کو کھینچ لے۔‘‘
میں کرسی پر چڑھ گئی؛ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ میں اسے آواز کیسے دوں؟ یہ پہلی بار تھی کہ مجھے اس کا نام لینا پڑ رہا تھا۔ پہلے تو میں نے رسی کو کئی بار نیچے کی طرف کھینچا لیکن یوں لگتا تھا کہ رسی کی طرف کوئی متوجہ ہی نہیں ہے۔ وہ لوگ چھت پر گا رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔
ماں مسلسل کہے جا رہی تھیں: ’’قدم! جلدی کرو۔ اسے آواز دو۔‘‘ ناچار میں نے آواز دی: ’’آغا۔۔۔ آغا۔۔۔ آغا۔۔۔‘‘
میں اپنی آواز کی لرزش کو محسوس کر رہی تھی۔ خجالت اور شرم سےمیرا پورا بدن ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ مجبوراً دوبارہ رسی کو کھینچا اور آواز دی: ’’آغا۔۔۔ آغا۔۔۔ آغا صمد!‘‘
میرا دل دھک دھک کر رہا تھا اور سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا تھا۔
صمد نے میری آواز سن لی تھی۔ وہ دریچے سے کمرے کی طرف جھانکا۔میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس نظر اور اس مہربان چہرے کی تصویر نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ میں نے پوٹلی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ہنس دیا اور خوشی خوشی پوٹلی کو اوپر کی طرف کھینچ لیا۔
چھت پر صمد کے دوست تالیاں بجا اور پاؤں مار رہے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ نیچے اتر آئے اور اس کمرے میں چلے گئے جہاں مرد بیٹھے ہوئے تھے۔
رات کے کھانے کے بعد دونوں خاندانوں نے بیٹھ کر نکاح اور رخصتی کے حوالے سے کچھ امور طے کیے۔
اگلے روز صمد کی ماں ہمارے گھر آئیں اور ہمیں دن کے کھانے کی دعوت دی۔ ماں نے مجھے بلا کر کہا: ’’قدم جان! جاؤ اور اپنی بہنوں اور بھابیوں کو بتا دو کہ گلین خانم نے کل سب کی دعوت کی ہے۔‘‘
میں نے چادر سر پر اوڑھی اور اپنی بہنوں کے گھروں کی طرف چل پڑی۔ گلی میں صمد مل گیا۔ اس نے کندھے پر ایک ٹوکری اٹھا رکھی تھی۔ اس نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو ایسا لگا جیسے اسے دنیا جہان کی نعمتیں مل گئی ہوں۔ وہ مسکرا دیا اور ٹھہر گیا۔ ٹوکری کو اس نے زمین پر رکھ کر کہنے لگا: ’’سلام۔‘‘ میں نے پہلی بار اس کے سلام کا جواب دیا؛ لیکن ایسا لگتا تھا کہ میں کوئی گناہ کر بیٹھی ہوں، میرا سارا بدن لرز رہا تھا۔ میں ہمیشہ کی طرح یہاں سے بھی بھاگ کھڑی ہوئی۔
میری بہن اپنے صحن میں تھی۔ میں نے اسے پیغام دیا اور کہا: ’’دوسری بہنوں اور بھابھیوں کو بھی بتا دینا۔‘‘ اس کے بعد سر پر پاؤں رکھ کر گھر کی طرف بھاگ پڑی۔ میں جانتی تھی کہ صمد ابھی تک میرے لیے گلی ہی میں کھڑا ہو گا۔ میں چاہتی تھی کہ ایسے گم ہو جاؤں کہ وہ مجھے تلاش نہ کر سکے۔ راستے میں ماموں مل گئے۔ میں نے انہیں ٹھہرنے کا اشارہ کیا۔ وہ بے چارے کھڑے ہو گئےا ور پوچھنے لگے: ’’کیا ہوا قدم؟! تمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟!‘‘
میں نے کہا: ’’کچھ بھی نہیں۔ مجھے ذرا جلدی ہے۔ میں گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ ماموں نے جھک کر گاڑی کا دروازہ کھول دیا اور کہا: ’’اچھا، آؤ تمہیں گھر تک پہنچا آؤں۔‘‘ خدا کو یہی منظور تھا۔ میں گاڑی میں سوار ہو گئی۔ گلی کے موڑ سے جیسے ہی مڑے تو میں نے گاڑی کے عقبی آئینے سے دیکھا کہ صمد ابھی تک گلی ہی میں کھڑا تھا اور حیران ہو کر ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔
اب دونوں خاندانوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اور دعوتیں کرنا شروع ہو گیا۔ کچھ ماہ بعد میرے بابا نے ایک بھیڑ خریدی۔ انہوں نے ایک منت مان رکھی تھی جسے وہ پورا کرنا چاہ رہے تھے۔ ماں نے صمد کے گھر والوں کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ ہم لوگ صبح صبح منی بس پر سوار ہوئے جو بابا کرائے پر لائے تھے۔ بھیڑ کو گاڑی کی ڈگی میں رکھا تا کہ امام زادے کے حرم میں لے جائیں جو وہاں سے تھوڑا سا فاصلے پر تھا۔ گاڑی پہاڑ کے دامن سے گزرتی ہوئی آہستہ آہستہ اوپر کی طرف جا رہی تھی۔
ڈرائیور کہنے لگا: ’’گاڑی اتنا وزن نہیں کھینچ پا رہی۔ بہتر ہےکہ کچھ لوگ اتر جائیں۔‘‘
میں، میری بہنیں اور بھابھیاں اتر گئیں۔ صمد بھی ہمارے پیچھے پیچھے دوڑنے لگا۔ اس کا بہت جی چاہ رہا تھا کہ وہ اس فرصت میں مجھ سے بات کر لے؛ لیکن میں یا تو آگے چلی جاتی یا اپنے بہنوں کے درمیان میں جا کر کھڑی ہو جاتی اور بھابھیوں سے باتیں کرنے لگتی۔ صمد اپنی ساری کوششوں کے رائیگاں جانے پر جھنجلا چکا تھا۔ اس کا کوئی بس نہ چل رہا تھا۔ بالآخر ہم امام زادے کے حرم پہنچ گئے۔ بھیڑ کو ذبح کیا۔ کچھ افراد نے اس کا گوشت جدا کیا اور وہاں پر آس پاس موجود لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ گوشت کا کچھ حصہ دن کے کھانے کے لیے الگ کیا اور آبگوشت([3]) بنانے کے لیے چولہے پر چڑھا دیا۔
حرم کے نزدیک ایک چھوٹا سا باغ تھا جو وقف تھا۔ہم کچھ لوگ باغ میں چلے گئے۔ درختوں پر سرخ سرخ چیریاں دیکھ میں خوشی سے چلائی: ’’آخا، چیریاں!‘‘ صمد گیا اور چیریاں چننے لگا۔ کئی بار اس نے مجھے آواز دی کہ میں جا کر اس کی مدد کروں؛ لیکن ہر بار میں نے خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف کر لیا۔ میری بہن اور بھابھی نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ اس کی مدد کو پہنچ گئیں۔ صمد نے کچھ چیریاں چن کر میری بہن کو دیں اور کہا: ’’یہ قدم کو دے دینا۔ وہ تو مجھ سے بھاگتی ہی رہتی ہے۔ یہ میں نے اس کے لیے چنی ہیں۔ اس نے خود کہا تھا کہ اسے چیریاں پسند ہیں۔‘‘ عصر تک میں ایک بار بھی صمد کے سامنے نہ ہوئی۔
اس کے بعد صمد کم ہی چھٹی پر آتا تھا۔ماں کہتی تھی: ’’اس کی چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں۔‘‘ کبھی کبھار وہ جمعرات یا جمعے کو آتا اور ہماری طرف بھی چکر لگا جاتا۔ ہر بار وہ میرے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لے آتا۔ ایک بار تو وہ سونے کے گوشواروں کی ایک جوڑی لے آیا۔ وہ بہت خوبصورت تھے۔ یہ تو بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس نے ان کی کافی زیادہ قیمت ادا کی تھی۔ ایک بار کلائی پر باندھنے والی ایک گھڑی لے آیا۔ بابا نے جب وہ گھڑی دیکھی تو کہا: ’’اس کا بہت شکریہ،اسے سنبھال کر رکھنا۔ بہت قیمتی گھڑی ہے۔ اصل جاپانی ہے۔‘‘
آہستہ آہستہ نکاح اور شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ رات کے وقت دونوں خاندانوں کے بڑے مل کر بیٹھ جاتے اور رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے صلاح مشورہ کرتے رہتے؛ لیکن صمد اور میں نے ابھی تک صحیح سے دو باتیں بھی آپس میں نہیں کی تھیں۔
ایک رات خدیجہ نے اپنے گھر میری دعوت کی۔ دوسری بھابھیاں بھی وہیں تھیں۔ میرے بھائی کھیتوں کو پانی دینے گئے تھے۔ بھابھیوں نے رات کو مل بیٹھنے کے لیے یہ موقع غنیمت جانا تھا۔ جب سونے لگے تو ایک بھابھی نے کہا: ’’قدم! جاؤ بسترے لے آؤ۔‘‘
بسترے ایک تاریک کمرے میں پڑے ہوئے تھے۔ اس کمرے میں بلب نہیں تھا البتہ ساتھ والے کمرے سے آنے والی روشنی نے اسے بھی تھوڑا روشن کر رکھا تھا۔بسترے جس کپڑےمیں لپٹے ہوئے تھے، اسے میں نے ایک طرف کیا تو یوں محسوس ہوا کہ کمرے میں کوئی ہے۔ میں سکتے میں آ گئی اور بہت زیادہ ڈر گئی۔ میں نے سوچا: ’’یقیناً یہ میرا وہم ہے۔‘‘ کپڑا ہٹایا تو ایک حرکت کی آواز سنی۔ میرا دل بند ہونے لگا۔ میں نے کہا: ’’کون ہے؟!‘‘ کمرہ تاریک تھا۔ جتنا بھی آگے پیچھے دیکھتی، کچھ نہ دیکھ پاتی تھی۔
’’میں ہوں، مت ڈرو۔ آؤ بیٹھو۔ میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ صمد تھا۔ میں دوبارہ بھاگنا ہی چاہتی تھی کہ وہ غصے سے بولا: ’’پھر بھاگنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا نا، بیٹھو۔‘‘
میں نے پہلی بار اسے غصے میں دیکھا تھا۔ میں نے کہا: ’’تمہیں خدا کا واسطہ، چلے جاؤ۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ میری عزت خاک میں مل جائے گی۔‘‘
میں رونا چاہتی تھی۔ اس نے کہا: ’’مگر ہم نے کِیا ہی کیا ہے کہ ہماری عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔ میں نے کوئی جسارت یا بے ادبی تو نہیں کی۔ تمہاری بھابھیاں جانتی ہیں۔خدیجہ باجی نے مجھے بلایا ہے۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ ہم بیٹھ کر بات کر سکیں۔ پاگل لڑکی، ایک ماہ بعد ہماری شادی ہونا طے پا گیا ہے، لیکن ابھی تک ہم نے آپس میں ایک لفظ بھی نہیں کہا سنا گویا میں کوئی جن ہوں اور تم کوئی پاکیزہ ہستی جس کے پاس میں پھٹک بھی نہیں سکتا۔ لیکن یہ محال ہے کہ میں اپنی بات کہے اور تمہارے دل کی بات سنے بغیر شادی کے لیے آمادہ ہو جاؤں۔‘‘
میں بہت ڈر گئی تھی۔ میں نے کہا: ’’میرے بھائی آتے ہی ہوں گے۔‘‘
اس نے بہت ہی مضبوط لہجے میں جواب دیا: ’’اگر تمہارے بھائی آ گئے تو میں خود ان کو جواب دے لوں گا۔ فی الحال تم یہاں بیٹھو اور مجھے بتاؤ کہ تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟!‘‘ میں شرم سے مری جا رہی تھی۔ آخر یہ کیسا سوال تھا۔ میں دل میں خدا کا شکر ادا کر رہی تھی کہ میں اس اندھیرے میں اسے اچھی طرح سے دیکھ نہ سکتی تھی۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔
اس نے دوبارہ پوچھا: ’’قدم! میں نے پوچھا ہے کہ تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟! ایسا تو نہیں ہوگا۔ تم جب بھی مجھے دیکھتی ہو، بھاگ جاتی ہو۔ بتاؤ، میں دیکھوں تو، تم کسی اور کو تو پسند نہیں کرتیں؟!‘‘
’’ہائیں، نہیں، نہیں، خدا کی قسم، یہ کیسی بات کر رہے ہو، میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔‘‘
اس کی ہنسی نکل گئی۔ کہنے لگا: ’’دیکھو قدم جان! میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں، لیکن تمہیں بھی چاہیے کہ تم بھی مجھے پسند کرو۔ عشق و تعلق دوطرفہ ہونا چاہیے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم زبردستی میری بنا دی جاؤ۔ اگر تم مجھے پسند نہیں کرتیں تو بتا دو۔ یقین کرو کہ بغیر کسی مشکل کے میں سارا معاملہ یہیں ختم کر دوں گا۔‘‘
میں اسی طرح اپنے پاؤں پر کھڑی تھی اور بستروں کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی۔ صمد میرے سامنے تھا۔ میں اندھیرے ہی میں اسے دیکھے جا رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے کہا: ’’میں کسی کو بھی پسند نہیں کرتی۔ فقط، فقط آپ سے شرم آتی ہے۔‘‘
اس نے ایک گہرا سانس لیاا ور کہا: ’’مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟!‘‘
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ کہنے لگا: ’’میں جانتا ہوں کہ تم ایک اچھی اور نیک لڑکی ہو۔ مجھے تمہاری یہ پاکیزگی اور شرم و حیا بہت اچھی لگتی ہے۔ لیکن اگر ہم آپس میں بات کر لیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر قسمت میں ہوا تو ہم ایک لمبی زندگی اکٹھی گزاریں گے۔ تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟!‘‘
میں نے اس بار بھی کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے کہا: ’’اپنے ہونے والے شوہر کی جان، جواب تو دو۔ مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟!‘‘
میں نے آہستہ سے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘
ایسا لگتا تھا کہ وہ اسی ایک لفظ کا منتظر تھا۔ اس نے مجھ سے محبت کا اظہار کرنا شروع کر دیا: ’’جلد ہی میری نوکری ختم ہو جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ کام کروں، زمین خریدوں اور اس پر اپنا گھر بناؤں۔ قدم! مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ تمہیں میرا سہارا بننا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ اپنے عقائد پر بات کرنے لگا اور کہا کہ وہ بہت خوشحال ہے کہ میرے جیسی ایک باحجاب اور مومن خاتون اس کی زندگی میں آئی ہے۔
وہ بہت اچھی باتیں کر رہا تھا اور اس کی باتیں میرے لیے خوشی کا باعث بن رہی تھیں۔ اس رات میں نے سوچا کہ اس گاؤں میں صمد جیسا کوئی مرد نہیں ہے۔ میں نے کوئی ایسا مرد نہ دیکھا تھا جو اپنی بیوی سے کہے کہ تم میرا سہارا بنو۔ میں کان لگا کر سنتی رہی اور کبھی کبھار کوئی بات بھی کر دیتی۔ وہ کافی دیر تک میرے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں، اپنے گذشتہ واقعات، میرے فرار اور اپنی بے چینی، اور یہ کہ وہ کسی آس اور امید سے مجھے دیکھنے کے لیے آتا اور ہمیشہ کی طرح اسے میری بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن ایک دفعہ تو جیسے اس کچھ یاد آ گیا۔ کہنے لگا: ’’میرا خیال ہے کہ تم بسترے لینے آئی تھیں۔‘‘
وہ صحیح کہہ رہا تھا۔ میں ہنس دی۔ کمبل اٹھائے اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ خدیجہ بغیر بستر اور لحاف ہی کے سو گئی تھی۔ دوسری بھابھیاں بھی صحن میں تھیں۔ وہ اس بات کی گھات میں تھیں کہ کہیں میرے بھائی موقع پر نہ پہنچ جائیں۔
صبح کے چار بجے تھے۔ صمد صحن میں آیا اور تمام بھابھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا: ’’آپ سب لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔ اب مجھے سکون مل گیااور تسلی ہو گئی۔ اب میں اطمینان سے نکاح اور شادی کے انتظامات کرتا ہوں۔‘‘
جب وہ رخصت ہوا تو میں دروازے تک اس کے ساتھ گئی۔ یہ پہلی بار تھی کہ میں اسے رخصت کر رہی تھی۔
*****
([1]) یہاں عید سے مراد جشن نوروز ہے۔ نوروز ایران اور اس کے گردونواح میں موجود چند ممالک کے نئے سال کا آغاز ہے جو 21 مارچ کو شروع ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں اس روز کو قومی عید کے طور پر منایا جاتا ہے۔
([2]) مصری جیسی چینی کی ڈلیاں جو ایرانی لوگ چائے کی ساتھ کھاتے ہیں۔