پہلا باب
بابا مریض تھے۔ گھر والے کہتے تھے کہ وہ کسی بڑی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔ جب میں پیدا ہوئی تو ان کی حالت کافی بہتر ہو گئی۔
سب رشتہ دار اور دوست احباب میری ولادت کو میرے بابا کی صحت و سلامتی کا سبب قرار دے رہے تھے۔ میرے چچا تو وجد میں آ گئے تھے۔ وہ کہتے تھے: ’’تم کتنی خوش قسمت بچی ہو! در حقیقت اس کا نام ہونا چاہیے، قدم خیر۔‘‘ میں اپنے ماں باپ کی آخری اولاد تھی۔ مجھ سے پہلے دو بیٹیاں اور چار بیٹے دنیا میں قدم رکھ چکے تھے، جو یا تو مجھ سے بہت زیادہ بڑے تھے یا ان کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنے اپنے گھر بار میں مصروف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میں اپنی ماں اور خصوصاً بابا کی محبتوں اور چاہتوں کا محور بن گئی۔ہم رزن([1]) کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ قایش جیسے خوبصورت اور خوشگوار آب وہوا والے گاؤں میں رہنا میرے لیے کافی لذت بخش تھا۔ گاؤں کے گھروں کو دور دور تک گندم اور جو کے وسیع کھیتوں اور کشادہ انگوری باغوں نے گھیر رکھا تھا۔
میں صبح سے سہ پہر تک محلے کی چھوٹی بڑی لڑکیوں کے ساتھ گاؤں کی تنگ و تاریک گلیوں میں بھاگتی پھرتی۔ ہم غموں سے دور ہنستی اور کھیلتی رہتیں۔ سہ پہر یا مغرب کے وقت کپڑے اور دھاگے سے بنی ہوئی گڑیائیں اٹھاتیں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر چلی جاتیں۔ میں اپنی تمام گڑیاؤں اور کھلونوں کو اپنے دامن میں بھر لیتی۔ ہم سیڑھی کی لمبے زینوں پر چڑھتی ہوئی اوپر چلی جاتیں اور رات تک چھت پر بیٹھ کر خالہ خالہ کھیلتی رہتیں۔
بابا شہر سے میرے لیے جو کھلونے لاتے تھے، بچے انہیں دیکھ کر مچل جاتے۔ جتنا وہ چاہتے، میں انہیں اپنے کھلونوں سے کھیلنے دیتی تھی۔
رات کو جب ستارے سارے آسمان کو بھر دیتے تو بچے ایک ایک کر کے چھتوں پر سے دوڑتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے؛ لیکن میں بیٹھ کر اپنے کھلونوں اورگڑیاؤں کے ساتھ کھیلتی رہتی۔ کبھی تھک جاتی تو لیٹ کر تاریک آسمان پر ٹمٹمانے والے نقرئی ستاروں کو دیکھنے لگتی۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا جاتا اور ہوا میں خنکی آ جاتی تو ماں میرے پاس آتیں۔ مجھے گود میں لے لیتیں اور پیار کرتے اور چمکارتے ہوئے چھت سے نیچے لے جاتیں۔ مجھے کھانا دیتیں۔ میرا بستر بچھاتیں۔ اپنا ہاتھ میرے سر کے نیچے رکھ کر مجھے لوریاں سناتیں۔ وہ میرے بالوں میں تب تک ہاتھ پھیرتی رہتیں جب تک کہ مجھے نیند نہ آ جاتی۔ پھر اٹھ جاتیں اور دوسرے کام کاج کرتیں۔ گندھے ہوئے آٹے کے پیڑے بناتیں اور انہیں ایک تھال میں چن دیتیں تا کہ صبح کے وقت ناشتے کے لیے ان کی روٹیاں بنا سکیں۔
علی الصبح جلتے ہوئے ایندھن کی بو اور تازہ روٹی کی خوشبو سے میری آنکھ کھل جاتی۔ شبنم میرے چہرے پر ٹھہری ہوتی۔ میں دوڑتی ہوئی جاتی اور اس ٹھندے پانی سے اپنا چہرہ دھوتی جو ماں نے کنویں سے نکال کر رکھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد بابا کے زانو پر جا کر بیٹھ جاتی۔ ناشتے کے وقت ہمیشہ میری جگہ بابا کے زانو ہی ہوتے تھے۔ وہ مہربانی اور محبت سے میرے لیے لقمے توڑتے، میرے منہ میں ڈالتے اور میرے بالوں پر بوسہ دیتے۔
میرے بابا بھیڑوں کے بیوپاری تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ مہینے میں ایک دفعہ آس پاس کے گاؤں سے بھیڑیں خریدتے اور انہیں تہران اور اس کے اطراف کے شہروں میں لے جا کر فروخت کر دیتے۔ اس ذریعے سے وہ اچھا خاصا منافع کما لیتے تھے۔ وہ ہر دفعہ ایک بھرا ہوا ٹرک بھیڑوں کا خریدتے اور اسے بیچ آتے۔ انہیں سفروں میں وہ میرے لیے طرح طرح کے کھلونے اور گڑیائیں خرید کر لاتے تھے۔
جن دنوں بابا اپنے کام کے سلسلے میں سفر پر چلے جاتے، وہ میری عمر کے بدترین ایام ہوتے تھے۔ میں اس قدر روتی اور اتنے آنسو بہاتی کہ میری آنکھیں دو خون بھرے کٹوروں کی طرح ہو جاتیں۔ بابا مجھے گود میں لے لیتے۔ میں انہیں جلدی جلدی بوسے دیتی اور وہ مجھے کہتے: ’’اگر تم اچھی بچی بنو اور نہ رؤو تو تم جو کہو گی میں تمہارے لیے خرید لاؤں گا۔‘‘
انہی وعدوں دلاسوں کے ساتھ میں خاموش ہو کر بابا کے جانے پر راضی ہو جاتی اور پھر میری فرمائشوں کی فہرست شروع ہو جاتی: ’’بابا جان، مجھے گڑیا چاہیے؛ وہ گڑیا جس کے بال لمبے اور آنکھیں نیلی ہوتی ہیں اور کھلتی اور بند ہوتی ہیں۔مجھے چوڑیاں بھی چاہییں۔ انگوٹھے والی جوتی بھی میرے لیےخرید کر لائیے گا اور وہ لکڑی کی ایڑیوں والے سینڈل بھی لائیے گا جو چلتے وقت ٹک ٹک کی آواز دیتے ہیں۔ کھلونا پلیٹیں اور دیگچے بھی ہونے چاہییں۔‘‘
بابا مجھے چومتے ہوئے کہتے: ’’خرید لاؤں گا۔ خرید لاؤں گا۔ فقط تم اچھی بچی بنو اور آنسو نہ بہاؤ۔ اپنے بابا کے لیے ہنس دو۔ بابا تمہارے لیے ہر چیز خرید لائیں گے۔‘‘
میں روتی نہیں تھی؛ لیکن اپنے بابا کے لیے ہنستی بھی نہیں تھی۔ اس بات سے پریشان ہو جاتی کہ انہیں اب دو تین دن تک نہیں دیکھ سکوں گی۔ مجھے تنہائی بہت بری لگتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ بابا دن رات میرے سامنے رہیں۔ گاؤں کے لوگ بھی بابا سے میری محبت کو جانتے تھے۔ کبھی کبھار ماں چشمے پر پانی لینے یا کپڑےدھونے جاتیں اور میں بھی ساتھ ہوتی تو عورتیں مجھے چھیڑتے ہوئے کہتیں: ’’قدم! تم کس سے شادی کرو گی؟!‘‘
میں کہتی: ’’بابا جان سے۔‘‘
وہ کہتیں: ’’وہ تو تمہارے بابا ہیں!‘‘
میں کہتی: ’’نہیں، بابا میرے شوہر ہیں۔ میں جو کچھ بھی چاہتی ہوں وہ میرے لیے خرید لاتے ہیں۔‘‘
اس وقت میں بچی تھی اور ان باتوں کا مطلب نہیں جانتی تھی۔ عورتیں ہنستیں، ایک دوسرے کے کان میں باتیں کرتیں اور لگن میں پڑے کپڑوں کو ہاتھوں سے رگڑنے لگتیں۔
بابا کے جانے اور آنے کے عرصے میں، ایک دن میرے لیے ایک سال کے برابر ہو جاتا۔ ماں صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتیں۔ بے کار رہ رہ کر میرا حوصلہ جواب دے جاتا۔ میں تنگ آ کر ماں سے کہتی: ’’مجھے بھی کوئی کام دیں۔ میں اکتا گئی ہوں۔‘‘ ماں کام کرتے کرتے کہتیں: ’’تم کھاؤ پیو اور سو جاؤ۔ جب وقت ہو گا تو اتنا کام کرنا کہ تھک جانا۔ تمہارے بابا نے منع کیا ہے کہ تمہیں کوئی کام نہ کرنے دوں۔‘‘
میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ کھاؤں پیوں اور سو جاؤں؛ لیکن یہ بھی لگتا تھا کہ میرا کوئی اور کام بھی نہیں ہے۔ میری بہنیں ماں پر اعتراض کرنے لگتیں: ’’ماں، تم نے قدم کو کتنا لاڈلا کر رکھا ہے۔ اس سے کتنی زیادہ محبت کرتی ہو۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں نہیں کرتی تھیں؟!‘‘
ماں اور بابا کی اتنی محبت اور توجہ کے باوجود بھی میں انہیں اس بات پر راضی نہ کر سکی کہ وہ مجھے سکول جانے کی اجازت دے دیں۔ بابا کہتے تھے: ’’لڑکیوں کے سکول جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘
سکول کے استاد جوان مرد تھے۔ کلاسیں بھی مخلوط تھیں۔ میری ماں کہتی تھیں: ’’بس اسی چیز کی کمی رہ گئی تھی کہ تم مدرسے جاؤ، لڑکوں کے ساتھ بیٹھو اور نامحرم مرد تمہیں سبق پڑھائے۔‘‘
لیکن میں سکول کی عاشق تھی۔ میں جانتی تھی کہ بابا سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے صبح سے رات تک میں روتی رہتی اور بابا سے التماس کرتی: ’’بابا! آپ کو خدا کا واسطہ، مجھے سکول جانے دیں۔‘‘
بابا سے میرا رونا دیکھا نہ جاتا تھا۔ وہ کہتے: ’’ٹھیک ہے۔ تم رؤو مت۔ میں تمہیں کل ماں کے ساتھ سکول بھیج دوں گا۔‘‘ میں ہمیشہ سوچتی کہ بابا سچ کہہ رہے ہیں۔
وہ رات میں ذوق و شوق سے بستر پر جاتی۔ صبح تک مجھے نیند نہ آتی؛ لیکن جیسے ہی صبح ہوتی اور میں ماں سے کہتی کہ مجھے سکول لے جائیں، تو بابا آ جاتے اور ہزار طرح کے بہانے بنا کر اور وعدے کر کے ٹال دیتے کہ آج ہمیں بہت سے کام کرنے ہیں؛ لیکن کل حتماً ہم سکول جائیں گے۔ آخر کار میری آرزو دل ہی میں رہ گئی اور میں سکول نہ جا سکی۔
میں نو سال کی ہو چکی تھی۔ ماں نے مجھے نماز سکھا دی تھی۔ اس سال ماہ رمضان میں مَیں نے روزے بھی رکھے۔ شروع کے دن میرے لیے بہت سخت تھے، لیکن مجھے روزہ رکھنا اچھا لگتا تھا۔ میں بہت شوق اور جذبے سے سحر کے وقت بیدار ہوتی، سحری کھاتی اور روزہ رکھ لیتی۔
رمضان کے بعد بابا نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے چچازاد بھائی کی دکان پر لے گئے۔ سلام و احوال پرسی کے بعد ان سے کہا: ’’میں اپنی بیٹی کے لیے انعام خریدنے آیا ہوں۔ آخر کو قدم اس سال نو برس کی ہو چکی ہے اور اس نے سارے روزے رکھے ہیں۔‘‘
بابا کے چچازاد بھائی دکان میں پڑے کپڑوں کے اندر سے ایک سفید چادر نکال لائے جس پر چھوٹے چھوٹے اور خوبصورت گلابی پھول بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہ چادر بابا کو دی۔ بابا نے چادر کھول کر میرے سر پر اوڑھا دی۔ چادر میری قامت پر پوری آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ میرے لیے ہی سی گئی ہو۔ میرا خوشی سے اڑنے کو دل چاہنے لگا۔ بابا نے ہنس کر کہا: ’’قدم جان! آج کے بعد نامحرم کےسامنے چادر اوڑھ کر آؤ گی، ٹھیک ہے بابا کی جان؟‘‘
اس دن جب میں گھر واپس آئی تو ماں سے محرم اور نامحرم کا مطلب پوچھا۔ پھر جب بھی کوئی ہمارے گھر آتا تو میں دوڑ کر ماں کے پاس جاتی اور پوچھتی: ’’یہ ہمارے محرم ہیں یا نامحرم؟!‘‘
بعض اوقات ماں جھنجھلا جاتیں۔ اسی وجہ سے جب بھی ہمارے گھر کوئی مرد آتا تو میں دوڑ کر چادر سر پر اوڑھ لیتی۔ اس کے بعد محرم و نامحرم کے درمیان میرے نزدیک کوئی فرق نہ رہا، حتی کہ بھائیوں کے سامنے بھی میں چادر اوڑھے رکھتی۔
*****