دوسرا باب
میرے چچا کا گھر ہمارے گھر کی دیوار سے ملا ہوا تھا۔ ہر روز چند گھنٹے میں ان کے گھر گزارتی۔ کبھی کبھار ماں بھی آ جاتیں۔
اس دن میں اکیلی ہی ان کے گھر گئی تھی۔ ظہر کا وقت تھا اور میں لمبے لمبے اور بہت زیادہ زینوں سے، جو ڈیوڑھی سے شروع ہوتے اور صحن میں آ کر ختم ہوتے تھے، نیچے آ رہی تھی کہ اچانک ایک جوان لڑکا میرے سامنے آ گیا۔ میں حواس باختہ ہو گئی اور گنگ ہو کر رہ گئی۔ چند لمحات کے لیے ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ لڑکے نے سر نیچے جھکالیا اور مجھے سلام کیا۔ میں اپنی دھڑکنوں کی آواز سن سکتی تھی جو میرے سینے سے باہر آنے کو بے تاب ہو رہی تھیں۔ میں اتنی سٹپٹا گئی تھی کہ اس کے سلام کا جواب بھی نہ دے سکی۔ سلام اور خداحافظی کیے بغیر ہی صحن میں دوڑی اور وہاں سے ایک ہی سانس میں اپنے گھر کے صحن کی طرف دوڑتی چلی گئی۔ میری بھابھی، خدیجہ کنویں سے پانی نکال رہی تھی۔ اس نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو پانی کا ڈول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر کنویں میں جا گرا۔ وہ ڈر گئی تھی۔ پوچھنے لگی: ’’قدم! کیا ہوا؟ تمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟!‘‘
میں اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی تا کہ میری سانسیں بحال ہو جائیں۔ میں اس کے ساتھ کافی بے تکلف تھی۔تمام بھابھیوں میں سے وہ سب سے زیادہ میرے نزدیک تھی۔ میں نے سارا ماجرا اسے سنا دیا۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی: ’’میں سمجھی شاید تمہیں کسی بچھو نے کاٹ لیا ہے۔ تم نے پہلے کبھی کوئی لڑکا نہیں دیکھا؟!‘‘
لڑکے تو میں نے دیکھے ہوئے تھے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ایک گاؤں میں رہیں، لڑکوں کے ساتھ کھیلیں کودیں اور ان سے کوئی بات بھی نہ کریں؟ اگرچہ مجھے اپنے بابا کے علاوہ کوئی لڑکا اور مرد اچھا نہیں لگتا تھا۔
میری نظر میں میرے بابا دنیا کے بہترین مرد تھے۔ میں انہیں اتنا پسند کرتی تھی کہ اس عمر میں بھی میری فقط یہی آرزو تھی کہ میں اپنے بابا سے پہلے مر جاؤں۔ گاؤں میں جب بھی کوئی فوت ہو جاتا اور ہم اس کے ختم اور قل میں شریک ہوتے تو جیسے ہی میرے ذہن میں یہ خیال آتا کہ ممکن ہے ایک دن بابا بھی مجھے چھوڑ کر چلے جائیں تو میں رونے لگتی۔ اتنا روتی کہ رو رو کر بے حال ہو جاتی۔ سب یہی سوچتے کہ میں اس مردے کے لیے رو رہی ہوں۔
بابا بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتے تھے۔ اگرچہ میں چودہ سال کی ہو چکی تھی اس کے باوجود بھی وہ کبھی کبھی مجھے گود میں اٹھا لیتے اور میرے بالوں پر بوسہ دیتے۔
اس رات میں اپنی ماں کی باتوں سے سمجھ گئی کہ وہ لڑکا بابا کے چچا کا نواسہ ہے اور اس کا نام صمد ہے۔
اگلے دن ہمارے گھر میں کچھ مشکوک قسم کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ پہلے بابا کے چچا آئے اور انہوں نے بابا سے بات کی۔ اس کے بعد بابا کی چچی کی باری آئی۔ صبح اپنے کام کاج نمٹا کر وہ ہمارے گھر آ جاتیں اور ظہر تک صحن میں بیٹھی ماں سے باتیں کرتی رہتیں۔
ان کے بعد صمد کی ماں آ گئیں اور پھر چند دن بعد صمد کے والد بھی آن پہنچے۔ میرے بابا راضی نہ تھے۔ان کا کہنا تھا: ’’قدم ابھی بچی ہے، ابھی اس کی شادی کی عمر نہیں ہے۔‘‘
میری بہنیں بڑبڑاتیں: ’’ہم قدم سے چھوٹی تھیں تو آپ نے ہماری شادی کر دی۔ اب آپ اس کی شادی کیوں نہیں کر رہے؟!‘‘ بابا جواب دیتے: ’’اب وقت بدل چکا ہے۔‘‘
میں جب یہ دیکھتی کہ بابا مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں تو خوشی سے نہال ہو جاتی۔ میں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے اپنی شدید محبت کی وجہ سے مجھے اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا چاہتے مگر رشتہ دار کہاں چپکے بیٹھنے والے تھے۔ پیغام بھیجتے اور دوستوں اور جاننے والوں کو درمیان میں واسطہ بناتے تا کہ بابا کی رضامندی حاصل کر سکیں۔
اس بات کو ایک سال گزر چکا تھا اور میں مطمئن ہو گئی تھی کہ بابا ابھی میری شادی نہیں کریں گے۔ لیکن ایک رات ہمارے کچھ رشتہ دار مرد بغیر اطلاع دیے ہمارے گھر آ گئے۔ بابا کے چچا بھی ان کے ساتھ تھے۔ تھوڑی دیر بعد بابا نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ وہ مرد کافی دیر تک کمرے میں بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے۔میں صحن میں سیبوں کے ایک درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ صحن تاریک تھا اور کسی نے مجھے نہیں دیکھا تھا، لیکن میں اس کمرے کو بخوبی دیکھ سکتی تھی جس میں مرد بیٹھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بابا کے چچا نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور اس پر کچھ لکھا۔ میری چھٹی حس بیدار ہو گئی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’قدم! بالآخر انہوں نے تمہیں تمہارے بابا سے جدا کر دیا۔‘‘